مضامین/كالم


حب بلوچستان میں دہشت گردی کی واردات
ایڈیٹوریل منگل 26 مئ 2015
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں صدر مملکت ممنون حسین کے بیٹے کے قافلے پر بم حملے میں تین افراد جاں بحق اور پانچ پولیس اہلکاروں سمیت 17 زخمی ہوئے، خوش قسمتی سے صدر کے بیٹے محمد سلمان حملے میں محفوظ رہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب تھا جو ایک ہوٹل کے باہر کھڑی کی گئی، دھماکے میں پانچ گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں آٹھ سے دس کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
صدر مملکت کے بیٹے کے قافلے پر خود کش حملے کا واقعہ یقیناً افسوسناک ہے، ملک دشمن قوتوں اور دہشت گردوں کے اس حملے کا مقصد حکومت کو دباؤ میں لانا معلوم ہوتا ہے تاکہ وہ خوف زدہ ہو کر ان کے خلاف کارروائی روک دے۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ملک دشمن قوتوں کے کارندے کسی ایک شہر یا قصبے میں نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، ان بے چہرہ دہشت گردوں کی شناخت ایک مشکل امر ہے اس کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت گلی محلے کی سطح پر عوام کا تعاون حاصل کرے کیونکہ دہشت گردی کا مسئلہ اس قدر پیچیدہ اور گمبھیر ہو چکا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر اس سے نمٹنا مشکل امر ہے۔
حکومت کئی بار اس امر کا اظہار کر چکی ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار شہروں تک بڑھانا ہو گا اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔ شمالی وزیرستان آپریشن ضرب عضب کے ذریعے فوج نے اس علاقے میں دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے اسے پرامن بنا دیا ہے مگر وقفے وقفے سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا۔ بلوچستان، کراچی اور خیبرپختونخوا میں شرپسندی اور دہشت گردی کے واقعات سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گرد خودکو ان علاقوں میں زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں، ان کا خاتمہ چند دنوں میں ممکن نہیں ان کے خلاف حکومت کو ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑنا ہو گی۔
یہ اطلاعات بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ دہشت گردوں کو سرحد پار سے معاونت مل رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب تک بیرون ملک سے تعاون اور رہنمائی حاصل نہ ہو دہشت گرد زیادہ عرصہ تک اپنی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے حکومت کو ان تمام ذرایع اور چینلز پر بھی توجہ دینی ہو گی جو دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہی ہیں۔ حکومت کئی بار یہ کہہ چکی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارتی ایجنسی ’را، سمیت دیگر غیرملکی ایجنسیوں کا بھی ہاتھ ہے۔
دوسری جانب اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اپنی پالیسی میں بظاہر بڑی تبدیلی لاتے ہوئے افغان طالبان کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی تازہ کارروائیاں روک دیں یا نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں، یہ بھی امکان ہے کہ طالبان نے اگر امن مذاکرات سے انکار جاری رکھا تو پاکستان بھی ان کے خلاف مشترکہ کارروائیوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل دوحہ میں افغان حکام اور طالبان نمایندوں نے ملاقات کی جس میں افغانستان میں قیام امن پر غور کیا گیا تاہم طالبان کی طرف سے حملوں کا سلسلہ نہ رکنے پر امن عمل خطرے میں پڑ گیا۔ پاکستان کی شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے تمام فریق بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔
یہ باتیں کئی بار منظرعام پر آ چکی ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہونے والے متعدد واقعات کے ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں جب تک ان دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں ہوتا پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں پر قابو پانا ایک مشکل امر ہے اس لیے حکومت پاکستان افغان حکومت سے بار بار یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے ہاں موجود دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے لیکن ابھی تک افغان حکومت کی جانب سے ایسی کوئی بڑی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ اگر پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے اور افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی نہیں کی جاتی تو ممکن ہے کہ پاکستان کو افغان طالبان کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کا حصہ بننا پڑے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو سپورٹ داخلی اور خارجی دونوں سطح سے مل رہی ہے۔
اس لیے داخلی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکام سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے انسداد کے لیے غوروفکر کر رہے ہیں۔ پاکستان بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ’را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت امریکا کو فراہم کر چکا ہے مگر ابھی تک امریکا کی جانب سے بھارت کو دہشت گردی کی ان کارروائیوں سے روکنے کے لیے کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔ ان حالات کے تناظر میں بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو داخلی سطح پر عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے عالمی بڑی طاقتوں کا بھی ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا ٹھوس کردار ادا کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
http://www.express.pk/story/360416/

لہو کب پکارے گا…………؟
ایڈیٹوریل جمعرات 14 مئ 2015
کراچی بیگناہوں کے خون ناحق پر پھر سے سوگوار ہوگیا ہے۔ ہر آنکھ پرنم ہے، دہشتگردی کی ایک پرخوں واردات نے مکمل امن کے امکانات پر شب خون ماردیا جس کے بعد یاسیت ،خوف و سراسیمگی اور بے یقینی کے کالے بادل منی پاکستان پر پھر سے منڈلانے لگے ہیں ۔
بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کراچی کے علاقے صفورہ چوک یونیورسٹی روڈ پر چار موٹر سائیکلوں پر سوار تقریبا 8 مسلح دہشت گردوں نے ایک کمیونٹی بس پر سوار45 افراد کو ہلاک جب کہ متعدد کو شدید زخمی کردیاجس میں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی، ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس بہیمانہ واردات میں کلاشنکوف اور نائن ایم ایم پستول استعمال ہوئے، قاتل حسب دستور موقع سے فرار ہونے کے بعد زیر زمین چلے گئے یا انھیں آسمان نے نگل لیا خدا بہتر جانتا ہے، تاہم اس واردات کی سنگینی چشم کشا ہے، بس مسافروں کو نشانہ بنانے کی اکثر وارداتیں بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں ہوتی رہی ہیں جن میں غیر بلوچوں کو چن چن کر ماراگیا،جب کہ وہ اہل علم اور بیگناہ محنت کش تھے۔
اس سفاکانہ ٹرینڈ کا کراچی میں ظہور اپنے عالمی مضمرات سے خالی نہیں، دہشت گردوں کی اس بزدلانہ کارروائی کے پیش نظر سیکیورٹی حکام کو اپنی دہشت گردی مخالف حکمت عملی کو مزید نتیجہ خیز بنانا پڑیگا، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین رابطے اور تھانوں کی سطح پر ریڈ الرٹ سے گریز یا تساہل کا نتیجہ قاتلوں کے حق میں جاتا ہے ورنہ صفورہ چوک کوئی ویران علاقہ یا جنگل جزیرہ نہیں کہ اتنی بڑی واردات صبح کو ہو اور تمام ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوجائیں۔
اس لیے اشد ضروری ہے کہ پہلے تو اس الم ناک واردات کے تمام ماسٹر مائنڈز اور ان کے کارندے فوری طور پر گرفتار کیے جائیں، انھیں اسی سرعت اور مستعدی و شفافیت کے ساتھ قانون کے آہنی شکنجہ میں جکڑا جائے جس طرح پولیس و رینجرز نے اب تک لاتعداد کرمنلز کو حراست میں لیا ہے اور بعض ہارڈ کور قانون شکنوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بے لگام انتہا پسندی اور بربریت کی حالیہ وارداتیں اس شہر قائد میں ہوئی ہیں جہاں دہشت گردمافیاؤں کے کئی چہرے، لاتعداد روٹس،بیشمار سرپرست اور ان گنت سیف ہیونز ہیں، نیز مصلحتوں کی دبیز سیاسی و اشرافیائی چادروں میں لپٹے ایسے نوسرباز اور جمہوریت بیزار عناصر چھپے ہوئے ہیں جنھیں اپنے ’ان ٹچ ایبل ‘ ہونے کا زعم ہے ۔
واضح رہے 29 اپریل2015 کو کراچی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کراچی آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ تمام مافیاز کے خاتمے کا عمل جاری رہیگا۔ سو اس تناظر میں اسماعیلی کمیونٹی بس پر حملہ جن عناصر نے کیا ہے وہ بہرطور امن دشمن تھے اور انسانیت سے انھیں کوئی پیار نہ تھا، وہ انتقامی وحشیانہ کلچر اور اپنے خود ساختہ ایجنڈے کو ملک پر مسلط کرنے کے جنوں میں بیگناہوں کی ہلاکت پر کمر بستہ ہیں ۔ ریاستی رٹ چیلنج کرتے ہیں۔
کراچی کو ان ہی وارداتوں کے باعث عالمی میڈیا دنیا کا خطرناک شہر قرار دینے لگا ہے جہاں پانی و بجلی سے محروم شہری خوف و ہراس میں رہتے ہیں، دو کروڑ کی آبادی کا شہر جس قسم کے شفاف انتظامی سسٹم کا تقاضہ کرتا ہے اس حوالہ سے بوجوہ کوتاہی ہوئی ہے، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی طرف سے واقعہ کا فوری نوٹس لینا جب کہ متعلقہ تھانیداروں کا احتساب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قاتلوں کی جلد گرفتاری کی ہدایت کافی نہیں بلکہ مافیاؤں کے اصل نیٹ ورک کا زور توڑا جائے۔
اس بات کا کھوج لگایا جائے کہ دہشت گرد اپنی حکمت عملی میں قانون نافذ کرنے والوں سے ٹائمنگ اور اٹیک میں سبقت کیسے لے جاتے ہیں اور گولیوں کی زبردست ترتڑاہت اور ہولناک واردات کے ساتھ ہی اٹھنے والے شور و بھگدڑ میں مسلح افراد ہر قسم کے تعاقب سے کیسے بچ نکلتے ہیں ؟دوسری جانب اس اجتماعی قتل و غارتگری کا افسوسناک انسانی پہلو یہ ہے کہ ملک میں رونما ہونے والے دیگر دلگداز واقعات کی طرح صفورہ چوک پر بس کے جن مسافروں کو قتل کیا گیا وہ بھی جرم بیگناہی میں لقمہ اجل بن گئے، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے میگا سٹی کی تاریک راہوں میں مارے گئے یہ چھوٹے کاروباری گھرانوں سے متعلق کمیونٹی کے لوگ تھے۔
بس میں مرد ،خواتین اور معصوم بچے بھی سوار تھے، ایک مرنجان مرنج اور بے ضرر کمیونٹی کو ٹارگٹ کرنا جو تعلیم و صحت کے شعبے میں خدمات کا بیش بہا خاموش ریکارڈ رکھتی ہے ناقابل معافی جرم ہے، شواہد بتاتے ہیں کہ بس رکوائی گئی اور ٹارگٹ کلرز اندر داخل ہوکر مسافروں کو ہلاک کرتے رہے جب کہ ایک انگریزی معاصراخبار کی ابتدائی اطلاع میں ایک سینئر پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ قاتلوں نے بس میں جاکر مسافروں کے سروں پر گولیاں ماریں اور پھر سیٹ پر جاکر اس امر کا بھی یقین کرلیا کہ کوئی زندہ تو نہیں بچ گیا۔
بس الاظہر کالونی کے ویلفیئر بورڈ کی ملکیت ہے جس میں 60 کے لگ بھگ افراد تھے جو ریگولر روٹ پر ہمیشہ کی طرح الاظہر سے عائشہ منزل کی طرف سفر کررہی تھی۔ بلاشبہ اس سانحے پر کئی سازشی تھیوریز گردش میں ہوں گی، بعض حلقے اسے وزیراعظم کے حالیہ دورہ افغانستان کا رد عمل بھی کہہ سکتے ہیں، اسی نوعیت کی کارروائی طالبان کالاش اور چترال میں کرچکے ہیں اور ان واقعات کی ذمے داری بھی قبول کرچکے ہیں۔کیا ایسا ممکن نہیں کہ منصوبہ سازوں نے اس کی ریکی کی ہو اور ملک میں ہونے والے واقعات سے توجہ ہٹانے کے لیے اسے ٹارگٹ کیا ہو۔
لہٰذا یہ واردات ایک ایسے وسیع المشرب ، وفا کیش ، سلیم الطبع پر امن اور بندہ نواز زندہ و متحرک شہر کے قتل گاہ میں ڈھلنے کا نوحہ ہے جسے روشنیوں کا شہر کہنے والے اب ’’شکاریوں کا شہر‘‘ کہنے پر مجبور ہوگئے۔ دنیا کا کوئی امن پسند انسان اس قسم کے ظلم اور بلا جواز قتل و غارت کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ایک دانشور کا قول ہے کہ ’’دنیا میں ابھی تک ایسا کوئی وسیع و عریض پرچم نہیں بنا ہے جو بیگناہ انسانوں کے قتل کی شرمناکی کو ڈھانپ سکے۔‘‘
چنانچہ ہر محب وطن کراچی کے اس سانحے پر رنجیدہ اور غمزدہ ہے۔ تاہم اس واقعے کے عالمی اثرات و مضمرات سے ارباب اختیار کسی قسم کا تجاہل عارفانہ نہ برتیں،دہشتگردوں نے ریاست اور کراچی سمیت ملک کے تمام محب وطن اور امن پسند شہریوں کو للکارا ہے،ان دہشت گردوں نے کمال سفاکی کے ساتھ وقفہ وقفہ سے پروین رحمن، راشد رحمن ، وحیدالرحمن ، سبین محمود کو موت کی ابدی نیند سلا دیا، امریکی نژاد پروفیسرڈیبرا لوبو پر حملہ کر کے اسے شدید زخمی کیا اور اب ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر برنارڈ ایل ڈین پاکستان چھوڑنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد ملک سے جا رہی ہیں۔
یوں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قحط الرجال کے بعد اہل وطن اب قہر الرجال کا نشانہ بنیں گے؟ کیا استدلال، مکالمہ، تدبر اورعلمی مباحث کے مزید جنازے اٹھیں گے؟آستینوں کا لہو کب پکارے گا؟
(بشکریہ ڈیلی ایکسپریس)
http://www.express.pk/story/356645

کراچی میں قیامت صغری

اداریہ
کراچی میں گزشتہ روز صفورا چورنگی کے قریب چھ مسلح دہشت گردوں نے حملہ کر کے انتہائی بہیمانہ انداز میں بس میں سوار اسماعیلی برادری کے 45افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ صبح ساڑھے نو بجے اس وقت پیش آیا جب اسماعیلی برادری کے مرد و خواتین اور بچے عائشہ منزل کے قریب اپنے جماعت خانے میں عبادت کے لئے جا رہے تھے۔ ابھی یہ لوگ راستے میں ہی تھے کہ 3موٹر سائیکلوں پر سوار دہشت گردوں نے بس روک کر پہلے ڈرائیور کو نشانہ بنایا پھر پچھلے دروازے سے داخل ہو کر مختلف ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد باہمت زخمی کنڈیکٹر سلطان علی بس کو قریبی میمن اسپتال لے آیا جہاں ان کو فوری طور پر علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی انسپکٹر جنرل پولیس کراچی اور رینجرز کے اعلیٰ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 27مرد اور 17خواتین شامل ہیں جبکہ اسپتال میں زیر علاج 13زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ماضی میں ملک میں دہشت گردی کے جو سانحات ہوئے ہیں ان میں یہ ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس میں اتنی بڑی تعداد کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جس مقام پر یہ کارروائی کی گئی وہ ایک ویران سی جگہ ہے جہاں دونوں اطراف میں بنائی گئی اکثر عمارتیں خالی ہیں۔ بعض جگہوں پر تعمیراتی کام بھی جاری ہے۔ اس مقام پر حملہ آوروں نے بس کو روک کر جس طرح نشانہ بنایا اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس سانحہ کو برپا کرنے سے پہلے باقاعدہ ریکی کی گئی۔ اگرچہ اس وقت حملہ آوروں کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے تاہم غیرمصدقہ اطلاع کے مطابق دو دہشت گرد تنظیموں داعش اور جند اللہ نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ بعض نجی ٹی وی چینلز کے مطابق جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر داعش کا ایک پمفلٹ بھی ملا ہے جبکہ کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پمفلٹ تفتیش کا رخ تبدیل کرنے کے لئے پھینکا گیا ہے۔ اس سانحہ کی خبر جنگل میں آگ کی طرح سارے ملک میں پھیل گئی۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف جو تین روزہ دورہ پر سری لنکا روانہ ہونے والے تھے اس سانحہ کے باعث اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے اور فوری طو رپر صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کراچی پہنچ گئے ہیں ۔ اسماعیلی برادری کے سربراہ پرنس کریم آغا خان کا کہنا ہے کہ اسماعیلی برادری کے خلاف دہشت گردی ناقابل فہم ہے۔ یہ حملہ بے حسی کی انتہا ہے ۔صدر، وزیر اعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سیاسی و مذہبی جماعت کے سربراہوں نے بے گناہ اور معصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے اس کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور دہشت گردوں کا آہنی ہاتھ سے خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ مافیا کی زد میں ہے اور پاکستان کی اس اقتصادی شہ رگ پر پے در پے وار کئے جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کراچی میں امن بحال کرنے کے لئے وزیراعظم کی صدارت میں اہم اقدام کئے گئے جس کے تحت پولیس اور رینجرز کو مشترکہ آپریشن کا اختیار دیا گیا جس کے مؤثر نتائج بھی برآمد ہوئے اور بھتہ مافیا ہی نہیں ٹارگٹ کلنگ میں بھی خاصی کمی ہوئی اور وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ کراچی کی روشنیاں واپس آ رہی ہیں۔ عمومی طور پر بھی ملک بھر میں کراچی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا تھا مگر افسوس بدھ کی صبح کراچی ایک بار پھر لہو لہو ہو گیا۔ یہ سانحہ حکومت کے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ کسی بھی رُو رعایت کے بغیر کراچی میں ان عناصر کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس حقیقت کو کون نہیں جانتا کہ کراچی میں اسماعیل برادری سے تعلق رکھنے والے افراد خاصی تعداد میں آباد ہیں اور یہ ایک انتہائی پرامن کاروباری برادری ہے۔ ماضی میں بھی انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اگست 2013میں کریم آباد اور دوسرے علاقوں میں اسماعیلی جماعت خانوں پر دستی بموں سے حملے کئے گئے۔ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔
(بشکریہ ڈیلی جنگ)
http://beta.jang.com.pk/akhbar/%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%82%DB%8C%D8%A7%D9%85%D8%AA-%D8%B5%D8%BA%D8%B1%DB%8C/

پرامن افغانستان کے لئے مکالمہ ضروری
اداریہ
افغانستان میں 13سالہ جنگ و جدل کے خاتمے کے لئے قطر کے ساحلی شہر الخور میں کابل حکومت اور طالبان کے نمائندوں میں غیرسرکاری، غیراعلانیہ اور غیررسمی مذاکرات کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے جن کی کامیابی سے اس تباہ حال ملک ہی نہیں، پورے خطے میں امن و استحکام کے امکانات روشن ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ اس طرح کی کوششیں ماضی میں بھی کی گئیں مگر حالات اس وقت ان کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے سازگار نہیں تھے۔ اب جبکہ حامد کرزئی کی سخت گیر حکومت چلی گئی ہے۔ چندہزار امریکی فوجیوں کے سوا نیٹوافواج ملک سے نکل چکی ہیں اور صدر اشرف غنی کی قیادت میں مخالف گروپوں سے مفاہمت اور مصالحت کے ذریعے افغانستان میں دیرپا امن اور بہتر مستقبل کی خواہش مند اعتدال پسند حکومت برسراقتدار آگئی ہے تو بدلے ہوئے حالات میں مجادلے کی بجائے مکالمے کے ذریعے مسئلے کے حل کے امکانات زیادہ قوی ہیں۔ نئی کوششوں میں امریکہ کی رضامندی بھی شامل ہے اور پاکستان بھی جس نے افغان جنگ کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصانات اٹھائے ان کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ الخو ر مذاکرات کے بارے میں کابل حکومت اور طالبان دونوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ ان دونوں بنیادی فریقوں کے درمیان کوئی باضابطہ بات چیت نہیں۔ طالبان اور حکومت سے وابستہ سیاسی شخصیات میں بامقصد تبادلہ خیال کا موقع اس وقت پیدا ہوا جب امن کے لئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’’پگوش‘‘ نے دوروزہ علاقائی امن کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس میں طالبان کے 8رکنی وفد کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کے وفود بھی شرکت کررہے ہیں۔ افغان امن کونسل کے ایما پر طالبان اور کابل حکومت کے نمائندوں میں اتوار کو بندکمرے میں بات چیت ہوئی۔ کہا گیا ہے کہ فریقین کے نمائندے بات چیت میں ذاتی حیثیت سے شریک ہیں۔ قطر میں امریکہ کی منظوری سے 2013میں طالبان کا دفتر قائم کیا گیا تھا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق اتوار کو ہونے والی بات چیت کے بعد فریقین کے نمائندے باہرنکلے تو بہت خوشگوار موڈ میں تھے تاہم انہوں نے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ طے کیا گیا ہے کہ بات چیت کے مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں تمام سوالات کا جواب موجود ہوگا۔ سرکاری افغان امن کونسل کا وفد مذاکرات کے حوالے سے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کرے گا۔ علاقائی امن کانفرنس میں طالبان کے علاوہ کابل حکومت کی مخالف دوسری تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہیں جو الخور امن مذاکرات کا بھی حصہ ہیں۔ اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے نتائج مثبت اور سب کیلئے قابل ہوں گے۔ پاکستان نے سرکاری طور پر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام کیلئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور پاکستان ضرورت پڑنے پر مذاکراتی عمل میں تعاون کیلئے تیار ہے۔ امریکی دفتر خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اس معاملے میں قطر سے رابطے میں ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ طالبان اور کابل حکومت میں مفاہمتی بات چیت ہورہی ہے۔ الخور میں ہونے والے ٹریک ٹو مذاکرات نہ صرف افغانستان بلکہ اس خطے اور عالمی امن کیلئے بھی انتہائی اہم ہیں اس سے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی اور افغانستان میں امن بحال ہوگا جہاں گزشتہ تقریباً دوعشروں سے لاکھوں افغان مارے گئے اور لاکھوں پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس سے افغان مہاجرین کی واپسی ممکن ہوگی اور پاکستان کی معیشت پر اضافی بوجھ ختم ہوگا۔ طالبان اوردوسری افغان تنظیموں کو مفاہمت کے نئے ماحول میں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ ان کیلئے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے ملک کی سیاست کے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ انتخابات میں حصہ لیں اور ملک کی تعمیرنو میں حصہ داربنیں۔ افغان حکومت کو بھی چاہئے کہ طالبان کو قومی دھارے میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیں۔ افغانستان میں امن و استحکام کو مقابلے اور مجادلے پر ہرحال میں ترجیح دینی چاہئے۔
(بشکریہ جنگ.کام)
http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%BE%D8%B1%D8%A7%D9%85%D9%86-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85%DB%81-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C/

فوجی آپریشن اور ملکی استحکام
ایڈیٹوریل جمعرات 30 اپريل 2015
بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوجی آپریشن ملک میں استحکام لا رہے ہیں،قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کونشانہ بنانے اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کے رابطے توڑنے سے توجہ نہیں ہٹا سکتے۔
انھوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو کورہیڈکوارٹرز بہاولپور کے دورے کے موقع پر فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب میں کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جوانوں و افسران سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں اور قربانیوں کوخراج تحسین پیش کیا اور ان کے حوصلے کی بھی تعریف کی۔قبل جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیاں قابل قدرہیں، نوجوان نسل ہمارا بڑا اثاثہ ہیں۔
بلاشبہ ایک منتخب جمہوری سیٹ اپ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ ملک میں استحکام لانے کا عندیہ عسکری و سیاسی قیادت کے مابین قومی ایشوز پر اتفاق رائے اور ہم آہنگی کی علامت ہے جو ملکی سیاست و عسکری تعلقات میں توازن اور نئے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ قومی سیاست کے اس دور کی یاد دلاتی ہے جب ملک دہشت گردی کے علاوہ کرپشن، سیاسی بحران اور کشیدگی سے بڑھ کر وجودی خطرہ سے دوچار تھا۔
اور ایسے دورانیے بار بار آتے رہے، مگر 2013 ء کے بعد دنیا بدلنے کے ساتھ اب پاکستان نے بھی ایک مستحکم مستقبل کی امیدوں سے اپنا سیاسی و عسکری رشتہ اس طور سے جوڑا ہے کہ دشمن کو اب چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے، ملکی معیشت اپنے استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ داخلی خطرات و خارجی دباؤ، اور مشکلات کا خاتمہ نہ ہو۔
ضرورت صرف عزم کی ہے کہ انتہا پسندوں سے اس بار کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور فوجی و سیاسی قیادت قومی حمایت اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ قومی سلامتی ، سیاسی افہام و تفہیم اور ملکی اقتصادیات کو خود انحصاری اور جمہوری نظام کی حقیقی منزل تک پہنچا کر دم لے گی۔
یاد ہے کہ عسکری قیادت نے داخلی صورتحال کے حوالے سے فاٹا سمیت تمام حساس علاقوں میں راست اقدام اور اس کے نتیجے میں استحکام اور امن وامان کی بحالی کو اپنا مشن بنالیا تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے ہمیشہ کے لیے نجات کا عزم چونکہ پاک فوج نے پہلے سی ظاہر کردیا تھا چنانچہ اندر کے دشمن کو بیرونی جارحیت سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے ایک غیر متزلزل اور واضح ڈاکٹرائن کو ملکی سلامتی کے لیے اشد ضروری قراردیا۔اس میں شک نہیں کہ طالبان ملک کے لیے وجودی خطرہ بن چکے تھے لیکن اب ان کا نام و نشان مٹنے کے قریب ہے۔
ایف سی حکام اور پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق مہمند ایجنسی جو ایک زمانے میں تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا کو شرپسندوں سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے اور علاقے میں اب ایک بھی نوگوایریا نہیں ہے۔ یہ اہم کارنامہ ہے۔ تاریخی تناظر ملاحظہ ہو کہ قیام پاکستان کے چار سال بعد1951ء میں معرض وجود میں آنیوالی مہمند ایجنسی فاٹا کے شمالی حصے میںہے۔8 تحصیلوں اور تقریباً6 لاکھ آبادی پر مشتمل اس ایجنسی کی سرحدیں افغانستان کے صوبہ کنڑ سے ملتی ہیں۔
2008ء میں ایجنسی میں شرپسندوں جن میں تحریک طالبان مہمند ایجنسی (ٹی ٹی ایم ) اور ان کے دوسرے گروپوں کے خلاف آپریشن شروع کیے گئے تو یہ علاقہ مکمل طور پر نوگو ایریا بن گیا تھا اور آئے دن شرپسند لوگوں کی نعشیں سڑکوں پر پھینکتے تھے تاہم اب صورتحال یکسرتبدیل ہوگئی ہے اور افغانستان کے سرحدی مقام خاپخ تک پوراعلاقہ ایف سی اور پولیٹیکل انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں یہاں کے عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور 700کے لگ بھگ افرادشہید ہوچکے ہیںجن میں70بڑے قبائلی مشران اور ملک بھی شامل ہیں۔
اب تک ایجنسی میں مجموعی طور پر184ایف سی، لیویز، خاصہ دار فورس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے بھی جام شہادت نوش کیا ہے۔ ایف سی، آرمی اور لیویزسمیت دیگرفورسزکے 7ہزاراہلکاردہشتگردوںکے خلاف جاری جنگ میں مصروف ہیں۔ دہشتگردوں نے تعلیمی اداروں کو بھی نہیں چھوڑا اور تقریباً 120چھوٹے بڑے اسکولوں اور کالجوں کو تباہ کیا جن میں اکثر کی تعمیر کی جاچکی ہے۔ علاقے کی کئی تحصیلوں میںقائم امن لشکر اب بھی مکمل فعال ہیں اور فورسز کے ساتھ شرپسندی ختم کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔
ایف سی حکام کے مطابق عمرخالد خراسانی کے علاوہ ٹی ٹی ایم کی تقریباً ساری مرکزی قیادت کو ماردیا گیا ہے اور سیکڑوں گرفتار ہیں ۔ تاہم ابھی شیر مرا نہیں کے مصداق آپریشن کا تسلسل اور ٹمپو اسی طرح برقرار رہنا چاہیے، دہشت گرد بوکھلاہٹ میں ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ وارداتیں کررہے ہیں، کراچی میں مختلف واقعات میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے،جب کہ بدھ کو جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر وحید الرحمان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کراچی پہنچے، وہ صورتحال کا مستقل جائزہ لیں گے ۔اندرون سندھ اور پسنی میں ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کے خلاف چھاپے جاری ہیں، عسکری اصطلاعات کے مطابق فوج استحکام اور سپورٹ پالیسی کے تحت انگیجمنٹ اور انلارجمنٹ اسٹرٹیجی پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں امید کی جانی چاہیے کہ ہمہ گیر آپریشن سے دہشت گردی کا بہت جلد خاتمہ ہوجائیگا۔
http://www.express.pk/story/352131/

بلوچستان میں بے گناہ مزدوروں کا قتل

346730-kla-1428871000-590-640x480
ایڈیٹوریل
بلوچستان میں تربت کے علاقے گوگدان میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب دہشتگردوںنے تعمیراتی شعبے سے وابستہ مزدوروں کے کیمپ میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 20افرادجاں بحق جب کہ تین زخمی ہوگئے، جس وقت دہشت گردوں نے فائرنگ کی یہ مزدورکیمپ میں سوئے ہوئے تھے،جاں بحق ہونے والے مزدوروںکاتعلق پنجاب اور سندھ سے تھا، وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اوروزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے اس سانحے کی تحقیقات حکم دیدیا جب کہ غفلت کے مرتکب 8 لیویز اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتارکرلیا گیا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے جاںبحق مزدوروں کے لواحقین کے لیے 10 ,10 لاکھ اورزخمیوں کے لیے 50 ,50 ہزار روپے امداد کا بھی اعلان کیا ہے، کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔
اے ایف پی نے صوبائی انتظامیہ کے سینئر افسرکے حوالے سے خبر دی ہے کہ حملہ آوروں نے مزدوروں کو اٹھایا، ایک قطار میں کھڑا کیا اور شناخت کے بعد انھیں گولیاں ماردیں، مقامی مزدوروں کو چھوڑ دیا، عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ کیمپ کی حفاظت پر مامور لیویزاہلکار بڑی تعداد میں حملہ آوروں کو دیکھ کر مزاحمت کیے بغیر موقع سے بھاگ گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 16 کا تعلق رحیم یارخان اورصادق آباد جب کہ 4کا تعلق سندھ کے ضلع حیدرآباد سے بتایا جاتا ہے۔
بے گناہوں کو قتل کرنا دنیا کے کسی مذہب یا تہذیب میں جائز نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کو انتہائی نفرت سے دیکھا جاتا ہے اور اگر ایسے مجرم گرفتار ہو جائیں تو انھیں سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے۔بلوچستان میں خاصے عرصے سے مزدوروں ‘ہنر مندوں،حتیٰ کہ ڈاکٹر ز ‘انجینئرز اور اساتذہ کو بھی قتل کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ یہ سب کر رہے ہیں ‘اب وہ ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں ۔وہ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو بھی قتل کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملے میں کوئی بھی جواز پیش کیا جائے ‘اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ کسی معاملے پر آئین اور قانون کو پس پشت ڈال کر ہتھیار اٹھانا اور پھر بے گناہوں کو قتل کرنا عہد جاہلیت کی نشانیاں ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان ایسا ملک بن گیا ہے جہاں مسلح گروہ ریاست کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔وہ جس منصوبے کو چاہیں غلط قرار دے دیں جس نظام کو چاہیں باطل قرار دے دیں۔ یہاں تک کہ بعض ایسے گروہ بھی ہیں جو یہاں تک کہتے ہیں کہ فلاں ملک سے تعلقات رکھے جائیں اور فلاں سے ختم کیے جائیں۔ تربت میں جن افراد کو قتل کیا گیا ‘انھیں شاید سیاست کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ہو گا۔ انھیں یہ بھی نہیں پتہ ہو گا کہ قوم پرستی کیا ہوتی ہے ۔وہ تو بچارے غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر اپنے گھر بار چھوڑ کر روزی روٹی کمانے میں مصروف تھے۔ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا تھا نہ کوئی مسلکی معاملہ ۔ایسے سادہ لوح اور غریب افراد کو گولیاں مار کر قتل کرنا بہادری نہیں بلکہ پرلے درجے کی بزدلی ہے۔ دلیر لوگ ایسا کام کبھی نہیں کرتے۔ بلوچستان کا المیہ بھی فاٹا سے ملتا جلتا ہے۔ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ دونوں جگہ قبائلیت اور سرداری پر مشتمل قدیم نظام چل رہا ہے۔
پاکستان کی کسی حکومت نے ان علاقوں میں نظام تبدیل کرنے پر توجہ نہیں دی۔ اگر نظام تبدیل کر دیا گیا ہوتا تو آج ان علاقوں میں مسلح لشکر وجود میں نہ آتے۔ بہر حال بلوچستان کے موجودہ وزیراعلیٰ روشن خیال سیاستدان ہیں۔ بلوچستان سے جو سیاستدان منظر عام پر ہیں ‘وہ بھی فہم و فراست کے حامل ہیں۔ وہ شرپسندوں اور قاتلوں کی سرکوبی کرنا چاہتے ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ انھیں ہر قسم کی مدد اور وسائل فراہم کرے تاکہ بے گناہوں کو قتل کرنے والوں کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔ سانحہ تربت کے حوالے سے یہ خبر بھی پریشان کن ہے کہ مزدوروں کی سیکیورٹی پر مامور لیویز اہلکار موقع سے بھاگ گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی تربیت ناقص ہے۔ اگر لیویز اہلکار صحیح معنوں میں تربیت یافتہ ہوتے اور ان کے پاس جدید ہتھیار ہوتے تو وہ دہشت گردوں کو تعداد میں زیادہ دیکھ کر راہ فرار اختیار نہ کرتے۔
اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو اس حوالے سے کسی قسم کے دباؤ یا مصلحت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ شرپسند اور دہشت گرد کسی کے دوست یا ہمدرد نہیں ہوتے۔ ان کی کوئی قومیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی دین کو اس کی روح کے مطابق سمجھتے ہیں۔ حالات کا فائدہ اٹھاکر یہ لوگ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہتھیار کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاستدانوں ،دانشوروں اور اہل علم کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے اس صوبے میں پرانے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے تعمیر و ترقی کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے یہاں امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
http://www.express.pk/story/346730/

آرمی چیف کا دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلیے عزم
ایڈیٹوریل

343615-lop-1428006927-925-640x480
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بدھ کو جہلم کے قریب فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ملک سے دہشتگردی کی لعنت کو جڑوں سے اکھاڑنے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنا مشن مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے جوانوں سے کہا کہ سخت تربیت اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ زمانہ امن میں سخت تربیت اور پیشہ ورانہ تیاریوں کا اعلیٰ معیار ہی امن کی ضمانت ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف متعدد بار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ فوج ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ فوج نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 15جون 2014 کو ضرب عضب کے نام سے جو آپریشن شروع کیا اب وہ بڑی تیزی سے اپنی منطقی انجام کی جانب بڑھ رہا ہے۔
فوج کی لازوال قربانیوں کی بدولت آج شمالی وزیرستان میں امن قائم ہونے سے آئی ڈی پیز کی واپسی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اسی طرح خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبرٹو کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے وادی تیراہ کے اہم پہاڑی علاقوں سندانہ اور نری بابا کا کنٹرول سنبھال کر وہاں پر قومی پرچم لہرا دیا ہے۔
فوج کے آپریشن کے باعث دہشت گردی کا شکار ان علاقوں میں اب امن قائم ہو رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پوری قوم یہ خوشخبری سنے گی کہ ان علاقوں سے دہشت گردوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفایا کر دیا گیا ہے اور یہ علاقے ایک بار پھر جائے امن بن گئے ہیں۔ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور اسے دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔
ایک وہ وقت تھا جب دہشت گردی کا عفریت بڑی تیزی سے پورے ملک میں پھیل رہا تھا اور ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے اور یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کا کبھی خاتمہ نہیں ہو گا اور دہشت گرد ملکی معاملات میں اہم حیثیت اختیار کر جائیں گے بعض حلقے تو یہاں تک خدشات کا اظہار کرنے لگے تھے کہ اگر دہشت گردوں کو روکا نہ گیا تو وہ عنقریب موجودہ نظام الٹ کر حکومتی باگ ڈور بھی سنبھالسکتے ہیں۔
اس قسم کے خدشات نے ملکی معاشی نظام اور اس کی ترقی کو شدید نقصان پہنچایا۔ غیر ملکی سرمایہ دار ادھر کا رخ کرنے سے ہچکچانے لگا اور ملکی سرمایہ کار کسی محفوظ مقام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ نتیجتاً ملک میں معاشی سرگرمیاں مانند پڑنے سے بیروز گاری بڑھنے لگی اور ملک ایتھوپیا بنتا ہوا دکھائی دینے لگا۔ کچھ حلقے اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کے لیے اس کا حل انتہا پسندوں سے مذاکرات بتانے لگے۔
انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اگر انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا بلکہ فورسز کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا اور انتہا پسند پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جائیں گے بالآخر حکومت کو مذاکرات ہی کا راستہ اپنانا پڑے گا تو کیوں نہ نقصان اٹھانے سے قبل ہی مذاکرات کی راہ اپنا لی جائے۔
دوسری جانب بعض حلقے مذاکرات کی مخالفت میں سرگرم ہو گئے ان کا موقف تھا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کا مطلب حکومتی شکست ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو ملک میں امن کبھی قائم نہ ہو سکے گا اور حکومت ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہے گی۔ آج وقت نے ثابت کیا کہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کا بہترین راستہ آپریشن ہی تھا جب آپریشن شروع کیا گیا تو دہشت گردوں نے گھبرا کر اپنی کارروائیاں تیز کر دیں۔
جس کا مقصد سیکیورٹی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم کمزور کرنا تھا مگر یقین محکم اور عزم صمیم کی دولت سے مالا مال ہماری بہادر افواج نے امن کے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا دیے اور آج وہ اپنی جان بچانے کے لیے چھپتے پھر رہے ہیں۔ آج دہشت گرد چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں چھپے بیٹھے ہیں عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ انھیں تلاش کر کے نشانہ بنائے اور ملک میں ہر صورت امن و امان قائم کرے گی۔
ان چھپے ہوئے بے چہرہ دشمنوں کو اپنے انجام تک پہنچانے کے لیے حکومت اور سول اداروں کو بھی متحرک ہونا ہو گا فوج تو اپنے فرائض بخوبی ادا کر رہی ہے مگر اندرون ملک امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور بہتر منصوبہ بندی کرنا حکومت کا کام ہے۔ اب دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور ان کی وہ پہلے سی قوت اور محفوظ علاقے موجود نہیں رہے اس لیے سول ادارے جس قدر زیادہ متحرک اور مربوط ہوں گے دہشت گردی سے اتنی جلدی ہی نجات ملے گی۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو بھی آگے آنا ہو گا کیونکہ یہ قومی مسئلہ ہے اور جب تک پوری قوم اس میں شریک نہ ہو اس پر قابو پانے میں دشواریاں اپنی جگہ موجود رہیں گی۔
http://www.express.pk/story/343615/

دہشت گردی سے پاک مُلک
30 مارچ 2015
اداریہ
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے لئے زمین تنگ کر دی، آنے والی نسلوں کو دہشت گردی سے پاک مُلک دیں گے، جس میں وہ اپنے علم اور تخلیقی صلاحیتوں کو مُلک کی تعمیر وترقی کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کر سکیں، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گرد چھپے بیٹھے ہیں ان کا خاتمہ کریں گے، پاک فوج ملکی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، وہ ہفتہ کے روز سی ایم ایچ میڈیکل کالج لاہور کے تیسرے کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آرمی میڈیکل کورکسی بھی قدرتی آفت، مصیبت اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں ہر اول دستے کے طور پر کھڑی ہوتی ہے اور اس کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
دہشت گردی کی لہر نے دُنیا کے بہت سے ملکوں کو متاثر کیا، امریکہ میں بدترین دہشت گردی نائن الیون کو ہوئی، کئی یورپی ممالک بھی اس کا نشانہ بنے، لیکن ان سب نے کسی نہ کسی انداز میں جلد یا بدیر دہشت گردی پر قابو پا لیا، امریکہ جیسے بڑے مُلک میں نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا کوئی قابلِ ذکر واقعہ نہیں ہوا، نائن الیون کے بعد امریکہ نے فوری اور ہنگامی طور پر ایسے اقدامات کر لئے جن سے دہشت گردی کی واردات کرنا بڑی حد تک ناممکن بنا دیا گیا، ہر سطح پر ایسے غیر معمولی اقدامات کئے گئے، جو اس سے پہلے امریکہ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئے، ایسے اقدامات کو بسا اوقات ہدفِ تنقید بھی بنایا گیا، لیکن امریکی اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھتے رہے اور مُلک کو دہشت گردی سے محفوظ بنا دیا، اِسی طرح یورپی ملکوں میں بھی جہاں جہاں دہشت گردی ہوئی انہوں نے کوشش کی کہ دوبارہ ایسے واقعات نہ ہو پائیں۔ چند واقعات کے بعد وہاں بھی حالات بہتر ہو گئے۔
پاکستان میں دہشت گردی کا مُنہ زور طوفان افغانستان میں امریکی مداخلت کے بعد آیا، خود کش حملوں کا تصور اس سے پہلے موجود نہ تھا، افغانستان میں تو افغان باشندے اپنے ملک میں غیر ملکی افواج کے تسلط کے خلاف لڑ رہے تھے، اس لئے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ انہوں نے غیر ملکی افواج اور اُن کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائیاں کیں، جن میں دہشت گردی کی کارروائیاں بھی شامل تھیں، لیکن پاکستان کا معاملہ مختلف تھا، یہاں کوئی غیر ملکی فوج نہیں تھی، جس کے خلاف جہاد کی ضرورت محسوس ہوتی، لیکن یہاں دہشت گردی کا دائرہ پھیل کر اتنا وسیع ہو گیا کہ تقریباً پورا ملک اس کی لپیٹ میں آ گیا، زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں تھا جسے دہشت گردوں نے نشانہ نہ بنایا ہو، سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسر بھی اس کی زد میں آئے، سیکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، فوجی و سویلین ہوائی اڈوں، ہسپتالوں، تربیتی اداروں، سکولوں، کالجوں،مساجد ، عبادت گاہوں، مارکیٹوں غرض جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کے لئے ہدف کو ٹارگٹ کرنا ممکن ہوا۔ وہاں انہوں نے کارروائی کر ڈالی،دہشت گرد ایسے ایسے مقامات کو ہدف بنانے میں کامیاب ہو گئے، جہاں تک رسائی آسان نہیں تھی اور یہ علاقے ہائی سیکیورٹی زون میں واقع تھے، اِسی دوران متعدد حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، کئی وزرائے اعظم اپنا اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو گئے، لیکن دہشت گردی کی لہر نہ تھم سکی اور کبھی چند روز کا وقفہ آیا بھی تو یہ عارضی ثابت ہوا، حکومتوں نے دہشت گردوں کے خلاف جو اقدامات بھی کئے ان سے دہشت گردی کا سلسلہ نہ رُک سکا، فوج نے سوات سمیت کئی علاقوں میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں۔ گزشتہ سال کے وسط میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع کیا، لیکن اس آپریشن کے دوران بھی دہشت گردوں نے کراچی لاہور اور پشاور میں بڑی وارداتیں کر ڈالیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے تو پورے مُلک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک امریکی سفارت کار نے اسے پاکستان کا ’’نائن الیون‘‘ قرار دیا اس واقعے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے متعدد اجلاس بلائے اور نیشنل ایکشن پلان تیار کیا گیا، جس پر اب عملدرآمد ہو رہا ہے۔ اگرچہ دہشت گردی کی لہروں کا زور تو ٹوٹا ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ پوری طرح تھم گئی ہیں۔ لاہور میں دو چرچوں میں دھماکوں کی یاد ابھی تازہ ہے،جس کے بعد لاہور دو روز تک افسوسناک واقعات کا مرکز بنا رہا اور سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ بے قصور لوگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے آئندہ نسلوں کو دہشت گردی سے پاک ملک دینے کی جو بات کی ہے وہ بہت ہی بروقت ہے، اُن کا عزمِ بلند اُن کی جرأت و ہمت کا آئینہ دار ہے، اس وقت پاک فوج شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب میں مصروف ہے تو خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن جاری ہے، جہاں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان میں تیار ہونے والے ڈرون طیارے بھی استعمال ہوئے ہیں جن کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف کافی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، کراچی میں بھی آپریشن جاری ہے، جس کے نتیجے میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں کم ہو چکی ہیں اور جرائم کی شرح بھی گر چکی ہے۔ مفرور مجرموں کی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں اور چھپے ہوئے سزا یافتہ مجرموں کو بھی ڈھونڈ نکالا جا رہا ہے، کوئٹہ میں بھی اگرچہ سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ رُک نہیں سکا تاہم وہاں بھی وارداتوں میں کمی آئی ہے، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کا جس انداز میں تعاقب جاری ہے اس کے جلد ہی مثبت نتائج برآمد ہوں گے، اس وقت بھی اگرچہ دہشت گرد اِکا دُکا وارداتیں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، لیکن یہ یقین کرنے کے شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی اپنی موت کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے اور دہشت گردوں کو اب چھپنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی، اِسی لئے آرمی چیف کا یہ کہنا کہ دہشت گردوں کے لئے زمین تنگ کر دی اور چھپے ہوؤں کا پیچھا کیا جائے گا، ایک حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب مُلک دہشت گردوں کے وجود سے پاک ہو جائے گا اور آئندہ نسلیں سکون و اطمینان سے زندگی گزاریں گی۔
)بشکریہ ڈیلی پاکستان)
http://dailypakistan.com.pk/editorials/30-Mar-2015/208056

جہاد اور آزادی کے تقاضے
اداریہ
پاکستانی قوم کو جسے غیروں کی غلامی سے آزادی کے بعد کئی بار بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنا پڑا اور جسے آج بھی سرحدوں پر منڈلاتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، اس وقت اندرونی دشمنوں سے فیصلہ کن جنگ کا مرحلہ درپیش ہے۔ اس جنگ میں وہ اب تک 55ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکی ہے۔ ایک کھرب ڈالر سے زیادہ قومی اثاثوں کے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔ یہ اندرونی دہشت گرد کچھ تو اسلام کی من گھڑت توجیہات کی آڑ میں اور کچھ بیرونی قوتوں کے ایماپر خودکش دھماکوں اور بم حملوں میں بے گناہ ہم وطنوں کا خون بہا رہے ہیں، ان کا ہدف فورسز بھی ہیں اور عام شہری بھی۔ جوان بھی اور بوڑھے بھی، عورتیں اور بچے بھی، وہ دہشت گردی اور تخریب کاری کی ان مذموم کارروائیوں کو جہاد اور آزادی کی جنگ کا نام دیتے ہیں جن کا اسلام کے ابدی اور الوہی اصولوں اور نظریات سے دور کا تعلق بھی نہیں۔ کمانڈرسدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے ان کے گمراہ کن فلسفے کی تبطیل کرتے ہوئے درست کہا ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ گمراہ عناصر کو اپنے رویے بدلنا ہوں گے اور جہاد اورآزادی کے نام پر اپنے بہن بھائیوں کا قتل بند کرنا ہوگا۔ کوئٹہ میں یوم پاکستان کے موقع پر عسکری میلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بجاطور پر نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت اندرونی طور پر زخموں کاشکار ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا کہ ہم نے اپنے ملک کے لئے کیاکیا؟علمائے حق کا اس بات پر اجماع ہے اور وہ باضابطہ فتویٰ بھی دے چکے ہیں کہ اسلام میں اپنے ملک، اپنی ریاست اور اس کے شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں حرام ہیں۔ جہاد یا آزادی کی جنگ کے اسلامی تقاضوں سے ان کی کوئی مطابقت نہیں۔ اسی اصول کو سامنے رکھ کر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جس پر عمل کرتے ہوئے مسلح افواج پورے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ اس حوالے سے صدرممنون حسین کا یہ کہنا معروضی حقائق کے عین مطابق ہے کہ فوج،ریاستی ادارے اور قوم کے تمام طبقات یکجا ہوچکے ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ اب دورکی بات نہیں۔ مسلح افواج نے آپریشن ضرب عضب، خیبرون اور خیبرٹو کے تحت دہشت گردوں کے قلع قمع کے لئے موثر کارروائیاں کی ہیں۔ درہ مستول کا کنٹرول سنبھال کر انہوں نے دہشت گردوں کے افغانستان فرار کا راستہ بند کردیا ہے۔ افغان سرحد کو خیبرایجنسی سے ملانے والا یہ درہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا اور شدت پسند اسی راستے کو استعمال کرتے تھے۔ اس درّے پر پاک فوج کے کنٹرول سے افغان صدر اشرف غنی کی یہ شکایت بھی دور ہو جائے گی کہ ضرب عضب سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہورہے ہیں۔ اب دہشت گردوں کو فرار کا موقع نہیں ملے گا اور ان کا صفایا کرنے میں آسانی ہوگی۔ اسی تسلسل میں آپریشن خیبر2کے تحت فضائیہ نے وادی تیراہ میں بمباری کرکے پچھلے تین روز کے اندر سوسے زائد دہشت گرد ہلاک کردیئے جن میں بعض کمانڈر بھی شامل ہیں۔ فورسز نے پیش قدمی کرکے علاقے میں شدت پسندوں کے کئی اہم ٹھکانوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ دہشت گردوںکی تنظیموں اور ان کے رہنمائوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستانی قوم نے ان کے خاتمے کا تہیہ کرلیا ہے۔ قوم جہاد کا مطلب بھی سمجھتی ہے اور آزادی کے تقاضوں کو بھی، جہاد کے اسلامی نظریے میں اپنے ہی ملک کے خلاف دہشت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسی طرح کوئی گروہ اپنے ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو اسے آزادی کی جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کھلی بغاوت ہے۔ اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ ملک اور قوم کے خلاف لڑنے والے ہتھیار ڈال کر امن و سلامتی کے دائرے میں داخل ہوجائیں۔ اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں۔ پاکستان، شام، عراق، لیبیا یا یمن نہیں کہ کوئی مسلح گروہ ریاست کے نظام کو تہ و بالا کردے۔ ہماری مسلح افواج اور قوم وطن عزیز کے امن و استحکام کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
(بشکریہ ڈیلی جنگ)
http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%93%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%AA%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%92

دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم
23 مارچ 2015
اداریہ
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کے اچھے نتائج نکل رہے ہیں اور یہ کسی پارٹی کے خلاف نہیں، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہے، مُلک بھر میں بندوق لے کر پھرنے والا کلچر بھی ختم کر دیں گے، آپریشن سے کراچی کا امن بہتر ہوا ہے اور اس سے تجارت میں بھی اضافہ ہو گا، کراچی میں کارروائی جاری رہے گی، دہشت گردوں سے ڈائیلاگ کی ناکامی پر ان کے خلاف ضربِ عضب شروع کیا جو پوری کامیابی سے جاری ہے اور پاک فوج کے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کر کے ان کی کمر توڑ دی ہے، سیالکوٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا بڑے مقصد کے حصول کے لئے بڑے کام کرنے پڑتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف کام کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، بڑے مسائل پر ہاتھ ڈالا ہے، کامیابیاں حاصل کریں گے،بُرے وقت کو بھی بُرا نہیں کہنا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے۔
کراچی کے امن کو برباد ہوئے ربع صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں کراچی میں قتل و غارت کا بازار گرم رہا، بڑے بڑے سانحات رونما ہوتے رہے، سڑکوں پر خون بہتا رہا، ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی، لوگوں کو غیر انسانی انداز میں زندہ جلایا جاتا رہا، بم دھماکوں میں بڑی تعداد میں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہے، ممتاز سیاست دانوں اور سماجی رہنماؤں کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا گیا، جن میں حکیم محمد سعید جیسے لوگ بھی تھے، جو اللہ تعالیٰ کی اس سرزمین پر عطیۂ خداوندی کی حیثیت رکھتے تھے اور اپنی بساط کے مطابق انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔ وکلاء کو ٹارگٹ کر کے مارا گیا، بڑی تعداد میں ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، جن میں ایسے مسیحا بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کی عنایت سے لوگوں کو زندگی جیسی نعمت لوٹانے میں معاون ثابت ہو رہے تھے۔ غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا، جو بندوق برداروں کی وجہ سے لہو لہو نہ ہوا ہو، ماضی میں ہونے والی اس قتل و غارت کو روکنے کے لئے جتنی بھی کوششیں ہوئیں یا تو ناکام ہو گئیں، یا وقتی طور پر معمولی کامیابی کے بعد شب و روز پھر پہلے جیسے ہو گئے۔ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کو اگر ایسے حالات درپیش تھے تو جنرل پرویز مشرف کے فوجی دور میں بھی معاملات مختلف نہ تھے۔ بے نظیر بھٹو اُن کے دور میں کراچی آئیں، تو18اکتوبر2007ء کو کراچی کو خون سے نہلا دیا گیا، اس سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ یہ واقعہ پیش آ چکا تھا کہ وہ کراچی گئے تو انہیں ایئر پورٹ سے باہر نہ نکلنے دیا گیا، اس دوران شہر بھر میں بندوق بردار دندناتے رہے اور شہر کو کنٹینر لگا کر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، اس روز ایسے لگتا تھا کہ مُلک پر دہشت گردوں کی حکومت ہے،جو اسلحہ استعمال ہوا وہ جدید ترین تھا اور اسلحے کی مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہ تھا۔
جنرل پرویز مشرف کے جانے کے بعد بھی کشت و خون رُک نہیں گیا، شہر بدستور بندوق برداروں نے یرغمال بنائے رکھا، یہاں تک کہ ایک ہی روز میں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی آتشزدگی میں ڈھائی سو ملازمین زندہ جل کر راکھ ہو گئے یا جلا دیئے گئے، اب کہا جا رہا ہے کہ یہ آگ خود نہیں لگی تھی، بلکہ بھتہ نہ دینے پر لگائی گئی تھی، انسان سوچتا ہے کہ کیا کوئی ایسا بھی سنگ دِل ہو سکتا ہے، جو اپنے معمولی فائدے کے لئے ڈھائی سو زندہ انسانوں کو جلا کر راکھ کر دے۔

اِن حالات میں جب وزیراعظم نواز شریف نے تیسری بار اقتدار سنبھالا تو انہوں نے سندھ کی حکومت کے تعاون سے شہر کا امن لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا، جس کا کپتان وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو بنایاگیا، آپریشن کے بعد حالات میں بہتری تو ضرور ہوئی اور مختلف نوعیت کے جرائم کم بھی ہو گئے، لیکن ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ پوری طرح رُک نہ سکا، آپریشن کے دوران بھی لوگ مارے جاتے رہے، سیکیورٹی اداروں کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا، جن پولیس افسروں کی شہرت یہ تھی کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا لحاظ قانونی کارروائی کرتے ہیں اُن کو چُن چُن کر مارا گیا، ان میں ایک پولیس افسر اسلم چودھری بھی تھے، جنہیں متعدد بار دھمکیاں دی گئی تھیں، لیکن وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پھرتے رہے۔ جیو ٹیلی ویژن کے رپورٹر ولی خان بابر کو قتل کیا گیا تو ان کے موقعے کے گواہوں کو بھی وقتاً فوقتاً نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ کوئی بھی عینی شاہد زندہ نہ رہا، مقدمے کی سماعت بھی کراچی شہر میں ممکن نہ ہو سکی تو اندرون سندھ عدالت لگائی گئی، چھاپے کے دوران اس مقدمے میں سزا یافتہ مجرم بھی پکڑا گیا، تو اس سے کی جانے والی تفتیش کے حوالے سے ہوشربا تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، اِن حالات میں اگر کسی سیاسی جماعت کے وابستگان بھی پکڑے جا رہے ہیں، تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ کسی خاص جماعت کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص جرم کر کے کسی جماعت کی پناہ لینے کے لئے اس سے وابستہ ہو جاتا ہے یا پہلے سے جرائم کا ریکارڈ رکھنے والا کوئی شخص پکڑا جاتا ہے تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟ اگر لوگ درجن درجن بھر قتل کی وارداتیں کر کے اب اعتراف کر رہے ہیں تو کیا کسی سیاسی جماعت پر واجب ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا دفاع کرے یا پھر ان کے خلاف کارروائی کو اپنے خلاف کارروائی کا تاثر دے؟ایسے سوالوں کا جواب بھی تلاش کرنا چاہئے کہ کیا ولی خان بابر کے قتل کے تمام گواہ محض’’اتفاقاً‘‘ مارے گئے تھے یا کوئی منظم مافیا یہ کارروائیاں کر رہا تھا؟
وزیراعظم نواز شریف نے بالکل درست کہا ہے کہ کراچی آپریشن کسی کے خلاف نہیں ہے،محض جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ اب تک جتنے لوگ بھی پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے جن جن وارداتوں کا اعتراف کیا ہے اور جو جو انکشافات کئے ہیں ان کی بنا پر تو ابھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، نہ کسی سیاست دان کو گرفتار کیا گیا ہے نہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی ہے، محض چند قاتلوں اور ان کے ساتھی سہولت کاروں کی گرفتاری سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے یا اُسے سنگل آؤٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ موقع ایسا ہے کہ سیاسی جماعتیں ازخد اپنی صفوں میں سے اُن عناصر کو نکال دیں جو قتل و غارت میں ملوث ہیں یا رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں ایسے عناصر کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر اگر یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گی کہ انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کوئی ان کی بات پر یقین نہیں کرے گی، جس جس طرح کے دہشت گرد پکڑے جا رہے ہیں اور جو جو انکشافات وہ کر رہے ہیں اُن کا دفاع کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ اب جس شخص نے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری کو آگ لگائی اور سارے مزدوروں کو جلا کر بھسم کر ڈالا، کیا کوئی انسان اس کا دفاع کرنے کے لئے آگے بڑھے گا؟ اس لئے اگر ایسا کوئی ملزم یا اس کا کوئی ساتھی گرفتار ہوتا ہے تو قانون کی عدالت میں اس کا فیصلہ ہونے دیں اور ایسے واقعات پر خواہ مخواہ جانبداری کا شور نہ مچایا جائے، ورنہ عام لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ ایسی وارداتوں کے دفاع کی ناکام کوشش کرنے والے بھی کسی نہ کسی انداز میں ایسے واقعات میں ملوث ہیں، دو روز قبل کراچی میں رینجرز کی موبائل کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو اہلکار شہید ہو گئے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف ابھی کارروائی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچتی اور شہر کا امن لوٹانے کے لئے پُرعزم کارروائیوں کی ضرورت ہے ایسے میں صوبائی حکومت اور اپوزیشن ہر کسی کا فرض ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی میں تعاون کرے اور معاملے کو ڈی ٹریک کرنے کی کوشش نہ کی جائے، جرائم اور سیاست کو گڈ مڈ کرنا قابلِ تحسین کام نہیں ہے۔

بشکریہ ڈیلی پاکستان)
http://dailypakistan.com.pk/editorials/23-Mar-2015/205766

دہشت گردی کا خاتمہ …. امن کا واحد راستہ

339638-rangrz-1426964081-197-640x480
ایڈیٹوریل ہفتہ 21 مارچ 2015
دہشت گردی کے الم ناک واقعات کی نئی لہر ایک پیشگی انتباہ ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے پیشگی اٹیک کی حکمت عملی نہایت ضروری ہے۔
دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، وقوع پذیر ہونے والے حالیہ واقعات کا تعلق ملک کے مختلف علاقوں سے ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ دہشت ناک وارداتوں میں ملوث بے چہرہ قوتوں نے ابھی سرنڈر ہونے کا عندیہ نہیں دیا ہے، بہر حال ابتدائی طور پر یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور، فرقہ وارانہ و مسلکی انتہا پسند اور امن دشمن عناصر اب حکومت سے چومکھی لڑائی لڑنے کے لیے اپنی توانائیاں اربن وارفیئر کی طرف موڑنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں اور کراچی سمیت ملک کے دور دراز علاقوں میں اکا دکا کارروائیاں کر رہے ہیں۔
جس کا مقصد ملک میں امن بحالی کے اقدامات کو سبوتاژ کرنا اور خوف کا کلچر پیدا کرنا ہے تا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے قومی حمایت سے ملک کو دہشت گردی، بھتہ خوری، مجرمانہ گروہ بندی، انتہا پسندی، اور داخلی بدامنی سے نجات دلانے کا جو مشن سامنے رکھا ہے اسے کسی نہ کسی طور پر ناکام بنایا جائے۔
جمعہ کو جو واقعات پیش آئے ہیں ان کی نوعیت اور محرکات کے پس پردہ کون سے عوامل ہیں اس پر بلا تاخیر غور و فکر کی ضرورت ہے تا کہ جاری آپریشن کی سمت متاثر کیے بغیر دہشت گردوں کا ملک بھر میں تعاقب اسی شدہ مد کے ساتھ کیا جائے جب تک کہ امن دشمن قوتوں کو سرنڈر کیے بغیر کوئی اور راستہ نہ ملے۔
ریاستی ادارے نیکٹا، قانون نافذ کرنے والے صوبائی حکام اور انتظامیہ کو بین الصوبائی سطح پر ان عناصر کی نقل و حمل پر کڑی نظر رکھی چاہیے جو وارداتوں کے بعد روپوشی کے پہلے سے طے شدہ منصوبے اور ایکزٹ روٹس کا پورا نظام اور نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں، گزشتہ روز کراچی کے علاقہ نارتھ ناظم آباد میں رینجرز کی موبائل کے قریب دھماکے سے2 اہلکار جاں بحق جب کہ 3 اہلکاروں سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے، پولیس کے مطابق رینجرز کی موبائل پر خودکش حملہ کیا گیا۔
بم ڈسپوزل یونٹ کے افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور تھا جس نے موبائل کے بائیں جانب دروازے سے موٹر سائیکل کو ٹکرایا، انھوں نے مزید بتایا کہ دھماکے میں5 سے 6 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ دریں اثنا آرام باغ میں مسجد میں عین نماز جمعہ کے فوری بعد دھماکا ہو گیا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہو گئے، دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔
یہ حملہ بد نیتی، مذموم عزائم اور مفسدانہ حکمت عملی کی غمازی کرتا ہے، امن کے مخالف گروہ غالباً ان امن پسند کمیونیٹیز کو مشتعل کرنے سے بھی باز نہیں آئیں گے جو ان کے مکروہ عزائم کی راہ میں دیوار بنیں گے۔ اس لیے قانون نافذ کرنے والوں کا فرض ہے کہ وہ پیشگی جوابی ایکشن اور گردن پکڑ مشن کے تحت بربادی پر مائل بد خواہ گروہوں کو ہدف تک نہ پہنچنے دیں۔ اسٹرٹیجی ایسی ہی موثر ہونی چاہیے جو نائن الیون کے بعد نیو یارک کے میئر روڈی گلیانی نے اختیار کی۔
کراچی کے بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکے میں امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی) استعمال کی گئی ہے جو کہ اس سے قبل بھی کراچی میں مختلف دھماکوں میں استعمال کی جا چکی ہے جب کہ خیبرایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن خیبر ٹو کے دوران فضائی کارروائی میں مزید 4 دہشت گرد مارے گئے۔
فورسز نے دہشت گردوں کے سب سے اہم مورچہ خیبر سنگر کا کنٹرول بھی سنبھال لیا، ادھر خاران میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق دلاوری کے قافلے پر فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار شہید اور3 اہلکار زخمی ہوئے، بلوچستان نیشنل پارٹی نے خاران میں شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کیا۔ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے شروع کیا، وہاں ہر صورت میں امن قائم کرینگے اور کراچی کو جرائم سے پاک شہر بنایا جائے گا، اس مقصد کے حصول تک آپریشن جاری رہیگا، 15 سال بعد تشکیل دی گئی قومی ایوی ایشن پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ آپریشن کے نتیجے میں کراچی میں جرائم کی شرح نیچے آ رہی ہے۔ شہر کا امن قائم رکھنے کی کوشش سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ادھر آپریشن خیبر ٹو اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ فورسز نے باڑہ کا مکمل انتظام سنبھال لیا ہے۔ 16 اکتوبر سے شروع ہونیوالے آپریشن خیبر ون میں مجموعی طور پر 125 شدت پسند مارے گئے جب کہ 500 سے زائد نے فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔17 سیکیورٹی اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی دہشت گرد یا تخریب کار عناصر کسی قوم کو دہشت زدہ نہیں کر سکتے۔ قومی سلامتی پر مامور ریاستی ادارے دہشت گردوں کا پیچھا جاری رکھیں، یہی واحد راستہ ہے امن کا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز )
http://www.express.pk/story/339638/

پولیو: سب کو ہمنوا بنانے کی ضرورت

اداریہ
وطن عزیز کے کئی علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی رپورٹوں کے منظرنامے میں دہشت گردوں کا انسداد پولیو ٹیموں کو نشانہ بنانا اور بعض مقامات پر عام لوگوں کا مذکورہ ٹیموں سے عدم تعاون اس ضرورت کی نشان دہی کررہا ہے کہ بچوں کو عمر بھر کے لئے معذور بنانے والے موذی مرض کی روک تھام کی تدابیر پر تمام حلقوں کو قائل کیا جائے۔ منگل (17؍مارچ 2015ء) کے روز خیبر پختونخوا کے مانسہرہ ضلع کے گائوں ڈنہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی منصوبہ بندی میں ایسے توجہ طلب سقم کی بھی نشان دہی کرتا ہے جس کے باعث کئی برس سے مختلف علاقوں میں ہیلتھ ورکرز نشانہ بن رہے ہیں۔ تاہم علاقے کی لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کا یہ عزم قابل ستائش ہے کہ وہ تین روزہ سوگ کے بعد اپنی مہم جاری رکھے گی۔ منگل ہی کے روز سندھ کے ضلع شکارپور کے گائوں بوجانا میں پولیو ٹیم پر پتھرائو کا واقعہ اس سنگین غلط فہمی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے جو افزائش نسل کی صلاحیت پر پولیو قطروں کے اثرات کے حوالے سے بعض حلقوں کی طرف سے پھیلائی گئی ہے حالانکہ طبی ماہرین پولیو قطروں کے تجزیے اور علماء و مشائخ ان قطروں میں موجود اجزا کے اثرات کے بارے میں حاصل ہونے والی معلومات کی بنا پر بار بار واضح کرچکے ہیں کہ اس باب میں شبہات حقائق سے بعید ہیں۔ ایسے عالم میں، کہ خطے کے دیگر ممالک پولیو کے خطرے پر بڑی حد تک قابو پاچکے ہیں اور اقوام متحدہ نے جن تین ممالک (پاکستان، افغانستان اور نائجیریا) کو پوری دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا تھا، ان میں سے نائجیریا اور افغانستان میں بھی پولیو وائرس کا پھیلائو کم ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ایٹمی ملک پاکستان میں پولیو کے آئے روز سامنے آنے والے واقعات تشویشناک ہیں۔ 2014ء کے دوران وطن عزیز میں پولیو کیسز کی تعداد 303تک جاپہنچی جبکہ 16سال پہلے 1998ء میں بھی پولیو کیسز کی تعداد 300 سے تجاوز کرگئی تھی۔ 2014ء میں قومی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 30کیسز، پنجاب میں 4کیسز، بلوچستان میں 23کیسز، خیبر پختونخوا میں 69کیسز اور فاٹا میں 177 کیسز کی اطلاعات ملیں۔ مذکورہ اضافے کی ایک وجہ ملک کو درپیش سیکورٹی کی صورت حال بتائی جاتی ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں کے نتیجے میں ہیلتھ ورکرز اور سیکورٹی اہلکاروں سمیت 73افراد جاں بحق اور 53زخمی ہوئے۔ فاٹا میں فوجی آپریشنوں کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکا کہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے بچوں تک پولیو سے بچائو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو رسائی ملی۔ اس کے باوجود سال 2015ء کا آغاز ہی وطن عزیز میں نئے پولیو کیسز کا پتہ چلنے کی اطلاعات سے ہوا۔ پچھلے سال کے آغاز میں سامنے آنے والی عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں 90فیصد پولیو وائرس جینیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے جبکہ شدت پسند عناصر نے ایک جانب ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی پولیو مہم کے ذریعے اسامہ بن لادن تک امریکہ کی رسائی کے حوالے سے اصلی پولیو ٹیموں کے لئے کام کرنا خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہی نہیں کراچی کے علاقوں گڈاپ ٹائون اور سہراب گوٹھ سمیت کئی دیگر مقامات پر مشکل بنا رکھا ہے دوسری جانب پولیو ویکسین کے اثرات کے بارے میں بعض حلقوں کی افواہ سازی کے اثرات کئی علاقوں میں والدین کے عدم تعاون کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ اندرون ملک پولیو وائرس کی موجودگی کے باعث پاکستانیوں کو بیرون ملک سفر اور تجارت میں درپیش مشکلات کا تقاضا بھی یہ ہے کہ 2015ء میں ملک کو پولیو فری بنادیا جائے۔ اس کے لئے جہاں پولیو ورکرز پر حملے کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دینا ضروری ہے وہاں اعلٰی سطح پر ایسی قومی کمیٹی کی تشکیل کا اہتمام کیا جانا چاہئے جس کے ذریعے پولیو مہم کے مخالفین سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو بات چیت اور مکالمے سے قائل کیا اور مسئلے کا کوئی حل نکالا جاسکے۔ اس معاملے میں علماء اور مشائخ کا کردار بہت اہم ہوگا۔
http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D9%BE%D9%88%D9%84%DB%8C%D9%88-%D8%B3%D8%A8-%DA%A9%D9%88-%DB%81%D9%85%D9%86%D9%88%D8%A7-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA/

سانحہ یوحنا آباد۔ذمہ دار کون ؟… کھلا راز

SMS: #HRC (space) message & send to 8001
huzaifa.rehman@janggroup.com.pk
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست 1947کے تاریخی خطاب میں انتہائی خوبصورتی سے واضح کردیا تھا کہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں اور ہندوؤں کو بھی اپنے مذہب کے مطابق رہنے کی بھرپور اجازت ہوگی۔لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں جو کچھ ہوا ،ہم سب نے دیکھا اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا۔1960میں جس مملکت خداداد کو ایشیاء کا ماڈل کہا جاتا تھا،ایسی ڈگر پر چلا کہ آج اس کو اور افغانستا ن کو دنیا ایک نظر سے دیکھتی ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر ہمیشہ لکھتا رہا ہوں مگر یوحنا آباد اور پھر پورے ملک میں جو پرتشدد واقعات سامنے آئے اس پر مسیحی بھائیوں کو بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔یوحنا آباد کے سانحہ پر سیاسی جماعتوں کا کردار انتہائی افسوسناک ہے۔مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل یہ عاجز ساؤتھ افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے نواح میں ایک گلی کو دیکھنے صرف اس لئے گیا کہ اس گلی کو دو نوبل انعام یافتہ افراد کے مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ڈیسمن ٹو ٹو اور نیلسن منڈیلا دونوں ایک ہی گلی کے باسی تھے۔گلی میں کھڑے کھڑے مجھے یاد آگیا کہ میرے ایک قریبی دوست نے ایک مرتبہ ڈیسمن ٹوٹو سے تہذیبوں کے ٹکراؤ کی بات کی تو ڈیسمن نے بہت خوب کہا تھا کہ نہ تو سارے مسلمان دہشتگرد ہوتے ہیں اور نہ سارے مسیح۔اس لئے مسیح برادری کو دو بے قصور نوجوانوں کو زندہ جلانے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہئےتھا کہ دونوں نوجوان مسلمان سے پہلے انسان تھے۔ اسی ہی طرح ماضی میں بستیوں کو جلانے اور میاں بیوی کو زندہ بھٹے میں پھینکنے کے واقعات بھی انتہائی افسوس ناک ہیں۔ اس قسم کے شرمناک فعل جو بھی کرے ہمیں اس کی مذمت کرنے چاہیئے۔ مسیح برادری کا غم شدید مگر انہیں یاد ہونا چاہئے کہ جناب مسیح تو فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو اپنا دوسرا گال اس کے سامنے کردو بلکہ اسلام کی حقانیت کی اولین تصدیق کرنے والوں میں ورقہ بن نوفل شامل ہیں۔ جو دین مسیح پر تھے۔ مسلمانوں کی اولین ہجرتوں میں ہجرت حبشہ کا ذکر آئے گا تو حبشہ کے شاہ نجاشی کا تذکرہ ضرور ہوگا۔ جس کے دربار میں سیدنا جعفر طیارؓ نے سورہ مریم کاحوالہ دیا۔ کلام پاک کی سورہ روم ایرانی اور رومن قوتوں کی معرکہ آرائی کے تناظر میں فتح کی بشارت دیتی ہے ۔اس لئے کہ کفار مکہ اپنے آپ کو اہل ایران سے قرابت کا حق دار سمجھتے تھےاور مسیح کو ایک ہی سلسلے کی کڑی سمجھتے تھے۔ہم مسلمان جس پیغمبرمحمدﷺ کے امتی ہیں انہوں نے مسجد نبوی میں عیسائی وفد کو قیام پذیر ہونے کا شرف بخشا اور حضرت عمر ؓنے بیت المقدس میں کلیسا میں عیسائی اکابرین اور دیگر غیر مسلموں کو اطمینان دلایا تھا کہ آپ سب کے مذہبی مقامات کی حفاظت اہل اسلام کے ذمے ہے۔اس دین کے ماننے والے انسان سے کیسے زیادتی کرسکتے ہیں؟
مسلمانوں کی ریاست میں تو غیر مسلموں کے حقوق اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص پاکستانی ہونے کی حیثیت سے معتبر ہے وہ ایک آزاد شہری ہے اور اسے اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنے کا پورا حق ہے۔ایک مخصوص گروہ اس پر اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرسکتا۔ مذہب اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اسلام نے کسی کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی مکتبہ فکر کے افراد کا خون بہائے اور ذاتی مفادات کی تسکین کرے۔ پشاور کا ایڈورڈ کالج ،گارڈن کالج ،مرے کالج ،ایف سی کالج ،ایمرسن کالج کہاں سے شروع کروں اور کہاں اختتام ۔ٹیکسلا کا بصارت لوٹانے والا مشن اسپتال یا دیگر مشنری اسپتال مسیح برادری کی شبانہ روز کاوشوں کا مظہر ہیں۔ اسی پاکستانی فوج نے جنرل جولین پیٹرز ،سیسل چوہدری جیسے مایہ ناز سپوت پیدا کئے ہیں۔ کوئی جسٹس (ر) کارنیلیس جیسا عظیم فرزند کیسے بھول سکتا ہے۔ میرا تو یہ کامل یقین ہے کہ محمد ﷺ کا کوئی بھی امتی ایسا گھناؤنا کھیل نہیں کھیل سکتا۔اس واقعے کو بنیاد بنا کر ملک کی سیاسی جماعتوں نے جو کردار ادا کیا وہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ کیا سانحہ پشاور کے بعد وزیراعلٰی خیبر پختونخوا مستعفی ہوئے تھے؟ اور ہوتے بھی کیوں۔ دہشت گردی کی لہر پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔اس لئے ذمہ دار کسی ایک شخص کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ دہشت گرد تو جی ایچ کیو تک پہنچ گئے۔ تحریک انصاف کے ترجمان کی جانب سے پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لینا انتہائی غیر مناسب تھا۔ سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنی چاہئے۔ایک دوسرے کے خلاف بیانات داغ کر پوائنٹ اسکورنگ ان کا ذاتی فعل ہے مگر ایسے واقعات پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔میرا لاہور جل رہا تھا ،میرے لوگ مررہے تھے اور ہماری سیاسی جماعتیں اپنی دکانداری چمکارہی تھیں۔ایسے مواقع پر تو اشد ضرورت ہوتی ہے کہ اپوزیشن سامنے آتی اور مظاہرین کو صبر و تحمل کی تلقین کرتی۔کیونکہ حکومت کے مخالفین ایسے مظاہرین کی دادرسی کرتے ہیں تو معاملہ ٹھنڈا ہونے کی توقع زیادہ ہوتی ہے بجائے یہ کہ آپ ٹوئیٹر اور فیس بک پر ایک دوسرے کی گڈگورننس اور بیڈ گورننس کا تذکرہ کرکے عوام کو مزید اشتعال دلوائیں۔ کیونکہ ایسی کیفیت میں کبھی بھی حکومت یا اس کا کوئی نمائندہ مشتعل ہجوم سے بات چیت نہیں کرسکتایہ ذمہ داری کسی تیسرے فریق کی ہوتی ہے اور یہ کام اپوزیشن کا ہوتاہے۔کیا تحریک انصاف کی اعلٰی قیادت واقعہ کے فورا بعد یوحنا آباد پہنچ کر مظاہرین کا غم و غصہ کم نہیں کرسکتی تھی؟پنجاب حکومت اور اس کی پالیسیوں پر اپوزیشن جتنی کڑی تنقید کرے مگر ایسے واقعات پر سیاست کرنے سے ملک کا نقصان ہوتاہے۔ بار بار پنجاب پولیس اور پنجاب حکومت کے وزرا کو کہا جارہا ہے کہ وہ موقع پر پہنچ جاتے تو پھر معاملات مزید سنگین ہوجاتے۔ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرتی تو پھر شاید لاشوں کی لمبی قطار لگ جاتی اور حکومتی وزراء سے ہجوم وہی سلوک کرتا جو بیچارے دو معصوم نوجوانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ اپوزیشن کو ایسے موقع پر مثبت انداز اپناتے ہوئے تعمیری تنقید کرنا چاہئے تھی۔ اگر ماضی میں کوٹ رادھا کشن یا سانحہ قصور کے ذمہ داران کو سرعام لٹکایا گیا ہوتا تو پھر کوئی بھی شخص دوبارہ یہ جرات نہ کرتا۔ ہمیں ایسی تنقید کی ضرورت بھی ہے مگر نشریاتی اداروں اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں آنے کے لئے یہ کہہ دینا کہ میاں شہباز شریف مستعفی ہو،لاہور میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میرے خیال میں یہ مناسب طرز عمل نہیں ہے۔ ہمیں ایسی سیاست اور روایات کو بدلنا ہوگا۔ہم تو اس خطے کے باسی ہیں جہاں گندھارا تہذیب نے جنم لیا۔ جہاں سے بدھ مت کی تعلیمات فار ایسٹ تک پہنچیں،جو کٹاس راج اور اینگلاج ماتا اور کلات کے اس مندر کا بھی مسکن ہے۔ بابا نانک بھی تو پاکستانی ہیں۔گردوارا ،جنم استھان ،پنجاسر میرے وطن کی ہی زیب و زینت ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم اپنی سالمیت کے خلاف اٹھنے والی ہر کوشش کو ناکام بنادینگے۔ میرے مسیح بھائیوں یہ صرف آپ کا نہیں بلکہ یہ ہمارا مشترکہ دکھ ہے۔مگر آپ کو بھی شدت پسندی نہیں اپنانی چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی ایسے موقع پر سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر وطن عزیر کے بارے میں سوچنا چاہئے۔
http://beta.jang.com.pk/akhbar/%D8%B3%D8%A7%D9%86%D8%AD%DB%81-%DB%8C%D9%88%D8%AD%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D9%93%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%94%D8%B0%D9%85%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D9%86-%D8%9F-%DA%A9%DA%BE%D9%84%D8%A7

گرجا گھروں پر حملے:دشمن کا نیا حربہ
اداریہ
لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں اتوار کو دوگرجاگھروں پر انتہائی افسوسناک خودکش حملے بلاشبہ انسانیت دشمن تخریبی عناصر کا خوفناک حربہ ہیں جس کا مقصد پرامن مسیحی برادری کو اشتعال دلا کر ملک میں موجود بین المذاہب ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں۔ اس جاں گداز سانحے میں دوپولیس اہلکاروں سمیت 15افراد کی قیمتی جانیں چلی گئیں اور 79زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اور رضاکاروں کی موجودگی کے باعث حملہ آور گرجاگھروں کے اندر داخل نہ ہوسکے ورنہ جانی نقصان کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ تھا کیونکہ اس وقت دونوں عبادت گاہوں میں دعائیہ تقریب ہورہی تھی جن میں بڑی تعداد میں عبادت گزار موجود تھے۔ بارودی مواد پھٹنے سے دونوں خودکش بمباروں کے چیتھڑے اڑگئے جبکہ موقع پر موجود مشتعل لوگوں نے دومشتبہ افراد کو جنہیں پولیس نے پکڑ لیا تھا زبردستی چھڑاکر زندہ جلادیا، طالبان کی تنظیم جماعت الاحرار نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، اس جاں گداز واقعے کے خلاف مسیحی برادری نے لاہور کے علاوہ کئی دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے، دھرنے دیئے، توڑپھوڑ کی اور یہ سلسلہ اتوار کے علاوہ پیر کو بھی جاری رہا۔ وزیراعظم نوازشریف نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ریاست پر حملے قرار دیا ہے ۔ تمام سیاسی پارٹیوں اور دینی جماعتوں کے رہنمائوں اور سول سوسائٹی نے بھی حملوں کی مذمت کی۔ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کرکے مسیحی برادری سے یک جہتی کا اظہار کیا۔ عیسائی دنیا کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے سانحے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں امن و استحکام کی دعا کی۔ یوحنا آباد سے قبل ٹیکسلا میں بھی اس طرح کا واقعہ پیش آیاتھا جس کے بعد اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے تھے اور یہ بات اطمینان بخش ہے کہ ایک عرصہ تک وہ دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ رہیں۔ لاہور میں ہونیوالا سانحہ انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد یہ اطلاعات میڈیا میں آچکی تھیں کہ دہشت گرد ملک کے دوسرے حصوں کا رخ کررہے ہیں۔ حال ہی میں چند دہشت گردوں کے لاہور پہنچنے کی خبریں بھی عام ہوچکی تھیں۔انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کا سراغ لگا کر انہیں غیرموثر بنا دینا چاہئے تھا مگر ایسا نہ ہوسکا۔ خودکش حملہ آوروں کے جسمانی اعضا تو ملے ہیں جن سے انکی شناخت میں مدد ملے گی مگر پولیس نے موقع سے جن دومشتبہ افراد کو پکڑا مشتعل مظاہرین نے زبردستی اس سے چھین کر دونوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ مارنیوالوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ لوگ تفتیش میں کتنے معاون ثابت ہوسکتے تھے۔ پھر وہ صرف شبہے میں پکڑے گئے تھے ضروری نہیں کہ وہ گنہگار بھی ثابت ہوتے۔ مظاہرین نے غیض و غضب کے عالم میں انہیں مار کر ایک بڑا ثبوت ضائع کر دیا۔ پھر انہوں نے پولیس اور بم سکواڈ کو بھی شواہد اکٹھے کرنے کے لئے آگے نہ جانے دیا۔ ایسے ہیجانی لمحات میں لوگوں کو حواس قابو میں رکھتے ہوئے خود فیصلے کرنے کی بجائے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مدد کرنی چاہئے۔ یہ ذمہ داری متاثرہ کمیونٹی کے بڑوں کو اپنے ہاتھوں میں لینی چاہئے تاکہ اصل مجرموں تک پہنچا جا سکے۔ پاکستان میں مسلمان ہندوعیسائی سکھ اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے سب برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ اسلام تحمل اور رواداری کا دین ہے اور سب کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ عیسائی کمیونٹی کا قیام پاکستان میں بڑا کردار ہے۔ مسلمان اکثریت کے علاوہ دوسری مذہبی کمیونٹیز سے بھی ان کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ لاہور کا واقعہ مسلمانوں اور مسیحیوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کسی بڑی سازش کا حصہ ہے۔ انہیں دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہئے اور متحد ہوکر اسکا مقابلہ کرنا چاہئے۔ مذہب کی بنیاد پر تعصب اور تشدد کے نتائج معاشرے کے لئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ مذہبی رہنمائوں کو مل جل کر ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ حکومت کو چاہئے کہ سانحہ یوحناآباد کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچا کر اس عمل کو تقویت دے۔

بشکریہ جنگ)
http://beta.jang.com.pk/akhbar/%DA%AF%D8%B1%D8%AC%D8%A7-%DA%AF%DA%BE%D8%B1%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%D8%AD%D9%85%D9%84%DB%92%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D8%AD%D8%B1%D8%A8%DB%81/

گرجا گھروں پر خود کش حملہ
17 مارچ 2015
اداریہ
لاہورمیں دہشت گردی نے ایک بار پھر بد ترین وارکیا اور اس دفعہ زد پرمسیحی برادری تھی۔اتوار کولاہورکے علاقے یوحنا آباد میں خود کش حملہ آوروں نے کرائسٹ اور کیتھولک چرچ کے باہر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔تفصیلات کے مطابق دونوں گرجا گھروں میں صبح گیارہ بجے کے قریب خصوصی عبادات جاری تھیں، 2 خودکش حملہ آوروں نے زبردستی اندرداخل ہونے کی کوشش کی، سکیورٹی اہلکاروں نے مزاحمت کی توانہوں نے خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں 17 افرادمارے گئے اور90زخمی ہوگئے۔لقمہ ء اجل بننے والوں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق 15سے 20 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیاحملہ آوروں کی عمریں 20سے 22سال کے درمیان تھیں۔ واضح رہے کہ یوحنا آباد مسیحی برادری کی سب سے بڑی آبادی ہے۔حکومت پنجاب اورسندھ نے اس موقع پر ایک روزہ جبکہ پاکستان مسیحی اتحاد کی طرف سے تین روز ہ سوگ کا اعلان کیا گیا ۔وزیر اعظم میاں محمد نوا شریف نے اپنے بیان میں اس حملے کو ریاست پرحملہ قرار دیا اور صوبائی حکومتوں کو عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی اور یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردوں کا آخری ٹھکانے تک پیچھا کرے گی۔
اس میں تو کوئی دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں کہ پاکستان کے کسی بھی شہری پر حملہ، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب ، فرقے ،رنگ ، نسل یا علاقے سے ہو، پوری ریاست پر حملے کے مترادف ہے۔گرجا گھروں میں ہونے والے ان دھماکوں کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ، ہر عبادت گاہ مقدس ہے اور ہر جان قیمتی ہے لیکن یہ فلسفہ دہشت گردوں کی سمجھ سے بالا تر ہے،ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے۔ان کا اولین مقصد بد امنی پھیلانا ہے،وہ ملک میں فساد برپا کرناچاہتے ہیں ۔دہشت گردوں نے گرجا گھر پر حملہ کر کے جو نقصان پہنچایا وہ یقیناناقابل تلافی ہے۔اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی شاخ الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کر لی لیکن جو فساد ان دھماکوں کے بعد برپاہوا اس کا ذمہ دار کون ہے؟اہل علاقہ کی طرف سے جو رد عمل سامنے آیا وہ بالکل بھی جائز نہیں تھا اور کسی حال میں بھی ا س کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ان کا غم و غصہ اپنی جگہ لیکن قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار ان کو کیسے حاصل ہو گیا؟دھماکے کے بعدوہاں موجود افرادنے اشتعال میں آ کر دوافراد پر بیہمانہ تشدد کیا، ایلیٹ فورس کے اہلکار ان کوبچا کر نکالنے میں کامیاب ہوگئے تومشتعل افراد نے گاڑی کا تعاقب کیا، فیروز پور روڈ پرایلیٹ فورس کی گاڑی روک لی ، دو نوں مشتبہ افراد کو کوگاڑی سے باہر نکا ل کراتنا مارا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس پر بھی ان کی تسلی نہیں ہوئی تو ان کو آگ لگا دی،ان کی لاشیں پانچ گھنٹے تک سڑک پر پڑی رہیں۔مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ وہ دونوں افراد دہشت گردوں کی معاونت کر رہے تھے، گو کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔بالفرض اگر وہ لوگ دہشت گردوں کے معاون بھی تھے تو انہیں پولیس کے حوالے کرنا چاہئے تھا۔ان کی شناخت ہوئی نہ کوئی مقدمہ چلا اورنہ ہی جرم ثابت ہوا پھر بھی انہیں ہولناک سزا دے دی گئی۔کیا یہ کسی سانحے سے کم ہے؟یہی نہیں مظاہرین نے تین پولیس اہلکاروں کو بھی دکان میں بند کر کے تالہ لگا دیا جہاں سے بعد میں انہیں باہر نکال کر مارا پیٹا۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف شہروں میں جگہ جگہ پر تشددمظاہرے کئے گئے، سڑکیں بلاک کر دی گئیں، ٹائر جلائے گئے۔احتجاج کرنے والے ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر گھومتے رہے،توڑ پھوڑ کی،املاک کو نقصان پہنچایا، گاڑیوں کے شیشے اورمیٹروبس روٹ کے جنگلے توڑ دئیے۔ یہ سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔
احتجاج کرنا ہر کسی کا قانونی حق ہو سکتا ہے لیکن شدید نوعیت کے ان مظاہروں کی کوئی بھی توجیہہ ممکن نہیں،یہ رویہ تویسوع مسیح ؑ کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔مسیحی رہنماوں کو ایسے واقعات کافوری نوٹس لینا چاہئے، ذمہ داران کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے،اس ساری صورتحال سے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ بعض شر پسند عناصر موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اوراس دہشت گردی کو کوئی مذہبی تنازعہ بنانے کی سازش کر رہے ہیں۔ہمیں یہ بات کسی صورت نہیں بھولنی چاہئے کہ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہم خود کو دہشت گردی کے پنجوں سے آزاد کرانے کی کوشش میں جتے ہوئے ہیں ۔دہشت گردفرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے کے لئے ہی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔وہ اس سے قبل مساجد اور امام بارگاہوں پر بھی حملہ کر چکے ہیں یہاں تک کہ سکول کے معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے بھی ان کے دل لرزے نہ ہاتھ کانپے۔ دہشت گردی کو مذہبی منافرت کا رنگ دینے والے دانشوروں سے بڑا احمق کوئی ہو نہیں سکتا۔ بعض اہل سیاست بھی منفی بیان بازی میں مصرو ف ہو گئے ہیں کوئی حکومت سے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے تو کوئی اسے حکومت کی نالائقی قرار دے رہا ہے۔حالانکہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا یہ ایک دوسرے کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کا وقت ہے، مل کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ایسے میں حکومت کو بھی موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،سکیورٹی مزید سخت کرنی چاہئے۔ ہر عبادت گاہ کی حفاظت یقینی بنائی جانی چاہئے،انسداد دہشت گردی فورس بن چکی ہے ، اس کی کارکردگی بھی سب کے سامنے آنی چاہئے تاکہ لوگوں کو یقین ہو سکے کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کر رہی ہے۔ہم سب کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے، سب کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی آئین ضمانت دیتا ہے۔یہ کوئی مذہبی فسادنہیں بلکہ دہشت گردی کا واقعہ ہے، جو لوگ ہنگاموں کی آگ بھڑکا رہے ہیں وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ دہشت گردوں کی معاونت کر رہے ہیں۔

بشکریہ ڈیلی پاکستان)
http://dailypakistan.com.pk/editorials/17-Mar-2015/203803

لاہور میں چرچ کے باہر خود کش دھماکے

337479-church-1426449223-115-640x480
ایڈیٹوریل پير 16 مارچ 2015
لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں کیتھولک چرچ اور کرائسٹ چرچ کے باہر اتوار کو دو خودکش دھماکے ہوئے۔ ان سطور کے لکھے جانے تک میڈیا کی اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کے اس واقعے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک اور 48 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکوں کے وقت چرچ میں دعائیہ سروس جاری تھی اور پانچ سو سے زائد افراد چرچ میں موجود تھے۔ میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق دو مشکوک افراد نے زبردستی چرچ میں داخل ہونے کی کوشش کی، سیکیورٹی گارڈز نے دونوں کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔
دھماکے کے بعد لوگ مشتعل ہو گئے اور انھوں نے توڑ پھوڑ شروع کردی۔ پولیس نے موقع پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا لیکن لوگ اس قدر مشتعل تھے کہ انھوں نے دونوں مشتبہ افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر انھیں ہلاک کر ڈالا اور بعدازاں ان کی لاشوں کو آگ لگا دی۔ بہرحال پولیس نے حالات کو قابو کرلیا ہے۔ اس دہشت گردی کے خلاف ملک کے دیگر شہروں میں بھی مظاہرے ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔ ادھر دہشت گردی کی اس واردات کے بعد ملک بھر میں مساجد،امام بارگاہوں، گرجاگھروں اور اہم مقامات کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی تاکہ دہشت گردی کا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔
پاکستان میں کمزور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو بڑے تواتر سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 22 ستمبر 2013ء کو بھی دہشت گردوں نے پشاور میں چرچ کو نشانہ بنایا تھا جس میں 127 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہو گئے تھے تاہم دہشت گرد کثیرالجہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ وہ ایک جانب اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں تو دوسری جانب مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور درگاہوں اور حساس اداروں کی عمارتوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یوں دہشت گرد بڑے منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ اب وہ لاہور کو بھی نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
گزشتہ ماہ پولیس لائنز لاہور میں بھی دہشت گردوں کے حملہ سے 8 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ واہگہ بارڈر کے قریب بھی خودکش حملہ ہو چکا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد ملک میں افراتفری مچانا، فساد برپا کرنا اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنا ہے تاکہ ضرب عضب کو ناکام بنایا جا سکے۔
لاہور میں یوحنا آباد مسیحی اکثریتی آبادی ہے۔ یہاں واقعچرچ سے باہر اگر سیکیورٹی گارڈز جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کر کے دہشت گردوں کو گیٹ پر نہ روکتے اور وہ چرچ کے اندر داخل ہو جاتے تو بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہونے کا اندیشہ تھا۔ سیکیورٹی گارڈز نے جان پر کھیل کر کئی جانیں بچا لی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور اب تک سیکڑوں سیکیورٹی اہلکار اپنے فرائض کی ادائیگی میں شہید ہو چکے ہیں۔ دہشت گردی کو روکنا ایک مشکل امر ہے کیونکہ یہ بے چہرہ دشمن ہے جس کی شناخت کرنا آسان نہیں، یہ معاشرے میں عام آدمی کی طرح گھومتا پھرتا اور اپنے اہداف طے کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہی دہشت گردوں کے سہولت کار اور انھیں پناہ دینے والے موجود ہیں۔ یوحنا آباد میں خودکش دھماکا کرنے والے بھی کسی نہ کسی کے پاس ٹھہرے ہوں گے اور انھوں نے نزدیکی کسی مقام پر خودکش جیکٹ پہنی ہو گی۔ خفیہ اداروں کو اس پہلو پر اپنی تفتیش کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ یوحنا آباد خود کش دھماکے کے ایک زخمی عینی شاہد کے مطابق دھماکے سے قبل حملہ آور اس کی دکان پر آیا، اس سے گپ شپ کی اور پھر چرچ کی جانب روانہ ہو گیا۔ اس واقعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ سے بچنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات تو بہتر بنائے جا سکتے ہیں مگر معاشرے میں گھومتے پھرتے اس بے چہرہ دشمن کو پکڑنا آسان کام نہیں۔
اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے حکومت کو دو کام کرنے ہوں گے، ایک تو یہ کہ انٹیلی جنس کا نظام مربوط بنانا ہو گا، خفیہ اداروں کی کارکردگی جتنی زیادہ بہتر ہو گی، دہشت گردوں کے لیے واردات کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا۔شہروں اور آبادیوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر کیمرے نصب کرنے ہوں گے تاکہ آنے جانے والے افراد پر کڑی نگاہ رکھی جا سکے۔ کھلے ناکوں کے ذریعے دہشت گردوں کو پکڑنا خاصا مشکل کام ہے۔ اصل کام خفیہ ہوتا ہے۔
دوسرا مقامی سطح پر عوام کا تعاون حاصل کرنا ہو گا کیونکہ ملکی سطح پر کوئی بھی مشکل مرحلہ یا جنگ میں عوام کے تعاون کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ عوام، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے مابین رابطہ جتنا مضبوط ہو گا، دہشت گردی پر قابو پانے میں اتنی ہی آسانی رہے گی۔ اخبارات میں یہ تشویشناک خبریں بھی شایع ہوتی رہتی ہیں کہ غیرملکی افراد رشوت کے بل بوتے پر بآسانی اپنے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا لیتے ہیں جس کے بعد انھیں ملک بھر میں اپنے مقاصد پورے کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ اس وقت ملک بھر میں غیرملکیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، ایسی اطلاعات منظرعام پر آئی ہیں کہ ان غیرملکیوں میں سے ایک تعداد جرائم اور منشیات کے دھندے میں بھی مصروف ہے۔
کراچی میں ہونے والی وارداتوں کے پیچھے بھی جرائم پیشہ اور لینڈمافیا کے ہاتھ ہونے کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔ کوئٹہ میں بھی ہونے والی بہت سی وارداتوں کے پس منظر میں فرقہ ورانہ عنصر شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اسمگلروں کی سازشوں سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ شمالی وزیرستان میں جس طرح کامیابی سے پاک فوج نے آپریشن کر کے ایک بڑا علاقہ کلیئر اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر میں چھپے ہوئے ان بے چہرہ دشمنوں کو پکڑنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے۔ اگرچہ یہ ایک طویل اور صبرآزما جنگ ہے مگر ملکی سلامتی اور بقا کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔
نائن الیون کی مثال سب کے سامنے ہے کہ اس سانحہ کے بعد امریکا نے سیکیورٹی انتظامات اس پیمانے پر کیے کہ اس کے بعد ایسا کوئی بڑا دہشت گردی کا واقعہ رونما نہیں ہوسکا۔ لندن میں جب مظاہرین نے توڑپھوڑ کی تو پولیس نے بعدازاں ان مظاہرین کو گھروں میں جا کر گرفتار کیا اور حالات کو مستقبل میں بگڑنے سے بچانے کے لیے تندہی سے کام کیا مگر ہمارے ہاں دہشت گردی کا سلسلہ جو ایک عرصے سے جاری ہے ابھی تک قابو میں نہیں آ سکا اور اس کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ نہ مساجد محفوظ ہیں نہ گرجا گھر۔ عبادت گاہ جانا بھی خوف کی علامت بن گیا ہے کہ ناجانے کب کوئی حملہ ہو جائے۔دہشت گردی سے نمٹنا پوری قوم کا مسئلہ ہے اس کے خاتمے کے لیے سب کو آگے آنا ہوگا۔
http://www.express.pk/story/337479/

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آرمی چیف کا عزم
ایڈیٹوریل اتوار 8 مارچ 2015
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ہفتے کو کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کے دورے کے موقع پر ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں ہونے والا آپریشن خیبر ون آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گے، آپریشنز کی کامیابی اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ تمام دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہے‘ دہشت گردی کے مکمل خاتمے ہی سے آپریشن کی کامیابی ہے‘ فوجی اور خفیہ معلومات پر مبنی آپریشنز سے بارڈر مینجمنٹ بہتر ہوئی ہے۔
دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے اور ملک میں مکمل طور پر امن و امان بحال کرنے کے لیے حکومت اور فوج میں مکمل طور پر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت متعدد بار اس عزم کا اعادہ کر چکی ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا۔ پاک فوج نے 15جون 2014ء کو شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا‘ ابتدائی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے اور وہاں سے شہری آبادی کا انخلا ممکن بنانے کے بعد میران شاہ میں باقاعدہ زمینی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ دہشت گردوں نے ایک عرصے سے قبائلی ایجنسی پر قبضہ کر رکھا تھا۔ انھوں نے اس علاقے میں مضبوط مورچے، پناہ گاہیں حتیٰ کہ بارودی سرنگیں بنانے والی فیکٹریاں بھی تعمیر کر رکھی تھیں۔
شمالی وزیرستان کا علاقہ دہشت گردوں کا سب سے زیادہ مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا یہاں سے نکل کر وہ پورے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے اور حکومت کے لیے خوف کی علامت بنے ہوئے تھے۔ شمالی وزیرستان انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے اس صورت حال کے تناظر میں بعض قوتوں نے یہ پروپیگنڈا عام کر رکھا تھا کہ اس علاقے میں آپریشن کرنا ایک مشکل امر ہے اگر ایسا کیا گیا تو اس سے بڑے پیمانے پر حکومت کا جانی اور مالی نقصان ہو گا اور دہشت گردوں کا کچھ بھی نہ بگڑے گا لہٰذا بہتر اور محفوظ راستہ یہی ہے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جائیں۔
دہشت گردوں کو بھی بخوبی اس امر کا ادراک تھا کہ ملک کے اندر ان کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اثر و رسوخ کی مالک ہے لہٰذا وہ حکومت پر دباؤ ڈال کر ان کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دے گی، اس صورت حال کے تناظر میں وہ خود کو محفوظ سمجھتے اور یہ گمان کرتے تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے حکومت کو جھکانے اور اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ حکومت میں شامل بعض سیاسی قوتوں کا بھی یہی خیال تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہی زیادہ بہتر ہے اور ایسا کیا بھی گیا۔
دہشت گردوں سے مذاکرات کے متعدد دور ہوئے مگر انھوں نے کسی بھی صورت حکومتی رٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ دباؤ بڑھانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں میں مزید تیزی لے آئے۔ پاک فوج نے جب آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو اس نے بڑی تیزی سے کامیابیاں حاصل کیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ اسلحہ ساز فیکٹریوں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو تباہ کر دیا اور وہ دہشت گرد جنہوں نے ملک بھر میں خوف کی فضا قائم کر رکھی تھی اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ علاقوں کی جانب فرار ہو گئے بہت سے تو سرحد پار کر کے افغانستان بھاگ گئے۔
پاک فوج نے جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے دوران پاکستان میں القاعدہ کے سربراہ عدنان الشکری الجمعہ سمیت القاعدہ کے متعدد رہنماؤں اور غیر ملکی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کیا۔ آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد عدنان الشکری شمالی وزیرستان سے بھاگ کر جنوبی وزیرستان میں چھپ گیا تھا۔ آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا اور فوج نے شمالی وزیرستان میں میر علی‘ میران شاہ‘ دتہ خیل‘ بویا اور دیگان سمیت بڑے علاقے جو دہشت گردوں کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے، کو ان سے آزاد کروا لیا۔
فوج نے آئی ڈی پیز کے مسئلے کو بھی بڑی حکمت عملی اور مہارت سے حل کیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ سال دسمبر میں پشاور کور ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے متاثرین کی واپسی اولین ترجیح ہے انھوں نے متعلقہ حکام کو متاثرین کی واپسی کے لیے تیاریوں کی ہدایت بھی کی تھی۔ اب ہفتے کو کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کے دورے کے موقع پر انھوں نے کہا کہ بے گھر افراد کی واپسی کا عمل مارچ کے وسط میں شروع ہو جانا چاہیے اس سلسلے میں تمام اداروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ آئی ڈی پیز کی واپسی کی ہدایت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوج شمالی وزیرستان میں اپنے آپریشن میں کامیاب ہو چکی ہے اور جلد آباد کاری اور بحالی کا عمل شروع ہونے سے اس علاقے کی رونقیں دوبارہ لوٹ آئیں گی۔
یہ اطلاعات بھی منظرعام پر آ چکی ہیں کہ دہشت گرد شمالی وزیرستان سے نکل کر ملک کے مختلف علاقوں میں چھپ گئے ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے اپنی قوت کا اظہار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگر اب وہ پہلے کی نسبت بہت کمزور ہو چکے ہیں اور ویسا خطرہ نہیں رہے جس نے حکومت کی نیندیں اڑا رکھی تھیں۔ دہشت گردوں کی حمایتی قوتوں کو بھی اب یہ سوچنا چاہیے کہ حالات میں بہت زیادہ تبدیلی آ چکی ہے لہٰذا انھیں ملکی سلامتی اور بقا کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہیے تا کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنایا جا سکے۔
http://www.express.pk/story/334974/

دہشت گردوں کا مکمل صفایا۔۔۔ آگے بڑھنے کا راستہ

09 مارچ 2015
اداریہ
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے، کور ہیڈ کوارٹر پشاور کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے مقررہ وقت میں آپریشن متاثرین کی باعزت واپسی کے لئے تمام ایجنسیوں میں روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی واپسی وسط مارچ میں شروع ہو جائے گی۔ جنرل راحیل شریف نے کہا آپریشن کے نتیجے میں بارڈر مینجمنٹ میں خودبخود بہتری آئے گی۔
آپریشن ضربِ عضب وسط جون2014ء سے جاری ہے اور اس عرصے کے دوران شمالی وزیرستان کا90فیصد علاقہ دہشت گردوں سے مکمل طور پر کلیئر کرا لیا گیا ہے، اب جو کارروائی ہو رہی ہے، وہ باقی ماندہ10فیصد علاقے میں ہے اور وہ وقت دور نہیں جب انشا اللہ یہ علاقہ بھی دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا جائے گا اس آپریشن کی تکمیل کے بعد آگے بڑھنے کا راستہ صاف ہو جائے گا اور آرمی چیف کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن کی وجہ سے جو لوگ اپنے گھروں سے دربدر ہو گئے تھے، آرمی چیف نے وسط مارچ (تقریباً ایک ہفتے بعد) سے ان کی اپنے گھروں کو واپسی کی نوید سنائی ہے۔ متاثرین کے لئے یہ صحیح معنوں میں خوشخبری ہے، کیونکہ ان لوگوں نے آپریشن کی وجہ سے غیر معمولی مشکلات کا سامنا خندہ پیشانی سے کیا ہے۔ انہوں نے گھر بار چھوڑا، کیمپوں میں مشکلات کا سامنا کیا،موسم کی سختیاں برداشت کیں۔ انہوں نے یہ ساری تکالیف وطن کی خاطر اٹھائیں، قبائلی رسم و رواج اپنی نوعیت میں خاص ہیں اور اگر ایسے قبائل کو گھر بار چھوڑ کر اِدھر اُدھر قیام کرنا پڑے تو قبائلی عوام خصوصاً خواتین کو کافی مشکلات درپیش آتی ہیں، ان حضرات نے مشکل وقت گزار لیا ہے اور اب ان کی واپسی کا عمل شروع ہونے میں زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا، توقع کرنی چاہئے کہ ان لوگوں کو ان کے گھروں میں دوبارہ آباد کرنے کے لئے ہر طرح کی امداد فراہم کی جائے گی جن لوگوں کے گھر آپریشن کی وجہ سے متاثر ہوئے ان کی تعمیر و مرمت کے لئے فراخ دلی سے اس طرح امداد کی جائے گی کہ یہ لوگ اپنے اوپر گزرنے والی مشکلات کو بھول جائیں۔
پاکستان نے طویل عرصے سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کیا ہے، اس دوران قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور معیشت کو بھی ایک سو ارب سے زیادہ کا دھچکا لگاہے۔ دہشت گردوں نے مُلک بھر کو ٹارگٹ کر رکھا تھا، حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ ایئر پورٹ، دفاعی اڈے،جی ایچ کیو، نیول بیس، ہسپتال، سکول اور کالج، عوامی مقامات،مارکیٹیں، پبلک پارک،سیکیورٹی کے تربیتی ادارے، مساجد، امام بارگاہیں غرض کوئی بھی جگہ ان دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے محفوظ نہ تھی۔انہوں نے مُلک کی عمومی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا،معیشت تار تار تھی، فوجی قافلوں پر حملے کئے گئے، جن میں قیمتی افسروں کی جانیں گئیں،ایسے مقامات پر حملے کئے گئے، جہاں فوجی افسروں اور اُن کے بچوں کا اجتماع ہوتا تھا،ابھی دسمبر میں آرمی پبلک سکول پشاور کو سنگدلی سے نشانہ بنایا گیا، جن میں چھوٹے چھوٹے پھول سے بچوں کو نشانہ بنایاگیا، ان کی معلمات کو بھی سنگدلی اور بے رحمی سے قتل کیا گیا، لیکن دہشت گردوں کو بہرحال یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر لیں،اُن کا پیچھا کر کے اُن کا خاتمہ کیا جائے گا، جو دہشت گرد آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے اِدھر اُدھر پھیل گئے تھے اور مایوسی کے عالم میں کارروائیاں کر رہے تھے اب اُنہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی۔ دہشت گردوں کے جن منصوبہ سازوں اور سرپرستوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور دوسرے اعلیٰ فوجی حکام کے مسلسل افغانستان کے دوروں کے نتیجے میں اب اُن کا وہاں زیادہ دیر تک روپوش ہونا ممکن نہیں رہ گیا، افغان حکام نے بھی پاکستان کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر اُن کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، چنانچہ اب افغان علاقے اُن کے چھپنے کے کام نہیں آئیں گے۔
افغانستان میں صدر اشرف غنی کی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے بعد اپنے ہاں کارروائیوں کا یقین دلایا ہے، جس کے بعد اب دہشت گرد وہاں سے بھی بھاگ رہے ہیں، اس وقت جو کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ اب اپنی تکمیل تک پہنچنے والی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب دہشت گردی قِصۂ ماضی بن کر رہ جائے گی اور امن و آشتی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، اس دور کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو اس میں جنرل راحیل شریف کا نام سنہری حروف میں درج ہو گا،جنہوں نے اپنے پیشرو چیف کی پالیسی کے برعکس بروقت آپریشن کا فیصلہ کر کے دہشت گردوں کو سخت پیغام دے دیا، موجودہ حکومت نے اپنے قیام کے فوری بعد اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پوری کوشش کی تھی اور بات چیت کا ڈول بھی ڈالا تھا، لیکن یہ محسوس کیا گیا کہ دہشت گردوں نے بات چیت کی اس کوشش کو غالباً حکومت کی کمزوری پر محمول کیا اور اس دوران دہشت گردی کا سلسلہ بھی نہ رُک سکا، کچھ ایسے مطالبات بھی سامنے لائے گئے،جن کو قبول کرنا بھی ممکن نہ تھا، چنانچہ بات چیت کے اس سلسلے کو موقوف کر کے سخت اقدام کا فیصلہ کیا گیا، جو عملاً درست اور نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران جو دہشت گرد کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے انہوں نے مُلک کے مختلف حصوں میں پھیل کر کارروائیاں کیں۔ یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ان سب وارداتوں میں آرمی پبلک سکول پر حملہ سنگین ترین تھا،جس سے پورے مُلک میں سنسنی کی ایک لہر سی دوڑ گئی، اس کے بعد ایمرجنسی میں طویل مشاورتی اجلاسوں کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، جس پر اب عملدرآمد شروع ہے، فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آ چکا ہے اور ان کو بعض مقدمات بھی منتقل ہو رہے ہیں، اس دوران رُکی ہوئی پھانسیوں پر عمل درآمد بھی ہوا اور یہ سلسلہ قانونی طریقے سے جاری رہے گا۔ یہ سارے اقدامات دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی جانب رواں دواں ہیں اور توقع ہے کہ آرمی چیف کے عزم کی روشنی میں ہم بہت جلد مُلک میں مکمل امن و امان دیکھیں گے اور ہمارے بچے خوف و خطر کے بغیر زندگی گزاریں گے۔ معیشت پھلے پھولے گی اور مُلک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

بشکریہ ڈیلی پاکستان)
http://dailypakistan.com.pk/editorials/09-Mar-2015/201167

دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جا سکتی ہے

331378-army-1424977084-336-640x480
ایڈیٹوریل جمعرات 26 فروری 2015
بلاشبہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانا ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی دہشت گردی کے خاتمے پر حکومت اور فوج کے موقف کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
چند ایک دینی سیاسی جماعتوں کو فوجی عدالتوں کے قیام پر تحفظات ہیں تاہم نیشنل ایکشن پلان پر وہ بھی متفق ہیں۔سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم ایک نقطے پر متفق ہے کہ وطن عزیز سے دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت یا نرمی کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔
اس وقت پاک فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور یہ آپریشن خاصی حد تک کامیاب رہا ہے۔ دہشت گردوں کو سزائیں بھی سزائی جا رہی ہیں ۔یہ اچھی پیش رفت کی علامتیں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت پر بہت ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہروں اور دیہات میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں نیشنل ایکشن پلان پر پوری نیک نیتی اور صدق دل سے عمل ہونا چاہیے۔
دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی کئی جہتیں ہیں۔ اس کی ایک جہت تو وہ ہے جسے ختم کرنے کے لیے پاک فوج شمالی وزیرستان میں مصروف کار ہے۔ پاک فوج اس لڑائی میں کامیاب ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر دیے گئے ہیں‘وہ مفرور ہو کر افغانستان چلے گئے ہیں یا وہ ملک کے دیگر حصوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اس لڑائی کی دوسری جہت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ سول ایجنسیاں جس قدر متحرک اور باعلم ہوں گی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اتنا ہی زیادہ کامیاب ہو گا۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد سے دہشت گرد کئی بڑی کارروائیاں کرچکے ہیں۔ آیندہ بھی وہ کہیں نہ کہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ انھیں ہلاکت خیز واردات کرنے سے پہلے کیفر کردار تک پہنچانا سول اداروں کا فرض ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تیسری جہت ان گروہوں کا خاتمہ ہے جو دہشت گردوں کے لیے شہروں اور دیہات میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انھیں دہشت گردوں کے ہینڈلر اور انھیں پناہ دینے والے کہا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں وہ نظریاتی آڑ لے کر انتہا پسندی کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان عناصر کی سرکوبی کی ذمے داری سول حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ فوج اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتی۔
اس لڑائی کی ایک جہت اس ملک میں موجود افغان مہاجرین بھی ہیں۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب افغانستان میں سوویت افواج داخل ہوئی اور وہاں مجاہدین کی کارروائیوں کا آغاز ہوا تو افغانستان سے پاکستان کی جانب ہجرت ہوئی لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے مسلسل پاکستان میں آمد جاری ہے۔
لاکھوں افغان مہاجرین ایسے ہیں جن کی رجسٹریشن ہو چکی ہے لیکن ایسے افغان مہاجروں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے جو پاکستان میں جاری بدعنوانی کا فائدہ اٹھا کر یہاں کا شناختی کارڈ بنوا چکے ہیں۔ یہ کام سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں ہوا۔ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے ‘عمران خان اپنے جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں خیبر پختونخوا کے بارے میں اکثر کہتے ہیں کہ وہاں سسٹم کو بہت بہتر کر دیا گیا ہے۔
انھیں چاہیے کہ وہ افغان مہاجرین کے نام سے جو جعل سازی ہو رہی ہے اس پرقابو پانے کے لیے اقدامات کریں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی ‘عسکری قیادت اور قوم نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں ‘ان کے حمایتیوں اور سہولت کاروں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ صف آراء ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھجوائیں گے۔ دینی مدارس میں زیرتعلیم ایسے 400 طلباء جن کے ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہے انھیں بھی ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں بھجوانوں کے لیے دہشت گردی کے 43 مقدمات وفاقی حکومت کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ جن میں سے 10 فائنل ہو چکے ہیں۔ یہ سب باتیں خوش کن ہیں۔دہشت گردی کا خاتمہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ملک کی سیاسی قیادت اس معاملے میں نظریاتی حوالے سے بھی کلیئر ہو۔مذہبی ‘نسلی اور لسانی تعصب کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم تمام افغانوں چاہے وہ قانونی مہاجر ہوں یا غیر قانونی‘ انھیں افغانستان واپس بھجوایا جائے۔ اس معاملے میں پنجاب حکومت کو کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا کی حکومت کو بھی اس معاملے میں سخت پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کو قبائلی علاقوں سے آنے جانے والے راستوں کی سخت ناکہ بندی کرنی چاہیے۔ خیبرپختونخوا کا المیہ یہ ہے کہ اس کے تقریباً ہر شہر کے ساتھ قبائلی ایجنسی شروع ہو جاتی ہے۔
قبائلی باشندے بلا روک ٹوک سیٹلڈ ایریا میں آتے جاتے ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا کے سیٹلڈ ایریا میں امن رکھنا ہے تو قبائلی علاقوں سے آنے والوں کی سخت جانچ پڑتال کرنا ہو گی۔ اس معاملے میں فاٹا سیکریٹریٹ کو بھی اپناکردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ قبائلی علاقوں میں انتظام و انصرام اس کی ذمے داری ہے۔افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے وفاقی حکومت کو افغانستان کی حکومت اور اقوام متحدہ سے بھی بات کرنی چاہیے۔ افغانستان میں اب حالات بہتر ہیں ‘وہاں معاشی سرگرمیاں جاری ہیں ۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کے مزید قیام کا جواز ختم ہو چکا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی لابی موجود ہے جو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے آنے والے فنڈز پر کنٹرول رکھتی ہے۔وہ بھی افغان مہاجرین کی واپسی میں ایک رکاوٹ ہے۔پاکستان کو بچانے کے لیے ہر پارٹی ،ہر صوبے اور ہر شخص کو اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہو گا۔تب ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔
http://www.express.pk/story/331378/

مذہب کے نام پر قتل کسی طور جائز نہیں
27 فروری 2015
اداریہ
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر قتل و غارت اورکفر کے فتوے کسی صورت جائز نہیں ہیں اور حکومت ایسے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے میڈیا کے کندھوں پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر بدقسمتی سے ایک خدا،رسولؐ اورکتاب کو ماننے والے گروہوں میں بٹ گئے ہیں، تو میڈیا کو اس تفریق کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میڈیا ایسے پروگراموں کا اہتمام کرے، جس سے مذہبی منافرت اورانتہاء پسندی کے خاتمے میں مدد ملے ۔ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی اکثریت دینی تعلیمات کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے ہو سکتا ہے بعض ادارے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کا کام کر رہے ہوں۔ دہشت گردی در حقیقت ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے اور اِسی مائنڈ سیٹ کو ختم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں وال چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر، لاؤڈ سپیکر کے ناجائز استعمال،مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی تقسیم و اشاعت کے قانون پر سختی سے عملدر آمدکرایا جارہا ہے، ان قوانین میں ترامیم کر کے سزاؤں کو مزید سخت کیا گیا ہے۔400کے قریب غیر ملکی طلباء ایسے ہیں، جن کے ویزے کی میعادختم ہوچکی ہے، اس حوالے سے وفاقی حکومت کو لکھ دیا گیا ہے کہ جس کے جواب پر انہیں پنجاب سے بے دخل کیا جائے گا۔
پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے،پاکستان ادارہ برائے پیس سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فرقہ واریت میں 2011ء سے بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 2014 ء میں فرقہ واریت کے کل 292 واقعات ہوئے، جن میں 210 لوگ مارے گئے اور 312 زخمی ہوئے۔ 2015ء میں اب تک آٹھ ایسے واقعات ہو چکے ہیں، جن میں 104 لوگ جاں بحق ہو ئے، جبکہ 134 زخمی ہوئے۔ 1989ء سے لے کر 2015ء تک پاکستان میں پانچ ہزار سے زائد لوگ فرقہ واریت کی نذر ہو چکے ہیں اور پاکستان کا کوئی بھی صوبہ اس عفریت سے محفوظ نہیں ہے۔
دہشت گردوں نے بھی مذہب کے نام پر ہی یہ طوفان برپا کر رکھا ہے،کبھی وہ کسی مسجد کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی کسی امام بارگاہ پر حملہ کرتے ہیں۔ ان کی اسلام کی اپنی ہی تشریح ہے جسے وہ بندوق کے زور پر پوری قوم پرمسلط کرنا چاہتے ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلام تو برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے،اس میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ اس میں تو کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔اسلام کی تعلیمات عام کرنے کے لئے آنحضورﷺ نے تلوار کا استعمال نہیں کیا تھا ، کوئی زبردستی نہیں کی تھی، آپؐ کا ہتھیار تو حسن اخلاق تھا ، جس سے آپﷺ نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا اور اسلام کی طرف مائل کیا۔ہم جس نبیﷺ کے امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں، انہی کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں، فراموش کر چکے ہیں۔ایک دوسرے کے خیالات سننے کو تیار نہیں ہیں، کسی کو برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ مسلمان صدیوں سے مختلف فرقوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں،ہمیشہ سے ایک دوسرے کی رائے کا احترام کیا جاتا تھا، عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا،ایسا کون سا مسئلہ درپیش ہو گیا کہ لوگ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کی دوڑ میں لگ گئے، اب یہاں مذہب کے نام پر جان لے لینا آسان ترین کام ہے،جو فیصلے اﷲ تعالیٰ کے کرنے والے ہیں وہ اُسی پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ بغیر سوچے سمجھے کسی پر بھی کفرکا فتویٰ لگانے کا اختیار تو کسی کے پاس نہیں ہے۔فتویٰ کسی ایک شخص کے بارے میں تو ہو سکتا ہے،اس کے ذریعے کسی ایک انسان کے صحیح یا غلط فعل کا تعین تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اجتماعی طور پر ایک پورے فرقے یا گروہ پر فتویٰ لگادینا اور اسے خارج از اسلام قرار دینا صریحاً ناجائز ہے، کسی بھی مفتی کو اس بات کا حق نہیں دیا جایا سکتا۔ایسے فتوے دینے والوں اور مذہب کے نام پر دنگا فساد بر پا کرنے والوں کی نشاندہی ہو نی چاہئے، اسے جرم قرار دنیا چاہئے اور ایسی حرکتیں کرنے والے عناصر کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔
ہمیں اپنے معاشرے میں مل بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی روایت عام کرنی چاہئے، تمام فرقوں اور مسالک کے درمیان ہم آہنگی اور مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایسا ضابطہ اخلاق عمل میں لانا چاہئے جس کے ذریعے فرقہ واریت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ہم اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، اس کے لئے سب کو ہاتھ ملانے کی ضرورت ہے، جب تک ہم فرقوں سے بالا تر ہو کرمسلمان ہونے کا ثبوت نہیں دیں گے تب تک لوگ ہماری اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے رہیں گے اور ہم دہشت گردی کا جن بھی بوتل میں بند نہیں کر پائیں گے۔ہم سب کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر قتل و غارت کی اسلام میں ہرگز کوئی گنجائش نہیں ہے،اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس کا مقصد انتشار پھیلانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
http://dailypakistan.com.pk/editorials/27-Feb-2015/198290

دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ حکمت عملی

331040-u-1424924609-211-640x480

ایڈیٹوریل جمعرات 26 فروری 2015
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی جس میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ۔ ملاقات میں پیشہ ورانہ امور،آپریشن ضرب عضب اور شمالی وزیرستان کے متاثرین کی بحالی کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین آپریشن ضرب عضب میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لانے پر اتفاق اس پیش رفت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ملک کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ایسی جنگ میں مصروف ہیں جو پاکستان کی سالمیت، داخلی استحکام اور معاشی و جمہوری بقا کے لیے ناگزیر ہے، اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو دہشت گردی سے ریاستی مفادات کو پہنچنے والا نقصان ہمہ گیر ہے ، یہ ایک کولیٹرل ڈیمج ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔
در حقیقت ماضی کی حکومتوں نے انتہا پسندی اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے عزم صمیم کے اظہار میں کوتاہی برتی جس کے سنگین اور لرزہ خیز نتائج آج قوم کے سامنے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی عارضی جنگ ، محدود مدت کا جنگی مشن یا آسان ٹارگٹ نہیں ہے، اس میں الجھنے کے بعد بڑے پیمانہ پر معاملات کو سلجھانے کی بھی ضرورت ہے ، کیونکہ مقابل جو قوتیں ہیں وہ ہتھیار و خود ساختہ نظریہ سے مسلح ہیں اور اپنے مسلکی ایجنڈے کو قوم پر مسلط کرنے کی دیوانگی کا ابھی تک شکار ہیں ۔
لہٰذا اس سوچ اور سرکشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سیاسی ، عسکری اور قومی سطح پر اتحاد واتفاق ضروری ہے تاکہ ایک طرف ملک دشمنوں کو داخلی شکست ہو تو دوسری طرف قومی معاشی انجن چلتا رہے، جمہوری حکومت کی معاشی ترجیحات کے طے شدہ اہداف تک رسائی اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے ۔ یہ پلان قوم کی حقیقی امنگوں کا ترجمان ہے اور اس کو منطقی انجام تک خوش اسلوبی سے پہنچانے کے لیے مستقل مزاجی، عزم مسلسل اور دانشمندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
ایک اطلاع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کو 24 دسمبر2014 ء سے 21 فروری 2015ء تک نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کردی گئی ہے جس کے مطابق اس عرصے کے دوران 19 ہزار 789سرچ آپریشن ہوئے اور 19ہزار272 مشتبہ افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر1250آپریشن کیے گئے۔
مذہبی منافرت پھیلانے پر558افراد گرفتار کیے گئے۔ 5066 افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا۔ بلاشبہ مزید اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ صورتحال حکومت اور عسکری جانبازوں کے مکمل کنٹرول میں ہے ، دشمن شکست خوردگی کے احساس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، اس کی خاموشی نئی فتنہ سامانی کا نکتہ آغاز بھی بن سکتی ہے، اس لیے چوکنا رہنا لازم ہے۔ بات آسکر وائلڈ نے سخت کہی ہے کہ امید پرستی کی بنیاد ہی دہشت گردی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دشمن باہر کا ہو تو اس کی جارحیت کا مقابلہ ایک جنگی پلان کے ساتھ ہوتا ہے۔
تاہم ان بے چہرہ اور روپ بہروپ دہشتگردوں کے ٹھکانے جو ’’عقابوں کے نشیمن ‘‘ تھے بہت تیزی سے مسمار کیے گئے ، یہ اگر سرنڈر نہیں کریں گے تو مارے جائیں گے ، اور امید پرستی سے ہٹ کر یہ جارحانہ حکمت عملی پہلی بار سیاسی و عسکری پیج پر بنی ہے۔ چنانچہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ویسے اقدامات نظر آنے چاہئیں جن کا مظاہرہ سلامتی پر مامور غیر ملکی اداروں کا طرہ امتیاز ہے۔
کسی سرکاری یا ریاستی تنصیب و مقام یا اہم شخصیات و بیگناہ شہریوں کو یلغار یا خاموشی سے نقب لگا کر ہلاک کرنے کی واردات کے راستے بند ہونے چاہئیں ۔ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشت گردی کی روک تھام میں معاشی محرومیوں کا خاتمہ بھی پیش نظر رہے ، معاشی ثمرات آئی ڈی پیز سمیت تمام طبقات کو میسر ہوں ، ان کی بحالی جلد ہو تاکہ ملک گیر سماجی فرسٹریشن ، جنگجویانہ رجحانات ، فرقہ وارانہ و مسلکی تناؤ اور مذہبی کشیدگی کی جگہ خیر سگالی ، رواداری ، تعمیر نو اور خرد افروز ماحول کو جگہ مل سکے ، اور ساتھ ہی پاکستان کا عالمی امن پسندانہ امیج بحال ہو۔
ادھر پاکستان اور یورپی یونین نے دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے عالمی سطح پر ہونیوالے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کو مذہب، قومیت، تہذیب یا کسی لسانی گروہ سے منسلک نہ کیا جائے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان سیاسی و انسداد دہشتگردی ڈائیلاگ کا چوتھا دور منگل کو دفتر خارجہ میں ہوا ، جب کہ امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا عزم کر لیا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کے سامنے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا پاکستان اور افغانستان کو 3.4 ارب ڈالر دینے کا ارادہ ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔اسی طرح تمام عالمی قوتوں کو باور کرایا جائے کہ اسلام امن کا داعی ہے اور مٹھی بھر دہشت گرد پاکستانی عوام اور مسلم امہ کی ترجمانی کا کوئی حق نہیں رکھتے۔
http://www.express.pk/story/331040/

ایک اور دہشت گردی

328779-SAKINA-1424370672-719-640x480
ایڈیٹوریل جمعرات 19 فروری 2015
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کو امام بار گاہ پر خود کش حملے اور فائرنگ سے چار افراد شہید اور 9 زخمی ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق دھماکے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروہ جند اللہ نے قبول کر لی ہے۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افواج پاکستان حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے یہ حملے قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہیں جس کا فائدہ دہشت گردوں کو ہو گا‘ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے قومی عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا‘ دہشت گردی سے متاثرہ بھائیوں اور بہنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
گزشتہ چند روز سے ملک بھر میں خود کش دھماکوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے‘ منگل کو لاہور میں پولیس لائنز کے باہر خود کش دھماکے میں پانچ افراد شہید اور 27 زخمی ہو گئے تھے‘ اس دھماکے کی ذمے داری جماعت الاحرار نے قبول کر لی تھی۔ گزشتہ چند روز سے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی افواہیں پھیل رہی ہیں اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ دہشت گرد سیکیورٹی اداروں‘ اسپتالوں اور مختلف عوامی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے تین روز قبل بذریعہ مراسلہ آگاہ کر دیا تھا کہ لاہور میں تین دہشت گرد داخل ہو چکے ہیں جو آیندہ دو تین روز میں اہم مقامات کو نشانہ بنائیں گے۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ متعدد بم دھماکوں کے بعد یہ خبریں آئیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیاں کر سکتے ہیں مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پھرتیاں ہمیشہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد سامنے آئیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب یہ اطلاع مل جاتی ہے تو دہشت گرد شہر میں داخل ہو چکے ہیں تو انھیں اپنی مذموم کارروائی کرنے سے پیشتر ہی گرفتار کر لیا جائے۔شکار پور سندھ ‘لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آتاہے کہ گراس روٹ لیول پر ہماری انٹیلی جنس اور ایکشن کرنے کی صلاحیت ابھی کمزور ہے۔دہشت گرد جائے وقوعہ کے نزدیک ترین ہی پناہ حاصل کرتے ہیںتاکہ ہدف تک جلد اور باآسانی پہنچا جائے۔اگر تھانے کی سطح پر انٹیلی جنس سسٹم بہتر ہو اور آپریشن کرنے کی صلاحیت بھی ہو تو دہشت گردوں کو واردات سے پہلے ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے‘اگر وہ مقابلہ کریں تو انھیں وہیں کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
اس لیے اب تھانے کی سطح پر پولیس کی صلاحیت بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔امریکا میں نائن الیون کا ایک واقعہ رونما ہوا اس کے بعد امریکی حساس اور سیکیورٹی اداروں نے اس انداز میں کارروائی کی کہ اس کے بعد عالمی سطح پر مضبوط دہشت گرد دوبارہ کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے جب کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی اور پھرتیوں کا یہ عالم ہے کہ پے در پے بم دھماکے ہو رہے ہیں اور دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کے بجائے صرف ان کی آمد کی اطلاع دی جا رہی ہے۔ ایک خبر کے مطابق 2003ء سے لے کر اب تک پنجاب اور اسلام آباد میں 63خود کش دھماکے ہوئے جن میں 1264 افراد ہلاک اور 4542 افراد زخمی ہوئے‘ ان میں گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والا خود کش حملہ شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 64 تک پہنچ گئی ہے۔
آپریشن ضرب عضب کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ردعمل میں دہشت گرد شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں‘ اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچا اور ان کے محفوظ ٹھکانے تباہ ہوئے‘ کچھ عرصہ تک دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی خاطر خواہ کمی آئی اور قوم نے سکون کا سانس لیا۔ اب ایک بار پھر دہشت گردی کی وارداتوں کے سلسلے کا شروع ہونا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گرد ملک کے مختلف حصوں میں پھیل اور سرگرم ہو چکے ہیں‘ ان دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے حکومت کو بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنا ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بارہا اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ اندرون ملک پھیلے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک اور آپریشن ضرب عضب شروع کرنا پڑے گا۔
دہشت گرد خود کش حملوں کے لیے نوعمر نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں جو بآسانی ان کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلے ہوئے ان بے شناخت اور بے چہرہ دہشت گردوں کو پکڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حمایتیوں کی ایک بڑی بااثر اور طاقتور تعداد شہروں میں موجود ہے‘ اس لیے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے حکومت کو عوامی سطح پر تعاون حاصل کرنا ہوگا۔ ملکی سلامتی اور اس کی بقا کے لیے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر حکومت کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھانا ہو گا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز)
http://www.express.pk/story/328779/

مسلم دنیا پر مسلط فرقہ پرستی اور دہشت گردی
22 اکتوبر 2014
کالم
ڈاکٹر ظہور احمد اظہر

news-1413920094-4525
یوں تو آج اسلامی دنیا کا ہر گوشہ بد امنی اور فساد کی زد میں ہے ،مگر فرقہ پرستی اور وہشت گردی کے دو عفریت ایسے ہیں جو مسلم دنیا پر بہت بری طرح مسلط ہیں اور ان سے چھٹکارے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ،لیکن عجیب المیہ یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام تو ان دونوں آفتوں کو خفیہ اور علانیہ بڑھا وادے ہی رہے ہیں ،مگر مسلمان خود بھی اس کار بد میں،، غیروں سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں ،بلکہ ان پر بازی لے جانے میں کوشاں ہیں، مسلمان اپنی پسماندگی اور نادانی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرنے سے عاجز ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلامی دنیا پر قیادت اور حکمرانی کے نام سے جو لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ وہ نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کچھ کرنے دے رہے ہیں یا یوں سمجھ لیجئے کہ یہ لوگ نہ تو مسلمانوں اور اسلام کے لئے کچھ کرنے کے قابل ہیں اور نہ انہیں دشمنوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ انہیں صرف اپنے مفادات سے غرض ہے اور اس کے علاوہ اپنی کھلڑی بچانے کے لئے مسلمانوں کے دشمنوں سے بھی ملے ہوئے ہیں!!لیکن مسلمان چونکہ دشمن اور دوست کو پہچاننے سے عاجز ہیں اس لئے وہ اپنے بھائیوں سے لڑنے پر مجبور ہیں، ایک مسلمان گروہ دوسرے کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اس لئے یہ سب باہم بر سرپیکار ہیں اور دشمن کا کام خود سنبھالے ہوئے ہیں اور اپنے دشمن کے کام آ رہے ہیں! مسلمان فرقوں اور گروہوں میں کوئی بنیادی اور اصولی اختلاف بھی نہیں ہے صرف فروعات پر لڑ رہے ہیں، حالانکہ فروعات کو ایک طرف رکھ کر اصولوں پر متفق ہو سکتے ہیں۔!تصویر کا عجیب اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دشمنان اسلام تو بنیادی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر فروعی اور وقتی مسائل پر بھی ایک ہو چکے ہیں، مگرمسلمان فرقے اصولوں کو پس پشت ڈال کر فروعی باتوں پر لڑ رہے ہیں اس کی واضح مثال صلیبی مغرب اور عالمی صہیونیت کا نا پاک اتحاد ہے۔ اس فروعی اتحاد کا سبب صرف اسلام دشمنی اور مسلمانوں کی بیخ کنی ہے یہودیت اور مسیحیت کا ہولناک اصولی اختلاف، بلکہ عداوت ہے ،مگر یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وقتی طور ایک ہو چکے ہیں اور مسلمانوں کو فروعات پر لڑا رہے ہیں!! اس میں مالی وسائل اور خفیہ سازشیں کام میں لا رہے ہیں! مسلمان سے مسلمان کا گلا کٹوا رہے ہیں! ایک فرقے کو دوسرے سے لڑوانے کے لئے خفیہ سازشیں بھی کرتے ہیں اور پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں! مسلمان اپنی پسماندگی اور جہالت کے باعث ان سازشوں اور سازشیوں کو پہچان نہیں پا رہے! شیعہ سنی اختلاف بھی فروعی اختلاف ہے، مگر نادانی سے اسے اصولی بنا لیا گیا ہے یا دشمنوں نے اسے بنوا دیا ہے! مسلمانوں کے خلاف وقتی اتحاد میں صرف صلیبی مغرب اور عالمی صہیونیت شریک تھے، مگر اب ایک عرصہ سے تیسرا مذہب۔ جن سنگھی ہندو مت۔ بھی اسلام دشمن اور مسلم بیخ کنی کی خاطر شامل ہو چکا ہے ،مگر مسلمان اس نایاک اتحاد سے غافل باہم فروعات پر ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں اور بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان حقیقت حال کو سمجھنے سے قاصر ہیں!

ایک مدت ہوئی میں ایک عرب ملک میں تھاجہاں کے ایک با اثر اخبار نے ایک یہود نواز اور اسلام دشمن امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ یہ معاہدہ کر رکھا تھا کہ اس کے کالم نگار(تھامس فریڈمین)کے کالم کا عربی ترجمہ شائع کیا کریں گے۔ اس تھامس فریڈمین کے ایک کالم کا عنوان تھا:the war within islam یعنی اسلامی دنیا میں ہرحال میں جنگ اور بد امنی جاری رہے! ہمارے عرب بھائی نے اس کا عربی ترجمہ بھی چھاپ دیا اور کہا کہ ہم معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں کریں گے! اس صہبونی کالم نگار کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے یہ اسلام دشمن اتحاد مسلمانوں کو لڑا رہے ہیں اور جہاں مسلمانوں کو باہم لڑانا مشکل ہو وہاں خود انکل سام پہنچ جاتے ہیں اور نہیں تو ڈرون حملے تو معمول کی بات ہے!!
اسلامی فرقوں میں شیعہ سنی اختلاف بڑا سمجھا جاتا ہے، مگر یہ اختلاف بھی فروعی ہے ،جسے اصولی سمجھ لیا گیا ہے۔ اساسیاتِ دین کا اختلاف نہیں اللہ، رسول، قرآن ، کعبہ، اور آخرت پر ایمان شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس سے دشمنوں نے فائدہ بھی اٹھایا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کو نقصان بھی بہت پہنچایا گیا ہے، بغداد کی تباہی ہو، عباسی خلافت کا خاتمہ ہو، صفوی۔ عثمانی تصادم اور مخالفت ہو یا عرب۔ ایران یا ترک عرب دشمنیاں ہوں سب کے پس منظر میں شیعہ۔ سنی فروعی اختلاف ہی رہا ہے، جو بالکل بے فائدہ اور بے معنی بات ہے! اس اختلاف کی اگر کوئی بنیاد ہوتی تو دونوں میں سے کوئی ایک گروہ ختم ہو چکا ہوتا چونکہ یہ اختلاف باقی ہے اور دونوں گروہ۔ شیعہ سنی بھی اسی طرح ہیں اگر کوئی ایک فرقہ اساسیات دین میں سے کسی ایک اساس یا بنیاد میں کمزور ہوتا تو وہ اب تک ختم ہو چکا ہوتا۔ جیسا کہ بے شمار بے بنیاد اور بے اساس فرقے پیدا ہوئے اور ختم ہو گئے، اب صرف وہ برائے نام یا صرف ان کے نام رہ گئے ہیں!چونکہ دونوں کی اساسیات ایک اور متفق ہیں۔ اس لئے ڈیڑھ ہزارسال سے شیعہ سنی اسی طرح باقی ہیں اور مزید ایک ڈیڑھ ہزار سال اسی طرح باقی رہیں گے۔ فروعی اختلاف تلخیاں پیدا کرتا رہتا ہے اور اگر جاری رہا تو پیدا کرتا رہے گا! اگر ہمارے دینی پیشوا تلخی اور دل آزاری کی باتیں چھوڑ دیں تو یہ فروعی اختلاف بھی ختم ہو جائے گا!آخر بنیادی اختلاف والے مذاہب۔ یہودیت مسیحیت اور اب ہندو بت پرست۔ بھی تو ایک فروعی اور وقتی مقصد اسلام دشمنی کے لئے بنیادی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہو گئے ہیں، اللہ، رسول، قرآن کریم اور بیت اللہ کے مالک اسلام کو ماننے والے شیعہ اور سنی اسلام دشمنوں کے نا پاک اتحاد کے مقابلے میں پاک اتحاد بھی نہیں بنا سکتے؟ اس پاک اتحاد کی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور تحفظ ہو گا! اس کے لئے ہم صرف چپ رہیں گے اور کسی مسلمان بھائی کی دل آزاری نہیں کریں گے یہ دل آزاری اور تلخی تو شرعاً، قانوناً اور اخلاقاً بھی بری بات ہے۔
کیا ہم اسلام دشمنوں کے مقابلے میں اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ میں اپنے بھائیوں سے درخواست کروں گا کہ وہ پندرہ صدیوں سے فروعات پر باہم لڑتے رہے تو پندرہ سو سال میں کچھ بھی نہیں حاصل کر پائے ،مگر میری درخواست پر عمل کرتے ہوئے صرف پندرہ سالوں میں نہیں ،بلکہ صرف پندرہ مہینوں کے اندر اندر سب کچھ حاصل کر لیں گے! صرف پندرہ ماہ میں دل آزاری سے باز رہ کر یعنی یہ محرم اور اگلا محرم میں دل آزاری کے گناہ کے بجائے دل داری کرنے کا عزم بالجزم کر لیں! رستہ خدا و رسول نے بتا دیا ہے کہ غصہ پی جاﺅ اور عفو و درگذر کا صراط مستقیم اپنا لو، نفرت اور حقارت کا زہر تھوک دو اور دل آزاری کے نشتر پھینک دو اور دل داری کے پھول برسانے کا عزم کر لو بھائی بھائی بن جاﺅ گے تمہارے نایاک اتحاد کرنے والے دشمن ہارجائیں گے، تم خود کشی سے بچ جاﺅ گے ورنہ تو تم خود کشی بھی کر رہے ہو اور دشمن بھی تمہیں چن چن کر مار رہے ہیں، اس طرح تو تم مٹ جاﺅ گے!دشمن کی سازشوں میں آ کر برادر کشی خود کشی ہی تو ہے! یہ فنا کا رستہ چھوڑ دو، بقا کا رستہ اپنا لو زندہ قوم بن جاﺅ گے! پندرہ ماہ کا یہ ریاض تمہاری پندرہ صدیوں کا علاج ثابت ہو گا! آزما کر تو دیکھو! صرف اس محرم سے اگلے محرم تک!! اللہ کے بندو ہمت کرو!! دل آزاری نہیں ،دل داری

(بشکریہ ڈیلی پاکستان۔لاہور
http://dailypakistan.com.pk/columns/22-Oct-2014/155128

انسداد دہشت گردی: قومی اتحاد ناگزیر

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب اور خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر ون کے منطقی انجام کی طرف بڑھنے کے ساتھ ہی حواس باختہ شدت پسندوں کی طرف سے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے جیسے کسی بھی بزدلانہ فعل کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور درحقیقت ایسی کئی کوششوں کی منصوبہ بندی کی بھی گئی جنہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس ایجنسیوں نے ناکام بنادیا۔ منگل کے روز بھی واہ کینٹ میں دہشت گردی کی ایک واردات ناکام بنادی گئی جہاں 22سالہ نوجوان نے پولیس کے تعاقب سے بچنے کے لئے پہلے اہلکاروں کو ہینڈ گرینیڈ کے دھماکے سے روکنے کی کوشش کی اور بعدازاں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ ہر روز ہی مختلف شہروں اور مضافاتی بستیوں میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈائون اور سیکورٹی ایجنسیوں سے مقابلوں کی اطلاعات آرہی ہیں۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ 16؍دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور کے طلبہ اور اساتذہ پر دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے اور 140سے زیادہ افراد کی شہادت کے واقعے کے بعد پوری قوم متحد نظر آرہی ہے جس کا ایک مظہر قومی ایکشن پلان کا تمام پارلیمانی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور ہونا ہے۔ پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں سے 21ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کو بھی ایک حد تک اس اتفاق رائے کی علامت کہا جاسکتا ہے لیکن یہ کافی نہیں۔ قوم کو اس وقت اپنی بقا و سلامتی کی جس جنگ کا سامنا ہے اس نوع کی جنگ میں لمحہ بہ لمحہ تبدیلیاں رونما ہوتی اور نت نئے چیلنج سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس لئے سیاسی و سماجی اور مذہبی تنظیموں سمیت پوری قوم کو متحد اور چوکس رہنا ہوگا۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ جب سے شدت پسندوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب شروع ہوا ہے وطن عزیز کی مشرقی سرحدوں پر بھی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں معلوم ہوتا کہ ہر لمحے ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ ابھار کر پاک فوج کی توجہ کو تقسیم کیا جائے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کی صلاحیت کے بارے میں بھی بعض غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے نہ صرف یہ واضح کیا ہے کہ ہماری فوج دشمن کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے بلکہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہت سے اہداف حاصل کئے جاچکے ہیں اور افغان سرحد سے ملحقہ ایک چھوٹی سی پٹی کے سوا شمالی وزیرستان کا بڑا علاقہ کلیئر کرلیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ بڑھایا جارہا ہے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ جیسا کہ پاک فوج کے ترجمان نے کہا، دنیا میں دہشت گردی کا واقعہ کب اور کہاں ہوگا، اس کی سو فیصد گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ پیرس میں رونما ہونے والا واقعہ اس کی مثال ہے۔ تاہم وطن عزیز میں سیکورٹی کے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں اور توقع کی جانی چاہئے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو آئندہ بھی اسی طرح ناکام بنایا جاتا رہے گا جس طرح پچھلے دنوں کے دوران بعض کوششوں کو ناکام بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ صورت حال سے نمٹنے کا ایک پہلو ہے۔ ملک کے اندر اور باہر سے لاحق خطرات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سمیت پوری قوم اسی طرح مسلسل متحد نظر آتی رہے جس طرح قومی ایکشن پلان کی تیاری اور منظوری کے وقت سے متحد نظر آرہی ہے۔ کیونکہ دہشت گردوں کی سزائے موت بحال ہونے کے بعد اور فوجی عدالتوں کی تشکیل کے انتظامات کے پس منظر میں شدت پسند عناصر کے ردعمل کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ مزید یہ کہ شدت پسند عناصر اب خیبر پختونخوا تک محدود نہیں بلکہ کراچی، لاہور اور کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکے ہیں۔ ان کے خطرے کا سدباب کرنے کے لئے شہری دفاع کی تنظیم، بوائے اسکائوٹس، گرل گائیڈز اور محلہ کمیٹیوں کو منظم و فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ کابل میں صدر اشرف غنی کے برسر اقتدار آنے کے بعد قائم ہونے والے پاک افغان تعاون کو افغانستان سے دراندازی کرنے والے شدت پسندوں کی بیخ کنی کے لئے بروئے کار لایا جانا چاہئے۔

ادارتی صفحہ
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=273047

دہشت گردی : مزید الرٹ رہنے کی ضرورت

312544-image-1419359044-889-640x480

ایڈیٹوریل منگل 23 دسمبر 2014
وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ ایک آپریشن ضرب عضب قبائلی علاقوںمیں جاری ہے اوردوسرا شہروں میں چھپے دشمنوں کے خلاف ہوگا۔ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہوگی اورملک کودہشت گردی کے کینسرسے نجات دلاکر دم لیں گے جب کہ صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے، پشاورالمیہ ہمارے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ تمام عسکریت پسندوں اورانتہا پسندوں سے ہمیں خطرہ درپیش ہے ۔
صدر مملکت نے بجا طور پر خطرات کی بات کی ہے اور ضروری نہیں کہ سیکیورٹی فورسز کی نگاہ صرف داخلی امن اور بد امنی و قتل و غارت کے خاتمے پر مرکوز ہو بلکہ ہمیں خطے کی مجموعی صورتحال اور خاص طور پر بھارت ،افغانستان اور دیگر پڑوسی ملکوں کے حوالہ سے بھی محتاط رہنا پڑیگا، افغان سیکیورٹی فورسز نے پاکستانی طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے اپنے مشرقی صوبوں میں آپریشن شروع کردیا ہے، اگلے روز تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اﷲ کی موجودگی کی اطلاع پر کنڑ میں کارروائی ہوئی جس میں 28 طالبان ہلاک اور 33 زخمی ہوئے ۔ارزگان ، غزنی ،پکتیکا اور پکتیا میں24 جنگجو مارے گئے، کنڑ میں دھماکا ہوا جس میں 7بچے جاں بحق ہوئے جب کہ کراچی میں بھی کالعدم تحریک طالبان اور القاعدہ کے 13 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، اس لیے مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔
ملک کے حالت جنگ میں ہونے کا اعلان صدر مملکت کے بیانیہ کی اصل اہمیت کے ادراک سے مشروط ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ بلاشبہ اہل وطن کی جنگ ہے ، دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم اور دیگر مشاہیر اور سیاست دانوں کے بیانات بھی قومی انداز نظر اور قومی امنگوں کی سچی عکاسی کرتے ہیں ، ارباب اختیار کے لیے یہ بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ عالمی تناظر اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے دہشت گردی کے داخلی عوامل اور اپنے ’’اندر کے دشمن‘‘ کی مکمل شناخت اور اس سے نمٹنے کے لیے صف بندی کریں ۔
یہ حقیقت پاک فوج ، ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور متعلقہ ریاستی و حکومتی اداروں کی ہمہ وقت توجہ کا مرکز بنی رہنی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ملکی معمولات حیات بدستور پر امن طریقے سے جاری رہیں ، کوئی انارکی پیدا نہ ہو، وسیع تر سیاسی اتحاد کے ذریعے عدلیہ ، میڈیا، پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی سمیت تمام سیاست داں اتحاد و اتفاق کی ایسی مثال قائم کریں کہ افواہوں ، چہ مگوئیوں، آپریشن ضرب عضب اور عدالتی اقدامات کے بارے میں کسی قسم کی مہم جوئی نہ ہو، جبھی ہم حالت جنگ میں ہم اپنے درست عسکری، سیاسی، سماجی ، معاشی اور نظریاتی اثاثوں کا دفاع کر سکیں گے اور قومی یکجہتی کو دہشت گردی کے ممکنہ جوابی رد عمل سے بچا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کاکہنا ہے کہ پاکستان سے ہر قیمت پر مکمل طور پر دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کررکھا ہے اور جنھوں نے ہمارے فوجیوں، شہریوں اور بچوں کی جان لیں ان پر رحم نہیں کیا جا سکتا ۔
انھیں اپنے کیے کی سزا ضرور دی جائے گی اور دہشت گردی کے مقدمات کی متحرک اندازمیں پیروی کی جائے گی ۔ انھوں نے اپنی قانونی ٹیم اوراٹارنی جنرل آفس سمیت دیگرکو واضح ہدایات دیں کہ وہ دہشت گردجن کوعدالتوں سے حکم امتناعی ملاہے یا پھرکسی وجہ سے مقدمے آگے نہیں چل رہے توانھیں جلد آگے بڑھایا جائے۔پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت دہشگردی ختم کرے اس کے ساتھ مکمل تعاون کیاجائے گا ۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو واپس خیبرپختونخوا کے حوالے کیا جائے، 23 ہزار ایف سی اہلکاروں میں سے صرف 800 سے900 اہلکار صوبے کے پاس ہیں۔ یہاں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا قوم دہشت گردی سے مقابلے کا فیصلہ کر چکی ہے، ملک متحد ہو جائے تو جنگ جیتی جا سکتی ہے، ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ مشکل ہے ناممکن نہیں ۔
آئی ڈی پیز ہمارے لوگ ہیں ان کو سہولیات فراہم کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے، کے پی کے کی 70 فیصد صنعتیں بند ہیں، 20 لاکھ آئی ڈی پیز کے لیے وفاق فوری فنڈز جاری کرے، عمران خان نے کہا فاٹا کے لوگوں کو سہولتیں نہ دی گئیں تو نوجوان دہشت گردی کی طرف مائل ہونگے ۔ تحریک انصاف کے سربراہ کا نقطہ نظر سنجیدہ تجزیہ اور فوری توجہ کا مستحق ہے۔ تاہم یہاں ایک قابل غور اطلاع کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ آرمی پبلک اسکول اینڈ کالج پر حملے کی اطلاع28اگست کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نے دی تھی، نیکٹا کے ڈائریکٹر آپریشن عبیداللہ فاروق ملک کی طرف سے ہوم سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا،انسپکٹر جنرل ایف سی خیبر پختونخوا،ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا اور کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری کولیٹر نمبر802کے عنوان اور مراسلہ نمبر 3/9/2012-(ops)-8141(1) کے تحت مراسلہ بھیجاجس میں بتایا گیا تھا کہ تحریک طالبان اورکزئی ایجنسی کے خاکسار امیر نے بلال ارہابی اورعبیداللہ کے ساتھ ملکرپورے ملک اوربالخصوص خیبرپختونخوا میں آرمی پبلک اسکول،کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں پرحملہ کرینگے، اگر یہ سچ ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
ملک اس تجاہل عارفانہ کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا عزم قومی ٹاسک بن گیا ہے، وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ سفاک درندوں نے پشاورمیں معصوم بچوں کوبدترین بربریت کا نشانہ بنایا جس پرپوری قوم غمزدہ ہے، تقریروں کا وقت گزرچکا ہے، اب صرف موثرفیصلہ کن کارروائی کا وقت ہے ۔ کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان نے کہا پنجاب حکومت اور پولیس کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے تعاون جاری رکھیں گے، یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے ۔ ادھر بتایا جاتا ہے غیر قانونی سمز دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہیں تاہم ایسی سمز فروخت کرنے والوں کی سزا زیادہ سے زیادہ 3 ماہ قید اور چند ہزار روپے جرمانہ ہے، ایسے افراد کے خلاف درج مقدمات میں بیشتر کو ایک ماہ سے کم قید کی سزا دی گئی ہے ۔ اس پر حکمراں نظر ثانی کریں ، ادھر وزارت داخلہ نے غیرملکی سفیروں کو اپنی نقل وحرکت محدود کرنے اور پولیس اور وزارت داخلہ کوآگاہ کیے بغیرتقریبات میں جانے سے اجتناب کرنیکی بر وقت ہدایات جاری کردیں۔
جب کہ دہشت گردی کے خلاف ہائی الرٹ کی سطح برقرار ہے جس کے تحت بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد کے گرد مشکوک افراد کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے پیر کی رات گئے ہوائی اڈے کو گھیرے میں لے لیا اور سیکیورٹی ریڈ الرٹ کردی، تمام داخلی اور خارجی راستے بند کرکے ایک گھنٹے سے زائد تک فلائٹ آپریشن معطل رہا۔ دوسری جانب اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں کریک ڈاؤن مسلسل جاری ہے۔ وفاقی دارالحکومت 17افغانیوں سمیت مزید 117مشکوک افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ملکی صورتحال کے تناظر میں یہ رائے قائم کرنا کچھ غط نہ ہوگا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی عالمگیر مسئلہ ہے ، یہ عالمگیریت ، قوموں کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور ذرایع ابلاغ کی توسیع کے بطن سے اٹھنے والی مضطربانہ اسلامی شدت پسندی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہوشمندانہ عملی اسٹرٹیجی کی اشد ضرورت ہے ۔
http://www.express.pk/story/312544

تم سے ہماری جنگ رہے گی آخر تک
19 دسمبر 2014
کالم
نسیم شاہد

news-1418933701-2902
مجھے پختہ یقین ہے کہ دہشت گردوں کی شکست کا آغاز ہو چکا ہے۔ پشاور میں سکول کے بچوں کو نشانہ بنا کر اُنہوں نے دہشت نہیں پھیلائی بلکہ اپنے مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس عظیم سانحہ کے بعد قوم کے اندر اِن درندوں کے خلاف جو مصمم ارادہ، آہنی عزم اور یکجہتی نظر آ رہی ہے۔ وہ ان کی دائمی شکست کا باعث بنے گی۔ یہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ دہشت گردوں کے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا، اُنہوں نے معصوم بچوں پر آتش و آہن کی بارش کر کے اپنی بزدلی اور بے بسی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اُن کی یہ کارروائی اگرچہ 142 گھرانوں میں صفِ ماتم بچھا گئی اور قوم کے ذہین بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر مجھے مکمل یقین و اعتماد ہے کہ اُن کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ اس سانحہ نے ان رہے سہے طالبان کے حامیوں کی زبانیں بھی گنگ کر دی ہیں، جو ہمیشہ ان درندوں کی حمایت کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں ایسا بزدلانہ حملہ تو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، میں سمجھتا ہوں یہ دہشت گردوں کے خلاف ایک کاری ضرب ہے جو قدرت نے انہی کے ہاتھوں اُنہیں لگائی ہے۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ سیکیورٹی کی کیا خامیاں تھیں کہ جن سے فائدہ اُٹھا کر دہشت گرد اتنی بڑی کارروائی کرنے میں کامیاب رہے۔ میں تو اس پہلو پر غور کر رہا ہوں کہ دہشت گردوں کی کارروائی نے پہلی بار پوری قوم کو اُسی رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے جو قوموں کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوتا ہے۔ اب اس میں دو رائے نہیں رہیں کہ دہشت گرد ہمارے دشمن ہیں اور اُنہوں نے ہمارے مستقبل پر وار کیا ہے۔ ان کا قلع قمع کرنے پر آج 18 کروڑ عوام میں سے کوئی ایک بھی ایسا فرد نہیں جو دوسری رائے رکھتا ہو۔ معصوم جانوں کا لہو سر چڑھ کر بول رہا ہے اب واقعتاً ایک ایسی فضا جنم لے رہی ہے، جس میں ان دہشت گردوں کے لئے زمین تنگ ہو جائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے کہ جو ہمیں اندر ہی اندر سے کھا رہا ہے مگر یہ بھی ہے کہ اس کے خلاف کبھی ہم اس طرح متحد نہیں ہوئے، جس طرح آج ہیں۔ بچوں کی لاشوں نے قوم کے اندر وہ طاقت اور یکجہتی پیدا کر دی ہے جو اس عفریت سے نمٹنے کے لئے ضروری تھی۔ میں نے دیکھا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ نے پرجوش اور پر امن جلوس نکالے۔ شہداء سے اظہار یکجہتی کیا۔ دہشت گردوں کے خلاف اپنے قومی عزم اور حوصلے کو دہرایا، خیبر سے لے کر کراچی تک پوری قوم نے اس سانحے کی مذمت کی اور پوری قوت سے دہشت گردی کو کچلنے کے لئے حکومت اور فوج سے یکجہتی کا یقین دلایا۔ یہ ساری باتیں یہ سارے مناظر اس بات کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اتنی بھیانک کارروائی کے باوجود دہشت گرد ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکے۔ ہماری ہمتوں کو توڑ نہیں سکے اور ہمیں پارہ پارہ کرنے کی سازش میں یکسر ناکام ہو گئے۔ ملک کی سیاسی و فکری قیادت اس سانحے کے بعد یکجا ہو گئی ہے میں سمجھتا ہوں یہ بہت اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اُٹھا کر ہمیں بولڈ فیصلے کرنے چاہئیں۔ جیلوں میں مقید ان دہشت گردوں کو سزا ہو چکی ہے، اُنہیں سر عام پھانسی پر لٹکانا چاہئے، اب یہ فیصلے کسی مصلحت کی نذر نہ کئے جائیں۔ اسی طرح ملک کے جس کونے کھدرے میں یہ درندے چھپے ہوئے ہیں، اُن کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لئے بلا خوف و خطر اور بلا امتیاز آپریشن کیا جانا چاہئے۔ یہ تاثر بھی دور ہونا چاہئے کہ ملک کی کچھ سیاسی و مذہبی قوتیں دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ ضروری ہے کہ وہ ان سے نہ صرف اپنی لاتعلقی کا اظہار کریں بلکہ نام لے کر ان کی مذمت بھی کریں۔ قوم اب اس نکتے پر یکسو ہو چکی ہے کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں، اُن کا کوئی وطن ہے اور نہ مذہب ،اُنہیں انسانیت سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ وہ کسی اعلیٰ نظریئے کے لئے لڑ رہے ہیں۔ اُنہیں انسانیت اور قوم کے دشمن قرار دے کر بڑے پیمانے پر اُن کے خلاف جنگ ہونی چاہئے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے کہ جو ہمیں اس منجدھار سے نکال سکتا ہے۔ اس آپریشن میں درندگی کا مظاہرہ کرنے والے جن دہشت گردوں کو فوج نے مارا ہے وہ سب کے سب غیر ملکی نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے پاکستان غیر ملکی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے، جو ایک خاص ایجنڈے کے تحت ہمارے معاشرے میں وحشت و درندگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں ان سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں ایسے لوگوں سے کیا مذاکرات ہو سکتے ہیں کہ جو ہمارے معاشرے یا قوم سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ اب یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ ہم نے دہشت گردی کے حوالے سے کوئی تاویل نہیں گھڑنی بلکہ دو ٹوک فیصلہ کرنا ہے۔ جس طرح ملک کی تمام سیاسی قوتیں اس سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف ہم آواز ہو گئی ہیں، اُسی طرح کا عزم اور مصمم ارادہ ہمیں ایسے ہر اقدام کے لئے بھی درکار ہے، جو دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے لئے ضروری ہے ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج کی قیادت بھی اب اس نکتے پر یکسو ہے کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہے۔ اسے کسی گروپ کی وجہ سے نہیں پہنچانا جا سکتا، نہ ہی کوئی رعایت دی جا سکتی ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف یہ بات متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی اور کوئی دہشت گرد نہیں بچے گا۔ سیاسی و مذہبی قوتوں کو بھی اب اس بحث سے باہر آنا چاہئے کہ کون سا دہشت گرد گروپ مذاکرات چاہتا ہے اور کون سا نہیں فیصلہ دہشت گردوں کے خلاف ہونا چاہئے چاہے وہ کسی انداز میں بھی موجود ہوں۔ فوج کا آپریشن ضربِ عضب جاری ہے اس کے ذریعے بہت سے دہشت گردوں کا صفایا بھی ہو چکا ہے اور متعدد علاقے بھی واگزار کرا لئے گئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوج کو اپنا کام جاری رکھنے دیا جائے اور درمیان میں آپریشن کو روکنے یا جلد بازی کرنے کے لئے سیاسی و مذہبی قوتوں کی طرف سے جو دباؤ ڈالا جاتا ہے، اُسے ختم کیا جائے۔ ضرب عضب کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں کہ جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں، فوج کو فری ہینڈ دے دیا جائے ایک ہمہ گیر اور بھرپور عسکری آپریشن کے بغیر اس عفریت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ پشاور کا یہ سانحہ اپنے پیچھے دکھ اور غم کی ان مٹ داستانیں چھوڑ گیا ہے۔ یہ اُن سانحات میں سے ایک ہے جو قوموں کی زندگی میں یا تو مایوسی کا باعث بنتے ہیں یا پھر اُنہیں نئی زندگی دے جاتے ہیں۔ ہمیں اس سے نئی زندگی حاصل کرنی ہے۔ بالکل اُسی طرح جیسے ان معصوم بچوں کے والدین اب ان کی یادوں کے سہارے نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہر شہید ہونے والے بچے کو اس کے والدین خصوصاً ماں نے دعائیں دے کر سکول بھیجا ہوگا۔ آخری نظر کی یادیں اب ہر ماں کے دل پر کچوکے لگا رہی ہوں گی۔ کسی نے کوئی خواہش کی ہو گی اور کسی نے ضد، کسی کی جلد گھر واپس آنے کی آرزو ہو گی اور کوئی دیر تک سکول میں کھیلنا چاہتا ہو گا۔ آناً فاناً ٹوٹنے والی قیامت صغریٰ نے اُن کے سارے خوابوں اور خواہشوں کو چکنا چور کر دیا۔ کس قدر خوف کی فضا ہو گی جب درندے سکول کے اندر خون کی ہولی کھیل رہے ہوں گے۔ یہ ایک بہت بڑی قربانی ہے جسے کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دینا چاہئے۔ دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی تشکیل دی جائے اور پھر اس پر عملدرآمد کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے چاہئیں۔ ننھے فرشتوں کی روحیں ہماری طرف دیکھ رہی ہیں اور سراپا سوال ہیں کہ ہمارا کیا قصور تھا۔ اس سوال کا جواب تو ہم نہیں دے سکتے۔ لیکن اُن کی عظیم قربانی کا قرض تو یوں اُتارا جا سکتا ہے کہ ہم پھر کوئی ایسا سانحہ نہ ہونے دیں۔ کسی ایسے درندے کو پاک سر زمین پر نہ رہنے دیں جو ہمارے حال اور مستقبل کا دشمن ہے۔ سانحہ پشاور اگر ہمیں اس نکتے پر جمع کر دیتا ہے تو میں سمجھوں گا معصوم روحوں نے اپنا کام دکھا دیا ہے اور ہم بالآخر دہشت گردوں کے خلاف ایک ہو گئے ہیں۔ آخر میں اس سانحے کے حوالے سے وارد ہونے والے چار اشعار۔ تم سے ہماری جنگ رہے گی آخرتک دنیا تم پر تنگ رہے گی آخر تک جن ماؤں کی گود اُجاڑی ہے تم نے قوم اب اُن کے سنگ رہے گی آخر تک تم بارود کی فصل اُگانا چاہتے ہو یہ دھرتی گل رنگ رہے گی آخر تک جو معصوم سے چہرے تم نے مسخ کئے قسمت اُن پر دنگ رہے گی آخر تک.
http://dailypakistan.com.pk/columns/19-Dec-2014/174373

سانحہ پشاور دہشت گردوں کا پاکستان کے مستقبل پر حملہ

ایڈیٹوریل   منگل 16 دسمبر 2014
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے کینٹ ایریا میں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 132 طالب علم اور اسکول اسٹاف سمیت 141 افراد شہید جب کہ سو سے زاید بچے اور اسٹاف کے ارکان زخمی ہو گئے۔اس سانحے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پورے ملک میں تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ پاک آرمی کے جوانوں نے حملہ آور تمام دہشت گردوں کوہلاک کر دیا۔ واقعات کے مطابق منگل کو چھ مسلح دہشت گرد اسکول کی عمارت میں داخل ہوئے اور وہاں موجود طالب علموں کو یرغمال بنا لیا۔ظلم کی انتہا یہ ہے کہ کرسیوں کے نیچے چھپے ہوئے معصوم طلباء کو بھی گولیاں ماری گئیں۔ اس سانحے کی ذمے داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔
سانحہ پشاور نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ تاریخ میں یہ سب سے زیادہ بے رحمانہ اور سفاکانہ کارروائی تھی۔اس کارروائی سے قبل بھی دہشت گردوں نے بہت سے مقامات پر خود کش حملے اور فائرنگ کے ذریعے بے گناہوں کو شہید کیا ہے لیکن اگلے روز پشاور میں انھوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں نے بے گناہ اور معصوم طالب علموں پر حملہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی رعایت یا رحم کے مستحق نہیں ہیں۔ اس سانحہ نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں۔
پاکستان کا کوئی ایسا رہنما نہیں ہے جس نے اس سانحہ کی مذمت نہ کی ہو۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف،پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سانحہ کے بعد پشاور پہنچے۔ اس سانحے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپس میں متحارب سیاسی جماعتوں نے یکساں موقف اختیار کیا ہے۔ یہ خرابی سے تعمیر کی نئی صورت ہے۔
پاکستان میں دہشت گردوں نے جس طرح بے گناہ افراد کا خون بہایا ہے،اس کا تقاضا یہ ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے ایک مضبوط اور موثر پالیسی اختیار کی جائے۔ پشاور میں معصوم بچوں کو شہید کر کے دہشت گردوں نے انسانیت کی ساری حدود پار کر لی ہیں۔ اب پاکستانی قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ طالب علم اور بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ پشاور میں اسکول کے بچوں کو شہید کر کے دہشت گردوں نے پاکستان کے مستقبل پر حملہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں دہشت گردوں کے حوالے سے نظریاتی کنفیوژن پھیلائی گئی۔
اچھے اور برے طالبان کی اصطلاح بھی سامنے آئی۔ خود کو دینی حلقے کہلانے والوں نے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی گردان کر کے عوام کو بھی ابہام کا شکار کیا اور دہشت گردوں کے لیے بھی راہ ہموار کی۔ ادھر ملک کی سیاسی جماعتوں میں بھی طالبان کے حوالے سے تقسیم واضح نظر آئی۔ جماعت اسلامی،جے یو آئی اور دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے علاوہ مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے موقف کو اپنایا۔ ان جماعتوں نے دوسری سیاسی قیادت کو بھی مجبور کیا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کا آپشن اختیار کریں۔ مختلف مواقعے پر طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی کیے گئے لیکن یہ کامیاب نہیں ہوئے۔
سوات میں مذاکرات ہوئے،اس وقت مرکز میں پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت تھی جب کہ خیبر پختونخوا میں اے این پی برسراقتدار تھی۔ ان مذاکرات کے بعد طالبان نے پورے سوات پر کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ سوات آپریشن کی صورت میں سامنے آیا۔ موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو طالبان سے مذاکرات کا عمل ایک بار پھر شروع ہوا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مسلسل طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومت پر دبائو ڈالتے رہے۔ موجودہ حکومت نے مذاکرات کا عمل شروع کیا تو اس دوران بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے،پشاور میں ہی چرچ پر حملہ کیا گیا۔ لیکن مذاکرات کا عمل جاری رہا اور پھر حکیم اللہ محسود کی ایک ڈرون حملے میں موت کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوا۔
پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ مذاکرات کا آپشن کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کا ایجنڈا ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنا ہے اور انھوں نے مذہب کی آڑ لے رکھی ہے۔ یہ کوئی عام سا تناز ع نہیں ہے کہ جسے جرگے یا کمیٹی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ اب تک جو بھی مذاکرات ہوئے ہیں،اس کے نتیجے میں دہشت گردوں نے فائدہ حاصل کیا ہے،وہ مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرتے رہے ہیں اور اس دوران اپنے نیٹ ورک کو پھیلاتے رہے ہیں۔ وہ مذاکرات میں کبھی بھی سنجیدہ نہیں رہے ہیں۔ ادھر سیاسی حکومتوں کے دور میں انتظامی سطح پر بھی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔
دہشت گرد آزادانہ انداز میں اپنی کارروائی کرتے رہے۔ کراچی،لاہور،راولپنڈی اور پشاور جیسے بڑے شہر ان کی کارروائیوں سے محفوظ نہ رہے۔ پولیس اور سول انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈائون کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ پشاور میں بھی دہشت گرد بڑے آرام کے ساتھ اسکول میں داخل ہو گئے اور کوئی انھیں روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ لاہور میں واہگہ بارڈر کے قریب بھی خود کش حملہ آور با آسانی پہنچ گیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ سول حکومتیں اور ان کی مشینری اپنے فرائض پوری تندہی سے ادا نہیں کر رہیں۔ ادھر جو دہشت گرد گرفتار ہوئے وہ بھی عدالتوں سے رہا ہوتے رہے۔ کسی دہشت گرد کو سزا نہ ہو سکی۔
اس میں قصور کس کا تھا،اس بحث میں پڑے بغیر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جس حوصلے،جرات اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہماری حکومتوں اور سیاسی قیادت میں نہیں رہی۔ ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت عوام کو دہشت گردوں کے خلاف یکسو کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس کی وجہ سے عوام میں تقسیم پیدا ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کبھی بھی بھرپور کارروائی نہ ہو سکی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں افواج پاکستان کے افسر اور جوان بھی شامل ہیں اور بے گناہ شہری بھی۔ انتہا یہ ہے کہ دہشت گردوں نے درگاہوں اور عبادتگاہوں کا بھی احترام نہیں کیا اور وہاں بھی خود کش حملے کیے۔
یہ صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں قومی سطح کے لیڈر کھل کر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ کبھی یہ آڑ لی جاتی ہے کہ یہ غیروں کی لڑائی ہے،کبھی بھارت کی طرف اشارہ کر کے دہشت گردوں کے لیے گنجائش پیدا کی جاتی ہے۔ ہمارے قومی سطح کے لیڈر یہ کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں،اور جس کسی نے بھی یہ کام کیا ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک تنظیم ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد اس کی ذمے داری قبول کرتی ہے اور ہماری لیڈر شپ کھل کر نام لینے سے بھی ہچکچاتی ہے۔ ملک کے اہل قلم بھی عوام میں کنفوژن پھیلانے میں مصروف ہیں،یہ صورت حال ملک و قوم کے لیے زہر قاتل ہے۔
دنیا میں پاکستان واحد ملک نہیں ہے جسے دہشت گرد گروہوں کا سامنا ہے۔ دنیا میں بہت سے ملک ایسے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی ہے اور اس پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔ سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان بھی دہشت گردوں پر قابو پا سکتا ہے لیکن اس کے لیے جرات مندی اور نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ،حکومت اور ملک کی سیاسی قیادت کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ دہشت گردی اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ہم یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے کہ یہ پاکستان کے دشمنوں کی کارروائی ہے یا اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تو ہو ہی رہی ہے،لیکن اس کے لیے نظریاتی پختگی کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ملک میں جو تنظیمیں،گروہ یا شخصیتیں عوام میں نظریاتی کنفیوژن پھیلا رہی ہیں اور برملا ایسی باتیں اور تقریریں کر رہی ہیں جن سے دہشت گردوں کے نظریات کو تقویت مل رہی ہے،ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ آئین اور قانون میں اگر کسی قسم کی کمزوری یا رکاوٹ ہے تو اسے بھی دور کیا جانا چاہیے۔ سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کا تعین کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردو سن لیں ان سے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ یہ عزم حوصلہ افزا ہے‘ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ایسے ہی عزم کا اظہار کرنا چاہیے۔
قوم کو سانحہ پشاور سے بہت دکھ پہنچا ہے۔ پاکستان کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں پشاور میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کا غم نہ منایا گیا ہو۔ دہشت گردوں نے ہمارے بچوں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ ہمارا مستقبل تباہ کرنے چاہتے ہیں۔ پاکستان کے حکمران پہلے بھی بیانات کی حد تک نعرے بازی کرتے رہے ہیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ دہشت گرد وں کے خلاف آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ اس حوالے سے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ بھی کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ ملک کو بچانے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ کینسر کے خاتمے کے لیے آپریشن لازم ہوتا ہے۔
http://www.express.pk/story/310727

بیرونی تناظر

منیر اکرم

54607df715963

پاکستان مسئلے کا حصہ نہیں، بلکہ یہ خطے اور عالمی دہشت گردی کے مسئلے کے حل کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔
پاکستان کی ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ لگ بھگ چار ماہ پرانی ہوچکی ہے، اب تک اس میں کیا کچھ حاصل ہوچکا ہے اور کیا کچھ کرنا باقی ہے؟
پاک فوج کے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں ایجنسی کے بیشتر حصے کو تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد و عسکریت پسند گروپس سے کلئیر کردیا گیا ہے، اس کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی مرکزی ہدف تھی جبکہ وہاں موجود دیگر گروپس القاعدہ، حقانی نیٹ ورک، ازبک اور اویغور بھی اس حملے کی زد میں آئے اور علاقہ خالی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ وہاں موجود ‘دہشت گردی کا انفراسٹرکچر’ یعنی تربیتی کیمپس، اسلحے کے ٹھکانے، رابطے کی سہولیات سب کو تباہ کردیا گیا۔
ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں تین ہزار سے زیادہ آپریشنز کیے گئے، جس کے دوران چار ہزار سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں طالبان کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئے، جبکہ کچھ نے پاکستان کے خلاف تشدد نہ کرنے کا بھی اعلان کردیا۔
ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروپ ‘بھاگ رہے’ ہیں، جس کا ثبوت دہشت گرد حملوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہے۔ معصوم شہریوں کو آسان ہدف جان کر واہگہ بارڈر پر حملہ ہوا جو کہ واضح طور پر مایوسی کی علامت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی رائے عامہ انسدادِ دہشت گردی مہم کے پیچھے ہے، اور واہگہ پر ہونے والے قتل عام نے اس عوامی اتفاقِ رائے کو مزید مضبوط کیا ہے۔
تاہم اندرونی طور پر متعدد چیلنجز تاحال باقی ہیں۔ شمالی وزیرستان کے کچھ گھنے جنگلات والے ناقابلِ رسائی علاقوں کو وہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں سے پاک کرنا باقی ہے۔ اس کے لیے سخت فوجی آپریشنز کی ضرورت ہوگی۔ کچھ دہشت گرد ابھی بھی شہری ٹھکانوں میں موجود ہیں، جنہیں وہاں سے نکالنا ہوگا۔ انتہاپسند گروپس جو ٹی ٹی پی کے اتحادی ہیں، کی جانب سے فرقہ وارانہ تشدد کی لہر میں کمی ضرور آئی ہے مگر اس کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف کامیابیاں اسی صورت میں پائیدارہوسکتی ہیں، جب ایسا سیاسی، سماجی اور اقتصادی پروگرام لایا جائے جو دہشت گردوں کی فنانسنگ روک دے، ٹی ٹی پی کے پروپگینڈے کا توڑ کرے، لوگوں کی جائز شکایات کو دور کرے، ملازمتیں پیدا کرے اور انفراسٹرکچر تشکیل دے، اور دہشت گردوں کا حصہ بننے والے افراد کی معاشرے میں واپسی کو ممکن بنائے۔ یہ پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
لیکن پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور اہم چیلنج کا سامنا ہے اور وہ بیرونی تناظر میں ہے۔
ٹی ٹی پی اور اس کے بیشتر کمانڈرز اور اتحادی افغانستان میں موجود ‘محفوظ ٹھکانوں’ کی جانب فرار ہوگئے ہیں، یہ یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ امریکی اور نیٹو افواج یا افغان نیشنل آرمی ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادیوں کے سرحد پار پاکستان کے خلاف حملوں کو روکنے کی اہلیت اور چاہ رکھتی ہیں یا نہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں، تو پاکستان کو افغان سرزمین میں بھی دہشتگردوں کا پیچھا کر کے ان کا خاتمہ کرنے کا اپنا حق استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ایک ناگزیر معاملہ ہے جس پر اسلام آباد نئی افغان حکومت، امریکا، اور ان ممالک کے تعاون کی توقع کرتا ہے جو افغانستان، پاکستان اور خطے کے استحکام میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے بدلے میں پاکستان افغان متحدہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرسکتا ہے، اور اگر اس کی خواہش ہو تو افغانستان کے اندر مصالحت کے فروغ کے لیے تعاون بھی کرسکتا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان کو اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے ملا عمر اور حقانی نیٹ ورک کے ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر گروپس جیسے ایسٹ ترکمانستان انڈی پینڈنس موومنٹ کے ساتھ رابطوں کو توڑنے کو ترجیح بنانا چاہیے۔
چین کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا ایسٹ ترکمانستان موومنٹ کو شکست دینے کا عزم بہت اہم ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ صدر اشرف غنی کے حالیہ دورہ چین کے دوران افغان ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل انٹیلی جنس، جو گزشتہ سال ٹی ٹی پی سے تعاون کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی، اور جس کے ای ٹی آئی ایم سے مضبوط روابط ہیں، نے اس موومنٹ کی سرگرمیوں کے الزام کا رخ پاکستان کی جانب موڑنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش پاکستان اور چین کے درمیان عدم اعتماد کا بیج بونے میں ناکام ہوگی، مگر افغان انٹیلی جنس کی اس طرح کی کوششیں اسلام آباد اور کابل کے درمیان موجود عدم اعتماد کی خلیج کو صرف بڑھا ہی سکتی ہیں۔
اسی طرح ہندوستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی سیاست بھی کافی پیچیدہ ہے۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان کو کشمیر کے حامی جہادیوں، جیسے کہ کالعدم لشکرِ طیبہ کے خلاف بھرپور کارروائی کرنی چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں ہندوستان کے خلاف مزید حملے نہ کریں۔ لیکن اسی وقت پاکستان کو چاہئے کہ وہ ہندوستان کو افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی کی مدد سے روکے۔ پاکستان کے خلاف لشکر طیبہ کو استعمال کرنے کے بے بنیاد الزامات کو پھیلانے سے گریز کیا جائے، جیسا کہ حالیہ پینٹاگون رپورٹ میں کیا گیا۔ اس کے بجائے امریکا کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مصالحت کرانی چاہیے، تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف دہشتگردی سے گریز کریں۔
بدقسمتی سے مودی حکومت کے مقاصد اور ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اقدامات اس طرح کی باہمی مفاہمت تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ کشمیر میں ہندوستان کے خلاف احتجاج کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، اور اس کی بنیادی وجوہات میں نئی دہلی کا حالیہ سیلاب میں کشمیریوں کو نظرانداز کرنا، اور معصوم کشمیریوں کا حالیہ قتل شامل ہے۔
اگر سرینگر میں ہندو وزیراعلیٰ لانے، اور خطے کو تین حصوں (لداخ، جموں اور وادی کشمیر) میں تقسیم کرنے کے بی جے پی کے پلان پر عملدرآمد ہوگیا، تو 1989 کے انتخابات کے بعد کے واقعات، یعنی بڑے پیمانے پر کشمیریوں مسلمانوں کا احتجاج، ہندوستانی کا احتجاج کو کچلنا، عسکریت پسندوں کی کارروائیاں، ہندوستان کے پاکستان ہر الزامات اور اپنے مکمل ملحقہ خطرات کے ساتھ پاک بھارت تنازع، ایک بار پھر رونما ہوسکتے ہیں۔
داخلی دہشت گردی اور دہشت گردی کی افغان اور بھارتی جہت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو تہران کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بڑھانا چاہیے۔ دیگر جگہوں پر توجہ کے ساتھ ساتھ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو بلوچستان کا مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا چاہیے، اور وہاں سے جنداللہ اور اس سے ملحق سنی انتہاپسند گروپس کو نکال باہر کرنا چاہیے، جو ایران کے خلاف سرگرم ہیں۔ اس بات میں شبہ نہیں کہ بی ایل اے اور ایران مخالف گروپس کو خفیہ طور پر بیرونی تعاون مل رہا ہے۔ سخت سیکیورٹی اقدامات اور جارحانہ سفارتکاری کے ذریعے پاکستان ایسی بیرونی تخریب کاری کا خاتمہ کرسکتا ہے۔
عالمی برادری واضح طور پر اب تک اس بات کا تعین نہیں کرسکی ہے کہ خطے میں دہشت گردی کی صورتحال کتنی پیچیدہ ہے۔ اہم طاقتوں یعنی امریکا، چین اور روس کو اس بات کو سمجھنا چاہیے اور اس پیچیدگی کا مناسب انداز میں سامنا کرنا چاہیے۔
اس خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے ایجنڈا میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور ای ٹی آئی ایم کے حامی گروپس کو شکست دینا اور تباہ کرنا؛ ان کے افغان طالبان سے لنکس ختم کرنا؛ پاکستان، ایران اور دیگر اہم طاقتوں کے تعاون سے بات چیت کے ذریعے افغانستان میں مصالحتی عمل کو فروغ دینا؛ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مفاہمت کو بڑھانا؛ کشمیر پر بی جے پی کی خطرناک حکمت عملی کو پلٹنا؛ اور ایران کے خلاف تخریب کاری کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
پاکستان اس خطے میں اب تک سب سے کامیاب اور سب سے بڑا انسداد دہشت گردی آپریشن کرنے والا ملک ہے۔ یہ ملک مسئلے کا حصہ نہیں، بلکہ یہ خطے اور عالمی دہشت گردی کے مسئلے کے حل کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔
________________________________________
لکھاری اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔
http://www.dawnnews.tv/news/1012121/10dec2014-the-external-dimension-munir-akram-fz-aq

القاعدہ کے آپریشنل چیف کی ہلاکت، ایک اور کامیابی
ایڈیٹوریل پير 8 دسمبر2014

image_largeaa

پاک فوج نے ہفتے کی صبح جنوبی وزیرستان کے علاقے شین ورسک میں آپریشن کیا جس میں القاعدہ کا اہم رہنما اور اس کے بیرونی آپریشنز کا سربراہ عدنان الشکری الجمعہ‘ اس کا ساتھی اور مقامی سہولت کار مارے گئے۔ عدنان الشکری کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ کے بعد وہاں سے جنوبی وزیرستان منتقل ہو گیا تھا۔ فورسز کو اس کے شین ورسک میں ایک کمپاؤنڈ میں پناہ لینے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد وہاں کارروائی کی گئی۔
الشکری کا نام امریکی ادارے ایف بی آئی کے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور اس پر 50 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی مقررکیا گیا تھا۔ وہ القاعدہ کے مرکزی گروپ کا رکن اور اسامہ کا اہم ساتھی تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے الشکری کا خاتمہ کرنے والی پاک فوج کی ٹیم کی تعریف کی اور کہا کہ پاک سرزمین سے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کیاجائے گا اور کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔الشکری کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے دوران پاک فوج کے حوالدار مقصود نے بھی جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اورتمام تر رکاوٹوں کے باوجود وہ اس عظیم مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کر رہی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ ایک عشرے میں 50 ہزار شہری اور سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو چکے ہیں۔دہشت گردوں نے ملکی سلامتی کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کی، انھوں نے سیکیورٹی اداروں کو دہشت گردی کا نشانہ بناکر عوام میں یہ تاثر پیدا کرنا چاہا کہ جب سیکیورٹی ادارے ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں تو شہریوں کا تحفظ کون کرے گا۔
اس صورتحال میں بعض حلقے اس تاثر کو تقویت دینے کی بھاگ دوڑ کرتے رہے کہ یہ گروہ بہت طاقتور ہیں ان کے خلاف آپریشن سے کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی،ایسی صورت میں سیکیورٹی اداروں کو بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا،لہٰذا ان سے مذاکرات کرکے ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے امن کی راہ تلاش کی جائے۔ پاک فوج نے 15 جون 2014 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا‘ ابتدائی حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔
پاک فوج نے بہتر حکمت عملی کی بدولت بہت جلد بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔اس آپریشن میں دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، ان کے مضبوط مورچے‘ پناہ گاہیں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ دہشت گردوں کی ایک تعداد ماری گئی اور بہت سے فرار ہو گئے۔ اب پاک فوج نے القاعدہ کے اہم رہنما عدنان الشکری کو ہلاک کر کے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
ایف بی آئی کے مطابق الشکری کو ابو عارف اور جعفر طیار کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ وہ 7 اگست 1975 میں سعودی عرب میں پیدا ہوا تاہم اس کے پاس گیانا کی شہریت ہے۔ الشکری پر نیو یارک کی عدالت نے 2010 میں امریکا اور برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبے پر فرد جرم عائد کی تھی اس پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ اس نے نیو یارک کے ’سب وے‘ نظام کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ عدنان الشکری کی ہلاکت سے پہلے بھی پاک فوج کئی اہم افراد کو گرفتار کرکے القاعدہ کو بے حد نقصان پہنچا چکی ہے۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2005ء میں القاعدہ کے ایک اہم کمانڈر اللبی کو ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا، 2004 میں تنزانیہ کے احمد خالفان گیلانی، 2003 میں نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو بھی گرفتار کیا گیا، 2002ء میں نائن الیون حملوں کا ایک اور ذمے دار رمزی اور القاعدہ کا اہم کمانڈر ابو زبیدہ بھی گرفتار ہوا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں پاکستان نے کئی کامیابیاں حاصل کیں وہاں کئی نقصان بھی اٹھانے پڑے، کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 80ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔
قبائلی ذرایع کے مطابق عدنان الشکری مقامی شدت پسندوں میں کافی مقبول تھا، وہ عربی اور انگریزی کے ساتھ اردو اور دری زبان بول سکتا تھا جب کہ وزیری اور محسود پشتو زبان بھی روانی سے بول سکتا تھا۔ دریں اثناء بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ہفتہ کو کورہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا۔ آرمی چیف کو بتایا گیا کہ خیبرایجنسی میں اب تک 400 دہشت گرد ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ آرمی چیف نے آپریشنز کے دوران فوج کے اسپرٹ اور عزم وحوصلے کو سراہا۔
انھوں نے متعلقہ حکام کو شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین کی واپسی کے لیے تیاریاں کرنے کی ہدایت کی۔ فوج شمالی وزیرستان کے بڑے علاقے پر قبضہ اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک کمزور کر چکی ہے۔ اس جنگ میں آئی ڈی پیز نے بھی بڑی قربانیاں دیں۔ الحمد للہ فوج کی قربانیاں کے بعد اب وہ وقت آ گیا ہے کہ آرمی چیف آئی ڈی پیز کی واپسی کے لیے تیاریوں کا حکم دے رہے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد امید ہے کہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
http://www.express.pk/story/308468/

پاک فوج کے سربراہ کا فکر انگیز خطاب
ایڈیٹوریل جمعـء 5 دسمبر 2014
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو دفاعی نمائش آئیڈیاز 2014 کے سلسلے میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم پورے خلوص سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے ہمارا عزم غیرمتزلزل ہے۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے اپنی کارروائی اس وقت تک بلا امتیاز جاری رکھیں گے جب تک دہشت گردی کی تمام شکلوں سے نجات حاصل نہیں کر لیتے‘ دہشت گردی کی تمام اقسام اور نظریات کو عوام کی مدد سے ختم کر کے دم لیں گے‘ غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے اندرونی سیکیورٹی متاثر ہو رہی ہے ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورت حال گمبھیر ہو سکتی ہے، معاشرے کو دہشت گردوں کے نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام محاذوں پر کردار ادا کرنا ہو گا۔
پاکستان گزشتہ کئی عشروں سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے باعث حالت جنگ میں ہے اور اس نے اس جنگ میں بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ پہلے دہشت گردی کا دائرہ ایک حد تک محدود تھا مگر غیر سنجیدہ ریاستی رویے اور بعض طاقتور اندرونی قوتوں کی مدد سے یہ بڑھتے بڑھتے اس مقام تک پہنچ گیا کہ اس پر قابو پانے کے لیے اب باقاعدہ جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ دہشت گردی اب مختلف بھیس اور شکلیں اختیار کر چکی اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس طرح سرائیت کر چکی کہ اس کی پہچان مشکل ہو چکی ہے۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے، ہمارا دشمن ہم جیسا اور ہم میں ہی موجود ہے۔ اب تک دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہوئی ہیں ان کی تحقیق کے دوران یہ بات منظر عام پر آئی کہ دہشت گردوں کو اندرونی عناصر کی مدد حاصل تھی جس کے باعث انھیں دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت ملی‘ بعد میں دہشت گردوں کے بعض معاونوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یہ ایک متوشش اور پریشان کن صورت حال تھی کہ دہشت گردوں کے معاون ہمارے اندر موجود تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کی پہچان ایک مشکل امر ہے کیونکہ ہمارے یہ دشمن ہم جیسے اور ہم میں ہی موجود ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ نے ملک کو دہشت گردی کے حوالے سے درپیش مختلف شکلوں اور ہیئت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سیکیورٹی کو این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں موجود دہشت گردی کے عفریت کو بھی بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ غربت‘ بیروز گاری‘ فوڈ سیکیورٹی اور پانی کی کمی بھی نئے سیکیورٹی چیلنج ہیں‘ مذہبی اور گروہی شناخت بھی جنگوں کی نئی وجوہات بن رہی ہیں۔ یہ بات بھی منظر عام پر آ چکی ہے کہ غربت اور بیروز گاری بھی دہشت گردی کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں کیونکہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والا مافیا پیسے کا لالچ دے کر مجبور اور حالات سے ستائے ہوئے بیروز گار نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرتا ہے۔
دوسری جانب ایک ایسا مافیا بھی موجود ہے جو مذہبی عقائد کی من مانی تشریح کر کے دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے‘ علاوہ ازیں ایسے سیاسی گروہ بھی موجود ہیں جو سیاسی حقوق اور قومیت کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اب دہشت گردی کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے اور اس سے نجات پانے کے لیے پاکستان کو ایک طویل جنگ لڑنا پڑے گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومتی وسائل اور میکنزم اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کافی ہے ،کیا اس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مختلف بھیس بدل کر کام کرنے والے دہشت گردوں کو بھی قانون کے شکنجے میں کس سکے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اسی مسئلے کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے موجودہ میکنزم ناکافی ہے ہمیں اپنے نظریات اور کلچر کے تحفظ کے لیے کام کرنا ہو گا۔
حکومت اپنے محدود وسائل کے باوجود دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہے مگر دہشت گردی جتنے بھیس اور شکلیں بدل چکی ہے اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو بھی اپنی روایتی پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی کیونکہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ موجودہ پالیسیاں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے موثر کردار ادا نہیں کر رہیں۔ دہشت گردی کی مختلف شکلوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے حکومت کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ گراس روٹ لیول پر عوام کا تعاون بھی حاصل کرنا ہو گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی ملک کا بیرونی دفاع اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کا اندرونی دفاع مضبوط ہو، اگر داخلی صورت حال کو بہت سے خطرات لاحق ہوں تو سرحدی دفاع کے لیے خطرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور بقا اسی میں ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی شکل میں پرموٹ کرنے والے گروہوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ اگرچہ یہ ایک پیچیدہ اور طویل جنگ ہے اور مزید قربانیوں کی متقاضی ہے‘ اگر ارادے پرعزم اور غیر متزلزل ہوں تو کامیابی قدم ضرور چومتی ہے۔
http://www.express.pk/story/307952/

سورۃ یٰسٓ، دین و دنیا کی بھلائی کا خزینہ

حافظ عبدالرحمٰن بٹلہ جمعـء 31 اکتوبر2014

299260-Yaseen-1414695090-960-640x480

ہر انسان خواہ مرد ہو یا عورت بلا تخصیص نسل، ملت و مذہب اسے کبھی کبھار مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے اور پھر ان کے حل کے لیے وہ اپنے معاون و مددگار اور سہاروں کو تلاش کرتا ہے۔
یہ ایک فطری امر ہے کہ ضرورت کے وقت دوسروں کی طرف نظر اٹھ ہی جاتی ہے اور انسان ان سے اپنی حاجت پورا ہونے کی امید لگالیتا ہے۔ مگر بسا اوقات دیکھا گیا اور اکثر لوگوں کو تجربہ بھی ہوا ہوگا کہ دیگر اور اجنبی تو کجا، اپنے انتہائی قریبی دوست، حتیٰ کہ خونی رشتے دار بھی ایسے کڑے وقت میں منہ موڑ لیتے ہیں۔
وہ کوئی مدد و تعاون تو کیا کریں گے الٹا تذلیل سے بھی نہیں چوکتے۔ لیکن ہم مسلمانوں کو اﷲ جل شانہ نے ایک ایسی دولت اور یقینی سہارے سے نوازا ہے کہ جب کبھی بھی، کیسی بھی، کہیں بھی، دنیا یا آخرت کی، مالی ہو یا جسمانی، غرض کوئی بھی ضرورت آن پڑے تو فوراً اسے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ہر ضرورت کو بغیر کسی انسانی مدد اور دست سوال دراز کرنے کی ذلت و رسوائی سے بچتے ہوئے باآسانی پورا کرسکتے ہیں اور وہ نعمت عظمیٰ ’’سورہ یٰسٓ‘‘ ہے۔
پانچ رکوع والی اس مبارک سورہ کے پڑھنے میں زیادہ سے زیادہ دس منٹ ہی لگتے ہیں۔ حفاظ کا تو اتنا بھی وقت نہیں لگتا۔ اس سورۂ مبارک کے کتنے فوائد ہیں اس کا اندازہ ہمیں محسن انسانیت حضور اکرم ؐ کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عطاء بن ابی رباحؓ کہتے ہیں کہ مجھے حضور اکرم ﷺ کا یہ ارشاد مبارک پہنچا کہ ’’جو شخص سورہ یٰسٓکو شروع دن میں پڑھے اس کی تمام حوائج پوری ہوجائیں‘‘ احادیث میں سورۃ یٰسٓکے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ہر چیز کا دل ہوا کرتا ہے، قرآن حکیم کا دل سورۃ یٰسٓہے‘‘
جو شخص سورۃ یٰسٓپڑھتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے دس قرآن کی تلاوت کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے سورہ طہٰ اور سورۃ یٰسٓکو آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے ہزار برس پہلے پڑھا، جب فرشتوں نے سنا تو کہنے لگے کہ خوش حالی ہے اس امت کے لیے جن پر یہ قرآن اتارا جائے گا اور خوش حالی ہے ان دلوں کے لیے جو اس قرآن کو اٹھائیں گے (یعنی یاد کریں گے) اور خوش حالی ہے ان زبانوں کے لیے جو اس کو تلاوت کریں گی۔
ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص سورۃ یٰسٓکو صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا کے واسطے پڑھے اس کے پہلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، پس اس سورۃ کو اپنے مردوں پر پڑھا کرو، ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’سورہ یٰسٓ‘‘ کا نام آسمانی کتاب تورات میں ’’منعمہ‘‘ ہے کہ اپنے پڑھنے والے کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے اور یہ سورۃ دنیا و آخرت کی مصیبتوں کو دور کرتی ہے اور آخرت کے خوف کو دور کرتی ہے اس سورۃ کا نام رافعہ، خافضہ بھی ہے یعنی مومنوں کے رتبے بلند کرنے والی اور کافروں کو پست کرنے والی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میرا دل چاہتا ہے کہ سورۃ یٰسٓ میرے ہر امتی کے دل میں ہو‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’جس نے سورۃ یٰسٓ کو ہر رات میں پڑھا پھر مرگیا تو شہید مرا‘‘ ایک روایت میں ہے کہ جو شخص سورۃ یٰسٓ کو پڑھتا ہے اس کی مغفرت کی جاتی ہے اور جو بھوک کی حالت میں پڑھتا ہے وہ سیر ہوجاتا ہے اور جو راستہ گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ راستہ پالیتا ہے اور جو شخص جانور کے گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ اس کو پالیتا ہے اور جو ایسی حالت میں پڑھے کہ کھانا کم ہوجانے کا خوف ہو تو وہ کھانا کافی ہوجاتا ہے اور جو ایسے شخص کے پاس پڑھے جو نزع کی حالت میں ہو تو اس پر نزع میں آسانی ہوجاتی ہے اور حالت ولادت والی عورت پر پڑھنے سے اس کی ولادت میں سہولت کردی جاتی ہے اسی طرح جب کسی بادشاہ یا دشمن کا خوف ہو اور اس کے لیے یہ سورۃ یٰسٓ پڑھی جائے تو وہ خوف جاتا رہتا ہے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ جس نے ’’سورۃ یٰسٓ اور (اس کے بعد والی ) سورہ والصٰفٰت‘‘ جمعے کے روز پڑھی اور پھر اﷲ سے دعا مانگی تو اس کی دعائیں پوری کی جاتی ہیں۔
اﷲ تعالیٰ ہم سب کو کامل یقین کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
(بحوالہ : فضائل قرآن تصنیف مولانا محمد ذکریا کاندھلوی)
http://www.express.pk/story/299260

جنگجوؤں کی حیاتِ نو

54465f2779583
محمد عامر رانا تاریخ اشاعت 28 اکتوبر, 2014
تحریکِ طالبان پاکستان کے پانچ کمانڈروں، بشمول ترجمان شاہد اللہ شاہد نے سخت گیر تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ان کے اس اقدام سے ہوسکتا ہے کہ دوسری جنگجو تنظیمیں اور کمانڈر بھی ملا عمر اور القاعدہ کے ساتھ اپنی بیعت اور وفاداری پر نظرِثانی کریں، اور مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی دہشتگرد تنظیم کی حمایت کرنے لگیں۔
ایسا لگ رہا ہے کہ عسکریت پسندی کے حوالے سے پاکستان کا منظرنامہ اب مزید پیچیدہ اور خطرناک ہونے جارہا ہے۔ اب جنگجو گروپ نظریاتی اور آپریشنل طور پر ایک نئے اور زیادہ مضبوط جہادی نظریے کو اپنانے کے لیے تیار ہیں، اور یہ چیز پاکستان کی اندرونی سیکیورٹی کے لیے شدید مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔
طالبان کمانڈروں کی آئی ایس کی حمایت کا اعلان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تحریکِ طالبان میں اندرونی طور پر قیادت کے مسائل ہیں، جبکہ کمانڈروں کے درمیان سیاسی، نظریاتی، آپریشنل، اور طریقہ واردات کے حوالے سے اختلافات بھی موجود ہیں۔
لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ آئی ایس کی حمایت کا اعلان ان طالبان کمانڈروں نے کیا ہے، جو ٹی ٹی پی میں آپریشنل حوالے سے مرکزی اہمیت کے حامل تھے۔ کئی حلقوں کی جانب سے یہ خیال ظاہر کیا جارہا تھا کہ ٹی ٹی پی سے حال ہی میں الگ ہونے والا گروپ ‘جماعت الاحرار’، جو کہ آئی ایس سے کافی متاثر بھی ہے، سب سے پہلے آئی ایس کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرے گا، لیکن لگتا ہے کہ یہ گروپ اب بھی افغان طالبان اور القاعدہ کے الائنس، اور آئی ایس کے درمیان جھول رہا ہے۔
آئی ایس کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کر کے نہ صرف یہ کہ طالبان کمانڈروں نے پہل کی ہے، بلکہ انہوں نے خراسان کا لقب بھی پالیا ہے۔ اس سے پہلے جماعت الاحرار کے لیڈروں نے خود کو خراسانی کہلوانا چاہا، کیونکہ ان کے مطابق وہ پیشنگوئیوں میں موجود خراسان کی اسلامی ریاست کے اولین سپاہی تھے۔ ان کے مطابق وسط ایشیا، ایران، پاکستان، اور افغانستان کے علاقوں پر مشتمل اسلامی ریاست کے قیام کا وقت آچکا ہے۔
لیکن ایک ہی وقت میں القاعدہ اور آئی ایس کے ساتھ تعلقات بنائے رکھنا، اور ملا عمر کے ساتھ اپنی وفاداری قائم رکھنا جماعت الاحرار کے لیے کافی مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ جن پانچ طالبان کمانڈروں نے آئی ایس میں شمولیت اختیار کی ہے، وہ فرقہ وارانہ نقطہ نظر سے کافی شدت پسند ہیں، اور آئی ایس کی فرقہ وارانہ کارکردگیوں سے متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ اب یہ مستقبل میں کیا راہِ عمل اختیار کرتے ہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہے، کیونکہ آئی ایس نے اپنے حامیوں سے تمام وسائل شام اور عراق بھیجنے کے لیے کہا ہے، تاکہ پہلے قدم کے طور پر اس علاقے میں اپنی پوزیشن مستحکم کی جاسکے۔
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے جنگجو گروپوں پر آئی ایس کا اثر و رسوخ القاعدہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جو گروپ القاعدہ کے طریقہ عمل اور اسٹریٹیجی سے متفق نہیں تھے، وہ آئی ایس کی طرف جھکاؤ رکھنے لگے ہیں۔ شاید یہ ہی جنوبی ایشیا میں القاعدہ کے قیام کی وجہ تھی۔ یہ محسوس کرنے کے بعد، کہ صرف ملحقہ گروپوں کے ذریعے کام نہیں چلایا جاسکتا، القاعدہ کو جنوبی ایشیا میں اپنی ‘برانچ’ کا قیام کرنا پڑا، جس سے اب یہ دہشتگرد تنظیم مقامی اتحادیوں پر انحصار کرنے کے بجائے براہِ راست بھرتیاں کرسکتی ہے۔
اس کے علاوہ آئی ایس کا ایک اثر افغان طالبان پر بھی ہوگا۔ آئی ایس کے جنگجو قومیت کے تصور کو مسترد کرتے ہیں، اور افغان طالبان کو قوم پرست مذہبی تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ افغان طالبان کے اندر موجود وہ لوگ، جو قوم پرستی کی طرف زیادہ جھکاؤ نہیں رکھتے، اور جو ایک خالص نظریاتی مقصد رکھتے ہیں، اپنی صفوں میں اس بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔ علیحدگیاں اختیار کرنا ناممکن نہیں ہے، لیکن یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ آئی ایس افغان طالبان تحریک پر کس طرح اثر انداز ہوگی، وہ بھی اس وقت جب ملا عمر افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ البغدادی اسلامی ریاست کو پوری دنیا تک پھیلانا چاہتے ہیں۔
لیکن اب تک آئی ایس کے حامی کمانڈر، القاعدہ، افغان طالبان، اور ٹی ٹی پی لیڈرشپ بھی ٹکراؤ سے بچنا چارہے ہیں، اور خاموشی سے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ اندرونی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جنگجوؤں کے درمیان تصادم شروع ہوجائے گا، جیسا کہ شام میں ہوا، اور اس کی وجہ سے پہلے سے موجود نظریاتی اور سیاسی اختلافات مزید گہرے ہوجائیں گے۔ لیکن ایسے بچ بچ کر کب تک چلا جائے گا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
آئی ایس کے سیکیورٹی کے حوالے سے اثرات کو دیکھا جائے، تو اس نے مرکزی اہمیت رکھنے والے عسکریت پسندوں کے لیے اپنا وجود باقی رکھنے کے لیے ایک چیلنج پیدا کردیا ہے۔ سب سے زیادہ پریشر خاص طور پر القاعدہ، اور فضل اللہ کی زیرِ سربراہی چلنے والی تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ خود کو مضبوط، اور پورے خطے میں جنگجو تنظیموں کی سربراہی کا اہل منوانے کے لیے مزید حملے کریں۔
اسی وقت آئی ایس سے متاثر گروپ آئی ایس کی طرح کی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے افغانستان کے سرحدی قصبوں اور شہروں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس طرح کا کچھ ہونا مشکل ہے، کیونکہ پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں کے بڑے حصے کو اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، جہاں پہلے حکومتی رٹ نہیں تھی۔
قلیل مدت میں آئی ایس سے متاثر گروپ اور کمانڈر فرقہ وارانہ حملے شروع کرسکتے ہیں۔ آئی ایس سے وفاداری کا اعلان کرنے والے کمانڈر فرقہ وارانہ کارروائیوں کے حوالے سے مشہور ہیں، اور ان میں کچھ کا تعلق تو اس حوالے سے بدنام علاقوں ہنگو، اورکزئی، اور کرم ایجنسی سے ہے۔ آئی ایس کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے فرقہ وارانہ کارروائیاں کرنا ان کے لیے کافی آسان ہوگا۔ اس حوالے سے آئندہ کچھ ہفتے، خاص طور پر محرم کا مہینہ کافی حساس ہوگا۔ سیکیورٹی اداروں کو ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ خطرے پر قابو پانے کے لیے بہت زیادہ کام کرنا ہوگا۔
سب سے اہم سوال تحریکِ طالبان پاکستان کے مستقبل کے بارے میں ہے۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ آئی ایس کی وجہ سے ٹی ٹی پی کا اندرونی بحران شدید تر ہوچکا ہے۔ گروپ پہلے ہی قیادت کے معاملے پر ایک تنازعے کا شکار تھا، جبکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب نے اس کے تنظیمی اسٹرکچر کو بھی کافی کمزور کردیا ہے۔
لیکن ٹی ٹی پی کا خاتمہ شاید ممکن نہ ہو۔ آئی ایس کے عروج نے اس تنظیم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ تنظیم اور از سرِ نو بحالی سے گزر رہی ہے، اور اس میں ایک مضبوط نظریاتی جنگجو تنظیم کے طور پر دوبارہ ابھرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے، اور ایسا کسی دوسرے نام کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
لیکن جنگجو تحریکوں میں نازک مراحل پر نام، ٹیگ، اور وابستگیاں اہمیت نہیں رکھتیں۔ اہمیت ہے تو صرف چار جہتی طاقت کی، جس میں نظریاتی اور سیاسی وژن، آپریشنل صلاحیت، موثر پروپیگنڈا، اور معاشرے میں حمایت شامل ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی نے اب بھی زیادہ کچھ کھویا نہیں ہے۔
انگلش میں پڑھیں۔
________________________________________
لکھاری سیکیورٹی تجزیہ کار ہیں۔
یہ مضمون ڈان اخبار میں 19 اکتوبر 2014 کو شائع ہوا۔
http://urdu.dawn.com/news/1011242/

داعش کی نئی شکارگاہ پاکستان

54452554156e6

آج کل عراق و شام میں قائم ہونے والی خود ساختہ مسلم سلطنت ”دولت اسلامیہ” نے دنیا بھر میں نوجوانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے کیونکہ یہ نوجوان دولت اسلامیہ کومسلمانوں کا ایسا حقیقی ہراول دستہ سمجھ رہے ہیں جو انہیں حق و باطل کی جنگ میں دائمی فتح سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

نوجوان اس گروہ کی بربریت اور سفاکی سے قطعاً نفرت نہیں کرتے، بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دولتِ اسلامیہ کا رعب و دبدبہ ہی ہے کہ جس نے اسلام کے دشمنوں پر خوف اور دہشت طاری کر رکھی ہے۔ مخالفین کے سر قلم کرکے درختوں پر لٹکا دینا، سنگساری، قتل و غارت، مغویوں کو زندہ درگور کر دینا اور مذہبی اور نسلی بنیادوں پر نسل کشی جیسی ظالمانہ حرکات اور دولت اسلامیہ ایک ہی سکے کے دو رخ بن چکے ہیں۔

مہذب معاشرے کے لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ جو بھی اس قسم کی حرکات کرتا ہے وہ جنونیت اور پاگل پن کا شکار ہے، لیکن دولتِ اسلامیہ کے لیے یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ دشمن کو خوف اور وحشت میں مبتلا کردینا اور یوں اپنے ساتھ شامل ہونے والے نئے لوگوں پر رعب بٹھا کر انہیں اپنے ساتھ شامل کرنا، یہ طریقہ واردات دولت اسلامیہ کا سوچا سمجھا اور خود منتخب کردہ ہے۔

دنیا بھر اور خصوصآ مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان نوجوانوں کی دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں میں شمولیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ان گروہوں میں شمولیت کے بعد خود کو ایک عظیم اسلامی تحریک کا حصہ سمجھنے لگتے ہیں جس کا مقصد ماضی کی کھوئی ہوئی مسلم خلافت کا دوبارہ قیام ہے۔ اس کے علاوہ ایسے گروہوں میں شمولیت سے مسلمان نوجوان خود کو ایک عظیم تر شناخت کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ باقی دنیا ان کی تنظیم کی سفاکی اور بربریت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔

بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی اور ان کے ماننے والے اس بات پر بہت مطمئن ہیں کہ لوگ انہیں بربریت کرتا دیکھیں اور انہیں وحشی اور سفاک سمجھیں۔ مسلم شدت پسندی کے مختلف ادوار کے برعکس، دولتِ اسلامیہ مذہبی احکامات اور نظریے کے بجائے ظالمانہ کارروائیوں پر زیادہ یقین رکھتی ہے، اسی لیے دولتِ اسلامیہ صرف اور صرف ’قتل و غارت گری پر یقین رکھتی ہے۔


پڑھیے: داعش کے ہاتھوں ایک ماہ میں 1420 لوگ ہلاک


میں نے مورخہ 22 جولائی 2014 کو ڈان اردو کی ویب سائٹ پر جب اپنی تجزیاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ پاکستان میں بھی داعش یعنی دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کے روابط پاکستانی جہادی گروپوں کے ساتھ بہت مضبوط اور طویل عرصے سے ہیں اور مقامی جنگجو بھی اب عراق اور شام کا رخ کررہے ہیں، اور اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ پاکستان میں داعش کے لیے بھرتی شروع ہوچکی ہے، تو بہت سے لوگوں اور انسداد دہشت گردی کے ماہرین نے اسے رد کردیا اور اس خطے میں داعش کی موجودگی مسترد کردی، جب کہ میرے اس اندیشے کی بنیاد اس ”کاروبار” سے وابسطہ چند اہم لوگوں سے میری گفتگو تھی جس میں اندر کے لوگوں کے مطابق داعش کے لوگ پاکستانی اور افغان طالبان کے علاوہ دیگر جہادی گروپوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح اس خطے کے جہادیوں کو داعش کے پلیٹ فارم پر یکجا کیا جائے اور اس سلسلے میں ان کی نظریں بالخصوص ان گروپوں پر زیادہ ہیں جو کہ طالبان قیادت سے کوئی نہ کوئی اختلاف رکھتے ہیں یا پھر مختلف جہادی تنظیموں کے باغی یا بے لگام گروپ جو اپنی اپنی قیادت سے ناراض ہیں۔

میری اطلاع کے مطابق داعش کے لیے پاکستان میں رابطہ کاری کا کام وہ سابقہ القاعدہ عرب ارکان اور روسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ازبک اور چیچن جنگجو کررہے ہیں جو پاکستانی اور افغان طالبان کے ساتھ کئی سالوں تک کام کرتے رہے ہیں اور القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے تنظیمی ڈھانچے میں مناسب رابطہ اور رہنمائی نہ ہونے کے سبب مایوسی کی کیفیت میں تھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی آپس کی خون ریزی اور پھر ان گروپوں کی ایک دوسرے کی مخبری کرنے سے بھی اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کرنے لگے تھے۔ نہ وہ افغانستان میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے تھے اور نہ ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں۔

اسی وجہ سے انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب داعش کے ساتھ ملکر جہاد کا کام کیا جائے کیونکہ وہ القاعدہ کے مستقبل سے بالکل مایوس ہوچکے تھے۔ اسی بنا پر ان لڑاکوں نے عراق اور شام کا رخ کیا جبکہ ان کے رابطے تو آپس میں ابومصعب الزرقاوی کے وقت سے ہی مضبوط چلے آرہے تھے۔ ازبک اور چیچن جہادی دنیا بھر میں اپنی سخت گیری اور بے لچک رویہ کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ان کے اسی رویے کی بنا پر مقامی طالبان اور قبائل کے ساتھ اکثر وبیشتر ان کے اختلافات اور لڑائی چلتی رہتی تھی اور پھر ملا عمر یا القاعدہ کی سینئیر لیڈرشپ کی مداخلت پر ان کو آپس میں بٹھاکر اختلافات ختم کروائے جاتے تھے۔ وہ بھی روز روز کی اس چکچک سے بیزار تھے اس لیے انکو بھی داعش کی صورت میں ایک مظبوط پلیٹ فارم مل گیا۔

اس ساری صورتحال سے القاعدہ، افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان بالکل بےخبر نہیں تھے اور انہیں نظر آرہا تھا کہ دولت اسلامیہ کے لیے اس خطے میں زمین بہت زرخیز ہے اور یہ تنظیم شائد افغان طالبان کے لیے بہت زیادہ خطرے کا باعث تو نہیں بن سکے مگر القاعدہ اور تحریک طالبان کی بقاء کا مسئلہ ضرور بن جائے گی۔

گو کہ تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دولت اسلامیہ کو ثابت قدم رہنے کامشورہ اور ہرممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروانے کی کوشش کی اور پیغام دیا کہ مسلمانوں کے دشمن متحد ہوچکے ہیں، آپ بھی متحد رہیں، مشکل وقت میں آپ کے ساتھ ہیں۔

امریکی اخبار ’’بلوم برگ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے نامعلوم مقام سے جاری کیے گئے ایک بیان میں عراق اور شام میں سرگرم دولت اسلامیہ اور دوسرے جنگجوؤں سے کہا کہ وہ متحد رہیں ہم اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ ہیں اور جس طرح ممکن ہوا مدد کریں گے۔ انہوں نے داعش اور دوسرے جنگجوؤں سے کہا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور اس مشکل وقت میں متحد اور ثابت قدم رہیں کیونکہ دشمن ان کے خلاف متحد ہوچکے ہیں۔

لیکن وہ کسی طرح بھی نہ تو دولت اسلامیہ کو اپنے اس رسمی بیان سے متاثر کر پائے اور نہ ہی اپنا ساتھ چھوڑ کر داعش میں شامل ہونے والوں کو روک پائے۔

عسکریت پسندوں کے ایک اور گروپ جس نے حال ہی میں پاکستانی طالبان سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا کے سربراہ عمر خراسانی نے بھی 10 منٹ کے ویڈیو پیغام میں دولت اسلامیہ، القاعدہ اور نصرہ فرنٹ کو مدد کی پیشکش کی, لیکن تحریک طلبان پاکستان کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد اور پانچ دیگر طالبان کمانڈرز نے داعش میں شمولیت کا اعلان کردیا۔


مزید پڑھیے: 6 اہم طالبان کمانڈرز داعش میں شامل


بااثر قبائلی محسود گروپ نے 2013 میں پاکستانی طالبان کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ کی امارت ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے گزشتہ ایک سال کے دوران طالبان گروپوں کی آپس کی دشمنیوں کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان کو شدید نقصان پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ ملا فضل اللہ کے امیر بننے کے بعد سے کئی دھڑوں نے علیحدگی کا بھی اعلان کیا ہے۔

حال ہی میں پنجابی طالبان نے بھی اپنی عسکری کارروائیاں بند کرکے تبلیغ کا کام کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اپنے ایک بیان میں شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ وہ داعش کی جانب سےخلیفہ مقرر کیے جانے والے ابو بکر البغدادی کی بیعت کر رہے ہیں اور اب انہی کے احکامات کو مانیں گے۔ شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ یہ بیعت پوری تحریک طالبان پاکستان یا اس کے امیر فضل اللہ کی جانب سے نہیں ہے بلکہ یہ صرف ان کی اور ٹی ٹی پی کے پانچ امراء کی جانب سے ہے۔

بیان میں بتایا گیا کہ داعش میں شمولیت اختیار کرنے والے دیگر پانچ کمانڈرز میں کرم ایجنسی، خیبرایجنسی، اورکزئی ایجنسی، ہنگو اور پشاور کے امیر شامل ہیں۔ بیان کے مطابق ٹی ٹی پی کے امیر فضل اللہ نے خلافت اسلامیہ (داعش ) کی حمایت تو کی ہے لیکن ابھی تک بیعت نہیں کی۔ شام اور عراق کے وسیع حصہ پر قابض تنظیم داعش اب جنوبی ایشیا میں اپنے قدم جمانا چاہتی ہے، جہاں مقامی طالبان پاکستان اور افغان حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ستمبر میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے سابق طالبان کمانڈر عاصم عمر کو اپنی جنوبی ایشیا برانچ کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

داعش اور القاعدہ سے جڑے طالبان کمانڈروں کے درمیان مضبوط اتحاد کے شواہد اتنے واضح نہیں لیکن حال ہی میں داعش کی حمایت میں پشاور میں پمفلٹس بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ہندوستان کے زیر انتطام کشمیر میں جلسوں میں بھی داعش کے جھنڈے نظر آئے۔ تحریک طالبان پاکستان نے عید الضحی کے موقع پر بھی ایک جاری پیغام میں داعش کے مقاصد کی مکمل حمایت ظاہر کی تھی۔

اب اس سلسلے میں ایک نہایت ہی تشویشناک اور اہم خبریہ بھی سامنے آئی ہے جس کے مطابق اب دولت اسلامیہ کراچی میں بھی اپنی سرگرمیاں شروع کرچکی ہے اور اس بابت محکمہ داخلہ سندھ نے اپنی ایک رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان، القاعدہ، لشکرِ جھنگوی اور جنداللہ سمیت دیگر شدت پسندوں تنظیموں کے بعد اب دولت اسلامیہ (داعش) نے بھی کراچی میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں آئی ایس یا داعش کے ناموں سے وال چاکنگ کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی جانب سے یہ وال چاکنگ شہر کے حساس علاقوں میں کی گئیں ہیں، جن میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ، لانڈھی، سہراب گوٹھ، منگھوپیر اور گلشنِ معمار بھی شامل ہے۔اس صورتحال کے بعد محکمہ داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کو تحریری طور پر آگاہ کردیا ہے، جبکہ اس حوالے سے حکمتِ عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کردی گئی ہے۔

جس طرح اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے عراق اور شام میں شیعہ اور کرد برادری کے علاوہ عام سنیوں کو بھی بے دریغ نشانہ بنایا جارہا ہے اور حکومت مخالف تخریبی کارروائیاں کی جارہی ہیں، اس سے پاکستان بھر میں شدید تشویش پائی جارہی ہے کہ اگر داعش نے پاکستان میں بھی اپنی سرگرمیاں شروع کردیں تو پھر کیا ہوگا۔

اس ملک میں پہلے ہی طالبان اور لشکر جھنگوی کے علاوہ درجنوں تنظیمیں ایسی ہیں جو اپنی اپنی پسند اور برانڈ کے اسلام کے نفاذ کے لیے عام اور معصوم لوگوں کا ایک عرصے سے خون بہا رہی ہیں اور ان تنظیموں نے صرف فرقے، مسلک اور مذہب کی بنیاد پر قتل وغارت گری مچا رکھی ہے اور فرقہ ورانہ دہشتگردی عروج پر ہے۔


مزید پڑھیے: ‘ کراچی میں داعش بھی سرگرم ‘


وہاں پر داعش جیسی تنظیم جس نے انبیاء کے مزارات بھی بموں سے اڑا دیے، اگر اپنی طرز کا اسلام نافذ کرنے کے لیے سرگرم ہو جائے تو باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی تقریبآ تمام جہادی تنظیمیں فوراً اس میں شامل ہوجائیں گی اور بالخصوص شیعہ مخالف لشکرجھنگوی، جنداللہ، پنجابی طالبان اور بلوچستان اورایرانی سرحدی پٹی پر سرگرم ایرانی جنداللہ کو تو کھل کر کھیلنے کے لیے ایک بہت بڑی طاقت میسر آجائے گی۔

جس طرح ماضی کے شدت پسند گروہوں کے برعکس، دولتِ اسلامیہ نے خود کو شدت پسند سنی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم کے طور پر پیش کیا ہے جس کا مقصد مسلم دنیا میں قائم مخصوص فرقوں کی حکومتوں کے خلاف لڑنا ہے۔ تمام اقلیتی گروہوں سے نفرت اور خاص طور پر شیعہ مسلمانوں سے نفرت دولتِ اسلامیہ کی گھُٹی میں شامل ہے اور یہی بات طالبان، لشکرِجھنگوی اور دیگر پاکستانی جہادی تنظیموں میں بہت مشترک پائی جاتی ہے۔

اگر پاکستان میں سرگرم مختلف جہادی اور عسکریت پسند گروپوں کی اس نئی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے جس کے تحت بقول ان کے وہ پاکستان میں دہشتگردی سے تائب ہو کر یا تو صرف افغانستان میں جنگ جاری رکھیں گے یا پھر صرف دین کی نشرواشاعت کا کام کریں گے توصاف نظر آتا ہے کہ یہ صرف ان کی ایک حکمت عملی ہے جس میں ایک طرف تو آپریشن ضربِ عضب سے جان چھڑائی جائے، دوسرا فوج کو یہ اشارے دیے جا رہے ہیں کہ اب ہماری دلچسپی پاکستان میں نہیں بلکہ ہماری نئی منزل عراق و شام ہیں۔

لیکن پاکستانی فوج بھی اس ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مرتبہ کسی رعایت کے موڈ میں نہیں ہے اور یہی بہترین حکمت عملی بھی ہے۔ اگر خدانخواسطہ داعش جیسی سفاک اور بے رحم تنظیم نے پاکستان میں جگہ بنالی تو پھر پاکستان میں بھی خدشہ ہے کہ وہ سب کچھ ہو جو اس تنظیم کا خاصہ ہے۔ ’اس قسم کے قاتل صرف ایک زبان سمجھتے ہیں اور وہ طاقت کی زبان ہے۔ پاکستانی فوج ایک بین الاقوامی وسیع اتحاد کے ساتھ مل کر موت اور وحشت کے اس نیٹ ورک کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماضی میں جب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے القاعدہ کی پاکستان میں موجودگی کا انکشاف کیا تھا تو اس وقت ہم اس سے انکاری تھے، لیکن کیا ہوا؟ مختلف وقتوں میں القاعدہ کا ایک سے ایک مضبوط نیٹ ورک پکڑا گیا اور خالد شیخ محمد سے لیکر اُسامہ بن لادن تک سب کی پناہ گاہیں پاکستان سے ہی نکلیں اور اس کے بعد سے اب تک پاکستان کو اس کی ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔

اب ’’داعش‘‘ کے آنے سے بیرونی قوتوں کو پاکستان کی جانب ایک مرتبہ پھر پر انگلیاں اٹھانے کا موقعہ مل جائے گا۔ یوں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر ایک نئی جنگ میں جھونک دیا جائے گا اور شاید ہم اس وقت کسی بھی نئی خانہ جنگی کے متحمل بھی نہیں۔ پاکستان بھر میں ایسےعسکریت پسند گروہ کثرت سے موجود ہیں جو اس ملک کی اپنے خودساختہ نظریے اور سوچ کی بنیاد پر ازسرنو تعمیر کرنے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں اورحاضر وقت جمہوری نظام کو مذہب سے متصادم قرار دیتے ہیں۔

ہر ایسے گروہ کی قیادت کے پاس ایک نئے پاکستان کا نقشہ اور اپنے برانڈ کے نظریے کی تکمیل کی خاطر دل میں بہت کچھ کر گزرنے کی تمنا ہے۔ فرقہ وارانہ شدت پسندی سے جڑے بین الاقوامی معاملات اور عراق و شام کی صورتحال ہر ذی شعور پاکستانی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ عراق اور شام میں فرقہ واریت اور سیاسی عمل کی ناپختگی اور حکومت کی کمزوری نے خانہ جنگی کو ہوا دی اور فرقہ پرست گروہ داعش کو موقع فراہم کیا کہ یہ عراق اور شام کے علاقوں میں قبضہ کر کے اپنے خود ساختہ نظریہ پر سخت گیر سنی اسلامی خلافت کا قیام کرے۔

جب معاملات خرابی کی طرف مائل ہوں تو مذہبی و فرقہ پرست عناصر افواج میں بھی شکست و ریخت کا سبب بنتے ہیں۔ عراقی اور شامی افواج بھی اسی ہیجان کا شکار ہوئیں جہاں فرقہ پرستی عراقی و شامی قومیت پر حاوی ہوئی اور کئی محاذوں پر یہ افواج چند سو لڑاکوں کا مقابلہ کرنے سے بھی قاصر رہیں یا محاذ سے پیچھے ہٹ گئیں۔ اس معاملے پر بھی پاکستان کے حالات قدرے مختلف تو ضرور ہیں لیکن کچھ حد تک تشویشناک بھی ہیں کیونکہ پاکستانی فوج پیشہ وارانہ لحاظ سے دنیا بھر میں مانی بھی جاتی ہے اور اس کی ساکھ بھی متاثرکن ہے لیکن ماضی قریب و بعید میں اہم حساس تنصیبات اور سیکیورٹی اداروں پر کی گئی متعدد دہشت گرد کاروائیوں میں اندرونی ہاتھوں کے ملوث ہونے کے اشارے بھی ملتے رہے ہیں جس کی مثال حالیہ ڈاکیارڈ حملہ میں نیوی کے حاضر سروس اور سابقہ اہلکاروں کا ملوث ہونا اور اسی طرح چند سال پہلے انگوراڈا وزیرستان آپریشن میں ایس ایس جی کے کمانڈر جنرل فیصل علوی کی ہلاکت میں فوج کے سابقہ میجر ہارون عاشق جو کہ القاعدہ کے پاکستانی کمانڈر الیاس کشمیری کے گروپ میں شامل تھے کی گرفتاری ہیں۔

دولت اسلامیہ کو یقینًا القاعدہ کی ہی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑا خطرہ سمجھنا چاہیے اور اسے پسپا کرنے کے لیے ایک زبردست پیشگی حکمت عملی بھی بنانی چاہیے۔ بظاہر حالات ابھی اتنے سنگین نظر نہیں آتے لیکن جس طرح گزشتہ دنوں پاکستانی طالبان اور دیگر جہادی گروپوں نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا ہے وہ یقیناً ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور ہمیں حالات کو قابو کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

لکھاری کاؤنٹر ٹیررازم ایکسپرٹ اور سابق ایس ایس پی، سی آئی ڈی ہیں

http://urdu.dawn.com/news/1011184/24oct2014-daulat-islamiah-ki-nayi-shikargah-pakistan-fayyaz-khan-bm-aq

پاکستان میں ‘پولیو جہاد’ کے ‘شہداء’ کی داستان
ڈان اردو اور اے ایف پی تاریخ اشاعت 24 اکتوبر 2014

544a078312d57

بڈھ بیر: نادیہ خان کے پاس اپنی مرحوم بہن سنبل کی دو یادگار تصاویر ہیں۔
ایک تصویر میں وہ اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہی ہیں، جبکہ دوسری تصویر میں وہ کسی تاثر کے بغیر چہرے کے ساتھ زندگی کی رمق سے محروم ہیں۔
سنبل وہ ‘شہید’ ہیں جنہیں پولیو کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر شدت پسندوں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔
یہ مئی 2013ء کی بات ہے جب سنبل اپنی دوست شرافت کے ہمراہ پاکستان کے شمال مغربی صوبے کے ایک گاؤں بڈھ پیر کے معصوم بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچاؤ کے لیے ویکسین پلا رہی تھیں۔
اچانک ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان پر فائر کھول دیا، جس کے نتیجے میں شرافت موقع پر ہلاک ہوگئیں جبکہ اٹھارہ سالہ سنبل کوما میں چلی گئیں۔
وہ دس دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بالآخر جان کی بازی ہار گئیں۔
آج چوبیس اکتوبر بروز جمعہ اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ ‘پولیو ڈے’ پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے نادیہ نے وہ لمحات شیئر کیے جب اس کی بہن نے ہسپتال کے بیڈ پر اس کے سامنے آخری سانسیں لی تھیں۔
نادیہ نے بتایا کہ ‘اس نے کوئی بھی بات نہیں کی، ہماری خواہش تھی کہ ہم وفات سے قبل کم از کم اس کی آواز سن لیں، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔’
سنبل کی طرح نادیہ بھی پولیو مہم میں حصہ لیتی تھیں، لیکن اس واقعے کے بعد ان کے والدین نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔
نادیہ کے مطابق ‘میں نے اپنے والدین سے کہا کہ میں اپنی بہن کا مشن اُس وقت تک جاری رکھوں گی، جب تک وہ مکمل نہیں ہو جاتا۔’
دہشت گردی کا نشانہ بننے والی شرافت کی کچھ عرصہ بعد شادی ہو نے والی تھی اور وہ پولیو مہم میں حصہ لے کر اپنے جہیز کے لیے رقم جمع کر رہی تھی۔
شرافت کی والدہ گل خوبانہ نے بتایا کہ ‘میں نے اُسے اس دن جانے سے منع کیا تھا، تاہم اُس نے کہا کہ آج میرا آخری دن ہے، اس کے بعد میں یہ ملازمت چھوڑ دوں گی اور مزید کام نہیں کروں گی۔’
شرافت کے بعد اس کے بھائی بلال کو اس کی جگہ ملازمت دے دی گئی اور اب بلال اپنی بہن کی جگہ ‘پولیو کے خلاف جہاد’ میں مصروف ہے۔
پاکستان، افغانستان اور نائجیریا کے ہمراہ ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔
اور اس مرض پر قابو پانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سنبل جیسے پولیو رضاکاروں پر حملہ کر کے سبوتاژ کرنے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
طالبان کا مؤقف ہے کہ پولیو مہم اسلامی نظام کے خلاف ہے، لہٰذا جو بھی اس مہم کا حصہ بنے گا، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
________________________________________
مزید پڑھیں: باجوڑ ایجنسی میں طالبان کی پولیو ورکز کو دھمکیاں
________________________________________
اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں یونیسف ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ 2000ء میں پاکستان نے ملک سے پولیو کے خاتمے کا عزم کیا اور انسدادِ پولیو مہم کے باعث 2005ء میں پولیو کے محض 28 کیسز رپورٹ ہوئے۔
تاہم 2008 کے بعد ملک میں پولیو کی شرح بڑھتی چلی گئی اور اب 2014ء میں ملک میں پولیو کے 210 کیسز ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جو پوری دنیا میں ریکارڈ کیے جانے والے پولیو کیسز کا اسّی فیصد ہیں۔
________________________________________
مزید پڑھیں: پولیو کے 80 فیصد کیسز کا ذمہ دار پاکستان ہے، عالمی ادارۂ صحت
________________________________________
دسمبر 2012ء سے لے کر اب تک تقریباً 30 پولیو رضاکاروں کو پاکستان میں قتل کیا جاچکا ہے، جبکہ پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور 30 اہلکار بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس سلسلے میں کافی پیش رفت دکھائی ہے، تاہم ابھی پولیو کے خاتمے کے لے مزید جدوجہد کرنی پڑے گی۔
خیال رہے کہ پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز اور صورتحال کے پیشِ نظر رواں سال مئی میں عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان سے بیرون ممالک جانے والے مسافروں پر پولیو ویکسین کا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کردی تھی۔
)بشکریہ ڈان اردو)
http://urdu.dawn.com/news/1011380

مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا
اداریہ             18 اپریل 2014
کالعدم تحریک طالبان نے عارضی جنگ بندی میں مزید توسیع سے انکار کردیا ہے، تاہم اعلان کیا ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا،طالبان کے ترجمان نے اپنا یہ الزام دہرایا کہ حکومت سنجیدہ نہیں اور ہمارے خلاف آپریشن ”روٹ آﺅٹ“ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود حکومت کو جنگ بندی کا ”تحفہ“ دیا تھا، لیکن حکومت نے مناسب جواب نہیں دیا۔چالیس روزہ جنگ بندی کے دوران ہمارے خلاف 25سے زائد آپریشن کئے گئے، ہمارے پچاس سے زائد زیرحراست ساتھی مارے گئے اور 200سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کو آگاہ کردیا حکومت نے سنجیدہ کوشش کی تو ہم بھی مناسب جواب دیں گے۔
طالبان سے مذاکراتی عمل اگرچہ کئی ماہ پہلے شروع ہوگیا تھا، لیکن یہ بہت ہی سست رفتاری سے جاری ہے، اس دوران ایک اچھی بات یہ ہوئی تھی کہ طالبان نے ایک ماہ کے لئے جنگ بندی کر دی۔پھر اس میں دس دن کی توسیع کر دی اب یہ مدت ختم ہوئی ہے تو اس میں اضافہ نہیں کیا گیا اور طالبان نے پہلے کی طرح حکومت پر کچھ الزامات لگا دئے ہیں، ان الزامات کا جواب تو حکومت کے ذمے ہے یا پھر حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اس کا جواب دے سکتی ہے کہ الزامات میں کتنی صداقت ہے، لیکن جو بات ہر کوئی محسوس کررہا ہے وہ یہ ہے کہ مذاکراتی عمل کی رفتار وہ نہیں جو ہونی چاہیے، اگرچہ اس طرح کے مذاکرات میں ایسی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے، مذاکرات شروع ہوتے ہیں، تعطل آتا ہے کبھی ڈیڈ لاک ہو جاتا ہے تو پھر اچانک پتا چلتا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے، ان مذاکرات میں تو یہ اطلاعات بھی آتی رہیں کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس معاملے میں باہم متفق نہیں، گویا یہ خیال بھی کیا جاسکتا ہے کہ مذاکرات شاید اس وجہ سے آگے نہیں بڑھ رہے۔
اس وقت عملاً یہ صورت حال ہے کہ کچھ حلقے مذاکرات کے لئے پرجوش ہیں، بعض دوسرے حلقے اس مشق کو بیکار تصور کرتے ہیں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 4اپریل کو گڑھی خدا بخش میں اپنے پُرجوش خطاب میں مذاکرات پر یوں تبصرہ کیا تھا کہ آنکھوں والے اندھوں سے راستہ پوچھ رہے ہیں، اس انداز کے رواں تبصرے مختلف چینلوں پر بھی ہوتے ہیں۔اب طالبان نے مذاکرات تو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، لیکن جنگ بندی ختم کردی ہے، کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ اب دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ پہلے کی طرح شروع ہو سکتا ہے؟ اگرچہ یہ سلسلہ پوری طرح تو کبھی بند نہیں ہوا، جنگ بندی کے دوران ہی اسلام آباد کچہری میں دہشت گردی ہو گئی، بلوچستان میں بھی یہ سلسلہ رک نہیں سکا، اسلام آباد ہی میں چند روز پہلے سبزی اور پھل منڈی میں امرودوں کی پیٹی میں بارود پھٹ گیا، جس سے وسیع جانی نقصان ہوا، کہا جاتا ہے کہ یہ پیٹی جنوبی پنجاب سے آئی تھی اس علاقے کے متعلق ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ وہاں اسلحے کے ڈھیر جمع کئے جا رہے ہیں۔
ایسے مذاکرات کے دوران فریقین کی طرف سے نئی نئی تجاویز آتی رہتی ہیں، دباﺅ ڈالنے کے حربے بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔کیا یہ بھی کوئی ایسا ہی حربہ ہے؟ طالبان کے دوگروہوں میں ہفتہ عشرہ قبل اندرونی لڑائی بھی ہوتی رہی، اگر یہ اختلافات کا شاخسانہ تھی تو کیا طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات کو دبانے کے لئے جنگ بندی ختم کی گئی ہے؟خدشہ یہ تھا کہ تنظیم تقسیم ہو جائے گی اس لئے ممکن ہے تنظیم کو بچانے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہو، طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے کہا ہے کہ کئی حلقوں کی طرف سے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ درست ہے کہ جو حلقے مذاکرات کو پسند نہیں کرتے، وہ اسے ناکام بنانے کی کوشش تو کریں گے، لیکن جو فریق مذاکرات میں مصروف ہیں یہ تو ان کی بصیرت کا امتحان ہے کہ وہ ایسی کوششوں کو کامیاب نہ ہونے دیں اور تیزی سے مذاکرات کا سلسلہ مکمل کرکے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں اور بلاوجہ اس عمل کو طول نہ دیں نہ باہمی الزام تراشیاں کریں، طویل ہونے کی وجہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تو فریقین کا ہی نقصان ہوگا۔
پاکستان کے عوام گزشتہ دس بارہ سال سے دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، بے گناہ اور قیمتی جانیں اس عفریت کی نذر ہو چکی ہیں، معیشت کو 100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔نئی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ان حالات میں ضرورت تو اس امر کی تھی کہ فریقین تدبر کا ثبوت دیتے اور مذاکرات کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھاتے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا، چودھری نثار علی خان نے تو ہمیشہ رجائیت پسندی کا اظہار کیا لیکن تشکیک کے سائے بھی پھیلتے رہے، اب اگر خدانخواستہ دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا تو امکان یہی ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ بھی رُک جائے گا۔
مذاکرات صرف پاکستانی حکومت اورمعاشرے کی ہی ضرورت نہیں ملک کا ہر فرد و بشر اس بات کا خواہش مند ہے کہ ملک میں امن و امان ہو اور ہر کوئی امن کی فضا میں سانس لے، امن طالبان کی بھی ضرورت ہے، گولہ بارود کی بومیں ہمیشہ کے لئے زندگی نہیں گزاری جا سکتی، ایک وقت ایسا آ جاتا ہے جب اس ماحول میں دم گھٹنے لگتا ہے۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاکرات کو کھیل نہ سمجھا جائے کہ جب جی چاہا شروع کرلیا اور جب جی چاہا روک دیا، مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانا ضروری ہے اور یہ نتیجہ امن کے حق میں نکلنا چاہیے۔شریعت کا نفاذ بھی پُرامن ماحول میں ہی ممکن ہے،قتل و استہلاک کی فضا میں کوئی شریعت نافذ ہو سکتی ہے نہ اس پر عمل ہو سکتا ہے اور نہ یہ اسلام کا مطلوب و مقصود ہے۔طالبان اگر واقعی شریعت چاہتے ہیں تو اس کے لئے معروف طریقے سے جدوجہد کریں، مسلح جدوجہد آج تک نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے اور نہ آئندہ ہونے کا امکان ہے۔شریعت کے نفاذ کے لئے پہلے افراد کی ذہنی تربیت ضروری ہے، یہ کوئی محلول نہیں جو انسانوں کو پلا کر انہیں شریعت کا پابند کیا جا سکے۔نفاذ شریعت کے لئے وہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا جو رسول خدا اور آپ کے صحابہ کرامؓ اور بعد میں آنے والے ہمارے اسلاف نے اختیار کیا۔شریعت کسی کی خواہش کے تابع نہیں، بلکہ انسانوں کو اپنے تابع بناتی ہے۔یہ محض خام خیالی ہے کہ بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اور کوچہ و بازار میں لاشوں کے ڈھیر لگا کر شریعت نافذ کی جا سکتی ہے۔
عوام حکومت سے امن کی امید رکھتے ہیں، امن و امان قائم رکھنے کے لئے سارے ضروری وسائل حکومت کے پاس ہیں،سیکیورٹی ادارے حکومت کے ہیں، ریاست کا بنیادی فرض ہی اپنے شہریوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت ہوتا ہے۔پاکستان کے شہری اپنی حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ انہیں امن دے گی، یہ جس ذریعے سے بھی حاصل ہو۔وہ اختیار کرنا چاہے۔اب اگر طالبان نے جنگ بندی ختم کردی ہے تو حکومت اور اس کے اداروں کو بھی چوکنا اور ہوشیار ہو جانا چاہیے۔دہشت گردی کے سلسلے کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنا ضروری ہے۔خواہ اس کے لئے مذاکرات جاری رکھے جائیں یا پھر دوسرے متبادل طریقے اختیار کئے جائیں، امن پہلی ترجیح ہے اور امن صرف حکومت ہی فراہم کر سکتی ہے۔

بشکریہ ڈیلی پاکستان ۔ لاہور )
http://www.dailypakistan.com.pk/editorials/18-Apr-2014/93929

خفیہ ہاتھ بے نقاب کریں

اداریہ      ڈیلی جنگ

طالبان کی جانب سے سیزفائر کے اعلان کے بعد عوام نے سکھ کا سانس لیا تھا اور توقع پیدا ہوئی تھی کہ ملک امن و سکون کی طرف لوٹ آئے گا لیکن حکومت طالبان مذاکراتی عمل کے دوران پہلے پشاور، اسلام آباد کچہری، جعفرایکسپریس اور اب اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکوں اور ان میں ایک سو سے زائد انسانی جانوں کے اتلاف نے نہ صرف سکیورٹی اداروں کی اہلیت بلکہ امن مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں بھی کئی پریشان کن سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ بدھ کو سبزی منڈی اسلام آباد میں امرود کی پیٹیوں کی نیلامی ہورہی تھی کہ ان میں رکھا گیا 5کلو وزنی بارود کا دھماکہ ہوا جس سے 24افراد جاں بحق اور 116زخمی ہوگئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسی طرح کا ایک دلگداز سانحہ ستمبر 2000میں بھی اس وقت پیش آیا تھا جب یہاں ٹرکوں سے انگور کی پیٹیاں اتاری جا رہی تھیں اور ایک پیٹی میں رکھا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 35غریب مزدور اور خریدار جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سکیورٹی ایجنسیاں اس واقعے کے بعد سبزیوں اور پھلوں میں چھپائے ہوئے بارودی مواد کے ذریعے انسانی جانیں لینے کا کھیل ناممکن بنا دیتیں مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں اور چودہ سال بعد پھر اسی طرح کا حادثہ رونما ہوگیا۔ دھماکہ کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سبزی منڈی میں روزانہ تین سو سے زائد گاڑیاں آتی ہیں، ان میں سے ہرایک کو چیک کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ سابق حکومت نے ایک ارب روپے کے سکینر منگوائے تھے لیکن ان میں بارودی مواد کا پتہ چلانے کی صلاحیت ہی نہیں۔ اگر یہ بات درست ہے اور وزیر داخلہ اس کی تصدیق کرتے ہیں تو یہ سکیورٹی ایجنسیوں کے علاوہ حکومت کی نااہلی کا بھی ثبوت ہے اور سابق وزیر داخلہ رحمن ملک کا یہ مطالبہ صحیح ہے کہ اس کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا یہ سوال توجہ کے لائق ہے کہ دھماکے طالبان نہیں کررہے تو پھر ان میں کون ملوث ہے؟ یہ سوال ہرپاکستانی کے ذہن کو الجھا رہا ہے۔ سبزی منڈی اسلام آباد کے دھماکے کی ذمہ داری یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے قبول کی ہے جسے وزارت داخلہ کے ترجمان نے مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس کی کڑیاں کہیں اور جاکر ملتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی گروپ کا نام لینے سے گریز کیا۔ اس سلسلے میں کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان کا بیان قابل غور ہے، جنہوں نے سبزی منڈی اسلام آباد اور جعفرایکسپریس کے دھماکوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طالبان جنگ بندی کے اعلان پر قائم ہیں۔ انہوں نے پہلی بار یہ فقہی موقف بھی بیان کیا کہ بے گناہ افراد کو مارنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ ان کے اس تازہ موقف کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لئے پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ بم دھماکوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کے پیچھے کارفرما خفیہ ہاتھ بے نقاب کریں۔ کیا ان بے رحمانہ واقعات میں طالبان کا کوئی منحرف گروہ ملوث ہے؟ کیا ان میں کسی غیرملکی طاقت کا ہاتھ ہے؟ یا یہ کسی تیسرے فریق کی کارستانی ہے جو حکومت طالبان مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے؟ اس حوالے سے یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر حکومت اورطالبان میںکسی امن معاہدہ پر اتفاق ہوجاتا ہے تواس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس کے بعد دھماکے نہیں ہوںگے؟ اب تک تو دہشت گردی کی ہر کارروائی طالبان کے کھاتے میں ڈالی جاتی تھی اور ان میں سے بیشتر کی ذمہ داری وہ قبول بھی کرتے تھے۔ مگر امن معاہدے کے بعد بھی یہ کارروائیاں جاری رہیں تو متاثرین کریں گے دعویٰ کس پر؟ جنداللہ پر، احرارالہند پر یا کسی بلوچ عسکری تنظیم پر، خفیہ ایجنسیوں کی توجہ زیادہ تر طالبان پر مرکوز رہی ہے۔ انہیں پہلے نہیں تو لمحہ موجود سے چاروں طرف نظریں دوڑا کر پاکستان کے دشمنوں کا کھوج لگانا ہوگا۔ کسی خاص فریق کی بجائے اپنی سراغرسانی اور تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع کرکے اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا تاکہ ملک خوف اور دہشت سے آزاد ہوکر تعمیرو ترقی کے سفر پر گامزن ہوسکے۔

بشکریہ جنگ
http://beta.jang.com.pk/PrintAkb.aspx?ID=189042

علی گیلانی، شہباز تاثیر بازیابی، طالبان نے موجودگی سے انکار کر دیا

09 اپریل 2014
تجزیہ، چودھری خادم حسین
یہ امر پہلے ہی سے واضح کیا کہ شدت پسندوں سے مذاکرات پیچیدہ عمل ہے اور اس میں کئی مقام آئیں گے جب بات بنتے بنتے ٹوٹے گی اور ٹوٹتے ٹوٹتے جڑے گی، اب بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ دو معاملوں میں شور ہے اور انہی پر کالعدم تحریک طالبان نے اپنا انداز اختیار کر کے نیا تنازعہ پیدا کر دیا ، جبکہ وزیرستان میں خود ان کی صفوں کے اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے یہ کہہ کر مخدوم سید یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے صاحبزادگان ان کے پاس نہیں ہیں، نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ابھی دو روز قبل سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ ان دونوں صاحبزادگان کو طالبان کی حراست سے رہا کیا جائے اس قرار داد میں ڈاکٹر اجمل کا نام بھی درج کیا گیا کہ کہا جاتا ہے کہ ایسا توازن پیدا کرنے کی غرض سے کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کی طرف سے دونوں صاحبزادوں کے بارے میں کیوں انکار کیا گیا، کچھ عرصہ پہلے تک یہ نہیں بتایا گیا تھا بلکہ ابھی ایک روز قبل پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا رویہ حیدر گیلانی اور شہباز تاثیر کی رہائی میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے اس کے بعد ہی شاہد اللہ شاہد کا بیان سامنے آیا ہے شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان کی مجلس شوریٰ کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں حکومتی رویے اور اعلانات پر غور کیا گیا اور کہا گیا کہ اب مزید فائر بندی تحریک کے مطالبات کی منظوری سے مشروط ہے کہ حکومت جن زیر حراست حضرات کی رہائی کا پراپیگنڈہ کر رہی ہے ان کا تعلق ان کی تنظیم سے نہیں اور نہ ہی وہ اس فہرست میں شامل ہیں جو تحریک کی طرف سے دی گئی۔ ایسے میں رستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ دونوں طرف سے ان زیر حراست حضرات کا تبادلہ ہو گا جو بے ضرر ہیں، لیکن کب ہو گا اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جا رہی۔ اب آثار یہ بتاتے ہیں کہ اگلے دو تین روز میں جب براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور ہو گا تو وہ زیادہ مشکل ہو گا، کیونکہ تحفظات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ امر یقیناًفریقین کے بھی سامنے ہو گا اور اس ملاقات سے یہ پتہ چل جائے گا کہ امن کی خواہش کتنی اور کس کو ہے اور کیا کالعدم تحریک طالبان مذاکرات اور مفاہمت میں یقین رکھتی ہے یا یہ سب حکمت عملی ہے کہ مذاکرات میں اُلجھا کر وقت حاصل کیا جا سکے۔ بہرحال جلد ہی حتمی بات سامنے آ جائے گی۔
جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو اسے اور بھی زیادہ خبردار رہنا ہو گا کہ حال ہی میں جو تنازعہ پیدا کرنے کی بات سامنے آئی وہ کسی طور پرمناسب نہیں۔ کچھ بھی ہو، سیاسی اور عسکری قیادت کو دہشت گردی اور دفاع جیسے امور میں ایک ہی سوچ پر ہونا چاہئے۔ ہم اس تاثر یا بحث میں شریک نہیں ہونا چاہتے، حالانکہ اس حوالے سے کئی اہم باتیں ہم تک بھی پہنچی ہیں۔ ہمارے نزدیک ملک اور اس کی سلامتی لازم ہے۔
ایک اور اہم بات خود جنوبی وزیرستان میں موجود طالبان کے گروہوں کی چپقلش ہے یہ دبی ہوئی تھی اور بظاہر ان کی صفوں میں اتحاد نظر آتا تھا، لیکن حال ہی میں حکیم اللہ محسود گروپ اور سجنا گروپ میں ہونے والے خونیں تصادم نے یہ آشکار کر دیا ہے کہ اختلاف دبائے گئے تھے، ختم نہیں ہوئے۔ شاید اسی لئے کہا جا رہا تھا کہ صلح کے حامی اور جنگجو الگ الگ کئے جائیں تاکہ وسیع تر مفاد میں وسیع مفاہمت ہو اور جو شرارت سے باز نہ آئیں ان کا محاسبہ کیا جائے۔ یہ لڑائی ان کی اپنے اندر کی ہے، لیکن یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے اندر بھی سب اچھا نہیں ہے۔
اس صورت حال میں یہ بات طے شدہ تھی کہ اہم قومی امور میں مفاہمت اور مشاورت کا عمل جاری رہے گا، لیکن قومی اسمبلی میں تحفظ پاکستان کے بل پر جو ہوا وہ اچھا منظر نہیں۔ اس قانون کا تعلق بھی تو دہشت گردی سے ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک نے ایسے سخت قوانین بنائے ہیں۔ یہاں بھی بن اور نافذ ہو سکتا ہے، لیکن مشاورت بہتر عمل تھا، اس میں حرج ہی کیا تھا کہ اگر مجلس قائمہ مزید ایک دو اجلاس منعقد کر کے اتفاق رائے حاصل کر لیتی۔ اب بہرحال حتمی منظوری کا مرحلہ تو طویل ہو جائے گا کہ سینیٹ میں حکومت یوں من مانی نہیں کر سکے گی۔ اگر سینیٹ میں منظور نہ ہوا تو پھر؟
اس عمل سے جو قومی اسمبلی میں ہوا قومی مفاہمت کو نقصان پہنچا اس سے سیاست، سیاست دانوں اور جمہوریت کو نقصان پہنچا ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے۔
)بشکریہ ڈیلی پاکستان۔لاہور)
http://www.dailypakistan.com.pk/columns/09-Apr-2014/90908

طالبان، حکومت مذاکرات میں پیش رفت

ایڈیٹوریل         اتوار 6 اپريل 2014
حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد کی فضا بہتر ہونا شروع ہوگئی اور امن کی جانب تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے طالبان کے پیش کیے گئے مطالبات میں سے ایک مطالبہ غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کا تسلیم کر لیا گیا ہے اور حکومت نے مزید 13 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کر کے مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے ماحول مزید ساز گار بنا دیا ہے جب کہ 19 غیر عسکری قیدیوں کو وہ پہلے ہی رہا کر چکی ہے۔ اس طرح حکومت کی جانب سے آئین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے طالبان کے مطالبات تسلیم کرنے کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ حکومتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس بات پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے کہ فہرست میں موجود جن قیدیوں کے خلاف ثبوت موجود نہیں انھیں مرحلہ وار رہا کر دیا جائے گا۔
قیدیوں کی رہائی کے اس حکومتی مثبت اقدام کے جواب میں طالبان نے ابھی تک غیر عسکری قیدیوں کو رہا نہیں کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیر صدارت ہفتہ کو حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طالبان شوریٰ کے ساتھ آیندہ ہفتے براہ راست مذاکرات کا دوسرا رائونڈ ہوگا۔ حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ طالبان شوریٰ نے ایسی جگہ کا مطالبہ کیا تھا جہاں ان کے لیے آنا جانا آسان ہو اور حکومت نے ایسی جگہ کا انتخاب کر لیا ہے جہاں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کو آنے جانے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی‘ ایسی جگہ مذاکرات کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔
چوہدری نثار علی کا یہ مطالبہ بالکل صائب ہے کہ جب حکومت نے طالبان کے 19 قیدی رہا کر دیے ہیں اور مزید 13 قیدی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو جواب میں طالبان کو بھی بے گناہ اور غیر عسکری قیدیوں کو چھوڑ دینا چاہیے۔ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اب طالبان کو بھی حکومتی مطالبے پر غیر عسکری قیدیوں کو رہا کر کے مثبت پیغام دینا چاہیے تاکہ اعتماد کی فضا جو قائم ہو چکی ہے وہ برقرار رہے۔اس وقت جماعت اسلامی‘ تحریک انصاف سمیت بعض مذہبی و سیاسی جماعتیں حکومت کے طالبان سے مذاکرات کی حامی ہیں اور اس امر کی خواہاں ہے کہ حکومت امن کے لیے آپریشن کا رستہ اپنانے کے لیے بجائے مذاکرات کا رستہ اپنائے جب کہ پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم اور کچھ مذہبی و سیاسی جماعتیں مذاکرات کی مخالفت کر رہی ہیں۔
چوہدری نثار علی نے مذاکرات پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ گزشتہ دنوں کو دیکھیں کہ کتنی جانیں بچی ہیں‘ دھماکوں میں کتنی کمی آئی‘ مذاکراتی عمل سے پاکستان میں امن آئے گا‘ امن لانا مشکل کام ہے‘ فوجی آپریشن کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جذبات میں آ کر معاملات بگاڑنا نہایت آسان ہے اور حکمت و دانائی سے کام لے کر امن لانا اور اس کا قیام یقینی بنانا سب سے مشکل امر ہے۔ اب تک طالبان سے ہونے والے مذاکرات اور مابعد مرتب ہونے والے اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ حکومت قیام امن کے لیے درست پالیسی پر چل رہی ہے جو لوگ اس وقت اس مذاکراتی عمل کو تنقید کی نظر سے دیکھ رہے ہیں‘ ان کا اپنا نقطہ نظر ہے اور جمہوریت کا حسن ہی اختلاف رائے کو تحمل سے برداشت کرنا ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کر دیا ہے کہ قیام امن کے لیے پاکستان کے آئین اور قانون کے اندر رہ کر مذاکرات کریں گے۔
حکومت یہ کئی بار وضاحت کر چکی ہے کہ وہ طالبان کا آئین سے ماورا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کرے گی۔ طالبان کو بھی حکومت سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے جس سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہو اور مذاکرات کے جاری عمل میں رکاوٹ پیدا ہو۔ حکومت اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور مصائب و مسائل کے اس گرداب سے نکلنے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس سے اس کی راہ میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو جائیں۔ گزشتہ چند برس سے جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان سے نکلنے کے لیے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔
مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا ہو گئی ہے‘ اصل مذاکرات ابھی شروع ہی نہیں ہوئے تاہم مذاکرات کی گاڑی چل پڑی ہے۔ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں حکومت کے خیرسگالی اقدامات کا اہم کردار ہے جس کے باعث دونوں اطراف مذاکرات کے لیے ساز گار فضا بن چکی ہے‘ طالبان نے جنگ بندی میں 10 اپریل تک توسیع کر کے مثبت پیغام دیا ہے تاہم مولانا سمیع الحق نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جنگ بندی میں مزید توسیع ہو گی‘ دونوں طرف سے مستقل جنگ بندی کے لیے ناگزیر ہے کہ معاملات کو جلد از جلد حل کیا جائے۔ جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی معاملات کے بگڑنے اور مسائل کے پیدا ہونے کے خدشات موجود رہیں گے کیونکہ مذاکرات کی مخالفت کرنے والی قوتیں بھی طاقتور ہیں اور وہ قیام امن کے لیے آپریشن کا راستہ اپنانا چاہتی ہیں۔
اب طالبان پر بھی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ حکومت کے مطالبے کو مانتے ہوئے غیر عسکری قیدیوں کو فی الفور رہا کرے تاکہ ان کی طرف سے بھی یہ پیغام ملے کہ وہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے عمل میں گومگو کی کیفیت ابھی تک موجود ہے اور صورت حال مکمل طور پر واضح نہیں ہو رہی۔ حکومت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے اس گومگو کی کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ طالبان کی طرف سے واضح اور اصل نکات سامنے آئیں‘ حکومت بھی واضح نکات کے ساتھ جائے گی۔
موجودہ صورت حال سے نمٹنا آسان نہیں‘ اس میں موجود الجھائو اور پیچیدگی گزشتہ کئی سال کے بگاڑ کا نتیجہ ہے‘ اسی لیے حکومت کوئی جذباتی قدم اٹھانے کے بجائے صبر و تحمل اور زیرکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ امید ہے کہ حکومت اور طالبان دونوں سنجیدگی سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ملک ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکے۔
(بشکریہ ڈیلی ایکپریس)
http://www.express.pk/story/242969/

طالبان مذاکرات: تاخیر کسی کے مفاد میں نہیں

اداریہ جنگ

حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ تو اس وجہ سے قدرے طویل ہو گیا تھاکہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں بعض اندیشوں اور وسوسوں کا شکار تھے اور انہیں کچھ معاملات پر ایک دوسرے سے وضاحتیں اور یقین دہانیاں درکار تھیں۔ مگر رابطہ کمیٹیوں کا کام مکمل ہوجانے کے بعد براہ راست بات چیت اس تیزی سے آگے نہیں بڑھی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس سست روی کے باعث ایک طرف طالبان کی جانب سے ایک ماہ کی فائر بندی کی مدت ختم ہو گئی تو دوسری طرف مذاکرات میں تحفظات کے ساتھ شریک ہونے والے بعض کمانڈروں کو شکایات کا دفتر کھولنے کا موقع مل گیا۔ طالبان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایک ماہ میں انہوں نے ایک بھی گولی نہیں چلائی جبکہ حکومت نے بمباری بند کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ماہ میں ہمارے 50کارکن گرفتار کر لئے گئے اور 15 کی لاشیں دی گئیں۔ بعض بڑی سیاسی پارٹیاں مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہی ہیں اور سندھ میں آپریشن کا رخ طالبان کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ شوریٰ کے اجلاس میں طالبان کا یہ موقف اور فائر بندی میں توسیع سے گریز اس عمومی تاثر کے منافی ہے جو وزیر اعظم نواز شریف،وزیر داخلہ حکومتی و طالبان مذاکرات کاروں اور خود طالبان ترجمان کے حوصلہ افزا بیانات سے پیدا ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے دو روز پہلے ہی کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات تیزی سے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے یہ بیان یقیناًپس پردہ ہونے والی سرگرمیوں اور ان کوششوں کی بنیاد پر دیا ہو گا جو اس سلسلے میں شمالی وزیرستان پشاور اور اسلام آباد میں ہو رہی ہیں۔اسکی تصدیق طالبان کے نمائندوں مولانا سمیع الحق اور پروفیسر ابراہیم کے بیانات سے بھی ہوتی ہے جن میں اس توقع کا اظہار کیا جا رہا ہےکہ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع میں کوئی امر مانع نہیں۔ طالبان ترجمان نے بھی مذاکراتی عمل میں کسی پیچیدگی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ اس سے پتہ چلتا تھا کہ سب کچھ فریقین کے درمیان افہام و تفہیم سے ہو رہا ہے۔ اسی بنا پرقوم وزیر اعظم کی جانب سے امن کی خوشخبری سننے کی منتظر تھی۔ مگر طالبان شوریٰ نے یہ کہہ کرکہ حکومت نے اسکے مطالبات کے حوالےسے کچھ نہیں کیا۔ اسلئے جنگ بندی جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے، معاملے کو ایک بارپھر الجھا دیا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے اب تک جو حقائق سامنے آئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ان کی کامیابی کیلئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ دہشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر بمباری روکنا بھی اس کی نیک نیتی کا ثبوت ہے۔ جہاں تک طالبان کے مطالبات کا تعلق ہےتو ابھی ان کے قابل قبول ہونے پر بات چیت مکمل ہی نہیں ہوئی اسلئے ان پر عملدرآمد نہ ہونے کا اعتراض ناقابل فہم ہے۔ طالبان یہ بھی کہتے ہیں کہ سیز فائر کے دوران انہوں نے ایک گولی بھی نہیں چلائی۔ اس دعوے کو پشاور اسلام آباد اور دوسرے مقامات پر ہونیوالے خودکش حملوں اور دھماکوں کے پس منظر میں پرکھا جائے تو ان کی حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن جب مذاکرات جاری ہوں اور انکے نتیجہ خیز ہونے کی پوری امید ہو تو اس طرح کی بدگمانیوں سے حتی المقدوربچنا چاہئے اور انہیں مذاکرات کی میز تک محدود رکھنا چاہئے جو تمام شکوے اور شکایات بیان اور رفع کرنے کی اصل جگہ ہے۔ حکومت اور طالبان کے مذاکرات کو ساری دنیا نے سراہا ہے کیونکہ اس سے ملک میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کی راہ کھلے گی۔ اس سمت میں فریقین کو نیک نیتی کے جذبے اور کھلے دل سے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ مذاکراتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ ممکن ہو تو مذاکرات روز مرہ بنیادوں پر ہونے چاہئیں اور انہیں جلد کسی نتیجے تک پہنچانا چاہئے۔ تاخیر اور سست روی سے غلط فہمیاں اوربدگمانیاں جنم لیتی رہیں گی۔ جو مذاکرات کی روح کے منافی ہیں۔ فریقین کو مثبت نتائج کیلئے بات چیت کوجلد پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے۔اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ بعض اندرونی اور بیرونی قوتیں اپنے منفی مقاصد کی خاطر حکومت طالبان مذاکرات کو ناکام بنانے کیلئے کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ فریقین کو ان کے عزائم سے خبردار رہنا چاہئے۔(بشکریہ جنگ
http://beta.jang.com.pk/PrintAkb.aspx?ID=186355

بے معنیٰ جنگ بندی

ڈان اخبارتاریخ اشاعت 17 مارچ, 2014 اداریہ

اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ ۔۔۔ یہ تمام شہر کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد حملوں کی زد میں آئے اور ان سب کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کرنے والے نام نہاد گروہ احرارالہند نے قبول کی۔ اور اس کے بعد بھی، حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان معمول کے مطابق مذاکراتی عمل جاری و ساری ہے۔ یہاں سوالوں کے دو علیحدہ علیحدہ مجموعے ہیں جو پاکستان مسلم لیگ ۔ نون اور ٹی ٹی پی کو مخاطب کرتے ہیں۔

شروعات کرتے ہیں ٹی ٹی پی سے۔ اگر حملے علیحدہ ہونے والے ایک ایسے گروہ نے کیے جو قومی رسائی کا حامل ہے، تو پھر یہ خیال اس لیے نامعقول ہے کہ احرارالہند نے جتنے حملوں کی ذمہ داری قبول کی، ان میں طریقہ کار اور انداز وہی تھا جو ٹی ٹی پی کا طرّہ امتیاز ہے، لہٰذا بنا کسی ثبوت کے، کس طرح ان حملوں پر ٹی ٹی پی کے اعلانِ لاتعلقی کو قبول کرلیں؟

یہ پیش نظر رہے کہ کم از کم ٹی ٹی پی اس بات سے انکاری نہیں ہے کہ آج جو عناصر احرارالہند کی تشکیل کرتے ہیں وہ کبھی اس کے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ یہ عسکریت پسند گروہ اس حیثیت میں ہے کہ واضح کرسکے کہ یہ کون سا گروہ ہے، یہ کس طرح کارروائیاں کرتا ہے اور اس کے ارکان کہاں کہاں ہیں؟

عسکریت پسندوں کی یہ ایک ایسی دھندلی دنیا ہے کہ جہاں تمام گروہ اور ان کے طریقہ کار، ریشم کی دوڑ میں بُنے دھاگوں کی مانند ایک دوسرے میں پیوست ہیں اور ان تمام کے درمیان باقاعدہ تعاون جاری ہے۔ اس تناظر میں، مثال کے طور پر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ احرار الہند کا تعلق لشکرِ جھنگوی سے ہو اور وہ موخرالذکر کی قومی رسائی استعمال کررہا ہو۔

اگر اس صورت میں یہی بات ہے تو پھر یقیناً ٹی ٹی پی کے پاس ایسی معلومات ہوں گی جو اُس سے الگ ہوجانے والے ایک ایسے نام نہاد گروپ کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں، جو بدستور تشدد پر آمادہ ہے۔

اعلانِ جنگ بندی صرف اُسی صورت میں بامعنیٰ ثابت ہوسکتا ہے جب ٹی ٹی پی بھرپور قوت کے ساتھ یقین دلائے کہ اس کی تشکیل کرنے والے، موجودہ اور سابقہ گروہوں میں وہ کون کون سی تنظیمیں شامل ہیں جو شرائط کی پاسداری کررہی ہیں۔

اگر کوئی گروہ اس کی حدود سے قدم باہر نکال لے لیکن ٹی ٹی پی پھر بھی بڑی آسانی سے دعویٰ کرے کہ وہ مذاکرات پر پُرعزم اور جنگ بندی کی پابند ہے تو بہر طور، یہ صورتِ قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔

جب بھی حکومت کی طرف سے کمزوری دکھائی گئی یہ شیر ہوئے لیکن خود حکومت یہ بھی دیکھ چکی کہ جب جب اس نے سختی دکھائی، عسکریت پسندوں نے فوراً ردِ عمل دیا۔ حکومت کے لیے سب سے اصلی اور زیادہ بنیادی سوال مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام پر ہے، بار بار پلٹ کر سامنے آنے والا یہ سوال ہمیشہ کی طرح اب بھی بدستور منتظرِ جواب ہے۔

اگر احرارالہند واقعی ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایسا گروہ ہے، جس کے اپنے الگ مقاصد ہیں تو پھر اس کے زور پکڑنے کی اصل وجہ عسکریت پسندوں کو برداشت اور انہیں گنجائش فراہم کرنے کی، طویل عرصے سے جاری ریاستی پالیسی ہے۔

بہت شروع میں، جب ریاست نے پہلے پہل غیر ریاستی عناصر کی پذیرائی اور انہیں اسپانسر کرنے کا سلسلہ شروع کیا، تب ہی دھڑے بندیوں اور ایسے نئے نئے گروہوں تشکیل اور ان کا پھیلاؤ ظاہر ہوگیا تھا جو اپنی سرپرست تنظیم کے مقابلے میں، کہیں زیادہ زہریلی اور تشدد کی طرف زیادہ مائل تھیں۔

اس کے بعد، مسئلہ علیحدہ ہوجانے والے یہ آزاد گروہ نہ تھے بلکہ ریاست کی وہ رضامندی تھی جو ان کے ساتھ بطور ایک جائز شراکت دار کے، سلوک روا کرتی تھی۔ اگر عسکریت پسندی کو پاکستان کے اندر، ریاستی ڈھانچے کے ساتھ بقائے باہمی کی اجازت دی جاتی ہے، تو پھر پاکستان مسلم لیگ ۔ نون کا مذاکراتی جاپ، مفاہمت کی پالیسی سے بس ذرا سا ہی مختلف ہوگا۔

یہ طریقہ نہ تو ماضی میں کارگر ثابت ہوا نہ ہی آگے کام کرے گا۔

(بشکریہ ڈان اردو)

http://urdu.dawn.com/news/1003284/17mar14-editorial-1

ایک قدم آگے یا دو پیچھے؟

زاہد حسینتاریخ اشاعت 11 مارچ, 2014

جیسا کہ پہلے سے پتہ تھا، مذاکرات کی میز پر واپس آہی گئے، ان شدید اور زوردار فضائی حملوں کے بعد جنہوں نے متوقع طور پر طالبان کو ہلا دیا

تاہم، یہ، تحریک طالبان پاکستان نہیں تھی جس نے اس معاملے میں پہل کی- ان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان اس وقت آیا جب حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرادی گئی کہ حکومت کی طرف سے مزید حملے نہیں کئے جائینگے

جنگ میں اس عارضی التوا نے اس غیر قانونی گروہ کو کافی مشکلوں سے بچا لیا، تاکہ انہیں پھر سے دوبارہ قدم جمانے کیلئے وقت مل جائے- اور شریف حکومت لگتا ہے کہ دیدہ ودانستہ ان کے جال میں پھر سے آگئی- ایسا محسوس ہوتا جیسے تشدد پسندوں کا چیلینج قبول کرنے کی ان میں ہمت نہیں

ایف سی کے سپاہیوں کے گلے کاٹنے کے واقعات پر ان میں کوئی پشیمانی نہیں ہے اور نہ پولیو کی ٹیم پر حالیہ حملوں کے سلسلے میں؛ چلو کوئی بات نہیں— بلکہ، ہمیں تو طالبان کی عالی ظرفی کی داد دینی چاہئے کہ وہ ” امن مذاکرات” کیلئے پھر سے تیار ہوگئے ہیں- ہمیں تو ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کے آگے تعظیم سے جھک جانا چاہئے، اس سوات کے قصائی کے، جس نے بہت زیادہ عرصہ نہیں گذرا پاکستانی فوج کے ایک سینیئر جنرل کو مارنے کی ذمہ داری قبول کی تھی، اس نفرت انگیز ویڈیو کو بھی بھول جانا چاہئے جس میں سپاہیوں کے کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیلتے ہوئے دکھایا گیا تھا- جو ہوگیا سو ہوگیا؛ اب ہمیں ان سب سے آگے بڑھنا چاہئے، ہم سے کہا جاتا ہے- لیکن کیا یہ وحشی قاتل اچانک امن کا پرچار کرنے والوں میں تبدیل ہو گئے؟

اس کے بالکل برخلاف- صلح نامہ کے اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر، بندوق برداروں نے اسلام آباد میں عدالت کے احاطے کے اندر حملہ کیا، اور اس پر تعجب کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی نے حسب معمول اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا- لیکن رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ طالبان سے وابستہ ایک ذیلی تنظیم دارالحکومت کے مرکز میں اس بے شرمانہ حملے کی ذمہ دار ہے

مختلف تشدد پسند گروپوں کے درمیان جو تعلق ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا – لیکن اس سے اس انتظامیہ کو کیا فرق پڑتا ہے جو ان کو ہر طرح کی چھوٹ دینے کیلئے بے چین ہے

یہ ایک سیدھا سادہ سفید جھوٹ کا کیس ہے جس کا ماضی میں ہمیں کئی بار تجربہ ہوچکا ہے- یقینی طور پر، طالبان کی معصومیت کا سب سے زیادہ پرزور دفاع وزیروں اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ممبروں کی طرف سے آئیگا- یہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے، جو وہ اس قسم کے ہر حملے کے بعد چیخ چیخ کر کہتے ہیں- لیکن آخر یہ کس کی سازش ہے؟ انگلیاں عموماً کسی پراسرار خفیہ غیر ملکی ہاتھ کی جانب اشارہ کرتی ہیں

حقیقت تو یہ ہے، کہ مذاکرات میز سے کبھی ہٹائے ہی نہیں گئے، ہاں جب لڑاکا جیٹ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی پناہ گاہوں پر حملے کررہے تھے تب ان کی گونج میں میڈیا کی نظریں ادھر سے تھوڑی دیر کیلئے دوسری جانب ہو گئی تھیں- بظاہر، ان کے اندرونی رابطے اس وقت بھی نہیں ٹوٹے تھے جب کہ لڑاکا جیٹ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر بمباری کررہے تھےجنگ بندی کا ایک معاہدہ اس وقت موجود ہے- لیکن یقیناً بہت زیادہ پرامید ہونے کی کوئی نمایاں وجہ نہیں ہے- کیونکہ اس طرح کی خوش فہمیاں زیادہ دیر تک نہیں رہتیں

اب اصل مشکل مرحلہ آگے ہے: ان دونوں کے درمیان کس موضوع پر بات ہوگی؟ یہ صلح نامہ کتنے عرصے کے لئے کارآمد ہوگا، جبکہ درجنوں ٹی ٹی پی کے جتھے اپنے الگ الگ ایجنڈے کے ساتھ موجود ہیں؟ یہ تو کوئی بھی قیاس کرسکتا ہے- اسلام آباد میں عدالت پر حملہ سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ ٹی ٹی پی کے لئے کسی بھی تشدد پسند گروپ کی آڑ میں کوئی کام کرنا کتنا آسان ہے- دہشت گردوں کے حملوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے جب کہ سیکیورٹی فورسز کو حملے بند کرنے کا حکم دیا جاچکاہے

حملوں کے بند ہونے سے ٹی ٹی پی ڈرائیونگ سیٹ پر واپس آچکی ہے جبکہ فوج کے ٹھیک ٹھیک نشانوں پر حملوں نے شمالی وزیرستان میں انکے حملہ کرنے کے ٹھکانوں اوردہشت گرد حملوں کی صلاحیت کو معذور کردیا تھا- اس مختصر اور جامع فوجی مہم کی سب سے بڑی کامیابی چند سینیئر کمانڈروں کی موت تھی جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی بہت دباؤ میں آگئی تھیاس چھوٹے سے عرصے میں دہشت گرد حملوں میں واضح کمی آگئی تھی لیکن ایسا لگتا کہ وہ سب بے فائدہ تھا- خطرہ اس بات کا ہے کہ وہ چند فوائد جو ان آخری فوجی حملوں کی وجہ سے حاصل ہوئے تھے انہیں مذاکرات کی میز پر کھو دیا جائے گا، اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نئی زندگی مل جائیگی

ٹی ٹی پی کی قیادت کی یہ ایک انتہائی شاطرانہ چال ہے کہ انہوں نے ایک مہینہ کی جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے اورنہایت مہارت کے ساتھ بال حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے- ان کیلئے معاہدہ نے ایک بہت مفید مقصد حاصل کیا ہے فوجی حملوں کو سردی کے موسم میں فوری روکنے کا، جب سخت موسم کی وجہ سے ان کے جنگجوؤں کی نقل وحرکت محدود ہو جاتی ہے

بہار کے موسم میں وہ پہاڑوں میں بکھر کر چھپ سکتے ہیں— اس طرح وہ فوج کیلئے اس غیر متوازن جنگ میں مشکل پیدا کرسکتے ہیں- جہاں ٹی ٹی پی کی ایک واضح حکمت عملی ہے- وہیں حکومت مکمل طور پر الجھن میں ہے، بغیر کسی واضح سوچ کے کہ اسے مذاکرات کے ذریعہ سے کیا حاصل کرنا ہے

یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ٹی ٹی پی کا اصل مقصد اپنے اہم کمانڈروں کی رہائی اور فوج کی وزیرستان کے چند علاقوں سے واپسی ہے- ان مذاکرات میں جتنی تاخیر ہوگی اس کا فائدہ طالبان کو ہوگا، حکومت کے اندر موجود اس الجھن اور لڑنے کے عزم کی کمی کا فائدہ اٹھاکر وہ فریب کے اس کھیل کو جاری رکھ سکتے ہیں- اور حکومت کے پاس مذاکرات کی میز پر رکھنے کیلئے کیا ہے؟

اس کا کسی کو علم نہیں- ایک چیز بہرحال صاف ہوگئی ہے، مذاکرات نے دہشت گرد ٹولے کو جائز بنا دیا ہے، اگرچہ کہ اس نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین کو تسلیم کرتا ہے- ملک کے آئین کے مطابق مسلح ملیشیا قائم کرنا، اور پھر اس غیرقانونی مسلح گروہ کے ساتھ بات چیت میں شامل ہونا ایک غیرقانونی کام ہے، اور حکومت یہ کام کرکے خود ملک کے آئین کو توڑنے کا موجب بن رہی ہے- یہ ایک خطرناک اور غلط مثال قائم کرنے کے برابر ہے، ریاست کی پہلے سے کم ہوتی ہوئی حاکمیت کو مزید نقصان پہنچانا ہے

طالبان کے لئے مذاکرات مزید وقت اورمہلت حاصل کرنے کا ایک بہانہ ہے- حکومت نے ایک دہشت گرد گروہ کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات شروع کرکے خود اس قوم کی سلامتی کو بھی داؤں پر لگا دیا ہے- حکومت جتنا جلد اس خود فریبی کے دھوکے سے نکل آئے اتنا ہی اس ملک کے استحکام کے لئے بہتر ہوگا- ایک ایسی پالیسی جس میں ایک قدم آگے بڑھا کر دو قدم پیچھے ہٹ جائیں وہ امن کی ضمانت نہیں دے سکتا ہے، ہاں اس سے موت اور تباہی لازمی اور یقینی ہے.

(بشکریہ ڈان اردو) http://urdu.dawn.com/news/1003050/11mar14-one-step-forward-two-steps-back-amj-aq

ذرا حساب کیجیے

ڈان اخبارتاریخ اشاعت 05 مارچ, 2014(اداریہ)

مذاکراتی عمل کے دوران اگر وہ پُرتشدد کارروائیاں نہ ہونے کی ضمانت نہیں دے سکے تو پھر کسی معاہدے پر پہنچ جانے کے بعد، وہ کس طرح پُرتشدد کارروائیاں نہ کیے جانے کی ضمانت دینے کے قابل ہوسکتے ہیں؟ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے خیال پر یہ سوال شروع سے موجود ہے اور ہر بار، جب بھی مذاکرات کی کوشش ہوتی ہے، یہ پلٹ کر سامنے آجاتا ہے۔

حالانکہ یہ حقائق پہلے ہی ثابت ہوچکے اور جیسا کہ گذشتہ روز اسلام آباد کی عدالت پر حملہ ہونے کے بعد بھی ہوا، طالبان کے طرف داروں کا یہ طریقہ واردات ہے کہ چاہے بے نام تیسری قوت ہو یا باریک پردے کے پیچھے پوشیدہ طاقت، وہ ہر تازہ حملے کے بعد مبینہ طور پر انہی کو تشدد میں ملوث گردانتے ہیں۔

یہ منطق ہی غیر منطقی ہے: ٹی ٹی پی ایک ایسا شرپسند گروہ ہے جس کا ایجنڈا تشدد اور ریاست کو اٹھا کر باہر پھینکا ہے لیکن وہ امن و استحکام کے حق میں ہے جبکہ یہاں ایسے بے نام عناصر ہیں جو پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔

ایسا تجویز کرنا ہی سنگدلی ہے لیکن اس کے بعد اٹھنے والا سوال یقینی ہے: اب جبکہ وہ عناصر واقعی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں تو پھر امن پسند ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کیوں کیے جائیں؟

یقنیاً، مذاکرات کی وکالت کرنے والے عوام کے سامنے ہرگز یہ اعتراف نہیں کریں گے کہ تنہائی میں وہ کیا کچھ تسلیم کرچکے ہیں: ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ایک ایسی پالیسی ہے جس کی جڑیں خوف و دہشت میں پیوست ہیں۔

اس شرمناک مفاہمانہ منطق کے مطابق اگر ٹی ٹی پی کو مصروف نہیں کیا جاتا تو پھر وہ مزید قتل وغارت گری کریں گے جیسا کہ یہ ملک اب تک دیکھتا چلا آرہا ہے۔ ٹی ٹی پی کے مضبوط ٹھکانوں پر اگر لڑائی مسلط کی جاتی ہے تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے، لہٰذا اس سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کرلیے جائیں۔

حکومت نے معاہدے کی جستجو میں پہلے اپنی اصل کمزور پوزیشن دکھائی ہے لیکن اب ریاست کم از کم دوباتوں کا واضح اظہار کرسکتی ہے کہ اگر مذاکرات ہوئے تو ٹی ٹی پی کی شرائط پر ہرگز نہیں ہوں گے۔

اول، اب حکومت اور اس کی مذاکراتی ٹیم کو ٹی ٹی پی سے صاف صاف مطالبہ کردینا چاہیے: اگر ٹی ٹی پی کسی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی تو پھر اس کی قیادت کو واضح کردینا چاہیے کہ اس کے مجموعے میں شامل کون کون سی تنظیمیں اور گروہ اس کے زیرِ اثر ہیں اور کون کون سے گروہ یا تنظیمیں اس کے قابو سے باہر ہیں۔

رسمی طور پر کھلے بندوں اس اظہارکے بغیر، کسی بھی پُرتشدد کاروائی سے ٹی ٹی پی کا اظہارِ لاتعلقی وسیع پیمانے پر ناقابلِ قبول ہوگا۔

دوئم، فوجی قیادت کے ساتھ مل کر حکومت کو ٹی ٹی پی کے باقیماندہ مضبوط ٹھکانوں پر دستک دینے کے منصوبے پر کام جاری رکھنا چاہیے، جبکہ ٹی ٹی پی کے متوقع ردِ عمل سے نمٹنے کے لیے شہروں اور قصبوں میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے جانے چاہئیں۔

اس سے ٹی ٹی پی کو ممکنہ طور پر واضح پیغام جائے گا کہ صرف مذاکرات واحد حل نہیں، سلامتی کے ادارے اپنے شہریوں اور خود ریاست کے تحفظ کی اہلیت رکھتے ہیں۔

اگر یہ عزم ظاہر کردیا جاتا ہے اور اس پر قائم بھی رہتے ہیں تو پھر ٹی ٹی پی کے واسطے پینترہ بازی اور حیلے بہانوں کی گنجائش بہت کم پڑجائے گی۔

http://urdu.dawn.com/news/1002911/05mar14-editorial-1

(بشکریہ ڈان(

ٹی ٹی پی کا انتخاب

ڈان اخبارتاریخ اشاعت 04 فروری, 2014

(اداریہ)

کبھی کبھار سب کچھ صرف ایک انتخاب سے ہی عیاں ہوجاتا ہے۔ چار رکنی حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے لیے کالعدم ٹی ٹی پی کی طرف سے ارکان کی نامزدگی نہایت چونکا دینے والی ہے۔ نامزد ارکان کس طرح دیکھے جاتےہیں، ضروری نہیں کہ خود ٹی ٹی پی بھی ایسا ہی دیکھتی ہو۔ یہاں، مختصراً کہہ لیں کہ کمیٹی کے پانچ نامزد ارکان ہیں: پی ٹی آئی، جے آئی، جے یو آئی۔ ف، لال مسجد اور بابائے طالبان۔

یہ تو پرانا کھلا راز ہے کہ پاکستان کی جڑ کے مترادف جمہوری اور آئینی اقدار کے مقابلے میں، دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں، شدت پسندوں کے نظریات کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتی ہیں۔

لال مسجد بدنامی والے عبدالعزیز اور طویل عرصے سے ‘بابائے طالبانکہلائے جانے والے سمیع الحق کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں، انہیں یہ چھپانے کی، کوئی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں لیکن عمران خان؟

جب بعض، میڈیا اور عوامی حلقوں نے انہیں طالبان خان کے لقب سے نواز، تب پی ٹی آئی اور عمران خان نے پلٹ کر وار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں مکمل طور پر غلط سمجھا گیا، وہ پاکستان کے مرکزی دھارے کا حصہ بنے رہنے پر پُرعزم ہیں لیکن ٹی ٹی پی اپنی جانب سے عمران خان کو بطور مذاکرات کار دیکھتی ہے؟

کم از کم، تحریک انصاف کے سربراہ نے فوری طور پر طالبان نامزدگی بدلوانے کی کوشش کی، اگرچہ یہ ناکافی ہے لیکن پھر بھی انہوں نے جان بوجھ کر اپنی جماعت اور ٹی ٹی پی کے درمیان فاصلہ کرلیا ہے۔ اس کے باوجود، یہ سنجیدگی سے مذاکرات کے آغاز اور اس کی سمت پر بنیادی سوال چھوڑتا ہے۔

حکومت کی طرف سے اگر پہلے ہی ایک پی ٹی آئی مذاکرات کار شامل ہو اور ٹی ٹی پی چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ بھی اس کی طرف سے مذاکراتی ٹیم کا حصہ بنیں تو پھر، محدود اور شاید عارضی امن حاصل کرنے کے مایوس کُن تصور میں، سودے بازی کی گنجائش کس قدر رہ جاتی ہے؟

یقینی طور پر، مسئلہ پی ٹی آئی تک محدود نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ۔ نون کی وفاقی حکومت نے بھی اب تک، بظاہر ہر قدم ٹی ٹی پی کے ہاتھوں کھیلتے ہوئے اٹھایا ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی حکومت کی طرف سے مذاکرات کی حدود پر کوئی سرخ لکیر یا ٹائم فریم کا اطلاق نہیں کیا گیا۔

جب وزیرِ داخلہ جیسے حکومتی نمائندے کہیں کہ اس وقت ٹی ٹی پی کی جانب سے پیش کردہ بعض شرائط زیرِ غور ہیں، تو وہ کن مطالبات کا حوالہ دے رہے ہیں؟

ٹی ٹی پی کے مطالبات کی فہرست بالکل واضح اور سیدھے سبھاؤ ہے: جمہوریت نہیں، آئینی ضمانت کے حامل حقوق نہیں، بس ایک خاص اور انتہائی عدم برداشت پر مبنی مذہبی نظریہ ہے جسے مکمل طور پر نافذ کرنا ہے۔

اگرچہ کسی بھی منتخب حکومت کو اپنے نظریے اور پالیسی کو آگے بڑھانے کا حق حاصل ہے لیکن کیا اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ وہ ریاست کی بنیادوں پر بھی سودے بازی کرسکتی ہے؟

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستانیوں کو اپنے ووٹوں سے، نسبتاً آزادانہ طور پر انتخاب کی اجازت ملی، انہوں نے وفاق کی سیاست کرنے والی روشن خیال، اعتدال پسند جماعتوں کو ہی منتخب کیا لیکن اس وقت ملکی قیادت الجھنوں اور ابہام کا شکار ہے جبکہ بڑے پیمانے پر عوام جانتی ہے کہ طالبان کس شے کے لیے کھڑے ہیں۔

کیا واقعی حکومت تاریخ کے مجموعی وزن اور عوام کی آواز کو نظر انداز کرسکتی ہے؟

(بشکریہ ڈان)

http://urdu.dawn.com/news/1002031/04feb14-ed1

قاتلوں سے مذاکرات؟

مرتضٰی حیدر

عمران خان اور میاں صاحب طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں- شاید وہ ایسا کر گزریں- لیکن جب بھی انکا سامنا طالبان سے ہو تو وہ انسے ضرور پوچھیں کہ انہوں نے پشاور میں میرے آبائی گھر کے قریب میرے پڑوسی، سید عالم موسوی کو قتل کیوں کیا؟

مولانا عالم کو بیس جنوری کو قصّہ خوانی بازار کے نزدیک ڈھکی منور شاہ میں قتل کیا گیا- وہ نماز کی امامت کے لئے مسجد جا رہے تھے- موٹر بائیک پر سوار افراد نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا

ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے ہزاروں لوگ کی طرح مولانا عالم کے قاتل بھی نامعلوم رہیں گے اور قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے- انہیں تو شیعہ ہونے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سنی بھی طالبان کے ستم کا مستقل نشانہ بن رہے ہیں

پاکستان میں شیعہ اقلیت کے قتل عام کے لئے ‘شیعہ نسل کشی’ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہےلیکن شیعہ ہی طالبان کے قاتلانہ اور رجعت پسندانہ نظریات کا شکار نہیں ہو رہے- آج سے کوئی سات سال پہلے طالبان نے پشاور پولیس کے جرات مند سربراہ ملک محمّد سعد کو خودکش حملے میں قتل کر دیاطالبان کے ہاتھوں فرقہ وارانہ حملوں میں مرنے والے ہر شیعہ کے ساتھ کئی سنی بھی دہشتگرد حملوں کا شکار ہوتے ہیں

آخر عمران خان اور نواز شریف ایسے لوگوں سے مذاکرات کے ذریعہ کس بات کی توقع کر رہے ہیں جنہوں نے پاکستان کی عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے؟

مولانا عالم مذہبی علما کی دوسری نسل سے تھے- ان کے والد، مولانا صفدر حسین، پشاور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے علم برداروں میں سے ایک تھےپشاور شہر کے رہائشیوں کو اچھی طرح یاد ہے کہ مولانا صفدر حسین میلاد النبی کے جلسوں میں اہل سنت کے علما کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلا کرتے تھے- اپنے والد کی طرح مولانا عالم بھی تمام فرقوں کے مذہبی علماء کو دوست رکھتے تھے

مولانا عالم نے ہمیں عدم تشدد کا سبق دیا، یہ وہ روایت ہے جو باچا خان کی تعلیمات میں ہمیں ملتی ہیں، اور جو سرحد سے اب معدوم ہوتی جا رہی ہےانتہائی مشکل حالات میں بھی میں نے مولانا کو پرسکون اور دوسروں کا احترام کرتے دیکھا

سنہ انیس سو بانوے کی گرمیوں میں جب طالبان گروہوں نے شیعہ برادری پر حملہ کیا تب مولانا عالم نے پشاور کے بے چین نوجوانوں کو ان کے دوستوں کے قتل اور قبرستانوں کی بے حرمتی پر صبر و تحمل اور احترام کا درس دیا- دیگر مذہبی علماء کے برعکس وہ کسی حفاظت کے بغیر رہتے، اکیلے بنا کسی محافظ کے شہر میں گھومتے

ہمارے لئے وہ ایک دوست کی مانند تھے- انہوں نے کبھی شادی نہیں کی، وہ میرے ننھیال کے قریب سڑک کی دوسری جانب رہتے تھے- کتابیں انکی سچی ساتھی تھیں، اور وہ انہیں دوسروں کے ساتھ بانٹنا پسند کرتے تھے- وہ غربت کی زندگی گزارتے رہے، اپنا کھانا خود پکاتے اور کپڑے بھی خود ہی دھوتے

پشاور میں میرے کزنز کا تعلق رہا تھا- وہ ہمارا استقبال ہمیشہ مسکرا کر کرتے، اور اپنے ہاتھوں کا بنا قہوہ پیش کرتے- انہیں اس بات سے چڑ تھی کے میری فزکس اور میتھس، فارسی اور عربی سے بہتر تھی- وہ چاہتے تھے کہ ہم کلاسک ادب اصلی عربی یا فارسی میں پڑھیںاگر ہم کبھی ساتویں صدی کی عربی یا تیرھویں صدی کی فارسی میں اٹکتے تو وہ ہمیشہ ہماری مدد کرتے

مولانا کی سب سے بڑی طاقت ان لوگوں کو اپنانے کی خواہش تھی جو ان کے خیالات اور فلسفے سے متفق نہیں ہوتے تھے- انہوں نے کبھی اس حقیقت کا برا نہیں منایا کہ میں ایران کی ایک مذہبی ریاست میں تبدیلی کا حامی نہیں تھا اور ایک سیکولر مسلم سوسائٹی کی حمایت کرتا تھا جس میں مذہب اور ایمان ایک فرد کا ذاتی معاملہ تھا- وہ اپنے پڑوسیوں سے محبت کرتے تھے اور اپنے گھر کے سامنے کرسی ڈال کر بیٹھ جاتے اور آتے جاتوں سے سلام دعا کیا کرتے- انکی موت فقط شیعہ برادری کا ہی نقصان نہیں- انکی موت پشاور شہر کا نقصان ہے جو اب اپنے ماضی کی طرح متنوع، کثیر زبانی اور کثیر ایمانی نہیں رہا

مولانا عالم کے برعکس، طالبان تکفیری نظریے کے حامی ہیں جہاں ان سے اختلاف رکھنے والوں کی سزا موت ہے

(بشکریہ ڈان ۔کام)

http://urdu.dawn.com/news/1001886/30jan14-a-dialogue-with-mass-murderers-dee-aq

 

تشدد پسند تنظیموں کا قلع قمع کیا جائے

ایڈیٹوریل  بدھ 8 جنوری 2014

وطن عزیز کا سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی کا ہے اور یہ اب ایک ایسا عفریت بن چکا ہے، جس نے ہزاروں انسانی جانوں کو نگل لیا ہے، صدیوں سے شاد و آباد تہذیبوں کا گہوارہ یہ خطہ جسے آج ہم پاکستان کے نام سے جانتے ہیں متشدد گروہوں، لسانی و مذہبی و فرقہ وارانہ تنظیموں سمیت مختلف مافیاز کی زد میں ہے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جس دن ہولناک واقعات کی خبریں اخبارات کی زینت نہ بنتی ہوں ۔ خیبرپختون خوا اور بلوچستان دونوں صوبوں میں شورش عروج پر ہے اور امن و امان کی حالت انتہائی دگرگوں ہے۔ پنجاب اور سندھ بھی پر تشدد لہر سے بچے ہوئے نہیں ہیں۔ منگل کی صبح کراچی کے داخلی راستے پر واقع گلشنِ معمار میں ایوب شاہ غازی کے مزار سے چھ لاشیں ملیں جن کے گلے کاٹے گئے تھے ، پولیس کو لاشوں کے ساتھ ایک خنجر اور چٹ بھی ملی ہے جس پر ’مزاروں پر جانا چھوڑ دو، تحریک طالبان‘ درج تھا۔ اس سے پہلے نوری جام تماچی کے مزار پر بھی ایسا ہی سانحہ چند دن پیشتر رونما ہو چکا ہے، انتہائی واجب الاحترام شخصیات کی آخری آرام گاہیں، جو مرجع خلائق ہیں، ان پر ایسے واقعات کا رونما ہونا پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے، تشدد کی بنیاد پر قائم تحریکیں ہمیشہ ناکامی و بربادی کا شکار ہوتی ہیں‘ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے۔ حضورؐ کی تعلیمات پر عمل میں ہی ہماری بقا ہے۔ پاکستان تمام مسالک‘ تمام مذاہب کے لوگوں کا ہے لہٰذا اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں دوسرے کے عقیدے کو چھیڑو نہیں کے مقولے پر عمل کرنے سے شدت پسندی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ملزموں کی بر وقت گرفت نہ ہونے کے سبب ایسے مافیاز اور گینگ وجود میں آئے جنھوں نے لیاری جیسی محنت کشوں کی بستی کا روشن چہرہ داغدار کر دیا ہے۔ گزشتہ روز عبدالجبار عرف جینگو لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب سفاک قاتل جو پولیس و رینجرز کے لیے چھلاوا بنا رہا اور کئی ٹارگٹڈ آپریشن، چھاپوں اور محاصروں کے باوجود پولیس و رینجرز سے بچ نکلنے والا، قدرت کی پکڑ میں آ کر ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ عبدالجبار عرف جینگو جرم کی دنیا میں آنے سے قبل ٹرک کا کلینر تھا، جب کہ تحریک طالبان کا موجودہ سربراہ مولوی فضل اللہ بھی ماضی میں اسی پیشے سے منسلک تھا، جرم و سزا، جرم اور قانون کی جنگ تو تمام متمدن معاشروں میں جاری رہتی ہے لیکن ہم اس وطن کے باسی ہیں جو متشدد تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر ہیں، حکومتی رٹ بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا، قانون کے رکھوالے کب کراچی سمیت ملک کے طول و عرض میں امن قائم کر سکیں، یہ ایک سوال ہے جس کا جواب ہنوز ندارد ہے۔ البتہ ہماری نظر سے ایسی خبریں ضرور گزرتی ہیں جن کے مطابق کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری ہے، رینجرز نے لیاری کے علاقے علی محمد محلہ میں گینگ وار کے انتہائی مطلوب غفار ذکری کے بھائی سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کر کے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا ہے، گرفتار ملزمان میں ایک کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے بھی بتایا جاتا ہے، ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تین مبینہ ٹارگٹ کلرز سمیت 113 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ، منشیات، نقدی، موٹر سائیکل اور دیگر سامان برآمد کر لیا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جتنی بڑی تعداد میں ٹارگٹڈ آپریشن میں ملزموں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں تو اس حساب سے تو کراچی سے جرائم کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا لیکن صورتحال دن بدن مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ نہ تو ٹارگٹ کلنگ رکی ہے اور نہ ہی اسٹریٹ کرائمز کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب تک فعال اور مربوط میکنزم نہیں ہو گا اس وقت تک دہشتگردوں کا شہر و ملک سے خاتمہ نہیں ہو سکتا۔

(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)

http://www.express.pk/story/215654/

ہم دہشت گردی کا سد باب کیوں نہیں کر پاتے؟…نجم سیٹھی

پاکستان کو دو طرح کے دہشت گردوں نے نقصان پہنچایا ہے ایک گروہ ”تحریک ِ طالبان پاکستان“ ہے جس کے درجنوں مختلف کمانڈر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے مقابلے پر مورچہ زن ہیں۔ دوسرا گروہ ”لشکر ِ جھنگوی“ ہے جو ملک میں اہل ِ تشیع کا خون بہا رہا ہے۔تحریک ِ طالبان پاکستان کے دہشت گرد 2008ء سے لے کر اب تک مختلف تخریبی کارروائیوں میں تیس ہزار شہریوں اور تین ہزار کے قریب سیکورٹی کے جوانوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ یہ تحریک پہلے سوات میں منظر ِعام پر آئی ۔ آج یہ تمام وزیرستان ایجنسی میں پھیل چکی ہے۔ لشکر ِ جھنگوی بنیادی طور پرپنجاب کے شہر جھنگ میں اپنی اساس رکھتا ہے لیکن گزشتہ برس سے، جب اس نے پانچ سو سے زیادہ اہل ِ تشیع کا خون بہایا، اس نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ کراچی سے لے کر کوئٹہ تک پھیلا دیا ہے۔ اگرچہ تحریک ِ طالبان اور لشکر ِ جھنگوی کا طریقہ ٴ کار ایک سا ہے… خودساختہ دھماکہ خیز مواد، خودکش حملے، گھات لگاکر فائرنگ … لیکن ان کے مقاصد مختلف ہیں۔ تحریک ِ طالبان پاکستان بنیادی طور پر پاکستان، اس کے شہریوں، اس کے آئینی، قانونی اور سیاسی نظام، اس کی حکومت اور ریاستی ایجنسیوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے ۔ اس کی قوت کا زیادہ تر ارتکاز فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ہے لیکن یہ ملک کے دیگرصوبوں میں بھی اپنی خطرناک موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ دوسری طرف لشکر ِ جھنگوی کا ہدف صرف اہل ِ تشیع ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس کی کارروائیاں زیادہ تر سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دیکھنے میں آئی ہیں جبکہ پنجاب، جہاں اس کی بنیادیں ہیں اس نے صرف دس فیصد کارروائیاں کی ہیں۔ ترجیحات میں اس تفاوت کے باوجود تحریک ِ طالبان پاکستان اور لشکر ِ جھنگوی میں اشتراک ِ عمل پایا جاتا ہے اور وہ کارروائیوں کے لئے ایک دوسرے کو ”افرادی اور تکنیکی“ معاونت فراہم کرتے رہتے ہیں جبکہ اس دوران مشرق ِ وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والے القاعدہ کے ”ماہرین“ کی فنی خدمات بھی ان کو حاصل رہتی ہیں۔ ان میں مسلکی ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ دونوں گروہ نظریاتی طور پر انتہا پسند سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کی صفوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے جہادی عناصر موجود رہتے ہیں۔ ان دونوں کا ماضی یا حال میں فاٹا یا افغانستان میں سرگرم ِ عمل افغان طالبان سے تعلق رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں کی فعالیت میں پاکستان کے خفیہ اداروں کا کسی نہ کسی سطح پر ہاتھ ہے کیونکہ وہ ان کو کشمیر میں بھارت کو زک پہنچانے اور موجودہ دور میں افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف بر سرپیکار افغان طالبان کی معاونت کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اگر ہم اس انتہا پسندی سے نمٹنا چاہتے ہیں تو ان تنظیموں کے اسٹرٹیجک روابط پر غور کرنا ضروری ہے۔ لشکر ِ جھنگوی کے خلاف روایتی دکھاوے کی کارروائیوں کے بجائے سیاسی اتفاق ِ رائے، موثر پولیس فورس،انسداد ِ دہشت گردی کے لئے بنائے گئے موثر قوانین، سول اور ملٹری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے ساتھ میدان میں اترنا ضروری ہے تاکہ شہریوں کی جان کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تاہم فاٹا میں مورچہ بند طالبان سے نمٹنے کیلئے باقاعدہ فوجی کارروائی، جس کو سیاسی اور انتظامی معاونت حاصل ہو، کی ضرورت ہے۔ تاہم آج جبکہ پاکستان لہو رنگ ہے، ان دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لئے قومی سیاسی سطح پر کوئی اتفاق ِ رائے نہیں پایا جاتا۔ ان کے خلاف جاری فوجی کارروائی کسی واقعے کے رد ِ عمل میں نیم دلی سے کی جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سست آئینی اور انتظامی مشینری بھی مطلوبہ نتائج کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ ہمارے ہاں سول ملٹری تعلقات میں موجود مسائل کا اظہار حالیہ دنوں پیش آنے والے دو واقعات سے ہوتاہے۔ فوج تحریک ِ طالبان پاکستان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا چاہتی ہے لیکن وہ عوام اور حکومت کی حمایت کے بغیر ان جنگجوؤں کے خلاف دستوں کو متحرک نہیں کرنا چاہتی لیکن حکومت اس ضمن میں فوج کے ساتھ کھڑی ہونے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ فوجی آپریشن کے لئے اسے عوام سے حمایت نہیں ملے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیادہ تر لوگ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانے کے حق میں ہیں کیونکہ ان کو غلط فہمی ہے کہ پاکستانی طالبان کی اندرون ملک کارروائیاں دراصل امریکی ڈرون حملوں کا ردِعمل ہیں۔ اس لئے جب 2014ء میں امریکی اس خطے سے چلے جائیں گے تو یہ تحریک بھی تحلیل ہو جائے گی۔ اس غلط سوچ کو پھیلانے میں عمران خان اور میڈیا کے ایک دھڑے کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اے این پی جو کہ ایک سیکولر پارٹی ہے اور اس نے ہمیشہ سے ہی ان اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کی ہے، کوگزشتہ ہفتے پشاور میں ہونے والی ” کل جماعتی کانفرنس“ بلانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ تاہم اس کانفرنس کے شرکاء نے بھی متفقہ طور پر طالبان کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ گویا سیاسی قیادت ابھی بھی ان کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں عام انتخابات ہوا چاہتے ہیں اور…کوئی سیاسی جماعت طالبان کو مشتعل کرکے اس کا ہدف بننے کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس سے زیادہ موقع پرستی کا مظاہرہ دیکھنا محال ہے۔ لشکر ِ جھنگوی کے خلاف درکارآپریشن کے حوالے سے بھی اسی طرح کا تذبذب پایا جاتا ہے۔ کسی صوبے کے پاس انتظامی سطح پر لشکر سے نمٹنے کے لئے مالی اور افرادی قوت، جو دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کیلئے تربیت یافتہ ہو، موجود نہیں ہے بلکہ ان کے روایتی پولیس کے نظام کے پاس موثر تفتیش کی سہولت بھی موجود نہیں ہے چنانچہ پنجاب پولیس اور یہاں کے سیاست دانوں نے لشکر کی کارروائیوں سے اغماض برتنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور لشکر ِ جھنگوی کے حامیوں کے درمیان سیاسی مفاہمت بھی اس حد تک پائی جاتی ہے کہ وہ کم از کم چالیس حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حمایت کریں گے اور یہ کہ اس کے سیاسی قائدین کو ہدف نہیں بنایا جائے گا۔ یہ صورتحال کراچی میں اور زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اس عظیم شہر میں پولیس اور حکومت مکمل طور پر غیر فعال ہیں اور یہاں جرائم پیشہ گروہ، دہشت گرد تنظیمیں اور انتہا پسند معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہاں انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ بلوچستان میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء، پائپ لائن کی سیاست، مختلف اسلامی ممالک کی پراکسی جنگ ، فرقہ وارانہ کشیدگی اور علیحدگی پسندوں نے ریاست کی عملداری کے لئے سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ان حالات میں بدترین بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کو شک ہے کہ بلوچستان میں مقیم ہزارہ برادری کے لوگ طالبان مخالف ہیں اور ان کا جھکاؤ ایران کی طرف ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے حکومت کو محض اشک شوئی کی خاطر کچھ تبادلے وغیرہ کرنے پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ محض دکھاوے کی خاطر کچھ چھاپے بھی مارے گئے تاکہ عوام کو لگے کہ حکومت کچھ کررہی ہے۔ تاہم خاطر جمع رکھیں، کچھ نہیں ہورہا ہے اور اب شاید ان نیم دلی سے کئے گئے اقدامات کی ضرورت بھی نہیں ہے…بہت دیر ہو چکی ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ پوری سیاسی قیادت ایک صف میں کھڑی ہوکر سیکورٹی اداروں کی حمایت کرے اور صوبائی سطح پر متحرک اور فعال فورس قائم کی جائے جو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے تربیت یافتہ ہو۔ اگر روایتی طرز ِ عمل جاری رہا تو پاکستانیوں کا خون بہتا رہے گا۔

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=68609

پاکستان کا ڈراؤنا خواب

Tuesday 19 February 2013

ڈان اخبار

 کراچی: یہ پاکستانی، افغانی، عربی، جرمن، ترک، لیبیائی، سوڈانی، اُزبکی، کرغزی ہیں۔ یہ اپنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی شمالی وزیرستان کے جنوبی علاقے باجوڑ میں بیٹھ کر کرتے ہیں، اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے پاکستان اور اس کے پڑوسیوں افغانستان، اُزبکستان اور چین سمیت مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا تک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بالفرض اگر خانہ جنگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے یا پھر افغانی طالبان مغربی افواج کے انخلاء کے بعد اقتدار پر قبضہ کرلیتے ہیں، تو کیا افغانستان، فاٹا میں ٹھکانہ بنائے ہوئے ان رنگ برنگے عسکریت پسند گروہوں کے لیے ایک محفوظ جنت کی صورت اختیار تو نہیں کر جائے گا؟

فاٹا اور افغانستان میں جاری عسکریت پسندی کے حوالے سے ایک ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کہتے ہیں کہ “دوہزار چودہ اور مغربی افواج کی واپسی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان کی مشکلات ختم ہوجائیں گی۔ اگر طالبان کابل پر قبضہ نہیں کرتے ہیں، جس کا بہت زیادہ امکان ہے، وہ سرحدی علاقوں سے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ لہٰذا وہ ان کی یہ ضرورت موجود رہے گی کہ وہ فنڈز اور علاج معالجہ کے لیے پاکستان میں پناہ لیتے رہیں، اور پاکستانی طالبان کے لیے افغانستان یونہی محفوظ جنت بنا رہے گا۔

بالکل اسی طرح یہ واضح ہے کہ پاکستانی ذہنوں میں افغان طالبان کی جانب سے یہ خوف منتقل ہورہا ہے کہ افغانستان کے لیے اپنائی گئی حکمت عملی کے تحت یہی سوچا جاتا رہا ہے کہ وہاں ایک مخلوط حکومت قیام پاکستان کے بہترین مفاد میں ہوگا۔

لیکن کچھ سیکیورٹی حکام اس حوالے پریشان ہیں کہ اگر طالبان، اُزبک اور دیگر نسلی گروہوں کو جو شمال میں قدم جمائے ہوئے ہیں، کوکسی بھی سطح پر اقتدار میں شریک کیا گیا تو کیا پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند وں کو محفوظ پناہ گاہیں اور ان کی کارروائیوں کے مراکز کی فراہمی کا سلسلہ رُک جائے گا؟

ایک ماڈل تو اس حوالے سے پہلے ہی موجود ہے کہ یہ گروہ کس طرح افغانستان سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق، جون 2010سے اب تک 223 حملے سرحد کی دوسرے جانب سے ہوئے ہیں، جن میں چودہ بڑے تھے، جن میں دو سو سے زیادہ عسکریت پسند شامل تھے۔

ان حملوں میں ایک سو پچاس سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ یقین سے کہا جاتا ہے کہ یہ حملے کنڑ اور نورستان میں پاکستانی عسکریت پسند سوات کے مولانا فضل اللہ اور مہمند کے عبدل ولی(آکا عمر خالد) کے اٹھارہ سے بیس ٹھکانوں سے کیے گئے۔

اگر فاٹا میں موجود عسکریت پسند وں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس کے واضح مضمرات یہ ہوں گے کہ یہ دوہزار چودہ کی حد تک پہنچ کر پاکستان کے لیے ایک بھیانک خواب بن جائیں گے۔

لیکن سیکیورٹی حکام کے ساتھ بات چیت سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ قبائلی علاقوں کے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کس قدر پیچیدہ ہیں۔ یہ تو خود ایک مسئلہ تصور کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے تاریخی رجحان پر غور کیا جائے تو دوست کو دشمن سے علیحدہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک بہترین مثال ازبکستان کی اسلامک موومنٹ کے مرحوم طاہر یولداشیف کی ہے، جن کے ساتھ سینکڑوں اُزبک شمالی وزیرستان کے باہر کارروائیاں کررہے تھے۔

 اس وقت عبدل فتح احمدی اور اکا عثمانی ان کی قیادت کررہے ہیں۔ یہ غضبناک لڑاکا فورس ہے جس کی خدمات القاعدہ، افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان نے حاصل کررکھی ہیں، اور انہیں شمالی افغانستان میں پناہ مل سکتی ہے۔

لیکن کیا چھوٹے گروپس کم ہوجائیں گے جو پاکستان میں عسکریت پسندی سے جُڑے ہوئے ہیں؟ پاکستانی سیکیورٹی حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ اُزبکستان کی اسلامی جماعت، جو ایک علیحدگی پسند گروہ ہے، حمید اللہ کرغستانی کی قیادت میں درجنوں وسطی ایشیائی باشندے قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔

مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ آف یوغور کا یہ عزم ہے کہ چین کے یوغور ریجن میں ایک اسلامی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔

ایک اورگروپ جو خود کو ترکش جماعت کہلواتا ہے، بنیادی طور پر مشرقی ترکی سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہ ہیں جو شمالی وزیرستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور اپنے وطن میں ایک اسلامی تحریک کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

عبداللہ ماجد جو شمالی وزیرستان میں مشرق وسطیٰ میں کی جانے والی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مددکرتا رہا ہے، عبداللہ اعظم بریگیڈ کی قیادت کررہا ہے۔ گوکہ ان غیر ملکی عسکریت پسندوں کی توجہ پاکستان پر مرکوز نہیں ہے، یہ پاکستانی عسکریت پسندوں کی مدد کرکے ایک ناپسندیدہ صورتحال پیدا کررہے ہیں۔

اس وقت یہ تمام گروپس تحریک طالبان پاکستان کی چھتری تلے اپنے مختلف مقاصد کے لیے اکھٹا ہیں۔

 سب سے زیادہ طاقتور ٹی ٹی پی کے کمانڈر حکیم اللہ محسود ہیں، جن کا بنیادی مقصد پاکستان پر حملے کرنا ہے، لیکن امریکی فوجیوں کے خلاف افغان طالبان کے ساتھ اکھٹے کام کررہے ہیں۔

یہ مولوی نذیر کے پیروکار ہیں، جو ایک ڈرون حملے میں گزشتہ مہینے میں ہلاک ہوگئے تھے کیونکہ ان کی توجہ  افغانستان پر مرکوز تھی، تاحال وہ شمالی وزیرستان سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں حافظ گل بہادرکا گروپ جو افغانستان پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، لیکن بعض اوقات پاکستانی فوجیوں پر حملے کرتا رہا ہے۔

یہ سب طالبان کی ایک یا مختلف طریقوں سے مدد کرتے آئے ہیں، اور ایسا نہیں لگتا  کہ وہ یہ سوچیں گے کہ ان کی اس حمایت کا بدلہ انہیں نہیں ملے گا، اور فاٹا اُن کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ نہیں رہے گا، یہاں تک کہ کمزور نوعیت  کے اور عارضی جنگ بندی کے معاہدے جو پاکستان نے عسکریت پسندوں کے ساتھ کیے، مثلاً مولوی نذیر اور حافظ گل بہادر کے ساتھ، لا حاصل ثابت ہوئے۔

لیکن پاکستانی طالبان کا نیٹ ورک  ان چھوٹے گروہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ دس تنظیمیں جنہیں کشمیر میں لڑائی اور دیگر مقاصد کے لیے ریاستی حمایت حاصل رہی، اب تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جُڑ چکی ہیں، ساتھ ہی ‘پنجابی طالبان’ کے ہلاکت خیز کمانڈر عصمت اللہ معاویہ بھی، جن کے بارے میں سیکیورٹی حکام کو یقین ہے کہ 2008ء میں میریٹ ہوٹل، اسلام آباد پر حملے اور فوج اور آئی ایس آئی پر حملوں میں ملوث ہیں۔

یہ اور ان جیسے دیگر گروپس، مثال کے طور پر لشکرِ جھنگوی، ان سب کے اپنے مقاصد ہیں، لیکن پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں کے مطابق، حملوں کے دوران انہیں کارکنان اور سامان کی صورت میں ٹی ٹی پی کی مکمل مدد حاصل رہتی ہے۔ 2009ء کے دورا ن سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہونے والا حملہ، لشکر جھنگوی سے منسلک ایک گروپ نے کیا تھا، جسے مسلح افراد اور ہتھیار وغیرہ تحریک طالبان پاکستان نے فراہم کیے تھے۔

یہ اس نکتہ نظر کے حوالے سے ایک مثال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے ان حصوں میں جہاں افغان طالبان کی عملداری ہے، یہ عسکریت پسند گروہ اگر چاہیں گے تو اپنی کارروائیوں کے لیے ایک نیا مرکز بنالیں گے۔

کتاب ‘فرنٹ لائن پاکستان: عسکریت پسند اسلام کے ساتھ جدوجہد’ کے مصنف زاہد حسین کہتے ہیں ‘اگر یہ جنگ وسعت اختیار کرکے دوسرا رُخ اختیار کرلیتی ہے، تو پاکستان اس قبائلی جنگ میں نقصان اُٹھا سکتا ہے۔’

‘افغان اور پاکستانی طالبان کے نظریاتی خطوط میں زیادہ فاصلہ نہیں، ان دونوں کے دنیا کے حوالے سے خیالات اور مقاصد اس خطے میں مشترکہ ہیں۔’

ان  مسلح گروہوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ایمن الظواہری کے زیرِ قیادت القاعدہ سے کہیں زیادہ پریشانی کا باعث ہے۔

پاکستانی انٹیلی جنس کے حکام کو یقین ہے کہ فاٹا اور افغانستان کی سرحدی علاقے کے قریب سے ان گروہوں کی موجودگی سے ان کی توجہ عراق اور شام پر بڑھ سکتی ہے۔

لیکن وہ اس پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے چند سو افراد ایک فورس میں کام کررہے ہیں، جس کی قیادت الظواہری کے داماد اور نائب سفیان المغربی کے پاس ہے، اور ایک درجن یا اس سے زیادہ صف اوّل کے کمانڈر تربیتی پروگرام کی نگرانی، جانچ پڑتال، میڈیا کے ذرائع پر نظر، اندرونی روابط، سرمایہ کی فراہمی، دھماکہ خیز ہتھیاروں کی فراہمی، سیکیورٹی اور اندرونی معاملات کی نگرانی کررہے ہیں۔

فاٹا میں فوجی آپریشن کے سلسلے کے باوجود سیکیورٹی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اورکزئی کے آس پاس تمام فورسز تاحال ان کو ان کے مقام سے پیچھے ہٹانے میں ناکام رہی ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے اہم مراکز شمالی وزیرستان میں موجود ہیں، لیکن انہوں نے اپنی موجودگی دیگر قبائلی علاقوں میں بھی برقرار رکھی  ہے، بشمول کرّم ایجنسی جہاں وہ فرقہ وارانہ تصادم میں ملوث ہیں، جبکہ باجوڑ اور مہمند سےوہ  سرحد پار حملے کرتے ہیں۔

لیکن اس مسئلے کو حل کون کرے گا، اور کب اور کس طرح یہ ہو پائے گا، تاحال یہ واضح طور پر پریشان کن سوال ہے۔

نہ تو فوجی اور نہ ہی عوامی نمائندے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی ذمہ داری لینا چاہتے ہیں۔

الیکشن میں اب چند ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں، موجودہ حکومت ملٹری آپریشن کا معاملہ نگران حکومت کے لیے چھوڑدینا چاہتی ہے، تاکہ اس معاملے سے پیدا ہونے والے مضمرات بھی اگلی انتظامیہ کو بھگتنا پڑیں۔

اور اس سب کے باوجود تاحال فوجی اور عوامی قیادت کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا ہے کہ پاکستان کے عسکریت پسندوں سے کیوں کر بات چیت کی جائے اور فوجی کارروائی کے حوالے کس طرح مشترکہ موقف اختیار کیا جائے۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ‘اب انہیں یقین آگیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا کنٹرول پاکستان کے لیے اچھا نہیں ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس سے عسکریت پسندی کے خلاف مربوط حکمت عملی یا قومی مؤقف کی ترجمانی نہیں ہو پارہی ہے۔ ’

جنوری کے پہلے ہفتے تک فوجی تخمینے کے مطابق اننچاس ہزار دوسو سے زیادہ پاکستانی عسکریت پسندوں کے تشدد کا نشانہ بن چکے ہیں۔ (عام تاثر کے برعکس، اس اعداد و شمار میں صرف مرنے والوں کو ہی نہیں بلکہ زخمیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے)۔ جبکہ فوج اور فرنٹیئر کور کے تین ہزار چھ سو سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔

مغربی افواج کے افغانستان چھوڑ نے سے قبل عسکریت پسند گروہ کو شکست نہیں دی گئی یا انہیں صلح پر آمادہ نہیں کیا گیا تویہ ہلاکت خیزی کیا بڑھ نہیں جائے گی؟

(بشکریہ ڈان)

http://urdu.dawn.com/2013/02/19/end-of-the-afghan-war-possibilities-and-pitfalls-ii-post-2014-afghanistan-pakistans-nightmare/

مذاکرات کی پیشکش بدنیتی پر مبنی ہے‘

صبا اعتزاز

اسلام آباد

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 , 15:54 GMT 20:54 PST

 کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی حالیہ مذاکرات کی پیشکش کو سیاسی اور حکومتی حلقوں میں امید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے لیکن کچھ مبصرین کو تحفظات ہیں کہ پرانی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی احمد رشید نے کہا کہ پیشکش غلط بنیاد اور مقاصد پر مبنی ہے۔ بات چیت کا ماحول شرائط پر نہیں بلکہ جنگ بندی کی نیت پر قائم ہونا چاہیے۔

احمد رشید نے یاد دلایا کہ اس طرح کے امن معاہدے پہلے بھی ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں۔

معروف صحافی رحیم اللہ یوسف زئی احمد رشید سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’حکومت ان شراط کو مان کر کمزور نظر آئے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش ہے۔‘

تجزیہ کار ریٹارڈ بریگیڈر شوکت قادر نے کہا کے تحریکِ طالبان کے ارادے خطرناک نظر آ رہے ہیں۔ وہ طاقت کے بل بوتے پر سیاست میں جگہ بنانا چاہ رہے ہیں اور یہ کسی ریاست کو قبول نہیں ہونا چاہیے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اس پیشکش کا تعلق آنے والے دنوں میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مذاکرات سے بھی منسلک ہے۔ ’ان کی نظر میں یہ تمام چیزیں مربوط ہیں۔ افغان طالبان جو فیصلہ کریں گے پاکستانی طالبان اس سے رہنمائی حاصل کریں گے۔‘

احمد رشید نے ملتا جلتا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا، ’پاکستانی طالبان دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ خطے سے جا رہا ہے تو اب ان کے جہاد کا مقصد کیا ہو گا؟‘

انہوں نے کہا کہ اس پیچیدہ صورتحال میں طالبان اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کو ان کی کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ دہشت گردی کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ ’یہ ابھی کمزور نہیں ہیں اور کافی خوف پھیلا سکتے ہیں۔‘

دوسری طرف بریگیڈیر شوکت کے خیال میں فوج کی کامیاب کارروائیوں کے باعث پاکستانی طالبان پسپا ہو گئے ہیں اور وقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستحکم ہو کر دوبارہ دہشت گردی شروع کر دیں۔

جب مبصرین سے پوچھا گیا کہ اس مسئلے کا حل سیاسی ہو گا یا فوجی عمل سے تو رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق حل مشترکہ ہونا چاہیے۔ فوجی کارروائی ضروری ہے لیکن بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔

برگیڈیر شوکت قادر نے کہا کہ ان کی نظر میں مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں، ’ان لوگون کو اگر پہچان دی گئی تو ان کی سیاسی جگہ بن جائے گی۔‘

واضح رہے کہ تحریک طالبان کی اس پیشکش کو سیاسی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا گیا ہے۔ چند دن قبل مسلم لیگ نواز کے صدر میاں نواز شریف نےزور دیا کہ عوام کو امن کی ضرورت ہے اور حکومت کو طالبان کے ساتھ بات چیت پر سنجیدگی دکھانی چاہیے۔

یاد رہے کہ طالبان نے مذاکرات کے ساتھ اپنی شرائط واضح کی ہیں کہ نواز شریف، جماعت اسلامی کے منور حسن اور جمیعت علائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات میں حکومت کا ’ضامن‘ ٹھہرایا جائے۔

(بشکریہ بی بی سی)

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130213_taliban_q_and_a_rh.shtml

مذاکرات طالبان سے

Sunday 10 February 2013

ڈان اخبار

غالباً اس بارے میں اظہارِ خیال کا وقت ایک اتفاق تھا تاہم جنرل اشفاق پرویز کیانی اور نواز شریف نے طالبان مذاکرات کی پیشکش پر اپنے ردِ عمل میں جمعرات کو جو کچھ کہا، وہ ایسی ریاست کے لیے، جو عسکریت پسندی کے خطرات کا سامنا کررہی ہے، اسے مزید الجھانے جیسا تھا۔

افغانستان میں تعینات، رخصت ہونے والے ایساف کمانڈر جنرل جان ایلن سے پاکستانی فوج کے سربراہ نے الوداعی ملاقات کی۔ ایساف کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اس موقع پر پاکستانی فوج کے سربراہ نے کہا ‘ابھی یہاں بہت کچھ کرنا ہے۔’

اور جناب نواز شریف کے بیان میں بھی، ان کے اپنے الفاظ میں، مزید کچھ کرنے کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور یہ حکومت ہی ہے جس کے لیے پاکستانی طالبان سے مذاکرات کرنا بہتر ہے۔

خاص کر نواز شریف کے بیان میں جو حیران کُن بات ہے، وہ یہ کہ اس میں تحریکِ طالبان پاکستان یا ان کی پُرتشدد روش کی مذمت کے بارے میں ایک لفظ بھی موجود نہیں۔

بجائے اس کے کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے سربراہ نے جو کہا، وہ ان کھودے گئے گڑھوں میں فٹ بیٹھتا ہے جو حکومت پر ان کی بے اعتباری کے ‘ٹریک ریکارڈ’ نے کھودے تھے۔

 چونکہ میاں نواز شریف نے حکومت کے ٹریک ریکارڈ کا معاملہ اٹھایا ہے تو بہتر ہوگا کہ خود طالبان کے ٹریک ریکارڈ کا بھی دونوں صورتوں میں جائزہ لیا جائے:

 حکومت سے پہلے کیے گئے امن معاہدوں کی پاسداری اور ریاست ہو یا معاشرہ، ان پر کیے گئے بدترین خونی حملوں کا سلسلہ۔

وہ کون سا امن معاہدہ ہے، جس پر طالبان نے پہلے کبھی عمل کیا؟ کیا یہ پاکستانی سرزمین پر سرگرم غیر ملکی دہشت گردوں کو نکال باہر کردیں گے؟ کیا وہ القاعدہ کے ساتھ تعلقات کو ختم کردیں گے؟

کیا وہ ہتھیار پھینک کر جمہوری عمل کو تسلیم کرلیں گے؟ کیا وہ آئینِ پاکستان کے بنیادی اصولوں کا احترام کریں گے؟

ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے ۔۔۔ نہیں۔

تو ایسے میں جناب شریف اور وہ دوسرے جو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کی وکالت کررہے ہیں، ان سے اس مرحلے پر یہ سوال کرنا غیر ضروری نہ ہوگا:

  اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ طالبان امن مذاکرات کے نتیجے میں طے شدہ اور قابلِ قبول شرائط کی پابندی کریں گے اور یہ کرائے گا کون؟

 ویسے یہ تقریبا ٹیڑھی بات ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کی طرف سے امن مذاکرات کی پیشکش، ان کے تششدد کی ایک خطرناک لہر کے دوران سامنے آئی۔

اور اب بعض سیاستدان پیشکش کی وکالت کرتے ہوئے اُن کی طرف امن کا ہاتھ بڑھارہے ہیں جو جدید ریاست کا بازو مروڑ کر، اس کے دل میں خنجر اتارنے کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے۔

مذاکرات کی پیشکش کا تجزیہ کرنے کے لیے کئی ممکنہ وجوہات ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ اس پیشکش کے ذریعے سیاست اور معاشرے میں تحریکِ طالبان پاکستان کو محورِ گفتگو بنانے کو ترجیح دیتے ہوں۔

اگرچہ یہ بات بہت ضروری ہے کہ اُن کے اوپر کڑی نظر رکھی جائے تاہم جیسا کہ جنرل کیانی اور ان کی فوج کا اظہارِ تاسف ہے کہ ریاست اُس وقت تک کوئی جنگ نہیں جیت سکتی اگر اُس پر معاشرہ اور سیاستدان تقسیم ہوں، اتفاق ناگریز ہے۔

نواز شریف تحریکِ طالبان پاکستان کی بیعت لیے سامنے آئے ہیں، جس پر عمل پورے ملک کے لیے بدترین ثابت ہوگا۔

(بشکریہ ڈان)

http://urdu.dawn.com/2013/02/10/editorial-taliban-talks

مزید خُوں ریزی

اداریہ

Tuesday 5 February 2013

پاکستان کے شورش زدہ علاقوں میں جمعہ کو ایک بار پھر فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا اور ایک مسجد کے باہر خود کش حملہ کیا گیا۔ معمول بن جانے والے اس طرح کے پُر تشدد حملے ناقابلِ برداشت ہوچکے۔

لکی مروت اور ہنگو پہلے سے پہی دہشت گردی سے متاثر ہیں اور ایسے میں تازہ ترین دہشت گردی کا واقعہ اختتامِ ہفتہ پیش آیا۔اُن علاقوں اور اطراف میں امن و امان کی جو صورتِ حال ہے، اس کو دیکھتے ہوئے ناخوش گوار سچ یہ ہے کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے اس طرح کے مزید حملوں کے خدشات موجود ہیں۔

انہیں دیکھ کر واضح ہوچکا کہ اس طرح کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے جو دفاعی اقدامات کیے گئے تھے، وہ قطعی موثر ہونے سے بہت دور جاچکے۔

پاکستان بھر کی مساجد کے باہر نمازِ جمعہ کے موقع پر جامہ تلاشی اور دیگر حفاظتی اقدامات معمول بن چکے۔ اپنی تعریف کے لحاظ سے مساجد عوامی مقامات میں شامل ہیں اور اس لحاظ سے انہیں خودکش یا دوسرے حملوں سے محفوظ ہونا چاہیے۔

یہی معاملہ فوجی تنصیبات کا بھی ہے۔ یہ وہ نہایت حساس ترین مقامات ہی جہاں تہ در تہ حفاظتی انتظامات ہوتے ہیِں لیکن ایسے علاقوں میں کہ جہاں وہ عسکریت پسندوں کے خلاف محاذ پرخطرات کے سامنے ہیں، ان کی کُلّی حفاظت نظر نہیں آتی۔

تو پھر مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح عسکریت پسندی کے خلاف لڑائی کی زیادہ موثر، فعال اور جارحانہ حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوگیا کہ اس وقت طالبان کی قوت و شدت کا مرکز کہاں ہے: شمالی وزیرستان۔

عسکریت پسندی کے خلاف لڑائی میں اب تک شمالی وزیرستان فہرست پر تھا۔ حقانی نیٹ ورک کے باعث سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی بھی اسے ہمدردی حاصل تھی۔ ان کے خلاف کارروائی پر امریکی دباؤ رہا، جس پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ سامنے آتا رہا۔ لگتا یہ ہے کہ اب وہ اس فہرست سے نکل چکا۔

اگرچہ ایجنسی تو کھو چکے مگر خیبر پختون خواہ، فاٹا، پاٹا اور پنجاب کے بعض علاقے بنیادی طور پر خطرے میں ہی گھرے رہیں گے اور ایسے میں بات چیت کہاں، شمالی وزیرستان واپس لینے کے لیے صرف کارروائی کی ضرورت ہوگی؟

خیبر پختون خواہ بدستور مشکل میں ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران ایک بار پھر اسے بد ترین تششد کا سامنا رہا۔

ایسے میں عوامی نیشنل پارٹی کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے رائے عامہ ہموار اور سیاسی قوتوں میں اتفاقِ رائے پیدا کیا جاسکے لیکن اس کی کوششوں پر ردِعمل حوصلہ افزا نہیں۔

انتخابات سامنے ہیں، جن کے انعقاد پر سیاستدان تحفظات کا شکار ہیں اور فوج اپنے سچے ارادوں پر پڑے شکوک کی دھند کو صاف کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ذرا سی حمایت اور منصوبہ بندی کوئی نہیں۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان مزید پُرتشدد حملوں کے سامنے کھڑا ہے۔

(بشکریہ ڈان نیوز)

http://urdu.dawn.com/2013/02/05/more-bloodshed-4-dawn-editorial-aq/

ڈرون حملوں  میں ا ہم القاعدہ رہنما ہلاک

امیر نواز خان

  پاکستان  میں ۹ دسمبر کو کئے گئے  ایک ڈرون حملے میں القاعدہ کا  کا کمانڈر  محمد احمد المنصور  او ر۳ دوسرے فائٹر  ہلاک ہوگئے۔اس سے پہلے پاکستان میں کئے گئے ڈرون حملے میں القاعدہ کا سینئر رہنما اور ایمن الظواہری کا جانشین شیخ خالدبن عبدالرحمان ہلاک ہوگیا۔ القاعدہ نے جمعے کی صبح اپنی ایک ویب سائٹ پر الکویتی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ناشتہ کررہے تھے۔

وزیرستان ،خصوصا شمالی وزیرستان ،القاعدہ اور طالبان  اور غیر ملکی جہادیوں کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر کے دہشت گرد یہاں موجود ہیں۔ شمالی وزیر ستان میں القائدہ اور طالبان کے تمام گروپوں  اور غیر ملکی جہادیوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہان عرب ہیں ،ازبک ہیں ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی” کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں”( ڈیلی ڈان) وہان القائدہ ہے،طالبان ہیں، پنجابی طالبان ہیں ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ـ” اسامہ بن لادن کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔”

شمالی وزیر ستان میں القائدہ اور طالبان کے تمام گروپوں  اور غیر ملکی جہادیوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ القائدہ کے دہشت گردوں  اور غیر ملکی دہشت گردوںکا مارا جانا اس چیز کا ثبوت ہے کہ  ڈرون حملے دہشت گردوں کے خلاف ہو رہے ہیں اور پاکستان کے مفاد میں ہیں۔

فرحت تاج کے مطابق   آزاد میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں ہے اور وہ پاکستانی میڈیا کی خبروں ، اور دہشت گردوں کی سپلائی کردہ معلومات سے استفادہ کرتے ہیں  جو کہ قابل اعتبار معلومات نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر رپورٹیں غلط معلومات من گھڑت واقعات اور مفروضوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

صوبہ خیبرپختونخواہ کے سینئر وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما  شہید بشیر بلور نے کہا کہ دُنیا کے تمام دہشت گرد ہمارے علاقے میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید   کہاکہ شمالی وزیرستان میں مقامی لوگ کم اور ازبک، تاجک اور داغستان کے لوگ زیادہ نظر آئیں گے.

“جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں یکم دسمبر کو امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے اہم رہنما عبدالرحمن الزمان یمنی کی ہلاکت نے مغربی انٹیلی جنس کے دعوؤں کو ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ وزیرستان کا علاقہ اب بھی القاعدہ کے اہم رہنماؤں کی پناہ گاہ ہے۔ اس کے باوجود کہ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں اور اس کے بعد امریکی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو 11 برس گزر چکے ہیں۔ عرب شہزادے عبدالرحمن الزمان یمنی اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی تھا اور 2005ء سے اب تک پاکستان میں ہونے والی امریکی ڈرون حملوں میں مارا جانے والا 50 واں القاعدہ رہنما ہے۔ یمنی کو وانا کے وقت شن وارزک کے علاقے میں ایک کار کو ڈرون حملے سے نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ یکم جنوری 2012ء سے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی طرف سے ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جانے والا عبدالرحمن یمنی 43 واں شخص ہے۔ 2005ء سے اب تک سی آئی اے نے پاکستان میں 338 ڈرون حملے کئے ہیں۔ پاکستان کی واردات دفاع کی طرف سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس برس جنوری سے اب تک 43 ڈرون حملوں میں القاعدہ کے چھ اہم رہنما مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 24 ستمبر کو ڈرون حملے میں ابو کا شاالعراقی اور فتح الترکی، 24 اگست کو مشرقی ترکستان تحریک کا یمنی یاکوف اکا عبدالجیار، 21 اگست کو حقانی نیٹ ورک کے برہان الدین قاضی، 4 جون کو القاعدہ کا سیکنڈ ان کمانڈ ابویحییٰ اللبی 13 مارچ کو شمس اللہ اور امیر حمزہ توجی خیل، 9 فروری 2012ء کو کمانڈر بدمنصور کو ہلاک کیا گیا۔ 2011ء میں کئے جانے والے 72 ڈرون حملوں میں القاعدہ کے انتہائی اہم 10 رہنما مارے گئے۔ ان میں 27 اکتوبر کے حملے میں 4 القاعدہ کمانڈر محمد خان، حضرت عمر، معراج وزیر اور اشفاق وزیر، 26 اکتوبر کو تاج گل محسود، 13 اکتوبر کو حقانی نیٹ ورک کے جانباز ذردان، 30 ستمبر کو علیم اللہ اکا علیم اللہ، 11ستمبر پاکستان القاعدہ آپریشن کے چیف ابوحفس الشیری، 22 اگست کو ڈاکٹر ایمن الظواہری کے نمبر 2 عطیہ عبدالرحمن اور 3 جون 2011ء کو کمانڈر الیاس کشمیری ہلاک ہوئے۔ سی آئی اے کی طرف سے 2010ء میں پاکستان میں کئے جانے والے 122 ڈرون حملوں میں القاعدہ کے 8 اہم رہنما ہلاک ہوئے۔ ان میں 17 دسمبر 2010ء کو علی مران، 26 ستمبر کو افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے چیف شیخ الفتح، 14 اگست کو امیر معاویہ، 21 مئی کو القاعدہ کے نمبر 3 مصطفی ابوالینرید، 8 مارچ کو القاعدہ کے اہم منصوبہ ساز اور بموں کے ماہر صدام حسین الحسامی المعروف غزوان ایمنی، 17 فروری کو مصری اور کینیڈا کے القاعدہ کے رہنما شیخ منصور، 15 فروری کو ترکستانی اسلامک ڈاٹی کے چیف عبدالحق الترکستانی اور 7 جنوری 2010ء کو محمود مہدی زیدان کو حملے میں ہلاک کیا گیا۔ امریکا نے 2009ء میں پاکستان میں 54 ڈرون حملے کئے اور القاعدہ کے 10 اہم رہنماؤں کو ہلاک کیا۔ ان میں 17 دسمبر کو القاعدہ کے معروف کمانڈر زوہیب الزہبی، 8 دسمبر کو القاعدہ کے بیرونی آپریشن کے چیف صالح الصومالی 14 ستمبر کو اسامہ بن لادن کے لیفٹیننٹ اور ازبکستان اسلامی جہاد کے رہنما ناظم الدین زالالوف الیاس 5 اگست 2009ء کو القاعدہ سے منسلک تحریک طالبان پاکستان کے امیر اور بیت اللہ محسود 22 جولائی کو اسامہ بن لادن کے بیٹے سعد بن لادن، 23 جون کو افغان طالبان کے رہنما ملاسنگین، 29 اپریل کو الجیریا کے القاعدہ منصوبہ ساز ابو سلیمان الجزیری اور 7 جنوری 2009ء کو افریقی ممالک میں امریکی سفارتخانوں میں حملوں میں کردار ادا کرنے والے شیخ احمد سلیم اور اسامہ الکینی کو ہلاک کیا گیا۔ 2008ء میں کئے گئے 36 ڈرون حملوں میں القاعدہ کے ریکارڈ 14 رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا۔ ان میں 22 نومبر کو ابو زبیر المصری، 19 نومبر کو عبداللہ عظام السعودی، 31 اکتوبر کو القاعدہ کے پروپیگنڈہ چیف حسن خلیل الحکیم اکا ابوجہاد المصری، 26 اکتوبر کو محمد عمر، 16 اکتوبر کو خالد حبیب، 8 اکتوبر کو امریکی فورسز کیخلاف کراس بارڈر آپریشن کے القاعدہ ابوحسان الریمی، 8 ستمبر کو القاعدہ کے چیف ابوحارث 4 ستمبر کو ابوفا السعودی، 12 اگست کو عبدالرحمن اور اسلام وزیر، 28 جولائی کے بارودی کے ماہر ابو خباب المصری، 14 مئی کو القاعدہ کے ایک اور منصوبہ ساز کو ہلاک کیا گیا۔ اسی نام کا ایک شخص اپریل 2009ء میں بھی ہلاک ہوا اور 29 جنوری 2008ء کو بگرام میں امریکی نائب صدر ڈک چینی پر خودکش حملے کا منصوبہ ساز القاعدہ کے نمبر 2 ابولیستھ اللبی شامل ہیں۔ 2007ء میں کئے گئے چار ڈرون حملے گئے گئے جبکہ 2006ء میں دو حملے کئے گئے لیکن ان چھ حملوں میں القاعدہ کا کوئی اہم رہنما ہلاک نہیں ہوا لیکن 2005ء میں کئے گئے 3 ڈرون حملوں میں القاعدہ کے دو اہم رہنما ہلاک کئے گئے۔ ان میں القاعدہ کے اہم کمانڈر ابوحمزہ ربیعہ کو یکم دسمبر کے حملے میں ہلاک کیا گیا جبکہ 18 مئی 2005ء کو کئے گئے ڈرون حملے میں القاعدہ کے بموں کے ماہر یمن ہتام ایمنی کو ہلاک کیا گیا۔ ڈرون حملوں کا بنیادی مقصد افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے بچ جانے والی قیادت کو نشانہ بنانا ہے لیکن ان حملوں کے باوجود اب بھی بہت سے اہم القاعدہ رہنما زندہ ہیں۔ ان میں سے القاعدہ کے چیف ڈاکٹر ایمن الظواہری، افغانی طالبان کے امیر ملا محمد عمر، افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے چیف آپریشنل کمانڈر سیف العدل، حقانی نیٹ ورک کے آپریشنل کمانڈر سراج الدین حقانی، القاعدہ کے آفیشل ترجمان سلیمان ابوغیث، القاعدہ کے روحانی رہنما ابوحفس الموریطانی شامل ہیں۔ سی آئی اے کی ہٹ لسٹ القاعدہ اور طالبان سے منسلک چھ اہم جہادی رہنما تھے جن کو واشنگٹن اور اسلام آباد کا مشترکہ دشمن خیال کیا جاتا ہے۔ ان میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود، ان کے نمبر 2 ولی الرحمن، مولوی فقیر محمد، حافظ گل بہادر، مولوی نذیر اور حسان اللہ حسان شامل ہیں۔

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=43707

1

فرحت تاج کے مطابق وزیرستان کے قبائلی علاقوں کے اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند ہیں۔ وزیرستان کےرہائشیوں کے مطابق ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ نہیں ہے اور اگر کسی کو ان سے خطرہ ہے، وہ یا تو شدت پسند ہیں یا ان کے حامی، جن کی نظریں ہر وقت اآسمان کی طرف لگی رہتی ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے مراکز ختم ہوں، ان کا نیٹ ورک وہاں نہ رہے اور لوگ ان کے ہاتھوں یرغمال نہ رہیں کیونکہ لوگ طالبان اور القائدہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں تنگ ہیں اور بے پناہ غربت کا شکار ہیں۔

                بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود  کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر  رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر  ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔

دہشت گرد عناصر  پاکستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

اسفند یاو ولی نے کہا کہ ’یہ جو ہزاروں کی تعداد میں ازبک، تاجک، عرب آئے ہیں یہ ہماری سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کر رہے اور اگر کر رہے ہیں تو ہم میں کیوں اتنی جرات نہیں کہ ہم ان کی مذمت کریں‘۔

انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’خودکش حملہ آور جب آتا ہے اپنے آپ کو اڑاتا ہے اور بےگناہ لوگ مرتے ہیں، اس کی مذمت میں کیوں تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ڈرون حملوں کے باعث فضائی خودمختاری کی خلاف ورزی کی بات کرتے ہیں لیکن غیر ملکی شدت پسندوں کی وجہ سے پاکستان کی زمینی خودمختاری کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اس پر کیوں نہیں بولتے۔

(بشکریہ امیر نواز خان و اردو آرٹیکلز)

http://urduarticles.com/Articles/%DA%88%D8%B1%D9%88%D9%86-%D8%AD%D9%85%D9%84%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7-%DB%81%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%DB%81-%D8%B1%DB%81%D9%86%D9%85%D8%A7-%DB%81%D9%84%D8%A7%DA%A9

طاہر القادری کے دھرنے کا ڈراپ سین

ڈیلی ایکسپریس، ایڈیٹوریل  جمعـء 18 جنوری 2013

 حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد طاہر القادری کا پانچ روزہ دھرنا ختم ہو گیا۔ دھرنے میں شریک لوگ پر امن طریقے سے واپس چلے گئے اور کسی قسم کا کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ دھرنا 13 جنوری کو شروع ہوا اور 17جنوری کواس کا ڈراپ سین ہوگیا۔ جمعرات کو تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تین بجے کی ڈیڈ لائن اور ایکشن لینے کی دھمکی کے بعد 10 رکنی حکومتی مذاکراتی ٹیم اور طاہر القادری کے درمیان تقریباً پانچ گھنٹے تک مذاکرات ہوئے جس کا نتیجہ اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن کی صورت میں سامنے آیا۔

چار نکاتی اسلام آباد ڈیکلریشن کے تحت قومی اسمبلی 16مارچ 2013ء سے قبل کسی وقت بھی تحلیل کر دی جائے گی جس کے تحت عام انتخابات 90 روز کے اندر منعقد ہو سکیں گے۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 کے تحت امیدوار کی پری کلیرنس کے بغیر اسے انتخابی مہم شروع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ دوسرا نکتہ یہ کہ پاکستان عوامی تحریک حکومتی اتحاد سے مکمل اتفاق رائے سے دو نام نگران وزیراعظم کے لیے تجویز کرے گی بعد ازاں آئینی طریقہ کار کے تحت نگران وزیراعظم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ طاہر القادری کا تیسرامطالبہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو آئینی پیچیدگیوں کے باعث تسلیم نہیں کیا گیا۔ چوتھے نکتے میں کہا گیا کہ انتخابی اصلاحات کے فیصلے پر سو فیصد عملدرآمد ہو گا۔

طاہر القادری کے پانچ روزہ لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران پورے ملک میں غیر یقینی کی فضا چھائی رہی جب کہ لاہور سے اسلام آباد تک شہری زندگی کے معمولات اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ سیاسی بے یقینی نے عوام کو پریشان کیے رکھا۔ لانگ مارچ کے دوران دہشت گردی کا شدید خطرہ بھی اپنی جگہ موجود رہا مگر شکر ہے کہ ایسا کوئی سانحہ رونما نہیں ہوا، اگر اس موقع پر دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہو جاتا تو اس میں بے گناہ افراد کی جانیں ضایع ہوتیں جس سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی ادارے لانگ مارچ اور دھرنے کے دوران انتہائی الرٹ رہے۔بہرحال حکومت نے بحران کو ٹالنے کے لیے مذاکرات کا جو راستہ اختیار کیا، وہ درست رہا اور معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔

ادھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس سارے کھیل میں ملک وقوم کے ہاتھ کیا آیا؟ لانگ مارچ اور دھرنے میں شریک لوگوں میں سے اکثریت کو اصل سیاسی صورتحال کا علم نہ تھا۔ وہ مہنگائی‘ غربت‘ بے روز گاری‘ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے ستائے ہوئے تھے اور یہ اس لیے دھرنے میں شریک ہوئے کہ شاید اس طرح ان کے دکھوں اور پریشانیوں کا مداوا ہو سکے گا۔ مگر دھرنے کا اختتام ان کے مسائل کے حل کے بجائے طاہر القادری کے سیاسی مطالبات کی قبولیت پر ہوا۔ اس دھرنے کا پھل اقتدار کے اسٹیک ہولڈرز کی جھولی میں تو گرا ہوگا مگردھرنے کے شرکاء خالی ہاتھ ہی گھروں کو لوٹ گئے۔ دھرنے میں شریک مسائل زدہ عوام جو امیدیں لے کر آئے تھے وہ بر نہ آ سکیں۔

جب وہ اپنے گھروں کو لوٹیں گے تو انھیں پھر انھی محرومیوں اور مسائل کا سامنا ہو گا جن کے حل کے لیے انھوں نے شدید سردی اور بارش کی صعوبتیں جھیلیں ۔ یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ دھرنے میں شریک معصوم بچے‘ عورتیں اور مرد بارش میں بھیگتے اور سردی سے ٹھٹھرتے رہے مگر مذاکرات بم پروف کنٹینر میں ہوتے رہے ۔ طاہر القادری نے اپنے دھرنے کے دوسرے روز اسمبلیاں اور الیکشن کمیشن تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ طاہر القادری اپنی تقریروں کے دوران حکومت کو یزیدی گروہ سے مشابہ قرار دیتے ہوئے انھیں برا بھلا کہتے رہے دوسری جانب حکومتی ارکان کا رویہ بھی ایسا ہی رہا مگر جمعرات کو ہونے والے مذاکرات میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے گلے لگا لیا۔

ایک جانب یہ خوش آیند امر ہے کہ حکومت نے دھرنے کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی اور گولی کا راستہ اپنانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا اور اسے انا کا مسئلہ نہیں بنایا مگر اس کا دوسرا پہلو مستقبل میں خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی گروہ لانگ مارچ اور دھرنے کے زور پر حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے پورے سیاسی نظام میں ہلچل مچا دے اورحکومت سے اپنی مرضی کے مطالبات منوا لے۔ اگر مروجہ انتخابی نظام میں کوئی خامی ہے تو اس کے حل کا بہترین فورم پارلیمنٹ ہے اور اگر کوئی آئینی یا قانونی خامی ہے تو اس کے لیے عدالت کا فورم موجود ہے۔طاہر القادری کی کوئی سیاسی جماعت نہیں،انھوں نے جو مطالبات پیش کیے وہ سیاسی نوعیت کے تھے اور اس مقصد کے لیے انھوں نے منہاج القرآن کا مذہبی پلیٹ فارم استعمال کیا۔

ان کا حکومت سے نگران سیٹ اپ کے لیے جو معاہدہ طے پایا ہے وہ بھی سیاسی نوعیت کا ہے۔ سیاسی مطالبات پیش کرنا کسی سیاسی جماعت کا حق ہے نہ کہ ایک ایسی مذہبی تنظیم کا جو الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہی نہیں۔ طاہر القادری کے دھرنے کے دوران مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی دعوت پر رائیونڈلاہور میں اپوزیشن جماعتوں نے ایک اجلاس کے دوران طاہر القادری کے اس انداز سیاست کی مخالفت کی۔ یوں دیکھا جائے تو لانگ مارچ ڈیکلریشن پر اپوزیشن خوش نظر نہیں آتی۔ جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے اس معاہدے کو مک مکا قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کا تختہ الٹانے کے لیے آنے والے حکومت کے ساتھ شریک ہو گئے‘ ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے ایک دوسرے کے گلے مل رہے تھے‘ طاہر القادری کا چار نکاتی ایجنڈا پہلے ہی سے آئین میں موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے مضحکہ خیز انداز میں کہا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہوا۔یوں ملک میں نئی سیاسی محاذ آرائی متشکل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔طاہر القادری اور حکومت کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے ، اس پر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا بھی ضروری ہے تاکہ نگران حکومت کے قیام اور عام انتخابات کے انعقاد کے معاملات خوش اسلوبی سے طے پا سکیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر صدر زرداری نے 21 جنوری کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں آیندہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ امید ہے کہ اب طے پانے والے معاہدے کے مطابق الیکشن کا انعقاد بروقت اور ملک میں موجود سیاسی افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

http://www.express.pk/story/79541/

(بشکریہ ڈیلی ایکسپریس)

وقتِ عمل آپہنچا

Friday 28 December 2012

ڈان اخبار

بشیر بلور کو کھونے کے صرف چند روز کے اندر ہی ایک اور نئی کہانی شروع ہوچکی۔ ایسا ملک جو دہشت گردی اور عسکریت پسندی میں مبتلا ہے، اس میں ہر المیے کے بعد ایسا ہوتا ہے لیکن اب یہ زیادہ تیز رفتاری سے ہونے لگا ہے۔

 اگر کسی سنگین خطرے کو روکنے کے لیے کچھ کرنے کے بجائے صرف ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہا جائے تو اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ خطرہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

صرف پچھلے دس دنوں کو ہی لے لیجیے۔ بجائے اس کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جاتا، مسئلے کو قالین تلے دبایا جاتا رہا ہے۔

خیبر پختون خواہ میں عسکری تنصیبات، جناب بلور کا قتل اور پولیو رضاکاروں کو نشانہ بنانے سے ایک بار پھر تازہ حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔

کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد نے نہ صرف متعدد جانیں لیں بلکہ شہر کو بھی جامد کرڈالا۔ اگرچہ یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے مقامی مسئلہ ہے لیکن اس کی جڑیں قبائلی علاقوں سے پروان چڑھنے والی عسکریت پسندی سے ملتی دکھائی دیتی ہیں۔

ایسے میں ملک کے لیے ان احساسات کا کیا معنیٰ ہوسکتا ہے، جس کا اظہار خیبر پختون خواہ کے وزیرِ اعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے گزشتہ دو تین روز کے دوران اپنے رہنما کا سوگ منانے کے دوران کیا۔

انہوں نے ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر لائحہ عمل تیار کریں۔

 یہاں بنیادی بات ‘فوری’ کی ہے۔ اگر عسکریت پسند تشدد ترک کرنے پر آمادہ نہیں تو پھر اُن کے خلاف فوری طور پر فوجی آپریشن ہونا چاہیے۔

اہم بات یہ بھی ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے ان گمراہ کُن دلیلوں اور بیانات کے خلاف بھی بات کی ہے جو عام طور پر، بشمول مرکزی سیاسی دھارے کی بعض سیاسی جماعتوں کے، رہنماؤں کی طرف سے بھی کی جاتی ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ صورتِ حال کو افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا سے قبل بہتر بنایا جائے، نیز ‘اچھے’ اور ‘بُرے’ طالبان میں امتیاز کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کے حوالے سے ڈرون حملوں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر غیر ملکی اور خود پاکستانی بھی، ڈرون حملوں سے زیادہ ملکی خود مختاری کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

ان کی رائے میں یہ مسئلے کی جڑ ہیں۔ اب ایسے میں فوری اور واضح طور پر کس چیز کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے تو یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ اب اگلا قدم کیا ہوگا۔ اگر بھرپور فوجی آپریشن ممکن نہیں تو پھر کھل کر عوام کو وجوہات بتانا چاہئیں کہ ایسا کیوں ممکن نہیں۔

سب سے اچھی بات تو یہ ہوتی کہ ایسا قدم بھرپورسیاسی اتفاقِ رائے سے اٹھایا جائے مگر اب اس کے لیے وقت باقی نہیں بچا۔

ایک مرتبہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں عسکریت پسندی کے خلاف اتفاقِ رائے کا اظہار ہوچکا، اب یہ حکومت اور فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ فیصلہ لیں اور عمل کریں۔

گزشتہ ایک دہائی سے بھی زیادہ طویل عرصے سے،  دہشت گردی اور عسکریت پسندی سے نبرد آزما پاکستان کی زندگی کا یہ ایک اہم ترین لمحہ ہے۔

عسکریت پسند ظاہر کررہے ہیں کہ پہلے کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران انہوں نے جو زخم کھائے، وہ مندمل ہوچکے، جو نقصان اٹھایا وہ پورا ہوچکا۔

اب عسکریت پسند بھرپور  قوت اور زیادہ اہداف کے ساتھ  پھر سامنے ہیں مگر ہمارے قائدین ملک کو لاحق اس خطرے کو نظر انداز کررہے ہیں۔

(بشکریہ ڈیلی ڈان)

http://urdu.dawn.com/2012/12/28/time-for-ac/

ناقابلِ شکست شدت پسندی

Tuesday 25 December 2012

ڈان اخبار

عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنما اور پاکستان میں بڑھتی عسکریت پسندی کے سخت ناقد بشیر احمد بلور اب ہم میں نہیں رہے۔

 یہ اسی کا نشانہ بنے، جسے وہ ملک کو تاریکی کی طرف دھکیلنے والے نظریے سے تعبیر کرتے ہوئے کڑی تنقید کرتے تھے۔ جناب بلور کی موت ایسی ہے کہ شاید جس کی پیشگوئی بھی تھی۔

حالیہ ہفتوں کے دوران خیبر پخوتون خواہ اور فاٹا میں عسکریت پسندوں کی دہشت گرد کارروائیوں میں نہایت تیزی سے اضافا دیکھنے میں آیا ہے۔

 شاید یہ بعض کے نزدیک حیرت کا سبب ہو لیکن جو خطّے میں عسکریت پسندی قریب سے کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ نہ تھکنے والی شدت پسندی کی وہ علامت ہے کہ جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک بار پھر زک پہنچانے کے لیے تمام تر قوت جمع کر سامنے آچکے ہیں۔

جہاں تک عسکریت پسسندی، جس نے بعض حصوں کو مکمل طور پر مفلوج کردیا ہے، سے نمٹنے کے لیے ریاست کا ردِ عمل کی بات ہے تو وہ اب تک غیر واضح ہے۔

اس طرح کے ہائی پائی پروفائل حملے خبروں کی شہ سرخیوں میں جگہ پاتے ہیں، جس کے باعث ریاست اور عوام کے مورال پر بھی بُرے اثرات مرتب ہونا یقینی ہے۔

جناب بلور کی موت کے بعد اب یہ بات بڑی حد تک یقینی ہوچلی ہے کہ خیبر پختون خواہ اور فاٹا میں حملوں کا یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ ایسے میں ریاست کیا کرسکتی ہے؟

 اس وقت جو صورتِ حال ہے، اس میں سب سے بامعنیٰ بات یہ ہے کہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور جہاں سے وہ حملہ کرنے کو نکلتے ہیں، انہیں سامنے رکھتے ہوئے ہوئے بامقصد لائحہ عمل تیار کر کے، کارروائی کی جائے۔

ایک بار، بس صرف ایک بار پاکستانی ریاست اور معاشرہ عسکریت اور شدت پسندی کے خلاف اتفاقِ رائے پیدا کرلے تو صورتِ حال کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

اس وقت جو صورتِ حال درپیش ہے، اسے بدلنے کے کے لیے کیا کوئی فوجی، سیاسی یا سماجی حکمتِ عملی کام کررہی ہے۔

ایسے میں اکثر فوج کے زیرِ تحت قائم سیکورٹی اسیبلشمنٹ کی ہی طرف دیکھا جاتا ہے، جو طویل عرصے سے عسکریت پسندی، بنیاد پرستی اور شدت پسندی سے منسلک چلی آرہی ہے۔

فوج کی توجہ کا مرکز درست اور لازمی طور پر شدت پسندی کو کچلنے کے لیے صفر درجہ عدم برداشت کی پالیسی پر مبنی ہونا چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک ریاست کو درپیش خطرات کا مستقل بنیادوں پر گلا گھوٹنا ممکن نہیں۔

مزیدِ برآں، یہاں پر سول قیادت کے کندھوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عسکریت پسندوں سے مقابلے کا یہ ایسا بوجھ ہے کہ بعض  قائدین اسے  اٹھانے کے اہل بھی ہیں۔

سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے تمام عناصر کے تحت ریاست اور معاشرے میں اگر کوئی بامقصد تبدیلی لانی ہے تو یہ صرف سیاسی قائدین ہی ہیں جو اس کی واضح ہمت رکھتے ہیں۔

سیاستدان، جن میں سے متعدد کو ردِ عمل میں عسکریت پسندوں سے خطرہ ہے مگر پھر بھی انہیں بہت زیادہ ابہام پیدا کرنے کا ذمہ دار، بہت زیادہ وقت ضائع کرنے والا اور دوغلا کہا جاتا ہے۔

صرف یہی کوتاہ بینی سیاستدانوں کو دور کرنے کا باعث ہے۔ بالآخر اب دہشت گردوں نے تو یہ ثابت کر ہی دیا کہ وہ ان سمیت ہر کسی کے مقابلے میں ہیں۔

بشکریہ ڈان

http://urdu.dawn.com/2012/12/25/dawn-editorial-2/

پولیو اور فتویٰ

Tuesday 25 December 2012

ڈان اخبار

اگرچہ پاکستان علما کونسل نے بطور خاص پولیو رضار کاروں کی ہلاکتوں کے المیے کا حوالہ تو نہیں دیا تاہم اس کے باوجود  انہوں نے معصوم اور بے گناہ لوگوں کے قتل کی مذمت کی ہے، جسے سراہنا چاہیے۔

پاکستان علما کونسل کے ماتحت ملک کے بڑے بڑے دارالعلوم پر مشتمل ایک گروپ نے جمعرات کو متفقہ فتویٰ جاری کیا،  جس میں قتل کی مذمت کرتے ہوئے واضح طور پر قرار دیا کہ صرف ریاست انصاف فراہم کرسکتی ہے۔

اس وقت پاکستان کو جس صورتِ حال کا سامنا ہے، یہ فتویٰ اس سے براہ راست مطابقت رکھتا ہے کیونکہ فتوے میں ‘سڑکوں اور بازاروں’ میں قتل کی بھی علی الاعلان مذمت کی گئی ہے۔

پاکستان علما کونسل کے تحت جاری فتوے نے تمام شہریوں کے لیے یکساں معیار اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی کسی مسلمان کے ہاتھوں اپنی جان گنواتا ہے تو وہ بھی انصاف کے اُسی عمل کا مستحق ہے جو کسی مسلمان متاثرہ شخص کو انصاف فراہمی کے لیے ہوتا ہے۔

تکنیکی طور پر کہیں تو فتوے میں کوئی نئی بات نہیں، وہی باتیں دُہرائی گئی ہیں جو اسلامی قوانین کے نظامِ انصاف میں پہلے سے موجود ہیں لیکن اس وقت فتوے کا جاری کرنا اہم بات ہے۔

یہ فتویٰ اس وقت سامنے آیا جب بعض سرکردہ اسلامی اسکالرز اور مذہبی شخصیات کی طرف سے دہشت گردی اور کراچی و خیبر پختون خواہ میں حال ہی میں ہلاک کیے جانے والے اُن پولیو رضاکاروں کے قتل کی مذمت سے اجتناب سامنے آیا ، جن میں زیادہ تر خواتین رضا کار شامل تھیں۔

پاکستان علما کونسل کے سربراہ حافظ طاہر اشرف کا کہنا ہے کہ بعض لوگوں کی طرف سے غلط بیانی کی جارہی ہے کہ علما دہشت گردی کی تائید کرتے ہیں یا پھر اس میں ملوث ہیں۔ جسے غلط قرار دینے کے لیے فتویٰ جاری کرنے کی ضرورت پیش آئی۔

اگرچہ اس فتوے کو سراہنا چاہیے، تاہم ایسے میں چند سرکردہ مذہبی جماعتوں کے سربراہوں کی خاموشی معنیٰٰ خیز ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض نے پولیو رضاکاروں کے قتل کی مذمت کی ہے لیکن سرسری طور پر۔

 جو بات ان مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات میں نظر نہ آئی، وہ ہے متفقہ طور پر ان پولیو رضاکاروں کے قتل کی مذمت جو پاکستان کی آئندہ نسل کو معذوری سے بچانے کی خدمات انجام دیتے ہوئے نہایت بہیمانہ انداز سے نشانہ بنائے گئے۔

اب وقت مولانا فضل الرحمان، مولانا سمیع الحق، منورالحسن، حافظ سعید اور ان جیسے دوسرے مذہبی قائدین کی طرف سے الگ الگ اور ایک دوسرے سے مختلف مذمتی بیانات دینے کا نہیں، انہیں متفقہ طور پر اور کھل کر پاکستان میں پولیو مہم کی حمایت کرنی چاہیے؟

(بشکریہ ڈان)

http://urdu.dawn.com/2012/12/25/polio-and-fatwa/

پشاور ائیر پورٹ پر دہشتگردوں کا حملہ

ایڈیٹوریل  اتوار 16 دسمبر 2012

 پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ اوراس سے ملحقہ پاک فضائیہ کے ائیر بیس پر ہفتے کی رات دہشت گردوں جو حملہ کیا ، پندرہ گھنٹے پر محیط طویل آپریشن کے بعد سیکیورٹی اداروں نے اتوار کو دوپہر تک صورتحال پر قابو پالیا ہے۔ ائیر پورٹ پر حملے میں پانچ شہری جاں بحق‘45زخمی جب کہ پانچ دہشتگرد مارے گئے‘پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے دوسرے روز بھی کارروائی کرتے ہوئے تین دہشتگرد ماردیے جب کہ دو نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ یوں اس سارے آپریشن میں دس دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

اتوار کو ہونے والی کارروائی میں ایک پولیس اہلکاربھی شہید ہوا‘ سیکیورٹی اداروں نے ائیر پورٹ اور ملحقہ علاقوں کو کلیئر کردیا ہے اور ہوائی اڈے پر معمول کے مطابق پروازیں شروع ہوچکی ہیں‘ دو مشکوک افراد کوگرفتار کرلیاگیا‘ طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے‘ آئی ایس پی آر نے دوسرے دن ائیر پورٹ سے ملحقہ علاقہ پائوکہ میں مارے جانے والے دہشتگردوں کے بارے میں بتایا کہ پانچوں ازبک باشندے تھے جب کہ باقی پانچ دہشت گردوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں یا غیر ملکی ہیں۔

پشاور ائیر پورٹ اور اس سے ملحقہ ائیر بیس پر ہونے والے اس حملے کا شمار ملک کی تاریخ میں  دہشت گردوں کے بڑے حملوں میں کیا جاسکتا ہے، اس سے قبل  دہشت گرد کراچی میں مہران بیس، کامرہ بیس، راولپنڈی میں جی ایچ کیو اور دیگر حساس اور اہم تنصیبات کو نشانہ بناچکے ہیں تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ان کے مذموم مقاصد ناکام بنا دیے۔ان حملوں سے دہشت گردوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کے عزائم کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں سمیت35  ہزار افراد  شہید ہو چکے ہیں۔

ارباب اختیار مسلسل یہ کہتے رہتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن پشاور ائیر پورٹ پر حملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے دہشت گرد پوری طرح فعال ہیں اور ان کا خفیہ اطلاعاتی نظام خاصا موثر ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ انتہائی سیکیورٹی والے حساس مقامات پر بھی حملے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ در اصل ہمارا مقابلہ ایسے دشمن کے ساتھ ہے جو علانیہ ہمارے ساتھ جنگ تو لڑ رہا ہے مگر یہ بے چہرہ دشمن ہماری ہی صفوں میں گھسا بیٹھا ہے، یہ دشمن ہمارے ساتھ ایک ایسی جنگ لڑنے میں مصروف ہے جس کا کوئی میدان نہیں ہے، ہمارا مقابلہ کسی منظم فوج کے ساتھ بھی نہیں ہے یعنی ایک ایسی جنگ جس میں ہمارا مدمقابل نظر نہیں آتا، ایسے دشمن سے مقابلہ کرنا صرف سیکیورٹی اداروں کا کام نہیں ہوتا، ہم سب کو مل کر یہ جنگ لڑنا ہوگی کیونکہ یہ اعصابی جنگ ہے جو قوم پر مسلط ہے اور ایسی جنگ ہم نے اعصاب کے ذریعے سے ہی لڑنی ہے اور لڑکر جیتنی ہے۔

یوں تو دہشت گردی کی اس جنگ میں پورا ملک متاثر ہورہا ہے لیکن صوبہ خیبرپختونخوا اوراس سے ملحقہ قبائلی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔2008ء میں اے این پی اور پیپلز پارٹی پر مشتمل مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد دہشت گردوں نے خیبر پختونخوا میں  اپنی کارروائیاں تیز کردی تھیں‘ آئے روز دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے تھے لیکن صوبائی حکومت نے دہشت گردوں سے کوئی سمجھوتہ کرنے کے بجائے ان کے خلاف نہ صرف سخت سے سخت مؤقف اختیار کیا بلکہ دہشتگردوں کی بیخ کنی کے لیے پولیس فورس کے ساتھ ساتھ دیگر سیکیورٹی اداروں کی بھی مکمل پشت پناہی کی اس پاداش میں حکمراں جماعت کے کئی ارکان اسمبلی سمیت اے این پی کے ساڑھے چار سو سے زائد کارکن اور عہدیدار شہید ہوگئے بلکہ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین کے بیٹے میاں راشد حسین کو بھی قربانی دینا پڑی۔

پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں لیکن یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ محض حکومت یا سیکیورٹی اداروں پر تکیہ کرکے بیٹھ جانا ہر گز مناسب نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کے ہر فرد کو سپاہی بننا ہوگا اور اپنے دشمن کو ہم صرف اور صرف اتفاق اور اتحاد کے ذریعے شکست فاش دے سکتے ہیں۔اس معاملے میں ملک کی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے حامیوں کو نسلی، لسانی یا مسلکی اختلافات میں الجھانے کے بجائے انھیں دہشت گردی کے خطرات سے آگاہ کریں اور عوام کو اس جنگ کے لیے ذہنی طور پر تیار کریں۔

عوام کی یہ ذمے داری ہونی چاہیے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں، اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھیں اور کسی بھی قسم کی گڑ بڑ کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں بلکہ ناخوشگوار صورتحال کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑیں۔ اس قسم کی مثال ہم چند دن قبل ہی بنوں میں دیکھ چکے ہیں جب تھانہ ککی پر شدت پسندوں کے حملے کے فوراً بعد گائوں کے لوگوں نے بھی اسلحہ نکال لیا اور حملہ آوروں کا بے جگری سے مقابلہ کیا، اسی حملے کے دوران پاک فوج کا ایک ایسا جوان بھی شہید ہوا جو کھاریاں سے چھٹی پر اپنے گائوں آیا تھا مگر جب اس نے دیکھا قوم کو دشمن کے حملے کا سامنا ہے تو اس نے وردی پہنے بغیر لڑتے ہوئے قوم پر جان نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کیا۔

پشاور ایئر پورٹ پر حملے کے دوسرے دن دہشت گردوں کا ایک زیر تعمیر مکان سے برآمد ہوکر دوبارہ مقابلہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے اور ان کی موجودگی کی اطلاع بھی مقامی لوگوں نے پولیس کو دی، یہ خوش آیند تبدیلی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کو جڑ اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔صوبہ خیبر پختوخوا کی حکومت ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام صوبوں کی حکومتوں کو چاہیے کہ  پولیس انفارمیشن سسٹم کو مزید بہتر بنائیں۔ایم این ایز اوراپم پی ایز اپنے حلقوں میں مشکوک افراد کا ڈیٹا جمع کریں اور خفیہ ایجنسیاں ان اطلاعات پر کارروائی کریں تاکہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں پر کریک ڈاؤں کیا جاسکے۔

(بشکریہ ڈیلی ایکسپریس)

http://www.express.pk/story/64334

دیوبندی بمقابلہ تکفیری

علی شیرازی

مولانا فضل الرحمن پر ہونے والے حالیہ خودکش حملے اور اس سے بھی پہلے مولانا حسن جان کی شہادت، رائج دیوبندی علماء اور تکفیری جہادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی چپقلش کا شاخسانہ ہے، بلکہ اگر اس کو ایک بڑے اُفق کی چھوٹی سی تصویر کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ تکفیری عناصر کون ہیں، دیوبندی علماء کلامی حوالے سے کس مکتب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آپسی اختلاف کیا ہیں، یہ تمام ابحاث کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔

اگر پاکستان میں موجودہ “جہادی مرکب” کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس وقت یہ “جہادی مرکب” دو اہم عناصر پر مشتمل ہے۔ پہلا عنصر “القاعدہ اور عرب مجاہدین” ہیں، جو جہاد کے لیے ایک وسیع میدان کی تلاش میں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے۔ جبکہ دوسرا عنصر “پاکستان کی جہادی تنظیمیں اور جوان” ہیں۔ اول الذکر تکفیری، جبکہ آخر الذکر دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

افغانستان پر روس کے حملے کے بعد ان دونوں عناصر کے درمیان تعلقات بڑھے، القاعدہ اور عرب مجاہدین پاکستانی دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی جہادی تنظیموں کو نہ صرف مالی امداد فراہم کرتے بلکہ ٹریننگ کیمپس بھی یہی لوگ چلاتے، انہی ٹریننگ کیمپس میں جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ فکری تربیت کا بھی انتظام ہوتا۔ دیوبندی جہادی آرگنائزیشنز جیسے جہاد اسلامی، حرکت المجاہدین، حرکت الانصار، جیش محمد وغیرہ پورے پاکستان سے نوجوانوں کو ڈھونڈ کر ان معسکروں میں پہنچاتیں۔ جہاں پر پورا تربیتی پروگرام انہی تکفیری تفکر کے حامل عرب مجاہدین کے پاس ہوتا۔ تکفیری عناصر کے زیر اہتمام چلنے والے ٹریننگ کیمپس میں ان نوجوانوں کو دارالکفر اور دارالسلام کے تکفیری تفکر کے مطابق معنی بتائے جاتے۔ “تترس” جیسی جہادی فقہی اصطلاحات کے ذریعے، خودکش حملوں میں بے گناہ جانی و مالی نقصان کی توجیہہ کی جاتی، جب ایک نوجوان ان ٹریننگ کیمپس اور معسکروں میں آتا تو دیوبندی ہوتا لیکن جب وہ تین ماہ یا سال کی تربیت مکمل کر کے واپس پلٹتا تو فکری لحاظ سے تکفیری بن چکا ہوتا، اگرچہ فقہی حوالے سے وہ حنفی ہی رہتا۔

پاکستان میں موجودہ تکفیری گروپس، عرب مجاہدین کی سرپرستی میں ایسے ہی افراد پر مشتمل ہیں، جو انہی دیوبند جہادی تحریکوں کی ریکروٹنگ کا نتیجہ ہیں۔ نائن الیون کے بعد اس متشدد مزاج تکفیری فکر نے پاکستان میں اپنا رنگ دیکھانا شروع کیا۔ علماء دیوبند کو یہ پوری گیم سمجھنے کے لیے ایک لمبا عرصہ لگا۔ لیکن جب یہ بات سمجھ میں آئی تو پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا کیونکہ یہ تکفیری گروپس اپنے جہادی نظریے میں علماء دیوبند سے شدید مخالفت رکھتے تھے۔

دیوبندی علماء نے پہلے مرحلے میں ان تکفیری جہادی گروپ سے الگ ہونا شروع کیا۔ ایک بڑی تعداد میں ایسے علماء کے نام لیے جا سکتے ہیں جو انتہائی روشن جہادی بیک گراونڈ رکھتے تھے لیکن اب ان جہادی تکفیری گروپس سے الگ ہو چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان کی حمایت سے ہاتھ اُٹھا لیا، وفاق المدارس العربیہ سے لیکر سابقہ جہادی بیک گروانڈ رکھنے والا الرشید ٹرسٹ تک، جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر سے لیکر حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل تک، علماء میں مفتی تقی عثمانی و رفیع عثمانی سے لیکر مفتی نعیم تک سبھی خاموش ہیں یا اپنے کردار سے ایسی تکفیری جہادی تحریکوں کی نفی کر رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ نے ہمیشہ ایسی تکفیری طالبانی تحریکوں کی نفی کی ہے۔ لال مسجد کے واقعہ میں وفاق المدارس العربیہ کا کردار انتہائی روشن رہا، اسی وجہ سے تکفیری عناصر وفاق المدارس العربیہ سے اپنے وفاق کو الگ کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ الرشید ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والا اخبار “روزنامہ اسلام” پاک فوج کے مقابلے میں مرنے والے “تحریک طالبان” کے تکفیری افراد کو ہمیشہ “ہلاک شدگان” ہی لکھتا ہے۔ یہ صرف خبر نہیں، بلکہ اخبار کی جانب سے موقف کا اظہار بھی ہے۔

ابھی تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے یا شروع ہونے کو ہے جس میں ان تکفیری عناصر اور گروپس کے خلاف دیوبند کی خاموشی ٹوٹتی نظر آ رہی ہے کیونکہ خاموشی کا توڑنا خود دیوبندی مسلک کی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے۔ دیوبندیت کو تکفیریت کے خلاف اپنی حدبندی کرنی پڑے گی، تاکہ تاریخ طالبان اور تکفیریوں کے سفاک جرائم دیوبندیت کے زمرے میں نہ لکھے۔ اس تلخ حقیقت کا خود دیوبندی علماء کو پہلے سے بیشتر احساس ہے۔

تکفیریوں سے اظہار برائت کرتے ہوئے قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاون لاہور کے منتظم اعلی دیو بند عالم دین حافظ محمد زبیر “الشریعہ” میگزین نومبر دسمبر 2008ء کے شمارے میں یوں لکھتے ہیں۔

“ہماری رائے کے مطابق یہ تکفیری ٹولہ امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔ ٹینشن، فرسٹریشن اور ڈیپریشن میں مبتلا اس قتالی تحریک کو سوئی ہوئی امت کو جگانے کا بس ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ان سب کو باہمی جنگ و جدال میں جھونک دو۔” تھوڑا سا آگے حافظ محمد زبیر صاحب، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جانب سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ “آخری زمانے میں ایک جماعت ایسی ہو گی جو کہ نوجوانوں اور جذباتی قسم کے احمقوں پر مشتمل ہو گی وہ قرآن سے بہت زیادہ استدلال کریں گے اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے پس یہ جہاں ملیں تم ان کو قتل کرو کیونکہ جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے قیامت کے دن اجر ہو گا”

صحیح بخاری، “کتاب فضائل القرآن، باب اثم من رای بقراء القران اوتا کل بہ”

ماہنامہ “الصیانہ” لاہور میں جامعہ الاسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد اپنے کالم “موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج” میں ان تکفیری عناصر کے خلاف خاموشی توڑنے کے متعلق لکھتے ہیں

” دیوبندی حلقے کی قیادت چاہے وہ سیاسی قیادت ہو، مدارس اور وفاق کی قیادت ہو، اساتذہ کرام ہوں، دینی صحافت سے وابستہ حضرات ہوں، اُن پر وقت نے بہت بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔ وہ ذمہ داری امریکا، حکومت وقت اور موجودہ نظام کو گالیاں دینے کی نہیں۔ یہ کام کتنا ہی مستحسن سہی، اتنا مشکل نہیں ہے جتنا اپنوں سے اگر غلطیاں ہو رہی ہوں، ان کے بارے میں راہنمائی کرنا، یہ مشکل اور صبر و عزیمت کا متقاضی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحت پسندی کے خول سے نکل کر یہ کام اب دیوبندی قیادت کو کرنا ہی پڑے گا۔ اب تک بھی بہت تاخیر ہو چکی ہے، مزید تاخیر مزید نقصان کا باعث ہو گی”۔

دیوبندیت کی جانب سے اس ٹوٹتی خاموشی نے دیوبندیت کو تکفیریت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے معروف دیوبندی عالم دین مولانا حسن جان نے انتہائی دلیری کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے خلاف فتوی دیا، جس کے جواب میں مولانا حسن جان کو تکفیریوں نے شہید کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی تکفیری ازم کے خلاف بولنے اور تکفیری ایجنڈے پر نہ چلنے کے جرم میں خودکش دھماکوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق لال مسجد کے واقعہ میں منافقانہ کردار کے الزام میں عثمانی برادران رفیع عثمانی و تقی عثمانی، کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر، حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل سمیت کئی جہادی کمانڈروں کے خلاف بھی تکفیری عناصر نے موت کے پروانہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ نام نہاد تکفیری جہادی گروپس اب شیعہ، بریلوی دشمنی کے بعد اگلے مرحلے دیوبندی دشمنی میں داخل ہو چکے ہیں۔

قسط دوم:۔

تکفیریوں نے دیوبندیت کو اپنا شکار صرف جہادی معسکروں میں ہی نہیں بنایا بلکہ “تکفیریوں” نے دیوبندیت پر اپنے عقائد و نظریات ٹھونسے کے لیے اُن کے تبلیغی و فلاحی اداروں میں بھی نفوذ کیا۔ جیسا کہ ہم اپنے پچھلے کالم میں بیان کر چکے ہیں کہ دیوبندیت اور تکفیریت کے درمیان “جہادی روابط” افغان جہاد کے دوران قائم ہوئے۔ جہادی اسٹرکچر کو سپورٹ کرنے کے نام پر عرب تکفیریوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں فلاحی و تبلیغی اداروں کا ایک جال بچھا دیا۔ اُن میں سے ایک تبلیغی و فلاحی ادارہ “اشاعت توحید و السّنہ” بھی تھا۔

“اشاعت توحید و السّنۃ” کی بنیادیں دیوبند عالم دین حسین علی الوانی پنجائی اور شیخ القرآن مولانا محمد طاہر نے رکھیں، مولانا محمد طاہر دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے، 1938ء میں مکہ گئے اور کچھ عرصہ وہیں سکونت اختیار کی اور وہیں سے سعودی وہابی تفکر سے متاثر ہوئے، واپسی پر سعودی علماء کے تعاون سے انہوں نے “اشاعت توحید و السّنہ” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں مولانا غلام اللہ خان، سید عنایت اللہ شاہ بخاری، قاضی نور محمد، شیخ الحدیث مولانا قاضی شمس الدین، شیخ التفسیر مولانا محمد امیر بندیالوی وغیرہ نے اس جماعت کو فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کیں، ان میں اکثریت اُن دیوبند علماء کی تھی جو سعودی عرب سے اپنی تعلیم مکمل کر کے آئے، اور دیوبندی ہونے کے باوجود وہابی و تکفیری نظریات سے زیادہ متاثر تھے۔

ادارہ اشاعت التوحید و السّنۃ اپنی ابتداء سے ہی رائج علماء دیوبند کے فکری و علمی مذاق کے برخلاف وہابیت کی طرف مائل تھا۔ افغان جہاد کے دوران وہابی تکفیری مجاہدین کے دیوبندی علماء کے ساتھ روابط اور سعودی شہزادوں، عرب بزنس ٹائیکونز کی مالی معاونت نے “اشاعت توحید و السّنۃ” اور اس جیسے دیگر تکفیری عقائد رکھنے والے اداروں کو مضبوط کیا۔ ان تبلیغی و فلاحی اداروں کا کردار دیوبندیت کے اندر ایک طرح سے ففتھ کالم کا سا تھا۔ یہ گھر کے ایسے بھیدی تھے جو سعودی تکفیری سوچ کو دن بدن دیوبندیت میں راسخ کرنے پر لگے ہوئے تھے۔ افغان جہاد کے دوران سعودی اور تکفیری مالی معاونت سے “اشاعت توحید و السّنۃ” نے اپنی جڑیں خیبر پختونخواہ میں مضبوط کیں۔ خیبر پختونخواہ اور اُس سے ملحقہ فاٹا کی سات ایجنسیوں میں اپنا تبلیغی و فلاحی اسٹرکچر مضبوط بنانے کے بعد اس ادارے نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان حتٰی ایران اور افغانستان کا بھی رخ کیا۔ “اشاعت توحید والسّنہ” کے ان تکفیری و وہابی عقائد و نظریات سے جب بڑی تعداد میں لوگوں نے متاثر ہونا شروع کیا تو پھر علماء دیوبند کو ہوش آیا اور انہوں نے اپنے اندر سے پھوٹنے والے اس تکفیری فتنے کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اشاعت توحید و السّنۃ اور علماء دیوبند کے درمیان اس وقت پنجاب و سندھ میں گھمسان کی عقیدتی و نظریاتی جنگ جاری ہے۔

“حیات النبی ص” پر بحث اس ساری جنگ میں مرکزی کردار اختیار کیے ہوئے ہے۔ علماء دیوبند کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے انتقال کے بعد اپنی قبر مبارک میں اپنے جسد خاکی کے ساتھ زندہ ہیں۔ جبکہ اس کے برخلاف اشاعت توحید و السّنۃ و تکفیری تفکر کے حامل علماء کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد اب اُن کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں رہا، اُن کا جسد مبارک نعوذ باللہ مٹی میں مل چکا ہے۔ اول الذکر اپنے آپ کو “حیاتی” کہتے ہیں جبکہ آخر الذکر “مماتی” کہلاتے ہیں۔

تکفیری تفکر رکھنے والے دیوبند علماء اور روایتی دیوبند علماء کے درمیان حیات النبی ص کے علاوہ بھی مندرجہ ذیل عقائدی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہو کر آپ سے استشفاع جائز ہے یا نہیں؟ دیوبند جائز کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر حرمت کے قائل ہیں۔

۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ کیا جا سکتا ہے؟ اور آپ کے توسل سے دعا مستحسن ہے یا نہیں؟ دیوبند علماء استغاثہ اور توسل کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر رکھنے والے علماء اس کو جائز نہیں مانتے۔

۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر اقدس میں ہماری جانب سے پڑھا گیا درود و سلام سنتے ہیں؟ روایتی دیوبند علماء اس بات کے قائل ہیں کہ نبی اکرم ص اپنے انتقال کے بعد بھی سنتے ہیں اور اس بات کے بھی قائل ہیں کہ فرشتے ہمارا سلام نبی اکرم ص کی قبر اقدس میں لے جاتے ہیں۔ جبکہ تکفیری “سماع موتی” کے قائل نہیں۔

۔ کیا نبی اکرم ص کی قبر اقدس کی زیارت کے لیے سفر کی نیت کرنا مستحسن ہے؟ علماء دیوبند مستحسن کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر علماء ایسے سفر کو حرام شمار کرتے ہیں۔

۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت پڑھی جا سکتی ہے؟ علماء دیوبند ایسی نعت جس میں شرک آمیز غلو شامل نہ ہو، پڑھنا جائز سمجھتے ہیں جبکہ تکفیری اس کو حرام شمار کرتے ہیں۔

دیوبند میں تکفیری تفکر سے متاثر علماء کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے لیکن ان کو سعودی اور مشرق وسطٰی کے شہزادوں اور علماء کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ پیسے کی فروانی کی وجہ سے یہ لوگ بڑے پیمانے پر اپنے تبلیغی و فلاحی پراجیکٹس چلا رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کو تکفیری عقائد سے شدید متاثر کرنے کے بعد ان لوگوں نے پنجاب، سندھ، بلوچستان، زاہدان، چاہ بہار وغیرہ میں بھی قدم جمانے شروع کیے ہوئے ہیں۔ ان کو صرف پنجاب اور سندھ میں روایتی دیوبند علماء کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ علماء دیوبند کی اپنے اندر سے پھوٹنے والے فتنہ تکفیریت و وہابیت کے خلاف حالیہ کوششوں کو دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ علماء ناصرف بیدار ہیں بلکہ اس فتنے کے پس پشت کارفرما سعودی و وہابی سازشوں کو بھی سمجھ رہے ہیں۔

 قسط سوم:

دیوبندی علماء اور تکفیری تفکر کے درمیان تضادات لال مسجد کے واقعہ کے دوران کھل کر سامنے آئے۔ رائج علمائے دیوبند کا فکر و مزاج لال مسجد کی قتالی اور تکفیری تحریک سے بہت ہٹ کر تھا۔ اسی علمی مذاق کی پختگی کے باعث اکابرین علمائے دیوبند نہ تو اس تحریک کا ایندھن بنے اور نہ ہی انہوں نے اس کو سراہا، بلکہ آخر تک لال مسجد کے سربراہان سے اظہار برائت کرتے رہے۔ اکابرین علمائے دیوبند نے 18، 19 اپریل 2007ء کو وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اپنے فکر و مزاج اور لال مسجد و جامعہ حفصہ تحریک سے اظہار لاتعلقی کا اعلامیہ یوں جاری کیا۔

“وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری، اسلامی اقدار و روایات کے فروغ اور منکرات و فواحش کے سدّباب کے لئے پُرامن اور دستوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور جدوجہد کے کسی ایسے طریقہ کو درست تصور نہیں کرتی، جس میں حکومت کے ساتھ براہِ راست تصادم، عوام پر زبردستی یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی شکل پائی جاتی ہو” اسی اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ

“جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور لال مسجد کے منتظمین نے جو طریقِہ کار اختیار کیا ہے اسے یہ اجلاس درست نہیں سمجھتا اور اس کے لئے نہ صرف وفاق المدارس العربیہ کی اعلیٰ قیادت خود اسلام آباد جا کر متعلقہ حضرات سے متعدد بار بات چیت کر چکی ہے، بلکہ “وفاق” کے فیصلہ اور مؤقف سے انحراف کے باعث جامعہ حفصہ کا “وفاق” کے ساتھ الحاق بھی ختم کیا جا چکا ہے۔ یہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے مؤقف اور فیصلہ سے جامعہ اسلام آباد اور لال مسجد کے منتظمین کے اس انحراف کو افسوس ناک قرار دیتا ہے اور ان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس پر نظرِثانی کرتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین علمی و دینی قیادت کی سرپرستی میں واپس آجائیں”

جاری کردہ “مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان” منعقدہ 29/ربیع الاول و یکم ربیع الثانی 1428ھ مطابق 18‘19/اپریل 2007ء

جیسے کہ بعد کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ “وفاق المدارس العربیہ” کی یہ اپیل رائیگاں گئی، لال مسجد کے بزرگان کی رائج دیوبندی علماء کے فکر و مزاج سے بغاوت انہیں مہنگی پڑی، مولانا عبدالعزیز کی ذلت آمیز گرفتاری اور عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد اگرچہ نچلے درجے کے دیوبندی طبقات، تکفیری سوچ سے متاثرہ افغان ٹرینڈ بوائز اور مدارس کے طلاب میں اشتعال پایا جاتا تھا، لیکن سمجھدار اور حالات سے آگاہ دیوبند اکابرین اس تکفیری تفکر کی بغاوت کو خوب سمجھ رہے تھے۔

7اگست 2007ء کو ملتان میں وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا لال مسجد کے واقعہ کے بعد اجلاس منعقد ہوا، جس میں مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق سمیت دیگر علماء اور وفاق المدارس العربیہ کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ تھی، یہ اجلاس دیوبند کے اندر پائے جانے والے تکفیری خلفشار کو بہت واضح کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جیسے ہی جلسہ شروع ہوا، لال مسجد کے حامی تکفیری تفکر کے حامل افراد نے وفاق المدارس العربیہ کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی، یہ افراد وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان، سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری، مولانا رفیع عثمانی، مولانا زاہدالراشدی وغیرہ سے لال مسجد کے واقعہ میں منفی کردار ادا کرنے کی وجہ سے استعفٰی لے کر وفاق کے نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے رہے۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں نیا “وفاق المدارس لال مسجد” بنانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

اس اجلاس میں رائج دیوبندی علماء اور تکفیری تفکر کے حامل افراد کے درمیان بات گالم گلوچ سے بڑھ کر تھپڑوں اور داڑھی نوچنے تک بھی پہنچی۔ اسی اجلاس میں جمعیت علماء اسلام ف سے تعلق رکھنے والے مولانا زرگل کو لال مسجد کے بزرگان پر تنقید کرنے کے جرم میں لال مسجد حامی گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا اور موت کی دھمکیاں بھی دیں۔

اس اجلاس میں “وفاق المدارس العربیہ” کے اکابرین نے طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز اُن خطوط کا بھی ذکر کیا، جس میں تکفیری طالبان راہنماوں نے جنوبی وزیرستان آپریشن پر خاموشی اور لال مسجد میں منفی کردار کی وجہ سے وفاق المدارس کے افراد کو دھمکیاں دیں تھیں نیز ان خطوط میں گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات پر بھی “وفاق المدارس العربیہ” کو تنبیہ کی گئی تھی۔ بعض ذرائع کے مطابق “وفاق المدارس العربیہ” کی مجلس عاملہ کا اجلاس طالبان کے انہیں دھمکی آمیز خطوط کی وجہ سے بلوایا گیا تھا، جو بعد میں لال مسجد کے تنازعے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کا شکار ہو کر ختم ہو گیا۔

“وفاق المدارس لال مسجد” کے حامی افراد میں مولانا خلیل سراج ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا طاہر اشرفی، مولانا زاہد محمود قاسمی وغیرہ شامل تھے۔ ان افراد کو اکابر علمائے دیوبند میں سے ڈاکٹر شیر محمد اور مولانا سمیع الحق اکوڑہ خٹک کی خاموش حمایت بھی حاصل تھی۔ پچھلے اجلاس کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ کا اگلا کنٹرولڈ اجلاس 18 اگست 2007ء کو کراچی میں بلایا گیا۔ جہاں پر تکفیری تفکر کے حامل اقلیت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا گیا۔ چنانچہ یہ اجلاس پرامن منعقد ہوا۔ لیکن “وفاق المدارس العربیہ” کی قیادت اور علمائے دیوبند پر واضح ہو چکا تھا کہ ہمارے اندر “سب اچھا” نہیں ہے۔

جیسا کہ پچھلے دو کالمز میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ دیوبندیت کے جہادی معسکر ہوں، تبلیغی و فلاحی میدان ہوں یا مدارس، سبھی تکفیری عقائد و نظریات کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اب علماء و اکابرین دیوبند کے سامنے دو راستے ہیں۔ تکفیریوں کے حملوں کے خوف سے خاموش رہیں اور اس قتالی و تکفیری تحریک کو اپنے جوان اور لخت جگر کھانے دیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ پوری استقامت اور ثابت قدمی سے دیوبندی فکر و مزاج کے مطابق اس تکفیری سوچ کو رد کریں اور اپنے جوانوں، اپنی تنظیموں اور اپنے مدارس کو تکفیریت سے الگ کر لیں۔ ممکن ہے شروع میں نقصان اُٹھانا پڑھے، لیکن دیوبندیت کو اپنی 154 سالہ علمی و اصلاحی تحریک کو بچانے کے لیے یہ قربانی دینا پڑھے گی۔

پاکستان میں جاری طالبان کی موجودہ قتالی و تکفیری تحریک نے وہ کونسے ایسے جرائم ہیں جو نہیں کئے۔ عوامی مقامات اور بازاروں میں بم دھماکوں سے لیکر لاشوں کو مثلہ کرنے اور گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر گھسیٹنے تک، انسانوں کو جانوروں کی طرح سرعام ذبح کرنے سے لیکر بچوں کو خودکش حملہ آور بنا کر بیچنے تک، کیا علماء و اکابرین دیوبند اس بات کے متحمل ہو سکتے ہیں کہ یہ سارے جرائم دیوبند کی اصلاحی و علمی تحریک کے تناظر میں دیکھے جائیں۔ آج اکابرین و علماء دیوبند کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اگرچہ اب بھی بہت دیر ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی فیصلہ کرنے کا وقت باقی ہے۔

http://criticalppp.com/archives/173129

عاشور اور امن

Saturday 24 November 2012

ڈان اخبار

اداریہ

 امام بارگاہ اور ایک مذہبی اجتماع پر بدھ کو ہونے والے حملوں نے خدشات کو درست ثابت کردیا۔ بدترین خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ مُحرّم الحرام، خاص طور پر پہلا عشرہ نہایت خونی ثابت ہوسکتا ہے اور اب یہ سچ ہوتا نظر آرہا ہے۔

اگرچہ جغرافیائی طور پر دہشت گرد حملے پورے پاکستان میں تشدد کا نیا باب رقم کررہے ہیں، نیز ملک کی فرقہ وارانہ کشیدگی کی بھی طویل تاریخ ہے تاہم فرقہ واریت کے ضمن ہونے والا یہ تشدد غیر معمولی ہے۔

لہٰذا، ایسے میں یہ نوشتِ دیوار تھا کہ اس مقدس مہینے کے پہلے عشرے میں کیا ہونے والا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سخت ترین حفاظتی اقدامات کے ذریعے خطرات کو ختم کیا جاسکتا ہے، تو واضح طور پر ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے بدھ کو ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ انہوں نے شیعہ کمیونٹی پر مزید حملوں کی بھی دھمکیاں دی ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر سنگین خطرات کا سامنا ہوگا۔

خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی بھی واضح ہے۔

ملک میں دہشت گردی اور بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاقی اور صوبائی، دونوں سطح پر سرگرم فرقہ وارانہ عناصر کی سرکوبی کے لیے سال بھر کریک ڈاؤں جاری رکھا جاتا، لیکن اس سے پہلے نہ تو ان گروہوں کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی انہیں ہدف بنایا گیا۔

ایسے میں لے دے کر صرف ایک ہی آپشن بچتا ہے کہ جیسے ہی ایامِ عزا قریب آئیں، ان پر پوری توجہ مرکوز رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات شروع کردیے جائیں۔

اداروں کی سطح پر اٹھائے گئے غیر معمولی حفاطتی انتظامات اپنی جگہ تاہم عام تعطیلات میں تین دن تک کے لیے موٹر سائیکل پر پابندی اور موبائل فون سروسز پر بندش جیسے اقدامات سے صرف شہریوں کو ہی شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان سب کے باوجود، یہ واضح ہے کہ فرقہ وارانہ عسکریت پسندوں کو پنپنے کا موقع فراہم کیا گیا کہ اپنی تیاریاں کرسکیں اور اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہیں۔

یہ عسکریت پسند منظم، تیز رفتار اور اپنے مقصد میں سخت گیر ہیں۔

اب ایک بار پھر وہی نئے سیکورٹی اقدامات کا تذکرہ۔۔۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کتنی سیکورٹی ہو باست اُن کے موثر ہونے کی ہے۔ ہر بار اُن کا حملہ سیکورٹی کے تمام تر اقدامات کی بھی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا ہے۔

ان سب تیاریوں کے دوران اگلے چند روز کے دوران ایک حقیقت پسندانہ وجہ پیشِ نظر رہے کہ شیعہ اور سُنی کمیونٹیز ایک دوسرے  کے مدِ مقابل نہ آسکیں۔

یہ خوف ہمیشہ رہتا ہے کہ سن دو ہزار نو میں یومِ عاشور پر کراچی میں ہونے والے بم دھماکے جیسا کوئی طاقت ور حملہ، کسی بھی بڑے ہنگامے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

اگرچہ اب تک بڑے پیمانے پر کوئی پُرتشدد ہنگامہ یا احتجاج نہیں ہوا تو اس کا کریڈٹ شیعہ علما کو جاتا ہے، جنہوں نے حوصلے اور بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے صورتِ حال کو سنبھال رکھا ہے۔

امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ممکنہ تشدد کے خطرے کے باوجود، وہ اپنے حوصلے کو مجتمع رکھتے ہوئے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیں گے۔

(بشکریہ  ڈان)

http://urdu.dawn.com/2012/11/24/bloody-days-aq

کراچی یامستقبل کا وزیرستان…جرگہ

از: سلیم صافی

ہفتہ رفتہ کے دوران جیو کی انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کے لئے کراچی جانا ہوا۔ ہوٹل جانے کے لئے ایئرپورٹ سے کار میں بیٹھا تو ڈرائیور نے حالات حاظرہ پرگفتگو شروع کی۔ بتارہے تھے کہ وہ چودہ سال سے کراچی میں رہ رہے ہیں۔ میں نے استفسار کیا کہ وہ کراچی کے کس علاقے میں رہتے ہیں تو مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وزیرستان میں۔ وزیرستان میں؟‘ کہاں کراچی اور کہاں وزیرستان ؟ میں نے سراپا تعجب بن کر سوال کیا تو انہوں نے اسی طرح مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ کراچی میں ایک نہیں کئی ایک وزیرستان ہیں۔ وہ بتا رہے تھے کہ کس طرح ان کے علاقے سے ریاستی رٹ رخصت ہوچکی ہے‘ کس طرح وہاں کے لوگ مختلف قسم کے بندوق برداروں اور ریاستی اداروں کے مابین سینڈوچ بنے ہوئے ہیں ‘ کس طرح سیاسی جماعتیں جرائم پیشہ لوگوں کی سرپرستی کررہی ہیں اور کس طرح اب خود مسلح گروہوں کی خالق سیاسی جماعتیں اپنی مخلوق کے آگے بے بس ہوتی جارہی ہیں۔ جب انہوں نے اپنے علاقے کے حالات کی تفصیل بیان کی تو الٹا میری طرف سوال داغ دیا کہ اب بتائیں صافی صاحب! وزیرستان اور کیا ہوتا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ کراچی میں قیام کے دوران میں نے جو کچھ سنا اور دیکھا ‘ اس کے تناظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کراچی کے حالات اگر وزیرستان سے زیادہ بدتر نہیں تو کم بھی نہیں بلکہ بعض حوالوں سے تو کراچی کا مسئلہ قبائلی علاقوں کے مسئلے سے زیادہ گمبھیر ہے مثلاً قبائلی علاقوں میں صرف طالبان نے حکومتی رٹ کو چیلنج کررکھا ہے لیکن کراچی میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر میں مذہبی بھی ہیں اور سیکولر بھی ‘ سندھی بھی ہیں اور بلوچی بھی ہیں ‘ پختون بھی ہیں اور اردو بولنے والے بھی۔ اسی طرح قبائلی علاقوں کے رہنے والے دو قوتوں یعنی مذہبی عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین سینڈوچ بنے ہوئے ہیں لیکن کراچی کے رہنے والے نصف درجن سے زائد قوتوں اور عناصر کے مابین سینڈوچ بنے ہوئے ہیں ۔ قبائلی علاقوں کے لوگوں کو زندہ رہنے کے لئے صرف دو فریقوں یعنی سیکورٹی فورسز یا عسکریت پسندوں میں سے کسی ایک یا پھر دونوں کو راضی رکھنا پڑتا ہے لیکن کراچی میں زندہ رہنے کے لئے نصف درجن کے قریب گروہوں کو بھتہ اور سرکاری اداروں کو رشوت دینی پڑتی ہے لیکن نہ جانے کیوں کراچی کے معاملات کو ڈرامہ بازوں کے سپرد کیا گیا ہے اور اسے ایسی سیاسی قوتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ جو کراچی کی تباہی کے عوض اپنا اپنا الّو سیدھا کررہی ہیں؟ ایک نعرہ بڑے تسلسل کے ساتھ سننے کو ملتا ہے کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کراچی صرف معاشی نہیں بلکہ پاکستان کی معاشرتی شہ رگ بھی ہے ‘ سیاسی شہ رگ بھی ہے ‘ادبی شہ رگ بھی ہے‘ ثقافتی شہ رگ بھی ہے ‘ صحافتی شہ رگ بھی ہے اور نظریاتی شہ رگ بھی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کو ان دنوں جن سنگین چینلجز کا سامنا ہے کم وبیش سب کا اصل ہدف کراچی بنا ہوا ہے مثلاً پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے اور تاریخی طور پر کم وبیش تمام انتہاپسندوں کی نظریاتی اور مالی شہ رگ کی حیثیت کراچی کو ہی حاصل ہے۔ پاکستان کو لسانی عصبیتوں کا سامنا ہے اور اس کی جتنی زیادہ جہتیں کراچی میں جمع ہوگئی ہیں‘ ملک کے کسی اور خطے میں نہیں۔ بلوچستان میں پشتو اور بلوچی بولنے والوں کے مابین ‘ پنجاب میں پنجابی اور سرائیکی بولنے والوں کے جبکہ خیبر پختونخوا میں پشتو اور ہندکو بولنے والوں کے مابین تناؤ ہے لیکن کراچی میں بیک وقت سندھی ‘ بلوچی ‘ پختون اور مہاجر قوم پرست آمنے سامنے ہیں ۔ ملک کے باقی حصوں میں لسانی بنیادوں پر سیاست کرنے والوں کا ہتھیار ابھی بم ‘ بوری اور بندوق نہیں بنے ہیں بلکہ وہ ہنوز سیاست کے میدان میں جنگ لڑرہے ہیں لیکن کراچی کی لسانی تنظیمیں بم‘ بندوق اور بوریوں سے مسلح ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف آزادانہ طور پر ان ہتھیاروں کا استعمال کررہی ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کو فرقہ واریت کا سامنا ہے لیکن کراچی کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں بیک وقت تمام فرقوں کے لوگ جمع ہوگئے ہیں اور فرقہ وارانہ تنظیموں کا سب سے بڑا گڑھ بھی یہی شہر ہے۔ ملک کے باقی حصوں میں کہیں شیعہ سنی کی کشمکش ہے‘ کہیں دیوبندی بریلوی کی اور کہیں انتہاپسند اور لبرل مسلمان کی لیکن کراچی ماشاء اللہ سب کی کشمکش کا میدان ہے۔ تمام مسالک کے بڑے مدارس اسی شہر میں ہیں اور تمام مسالک کے سرکردہ لوگ ملک بھر سے اس شہر میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ مذہبی تنظیموں کا اثرورسوخ بھی دیگر شہروں کے مقابلے میں کراچی میں سب سے زیادہ ہے ۔ کراچی ہی وہ شہر ہے جہاں جماعت اسلامی کے سب سے زیادہ اراکین بستے ہیں‘ جہاں جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی لاکھوں کاجلسہ کرسکتی ہے ‘ جہاں جمعیت علمائے پاکستان بھی فعال ہے اور طالبان کو بھی سب سے زیادہ مالی تعاون یہاں سے ملتا ہے۔ امن وامان کا مسئلہ پاکستان کے ہر شہر اور ہر صوبے کو درپیش ہے لیکن کراچی کا معاملہ سنگین اور اس کی نوعیت مختلف ہے مثلاً خیبرپختونخوا میں جن لوگوں نے بندوق اٹھا رکھی ہے ان کے سرپرست حکومت میں نہیں بیٹھے بلکہ حکومتی پارٹی ان کی دشمن نمبر ون ہے لیکن کراچی میں جن لوگوں نے حکومتی رٹ کو چیلنج کررکھا ہے ان کی اکثریت حکومت میں شامل جماعتوں کے منظور نظر بھی ہے۔ پی پی پی ‘ ایم کیوایم اور اے این پی حکومت میں بھی ہیں اور یہی تین جماعتیں اپنے اپنے جرائم پیشہ گینگز کی سرپرستی بھی کررہی ہیں ۔ سپریم کورٹ کے مطابق تینوں جماعتوں نے بشمول بعض دو دیگر جماعتوں کے ‘ اپنے اپنے مسلح جتھے بنارکھے ہیں جو لوگوں سے بھتہ بھی لیتے ہیں اور اپنی سرپرست جماعتوں کے مخالفین کو بھی مارتے ہیں ۔ اسی طرح باقی صوبوں میں حکومت میں شامل جماعتیں ایک دوسرے کی حلیف ہیں لیکن سندھ واحد بدقسمت صوبہ ہے کہ اس پر حکمرانی کرنے والی جماعتیں ایک دوسرے کی حلیف بھی ہیں اور حریف بھی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کو ایک اور سنگین چیلنج اس وقت بیرونی قوتوں‘ ان کی ایجنسیوں اور ان کی ایجنٹوں کی سرگرمیوں کا درپیش ہے اور بدقسمتی سے اس طرح کے عناصر کی خاص توجہ کا مرکز بھی کراچی ہی بنا ہوا ہے۔ کوئی بھی پاکستان دشمن ملک ہو‘ اس کی خفیہ ایجنسیوں کی زیادہ توانائیاں اس وقت کراچی میں صرف ہورہی ہیں اور بدقسمتی سے کراچی کے حالات ان کے ناپاک عزائم کی کامیابی کے لئے سب سے زیادہ سازگار بھی ہیں ۔ کراچی یوں تو گزشتہ تین عشروں سے بدامنی کا شکار ہے لیکن اس وقت وہاں پر تباہی کی نئی حرکیات ابھر رہی ہیں۔ ابھی تک تو وہاں مقامی سیاسی‘ لسانی اور فرقہ وارانہ اور جرائم پیشہ گروہ آپس میں لڑ رہے تھے لیکن لگتا ہے کہ اب مذہبی عسکریت پسندوں نے بھی اپنی جنگ کو پوری قوت کے ساتھ کراچی تک دراز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ان کی جنگ میں ابتدائی عمل ان ریاستی اداروں یا عناصر کو ٹارگٹ کرنا ہوتا ہے جن کا کسی نہ کسی حد تک کنٹرول یا خوف ہوتا ہے ۔ اب جب وہ ریاستی اداروں کو ٹارگٹ کریں گے اور نتیجتاً ریاستی اداروں کی زیادہ تر توجہ بھی ان کی طرف مبذول ہوگی تو مقامی تشدد پسند اورجرائم پیشہ عناصر کو اور بھی آزادی مل جائے گی ۔ دوسری طرف کراچی کی تینوں بڑی قوتیں یعنی ایم کیو ایم ‘ اے این پی اور پی پی پی ان مذہبی عسکریت پسندوں کے نظریاتی حریف ہیں ۔ وہ ان تینوں کو ٹارگٹ کرسکتے اور ان کی آپس کی لڑائی کو بڑی آسانی کے ساتھ گرم کرسکتے ہیں مثلاً ایم کیوایم کے ہائی پروفائل لوگوں کو اس طریقے سے قتل کیا جاسکتا ہے کہ اس کا شک اے این پی پر کیا جائے ‘ اسی طرح اے این پی کے خلاف کوئی بڑی کارروائی اس انداز میں کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کا الزام ایم کیوایم کے سرڈال دے۔ علیٰ ہذہ القیاس ۔ خاکم بدہن ایسا ہوا تو کیا ہم وزیرستان کو بھول نہیں جائیں گے؟

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=39883

طالبانی نظام کاقانون ۔۔کوئی گل مکئی نہ کھلے ۔۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی 11.10.2012, 04:11am , جعمرات (GMT+1) بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی اور بچوں کے عالمی امن انعام یافتہ  ملالہ یوسفزئی منگل کو سوات میں طالبان  کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئی اور اس وقت پشاور کے سی  ایم ایچ ہوسپٹل میں اپنے دشمنوں سے بے خبر حیات کے لئے موت سے لڑ رہی ہے ۔۔ پورا پاکستان جیسے آج سوگوار ہو گیا ہو ۔۔۔  ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہی ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے اور لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کی۔  اس ڈائری میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔ملالہ پر میڈیا کے دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی بھر پور مخالفت کی تھی۔  بس یہ تھا قصور ملالہ یوسف زئی کا اس نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ۔اور بے مثال جرات سے دنیا کے سامنے حقائق رکھ دیئے ۔ افسوس اس ملک کا قیمتی ترین اثاثہ ایک بیمار سوچ اور بزدل حکمرانوں کی بے حسی کی بھینٹ چھڑ گیا ۔۔۔۔ صد افسوس ۔۔  میری خواہش ہے کہ اس افسوسناک حادثے کی زمیداری قبول کرنے والے طالبان کی تاریخ آپ کے سامنے رکھوں تاکہ حالات اور واضح ہو سکیں ۔افغانستان کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصرا طالبان کہا جاتا ہے نسلی اعتبار سے پشتون ہیں اور مسلکی اعتبار سے دیوبندی اور اہل حدیث کے مکتبہ فکر سے منسلک ہیں۔  طالبان دراصل پاکستانی و افغانی دینی مدارس کے وہ طالب علم ہیں جو افغان جہاد میں روس کے خلاف لڑتے رہے تھے ۔ سویت یونین کی مداخلت کے بعد ابتدائی دنوں میں اس مزاحمتی تحریک افغان جہاد کو کسی جانب سے کوئی مدد حاصل نہ تھی لیکن جلد ہی پاکستان کو احساس ہوگیا کہ  سویت یونین سے براہ راست جنگ کی استعداد پاکستان تو کیا امریکہ کے بھی بس میں نہ تھی اس لئے پاکستان نے جنگ  کو افغان گوریلہ فورس کے زریعے الجھانے کا فیصلہ کیا اور گوریلہ جنگ کی منصوبہ بندی پاک فوج  کی  اور اس کے افسران ہی نے افغانوں کی قوت مزاحمت کو ایک نا قابل شکست قوت میں تبدیل کردیا ۔ کچھ عرصے بعد امریکہ بھی اس جنگ میں  کود گیا۔طالبان نے ان تین فریقوں ( پاکستان امریکہ افغان مجاہدین ) کے زیر سایہ جنگ کی اور روسیوں کو شکست فاش ہوئی ۔  روسی فوجوں کی واپسی کے بعد جہادی تنظیموں کی باہمی خانہ جنگی کے باعث 1995میں طالبان دوبارہ میدان جنگ میں آگئے اور افغانستان کے 90 فیصد رقبے پر اپنی عملداری قائم کرکے شریعت نافذ کردی۔ ان کو سب سے پہلے سعودی عرب اور بعد میں اسامہ بن لادن سے مالی معاونت حاصل رہی۔ ادھر حکومت پاکستان جو 10 سالہ جنگ لڑ کر اس بات کی منتظر تھی کہ اب افغانستان میں پہلی بار پاکستان کی حلیف حکومت قائم ہوگی مگر ان تنظیموں کی داخلی خانہ جنگی سے حکومت پاکستان ان سے نالاں ہوگئ ۔لیکن یہ حقیقت بھی مسلم ہے تھی  افغانستان میں اپنی حکومت کے قیام کے بعد طالبان پاکستان کے لئے اجنبی  نہ تھے کیونکہ  آئی ایس آئی کے روابط جہادی تنظیموں سے افغان جہاد سے ہی قائم تھے اور طالبان بھی ان تنظیموں کا ہی حصہ رہے تھے ۔ پھر طالبان نے افغانستان میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے نہ صرف یہ کہ پاکستان مخالف عناصر بالخصوص بھارتی عناصر کا مکمل صفایا کردیا بلکہ ڈیورنڈ لائن کو بھی پاکستان کے لئے مکمل محفوظ کردیا ۔ان وجوہ پر حکومت پاکستان نے طالبان کو افغانستان کا جائز حکمران تسلیم کرلیا۔  طالبان کا دور حکومت 1995 سے 2001 تک تقریبا 6 سال کے عرصے پر محیط ہے اس دوران ان کا زیادہ تر وقت اپنے حریف شمالی اتحاد سے جنگ میں گزرا۔  طالبان نے 1998ء میں ہرات پر قبضہ کے بعد مزار شریف پر قبضہ کیا تو اس شہر میں قتل عام کیا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ ٹرکوں اور گاڑیوں میں عام سڑکوں اور گلیوں میں جاتے اور دائیں بائیں فائرنگ کرتے تھے۔اس طریقہ سے انہوں نے 8000 لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہی طریقہ انہوں نے بامیان پر قبضہ کے بعد اختیار کیا  واضح رہے کہ طالبان سے قبل بامیان پر ایران نواز شیعہ ملیشیاء حزب وحدت کا قبضہ تھا۔   طالبان نہ صرف  اپنے دور حکومت میں  بلکہ آج بھی  خواتین کی مردوں کے ساتھ مخلوط تعلیم کے سخت خلاف ہیں بلکہ خواتین کو بلاضرورت گھر سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتےاور نہ ہئ اسکول بھیجنے پر رضامند ہیں . خواتین کو غیر اسلامی طریقہ سے سزائیں بھی دینے کے قائل ہیں مثلاً بھرے بازار میں خواتین کو لکڑی کی چھڑیوں کے ساتھ پیٹنے کی روایت انہوں نے قائم کی.ان کے دور میں خواتین کے مدرسے بند کر دیے گئے۔  ستمبر2001 ایک میں امریکا شہروں نیویارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفتر المعروف پینٹاگون پر حملے کئے گئے جن کا زمیدار القا‏عدہ کو قرار دیا گیا۔ القاعدہ کے میزبان ہونے کے ناطے طالبان کو اکتوبر2001 میں امریکی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا اور کہنے کو ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا پر یوں ہوا کہ پاکستان کے شہر شہر گلی گلی طالبان پھیل گئے اور ہر طرف دھماکے اور گولیوں کی بارش ہونے لگی ۔۔  سرکاری ترجمان کے مطابق پہلے جب سکیورٹی فورسز قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کوئی کارروائی کرتی تھیں تو اس کے بدلے کے لیے وہ چھوٹے پیمانے پر حملہ کیا کرتے تھےاب بڑی کارروائی کے رد عمل میں تحریک طالبان نے بھی بڑے پیمانے پر اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔  انہوں نے بتایا کہ ان کے حملہ آور اب صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور پوری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تحریک طالبان پاکستان اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ اگر امریکہ افغانستان سے چلا بھی گیا تو وہ پھر بھی پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور  پاکستان کے کافرانہ نظام کے خلاف جنگ جاری رہے گی، تا وقتیکہ وہ پاکستان کے کفریہ نظام کو ختم کر کے طالبانی نظام کا نفاذ نہ کر دیں ۔۔  پشاور کے فوجی ہسپتال سی ایم ایچ میں ملالہ یوسفزئی کے دماغ میں داغی گولی کیا اسی طالبانی سوچ کا شاخسانہ نہیں ہے ۔  اسلامی  شریعت کے مطابق ایک دوسرے کی عزت جان اور مال کی حفاظت ایک دوسرے کی  زمیداری ہوتی ہے ۔ پر تاریخ گواہ ہے کہ  طالبانی شریعت یہی کہتی ہے کہ بے گناہ مسلمانوں کاخون بہاؤ ۔۔ عورتوں کی تذلیل کرو ۔۔بچوں کی روحیں قبض کرو ۔۔ دنیا سے خیرا خواہی جیسے سارے جذبوں کو نفرتوں میں بدل دو ۔آج طالبانی پیروکار وہی کر رہے ہیں جو انہیں سبق پڑھائے گئے ہیں ۔   پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی پر آج پوری قوم  اتنی دکھی ہے  کہ احاطہ تحریر ممکن ہی نہیں ۔آج ہر حساس دل  ملالہ میں اپنی بیٹی دیکھ رہا ہے  ۔۔ وہی معصوم چہرہ ۔۔ وہی خوابوں سے بھری آنکھیں ۔۔ وہی جادوبھری باتیں  اور باتوں میں آسمان چھولینے کی تمنائیں  ۔ وہی امن کے گیت وہی پڑھائی کی لگن ۔۔۔۔ وہی سنورنے سنوارنے کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ گولی ملالہ یوسفزئی کو نہیں پاکستان کی ہر بیٹی کے دماغ کے اندر داغی گئی ہے  ہے ۔۔اور حکمران صرف اسی بات پر خوش ہیں کہ ملالہ کے دماغ سے گولی نکال دی گئی ہے ۔ اور وہ خطرے سے باہر ہیں ۔کاش انہیں یہ بھی معلوم ہو کہ  ملالہ کے دماغ سے گولی نکال بھی دی گئی ہے تواس کو زندگی کی طرف آتے آتے مہینوں لگ جائیں گے  ۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر وہ زندگی کی طرف آ بھی گئی تو اس کو گل مکئی بننے تک  برسوں لگ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف اتنا بڑا ضیائع اتنی آسانی سے اتنی بے حسی کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔کیوں ؟ ۔۔ کیسے ۔۔؟   مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے حکومت کی نا اہلی سے وہ دن آنے والا ہے جب لوگ اپنی بٹیوں کو پیدا ہوتے ہی خود مار دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اب  یہی ایک طالبانی نظام کا قانون  بچا ہے باقی سب ظلم تو کب کے ہو چکے ۔۔۔۔۔۔  محترم المقام جناب صفدر ہمدانی نے ہم سب کے احساسات کی کیا خوب ترجمانی ہے ۔۔  اور ملالہ جیت گئی  خاک ہوا دہشت کا مسکن اور ملالہ جیت گئی ہار گئے ہیں امن کے دشمن اور ملالہ جیت گئی شاخیں شجر وحشت کی ہیں موسم گل میں خشک ہوئیں شجر امن پہ آ گیا جوبن اور ملالہ جیت گئی کر یزیدی نے یہ سمجھا ختم ہوا پیغام وفا برسا کھُل کر پیار کا ساون اور ملالہ جیت گئی معجزہ یہ بھی دیکھا سب نے قطرے خوں کے پھول بنے طالب جبر کا جل گیا خرمن اور ملالہ جیت گئی جسکو ظلم ونفرت نے بارود سے تھا برباد کیا ہو گیا پھر آباد وہ گلشن اور ملالہ جیت گئی یہ بھی ہے اعجاز مسیحا نبض رواں معصوم کی ہے تھم گئی جبر کے دل کی دھڑکن اور ملالہ جیت گئی ایک یہی آواز تھی صفدر پھیلی ساری وادی میں پاک رسول ہو تیرا ضامن اور ملالہ جیت گئی بشکریہ عالمی اخبار

 http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=nighat&article=33246

اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شدت پسندوں میںکیوں شامل ہو رہے ہیں؟ تحقیقی رپورٹ تحریر: مجاہد حسین Last Modified October 6, 2012 04:10 پنجاب میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں اور عواتی سطح پر ان کی حمایت غلط قرار دینے والوں کا خیال یہ ہے کہ پنجاب کی سرزمین جغرافیائی حوالے سے قبائلی جنگجوئوں کے لیے سازگار نہیں اور اس کے زیادہ تر میدانی علاقے مخصوص پناہ گاہوں کا کام نہیں دے سکتے، اس لیے پنجاب میں روایتی طالبان کا پنپنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اصولی طور پر یہ سوچ طالبان کو مخصوص لباس اور مخصوص وضع قطع کے ساتھ دیکھنے اور جاننے تک محدود ہے اور ان کے ہاں طالب کا تصور ایک قبائلی اسلحہ بردار، نیم خواندہ کسی حد تک پسماندہ فرد کی ہے جس کو دور سے پہچانا جاسکتا ہے اور جو اپنی قبائلی دشمن داری کی روایت میں الجھے ہونے کے باوجود ایک راسغ العقیدہ شخص ہے۔ پنجاب میں ایسے شخص کو غیرت مند اور راست گو سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس کے ڈانڈے ہماری جنگجوئی کی قدیم خواہش سے جا ملتے ہیں اور برصغیر کا مخصوص اور متعصب مورخ ہندوئوں کے ساتھ اپنے تعصب کے اظہار کے طور پر پختون جنگجوئوں کا ایسا نقشہ کھینچتا رہا ہے۔ چھوٹے بچوں اور نو عمر طالب علموں کو پڑھائیج انے والی معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان کی کتب میں پختون اسلحہ بردار کو غیرت ایمانی کا مجسمہ اور ایک ایسا راسخ العقیدہ مسلمان ظاہر کیا جاتا ہے جو اپنی غیرت وطن اور اسلام کے نام پر اپنی جان نچھاور کرنے کو ہر وقت تیار نظر آؤا ہے۔ اس کے علاوہ پختون مجاہدین کی بہادری اور جانثاری کی داستانیں آج بھی پنجاب کے لوگوں کے لیے سبق آموز اور سنہری داستانیں ہیں جن میں انہیں کافروں اور دوسرے اسلام دشمنوں کے ازلی دشمن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا تصور زیر اثر پروان چڑھنے والے اذہان کو یہ باور کرانا کہ مسلح پختون یا کوئی بھی مسلح اور آمادہ قتال شخص کسی صحت مند معاشرے کے لیے کبھی بھی سود مند نہیں رہا۔ پاکستان جو ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کا اتحادی ہے، آج اس کی ہئیت مقتدرہ کے ہاتھوں میں پلے ہوئے پنجاب میں برسر اقتدار مسلم لیگ نواز مرکزی حکومت سے دشمنی اور اختلاف کے باعث طالبان کے ٹھکانوں کو ختم کرنے سے گریزاں ہے اور جنوبی پنجاب میں طالبان اور ان کے مقامی فرقہ پرست ساتھیوں کے خلاف کسی قسم کے آپریشن پر آمادہ نہیں۔ مسلم لیگ نواز کے قائدین کا خیال ہے کہ اگر وہ مرکزی حکوم تاور بعض خفیہ ایجنسیوں کی خواہش پر پنجاب کے طاقتور انتہا پسند گروپوں اور خطرناک فرقہ پرستوں کے خلاف کسی قسم کی کاروائی کریں گے تو پنجاب کے مذہبی حلقوں میں اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچے گا۔ ان کی جماعت کا سب سے متحرک اور مالی معاونت کا ذمہ دار تاجر طبقہ جو کئی عشروں سے مسلم لیگ نواز، مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوںکو جہاد اور فرقہ وارانہ تطہیر کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے امداد فراہم کر رہا ہے، اپنا ہاتھ کھینچ لے گا۔ مثال کے طور پر صرف لاہور کے صرافہ بازار میں ایسے سیاسی تجاروں کی طرف سے ایک محتاط اندازے کے مطابق 10کروڑ روپے ماہاہنہ چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے جو کشمیر میں جہاد کی علم بردار ایک متشدد مذہبی تنظیم کو اسلحہ کی خرید اور شہدا کے ورثا کی خدمت کے لیے دیا جاتا ہے۔ اگرچہ پنجاب بھر میں سیاسی طور پر متحرک تاجر تنظیمیں اور گروپ پاکستان کے متشدد مذہبی تنظیموں، جماعتوں اور گروپوں کے لیے اربوں روپے کا چندہ اکٹھا کرتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر یا تو خود مسلم لیگ نواز کے ساتھ منسلک ہیں یا پھر وہ اپنے اپنے حلقوں میں مسلم لیگ نواز اور جماعت اسلامی کے مقامی دفاتر اور رہنمائوں کے لیے رقوم مہیا کرتے ہیں۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق پورے پنجاب سے ہر ماہ چار سے پانچ ارب روپے سیاسی و مذہبی جماعتوں کی کارکرگی بڑھانے کے لیے جمع کیے جاتے ہیں جب کہ انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کی مالی معاونت کے لیے انہیں مساجد اور مدارس کی تعمیر کے نام پر دستار بندی کی تقریبات اور جلے جلوسوں کے لیے الگ سے رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ چند سال قبل جب کشمیر میں جہاد زوروں پر تھا مریدکے میں کالعدم لشکر طیبہ کے سالانہ اجتماع میں لاہور کے تاجروں کے ایک گروپ نے وہاں پر حاضرین کے دل گرمانے کے لیے آویزاڈ کی گئی ”مال غنیمت کی رسی” سے متاثر ہو کر کروڑوں روپے جہاد فنڈ میں دینے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ لشکر طیبہ ہر سال نومبر یا دسمبر (ان مہینوں کا انتخاب اس لیے کیا جاتا تھا کہ شدید سردی اور برف باری کے باعث کشمیر کی سرحد عبور کرنا مشکل ہوتا) میں جہاد کشمیر میں عملی طور پر حصہ لینے والے مجاہدین اور پاکستان اور بیرون پاکستان اس جہاد کی مالی معاونت کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سالانہ اجتماع کا اہتمام کرتا۔ اس اجتماع کے موقعہ پر پورے پنڈال میں ایک لمبی رسی کے ساتھ بھارتی فوجیوں سے چھینے ہوئے ہتھیار، فوجی وردیاں اور دیگر فوجی ساز و سامان آوایزاں کیا جاتا۔ رسی کے ایک کونے پر ”محاذ جنگ پر کافروں سے چھینا ہوا مال غنیمت” لکھ کر لٹکا دیا جاتا۔ اصل مقصد دور دراز سے آنے والے لوگوں پر جہاد کی دھاک بٹھانا اور انہیں یہ بتانا مقصد تھا کہ لشکر طیبہ کے مجاہدین نہ صرف بھارتی کافر فوجیوں کو کشمیر میں جہنم واصل کر رہے ہیں بلکہ وہ مجاہدین کے خوف سے اپنا فوجی ساز و سامان بھی چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ پنجاب میں مذہبی شدد اور فرقہ وارانہ جنگ کی ابتدا کا زمانہ اگرچہ جمہوری حکومتوں کا زمانہ ہے اور ضیاالحق کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت تھی لیکن ضیا دور میں منہ زور اور مہم جوئی کی طرف مائل آئی ایس آئی اصل میں فوجی جنتا کو باور کرانے میں مصروف تھی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نہ صرف پاکستان کے وسیع تر مفادات کے خلاف کجام کر رہی ہے بلکہ اس کی مرکزی قیادت نظریہ پاکستان اور اسلام کے سنہری اصولوں سے انحراف کے راستے پر چل رہی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے بارے میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کی تیار کردہ رپورٹ میں سب سے پہلا نقطہ اعتراض بے نظیر بھٹو کا شیعہ مسلک کی طرف مائل ہونا ہے۔ اس کی وجہ جہاں نصرت بھٹو کا ایرانی شیعہ ہونا بطور ثبوت پیش کیا جاتا وہاں آصف علی زرداری جنہیں سندھ کا ایک رواتی ملنگ شیعہ (پاکستان کے اہل تشیع انقلاب ایران کے بعد ملنگ شیعہ اور غیر ملنگ شیعہ یا شرعی شیعہ کی ایک خالصتاً اندرونی تقسیم کا شکار ہیں اور دونوں مکاتب ایک دوسرے کو غلط سمجھتے ہوئے شیعت سے ہٹا ہوا سمجھتے ہیں) قرار دیا جاتا ہے، کی بیوی ہونے کے ناطے بینظیر بھٹو کو پاکستان کے اکثرتی مذہب کی نظر میں تقریباً ناپسندیدہ ظاہر کیا جاتا رہا۔ پنجابی طالبان ایسی تنظیموں کا ملغوبہ ہیں جن پر حکومت نے ماضی میں اس لیے پابندی عائد کردی تھی کہ ان کا تعلق پنجاب میں فرقہ واریت کو پروان چھڑانے والی جماعتوں سے تھا۔ انہوں نے جہادِ کشمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور ان کے تحریکِ طالبان پاکستان، افغانستان کے طالبان اور فاٹا کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے عسکریت پسندوں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار تھے یہ لوگ فاٹا اور پاکستان کے کسی بھی حصے میں آزادانہ گھومتے، افغانستان اور فاٹا کے عسکریت پسندوں کو پاکستان کے اندر تخریبی کاروائیوں کے لیے نقل و حمل اور قیام و طعام کی تمام سہولتیں مہیا کرتے۔ مثلاً محض مارچ 2005اور مارچ 2007 کے درمیان 2000کے قریب عسکریت پسند شمالی اور جنویب پنجاب سے جنوبی وزیرستان منتقل ہوئے اور اپنے تعلقات کے دائرے کو وسیع اور مضبوط بنانے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نیپ نجاب کے مختلف شہروں کے حوالے سے سیکورٹی کے ڈھانے کی قیمتی معلومات تحریک طالبان پاکستان ک ہم خیال دوستوں کو فراہم کیں جنہوں نے بعد ازاں لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی کے ساتھ ساتھ پنجاب کے مختلف شہروں کو اپنے انتقام کا نشانہ بنایا۔ دہشت گردی کے تدراک کے لیے کام کرنے والے پاکستانی ادارے (NACTA) کے نئے چیئر مین طارق پرویز پنجابی طالبان کے ڈھانچے کے حواولے سے کہتے ہیں کہ ان کے نظریات، نقل و حمل کے وسائل اور پیسہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ عرب ملکوں میں خصوصاً مصری اور سعودی شہری تمام ان کی معاونت کرتے ہیں۔ خودکش حملوں کے ماہر قاری حسین جیسے لوگ انتہا پسند حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں جب کہ پاکستانی طالبان انہیں شہدا مہیا کرتے ہیں۔ ان کے قبول ”پنجابی طالبان” کی اصطلاح سب سے پہلے اس وقت سامنے آئی جب پننجاب کے کچھ مذہبی عناصر نے ”حرکت الجہاد الاسلامی” کے قاد قاری سیف اللہ اختر کی زیر قیادت 1990میں افغانستان میں ملا عمر کی حکومت کی مدد کی اس جماعت کے نام یک دوبارہ باز گشت اس وقت سنائی دی جب 2001,2003کے درمیان سابق پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے پنجاب کے چند عسکری اور مذہبی گروہوں پر پابندی عائد کی۔ چنانچہ اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے یہ تمام گروپ فاٹا کی جانب منتقل ہونے لگے جہاں انہوں نے اپنے کیمپ قائم کرلیے۔ ان تمام گروہوں نے خصوصاً فاٹا اور عموملی طور پر شمالی وزیرستان میں اپنے علیحدہ تربیتی مراکز بھی قائم کیے۔ موجودہ پنجابی طالبان کی متعدد خامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ مثلاً ان تنظیمی نظم و ضبط کا فقدان ہے اور کمان کمزور ڈھانچے پر استوار ہے۔ بنیادی طور پر یہ دور دراز بیٹھے لوگوں کے کمزور نیٹ ورک کے حصے کے طور پر کام کرتے ہیں یہ بکھرا ہوا شیرازہ کبھی لشکرِ جھنگوی، سپاہ ہصحابہ پاکستان، جیش محمد اور ان کی کئی ذیلی تنظموں پر مشتمل تھا جبکہ بعض ایسے انتہا پسند بھی ان کے ساتھ شامل ہیں جن کا کسی گروہ سے کوئی تعلق نہیں رہا اور وہ پنجاب کے کئی علاقوں میں پولیس کو بینک ڈکیتیوں ور دیگر جرائم میں مطلوب ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان میں سے کئی ایک نے 1990ء کی دہائی میں براہ راست حکومتی سر پرستی میں پیشہ وارانہ تربیت حاصل کی تھی اور گوریلا کاروائیوں سے لے کرتباہی پھیلانے کی کاروائیوں کی مکمل تربیت حاصل کیا۔  پنجابی طالبان بھارتی ہتھیار استعمال کرنے کے بھی ماہر ہیں اور تحریک طالبان پاکستان کے علاوہ ان علاقوں کے دیگر عسکریت پسندوں کے ساتھ آزادانہ کاروائیاں انجام دیتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دسمبر 2008ء کے اواخر میں پانچ پنجابی طالبان اس وقت فضائی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے جب وہ ایک ٹرک میں مسلح ہو کر ڈرون طیارے کا پیچھا کر رہے تھے۔ ان کا ٹرک مٹی اور گھاس کے جھنڈ میں پوشیدہ تھا مگر وہ اپنی مشکوک نقل و حرکت سے نشانہ بن گئے۔ تیسری بات یہ بھی ہے کہ یہ لوگ زیادہ ترس نی العقیدہ اور سلفی مسلمان مکاتب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پنجاب میں دیو بندی فریق کی انتہا پسند شاخ نے فوج کے دم سے ہی اپنی جڑیں مضبوط کی تھیں کیوں کہ پنجابی طالبان نے ان دیوبندی مدرسوں کے پھیلائے ہوئے جال سے تعلیم حاصل کی تھی جنہیں سابق صدر جنرل ضیا الحق نے 1977سے 1988تک پنجاب بھر میں پھیلایا۔ عسکریت پسندوں کے خاندانی پس منظر کے بارے میں ایک سروے: پاکستان میں سرگرم ان تنظیموں میں شامل عسکریت پسندوں کے متعلق یہ بتانا نہایت مشکل ہے کہ وہ کون سے محرکات اور معاشرتی اور گھریلو عوامل تھے جنہوں نے انہیں ان تنظیموں سے وابستہ ہونے پر اکسایا۔ بہت سے دانشوروں کے چیدہ چیدہ انٹرویوز سے یہ بات عام ہوئی کہ پاکستانی دینی مدارس غریب بچوں کو تعلیم اور تربیت دے کر عسکری تنظیموں میں بھیجتے ہیں ان دانشوروں کا یہ خیال بھی تھا کہ تمام عسکریت پسند غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی شعوری سطح ناپختہ ہونے کی وجہ سے دینی مدرسے انہیں بنیاد پرستی کے صحرا کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔ خصوصاً 11ستمبر کے امریکہ پر حملے کے نتیجے  میں اربابِ اختیار مسلسل اس بات کا تقاضا کر رہے تھے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں تعلی کا معیار بلند کیا جائے۔ صدر بش نیب ھی اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ ہمیں غرب سے لڑنا ہے کیونکہ اس سے وابستے موہوم امید ایک ایسی کرن ہے جو کہ شاید دہشت گردی کا سدِ باب کرنے میں کامیاب ہوسکے۔ پاکستان کی مثال کو سامنیرکھتے ہوئے 11ستمبر کی کمیشن رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ غربت، رشوت ستانی اور حکومتی معکوش روئیے ہی ایسے منفی رجحانات تھے جنہوں نے عسکریت پسندی کو ہوا دی۔ ان تمام خدشات پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے برملا اظہار خیال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے معروضی پس منظر کے بغیر عسکریت پسندوں کے متعلق متنازعہ خیالات کسی مضبوط بنیاد پر استوار نہیں تھے۔ نہ ہی جہادیوں کے خاندانی پس منظر پر کوئی عقدہ کشائی کی گئی تاہم اس زمرے میں تحقیقی کام جو کہ مریم ابو ذہب اور محمد عامر رانا نے انجام دیا خاصا قابل ستائی اور اہمیت کا حامل تھا۔ عسکریت پسندی کے محرکات، خاندانی پس منظر اور مذہبی رجحانات کی بنیاد پر معروف سکالر کرسٹین فیئر نے ایک سروے کی روشنی میں جامع تحقیقاتی مضمون لکھا ہے کہ یہ لوگ کون تھے، کس طرح جہادذی تنظیموں میں شمولیت اختیار کی اور بالآخر کشمیر یا افغانستان کے محاذوں پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے شہید کہلوائے۔  اس رپورٹ میں مختلف سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ذاتی سوالات سیالے کر گھریلو معاملات کو بھی زیر حبث لایا گیا ہے۔ باوثوق ذرائے سے شہدا کی تعلیمی قابلیت، روزگار اور خاندانی پس منظر کے متعلق آگاہی حاصل کی گئی جس سے پتہ چلا کہ انہیں کہاں سے بھارتی کیا گیا کس گروپ نے انہیں قبول کیا ان کی تربیت کہاں کی گئی انہوں کہاں ”خدمات” انجام دیں اور پھر کیسے شہید ہوئے۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر ایسے مضبوط شواہد سامنے آئے جن کا پالیسیاں ترتیب دینے میں بنیادی کردار ہوسکتا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ اس عسکریت پسندوں کو سمجھنے میں بہتر مدد ملے گی اور معاملات حل کرنے کی جانب مثبت اقدامات کیے جا سکیں گے۔ اس سروے کو امریکہ کے ادارے ”انسٹیٹیوٹ آف پیس برائے تنازعات اور ان کا تدراک” کی مدد سے ترتیب کیا گیا۔ زیادہ تر توجہ کا مرکز پنجاب اور سرحد کے صوبے رہے تاہم سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر کو بھی شامل کیا گیا تمام ڈیٹا اور معلومات اگست 2004ء سے لیکر اپریل 2005ء کے درمیان اکٹھی کی گئیں۔ اور یہ بھی کوشش کی گئی کہ ہر اس خاندان سے ملا جائے جس کا کم از کم ایک شہید جہاد کی نذر ہوا اور یہ بھی مد نظر رکھا گیا کہ سوویت یونیت کی افغانستان میںجنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے 1990ء کے بعد کے دور کے آس پاس ہی رہا جائے کیونکہ یہی وہ دور ہے جب افغانستان اور کشمیر میں موجودہ تنازعات نے سر اٹھایا۔ مکمل رپورٹ تیار کرنے میں شہید کے خاندان کی گھریلو معلوماً مثلاً اخراجات کا حجم، گھر کا رقبہ، کنبے کے افراد کی تعداد، ازدواجی حیثیت، عمر، تعلیم اور دیگر افراد کی تعلیمی قابلیت کو بھی جانچا گیا۔ مذہبی اور دنیاوی تعلیم کے متعلق بھی اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔ اس ڈیٹا میں ان لوگوں کا سول سروس اور حکومتی اداروں سے تعلق، مردوں اور عورتوں میں ملازمت کے رجحانات، آمدنی اخراجات اور وراثت کو پرکھنے کے ساتھ ساتھ مختلف مکتبہ فکر کے متعلق ان کے نظریات کو سمجھنے میں بھی مدد ملی۔ جب کہ ایک عسکریت پسند کی شہادت سے پہلے اور بعد کے ان حالات پر بھی غور کیا گیا جو کہ اس کے گھر والوں کے استھ پیش آئے۔ خاندانی یونٹ کی بنیاد پر تقریباً 53فیصد چھوٹے کنبوں سے تعلق رکھتے تھے۔ شہری تناسب سے چھوٹے کنبوں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جب کہ شہیدوں کے خاندانوں کو مدِ نظر کھیں تو ان کا حجم 12افراد پر مشتمل تھا۔ جب کہ پاکستان کے حوالے سے خاندان کا اوسط حجم 7اور 8افراد کے درمیان ہے۔ 131مجاہدین کے سروے کے مطابق اوسط خاندانی تناسب 144فی صد رہا۔ 90خانداوں میں ایک مجاہد تھا، 28خاندانوں میں 2اور 12خاندانوں میں 3مجاہدین تھے جب کہ 2خاندانوں میں بتدریج 4اور 5کی تعداد میں تھے۔ صوبوں کی بنیاد پر جغرافیائی تسیم کے نمونہ کا چارٹ اس سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمومی طور پر تمام خاندان والے اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ ان کے کنبے کے فرد نے شہادت کا جام پی لیا ہے۔ 141میں 110یعنی 78فی صد یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کا عزیز کسی تنظیم میں شمولیت اختیار کر چکا ہے۔ کنبے کے باقی افراد بھی جانتے تھے کہ ان کا بھائی بند کسی تنظیم کا ممبر بن چکا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر خاندان کا سربراہ کل اختیارات کا مالک تصور ہوتا ہے اس مقصد کے لیے سروے سے جو معلومات اکٹھی کی گئیں۔ ان میں مدعا علیہان کے گھروں  کا محل وقوع، قابلیت، عمر، جنس اور تعلیمی پس منظر بھی جانچا گیا ہے۔ محض 17(12فیصد) مدعا علیہ نے مذہبی مدرسوں میں داخلہ لیا جب کہ ان میں سے صرف 7نے تعلیمی سرٹیفکیٹ حاصل کئے۔ انہوں نے کلی طور پر کم از کم دو سال تک مدرسوں میں حاضری کو ممکن بنایا جب کہ مدرسے کی مکمل تعلیم کے لیے 8سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف 4فیصد ہی طلبا یاسے تھے جنہوں نے مکلم تعلیم حاصل کی پاکستان کے باقی مدرسوں کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں تھی۔ جہاں تک سیکولر تعلیم کا تعلق ہے اس سروے میں بھی لوگوں کی خاصی تعداد پڑھتی لکھی نکلی۔ مردوں میں 27فیصد کی کوئی رسمی تعلیم نہیں تھی جب کہ 22فیصد نے میٹرک یا اس سے کم تعلیم حاصل کی تھی۔ 22فیصد میٹرک یا انٹرمیڈیک سے کم تعلیمی درجے کے تھے۔ 16فیصد انٹرمیڈیٹ یا گریجیویشن سے کم تھے اس تمام سروے سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہ کہ آدھے سے زائد مجاہدین اوسطاً میٹرک تھے۔ میٹرک تک  تعلیم مکمل کرنا پاکستان جیسے ملک میں ایک بڑا سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی آبادی میں میٹرک پاس مردوں کی تعداد 32فیصد ہے۔ قومی معیار کو مدِ نظر کھتے ہوئے سروے کے اس نمونے میں پڑھے لکھے مجاہدوں کی تعداد خاصی بڑی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ عسکریت پسندوں کا تعلق کن طبقات سے تھا۔ پاکستان میں سیکورٹی فورسز اور خفیو فوجی اداروں کی ایک لمبی تاریخ ہے ان حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے جہادی عناصر کے فوجی پس منظر کے حوالے سے بھی سروے کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ 14فیصد ایسے لوگ تھے جنہوںنے فوجی تربیت حاصل کی تھی 11افراد یعنی 14فیصد آرمی میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ ایک فی صد بحری فوج میں جب کہ ایک فیصد نے نیشنل گارڈز کی ملازمت کی تھی ایک فیصد پولیس اور 5فیصد سیکورٹی ایجنسیوں سے آئے تھے۔ سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 60فیصد کا تعلق دیو بندی مسلک سے تھا 22فیصد اہل سنت مسلک اور جماعت اسلامی سے متاثر تھے 11فیصد بریلوی اور 6کافی صد اہل حدیث مکتبہ فکر کے تھے جب کہ اس نمونے میں کوئی شیعہ شامل نہیں۔ جب کہ اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے بریلوی اکثریت میں ہیں۔ جب متعلقہ خاندان والوں سے مجاہدین کے مذہبی رجحانات کے متعلق سوالات دریات کیے گئے تو 105خاندانوں یعنی 75فیصد کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ لوگ باقی افرادِ خانہ کی مانند ہی تھے۔ جبکہ 21فی صد نے کہا کہہ ان میں مذہبی وابستگی باقی اہلِ خانے سے نسبتاً زائد تھی 5فیصد ایسے تھے جو خاندان کے دوسرے لوگوں سے کم مذہبی تھے۔ جب مذہبہی مجالس اور دیگر اسلامی درسوں میں حاضری کی کیفیت کو مدِ نظر رکھ کر سروے ہوا تو 97فی صد مرد ایسے تھے جو باقاعدگی سے اسلامی اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے جب کہ 82فیصد خواتین بھی تھیں۔ 2001ء میں ورلڈ ویلیو سروے کی رپورٹ کے مطابق 50فیصد لوگ ہفتے میں ایک سے زائد بار مذہبی تقریبات میں شرکت کرتے رہے تھے۔ 23فیصد ہفتے میں ایک بار ایسی تقریبات میں جاتے تھے جب کہ 17فیصد کے متعلق یہ رپورٹ تھی کہ وہ مہینے میں ایک بار ضرور مذہبی اجلاس میں اپنی شرکت ممکن بناتے تھے۔ کل تعداد کو دیکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ اوسطاً 91فیصد لوگ ہر ماہ میں ایک بار ضرور مذہبی مجالس میں جاتے تھے اور 8فی صد سال میں ایک مرتبہ کسی خاص موقے پر ضرور حاضری دیتے تھے۔ جب شہدا کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کی گئی کہ کیا شہادت کے بعد شہید کے گھر والوں میں مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے کچھ کمی ہوئی ہے تو جواب نفی میں تھا۔ 58فیصد میں مذہبی رجاحنات جوں کے توں پائے گئے جب کہ 41فیصد یا 58فیصد افراد میں پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ مذہب کی جانب رغبت نظر آئی۔ مختلف خاندانوں کے سروے رپورٹ کے مطابق (141میں سے 99) 70فیصد کنبوں میں ایک شہید تھا۔ ہر پانچ میں سے ایک خاندان کے دو شہید تھے۔ 10میں سے ایک خاندان میں تین مجاہد تھے جب کہ دو خاندانوں میں بتدریج چار اور پانچ کی تعداد میں مجاہد تھے۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد نے افغانستان کے بجائے کشمیر میں جہادی سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا۔ سروے میں یہ بات سامنے لائی گئی ہے کہ مجاہدین کا تعلق کن علاقوں سے تھا اور انہوں نے کہاں شہادت پائی۔ مجاہدین کے لیڈر ہرر شہید کے گھر بہ نفسِ نفیس تشریف لاتے اور انہیں مبارکباد کے علاوہ کچھ مراعات اور امداد بھی بہم پہنچاتے تھے۔ نیچے دئیے گئے ٹیبلز میں یہ تفصیلات درج ہیں کہ شہدا نے کن خطبوں میں جام شہادت نوش کیا۔جب خاندانوں والوں سے شہدا کی عمر کے متعلق استفسار کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ تمام مجاہدین جنہوں نے جام شہادت نوش کیا اس وقت نو عمر تھے۔ عمومبی اور اوسط عمر 22سال تھی۔ سب سے کمر عمر 12سال کا شہید تھا اور سب سے بوڑھا شخص 52سال کی عمر کا تھا۔ زیادہ تر تعداد 17اور 25کے درمیان ہے جو کہ 79فیصد تھے۔ خاندان کے عمائدین نے ان مذہبی گروپوں کے نام بھی بتائے جن سے ان کے نوجوانوں کا تعلق رہا۔ مگر کسی نے بھی شیعہ مخالف تنظیموں مثلاً لشکرِ جھنگوی یا سپاہ صحابہ پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار نہیں کیا۔ سروے کے اس نمونے میں 57فیصد کا تعلق جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیموں سے تھا یعنی البدر سے 54 عزب المجاہدین سے 27لوگ وابستہ تھے۔ سروے کے اس نمونے میں چوتھائی افراد کا تعلق دیوبندی تنظیم سے تھا 18عدد حرکت المجاہدین اور 6عدد کی جیش محمد سے وابستگی تھی۔ اہلحدیث کی تنظیم میں 13فیصد لوگ شامل تھے جن میں سے 13لشکرِ طیبہ اور  5افراد کا تعلق تحریک المجاہدین سے تھا۔ جماعت اسلامی سے عنادر رکھنے والے تحریک نفاذِ شریعت محمدی کے شہدا کی تعداد 9بنتی تھی جو کہ 6فیصد کے قریب ہے۔ بریلوی مکتبۂ فکر کی 2شہدا کے ساتھ 2فیصد تعداد بنتی تھی جو کہ سنی جہاد کونسل اور تحریک جہاد کی نمائندگی بھی کر رہے تھے۔ شہدا کی اوسط عمر کا خاکہ عموماً جہادی افراد اپنے مسلک کی تنظیمیں ہی منتخب کرتے رہے ہیں لیکن پچھلے سروے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر دفعہ یوں نہیں ہوا۔ مثلاً اہل حدیث کی تنظیم لشکر طیبہ اپنے سماجی اور جہادی پروگراموں کی وجہ سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراچکی تھی۔ اس کا وجود طبی کلینک، اسکولز اور مدرسوں کی شکل میں پھیلا ہوا ہے جس سے وہ دوسرے مکاتبِ فکر کو بھی جلد ہی اپنی جہادی تنظیموں کی جانب راغب کرتے رہے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ خودکش بمبار جو کہ آج کل افغانستان اور پاکستان میں سرگرم عمل ہیں ان کی تربیت مخصوص مدارس میں ہی ممکن ہوئی ہے۔ جب تنظیمی تربیت کے حوالے سے مجاہدین کے خاندانوں سے استفسار کیا گیا کہ کیا ان افراد نے باقاعدہ مذہبی تنظیموں میں شمولیت اختیار یک تھی مثلاً اسکولوں اور کالجوں کی چھٹیوں کے دوران بھی بعض تنظیمیں طلبا کو اپنے تربیتی پروگراموں کی جانب رابغ کرتی ہیں۔ اس سروے سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ 141سے 117یعنی 83فیصد حضرات نے یہ تربیتی کورسز مکمل کیے۔ مثلاً کیمپوں میں حاضری دی اور کم از کم ایک شہید ایسا بھی تھا جو کہ ایئر فورس میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔ جب جہادی حضرات کے رینک اور سٹیٹس کے متعلق پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ شہدا میں 30شہید یعنی 21فیصد کمانڈر کے درجے پر فائز تھے۔ جبکہ باقی ماندہ عام کیڈٹ تھے۔ شہدا کے ریکارڈ سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کی تعلیمی قابلیت عام پاکستان کی اوسط تعلیم سے زیادہ تھی۔ جبکہ محض 6فیصد ایسے لوگ تھے جن کی تعلیم رسمی نوعیت کی تھی۔ 35فیصد کا تعلیمی معیار پرائمری سے زائد اور میٹرک سے کم تھا جبکہ 40فیصد میٹرک کر چکے تھے اور انٹر میڈیٹ کی ڈگری حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ 31فیصد گریجوایشن نہ کر پائے تھے جبکہ انٹر میڈیٹ کی ڈگری لے چکے تھے اور 6فی صد ایسے بھی جو سیکنڈری سے اوپر کے درجے تک تعلیم یافتہ تھے۔ دوسرے لفظوں میں 58فیصد کے قریب شہدا میٹرک کی تعلیم حاصل کرچکے تھے اور ان میں سے کئی ایک نے مزید تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ اگر تمام پ اکستان کو مدِ نظر رکھا جائے تو میٹرک پاس طلبا کی تعداد ہر تین نوجوانوعں میں سے ایک ہے اور اس سروے میں تمام خاندان صوبہ سرحد سے منخب کیے گئے تھے جہاں تعلیم کے معاملے میڈ دیگرر صوبوں سے پسماندگی کا تناسب بھی زیادہ ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس نمونے میں شہدا کی تعداد خاصے پڑھے لکھوں کی تھی۔ جس سے ان شواہد کو بھی ہوا ملتی ہے کہ عسکریت پسندوں کو سامنے لانے میں محض مدرسوں کا کردار ہی نہیں رہا بلکہ ان تجزیوں کو مزید باریک بینی سے حقائق دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب سیکولر تعلیمی بنیاد پر سروے کیا گیا تو ان شہدا  کے گھر والوں سے دینی مدرسوں میں حاضری کے حوالے سے یہ پتہ چلا کہ چار شہیدوں میں سے ایک سے بھی کم شخص نے مدسرے کی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اس کا نسبتی تناسب 23فیصد ہے۔ 33شہدا جنہوں نے جام شہدات نوش کیا تھا اس میں سے 13افراد نے مذہبی اسناد حاصل کی تھیں۔ یہ تعداد سروے کے نمونے کا 9فیصد ہے اور تمام افراد جنہوں نے باقاعدہ مدرسوں سے تعلیم حاصل کی ان کی تعداد 40فیصد ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ تعلیمی اسناد چار اقسام کی ہیں۔ جب تک یہ پتہ نہ چلے کہ کس شہید نے کون سی سند حاصل کی تھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کہاں تک مدرسوں سے استفادہ کیا گیا تھا۔ بہر حال ان شہدا نے جو درمیانی مدت تک مدرسہ میں جاتے رہے تین افراد تھے اکثریت یعنی 93فیصد پانچ سال یا اس سے کم عرصے تک زیر تعلیم رہے۔ ایک بڑا عنصر بے روزگاری بھی رہی جس نے اسکول کی سطح سے ہی طلبا کو جہادی تنظیموں کی جانب راغ کیا۔ جب شہدا کے خاندان والوں سے مجاہدوں کی ملازمت کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے تو معلوم ہوا کہ تنظیموں میں شمولیتی سے پہلے 33نوجوانو یعنی 23فیصد پبلک اسکولوں یا مدرسوں میں زیر تعلیم تھے۔ اگر 70میں سے 33منہا کریں تو تقریباً چار میں سے ایک بیروازگار ہے نہ کہ دو میں سے ایک۔اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتہائی پڑھے لکھے لوگوں میں بے روزگاری شرح بلند تھی۔ برسرِ روزگار افراد کے حوالے سے بھی مختلف شواہد سامنے آئے۔ ان مجاہدین کے ملازمتوں کے حساب سے مختلف پیشے تھے۔ زیادہ تر افراد دوکاندار، کسان اور دیہاڑی دار مزدور تھے، اچھے ہنر مندوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ بطور ڈاکٹر، نرس، آٹو مکینک، ایکسرے ٹیکنیشن وغیرہ کی خدمات انجام دے چکے تھے۔ شہدا میں سے ایک فرنٹیر کنٹیبلری FCکا ممبر بھی رہا تھا۔ 69باروزگار شہدا میں سے 56یعنی 8فیصد افراد کی سابقہ ملازمتوں کو محض ایک سے چار سال کا عرصہ گزرا تھا۔ بہر حال پڑھے لکھے افراد کی بے روزگاری کے مسئلے کو کم اہم نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس سروے میں ازدواجی پہلو کو بھی مدِ نظررکھا گیا ہے جس میں بھرتیہونے کے وقت سے شہادت تک اور اگر ان کے ہاں بچے تھیتو ان کا تناسب بھی شامل کیا گیا ہے۔ عموملی طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ جہادی حضرات نوجوان اور غیر شادی شدہ لوگ ہوتے ہیں مگر اس تجزیے میں بات سامنے آئی ہے کہ بھرتی کے وقت 2شہید یعنی 14فیصد شادی شدہ تھے۔  جبکہ ایک جوڑے میں علیحدگی ہو چکی تھی۔ 19افراد یعنی 13فیصد اپنی شہادت کے وقت رشتہ ازدواج سے منسلک تھے جبکہ ان میں سے بھی ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے رکھی تھی۔ جبکہ شادی شدہ افراد میں سے 15فیصد یعنی 11فیصد صاحبِ اولاد تھے۔ فضائل شہادت پاکستان میں بھی فلسطین اور دیگر کئی اسلامی ممالک کی طرح شہادت کا تصور اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ موجود ہے اور معاشرہ بھی شہید کے خاندان کو سرآنکھوں پر بٹھاتا ہے۔ شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال کے ایک شعر کا ایک مصرع اس کا بہترین غماز ہے۔ صلہِ شہید کیا ہے تب و تابِ جاودانہ شہید کے گھر ووالوں کو لوگ تمام معاشی رضوریات بہم پہنچاتے ہیں اس کے نام پر کنوئیں کھودے جاتے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کے نام شہید کے نام سے منسوب کر دئیے جاتے ہیں۔ شہید کے بیٹے اور بیٹیوں کا رہن سہن بہتر ہو جاتا ہے۔ بچوں کی شادیوں پر بھرپور معاونت کی جاتی ہے۔ شہادت حاصل کرنے والے مجاہدوں کے گھروں سے پوچھ تاچھ کے بعد مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئے 17یا 12فیصد گھروالوں نے اعتراف کیا کہ ان کے حالاتِ زندگی بہتر ہوئے ہیں۔ 75فیصد نے بتایا کہ ان کے گھریلو حالات جوں کے توں ہیں۔ 10فیصد خاندانوں نے حالات کی خرابی کا رونا رویا۔ شہید کے خاندان ک یلوگوں کی شادیوں کے معاملات پر بھی ایک سروے ترتیب دیا گیا۔ جس میں جہیز کے معاملے میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 67میں 58خاندانوں کی بیٹیوں کا جہیز عام لوگوں کی طرح ہی ادا کیا گیا۔ 6نے کم از کم ادا کیا اور 3نے زیادہ مقدار میں دیا۔ جبکہ تمام افراد کو اچھے امیر خاندانوں میں رشتے ملے۔ 90خاندانوں کے اعداد و شمار کے مطابق 23افراد یا 26فیصد کو بہتر خاندانوں میں رشتے میسر آئے۔ 66افراد یا 73فی نے کسی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا جبکہ محض ایک رشتہ برے حالات میں بھی ہوا۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد کئی عرب اور افغانستان پاکستان میں آکر آباد ہوگئے اور مقامی لڑکیوں سے شادیاں رچالیں اور یہ زیادہ تر ان پشتون علاقوں میں ہوا جو پاکستان اور افغانستان کے بارڈر کے علاقے میں تھے۔ نوجوانوں کی شہادت کیب عد جب ان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا کہ کیا ان غیر ملکیوں نے ان کے افرادِ خانہ سے شادی کے معاملے میں رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ ایک فیصد یا دو خاندانوں کی لڑکیوں کے ساتھ ان مجاہدوں نے بیاہ کیے۔ افغانستان میں جہاد کے لیے منتخب افراد نسبتاً کم تعلیم یافتہ تھے اور اغلب خیال ہے کہ وہ مدرسوں کے ہی فارغ التحصیل تھے کیونکہ خود کش بمباروں کی اکثریت پاکستانی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتی ہے اور یہ کشمیری جہادیوں کی نسبت نوخیز جوان ہیں۔ یعنی ان کی عمروں کا تعین 15سال یا اس سے بھی کم کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیم نہایت معمولی یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ جیسا کہ دیکھا گیا ہے یہ عسکریت پسند بنیادی طور پر مدرسوں سے نہیں چنے گئے تھے بلکہ اس سروے کے مطابق مساجد، تبلیغ اور دوسرے ذرائع سے آئے تھے جبکہ مدرسوں سے آنے والے مذہبی منافرت اور خود کش حملوں کے لیے استعمال ہوئے۔اس سے ان شواہد کا تخمینہ لگانے میں مدد ملی کہ محض مدرسوں کی وساطتے سے ہی عسکریت پسندوں کو بھرتی کرنے کا تخمینہ یا اندازہ درست نہیں بلکہ اگر کشمیر یا دوسری چنوتی والی کاروائیوں کوو جانچا جائے تو پبلک اسکولوں کے طلبا کا کردار بھی بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ ملک میں 70فیصد سے زائد طلبا انہیں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ مدرسوں میں محض 3فیصد سے زائد طلبا انہیں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ مدرسوں میں محض 3فیصد یا اسے سے بھی کم طلبا داخلہ لیتے ہیں۔ طلبا کی سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ پبلک، پرائیویٹ اورمذہبی اسکولوں کے ساتھ ساتھ مدارس کے طلبا جہاد کی حمایت کرتے تھے اور ہندوستان کے خلاف جارحانہ رویہ رکھتے تھے۔ اس سروے نے ایک نئے راستے کی سمات راہنمائی کی ہے کہ خاندان والے اپنے پیاروں کی مذہبی تنظیموں میں شرکت سے آگاہ تھے اور کئی ایک افراد گھر سے بغیر اجازت لیے بھی چلے آئے۔ شاید اس کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے محرکات ہیں جو کہ گھر والوں کو اپنے بچوں کی جہادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کو معیوب خیال نہیں کرتے۔ شاید ان سماجی قدروں کی کارفرمائی ہے کیونکہ خاندان کے افراد ایک بڑے کنبے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ دوسرے تجزیوںسے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن خاندانوں کے اثاتے یا جائیداد زیادہ ہوتی ہے وہ مجاہدوں کی رائے سے متفق نہیں ہوتے بلکہ ان کی تنظیموں میں رکنیت سازی کی مخالفت کرتے ہیں۔

http://ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=22679%3A2012-10-06-06-35-19&catid=28%3A2011-06-09-11-20-04&Itemid=33&lang=ur

شدت پسندوں کی مت سنو، نقصان تمہارا ہے!

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 , 17:20 GMT 22:20 PST

 توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہروں میں اکیس ستمبر کو تین پولیس اہلکاروں سمیت اکیس افراد ہلاک ہوئے.

مصنف احمد رشید کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی باتوں کو وزن دے کر پاکستان ایک بھاری قیمت ادا کر رہا ہے اور انہیں سیاسی ایجنڈے پر قبضہ کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔

پاکستان اور مسلم دنیا کے دیگر حصوں میں ان مغربی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے خلاف ایک بے بسی محسوس کی جاتی ہے جو آزادیِ اظہارِ رائے کا تحفظ بھی کرنا چاہتے ہیں اور ایسا مواد بھی شائع کرتے ہیں جس سے مسلمانوں میں ناراضگی پھیلے۔

بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی بے بسی شدت پسندآنہ رویوں کی حمایت میں اضافہ کر رہی ہے۔اور مغربی ممالک کی جانب سے اس اشتعال انگیز مواد کے بارے میں سمجھوتہ کرنے سے انکار بھی شدت پسندوں کے لیے مفید ثابت ہو رہا ہے جو کہ ان مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

"پاکستان کو شیعہ مسلمانوں سے ’پاک‘ کرنے کا خواہاں مسلح سنی گروہ سپاہِ صحابہ نے کوئٹہ میں تین سو ہزارہ افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے اور انہوں نے سرِعام پنجاب کے دیگر علاقوں میں مظاہروں میں شرکت کی”

یہ وضاحت پاکستان کے معاملے میں اور بھی زیادہ ٹھیک بیٹھتی ہے جہاں ریاست تین دیائیوں سے شدت پسندوں کے خیالات کو اہمیت دے رہی ہے مگر پھر بھی امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے۔

اکیس ستمبر کو تین پولیس اہلکاروں سمیت اکیس افراد اس وقت ہلاک اور دو سے زیادہ زخمی اس وقت ہوگئے جب پیغمبرِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بنائی گئی توہین آمیز فلم کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ چل پڑا۔اسلام آباد کے مخصوص سفارتی علاقے کا گھیراؤ کیا گیا اور پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بظاہر امن و امان قائم رکھنے کی تمام ذمہ داری سے ہاتھ دھو لیے اور جمعے کے روز تعطیل کے متنازع اعلان کے بعد کوئی سیاسی سمت واضح نہ کرنے کی وجہ سے مشتعل ہجوم کنٹرول سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ مظاہرے تیسرا اہم موقع ہیں جب ریاست نے، کسی بھی مدت کے لیے، چند شدت پسندوں کے مطالبات مان کر نہ صرف ریاست کو کمزور کیا بلکہ ان شدت پسندوں کو بھی مضبوط کیا جو کہ نظام درہم برہم کرنا چاہتے ہیں۔

جنوری دو ہزار سات میں فوجی حکمران پرویز مشرف اور ان کے وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے شدت پسندوں کو لال مسجر پر قابو پانے دیا۔ بظاہر ان کا یہ اقدام قدامت پسندوں کے اقتدار میں آنے کے امریکی خوف کو ہوا دینے کے لیے تھا تاکہ امریکہ پاکستانی فوج پر سے افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے دباؤ کم کرے۔

سات ماہ کی ٹال مٹول کے بعد جنرل مشرف نے وہاں فوج بھیجی اور ہزاروں مسلح افراد کے ساتھ ایک سو دو جانیں لینے والی جھڑپ کے بعد انہیں نکالا گیا۔ جنوری میں چند پولیس والے ہی یہ کام کر سکتے تھے۔

یہ ایک اہم موقع اس وجہ سے تھا کیونکہ ہزاروں مسلح افراد پہاڑوں میں نکل گئے اور ریاست کے مخالف پاکستانی طالبان مضبوط ہونے لگے۔

دو ہزار گیارہ میں دو اہم سیاسی شخصیات گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے بعد کسی بھی سیاست دان یا صحافی نے توہینِ مذہب کے قوانین کی مخالفت یا تبدیلی کی بات نہیں کی ہے۔یہ قوانین غیر مسلموں اور مسلمانوں میں اقلیتی فرقوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

 فلم کے خلاف گذشتہ ہفتے کے مظاہرے ملک میں کوئی بے ساختہ واقع نہیں ہوئے.ان دو افراد کے قتل کے بعد حکومت نے ان قوانین کے لیے پارلیمان میں تجویز شدہ ترامیم ہٹا دی۔ یہ بھی ایک اہم موقع اس لیے تھا کیونکہ اس موضوع پر بحث کو خاموش کر دیا گیا ہے۔

فلم کے خلاف گزشتہ ہفتے کے مظاہرے ملک میں کوئی بے ساختہ واقع نہیں ہوئے۔ ان میں پیش پیش وہ مذہبی سیاسی جماعتیں تھیں جو کہ پارلیمانی نظامِ حکومت کو بھی تسلیم کرتی ہیں اور ان دہشت گرد گروہوں کو بھی جنہیں حکومت اور اقوام ِ متحدہ نے کلعدم قرار دے دیا ہے۔

لاہور میں احتجاج کی سربراہی کلعدم تنظیم لشکرِ طیبہ نے کی جس کے مسلح کارکن افغانستان، بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر اور وسطی ایشیا میں لڑ رہے ہیں۔

پاکستان کو شیعہ مسلمانوں سے ’پاک‘ کرنے کا خواہاں مسلح سنی گروہ سپاہِ صحابہ نے کوئٹہ میں تین سو ہزارہ افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے اور انہوں نے سرِعام پنجاب کے دیگر علاقوں میں مظاہروں میں شرکت کی۔

کراچی اور پشاور میں پاکستانی طالبان احتجاج میں آگے آگے تھے۔ ان شہروں میں ان کے کافی اثاثہ جات بھی موجود ہیں۔

سندھ، بلوچستان اور حتیٰ کے خیبر پختونخواہ کے چند حصوں میں مظاہرے نہیں ہوئے کیونکہ مسلح گروہوں کے مسجدوں اور مدرسوں کا نیٹ ورک یا تو کمزور ہے یا ہے ہی نہیں۔

کہیں بھی حکومت نے اپنے حامیوں کے لیے کوئی پرامن احتجاج کا انتطام نہیں کیا جو کہ اس فلم کے خلاف آواز اٹھاتا اور ساتھ ہی حکومت کا وقار بھی برقرار رکھتا۔

کئی اور مواقعوں پر حکومت اور فوج نے امریکہ اور نیٹو کے پاکستان اور افغانستان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے جان بوجھ کر شدت پسندی کا تاثر پیش کیا ہے۔

جنوری دو ہزار بارہ میں فوج اور خفیہ اداروں نے مل کر درجنوں اسلامی جماعتوں، مسلح گروہوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کو دفاعِ پاکستان نامی کونسل کے پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا۔امریکہ اورنیٹو کے خلاف ملک گیر مظاہرے اس وقت ہوئے جب حکومت نے نیٹو کی افغانستان کے لیے رسد معطل کر رکھی تھی۔ بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی بے بسی شدت پسندآنہ رویوں کی حمایت میں اضافہ کر رہی ہے.

یہ رسد سات ماہ تک بند رہی جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں میں پاکستان کے بارے میں بے اعتمادی کے علاوہ ملک میں اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

تاہم جیسے ہی فوج نے امریکہ کے ساتھ سودا کرنے کا فیصلہ کیا اور رسد بحال کرنے لگے تو ایک دم سے کونسل ختم ہو گئی اور سڑکوں سے بھی غائب ہو گئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے شدت پسندوں پر اپنے اثر و رسوخ کی امریکہ کے آگے نمائش کی۔

اسی طرح پاکستان افغان طالبان کو بھی پناہ دیتا ہے حالانکہ ریاست پاکستانی طالبان کے دیگر گروہوں کے ساتھ لڑتی ہے۔ تو واضح سوال یہ ہے کہ ریاست اب ان خطرات سے کیوں نہیں نمٹ سکتی جو یہ مسلح گروہ پیش کر رہے ہیں؟

پاکستان اور مغربی ممالک کے بیچ جاری عزائم کی اس لمبی جنگ میں شدت پسندوں کی باتوں کو وزن دینا یا انہیں خارجہ پالیسی کے لیے استعمال کرنے سے ملک کی سول سوسائٹی، فوج بیوروکریسی اور پولیس میں صرف شدت پسندی نے پروان چڑھی ہے.

http://www.bbc.co.uk/urdu/interactivity/2012/09/120927_mortal_gamble_sa.shtml

جنوبی پنجاب کی مخدوش صورتحال

تحریر:مجاہد حسین

پاکستان کے طاقتور اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق طالبان جنوبی پنجاب میں بھی جڑ پکڑ رہے ہیں اور قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں میں پنجابی طالبان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق قبائلی طالبان نے اثر رسوخ بڑھانے کیلئے پنجابی طالابن کے ساتھ دینا شروع کر دیا ہے اور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سمیت جنوبی پنجاب کے پانچ اضلاع عملی طور پر پنجابی طالبان کے کنٹرول میں آگئے ہیں جو پاکستان کے استحکام کیلئے نیا چیلج بن چکے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں طالبان نے حجاموں اور کے کاروبار کرنے والوں کو پہلے ہی دھمکی دی ہے اور جبکہ ان علاقوں میں شادی بیاہ کے موقع پر ڈھول بجانے’ گیت’ گانے پر بھی پابندی ہے جس سے لگتا ہے کہ شدت پسندوں نے اس علاقے میں اپنی طاقت کو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشتون اور پنجابی طالبان کے درمیان نیا اتحاد سامنا آیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شامل پنجابی طالبان نے مشریف مشرف کے دور میں روپوشی اختیار کرلی تھی یا یہ لوگ قبائلی علاقوں میں چلے گئے تھے۔ اب ان پشتون طالبان کیساتھ پنجابی طالبان بھی شامل ہو گئے ہیں جو کہ امریکی ڈرون حملوں کی صورت یں قبائلی علاقوں میں طالبان کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے بدلے میں طالبان کے ٹھکانوں کی وجہ سے اسلام آباد میں میرٹ ہوٹل اور لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے جیسی وارداتیں ممکن ہوسکیں۔ طالبان نے مقامی کالعدم تنظیم کے ارکان کے تعاون سے ڈیرہ غازی خان میں پانچ فروری کو خودکش حملہ کیا جس میں 29شہری جاں بحق ہو گئے۔ گزشتہ ایک سال میں ڈرون حملوں میں ہلاک ہونیوالوں میں 20فیصد پنجابی طالبان شامل ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ پنجابی طالبان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قبائلی طالبان خودکش حملوں، فائرنگ اور دہشت گردی کی وارداتیں کرتے ہیں جبکہ پنجابی طالبان کی ذمہ داری ان کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں وانا اور وزیرستان سے آئے ہوئے قبائلیوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے کنزرویٹر اجمل رحیم کے مطابق کچھ عرصے سے وانا اور وزیرستان سے بڑی تعداد میں آنے والے لوگوں نے پنجاب اور صوبہ سرحد سے ملحقہ علاقہ ”ترمن” میں محکمہ جنگلات کی 4500ایکڑ اراضی قر قبضہ کرلیا جس کے بعد ان کیخلاف پریشن بھی کیا گیا لیکن شدید مزاحمت کے باعث 1500ایکڑ اراضی خالی کرائی جاسکی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے مطابق وانا کے بیشتر افراد محنت مزدوری کی غرض سے آئے اور ان کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں تاہم ان پر گہری نظر ہے۔ وانا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے عوض محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کو ماہانہ رشوت دیتے ہیں۔ وانا اور وزیرستان سے آئے ہوئے لوگوں کے پاس بھاری اسلحہ موجود ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی جا رہی۔ علاقے میں فرقہ واریت کا خطرہ ہر گزرتے ہوئے ڈن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس میں وفاقی حکومت کے کم از کم دو اہم وزراء شامل ہیں۔ جنوبی پنجاب کے حوالے سے جب بھی کوئی تجزیہ کیا جائے گا اسے ڈیرہ اسماعیل خان سے الگ کر کے دیکھنا ممکن نہیں کیونکہ ڈیرہ اسماعیل خان صرف جنوبی پنجاب کا ہی نہیں بلکہ پورے پنجاب’ سندھ اور بلوچستان تک جانے والے عسکریت پسندوں کے زیر استعمال رہنے والا شہر ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی ان دنوں اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پنجاب میں ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں میں استعمال ہونیوالے خودکش لڑکے وانا سے ڈیرہ اسلمعیل خان اور پھر بھکر’ رحیم یار خان’ دریا خان میانوالی کے راستے پنجاب میں داخل ہونے ہیں جیسا کہ لاہور میں ریسکیو 15کی بلڈنگ پر حملے کے ملزم دریا خان کے راستے پنجاب میں داخل ہوئے۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے ملزم بھی ادھر ہی سے گزر کر آئے۔ مناواں پولیس حملہ’ ڈی جی خان امام بارگاہ’ چکوال امام بارگاہ پر حملہ کے ملزم بھی اسی راستے سے گزر کر آئے۔ وثوق کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ میانوالی، بھکر، دریا خان اور رحیم یار خان میں پنجابی طالبان کے بڑے ٹھکانے قائم ہیں۔ اس طرح مظفر گڑھ، ڈیرہ اسماعیل خان، راجن پور میں بھی ان لوگوں کی آمد و رفت سے انکار ممکن نہیں۔ جنوبی پنجاب جو ہمیشہ سے فرقہ واریت کا شکار رہا ہے لشکر جھنگوی کے بیشتر لڑکوں کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ یہاں تک کہ لشکر جھنگوی کے بانی صدر ملک اسحاق رحیم یار خان کے رہنے والے ہیں اور بھکر میں بلا مقابلہ منتخب ہونے والے وزیر اعلی پنجاب بھی اسی گروپ کی حمایت کے سبب بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ جہادی سرگرمیوں اور فرقہ وارانہ وارداتوں میں ملوث یہ کارکن چونکہ فاٹا کے پنجابی طالبان سے منسلک ہیں اس لیے ان کی اس علاقے میں آمد و رفت اور وارداتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی پنجاب اس وقت پنجابی طالبان کی ہی نہیں بلکہ بی ایل اے کے بعض عناصر کی بھی پناہ گاہ ہے اور وہ یہاں کے تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے جو اضلاع سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں ان میں ڈیرہ غازی خان راجن پور شامل ہیں۔ ان اضلاع میں طالبان اور فرقہ وارانہ تنظیمیں دہشت گردی کے حوالے سے زیادہ سرگرم ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی وزیرستان کے ایک احاطے میں پچاس کے قریب ایسے افراد قید ہیں جن کو پنجاب کے مختلف علاقوں سے اغوا کر کے یہاں رکھا گیا ہے۔ ان کی رہائی کے عوض بھاری رقوم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صرف ملتان شہرسے چند ہفتوں کے دوران سات افراد کو اغواو کیا گیا جو بعد میں تاوان دے کر رہا ہوئے۔ ان میں جماعت اسلامی زون 10 کے امیر شیخ اسلم بھی شامل تھے جن کو ان کے بیٹے اور دو سمیت اغوا کرلیا گیا جو بعد میں 27لاکھ روپے تاوان ادا کر کے رہا ہوئے۔ اب وہ اپنے اغوا کی داستان سنانے سے بھی ڈرتے ہیں۔ شیخ اسلم نے تسلیم کیا کہ انہیں اغوا کر کے جہاں لے جایا گیا تھا وہاں اور بھی بہت سے لوگ رہائی کے منتظر تھے مگر وہ علاقہ کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔ البتہ اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ انہیں پنجابی طالبان کے نام سے شناخت رکھنے والے کسی ایک گروپ نے اغوا کیا تھا۔ ان دنوں جنوبی پنجاب میں طالبان کے نام سے وارداتیں کرنے والوں میں عصمت اللہ معاویہ، قاری ظفر، رانا افضل اور قاری عمران کے گروپ زیادہ فعال ہیں۔ عصمت اللہ خود کبیر والا کا رہائشی ہے گو کہ اس کا نیٹ ورک آزاد کشمیر میں ہے مگر اپنے علاقے میں بھی اس کا اثر و رسوخ کم نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اس گروپ سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گرد ملتان اور رحیم یار خان سے پکڑے گئے جو شمالی پنجاب میں ایک بڑی واردات کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک ہاشم اپنے ہدف کی ریکی کر کے چلا گیا تھا۔ یہ لوگ اگر پکڑے نہ جاتے تو پہلے موٹر سائیکل اور پھر ٹرک کے ذریعے خوفناک خودکش حملے کرنا اس کا ہدف تھا۔ اس طرح پانچ فروری 2009ء کو ڈی جی خان میں امام بارگاہ میں خودکش حملہ آور کو سہولیات فراہم کرنے والے قاری اسماعیل اور غلام مصطفیٰ قیصرانی کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ حتی کہ چکوال میں امام بارگاہ پر حملہ کے ملزم بھی اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے تھے۔ جنوبی پنجاب سے لشکر جھنگوی کے مختلف دھڑوں کی مدد کرنے والوں میں سپاہ صحابہ کے پرانے کارکن اور جہادی تنظیموں حرکت المجاہدین، حبشی محمد اور جہاد اسلامی وغیرہ کے کارکن شامل ہیں۔ ان میں کئی ایسے بھی ہیں جو پولیس تھانوں اور جیل خانوں سے بھاگے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ان دنوں کے ایک سابق آئی جی کے بھانے کا نام بھی طالبان کی فہرست میں نمایاں ہیں۔ جنوبی پنجابی خصوصاً ملتان اور اس کے گرد و نواع میں سرگرم دیو بندی مدارس اور متشدد تنظیموں کے بعض ارکان یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ملتان سے تعلق رکھنے والے دو وفاقی وزرا دیو بندی اور سنی مسلک کے لوگوں کو آپس میں لڑانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ملتان کی بعض مساجد، مدارس اور ایک بڑی تعداد کی حامل سنی العقیدہ جماعت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے کراچی کی طرح جنوبی پنجاب کے بعض شہروں میں سنی اور دیو بندی دھڑے بھی آپس میں الجھ پڑیں کیونکہ اطلاعات کے مطابق معتدل مزاج سنی جماعتیں بھی تیزی کے ساتھ اپنے کارکنوں کو مسلح کر رہی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں مساجد اور دیگر مقامات قر قبضے کے لیے انہیں ایک نئی طرز کی جنگ لڑنا پڑے۔ بہاولپور اور اس کے گرد نواح میں جیش محمد اپنے آپ کو مضبوط بنا رہی ہے اور ایسی اطلاعات بھی عام ہیں کہ چولستان میں ایک وسیع و عریض رقبے پر جیش محمد کے لیے تربیتی مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ اس مرکز کے لیے رقوم بیرون ملک موجود پاکستانی سرمایہ داروں، مقامی جاگیرداروں اور بعض طاقت ور اداروں کی وساطت سے اکٹھی کی گئی ہیں۔ جیش محمد بہاولپور شہر میں بھی پانچ ایکڑ پر مشتمل ایک قطعہ اراضی پر جدید ترین عمارتوں پر مشتمل ایک کمپلکس تعمیر کرنے میں مصروف ہے اور جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر بھی سینکڑوں محافظوں اور ساتھیوں کے ہمراہ اسی شہر میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ ممبئی حملوں کے بعد جب بھارت نے مولانا مسعود اظہر کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان حکومت سے مطالبہ کیا تو پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ مولانا مسعود اظہر کے ٹھکانے کے بارے میں نہیں جانتا اور مولانا مسعود اظہر پاکستان کی سرزمین پر موجود نہیں۔ جہادی گروہوں کو تیار کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ایک مخصوص مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ان کی زیادہ تعداد جنوبی پنجاب میں بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان جیسے نسبتاً پسماندہ علاقوں میں تھی۔ 2008ء کی انٹیلی جنس بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف بہاولپور میں ایسے مدرسوں کی تعداد 1383تھی جن میں زیر تعلیم طلبا کی تعداد 84ہزار کے قریب تھی۔ اس کے علاوہ بہاولنگر میں 310، رحیم یار خان میں تقریباً 560 مدرسے تھے جہاں 36ہزار طلبا زیر تربیت تھے۔ صوبہ سرحد اور فاٹا کے علاوہ ملک بھر میں ایسے مدرسوں میں زیر تعلیم طلبا کی تعداد 10لاکھ کے قریب ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق نائن الیون کے واقعے کے وقت صرف بہالپور ڈویژن میں شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 20ہزار کے قریب تھی۔ لیکن سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف نے جب امریکی دبائو کے بعد جہادی تنظمیوں پر پابندی لگائی تو ان مدرسوں میں رہائش پذیر زیادہ عسکریت پسند ملک کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ جنو بی پنجاب پر رینجرز کی رپورٹ: جنوبی پنجاب کے نیم قبائلی علاقے کو پاکستان کے سیکورٹی فورسز کے بعض اداروں نے شدت پسندوں کا گڑھ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے متصل اس علاقے میں مناسب اقدامات کیے بغیر نہ تو کوئی فوجی آپریشن مکمل کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی پنجاب اور پاکستان کے دیگر وسطی علاقوں میں شدت پسندوں کا نیٹورک مکمل طور پر تباہ کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان فوج ان دنوں جنوبی وزیرستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف فوجی کاروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ اپ موقع پر پاکستان رینجرز نے اپنی ایک رپورٹ میں جنوبی پنجاب میں موجود ممکنہ سیکورٹی کی نشاندہی کی ہے۔ یہ رپورٹ ابتدائی طور پر پاکستان رینجرز نے مرتب کی اور اسے فوج، محکمہ داخلہ اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کو بھجوایا گیا۔ سات صفحات پر مشتمل اس دستاویزی رپورٹ میں دو نقشے بھی شامل ہیں جن میں پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان اور ضلع راجن پور کے اس علاقے کی نشاندہی کی گئی ہے جو جنوی وزیرستان سے شروع ہوتا ہے اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ سندھ کے علاقے کشمور تک پہنچتا ہے۔ یہ تمام علاقہ دریائے سندھ سے اوپر ہے اور اس کو کچے کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے شدت پسند اس علاقے میں آسانی سے داخل ہوتے ہیں اور یہیں پر ان کے ٹریننگ سینٹر بھی موجود ہیں۔ رپورٹ میں ان چار دینی مدرسوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو مبینہ طور پر عسکریت کے پھیلائو میں ملوث ہیں۔ رپورٹ مرتب کرنے والی سیکورٹی فورس کا کہنا ہے کہ اگرچہ علاقے میں ایک سو نو اسی رجسٹرڈ مدارس ہے لیکن چار دینی مدرسے ایسے ہیں جن کی شدت پسند گروپوں سے روابط کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان رینجرز کے ترجمان ندیم رضا نے رپورٹ مرتب کیے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وہ خود اس علاقے میں فرائض انجام دیتے رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ایک بڑا علاقہ ایسا ہے جہاں پاکستان کی علمداری نہیں ہے۔ اس رپورٹ میں علاقے کی تین اہم مذہبی شخصیات کے نام دئیے گئے ہیں جن میں سے ایک اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق امام مولانا عبدالعزیز غازی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ دوسری اہم شخصیت کے ایک ایسے مدرسے کے منتظم ہیں جو بجلی سے محروم علاقے میں قائم ہے لیکن اس کے باوجود اس کا اپنا جنریٹر چوبیس گھنٹے چلتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہیں ڈالرز میں فنڈز ملتے ہیں اور انہوں نے متعدد بار مقامی منی چینجرز سے بھاری مقدار میں امریکی ڈالروں کو پاکستانی کرنسی میں تبدیل کرایا ہے۔ تیسری مذہبی شخصیت نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود اچانک دولت مند ہو چکی ہے اور مبینہ طور پر اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔ پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب یعقہب کو کہنا ہے کہ یہ ابت درست ہے کہ ان علاقوں کے ایسے حصوں میں بھی غیر ملکی سفارتکار آزادانہ اور محفوظ سفر کرتے ہیں جہاں پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کی بھی رسائی نہیں ہے اور یہ رپورٹس بھی موجود ہیں کہ ان سفارتکاروں نے مقامی لوگوں کو پیسے دیے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں حصہ دار بننے کے بعد پاکستانی حکام نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ان تمام قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقہ قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا اور صدر پرویز مشرف کے دور میں یہاں دو تھانے اور پندرہ پولیس چوکیاں تعمیر کی گئیں لیکن آج تک کسی پولیس اہلکار کو وہاں پہنچنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ”یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ اس علاقے میں شدت پسند اکٹھے ہوتے ہیں۔ مدرسے انہیں مدد فراہم کرتے ہیں، ان کی تربیت کی جاتی ہے اور فاٹا کے عسکریت پسندوں  سے ان کے براہ راست رابطے ہیں۔ پاکستان رینجرز کے جوان اس قبائلی پٹی پر ڈیوٹی دیتے رہے ہیں اور چند برس سے کشمور اور روجھان میں تعینات ہیں۔ جہاں ان کی ذمہ داری قدرتی گیس پائپ لائن کی حفاظت ہے۔ قبائلی علاقے سے ملحقہ کوہ سلیمان کے پانچ ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ بارڈر ملٹری پولیس کے زیر انتظام دیا گیا لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں مروجہ اصول اور روایات کے مطابق جدید اسلحہ رکھنا کوئی جرم نہیں ہے اور خطرناک مجرم قتل ڈکیتی رہزنی اور اغوا برائے تاوان جیسی وارداتوں کے بعد اس علاقے میں پناہ لیتے ہیں۔ اسی علاقے میں فراری کیمپس بھی ہیں جہاں رینجرز حکام کے بقول جہادی گروپوں کو بھی عسکری تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ک یاس علاقے کو محفوظ بنانا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے البتہ اس علاقے کے حالات کے بارے میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جاچکا ہے” ( بشکریہ احوال)

http://ahwaal.com/index.php?option=com_content&view=article&id=22067%3A2012-09-20-08-14-42&catid=31%3A2011-08-25-09-52-49&Itemid=35&lang=ur

ایک نیا ہدف جمعرات 20 ستمبر 2012 ڈان اخبار

کراچی پر پہلے سے ہی خوف کا راج تھا جب منگل کے روز نارتھ ناظم آباد کے ایک داؤدی بوہرہ برادری کی آبادی والے محلے میںیکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔شہر ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف ہونے والے احتجاجوں کی گرفت میں  تھا اور ٹارگٹ کلنگ بنا کسی رکاوٹ کے جاری تھی۔دوسری جانب، بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک کاربم دھماکے نے ایران سے واپس آرہے شیعہ زائرین کی بس کو نشانہ بنایا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پچھلے سال زائرین کو بس سے اتار کر قتل کردیا گیا تھا۔

البتہ کراچی کے واقعے میں غالباً پہلی بار مجرموں نے بوہر ہ برادری کو نشانہ بنایا جو ایک پر امن، جفاکش اور کاروباری برادری ہے۔مجرموں کا معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں: دھماکوں کی جگہ شہر کی مرکزی بوہرہ مسجد سے نزدیک ہے جہاں برادری کے لوگ عمومی طور پر مغر ب کی نماز کے بعد اس سرگرم رہائشی و کاروباری علاقے میں جمع ہوتے ہیں اور ایسے ہی وقت میںیہ دھماکے ہوئے۔یہ دھماکے موجودہ بوہر ہ پیر کے صاحبزادے اور متعین شدہ جانشین مفدل بھائی صاحب کی شہر آمد کے ایک روز بعد ہی پیش آئے۔پچھلے ماہ اسی جگہ پر ایک بم دریافت ہوا جسے اسی وقت ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

ان دھماکوں نے غیر سیاسی بوہرہ برادری کو تشدد کے بھنور میں کھینچ کر خونریزی کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔حکام کو یہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا دھماکے خالصتاً فرقہ ورانہ تھے یا ان کا مقصد برادری سے بھتہ وصول کرناہے۔تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

تاہم،دھماکوں نے یہ ثابت کردیاکہ کراچی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ اگر بوہرہ برادری جیسی پرامن برادری کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے توسبھی غیر محفوظ ہیں۔خوف پھیلانے کے ساتھ ساتھ ایسے حملے شہر کی معیشت کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ بوہرہ برادری کو کراچی کا قدیم ترین اور معاشی طور پر مضبوط قرار دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اگرلوگوں کی زندگیاں،جائیداد اور کاروبارہی دہشت گردوں کے شر سے محفوظ نہ ہوں تو کراچی میں سرمایہ کاری کون کریگا؟

ان دھماکوں کے دیگراسباب کی تفتیش بھی کی جانی چاہئے مگر پولیس نے لشکرِ جھنگوی کے ایک دھڑے کی ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جو کراچی میں سب سے زیادہ سرگرم دہشت گرد گروہوں میں سے ایک مانا جا تا ہے جبکہ بلوچستان میں اسکی دہشت گردی پہلے ہی تسلیم کی جا چکی ہے۔اسی لئے حملوں کی تفتیش کے بے دلی سے دعوے کرنے کے بجائے ریاست کی جانب سے لشکر جھنگوی کو کچلنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تنظیم بہت تیزی سے ملک میں دہشت گردی کا سب سے بڑا زریعہ بنتی جا رہی ہے۔

تمام دہشت گرد گروہوں کیخلاف ایسی ہی کاروائی درکارہے کیونکہ کراچی میں اسلام کے بقیہ چھوٹے فرقوں کے ارکان کیخلاف دھمکیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ابھی تک دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن اقدام نہ لیکرحفاظتی اداروں نے محض قاتلوں کی مدد کی ہے۔جب تک انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہیں کیا جاتااور انکی کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور انہیں پایہء تکمیل تک پہنچانے والوں پر مقدمات چلا کرانہیں سزا نہیں دی جاتی، خونریزی میں کمی کا امکان بہت کم ہے۔ (بشکریہ ڈان)

http://urdu.dawn.com/2012/09/20/a-new-target

سپاہ صحابہ اختلافات کا شکار

علی سلمان،بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پاکستان میں شیعہ مخالف کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ ان دنوں اختلافات کا شکار ہے اور اطلاعات کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق اس کے امیر بننا چاہتے ہیں۔تنظیم کے موجودہ سربراہ احمد لدھیانوی کے حمائتیوں کا کہنا ہے کہ سربراہ بننے سے پہلے ملک اسحاق کو پہلے تنظیم کے اصول و ضوابط کا پابند ہونا پڑے گا۔

ملک اسحاق پر سو سے زیادہ شیعہ اور دیگر افراد کے قتل کے مقدمات قائم ہیں اور وہ تقریباً پندرہ سال جیل میں کاٹ چکے ہیں۔پولیس کے مطابق وہ جیل سے بھی اپنے تنظیمی معاملات چلاتے رہے ہیں۔ملتان پولیس نے چند ہفتے پہلے ہی لشکر جھنگوی کے چند کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔

ملتان کے سینئیر سپرنٹنڈنٹ پولیس گوہر نفیس نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ واضح طور پر تقسیم ہوچکی ہے اور اس میں دو گروپ ہیں۔ملک اسحاق کسی زمانے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ممبر تھے لیکن سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد انہوں نے ایک نئی تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی امیر بنے۔پولیس افسر کے بقول سپاہ صحابہ میں ایک لدھیانوی گروپ اور دوسرا ملک اسحاق گروپ ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جودرمیان میں ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ جو بھی گروپ زیادہ کارکنوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا وہی اس کا سربراہ بنے گا۔

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے موجودہ امیر مولانا احمد لدھیانوی نے مولانا اعظم طارق کے قتل کے بعد اس تنظیم کی سربراہی سنبھالی تھی۔اس وقت ملک اسحاق جیل میں تھے اور انہیں سنگین نوعیت کے متعدد مقدمات کا سامنا تھا۔

ملک اسحاق کسی زمانے میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ہی ممبر تھے لیکن اپنی مبینہ متشدد پالیسی کی بنیاد پر سپاہ صحابہ سے اختلاف کے بعد ایک نئی تنظیم لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی امیر بنے۔ یہ تنظیم بھی اسی زمانے میں کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق لشکر جھنگوی شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث ہے اور ان کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے بعد ان کی ذمہ داری بھی قبول کرتی رہی ہیں۔

” ملک اسحاق جب رہا ہوئے تو اس وقت وہ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ تھے اور تاحال انہوں نے سپاہ صحابہ کی رکنیت اختیار نہیں کی ہے۔”

کالعدم سپاہ صحابہ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک اسحاق جب رہا ہوئے تو اس وقت وہ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ تھے اور تاحال انہوں نے سپاہ صحابہ کی رکنیت اختیار نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سربراہ بننے کا ایک طریقۂ کار ہے اور ملک اسحاق کو پہلے رکنیت لینی ہوگی اور پارٹی کے ان اصول و ضوابط پر کاربند ہونا ہوگا جو بدامنی اور قتل و غارت گری کے خلاف ہیں۔

کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی دو ایسی تنظیمیں ہیں جس کے کارکن عمومی طور پرسنی مسلمانوں کے دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔پولیس کے مطابق پنجابی طالبان کی اکثریت لشکر جھنگوی یا کالعدم سپاہ صحابہ کے سابق کارکنوں پر مشتمل ہے اور پولیس اور دیگر خفیہ ادارے ان کالعدم تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں کی مسلسل نگرانی کی کوشش میں رہتے ہیں۔

ماضی میں جب راولپنڈی میں شدت پسندوں نے جنرل ہیڈکوارٹر پر حملے کیے تو دورانِ مزاکرات شدت پسندوں کی کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی سے ٹیلی فون پر بات کروائی گئی تھی۔

شیعہ مخالفت کی بنیاد پر قیام میں آنے والی کالعدم سپاہ صحابہ سینٹرل پنجاب کی ایک اہم سیاسی جماعت بھی ہے اور اس کے عہدیدار اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔

سپاہ صحابہ کےسیاسی نظریات رکھنے والے زیادہ تر کارکن مولانا احمد لدھیانوی کے حق میں ہیں جبکہ انتہا پسند کارکنوں کی بڑی تعداد ملک اسحاق کو پسند کرتی ہے۔گزشتہ عام انتخابات میں اس تنظیم کے سربراہ احمد لدھیانوی اگرچہ رکن قومی اسمبلی منتخب نہ ہو سکے تھے تاہم انہوں نے پینتالیس ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیے تھے۔

کالعدم تنظیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک اسحاق آئندہ انتخابات میں کالعدم سپاہ صحابہ کے نامزد امیدوار بننا چاہتے ہیں۔ ملک اسحاق کو گزشتہ ہفتے عمرے سے واپسی پر پولیس نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا اور وہ عدالتی تحویل میں جیل میں بند ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق سپاہ صحابہ کےسیاسی نظریات رکھنے والے زیادہ تر کارکن مولانا احمد لدھیانوی کے حق میں ہیں جبکہ انتہا پسند کارکنوں کی بڑی تعداد ملک اسحاق کو پسند کرتی ہے۔

ملتان کے ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ مولانا احمد لدھیانوی اور ملک اسحاق کے درمیان سیاسی اختلاف موجود ہے اور اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی کسی بھی وقت مسلح تصادم کا رخ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

ملک اسحاق کے مقدمات کی تفتیش کرنے والے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر ملک اسحاق کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ اور رکن پارلیمان بننے کے منصوبے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے سامنے ایک نیا چیلنج ہوگا۔

(بشکریہ بی بی سی)

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/09/120907_sipah_e_sahaba_split_rwa.shtml

فرقہ ورانہ حملہ

گزشتہ مہینوں کے دوران پاراچنار میںنسبتاً پائے جانے والے قدرے امن کو پیر کے روز ایک طاقتورکار بم دھماکے نے ریزہ ریز ہ کردیا۔ یہ بم ایک بازار میں پھٹا اور اسکے دھماکے سے کئی افراد زخمی اور ہلاک ہوئے۔ایسا ہی ایک دھماکہ ماہ فروری میں کرم ایجنسی کے دارالخلافہ کے ایک بازار میں ہوا تھا۔آج تک نامعلوم رہنے والے ٹی ٹی پی کے غازی گروہ نے اس دھماکے کو اہلِ تشیع برادری پر حملہ قرار دیکر اسکی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔البتہ،گروہوں کے ناموں پر غوروخوض کرنے کیلئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عسکریت پسندوں کو باقاعدگی سے گروہ بندیوں اور نام تبدیل کرکے خود کو نئے انداز سے پیش کرنے کی عادت ہے۔ پاکستانی عسکریت پسندی کی یہی بے ہنگم فطرت ہے۔اس معاملے میں،خیال کیا جارہا ہے کہ یہ حملہ درہ آدم خیل میں موجودٹی ٹی پی کے ایک باب کی کارستانی ہے۔

یوں توملک کے کئی حصے فرقہ ورانہ دہشت گردی کی زد میں ہیں اور پاراچنار کو اس مکمل تصویر سے الگ نہیں کیا جا سکتا،مگر اس خطے کے اپنے انفرادی محرکا ت ہیں چونکہ قبائلی دشمنی اکثرفرقہ ورانہ سیاست میں گڈمڈ ہوجاتی ہے۔باوجود اس امر کے کہ کرم کے شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان گزشتہ کچھ دہائیوں میں کسی حد تک تناؤموجود رہا ہے، موجودہ صورتحال میں یہ سامنے آیا ہے کہ ایجنسی سے باہر کے عناصر امن کی کوششوں کا تباہ کرنے میں عمل پیرا ہیں۔ایسے حملے عموماً تب ہوتے ہیں جب حالات اپنے معمول کی جانب لوٹنے لگتے ہیں۔ چنانچہ ، سیکیورٹی فورسز کوکرم کے باہر سے آنے والے عسکریت پسندوں کے ایجنسی میں داخلے اور دہشت گردی کے حملوں کی روک تھام کواپنی کوششوں کا محور بنانے کی ضرورت ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ گزشتہ اکتوبر میں تھل تا پاراچنار سڑک  کھلنے کے بعد سے عسکریت پسندوں کا کرم میں داخلہ آسان ہوگیاہے۔ جب تک یہ ملحقہ سڑک کئی برسوں کیلئے بند تھی،اس نے خطے اور بقیہ پاکستان سے عدم رابطے کی وجہ سے کرم کے رہائشیوں کے کسی اور انداز سے پریشان کر رکھا تھا۔اب جبکہ راستہ کھل گیا ہے تو عسکریت پسندوں کور وکنا بے حد ضروری ہے۔ شکر ہے کہ پیر کے بعد کوئی فرقہ ورانہ فساد نہیں ہوا ہے۔ لیکن اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو تناؤ با آسانی بڑھ سکتا ہے۔ماضی میں اس علاقے میں خوفناک خونریزی دیکھی جا چکی ہے۔ حفاظتی اداروں کو تمام حسا س علاقوں میں نفری بڑھاکر رہائشیوں کو اطمینان دلانے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی قبائلی ترجمانوں اور بڑوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ ورانہ فساد کو روکا جا سکے۔ ماضی میں قبیلے امن کیلئے کام کرنے کے وعدے کرچکے ہیں اسی لئے تمام بیرونی فسادیوں کو امن کے استحکام کو نقصان پہنچانے سے روکنا ہوگا۔انٹیلی جنس اداروں کو بھی مستقبل میں مزید حملوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرنی چاہئے جبکہ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز ایجنسی کے باہر سے آنے والے عناصر کو شرپسندی سے روکے رکھیں۔ بشکریہ ڈان

http://urdu.dawn.com/2012/09/12/sectarian-attack

شمالی وزیرستان پر فوج کشی: کیوں اور کیسے

ہارون رشید,بی بی سی، لندن

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 , 15:28 GMT 20:28 PST

قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ تازہ ذکر اعلیٰ امریکی اہلکاروں کی جانب سے ایسے بیانات کے بعد شروع ہوا جس میں پاکستان فوجی حکام کی جانب سے کسی تازہ فوجی مہم کے اشارے دیے گئے تھے۔ پاکستانی فوجی حکام کی بار بار کی وضاحتوں کے باوجود شمالی وزیرستان میں تشویش کی فضا پائی جاتی ہے۔

کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ دیکھیں پہلے فوج شمالی وزیرستان کا رخ کرتی ہے یا عمران خان۔

طنزومزاح اپنی جگہ لیکن سوچنے کے بات یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں وہاں کوئی تازہ فوجی کارروائی ممکن ہے؟ کیا حالات اس فوج کشی کے لیے سازگار ہیں؟ کیا اس بابت عوامی اتفاق رائے موجود ہے اور کیا ہمارے اہداف کا تعین ہوا ہے کہ وہاں کس کے خلاف کارروائی کرنی ہے اور کس کے خلاف نہیں؟

اکثر ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ کارروائی نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کی حد تک اسے کرنے کی کوئی طلب موجود ہے۔

پاکستان فوج کو اعلیٰ امریکی اہل کاروں کے بیانات کے بعد باقاعدہ ایک وضاحت جاری کرنی پڑی جس میں صاف صاف کہہ دیا گیا کہ مشترکہ کارروائی کی تو کوئی گنجائش نہیں، ہاں اپنے طور پر کارروائی کا فیصلہ پاکستان اپنے حالات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ یعنی ابھی فی الحال کچھ نہیں ہونے جا رہا۔

اس کی ایک بڑی وجہ ایسی کسی تازہ کارروائی کے لیے ’قومی اتفاق رائے‘ کا فقدان ہے۔ فوج ماضیِ قریب میں کئی مرتبہ یہ واضح کرچکی ہے کہ تازہ قومی اتفاق رائے حاصل کیے بغیر وہ کوئی آپریشن نہیں کرے گی۔ ماضی کے اتفاقِ رائے سوات اور جنوبی وزیرستان کے لیے مخصوص تھے اب نئے اتفاق کی ضرورت ہے۔

لہٰذا جب بھی ملک میں دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ یا تسلسل میں واقعات ان خدشات کو جنم دیتے ہیں کہ شاید شمالی وزیرستان پر چڑھائی کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس پر عید سے قبل حملہ اور اس کے دوسرے روز وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا اپنی مخصوص ہیڈلائن انگریزی میں کہنا کہ ’آل روڈز لیڈ ٹو نارتھ وزیرستان’ بظاہر ایسی ہی فضا پیدا کرنے کی کوشش معلوم ہوتی تھی۔

لیکن ان کی لاعلمی کا بھانڈا جلد پھوٹ گیا جب کامرہ پولیس کی تفتیش کی مطابق تمام حملہ آور وزیرستان سے نہیں بلکہ ان میں سے تین ملک کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

"شمالی وزیرستان میں، جسے بعض حلقے تمام شدت پسندوں کا ہیڈکوارٹر بھی کہتے ہیں، محض ایک گروپ کے خلاف کارروائی کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی۔”

امریکی اہل کاروں کے بیان کے مطابق پاکستان فوج فی الحال کارروائی کالعدم تحریک طالبان پاکستان تک محدود رکھنے پر رضامند ہوئی ہے حقانی نیٹ ورک کو نہیں چھیڑا جائے گا۔

تاہم ماہرین کے خیال میں اگرچہ تحریکِ طالبان، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان علیٰحدہ علیٰحدہ تنظیمیں ہیں لیکن جب ایک پر مشکل آئی ہے تو دوسرے جہاں تک ممکن ہوا، ایک دوسرے کی مدد کو پہنچے ہیں۔

ایسے میں شمالی وزیرستان میں، جسے بعض حلقے تمام شدت پسندوں کا ہیڈکوارٹر بھی کہتے ہیں، محض ایک گروپ کے خلاف کارروائی کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔

اس ساری صورتِ حال میں انتہائی مضحکہ خیز عنصر کارروائی سے قبل ہی اس کی متوقع تاریخ کا اعلان ہے۔ فوج تو خاموش ہے لیکن کوئی اسے عید کے فورا بعد تو کوئی سمتبر کے اواخر قرار دے رہا ہے۔ وہ کارروائی کتنی موثر ثابت ہوسکتی ہے جس میں پہلے سے شدت پسندوں کو نوٹس دے دیا جائے کہ ہم فلاں تاریخ کو فلاں دن چھاپہ مارنے والے ہیں۔

اس کا ایک ہی نتیجہ ہوگا کہ شدت پسند سوات اور جنوبی وزیرستان کے محسود علاقوں کی کارروائیوں سے قبل وہاں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں اور ہاتھ نہ آئیں۔

پاکستان فوج کی شمالی وزیرستان میں دوبارہ فوج کشی پر سرد مہری امریکی غصے کا سبب بنی، یہ واضح نہیں۔ لیکن عید الفطر پر شمالی وزیرستان میں یکے بعد دیگرے کئی ڈرون حملے دیکھنے میں آئے۔ اس اچانک تیزی میں ایک پیغام بڑا واضح تھا کہ اگر ’آپ نہیں تو ہم ہی یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں بلکہ بڑھا دیتے ہیں۔’

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120828_north_waziristan_operation_zis.shtml

وزیرستان آپریشن ، افواہیں یا حقیقت؟

رفعت اللہ اورکزئی,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

آخری وقت اشاعت:  اتوار 26 اگست 2012 , 15:06 GMT 20:06 PST

 پچھلے دو تین ہفتوں سے امریکی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شمالی وزیرستان سے متعلق خبریں گرم ہیں اور بظاہر میڈیا کے ذریعے سے ایک ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے وہاں فوجی آپریشن کےلیے راہ ہموار کی جارہی ہے لیکن زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔

تقریباً دو ہفتے قبل امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور پاکستان شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن کرنے کےلیے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور افغانستان میں امریکی افواج کے اہم کمانڈر جنرل جان ایلن کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے۔

لیکن اس کے دو تین دن بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جنرل کیانی کا ایک بیان جاری کیا گیا جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ پاکستان نہ تو وزیرستان میں آپریشن کی کوئی تیاری کر رہا ہے اور نہ کسی کے کہنے پر وہاں کارروائی کرنے کا کوئی ادارہ رکھتا ہے۔

ان بیانات کے آنے کے بعد سے امریکی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں وزیرستان سے متعلق مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔

یہ تو ابھی تک واضح نہیں ہو پایا کہ امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا کی طرف سے آپریشن سے متعلق دیا گیا بیان کس مقصد کے تحت تھا لیکن اس بیان نے بظاہر اس مجوزہ آپریشن کے بارے میں پاکستانی فوج اور سیاسی جماعتوں کے موقف کو واضح کر دیا ہے جس سے اب ایسا لگ رہا ہے کہ مستقبل قریب میں وزیرستان میں کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔

موجودہ حالات میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے زمینی حقائق بھی بالکل مختلف نظر آرہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ’پتہ نہیں کہ مغربی میڈیا اس بات سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے کہ جو بار بار وزیرستان میں آپریشن کی بات کر رہا ہے حالانکہ علاقے میں ایسے کوئی اثرات دور دور تک نظر نہیں آ رہے‘۔

شمالی وزیرستان کے ایک سینیئر صحافی احسان دواڑ کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی فوج وزیرستان میں بیس ارب روپے سے زائد کے پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ افغان سرحد تک سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور دیگر منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے ، ایسی حالت میں وہ اپنا اتنا بڑا نقصان کیوں کرےگی‘۔

"پاکستانی فوج وزیرستان میں بیس ارب روپے سے زائد کے پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ افغان سرحد تک سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور دیگر منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے ، ایسی حالت میں وہ اپنا اتنا بڑا نقصان کیوں کرےگی۔”

انہوں نے کہا کہ مقامی قبائل کے تعاون کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا اور وہ بھی اس کی بھر پور مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سنیچر کو بھی علاقے میں ایک جرگہ ہوا تھا جس میں قبائل نے دھمکی دی تھی کہ آپریشن کی صورت میں وہ پاکستان کے کسی علاقے میں نہیں افغانستان کی طرف نقل مکانی کریں گے۔

اس سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں ان کے لیے پہلے سے ایک ماحول موجود ہوتا تھا اور اس سلسلے میں ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت کا موقف بھی ایک ہوتا تھا۔

شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن کی بات جب سے ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہے اس دن سے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے بھی اس کی بھر پور مخالفت کی جا رہی ہے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی آپریشن کےلیے فوجی قیادت کو سیاسی قیادت کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ فوج اپنے طور پر کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تاحال فوج اور سیاسی اعلیٰ قیادت کا اس سلسلے میں کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے اسی وجہ سے ملک کے اندر سے کوئی متفقہ موقف سامنے نہیں آ رہا اور حکومت بھی شاہد الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے کھل کر آپریشن پر بات نہیں کر رہی۔

(بشکریہ بی بی سی)

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120826_waziristan_op_riffat_zs.shtml

پانچ سو سکول تباہ، چھ ہزار اساتذہ مجبور

آخری وقت اشاعت:  منگل 21 اگست 2012 , 06:44 GMT 11:44 PST

دلاور خان وزیر،بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکام کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران پانچ سو کے قریب تعلیمی ادارے شدت پسندی کے کارروائیوں میں تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔

محکمہ تعلیم فاٹا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہاشم خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں جاری شدت پسندی کی کارروائیوں کے دوران اب تک چار سو پچاسی تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں کالج، ہائیر سیکنڈری سکول، ہائی سکول، مڈل اور پرائمری سکول شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان سکولوں کے تباہ ہونے کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن بعض تباہ ہونے والے سکولوں کے لیے متبادل مقامات کا بندوبست کیاگیا ہے اور کچھ سکولوں کے لیے خیمے دیے گئے ہیں۔ جبکہ زیادہ تر سکول مقامی رہائشیوں کے گھروں اور حجروں میں منتقل کیےگئے ہیں۔ بعض جگہوں پر تناور درختوں کے نیچے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ان متبادل مقامات پر شروع کیے جانے والے سکولوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ ان سکولوں پر خرچے کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات کا تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے تقریباً پچاس فیصد بچوں کا تعلیمی سلسلہ بحال کر دیاگیا ہے لیکن پھر بھی پچاس فیصد بچے مکمل طور پر تعلیم کی حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔

اہلکار کے مطابق گھروں میں تنخواہ لینے والے اساتذہ ڈیوٹیوں سے انکاری نہیں ہیں لیکن ان کے سکول تباہ ہوچکے ہیں۔ جب یہ سکول دوبارہ تعمیر ہو جائیں گے تو تمام اساتذہ بھی اپنے ڈیوٹی پر حاضر ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تباہ شدہ سکولوں کی یہ تعداد صرف سرکاری تعلیمی اداروں کی ہے جبکہ پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

سرکاری تعلیمی ادارے تباہ ہونے کی وجہ سے اکثر بچے اس لیے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیونکہ ایک طرف گھر کے اخراجات پورے کرنے ہیں اور دوسری طرف پرائیوٹ سکولوں میں فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

درویش خان خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں کوہی شیر حیدر انٹر کالج میں سیکنڈ ائیر کے طالب علم تھے۔ دو سال پہلے ان کے کالج کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کالج بھی بند ہوگیا ہے۔ ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا ہے اور وہ کارخانوں مارکیٹ میں ایک ورکشاپ میں کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

درویش خان کا کہنا ہے کہ کالج میں ان کے اکتالیس کلاس فیلو تھے اور کالج کے اساتذہ میں سے اکثر پشاور کے بندوبستی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ دو سال پہلے باڑہ میں فوجی آپریشن کے دوران ان کے کالج میں رات کے وقت نامعلوم افراد نے بم دھماکے کیے جس سے کالج کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان دھماکوں کے بعد باہر سے آنے والے اساتذہ نے خوف کی وجہ سے کالج آنا چھوڑ دیا اور آہستہ آہستہ کالج مکمل طور پر بند ہوگیا۔

درویش خان کا کہنا تھا کہ ان کے کلاس فیلوز میں سے پانچ ایسے تھے جن کی معاشی حالت کچھ بہتر تھی اور انہوں نے پشاور کے دوسرے کالجوں میں داخلہ لے لیا۔ اور باقی چھتیس طلب علم خیبر ایجنسی اور پشاور کے مختلف علاقوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ باڑہ کالج ان کے گھر کے قریب تھا اور وہ پیدل کالج جاتے تھے جس وجہ سے ان کا ایک روپے کا خرچہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب اگر وہ کسی دوسرے کالج میں داخلہ لے سکے تو ان کے آنے جانے کا خرچہ صرف پانچ سو روپے روزانہ کے حساب سے بنتا ہے جو ان کے لیے ناممکن ہے۔

مہمند ایجنسی تحصیل صافی کے علاقے کندارو کے رہائشی ظاہر شاہ نے بتایا کہ مہمند ایجنسی میں سب سے زیادہ سکول تحصیل صافی میں تباہ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے گاؤں میں ایک سرکاری ہائی سکول ہے جس میں پورےگاؤں کے لڑکے تعلیم حاصل کر رہے تھے لیکن یہ سکول دسمبر دو ہزار اٹھ میں سکیورٹی فورسز کی بمباری میں اس وقت تباہ ہوا جب سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران شدت پسندوں نے سکول میں ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔

ظاہر شاہ کے مطابق سکول میں اب بھی کلاسیں چل رہی ہیں۔ لیکن اس کی عمارت ابھی تک ایک ملبے کا ڈھیر ہے۔ جبکہ بچے کُھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بھتیجا یسین خان اٹھویں کلاس میں اسی سکول میں پڑھ رہا تھا لیکن سکول تباہ ہونے کی وجہ سے ان کا تعلیمی سلسلہ منعقطع ہوگیا ہے۔ تاہم اس سال انہوں نے میٹرک کا امتحان پرائیوٹ طور پر دیا لیکن ان کی پوزیشن اچھی نہیں تھی۔

اگر ایک طرف لاکھوں قبائلی متاثرین اپنے گھروں سے دور روزگار کی تلاش میں در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں تو دوسری طرف ان قبائلیوں کے آنے والی نسلوں کو تعیلم کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک بُہت بڑا چلینج ہے.

(بشکریہ بی بی سی)

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120821_fata_school_special_rh.shtml

پوری ایک نسل تعلیم سے محروم ہوگئی ہے‘

رفعت اللہ اورکزئی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

 پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرکاری تعلیمی اداروں اور نجی سکولوں پر جاری حملوں کی وجہ سے لاکھوں طلباء و طالبات تعلیم کی حصول سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ ماہرین تعلیم یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں تعلیم محروم یہ طالب علم باآسانی شدت پسندوں کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں۔

قبائلی علاقے برسوں سے پسماندگی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ان علاقوں میں تعلیم کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔ بالخصوص قبائلی ایجنسیوں میں خواتین کی تعلیم نہ ہونے کی برابر ہے۔ آج بھی فاٹا میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں لڑکیوں میں تعلیم کی شرح ایک یا دو فیصد ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی کم یعنی صفر فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آجکل شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں سرکاری یا نجی سکول شدت پسندوں کے حملوں میں نشانہ نہ بنے ہوں۔ وزیرستان سے لے کر باجوڑ اور مہمند ایجنسی تک تمام سات قبائلی علاقے اور فرنٹیر ریجنز میں سرکاری سکول پچھلے پانچ چھ سالوں سے شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات میں سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا جاتا رہا ہے یا ان کو نذرآتش کر کے تباہ کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سب سے پہلے درہ آدم خیل میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں کا آغاز ہوا۔ تاہم رفتہ رفتہ یہ واقعات دیگر قبائلی مقامات تک پھیلتےگئے اور آج حالات یہ ہیں کہ کوئی قبائلی علاقہ ان حملوں سے محفوظ نہیں۔

طالبان اور شدت پسند تنظیمیں الزام لگاتی ہیں کہ پاکستان کے سرکاری سکول اور تعلیمی ادارے مغربی تعلیم کی ترویج کر رہے ہیں جو ان کے بقول غیر اسلامی ہے اور اسی وجہ سے وہ ان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

"ایک ایسا علاقہ جہاں کی آبادی تیس پینتیس لاکھ کے قریب ہو اور وہاں پانچ سات لاکھ طلباء سکول سے باہر ہوں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں، تو ایسے میں اگر یہ طالب علم کسی نہ کسی صورت ان تنظیموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ کتنی خطرناک بات ہوگی”

باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاونڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا ہے کہ انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ فاٹا میں تو پہلے ہی سے تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی اور جو رہی سہی کسر تھی وہ حالیہ حملوں نے پوری کر دی ہے۔

ان کے بقول ’ایک ایسا علاقہ جہاں کی آبادی تیس پینتیس لاکھ کے قریب ہو اور وہاں پانچ سات لاکھ طلباء سکول سے باہر ہوں اور ان علاقوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر ہوں، تو ایسے میں اگر یہ طالب علم کسی نہ کسی صورت ان تنظیموں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں تو ملک و قوم کے لیے یہ کتنی خطرناک بات ہوگی۔‘

خادم حیسن کے مطابق جو علاقے تعلیم کی نعمت سے محروم ہوں وہاں کے نوجوانوں کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے باآسانی استعمال کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں سکولوں پر حملوں کے باعث پوری ایک نسل تعلیم سے محروم ہوگئی ہے لیکن حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی طرف سے اس کی بحالی کے سلسلے میں تاحال قابل ذکر اقدامات دیکھنے کو نہیں مل رہے۔ ان کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جنگ سے متاثرہ ان علاقوں میں تباہ شدہ سکولوں کے جلد بحال ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا جس سے ہر لحاظ سے نقصان ہوگا۔

ادھر دوسری طرف متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ فاٹا کے بیشتر علاقوں میں حکومتی عمل داری بھی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے حکام کے لیے ان علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کا کام ایک مستقل مسئلہ بنا ہوا ہے۔

پشاور میں گزشتہ بارہ سالوں سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک صحافی اور تحقیق کار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ فاٹا میں زیادہ تر حملے لڑکیوں کے سکولوں پر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ لڑکوں کی تین فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’تعلیمی اداروں پر حملوں سے جتنا بڑا نقصان ہوا ہے حکومت کی طرف سے اتنی سنجیدگی نہیں دیکھی جا رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’جو سکول تباہ ہوگئے ہیں وہ تو پتہ نہیں کب بحال ہوں گے لیکن جو باقی ماندہ سکول ہیں ان کو بھی تاحال کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔‘

قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے سکولوں پر جاری حملوں کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ یہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ تاہم حکومت کی طرف سے ان حملوں کو روکنے کے لیے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120820_destroyed_schools_affects_aw.shtml

ایئر بیس پر حملہ

جمعہ 17 اگست 2012

ڈان اخبار

ایئر فورس بیس، کامر ہ پر ہونے والے حملے نے ہولناک اوراس سے مشابہہ خوفناک سوالات کو جنم دیا ہے۔ ہلاک ہونے والے نو عسکریت پسندوں کے مقابلے میں صرف ایک سیکیورٹی اہلکار کا شہید ہونا محض چھوٹی سی تسلی ہے۔

سب سے اہم اور پہلا سوال یہ ہے کہ عسکریت پسندایک اعلیٰ حفاظت سے لیس سروسز بیس میں ایک بار پھر گھس کر کئی گھنٹوں تک سیکیورٹی فورسز سے مقابلہ آرائی کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

شمالی وزیرستان میں کم از کم پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف ایک قسم کے آپریشن کی تیاریاں جاری ہے اور ایسی کارروائیوں کو قبل ازوقت  روکنے کیلئے عسکریت پسندوں کی جانب سے کسی قسم کے عمل کا امکان بہت زیادہ ہے۔

کیا اس قسم کی مزاحمت کی تنبیہ صرف پالیسی کی سطح پر تھی اور اسے عسکریت پسندوں کا ممکنہ نشانہ بننے والی نچلے درجے پر موجودسیکیورٹی فورسز تک نہیں پہنچایا گیا تھا؟

گزشتہ ماہ مارے جانے والے ایک عسکریت پسند رہنماکا انتقام لینے کیلئے ٹی ٹی پی کی جانب سے پنجاب میں موجود پی اے ایف کے اڈوں پرممکنہ حملوں کی خبرانٹیلی جنس اداروں کوپہلے ہی حاصل ہوچکی تھی۔

یقیناًپھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اس مرحلے پر حساس مقامات کے سیکیورٹی اداروں کی طرف سے بہتر دفاع کی امید رکھنا غلط نہیں، خاص طور پر جب حالات کے مطابق اور براہ راست خبریں پہلے سے ہی موجود ہوں۔

پچھلے حملو ں کی طرح کامرہ حملے میں بھی عسکریت پسندوں کو اندرونی مدد حاصل ہونے کا کافی امکان ہے۔انتہا پسند اسلامی خیالات سے لے کر عسکریت پسندوں کی براہ راست حمایت کرنے والوں تک،بظاہر فوج عسکر یت پسندی کی ایسی مصیبت سے دوچار نظر آتی ہے جس کی شدت کا درجہ عوام سے پوشیدہ ہے کیونکہ تفتیش اور کورٹ مارشل کے عمل اکثر خفیہ طریقے سے کئے جاتے ہیں۔

ایک عام تشویش  فوج کے انتخابی مرحلے کو دوران ہونے والی چھان بین سے متعلق ہے، یعنی فوجیوں کی نگرانی اور چھان بین کا عمل کس قدر قوی اور موثر ہے کہ کسی حادثے کو اسکے ہونے سے قبل ہی روکا جا سکے؟

حالیہ تاریخ سے صاف ظاہر ہے کہ یہ دونو ں عمل معقول حد تک قوی یا موثر نہیں۔ مگر ایک سنجیدہ اور قائم رہنے والی کوشش کرنے کیلئے مزید کیا کچھ کیا جانا چاہئیے؟

آخر میں وہی سوال کہ جس نے عسکر یت پسندی کے خلاف جنگ کومشکل میں ڈال دیا ہے اور وہ یہ کہ ریاست ،یعنی فوجی اور سیاسی قیادت،اس جنگ کے اصل ہونے،پاکستان کے ایک انتہا پسند اقلیتی حلقے کے خلاف ہونے اوراس ضمن میں مکمل تن دہی اور مقصد نہ ہونے کی صورت میں معاشرے اور ریاست کی تباہی کا احساس قوم کو آخر کب دلائے گی؟

یومِ آزادی پر جنرل کیانی کی تقریر میں اس پیغام کی کچھ جھلک تو موجو د نظر آئی مگر اسے جاری رکھنے اور ملک کے گوشے گوشے میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔

جو لوگ آج بھی اس جنگ کو پرائی جنگ قرار دیتے ہیں اور جن میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں، ان کے خلاف مستقل مزاجی اور واضح انداز میں کارروائی کی ضرورت ہے۔اگر اس جنگ کو مزید طول دیا گیا تو پہلے سے ہی پیچیدہ صورتحال مزید کئی گنا پیچیدہ ہوجائے گی۔

(بشکریہ: اداریہ ڈان )

http://urdu.dawn.com/2012/08/17/kamra-attack

’پاکستان کو اندرونی دشمنوں سے زیادہ خطرہ

علی سلمان,بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

آخری وقت اشاعت:  منگل 14 اگست 2012 , 19:20 GMT 00:20 PST

معروف تاریخ دان پروفیسر مبارک علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی دشمنوں کے برعکس اندرونی تخریبی قوتوں سے زیادہ خطرہ ہے۔انہوں نے یہ بات بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تاریخ اور اس کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر گفتگو کے دوران کہی۔

پروفیسر مبارک نے پاکستان میں دشمن ممالک کے حوالے سے پائے جانے والے جذبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے کوئی ایسے سیاسی یا معاشی لحاظ سے دشمن نہیں تھے لیکن یہ خود ہم نے اپنے تخیل سے بہت سے دشمن پیدا کیے۔ مثلاً ہم یہ کہتے ہیں کہ ہنود و یہود و نصاریٰ ہمارے دشمن ہیں۔ یہ تو ایک سازش کی تھیوری ہم نے قائم کر لی ہے ایک مفروضہ بنا لیا ہے‘۔

ڈاکٹر مبارک علی نے مزید کہا کہ پاکستان کا حکمران طبقہ اپنی تمام غلطیوں کو ایسے مفروضی دشمنوں کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔

’جب آپ اس طرح سے اپنے دشمن بنا لیتے ہیں تو حکمران طبقے اپنی تمام غلطیوں یا ایسے غلط اقدامات، جو ملک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، کی ساری ذمہ داری ہنود، یہود اور نصاریٰ پر ڈال دیتے ہیں اور کہتے کہ سارا کیا دھرا ان کا ہے اور ہمارا تو کوئی قصور نہیں ہے‘۔

ان کے مطابق ’اس کی مثال سابق مشرقی پاکستان ہے جو کہ ظاہر ہے کہ ہماری غلطیاں تھیں، ہمارے حکمران طبقے کی لیکن ہم نے کہہ دیا کہ یہ سب ہندوؤں کی سازش ہے‘۔

انہوں نے ملک میں نفرت اور تعصب کو جمہوری اداروں کی کمزوری کا نتیجہ قرار دیا۔ ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے جو بھی سیاسی جماعت یا فوجی حکمران اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے مخالفوں کو یا جنہوں نے ان کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کی تھی انہیں ملک دشمن قرار دے دیا۔

’ابتداء میں عبدالغفار خان ملک دشمن ہوگئے تھے۔ جی ایم سید بھی ملک دشمن ہوگئے تھے۔یہ جو تصور پیدا کیا گیا وہ پھر نہیں بدلا اور ساٹھ برس گزرنے کے بعد بھی ذہن نہیں بدلا‘۔

"ایک زمانے میں کہتے تھے کہ سندھ کے لوگ غدار ہیں آج کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ غدار ہیں۔ تو یہ جو ایک غداری کا تصور ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ابتداء میں بھی تھا اور آج بھی ہمارا ذہن بدلا نہیں ہے۔ جب تک ہم غلطی تسلیم نہیں کریں گے تو اپنے مسائل کا حل بھی نہیں کر سکیں گےاور چھوٹے صوبوں کی جو مزاحمتی تحریکیں ہیں انہیں بھی صحیح طرح سے سمجھ نہیں پائیں گے۔”

انہوں نے کہا کہ ’ایک زمانے میں کہتے تھے کہ سندھ کے لوگ غدار ہیں آج کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ غدار ہیں۔ تو یہ جو ایک غداری کا تصور ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ابتداء میں بھی تھا اور آج بھی ہمارا ذہن بدلا نہیں ہے‘۔

ڈاکٹر مبارک کا کہنا تھا کہ پاکستانی آج بھی اسی ذہنیت پر قائم ہیں جو مسلسل انہیں نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق جب تک ’ہم غلطی تسلیم نہیں کریں گے تو اپنے مسائل کا حل بھی نہیں کر سکیں گےاور چھوٹے صوبوں کی جو مزاحمتی تحریکیں ہیں انہیں بھی صحیح طرح سے سمجھ نہیں پائیں گے‘۔

پاکستان کے دنیا کے دیگر ممالک سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ ’عالمی صورتحال دیکھیں تو ایک زمانے میں ہم روس کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ روس چونکہ نظریاتی طور پر ہمارے خلاف ہے اس لیے ہمارا دشمن ہے اور ہندوستان سے مل کر ہمیں تباہ کر رہا ہے‘۔

’ہم امریکہ کی دوستی کے حامی تھے اور اس کے ساتھ معاہدے بھی کیے کہ امریکہ ہمارا دفاع کرے گا جبکہ افغانستان سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں تھے اور شروع سے ہی افغانستان ہمارے خلاف تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے پاکستان کے تعلقات میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ ’ایک زمانے میں جب شاہ ایران حکمران تھے تو اس وقت ایران پاکستان کا زبردست حامی تھا اور ہمارا بہت اچھا دوست تھا۔اب انقلاب ایران آیا تو ایران سے بھی ہمارے تعلقات خراب ہوگئے ہیں‘۔

ڈاکٹر مبارک کے مطابق پاکستان میں دیگر ممالک سے دشمنی یا مخالفت کے تصورات ہیں وہ وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جن میں تبدیلی نہیں آئی۔ ’چین سے دوستی پہلے بھی تھی اور آج بھی ہے جبکہ ہندوستان سے ایک طرح کی ازلی دشمنی ہے جو پہلے بھی تھی اور آج بھی موجود ہے‘۔

"ہمارے ہاں جمہوری ادارے اور روایات بہت زیادہ مضبوط نہیں، ہمارے ہاں آمرانہ حکومتیں آتی رہی ہیں تو جب تک لوگوں کی تحریکوں کو ہم دباتے رہیں گے تو وہ تحریکیں کسی نہ کسی طریقے سے ابھرتی رہیں گی اور وہ زیادہ تر نفرت اور دشمنی اور تعصب کی شکل میں ابھرتی ہیں۔ اگر جمہوری روایات چلتی رہیں اور یہاں پر ہر ایک کو بولنے، کہنے، تقریر کی آزادی ہو تو پھر یہ چیزیں آہستہ ختم ہوجاتی ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ’اگر تبدیلی نہیں آئی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کی سوچ وہی ہے اور وہ وقت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہے‘۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرونی طاقتیں یا بیرونی دشمن اتنے اہم نہیں ہیں۔

’بیرونی دشمنوں یا ان کی سازشوں سے قطع نظر خود ہمارے اندر تخریبی قوتیں یا دشمن موجود ہیں۔اگر دیکھا جائے تو ہمارے پورے سوشل سٹرکچر یا سماجی ڈھانچے میں خرابیاں نظر آئیں گی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب تک پاکستان کی اندرونی’تخریبی‘ قوتوں کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک بیرونی قوتوں کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔

’مثال کے طور پر جاگیرداری، زمینداری اور قبائلی سسٹم آج بھی موجود ہے اور ہم ابھی بھی ان فرسودہ روایات کو جاری رکھے ہوئے ہیں جو ہماری ترقی میں زبردست رکاوٹ ہیں‘۔ اس کے علاوہ ’ہم نے وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہاپسندی کی قوتوں کو فروغ دیا، ان کا ساتھ دیا۔آج وہ وہی ہمارے لیے مصیبت اور بلائے جان بنی ہوئی ہیں‘۔

ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ ’ہمارے ہاں جمہوری ادارے اور روایات بہت زیادہ مضبوط نہیں، ہمارے ہاں آمرانہ حکومتیں آتی رہی ہیں تو جب تک لوگوں کی تحریکوں کو ہم دباتے رہیں گے تو وہ تحریکیں کسی نہ کسی طریقے سے ابھرتی رہیں گی اور وہ زیادہ تر نفرت اور دشمنی اور تعصب کی شکل میں ابھرتی ہیں‘۔

’اگر جمہوری روایات چلتی رہیں اور یہاں پر ہر ایک کو بولنے، کہنے، تقریر کی آزادی ہو تو پھر یہ چیزیں آہستہ ختم ہوجاتی ہیں‘۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120813_mubarik_ali_iv_zs.shtml

پاکستان کی داڑھی طالبان کے ہاتھ میں

ہارون رشید

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 19 جولائ 2012 , 15:58 GMT 20:58 PST

کسی نے گزشتہ دنوں ایک تقریب میں ایک لطیفہ سنایا جو تھا تو قبائلیوں کی حالت زار سے متعلق لیکن میں اسے آج ایک دوسرے زاویے سے پیش کرتا ہوں۔

ایک تھا بادشاہ۔ ایک دن اٹکھیلی کے موڈ میں اس نے ایک درباری سے کہا کہ میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوں تو جتنے بال مٹھی میں آئے اتنی اشرفیاں تمہاری۔ ہاتھ بڑے اہتمام کے ساتھ پھیرا گیا تو ایک آدھ بال ہی مٹھی میں آیا۔ درباری کو ایک اشرفی دے دی گئی۔

تاہم زیادہ اشرفیوں کی امید لگائے درباری نے جان کی امان کی درخواست کرتے کہا ’سرکار اگر مٹھی میری ہوتی اور داڑھی آپ کی تو آپ دیکھتے میرے حصے میں کتنی اشرفیاں آتیں۔‘

یہ حال آج کل شاید پاکستانی طالبان کا بھی ہے۔ ہاتھ وہ پاکستان کی داڑھی کو پورا ڈال رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کبھی ایک تو کبھی زیادہ بال مل رہے ہیں۔ وہ اب بڑے بڑے اہم سکیورٹی مقامات کو ہدف نہیں بنا رہے۔ اہم عسکری اور پولیس تنصیبات پر پہلے ہی سکیورٹی کافی سخت کی جاچکی ہے لہٰذا انہیں ہدف بنانا اب شاید اتنا آسان نہیں۔

وہ اب ایسے مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں جو باآسانی قابل گرفت ہیں جیسے کہ گجرات کے قریب دریائے چناب کے کنارے عارضی فوجی کیمپ یا پھر لاہور کے ایک متوسط علاقے میں کرائے پر حاصل کیا گیا نجی مکان جہاں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے جیل خانہ جات کے سپاہی رہتے تھے۔ پھر بنوں اور کوہاٹ بھی ہوا۔ تمام مواقعوں پر کمانڈو ایکشن ہوا، حملہ آور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر آئے اور کارروائی مکمل ہوتے ہی روانہ ہوگئے۔

ایسا کرنے سے ایک تو خودکش حملہ آور کی بچت اور دوسرے کا نقصان بھی زیادہ۔

یہاں سوال اٹھتا ہے

کئی اعلیٰ سول اور فوجی اہلکار کہ چکے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کو شکست دے کر ان کا وہاں نان نفقہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے ایک تاثر ہے کہ وہ سرحد پار افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور ہیں لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا میڈیا کو ان حملوں کے بعد بتانا کہ یہ پنجاب شاخ کی کارروائی تھی۔ ترجمان نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ اپنی کارروائیاں قبائلی خطے سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی تنظیم شدت پسندوں کا بین الاقوامی نیٹ ورک بن چکی ہے۔

بیان کافی واضح ہے۔

کئی اعلیٰ سول اور فوجی اہلکار کہ چکے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کو شکست دے کر ان کا وہاں نان نفقہ بند کر دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے ایک تاثر ہے کہ وہ سرحد پار افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور ہیں لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے۔

بعض مبصرین کے خیال میں اس سے مراد پاکستان مخالف شدت پسندوں کی تو ہوسکتی ہے افغان طالبان کی نہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اب بھی وزیرستان میں کافی فعال ہے۔

ایسے میں اگر آپ گورنر خیبر پختونخوا اور کور کمانڈر پشاور کی بات مان لیں تو قبائلی علاقوں کی داڑھی تو شاید طالبان کے ہاتھ سے نکل گئی لیکن ابھی پاکستان کی داڑھی ان کے ہاتھ میں ہے۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120719_taliban_pak_rh.shtml

میں بھی طالبان ہُوں مگر۔۔۔۔؟ (ishrat iqbal warsi, mirpurkhas) کل میری بیٹی جُونہی اسکول سے واپس گھر آئی۔ بَستہ رکھتے ہی میرے پاس آبیٹھی۔ حالانکہ وہ شدید گرمی کی وجہ سے پسینے میں شرابُور تھی۔ لیکن اُسکی بے چینی دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا کہ وہ اپنے ذہن میں کوئی اُلجھا ہُوا سوال لئے ہُوئے بُہت مضطرب ہے ۔ وَگرنہ اسکول سے وَاپسی پر وہ ہمیشہ اپنا ڈریس تبدیل کرنے کے بعد سب سے پہلے کھانے کی صدا ہی بُلند کرتی ہے۔ میں نے اُسکی بے چینی دیکھتے ہُوئے استفسار کیا۔۔۔ بیٹا خیریت تُو ہے آج آپ کھانا اسکول کینٹین سے تُو نہیں کھا آئیں۔۔۔۔۔؟ وہ کہنے لگی ۔۔۔نہیں بابا ایسی تُو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ بس باباجانی کُجھ جاننا چاہتی ہُوں۔۔۔ آپ مجھے جہاد سے متعلق کُچھ بتائیں ۔۔۔؟ اور یہ بھی کہ شہید کُون ہُوتے ہیں۔۔۔۔؟ میں نے اُسے کہا کہ بیٹا پہلے لباس تبدیل کرلو۔ پھر کھانا کھالو ۔اُسکے بعد میں تفصیل سے تُمہارے سوال کا جواب دے دیتا ہُوں۔۔۔! لیکن وہ شائد اپنے سوالوں کے جواب کیلئے اتنی زیادہ متجسس تھی۔ کہ کہنے لگی نہیں بابا جانی پہلے آپ میرے سوالوں کا جواب دے دیں۔ اُسکے بعد میں کھانا کھالونگی۔ کیونکہ جب تک مجھے میرے سوالوں کا جواب نہیں مِلے گا میں بے چین ہی رَہوں گی۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہی ہر نئی بات پر متجسس ہوجاتی ہے۔ اور جب تک اُسے اپنے سوال کا جواب نہ مِل جائے وہ چین سے نہیں بیٹھتی ہے۔ لہذا میں نے ہمیشہ کی طرح ہَار مانتے ہُوئے اُسکے سوالوں کا جواب پہلے دینے کیلئے حامی بھر لی۔ اور اُسکے سوالوں کا جواب دیتے ہُوئے اُسے بتانے لگا۔ بیٹا جہاد کا حُکم قران مجید فرقانِ حمید میں کئی جگہوں پر آیا ہے۔ جہاد کے معنیٰ جدوجہد اور کوشش کے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو آسان لفظوں میں اسطرح کہہ سکتے ہیں۔ کہ اللہ کریم کی راہ میں کوشش کرنا۔ میں نے ابھی گُفتگو شروع ہی کی تھی۔ کہ میری بچّی درمیان میں بُول پڑی۔۔ بابا کوشش کرنا۔۔ یا۔۔ اللہ کریم کی راہ میں گردن کَٹوانا،، کیونکہ ہماری ٹیچر نے ہمیں بتایا تھا کہ اللہ کریم کی راہ میں جان دینے کو جہاد کہتے ہیں۔۔۔؟ ہاں بیٹا اللہ کریم کی راہ میں لڑتے ہُوئے اپنی جان قربان کرنا جہاد ہے۔ لیکن تُم اگر میری بات کو تَسلی سے سُنو گی تو میں تُمہیں جِہاد سےمتعلق تفصیل سے بتا سکوں گا۔ جی بابا جان آپ بتایئے اب میں بِلا ضرورت نہیں بُولونگی۔ اُس نے اپنی کہنیوں کے پیالے میں اپنے چہرے کو سجاتے ہُوئے کہا۔۔۔ دیکھو بیٹا جہاد کی کئی اِقسام عُلماءِ کرام نے بیان کی ہیں اور اِن اقسام پر سبھی عُلماء کا اجماع بھی ہے۔ کیونکہ یہ سبھی اقسام قران وسنت کی روشنی کے عین مطابق ہیں۔ اور جِہاد کا مُنکر بلاتفاق،، کافر،، ہے۔ البتہ جہاد کے طریقہ کار پر ایک گروہ کا دوسرے گِروہ سے اُصولی اختلاف ممکن ہے۔ جہاد کی یہ پانچ اقسام بُہت مشہور ہیں نمبر1۔جہاد بالعِلم ۔ نمبر2۔جہاد بالمال۔نمبر3۔جہاد بالعمل۔ نمبر4۔جہادبالنفس۔ نمبر5۔جہاد بالقتال۔ بیٹا ، جہاد علم،،کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اور اُسکے مدنی محبوب ﷺ کے احکامات کو سیکھ کر دُنیائے انسانیت تک اُسکی روشنی کو پہنچانا۔ تاکہ ظُلمت کو دین کی روشنی سے منور کیا جاسکے۔ تاکہ تِیرگی چھٹ جائے اور لوگوں کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں آسانی ہُوجائے۔ کوشش کرنا انسان کا کام ہے جبکہ ہدایت دینا اللہ کریم کا کام ہے۔ اور قران مجید میں بھی اِسکا واضح حُکم موجود ہے مفہوم،، تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو نیکی کا حُکم کرے اور بُرائی سے رُوکے۔ جبکہ مال سے جہاد کے معنیٰ ہیں کہ اپنی حلال ذرائع سے حَاصِل کی گئی دولت کو اللہ کریم کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اب چاہے وہ رقم مجاھدینِ اسلام کو دِی جائے یا کِسی نادار و بیوہ کو دی جائے ۔ چاہے مدارِس میں پُہنچادی جائے۔ یا کِسی فلاحی کام میں خرچ کردی جائے۔ کیونکہ مال محنت سے کمایا اور جمع کیا جاتا ہے اسلئے اسکا استعمال بھی انسان کے نفس پر گِراں گُزرتا ہے لِہذا جب اتنی کوشش کے بعد کمایا ہُوا مال انسان راہِ خدا میں خرچ کرتا ہے تب شیطان طرح طرح کے وسوسے انسان کے دِل میں پیدا کرتا ہے۔ اور شیطان و نفس سے لڑتے ہُوئے جب انسان خُوشدلی سے راہِ خُدا میں مال خرچ کردیتا ہے۔ تُو یہ بھی جہاد کے زِمرے میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کریم اپنے کلامِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔۔۔ سورہ اَلصّٰف آیت نمبر ۱۱۔ اور بِٹیا جہادِ عمل کے متعلق بھی سُنو: جب بحیثیت مسلمان ہم نے اپنی دینی اور دُنیاوی ضروریات کے مُطابق اسلام کی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ لیا تب ہم پر لازم ہے کہ صِرف گُفتار کے غازی نہ بنیں۔ بلکہ جو علم حاصِل کیا ہے اُس پر عمل بھی کریں۔ چاہے شیطن لاکھ حیلے سمجھائے ۔چاہے اُن پر عمل سے دُنیاوی فائدہ ہمارے ہاتھ آئے یا دُنیاوی نقصان ہمارا مُقدر بنے ۔ یا ہمیں اس پر عمل کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ لیکن رضائے رَبُّ الانام کی خاطر ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا ہی چاہیئے اور یہی عملی جہاد ہے۔ جبکہ جہاد بالنفس اپنی خُواہشات کو اللہ کی مرضی پر قربان کردینے کا نام ہے۔ جیسے سردیوں کی صبح میں فجر کی نماز نفس پر بھاری ہُوتی ہے۔ مگر یہی عمل اللہ کو محبوب ہے۔ تب یہ نہ دیکھو کہ اِس عمل میں مشقت ہے بلکہ یہ دِیکھو کہ اللہ کریم کی چاہت کیا ہے۔ جسطرح جُھلسا دینے والی گرمی میں روزہ رکھنا نفس پر گِراں گُزرتا ہے مگر اللہ کریم اس عمل پر اپنی خوشی کا اِظہار فرشتوں کے سامنےفرماتا ہے۔ اور کبھی جب کوئی سائل اپنی ضرورت بیان کرتا ہے تو نفس سمجھاتا ہے کہ تجھے اسکی ذیادہ ضرورت ہے۔ لیکن اگر سائل کی ضرورت پوری کردی جائے تو خُدا خُوش ہوتاہے۔ اسی طرح ہر وہ عمل جو نفس پر شاق گُزرے لیکن وہی عمل خُدا کی خوشنودی کا باعث ہُو ۔ تب خُدا و رَسولﷺ کی رضا کو مقدم رکھنا جہادِ نفس ہے۔ اور بیٹا ایک جہادِ قتال ہُوتا ہے یعنی کافر سے اللہ کریم کی رضا کیلئے قتال یعنی لڑائی کرنا۔ اسکا بھی قران مجید میں کئی جگہوں پر حُکم موجود ہے اور اسکی بھی بڑی نرالی شان ہے چُنانچہ قران مجید میں ارشاد ہُوتا ہے کہ،، اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے، سورہ البقرۃ آیت ۲۴۴۔۔۔ جبکہ دوسری جگہ اِرشاد ہُوتا ہے کہ،،اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں ۔سورہ البقرۃ ۱۵۴ یعنی جو جہاد میں، اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید کہلاتا ہے اور قران کریم کا فیصلہ ہے کہ ،،شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ رِہتا ہے۔ لیکن یہ بات اور ہے کہ۔ ہم اُنکی زندگی کے اطوار کو نہیں جان پاتے۔ اور وہ کیسے کھاتے پیتے ہیں یہ نہیں سمجھ پاتے ۔مگر وہ زندہ ہیں۔ کیونکہ یہ اللہ کریم کا فرمان ہے۔ اور جہاد کے فضائل میں بے شُمار اَحادیثِ مبارکہ بھی کُتب اَحادیث میں موجود ہیں۔ جیسا کہ بُخاری شریف کی یہ حدیث ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا۔لوگوں میں سے افضل کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا آدمی جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہے۔“ اس نے کہا:”پھر کون؟آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آدمی جو لوگوں سے الگ ہو کر کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔“بخاری، کتاب الجہاد۔6782 لیکن میری بَچّی ۔۔اِس جہاد مقاتل کیلئے کُچھ قانون ہیں۔ کبھی یہ فرضِ کفایہ ہُوتا ہے ۔ تو کبھی یہ فرضِ عین ہُوتا ہے۔اور کبھی مُباح کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اور اسکے بے شُمار آداب و احکامات اور اُصول خود اللہ عزوجل اور اُسکے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں جبکہ کُچھ آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ علیہم اجمعین)سے ثابت ہیں ۔ جِنکا پاس رکھنا ہر مُجاھِدِ اسلام اور امیرِ مجاھِدین و لشکر پر لازم و فرض ہے۔اگر اِن قواعد اور احکامات کو پسِ پشت ڈال کر جہاد کیا جائے۔ تو ایسی لڑائی نہ صِرف جہاد کی رُوح کی عین منافی تصور کی جائے گی۔ بلکہ جہاد کے بجائے دھشت گردی کے زمرے میں شامل ہُوجائے گی۔ بابا ایک بات اور بتائیں کہ یہ طالِبان کون ہُوتے ہیں۔۔۔؟ میری ٹیچر مجھے بتارہی تھیں کہ طالِبان اللہ تعالی کے نیک ترین بندے ہُوتے ہیں۔ بلکہ یہ سب وِلایت کے درجے پر ہیں۔ پھر بابا جان آپ طالبان کیساتھ جِہاد میں شامِل کیوں نہیں ہُوتے۔۔۔۔؟ میری بَچّی طالبان ۔ طالِب کی جمع ہے۔ جِس کے معنی ہیں۔۔خواہشمند۔ آرزومند۔ مانگنے والا۔ طلب کرنے والا۔مشتاق ۔ ان تمام معنوں سے تم مجھے دیکھو گی۔ تُو ضرور مجھے طالبان کی صف میں دست بَدستہ پاوٗ گی۔ میں شہادت کیلئے مشتاق ہُوں ۔ اور ہر نماز میں اپنے رب عزوجل سے شہادت کی موت کی تمنا کا سوال کرتا ہُوں۔ میں روشنی کا خُواہشمند ہُوں۔ میں عِلم کے لئے حَریص ہُوں۔ میں مسلمانوں کی ترقی کا آرزومند ہُوں۔ میں عافیت کا طلبگار ہُوں۔ اور کُفار کے مقابل میں مسلمانوں کو تفرقہ پرستی سے بیزار شانہ بشانہ کھڑا دیکھنا چاہتا ہُوں۔ مگر بابا میں تو آپ سے اُن طالبان کی بابت گُفتگو کررہی ہُوں۔ جو موت سے نہیں گھبراتے، جو سینے پر بم باندھ کر شہادت کی موت کے متمنی رِہتے ہیں۔ میری بیٹی نے میری گُفتگو رُوکتے ہُوئے مجھے اپنی طرف ایک مرتبہ پھر متوجہ کرتے ہُوئے سوال کیا۔ میری بچی مجھے اُنکے ساتھ جہاد میں پیش پیش رہنے میں کوئی حرج نہیں ہُوتا۔ اگر میں نے احادیث مبارکہ اور آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہُوتا ۔ مگر میں جتنا مُطالعہ کرتا چلا جاتا ہُوں مجھے طالبان کا طریق جہاد نہ صرِف صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کے طریقہ ءِجہاد سے مُختلف نظر آتا ہے بلکہ اُس جہاد سے متصادم نظر آتا ہے۔ جیسا کہ بُخاری شریف اور مسلم شریف کی کئی احادیث میں کافر بچوں، بُوڑھوں اور خواتین کو قصداً قتل کرنے کی ممانعت موجود ہے مگر یہ کافر بچوں اور خواتین تو کُجا۔ اسکولوں میں دَرس وتَدریس میں مشغول مسلمان بچوں، بچیوں اور خواتین کو قتل سے دریغ نہیں کرتے ۔جبکہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ جو شخص لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے اس سے ہاتھ اور زبان کو روکنا۔ کہ ہم نہ تو کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر قرار دیں اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج سمجھیں۔۔ (ابوداؤد)۔ صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم وزیادتی نہ کرو دُھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، بخاری ومسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوہ میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بہت بُرا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، اگرچہ ابتداءِ اسلام میں اسکی اِجازت باقی تھی لیکن جُوں جُوں وقت گُزرتا گیا یہ احکام بھی تبدیل ہُوتے رہے چُنانچہ حضرت علامہ کمال الدین ابن ہمام فتح القدیر کی جلد پنجم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ابتداءِ اسلام میں مشرک عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کردیا جاتا تھا۔ اِس لئے عورتوں سے بھی جزیہ وصول کیا جاتا تھا۔ اور جب عورتوں کے قتل کا حُکم منسوخ ہوگیا تو جزیہ لینے کا حُکم بھی ساقط ہُوگیا۔ جبکہ موجودہ دُور کے طالبان نہ صرف کافروں کے بچوں اور عورتوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئےمسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر حملوں کے ذریعہ بے گُناہ مسلمانوں کو بھی خُون سے نہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔ کہاں تو آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وسلم) کافروں کا مثلہ یعنی کان ناک کاٹنے سے روکیں اور کہاں یہ نام نہاد مجاھدین جنہوں نے کافروں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی لاشوں کو قبروں سے نِکال کر نہ صِرف مُثلہ کیا بلکہ اُنکی لاشوں کی بےحُرمتی کے بعد اُن لاشوں کو چوراہے پر لٹکادِیا۔ تاکہ مسلمانوں میں انکا خُوف اور دبدبہ قائم ہُوجائے۔ میرے ایک میجر دوست جنکی ڈیوٹی وزیرستان میں تھی۔ مجھے اکثر بتایا کرتے تھے۔ کہ افواجِ پاکستان کے سپاھی جب طالبان کے ہاتھ لگ جاتے تب کبھی کوئی ایسی لاش واپس نہیں ملتی۔ کہ جسکے اعضاء سلامت ہُوں۔ جبکہ ایسے اعمال میں ملوث افراد اور انکی امداد کرنے والے صاحبان کو بُخاری ، مسلم ، اور ابو داوٗد شریف میں موجود اس مشترکہ حدیث پاک کو دیکھنا چاہیئے جو لفظوں کے معمولی فرق کیساتھ تین مستند محدثین (رحم اللہِ اجمعین) نے بیان فرمائی ہے حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے حضور سید عالمﷺ کی خدمت میں کچھ خام سونا مٹی میں لگا ہوا بھیجا تو آپﷺ نے وہ چار آدمیوں میں تقسیم فرمادیا (یعنی اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عینیہ بن بدرالغزاری، زید الخیل طائی اور علقمہ بن علاثہ عامری کے درمیان) قریش اور انصار اس پر ناراض ہوئے اور کہاکہ نجد کے رئیسوں کو مال عطا فرمادیا اور ہمیں نظر انداز کردیا گیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں اسلام کی محبت ڈالتا ہوں۔ پس ایک آدمی آگے بڑھا جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، گال پھولے ہوئے تھے، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور داڑھی گھنی تھی اور سر مُنڈا ہُوا تھا۔ اس نے کہا اے محمدﷺ! اﷲ تعالیٰ سے ڈر و۔(معاذ اﷲ) آپﷺ نے فرمایا! اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کون کرے گا؟ اگر میں اس کی نافرمانی کرتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے تو مجھے زمین والوں پر امانت دار شمار فرمایا ہے، لیکن کیا تم مجھے امانتدار نہیں سمجھتے؟ پس ایک آدمی نے اسے قتل کرنے کا سوال کیا۔ میرے خیال میں وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے، آپﷺ نے منع فرمایا جب وہ لوٹ گیا تو آپﷺ نے فرمایا اس کی نسل یا پیٹھ سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن مجید پڑھیں گے لیکن (قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکلتے ہوئے ہونگے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیا کریں گے۔ اگر میں انہیں پائوں تو قوم عاد کی طرح مٹا کر رکھ دوں ۔ پھر جہاد کے اُصول و قواعد کو کوئی بھی حضرت ابوبکر صدیق و عُمرِ فاروق ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت خالد بن ولید (رِضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)سے ذیادہ جاننے کا دعویدار نہیں ہُوسکتا اور بالفرض کوئی دعویٰ کرے تو اُس سے بڑا دُنیا میں کوئی جھوٹا نہ ہُوگا۔ اِن تمام جَیّد و کبائر صحابہ کرام نے فتوحُ الشام کے موقع پر اپنے متبعین کو یہی ہدایت جاری فرمائی کہ۔ کافروں کے بچوں، عورتوں، بُوڑھوں، درویشوں ، مذہبی رہنماوٗں کو قتل نہ کیا جائے اُنکی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ نہ بنایا جائے، فصلوں میں آگ نہ لگائی جائے ،ہرے درختوں کو نہ کاٹا جائے۔ مگر ایک یہ طالبان ہیں جو مسلمان عورتوں کو سر بازار کوڑے مارتے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی جان اور املاک کی ہلاکت پر خُوش ہُوتے ہیں۔ اسلحہ کی خریداری کیلئے مسلمان تاجروں کو اغوا کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بعض اوقات اپنی ناقص پلاننگ سے تمام اُمت مسلمہ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بھی نہیں چُوکتے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث یہ نام نہاد مجاھدین ہندوستان گورنمنٹ سے امداد لینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ بابا یہ کیسے ممکن ہے کہ طالبان جو اتنے منظم ہیں وہ پلاننگ نہ کرتے ہُوں۔ میری ٹیچر بتارہی تھیں کہ اُنکی پلاننگ اتنی زبردست تھی کہ امریکہ کی تمام خُفیہ ایجنسیاں طالبان کا مُنہ دیکھتی رِہ گئیں اور طالبان نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو مٹی کا ڈھیر بنا دِیا۔ بیٹا ہُوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کو یہ بڑی ہمت اور بہادری کا کام لگتا ہُو۔ کہ تین سو مرد و عورت کو دو میناروں کیساتھ زمین بُوس کردِیا گیا ۔ اور امریکی دیکھتے رِہ گئے۔ لیکن اِس عمل کی مسلمان اُمہ نے جو قیمت ادا کی ہے وہ اُن ۲ ٹاوروں سے لاکھ گُنا زائد ہے۔ اسکے علاوہ امریکی اور یورپی مسلمان اس حادثے کی جو قیمت آج تک چُکارہے ہیں اسکے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں ہے۔ بیٹا فتاوٰی عالمگیری جو کہ مسلمانوں کی متفقہ فقہی کتاب ہے ۔اِسکی دوسری جلد میں علامہ نظام الدین جہاد کے مُباح ہونے کی دُو شرائط بیان فرماتے ہُوئے لکھتے ہیں۔ نمبر ۱ ۔دین کے دُشمن اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں۔ اور دُشمنانِ اسلام اور مسلمانوں میں جنگ بندی کا کوئی معاہدہ بھی موجود نہ ہُو تب جہاد مباح ہوگا۔یا نمبر۲ ۔مسلمانوں کو یہ توقع اور مکمل یقین ہُو کہ جنگ میں مسلمانوں کو کُفار پر غلبہ حاصِل ہوجائے گا۔ اگر مسلمانوں کو نہ ہی ایسی کوئی توقع ہُو ۔ اور نہ ہی فتح کامل کا یقین ہُو۔ تب اُنکے لئے کُفار سے جہاد جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ جب تک مسلمانوں کو جنگی سامان اور قُوت میں برتری حاصِل نہ ہُوجائے تب تلک کُفار سے لڑنا جہاد نہیں بلکہ خُودکشی ہے۔ اب بِیٹا آپ خُود فیصلہ کرو کہ طالبان کا امریکہ پر حملہ جہاد تھا ۔ یا بے وقوفی اور خُود کشی تھی۔ میں نے بیٹی کی جانب مُڑ کر دیکھا۔ تو وہ اُداس چہرے سے میری جانب تَک رہی تھی۔ مجھے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر پھر گُویا ہُوئی۔ تو بابا۔ اسکا مطب یہ ہُوا کہ اب جہاد نہیں ہُوگا۔ اور آپ بھی اسمیں حِصہ نہیں لیں گے۔۔۔؟ کِیوں نہیں میری بَچی۔۔۔ جہاد کبھی موقوف نہیں ہُوتا۔ جہاد کسی ایک واقعہ کا نام تُو نہیں ہے۔ یہ تُو ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب جب ہماری سرحدوں پر کفر حملہ کرے گا۔ ہم اُن سے جہاد بالقتل کریں گے۔ اور جب ہم اِس قابل ہُوجائیں گے کہ کفر کے مُقابل میں عسکری قوت جمع کرپائیں تب یکجا ہُوکر اُنکی سرحدوں پر جاکر بھی اُنہیں للکاریں گے۔ لیکن اِس وقت تمام مسلم اُمہ کے عُلماءَ اور حُکمرانوں کی دینی اور مِلی ذِمہ داری ہے کہ وہ سب آپس کے تمام اِختلافات کو دُور کرکے باہمی رضامندی سے جہاد سے متعلق تعلیمات مُصطفےٰ ﷺ پر از سرنو غور و فِکر کے بعد اُن تمام خرافات کو مجاھدین اسلام سے دُور کرنے کی کوشش کریں جُو جہاد کے نام پر رفتہ رفتہ مجاھدین کے اَذہان میں پیوستہ کردِی گئی ہیں۔ جسکی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نمائندہ بننے کے بجائے صرف ایک گروہ کی نمائندہ تنظیم بنتی چلی جارہی ہے۔ جِسے بعض اوقات مسلکی فوائد وبرتری کیلئے مساجد پر خُودکش حملوں کیلئےبھی استعمال کیا جانے لگاہے۔یہ اسلئے بھی بُہت ضروری ہے تاکہ کوئی جہاد کے نام پر اسلام کو بدنام نہ کرسکے۔ اُور یہ اسلئے بھی ضروری ہے ۔تاکہ جہاد اور دہشگردی میں فرق واضح ہُوسکے۔ اور مجاھدین میں نظم قائم کیا جاسکے ۔تاکہ ایک محاذ پر بالفرض مجاھدین کمزور پڑیں تُو اُنکی امداد کیلئے دوسرے مجاھِدین کو بھیجا جاسکے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جہاد کیلئے حاکم شہر یا حاکمِ صوبہ یا حاکمِ مُلک بُلائے۔ یہ نہ ہُو کہ جسکا دِل چاہے اپنا ایک گروپ بنا کر جِہاد کے نام پر اپنی جیب گرم کرتا رہے۔اُور وہ تُو کمانڈر بن کر خود ائر کنڈیشن کمروں میں بیٹھ کر اپنے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی بھیج دے۔ اور غریبوں کے بچوں کو جہاد کی ترغیب دیتا رہے۔ باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسجد سے موذن کی صدا بُلند ہُونے لگی جو عصر کی نماز کا اعلان کررہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!لِہذا میں قُولی جہاد سے عملی جہاد کیلئے روانہ ہُونے لگا۔۔۔۔ اِس اُمید پر کہ اللہ کریم نے مزید توفیق عطا فرمائی تو مزید بھی اِس موضوع پر ناصِرف مطالعہ جاری رکھوں گا بلکہ جہاد بالعِلم بھی کرتا رَہونگا۔ انشاءَاللہ عزوجل جہالت و ظُلم کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءَاللہ عزوجل پلکوں سے دَرِّ یار پہ دستک دینا اُونچی آواز ہُوئی عُمر کا سرمایہ گیا بشکریہ ہماری ویب

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=22378&type=text

ہم کس طرف جارہے ہیں؟

اقبال جہانگیر

پاکستان اس وقت بدامنی اور دہشت گردی کی ایک لہر کی لپیٹ میں ہے جس پر  پاکستان سے محبت   رکھنے والا ہر دل  پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے اب خود پاکستان بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ناسور پنپ رہا ہے اور اب وہ اسے سمجھنے بھی لگا ہے اور اس کا علاج بھی تلاش کر رہا ہے۔ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور خودکش حملوں نے ایک مرتبہ پھر ملک کی سلامتی اور بقاءکو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ شاید حالات کی سنگینی کا احساس  ارباب اقتدارکو بھی ہوا ہو۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے صف اول کا کردار ادا کرکے اپنی فوج اور عوام کے خون کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان سیاسی, معاشرتی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا ہے اور اس جنگ میں پاکستان نے اکتیس ہزار  قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا

                  پاکستان نے اس جنگ کی بہت بھاری معاشی‘ معاشرتی اور  اخلاقی قیمت چکائی ہے اور خدا جانے کب تک چکاتے رہیں گے۔ معیشت جو پہلے ہچکیاں لے رہی تھی دہشت گردی کے عذاب نے اس کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں نئی  صنعت لگ نہیں رہی پرانی فیکٹریاں دھڑا دھڑ بند ہو رہی ہیں  اور  ہزاروں کے حساب سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ملک ترقی معکوس کی طرف گامزن ہے۔ ان نو سالوں کی دہشت گردی، خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ بہت تباہیاں ل و بربادیاں ے کر آئی ہے کتنے لوگوں کی خوشیاں اور ارمان خاک  میں مل گئے، کتنے لوگ اس دہشت گردی کی آگ  کے بھینٹ چڑھ گئے، اب تک ہونے والے خودکش دھماکوں کے متاثرین پر کیا گزر رہی ہے؟ ہرصبح طلوع ہونے والا سورج ان کےلئے امید  کی کرن  لاتا ہے یا نہیں؟

 دہشت گردی برے انداز فکرکو اپنانے سے شروع ہو ‏ءی ہے ـ اچھا انداز فکر ہی اس کو ختم کر سکتا ہےـدہشت گردی کے خلاف اتحادی کا کردار کرنے کے سبب  پاکستان کوگزشتہ 9برس میں ۴۵ارب ڈالر کا معاشی نقصان اُٹھانا پڑا۔ اس سال 29خودکش دھماکے پختونخواہ اور قبائلی علاقوں ، 7 پنجاب، 2سندھ اور 2ہی بلوچستان میں ہوئے۔ 2009ء کی نسبت رواں برس خودکش دھماکوں میں خاصی کمی رہی۔ سابق  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کی وجہ سے گزشتہ برسوں میں پاکستان کو ۴۵ارب ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑا۔

علماءنے  پاکستان  بھر مین حالیہ  خودکش حملوں کےواقعات اور دہشت گردی کو ناجائز اور حرام قرار دیتے ہوئے اس کو اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا۔ بلا شبہ دہشت گردی  اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور ملک کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لئے پوری قوم کو متحدہ ہونا ہو گا۔ قتل و غارتگری میں ملوث  لوگ انسانیت‘ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور وہ کسی طور پر بھی انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔  اب وقت آ گیا ہے کہ ہم مل بیٹھ کر ملک کی بقاءاور سالمیت کے لئے ایسے فیصلے کریں ،جس سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ ملے۔ علماء اور دانشوروں کا کردار اس ضمن میں نہایت اہمیت کا حامل ہو گا۔

دہشت گردی کی تمام صورتیں اور اقسام انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ اسلام کسی حالت میں بھی دہشتگردی اور عام شہریوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت  اسلام کےانہی سنہری اصولوں پر کاربند ہے۔ دہشت گردی و خود کش حملے اسلام کے بنیادی اصولوں سےانحراف اور رو گردانی ہے۔

 بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا  جانا چاہیے۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔

قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئے ہیں ، اسی بات سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام ہمیشہ دہشت گردی سے پرہیز کرتا ہے اور اسلام کے عظیم قوانین پر عمل کرنے سے معاشرہ کو دہشت گردی سے چھٹکارا ملتا ہے۔مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ اٴَوْفَسادٍفِی الْاٴَرْضِفَکَاٴَنَّماقَتَلَالنَّاسَجَمیعاًوَمَنْاٴَحْیاہافَکَاٴَنَّمااٴَحْیَاالنَّاسَجَمیعا(سورہ مائدہ ، آیت ۳۲) ۔ جو شخص کسی نفس کو …. کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔ اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ جواسلام اور قرآن کے نام پر دہشت گردانہ حملے کرتے ہیں وہ جائز نہیں ہیں۔

دہشت گردی ایک بہت بڑا ناسور ہے جس کے مقابلہ کے لئے امت مسلمہ کو متحد اور منظم ہو کر مشترکہ طور پر اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا۔نوجوانوں کو دہشت گردوں کے اثرات سے محفوظ کرانا اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات کا مبلغ بنانے کی بجائے مفید  و کار آمد شہری بنانا ہو گا۔ پاکستان مین موجودہ دہشت گردی کے واقعات نے لوگوں کو بے سکون کردیا ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے وطن عزیز کی سا لمیت کیلئے آپسی بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا جائے  اور لوگوں کا  حکومت پراعتماد بحال کیا جائے۔

ملک میں معاشی ترقی اور صنعتیں تب ہی لگیں گی  اور غیر ملکی سرمایہ کاری  تب ہو گی جب ملک میں امن و امان ہو گا ۔اس وقت ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے  اور دہشت گردی کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔پاکستان بدحالی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ معیشت بند گلی مین داخل ہو گئی ہے اور کوئی ملک پاکستان کو بیل آوٹ پلان دینے کے لئے تیار نہیں۔ حکومت اپنے انتظامی اخراجات پورے نہیں کر پا رہی۔ سنگین حالات سے نکالنے کے لئے قومی یکجہتی سے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ لہذا عوام دل و جان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے  اور ملکی معاشی بہتری کے لئے حکومت سے تعاون کریں۔دہشت گردی جیسے فتنے سے نمٹنا تو ہر مسلمان اور پاکستانی کی اولین ذمہ داری ہے۔

پاکستانی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک خیراتی ادارہ الحرمین فاؤنڈیشن نے تحریک طالبان کو 15 ملین امریکی ڈالر پاکستان میں دہشت گردی کے لیے دیے جس سے  پنجاب کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان کے حکیم اللہ محسود اور اس کے ساتھی جیش محمد اور لشکر جھنگوی کے ساتھ مل کر پنجاب میں اہم علاقوں پر حملہ کرنا  اور دہشت گردی کا ارتکاب کرنا تھا ۔[روزنامہ دی نیوز۔ 14 ستمبر 2009]اوائل  ۲۰۰۹ء میں طالبان نے پنجاب میں مختلف متشدد مذہبی گروہوں پر مشتمل مسلم یونائیٹڈ آرمی بنائی جس میں پاکستان بھر کی عسکریت پسند تنظیمیں شامل تھیں جیسے لشکر جھنگوی‘ تحریک نفاذ شریعت محمدی ،مولوی فضل  اللہ گروپ ،۔حزب مجاہدین‘ جیش محمد‘ خدام اسلام‘ رحمت ویلفیئر ٹرسٹ ‘ تحریک طالبان پنجاب‘ حرکت الجہاد اسلامی‘الیاس کشمیری گروپ۔ انہوں نے نفاذ شریعت سے متعلق چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا ہےمحکمہ داخلہ پنجاب کو وزارت داخلہ کی بھجوائی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا  تھاکہ قاری نعیم آف بہاولپور‘ قاری عمران ملتان‘ عصمت اللہ خانیوال اور رانا افضل خانیوال کے علاوہ درہ آدم خیل میں کمانڈ ہیڈ آفس سے ان کے رابطے ہیں۔[روزنامہ نوائے وقت 12 مئی 2009ء]

یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی میں ملوث کسی تنظیم یا فرد کا دفاع کرنا دہشت گردی کو فروغ دینے جیسا کا م ہے۔ اس لیے جو لوگ بھی صحیح معنوں مین انسانیت دشمن کارروائیوں کے مجرم ہیں انھیں عبرت ناک سزائیں دینا ضروری ہے لیکن اس معاملہ میں محض فرقہ واریت کی عینک لگا کر چند لوگوں کو ذمے دار قرار دینے کی رٹ لگا نااپنی ذمہ داریوں سے فرار ہونا اور اپنی تن آسانی کا جواز فراہم کرنا ہے۔ اعداد و شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہیں۔ افغانستان سے لے کر عراق اور خودکشمیر کے اعداد و شمار جمع کریں تو اس میں مرنے والوں کی تعداد 90فیصد مسلمانوں پر ہی مشتمل ہے۔

دہشت گردی کا ناسور اب اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اسے ختم کر نے کے لیے ملک کے تمام فرقوں، نظریا ت اور طبقوںکے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا بے حد ضروری ہے۔دہشت پسندی کی ہر کارروائی کے بعد  بعض  مذہبی اور سیاسی لیڈران  اپنی دوکانداری چمکانے کے لئے ایسے بیانات دیتے ہیں جس سے فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوتا ہے اور عام لوگوں کے دل و دماغ میں خوف  و ہراس سرایت کرنے لگتا ہے۔  ایسے لوگ دہشت گردون کے دوست ہین اور قابل غور بات یہ ہے کہ  بعض سیاسی  و مذہبی لیڈروں کی غیر ذمہ ورانہ بیان بازی سے دہشت  گرد و انتہا پسند طاقتوں کو حوصلہ  بھی ملتا ہے۔ دہشت گردوں کے معاملہ مین کسی قسم کی کمزوری دکھانا دہشت گردوں کے حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

پاکستان کی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کیخلاف جنگ اسی وقت ختم ہو گی جب جنگجو وں کا مکمل طورپر خاتمہ کر دیا جائے گا۔یہ لوگ معاشرے اور ملک کیلئے خطرہ ہین جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں ،ایسے  ملک اور اسلام دشمن عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔

دہشت گردی پر قومی پالیسی کی تشکیل وقت کا ایک  اہم تقاضہ ہے  نہ صرف ہم یہ طے کر لیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہمیں دنیا کے سامنے یہ بھی اعلان کرنا ہو گا کہ ہم افغانستان  اور دوسرے ممالک میں بھی کسی قسم کی دہشت گرد ی کے حامی نہیں ہیں ۔ ہماری دوغلی پالیسی نہیں چل سکتی۔ہمیں شرح صدر کے ساتھ کوئی بھی فیصلہ کر لینا چاہیئے۔دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مجوزہ قومی کانفرنس کے انعقاد  کے بارے تمام سیاسی جماعتوں او ر تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ قومی کانفرنس کو بامقصد او ر نتیجہ خیز بنایا جا سکے اتفاق رائے کے بغیر قومی کانفرنس کا انعقاد بے معنی ہو گا ۔ کوئی بھی ایک جماعت دہشت گردی ختم نہیں کر سکتی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنا ہو گا

ہمین آج کی دنیا مین سری لنکا کی مثال اپنے سامنے  رکھنی ہے۔ سری لنکا برسوں تک   دہشت گردی کا شکار رہا لیکن اس نے دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے، با لآخر  سری لنکا میں  تامل دہشت گردوں کو شکست ہو گئی  ۔پاکستان کو بھی دہشت گردی کے خلاف ایک طویل عرصے کی جنگ کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہو گا۔بالآخر اپنی جنگ  ہمین خود ہی لڑنی پڑتی ہے  اور کوئی  ملک دوسرے کی لڑائی  نہین لڑتا۔ہم رومانوی لوگ غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنے میں کمال رکھتے ہیں۔

                   حقیقتایہ جنگ کوئی ایک شخص ، کوئی ایک ادارہ، کوئی ایک جماعت نہیں جیت سکتی، اس کے لئے ہمیں قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ہماری بعض مذہبی  و سیاسی جماعتیں سستی نعرے بازی کرتی ہیں ۔ اگر یہ جماعتیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حامی نہیں تھیں تو  طالبان کی حمایت کیوں کرتی رہین ۔

دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام ظلم و دہشت سے نجات کا نام ہے۔دہشت گردی اگر سوات اور فاٹا میں قابل مذمت ہے تو کراچی اور حیدر آباد  اور دنیا بھر میں بھی قابل مذمت ہے۔

چونکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہ سماجی عمل ہے اور کئی وجوہات کی بناء پر اسکا معاشرے کے ساتھ تعلق موجود ہوتا ہے۔  دہشت گردی معاشرے کی کئی خرابیوں کا رد عمل ہوتی ے۔ کوئی معاشرہ  کسی وقت بھی دہشت گردی کی نظر ہوسکتا ہے اور اس کا دنیا بھر میں کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تاہم اس عمل کو کسی بھی صورت میں کسی مذہب کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہیے۔

دہشت گردی کو مات دینے کے لیے پاکستانی قوم کی محرومیوں کو دور کرنا اور ان کے جائز اقتصادی مسائل  اور دہشت گردی کی بنیادی محرکات کو دور کرنا  اور ان کا حل کیا جانا بےحد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اور امن کے حق میں ڈراموں‘ فلموں‘ پمفلٹ‘ پوسٹر‘ مباحثوں کو ترتیب دیا جانا چاہیے۔ پمفلٹ و پوسٹرز شائع کئے جانا چاہیے‘ پاکستانی میڈیا کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ  پوری طرح شریک کیا جانا چاہیے۔

ہمارےقبائلی علاقوں میں صدیوں سے قبائلی جرگہ‘ قبائلی لشکر‘ اور اجتماعی ذمہ داری ، پشتونون کے سماج اور ثقافت کا اٹوٹ انگ اور بنیادی ستون ہیں‘ دہشت گردوں نے ان ستونوں کو بڑے منظم انداز  مین جان بوجھ کر  گرایا  تاکہ وہ احتساب سے بچ سکیں،جس کی   وجہ سے قبائلی علاقوں کی معاشرت کے تار و پود بکھر کر رہ گئے  ہین۔ اگر ہم  آج  پشتونوں کو ان کا لوٹا ہواسماج ،رسم و رواج اور ثقافت واپس  لوٹا دیں تو ہم دہشت گردی کے خلاف آدہی جنگ فورا جیت سکتے ہین۔

دہشت گردی کے خلاف موثر جواب دہشت گردوں سے لڑ ا  ئی کے علاوہ  اس سوچ اور خیالات کو،جو ان کو ایسا کرنے پر ا کساتی ہے ختم کرنا ہو گاـ  اسلامی انتہا پسند تحریک کو اسی طرح شکت دینا ہو گی جسں طرح فا‎شزم اور کیمونزم کو شکست دی گی تھی ، ہر سطح پر اور ہر موقعے پر اور ہر پبلک اور ذاتی قسم کے ادارے کو بھر پور طور پر استعمال کرنا ہوگاـ اعتدال پسند مسلمانوں کی حمایت اور مدد کر نا اور اعتد ال پسند اسلام کی کامیابی موجودہ دہشت گردی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا واحد اور اصل حل ہےـ

حقیقت یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان  کی مضبوطی کا دارومدار القائدہ پر ہے جو  ٹی ٹی  پی کو سرمایہ اور تربیت فراہم کرتی ہے۔یہی بات القاعدہ اور افغان طالبان پر بھی عائدہوتی ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ تینوں کے خلاف ایک ہی طرح کی پالیسی بنائی جائے ۔اگر القاعدہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے تو ہم ٹی ٹی پی یا افغان طالبان کے ساتھ سمجھوتہ یا دوستانہ رویے کی امید نہیں کرسکتے۔اگر ہم افغانستان میں افغان طالبان کی فتح کے لئے دعائیں کررہے ہیں تو پاکستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتے ۔ایک گروپ کےخلاف لڑائی اور دوسرے کے ساتھ دوستانہ رویہ کی پالیسی اپنا نے سے ہم یقینی طور پربرباد ہوجائیں گے۔ ہمیں  اچھے اور برے طالبان کا فرق  ختم کرنا ہو گا۔ یہ تمام دہشت گرد ہین۔ہمیں اس مسئلے کی وسعت کو سمجھتے ہوئے اپنی خانگی اور غیر ملکی پالیسی پر پھر سے غور کرنا ہوگا اور اس کے مطابق اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اگر ہم ایسا نہیں کرپاتے ہیں تو پھر ہمیں اس کے سنگین تنائج بھگتنےکے لئے بھی تیار رہنا چایئے۔

دہشت گردی  ایک غیر ملکی نہین بلکہ پاکستانی ایشو ہے۔ ہمارےعوام کی سلامتی اور ترقی کے لئے یہ امر انتہائی  اہم اور ضروری ہے اوریہ  ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔ دانشور،علماءکرام ، نوجوان  اور پڑہے لکھے لوگ آگے آئیں اور اپنی مدد آپ کے تحت دہشت گردی کا خاتمہ کریں اور ملک پاکستان کو امن کا گہوارہ بنادیں۔

انتہا پسندی کا زہر

یہ معلومات سامنے آئی ہیں کہ القاعدہ کی قیادت پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہی تھی۔ یہ اطلاعات امریکن عہدیداروں نے پاکستانی انٹیلی جنس کے افسروں کے ساتھ ملاقات میں فراہم کی ہیں۔ خبروں کے مطابق امریکی حکام نے یہ معلومات ان دستاویزات اور کمپیوٹرز سے حاصل کی ہیں جو وہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

 اسامہ بن لادن کے مارے جانے پر ابھی تک پاکستان میں ہنگامہ برپا ہے۔ بہت سے لوگ اسے پاکستان کی حاکمیت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں بے چینی اور پریشانی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے جو اسامہ بن لادن کو امت مسلمہ کا ہیرو تصور کرتے ہیں اور درپردہ یہ اظہار کرنے سے نہیں چوکتے کہ اس نے ستمبر 2001ءمیں امریکہ کے ٹون ٹاورز پر حملہ کرکے جس خوفناک جنگ اور محاذ آرائی کا آغاز کیا تھا وہ درحقیقت امریکہ ہی کی غلطیوں کا نتیجہ تھی۔ کسی جرم کے لئے عذر تلاش کرنا، درحقیقت اس جرم کو درست قرار دینے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسامہ بن لادن کو ہیرو بنانے والے یا اس کے نظریات اور اقدامات کی کسی بھی طرح توثیق کرنے والے کسی طور پاکستان اور مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ اس شخص نے جہاد کے نام پر ایک ایسی گمراہ کن محاذ آرائی کا آغاز کیا تھا جس نے گزشتہ دہائی میں دنیا کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ جو وسائل اور صلاحیتیں نوجوان نسل کو تعلیم دینے اور ان کی پرداخت کرنے پر صرف ہونی چاہئیں تھیں انہیں سیکورٹی اور دہشت گرد خطروں سے نمٹنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔

 اسامہ بن لادن ایک گمراہ شخص تھا۔ جس نے اپنے بعض سیاسی مقاصد کے لئے اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال کیا۔ ہزاروں معصوم جانوں کا خون اس کے اعمال نامے میں درج ہوگا۔ امریکہ پر حملہ کے بعد دنیا میں جو صورت حال رونما ہوئی ہے اسے جس طرح بھی دیکھا اور سمجھا جائے، اور اس حوالے سے امریکہ اور مغرب پر جتنی بھی تنقید کی جائے، اس بات سے بہرطور انکار ممکن نہیں ہے کہ نفرت اور قتل وغارت گری کا یہ کھیل اسامہ بن لادن اور اس کے گمراہ ساتھیوں نے شروع کیا تھا۔ دہشت گردی کے اس رویہ نے مسلمانوں کو وحشی اور خونخوار قوم کے طور پر پیش کیا۔ مغرب اور امریکہ میں آباد مسلمان اور ان کے رہنما جس قدر بھی کوشش کریں، اسامہ اور اس کے ساتھیوں نے مسلمانوں کا جو مسخ شدہ چہرہ دنیا کو دکھایا ہے اس سے نجات ممکن نہیں ہوگا۔

ان انتہا پسند دہشت گردوں کی مجرمانہ حرکتوں کی وجہ سے دنیا میں مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایک طرف فلسطینی تحریک آزادی ماند پڑ گئی اور ایک خود مختار فلسطینی ریاست کا خواب مسلسل ادھورا ہے۔ تو دوسری طرف کشمیری عوام کی جائز اور طویل جدوجہد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دہشت گردی کی اس لہر میں بھارت کو ایک قابل اعتبار اور مضبوط جمہوری ملک کے طور پر قبول کیاگیا ہے اور کشمیری عوام کے خلاف اس کی بربریت اور انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھانا یا سفارتی اور سیاسی ہمدردی حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔

اس کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں آباد 50 سے 70 ملین مسلمانوں کی زندگی کو انتہائی دشوار بنادیاگیا۔ غیر مسلم معاشروں کی اکثریت انہیں شبہ کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہے اور ان کی جائز اور بنیادی خواہشات اور ضرورتیں بھی نظر انداز ہوتی ہیں۔ 9/11 سے پہلے امریکہ اور بڑے یوروپی ملکوں میں مسلمانوں کو ایک موثر اور باوقار لابی کی حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔ اس اثر ونفوذ کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی محرومیوں کے لئے طاقتور ملکوں کی سیاسی اور سفارتی اعانت حاصل کرناممکن تھا۔ لیکن اسامہ بن لادن کی مہم جوئی نے کئی دہائیوں کی اس محنت سے حاصل کی گئی سیاسی قوت کو ناکارہ کردیا۔ امریکہ اور مغرب میں اب مسلمانوں کو ہردم یہ دلیل پڑتی ہے کہ وہ انتہا پسند نہیں ہیں اور میزبان معاشروں کی خوشحالی اور ترقی میں وہ بھی اتنی ہی دلچسپی رکھتے ہیں جتنی دیگر عقائد اور نسلوں کے لوگوں کو ہے۔

مسلمانوں کی سیاسی قوت کی کمر توڑنے کے علاوہ اسامہ بن لادن ہی کی غلطیوں کے خمیازے میں افغانستان اور پھر عراق کو میدان جنگ بننا پڑا۔ ان دونوں جنگوں میں لاکھوں بے گناہ مسلمان مارے گئے۔ رہی سہی کسر القاعدہ کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے ان ملکوں میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناکر پوری کردی۔ افغانستان کے بعد القاعدہ نے پاکستان پر اپنی توجہ مرکوز کی اور متعدد دہشت گرد گروہوں اور ٹولوں کے ذریعے درجنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ہزاروں لوگوں کو جان سے ماردیا۔

پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو تحریک طالبان پاکستان اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں اور ان کے انتہا پسند حملوں کی علاقائی اور عالمی تناظر میں سیاسی اور اسٹریجک توجیہات تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یہ کام اپنی جگہ پر ضروری ہے اور کسی بھی دہشت گرد روئے کو ختم کرنے کے لئے اس کا تفصیلی جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ لیکن اس رویہ کو جنم دینے اور اسے جذباتی نعرہ بنانے میں القاعدہ کے حربوں اور ہتھکنڈوں کا بھی ہاتھ ہے۔ پاکستان کے ہر طبقہء فکر کے علماءاور مشائخ نے دہشت گردی کے خلاف ہر قسم کے بیان اور فتوے جاری کئے ہیں لیکن وہ جنت پانے کی خواہش میں دہشت گرد گروہوں میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس کی بنیاد وجہ یہ ہے کہ انتہاءپسندی ایک زہر ہے جو بہت تیزی سے پھیلتا ہے لیکن اسے جسم سے نکالنے کے لئے طویل اور جاں گسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

 اس صورت حال میں جب اسامہ بن لادن کی موت کے تقریباً سال بھر بعد امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن یہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی حکومت میں کسی نہ کسی سطح پر کسی نہ کسی کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا، تو ان کی بات کو مسترد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اب یہ اطلاعات کہ ان سرکاری ہرکاروں کی سرپرستی میں ”محفوظ“ رہنے والے لادن کے کمپاﺅنڈ میں پاکستان میں ہی دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی، مزید تکلیف اور تشویش کا باعث ہے۔

 اسامہ بن لادن اور القاعدہ نے امریکہ دشمنی کے نام پر جس طرح عام سادہ لوح مسلمان نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کیا ہے وہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بدنصیبی سے ہم ابھی تک سیاسی طور پر اس رویہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہورہے۔ پاکستان کے سیاستدان اور حکمران مسلسل یہ راگ الاپتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری جنگ ہے۔ لیکن اس جنگ کو لڑنے اور اپنے نوجوانوں کو اس زہر ناک رویہ سے نجات دلانے کے لئے جن تعلیمی، ثقافتی اور ذہنی انقلاب کی ضرورت ہے، وہ ناپید ہے۔

اسی طرح مغرب میں آباد مسلمانوں کی نوجوان نسل میں القاعدہ اور اس کے کارندے مسلسل اثرونفوذ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کبھی یہ کوشش اسلامی شعار کے حصول کے نام پر کی جاتی ہے اور کبھی مغرب سے انتقام کے نام پر۔ مسلمانوں کی وہ نوجوان نسل جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے اثاثہ اور قوت بن سکتی تھی اور ان کی رہنمائی اور قیادت کا فریضہ ادا کرنے کے قابل ہوسکتی تھی، اسے صرف ایک دہائی میں انتشار اور تقسیم کا نشانہ بناکر بے بس اور کمزور کردیاگیا ہے۔

مریکی حکام اگرچہ یہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن جو زہر وہ پھیلا گیا ہے اسے نکالنا انتہائی محنت طلب کام ہے۔ سب مسلمانوں کو اور خاص طور سے دینی اور سیاسی طبقوں کو اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے فروعی اختلافات بھلا کرمسلسل کام کرنا ہوگا۔

اداریہ کاروان

بشکریہ کاروان

http://www.karwan.no/editorials/100/%20%20%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%81%D8%A7%20%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B2%DB%81%D8%B1/

گرگٹ کے  نت نئے رنگ

اقبال جہانگیر

                        القائدہ خونی بھیڑیوں ، ٹھگوں اور  مجرموں کی جماعت ہےجس کی بقا ،پنپنا اور پھلنا پھولنا دوسرے ملکوں میں افرا تفری،  بدامنی ،بد نظمگی ،لاقانونیت  اور قتل و غرت گری  و مار دھاڑ پھیلانے میں مضمر ہے، اپنی ساکھ اور قد اور اعتماد  کو بڑھانے کی غیر متاثر کن  اور بھونڈی کوشیشیں اکثر کرتی رہتی  ہے۔ القائدہ پاکستانی فوجوں کی کاروائی اور مسلسل امریکی و عالمی برادری کی کوششوں و  ڈرون حملوں کے نتیجہ میں  بڑی حد تک عضو معطل ہو کر رہ گئی ہے ۔ القائدہ کے فنڈز کے سوتے  اور نئی بھرتی کے ذرائع بند ہوچکے ہیں اور اسامہ  اور دوسرے بڑے لیڈروں کی ہلاکت کے بعد القائدہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور القائدہ کے مقصد میں لوگوں کی دلچسپی اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ القائدہ کی ناکامی اس ساتھی جماعتوں کی ناکامی و بربادی ہو گی۔

                       القاعدہ کے لیڈر دور دراز علاقوں میں چھپ کر نئے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ القائدہ کے غبارے کی رہی سہی ہوا   عرب سپرنگ نے نکال دی اور عام لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ مسلح جدوجہد کے بجائے پر امن  جمہوری اور سیاسی  عمل کے ذرائع سے جدوجہد ان کو جلد حقوق دلا سکتی ہے۔ اس موقع پر القاعدہ نے رنگ بدلا اور عرب انقلاب کی حمایت شروع کر دی۔ بار بار کی ناکامیوں کے بعد القائدہ  اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ  مسلح جدوجہد کی چونکہ عوام میں پزیرائی نہ ہو رہی ہے لہذا دوسرے طریقے آزمانے میں کوئی مضائقہ نہ ہے اور اس طرح القائدہ اب عوام کے سامنے نئے روپ  و بہروپ میں آنے کی سعی کر رہی ہے۔

                      یہ تو ہم سب کے علم میں ہے کہ القائدہ نے تحریک طالبان ، پنجابی طالبان ،جیش محمد،حرکت الجہاد اسلامی ،حرکت الجہاد العالمی، لشکرجھنگوٰی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے معصوم اور بے گناہ مسلمانوں ، طالبعلموں،اساتذہ،تاجروں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے خون کی ہولی کھیلی، ۳۵۰۰۰ سے زیادہ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دہو بیٹھے اور معیشت کو ۷۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور بندہ مذدور جس کے اوقات پہلے ہی مشکل تھے ان کی زندگی اور  دوبھر ہو گئی۔ مساجد اور بزرگوں کے مزارات کا تقدس اور اسلامی شعار ان بھیڑیوں کے ہاتھوں پامال ہوا اور لوگوں کو مساجد میں بجائے عبادت کے اپنی جانوں کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ اور معاشرہ کا ہر فرد خوف وہراس کا شکار ہو کر حسرت و یاس کی تصویر بن گیا۔

                         القائدہ ، طالبان اور  تمام دوسرے دہشت گردوں کی گرو ہے ،ان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کرتی ہے اور روپیہ پیسہ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں  غیر اسلامی ، خودکش حملوں کی روایت القائدہ کی تربیت سے ہوئی۔ ابھی حال ہی میں القاعدہ نے اپنا قد بڑہانے کی ایک بھونڈی کوشش کی اور اس کے لیڈر ابو یحیی اللبی نے طالبان پاکستان کو ایک میٹنگ میں اکسایا اور بھڑکایا کیونکہ القائدہ کو خطرہ ہے کہ ملا عمر مذاکرات کی راہ اپنا کر افغانستان میں امن کی بات اقدامات کر رہا ہے اور القاعدہ نہ چاہتی ہے کہ وہ ایسا کرے۔  لہذا بقو ل القاعدہ کے ، طالبان کو افغانستان جانا چاہیئے اور افغانوں کی مدد کرنا چاہیئے۔ دراصل اس طرح القائدہ ملا عمر پر دباو  ڈالنے اور بڑھانے کے چکر میں ہے تاکہ وہ بات چیت کے ذریعہ امن کی تلاش چھوڑ دیں۔

                         القائدہ  اور اس کی ساتھی جماعتوں کا ہمیشہ سے اصل مقصد اقتدار  کا حصول تھا  اور اسنے سادہ لوح مسلمانوں کو  پھنسانے کے لئے،  القائدہ اور اس کی ساتھی جماعتوں نےاسلام کا لبادہ اوڑہ رکھا ہےاور یہ نت نئے رنگ میں اپنے آپ کو چھپا کر پیش کرتے رہتے ہیں ۔  القائدہ نے جتنا نقصان اسلام اور مسلمانوں  کو پہنچایا ہے کسی اور نے نہیں۔ القائدہ نے مسلم ممالک میں خانہ جنگی و فرقہ ورانہ  آگ کو بھڑکایا اور خون مسلم ارزان ہو کر رہ گیا،  القائدہ ایک  مجرمانہ سرگرمیوں مین ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور اسامہ ان مجرموں کا سردار تھا۔ اسامہ کے ہلاک کئے جانے پر القائدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے    اور جلد یا بدیر اس کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔

                        اسامہ اور اس کی تنظیم القائدہ کے اسلام اور اسلامی امہ کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ القائدہ  اور طالبان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی جانی و مالی نقصانات  اٹھانا پڑے ہیں، آئیندہ کے لئے القائدہ  ،مسلمانوں اور اسلام کو اپنی عنایات سے باز اور معاف ہی رکھے تو یہ ملت اسلامی کے حق مین بہتر ہے۔ القائدہ نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا اور قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

                     القائدہ ابھی بظاہر  زندہ ہے اور زخمی شیر کی مانند ہے اور خطرناک ہے۔ یہ درست ہے کہ القائدہ کے جنگجو اور دوسرے لیڈر اور ساتھی جماعتیں پژمردہ،   پست حوصلگی اور انتشار کا شکار ہیں اور اپنی پناہ گاہوں مین دبکے بیٹھے ہین اور پکڑے جانے کے خوف سے نئی پناہ گاہوں کی تلاش میں  رہتے ہیں مگر یہ نئی  مکروہ منصوبہ بندیوں میں ہر دم مصروف رہتے ہیں اور اپنے آپ کو دوبارہ منظم کرنے کے طریقے سوچتے رہتے ہیں۔

                 عرب سپرنگ سے سبق سیکھنے کے بعد القائدہ نے اپنا رنگ بدل لیا ہے  اور یہ بھیڑیا ، اب میمنے کے لباس و روپ میں اپنے آپ کو متعارف کرانے کی سعی کر رہا ہے کیونکہ  القائدہ سمجھتی ہے کہ لوگ القائدہ کی اصلیت جان و پہچان چکے ہیں۔  اور ہو سکتا ہے کہ القائدہ اپنے آدمیوں کو مختلف مزدور یونینوں، سٹوڈنٹ یونینوں اور پارٹیوں  اور سیکورٹی اداروں میں داخل کر دے  اور ان یونینوں ، انجمنوں ،  پارٹیوں  سول و سیکورٹی اداروں پر قابض ہونے کی کوشش کرے اور جلسوں، جلوسوں مظاہروں اور دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملک بھر  اور معاشرہ میں افراتفری اور غیر یقینی سیاسی و معاشی صورتحال   پیدا کر کےحکومتوں اور ملکوں کو عدم اتحکام سے دوچار کر دے اور اس صورت میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہو گا۔

                   پاکستان کی موجودہ سیاسی ، معاشی  اور معاشرتی صورتحال القائدہ  کے منصوبہ جات کی  تکمیل میں بڑی ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے اور القائدہ سب سے پہلے پاکستان کو تختہ مشق بنا سکتی ہے۔ لہذا اس صورتحال کا ادراک کرتے ہو ئے تمام لوگوں اور پاکستانی قوم کو ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم القائدہ کے طور طریقوں اور اصل چہرہ  کوبا آسانی  پہچان و شناخت کر سکیں اور اس کے فریب اور دھوکہ دہی میں نہ آئین اور اس کے مضموم عزائم کو عزم صمیم سے ناکام بنا دیں۔

۔   مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جا سکتا۔

اولیاء اللہ کےمزاروں پر دھماکے

اقبال جہانگیر

          یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطے میں ان نفوس قدسیہ کا وجود ﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار سے سرانجام دیا۔ انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔ ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے لیکر حضرت معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کی لہر نے اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ پہلے بازاروں ، سرکاری دفاتر ، مساجد پر بم دھماکے ہوتے تھے اب کچھ عرصے سے اولیا اکرام اور بزرگان دین کے مزاروں پر بم دھماکوں کو سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جس سے عوام کی بےچینی اور خوف ہراس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مزاروں پر ہونے والے ان بم دھماکوں کے باعث عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کون سی ایسی جگہ ہے جو دہشت گردی سے محفوظ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مساجد،عبادتگاہوں،نماز عید کے اجتماعات،قبائلی جرگوں،زيارت گاہوں حتٰی پبلک مقامات پر دھماکے اور حملے کئے ہیں۔یہ دھماکوں کے ذریعے ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں،لیکن اس طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے حکومتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔یہ بات یہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ دہشت گردوں نے 36مزارات کو خودکش حملوں اور دھماکوں کا نشانہ بنایا اور چھ دربار صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور 200 علماء و مشائخ نے شہادت پائی۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات امن کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ پتہ نہیں ان طالبان دہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے آٹھ مزاروں کو اپنےحملوں کا نشانہ بنایا جن میں لاتعداد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔طالبان کے مظالم کی مذمت نہ کرنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتیں یا تو طالبان سے خوفزدہ ہیں یا پھر ان کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھے ہوئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے لیے عوام کی حمایت ایک قیمتی اثاثہ ہونی چا ہیے جبکہ بازاروں ، مساجد اور مزارات جیسے عوامی مقامات پر خود کش حملے،تحریک طالبان کو یقینی طور پر عوامی نفرتوں کا ہدف بنارہے ہیں۔ اگر پاکستانی طالبان کچھ بھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں تو وہ ایسی کارروائیاں سے اجتناب کریں۔ طالبان کی یہ کارواءیاں ان کی نام نہاد جدوجہد کے لیے زہر ہلاہل ثابت ہوسکتی ہیں بلکہ ہو رہی ہیں۔ گورنمنٹ کالج، حیدر آباد میں اسلامیات کے استاد پروفیسر ذکاء اللہ شیخ نے کہا کہ گزرتے ہوئے سالوں میں پاکستان میں مقدس مقامات پر حملے کرنے کا بنیاد پرست نظریہ فروغ پا رہا ہے۔ بعض مسلکوں کے نزدیک قرآنی آیات کی تشریح کے مطابق، مخالف نظریات کی تمام مذہبی علامات شرک کی نشانی ہیں۔ شیخ نے کہا کہ طالبان ان مقدس مقامات کی بے حرمتی کے ذریعے مذہبی رہنماؤں کی تشریح میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں. انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن ولیم صادق نے کہا کہ القاعدہ سے منسلک طالبان ملک میں مساجد اور دیگر مقدس مقامات کو بے رحمی سے نشانہ بناتے ہیں جس کا مقصد نہ صرف اپنے مخالفین کو ہلاک کرنا بلکہ اقلیتوں کو ہدف بنانا بھی ہے۔ ان تمام واقعات میں سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ 19 مارچ 2005 کو بلوچستان کے شہر جھل مگسی میں پیر رکھیل شاہ کے مزار پر کیا گیا جس میں ایک خودکش بمبار نے 36 افراد کو ہلاک کر دیا۔دہشت گردوں اور انتہاپسندوں نے مزاروں کو متعدد بار نشانہ بنایا۔ ۲۷مارچ ۲۰۰۵ کو درگاہ بری امام،اسلام آباد کو ہدف بنایا گیا ،اس حملے میں بیس افرادجان بحق اور بیاسی زخمی ہوئے۔ پانچ مارچ دوہزار نو کو پشاور میں نامعلوم افراد نے پشتو کے ممتاز اور مقبول صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے سات اکتوبر دوہزار دس کو کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر دو خودکش حملوں میں دس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے اور اب پچیس اکتوبر دوہزار دس کو پاکپتن میں حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر کے مزار پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں سات زائرین جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوئے۔ یکم جولائی دوہزار دس کو لاہور میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر خود کش حملہ ہوا جس میں سینتالیس افراد شہید ہوئے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کے یہ بیانات کہ ایسی کارروائیوں سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔”یہ کارروائی غیرملکی ایجنٹوں کی ہے،ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، ہم عوامی مقامات کو نشانہ نہیں بناتے۔ ہمارے اہداف بالکل واضح ہیں عین اس حکمت عملی کے مطابق ہیں جو اس تحریک کی حقیقی اور عملی ضرورت ہے جبکہ اس کی جانب سے عوامی مقامات ، مساجد، بازاروں اور مزارات کو نشانہ بنانے کا مطلب اپنے پیروں پر آپ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ اس تناظر میں کراچی کے سانحہ کے فوراً بعد برطانوی نشریاتی ادارے سے، احسان اللہ احسان کے نام سے تحریک طالبان پاکستان کے نائب ترجمان کی حیثیت سے بات کرنے والے شخص کے بیان کو دیکھا جائے تو وہ اعظم طارق کے موقف کے صریحاً منافی نظر آتا ہے۔ نشریاتی ادارے کے مطابق اس شخص نے اس کے ایک کارکن کو فون پر بتایا کہ ”یہ دھماکے تحریک طالبان پاکستان کا کام ہیں اور وہ ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بریلوی مسلمان طالبان کے مخالف ہیں اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا۔“اس سے واضح ہے کہ اس کا مقصد دیوبندی و بریلوی کشیدگی پیدا کرنا ہے۔ مزید بران فضل مسعود حقانی، تحریک طالبان کرم ایجنسی،جو ابھی تحریک طالبان سے علیحدہ ہوئے ہین، نے تحریک طالبان کی کھلی منافقت کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیائے اللہ کی تبلیغ اور حسن کردار سے پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار اور مقابر صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ایمان عقیدے اور یقین کے مطابق ان مزاروں پر حاضری دیتے اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں جنہیں اس مسلک سے اختلاف ہے وہ بھی ان ہستیوں کا دلی احترام کرتے اور ان کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں۔ سیکڑوں سال سے اس پر عمل ہورہا ہے اختلاف رائے کے باوجود اس پر کوئی جھگڑا یا خونریزی نہیں ہوئی۔ آج اگر اولیااللہ کے درباروں پر حملے ہورہے ہیں تو ان میں پاکستان کے داخلی حالات اور خارجی عناصر کے عمل دخل کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ حضرت عبداللہ شاہ غازی حضرت داتا گنج بخش حضرت بابا فرید شکرگنج اور بعض دوسرے اولیاء اللہ کے مزاروں پر اس نوعیت کے انتہائی المناک واقعات ظہور پذیر ہوچکے ہیں جو اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ ان کے پیچھے ایک باقاعدہ سازش کارفرما ہے جس کا مقصد ملت اسلامیہ میں اتحاد و یگانگت اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام دشمن قوتوں نے اتحاد بین المسلمین کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ہردور میں فتنہ پروری کی ہے۔ پہلے مسلمانوں میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کر انہیں آپس میں لڑانے اور امت مسلمہ کی قوت توڑنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس مقصد میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہ ہونے پر اب انہوں نے دوسرے فقہی مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے مذہبی جماعتیں یہ کہتی ہے کہ اس طرح کی دہشت گردانہ کاروائیاں مسلمان نہیں کر سکتے،لیکن جب طالبان ان کاروائیوں کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں تو ان کو چپ لگ جاتی ہے۔پاکستان کی مذہبی جماعتیں منافقت کرتی ہیں۔طالبان کی مدد کرتی ہیں اور کھل کر ان کے بارے میں اپنے موقف کا اظہار نہیں کرتیں۔ جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے رہنما ان دہشت گردانہ کاروایئوں اور ان کے ذمہ داروں کی مذمت نہیں کرتے۔

در حقیقت صوفیائے کرام کی تعلیمات تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ ہم سب لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

خودکش حملے حرام ہیں

شمالی وزیرستان ایجنسی کے مذہبی اسکالرز اور علماء نے علاقہ میں دہشت گردی کی تمام قسم کی کارروائیوں کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود کش حملے اسلام میں حرام ہیں۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کے 300 کے قریب ممتاز مذہبی اسکالرز اور علماء کا ایک اجلاس میر علی تحصیل میں مدرسہ نظامیہ میں ہوا۔ اجلاس میں دہشت گردوں کو علاقہ میں دہشت گرد کارروائیوں سے خبردار کرتے ہوئے خود کش بمبار کو بھرتی کرنے اور ان کی تربیت کرنے میں ملوث تمام افراد کی مذمت کی گئی۔ اجلاس میں غیر ملکیوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ اپنی پرتشدد سرگرمیاں روک دیں کیونکہ وہ صرف پرُ امن طریقہ سے ہی شمالی وزیرستان میں رہ سکتے ہیں۔ اجلاس میں دہشت گردی کی ہر قسم کی سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

http://search.jang.com.pk/search_details.asp?nid=537955

                             یہ بڑا اچھا اور خوش آیند اقدام ہے اور تمام علما اکرام اس جرات پر صد مبارکباد  و تحسین کے مستحق ہیں۔ علما کے ان اقدام سے شمالی وزیرستان  میں  دہشت گردی کا قلع قمع کرنے مین بڑی مدد ملے گی۔

                                                     یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا ، نا ممکنات میں سے ہے۔ لہذا  جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔

اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہیں۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔

یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور  پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے  پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔

                         اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ  گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں اور مسجدوں ،خانقاہوں و تعلیمی ادوروں کو تباہ کرتے ہیں، عبادت گزاروں کو  مساجد میں قتل کرتے ہیں اور چلے ہیں اسلامی نظام نافذ کرنے۔ طالبان کا یہ دعوی انتہائی مشکوک ہے۔

                       کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

اللہ تعالہ فرماتے ہین:

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

       کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵) وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔ تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔ ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔” مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔ ” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”

                مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑہکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

                         غیر ملکی جہادی فاٹا کے علاقہ کا سکون غارت کر رہے ہین۔ پاکستان مین مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ میں قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے  قبائلی معاشرہ  کی ساخت کو  کمزور کر رہے ہیں اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں۔  بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہیں۔ القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی  دہشت گردوں کو عسکری تربیت و  پناہ مہیا کر رہے ہین۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیرستان مین دہشت گردی کے ۹  تربیتی کیمپ ہیں جہان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔  میر علی ،وزیرستان کے ایک کیمپ مین سنگین خان کمانڈر   کی زیر نگرانی،  ۳۵۰ بچے ،خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

                        ہمارے دشمن کو ہماری ہی صفوں سے حمایت اور تقویت مل رہی ہے‘ جس کا وہ خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں ،سیاست اور میڈیا میں جو لوگ دانستہ یا نادانستہ دہشت گردوں کی حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہا‘ تو وہ خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ہماری سلامتی ‘ ہماری مسلح افواج کے ساتھ ہے۔ ہماری بقا کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ ہماری صفوں میں انتشار دہشت گردوں کے حوصلے اور طاقت میں اضافہ کرتا ہے.

                             جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔

                         طالبان نے ملا عمر کی بیعت کی ہوئی ہے،ملا عمر پاکستان پر حملوں کو  برا سمجھتے ہین مگر پاکستانی طالبان ملا عمر کی بیعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان مین معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہین۔

رسول کریم نے فرمایا کہ جنگ کی حالت مین بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے۔ ویسے طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک  اور غیر شرعی ہے۔ مزید بران یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے۔

                            دہشت گردوں نے ہمارے ملک  کو جہنم بنا دیا۔  40 ہزار سے زیادہ لوگ مرگئے ۔ کاروبار  اجڑ گئے۔  بازاروں اور شہروں کی رونقیں  ختم ہوئیں۔  عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا اور ہم سب حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ  گئے ہین۔ دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود  کو تباہ کرکے رکھ دیا اور  ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔ ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیا اور تو اور داڑھی اور پگڑی والے بھی محفوظ نہ ہیں ۔ دہشت گردی ایک بہت بڑا ناسور ہے جس کے مقابلہ امت مسلمہ متحد اور منظم ہو کر مشترکہ طور پر  ہی کر سکتی ۔ پاکستان میں موجودہ دہشت گردی کے واقعات نے لوگوں کو ب بے حال،بے قرار اور ے سکون کردیا ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے  کہ تمام پاکستانی ، قائد کے فرمان کے مطابق اتحاد،یقین محکم اور عمل پیہم پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ  عمل و کوششوں سے دہشت گردی کعوشکست فاش دیں۔

مجھے ہے حکمِ اذان لا الٰہ الا اللہ

اقبال جہانگیر

                      اگرچہ پاکستان ایک ناکام ریاست نہ ہے مگرطالبان اور القائدہ کی مسلسل اور بے رحمانہ دہشتگردی اور پے در پے خودکش حملوں  کی وجہ  سے پیدا ہونے والی امن و امان کی صورتحال اور ان حملوں سے ہونے والے اقتصادی نقصانات اور افغانستان مین جاری  ۱۰سالہ جنگ  نےپاکستان کے وجود کو حقیقی خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور ہم ناکام ریاست بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔پاکستان اس وقت تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑا جہاں اک معمولی سی لغزش ،پاکستان کے وجود کو  قصہ پارینہ اور تاریخ کا حصہ بنا سکتی ہے۔

                       سالہا سال کی دہشت گردی  اور حالیہ سیلابوں نے ملکی اقتصادی حالت کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے اور ہم اقتصادی ترقی کی دوڑ میں بیسو ں سال پیچھے لڑھک گئے ہیں۔ دہشت گردی اور خودکش حملوں  اور سیلاب سے ہونے والے بے پناہ جانی و مالی نقصان نے پاکستانی عوام کو ایک صدمےاور بے یقینی کی حالت سے دوچار کر دیا ہے.

                        دہشت گردی،بموں کے دہماکے  اور خودکش حملے روزانہ کے معمول بن کر رہ گئے ہیں  اور دہشت گردی کے ماہرین کے مطابق پاکستان دنیا بھر مین  خودکش حملوں کادارالحکومت بن گیا ہے ۔ ۲۰۱۰ مین  ۵۲خودکش دہماکوں/حملوں سے ۱۲۲۴ معصوم جانیں ضاءع ہوئیں اور  ۲۱۵۷ زخمی ہوئے اور ۲۰۱۰ پاکستان کا خونی سال بن گیا۔ گذشتہ سالوں میں ہونے والے خودکش حملوں کے نقصانات کی تفصیل کچھ یوں ہے:

Total Number of Suicide Attacks Civilians SFs Militants Total
2007 58 552 177 58 787
2008 59 712 140 65 917
2009 80 735 196 87 1018

ذرائع : SATP  اعدادو شمار

کب تک ہم اپنے ملک کے بے گناہ معصوم نوجوانوں،  عوتوں ،بچوں اور بزرگون کو ان دہشت گردوں /خودکش حملہ آوروں کے ہاتھوں مرتا دیکھہ کربے بسی سے خون کے آ نسو بہاتے ر ہینگے؟یہی دین فروش اور انسانیت دشمن دہشت گرد ہین  جنہوں نے مسلمانوں کی ایک اکثریت کو اپنی دہشت گردی سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اللہ تعالہ فرماتے ہیں:

اور جو کسی ایمان والے کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس قاتل کی جزا جہنم ہے جہاں وہ ہمیشہ ہی رہے گا اور اُس پراللہ کا غضب ہے اور اللہ نے اس پر لعنت کی ہے اور اللہ نے اُس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے)سورت النساء/ آیت 93,

                          علاوہ ازین طالبان اور دیگر کالعدم جماعتوں کے  فرقہ وارانہ تشدد کی عفریت سے اقلیتیں ،شیعہ مسلمان ،مساجد اور صوفیاء اکرام کے مز ارات بھی  محفوظ  نہ ہیں۔  ملک میں القاعدہ ، لشکر جھنگوی ، تحریک طالبان پاکستان اور سپاہ صحابہ مل کر دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہیں اور ایٹمی پاکستان کو  دشمن کی ایماء پرغیر مستحکم کرنے میں لگے ہوئے  ہیں۔ طالبان ملک دشمنی میں اس حد تک بڑہ گئے ہین کہ پاکستان کے دشمنوں سے مالی اور دوسری امداد لینے مین عار نہیں محسوس کرتے، یہ پاکستان دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟

علاوہ ازین طالبان آئے دن طلبہ و طالبات کے سکولوں کو صوبہ خیبر پختو نخواہ  مین بڑے رحمانہ طریقے سے تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں  اور وطن دشمنی اور ناعاقبت اندیشی میں اس کے عظیم نقصانات سے آگاہ نہ ہیں۔  آج ہی ان ظالموں نےرسالپور میں گرلز پرایمری سکول بموں سے اڑا دیا ہے۔

 پاکستان جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے، گوناگوں پیچیدہ مسائل میں بری طرح گھرا ہوا ہے، جن کا حل مستبل قریب میں حل ہوتا نظر نہیں آتا۔

                      دہشت گردی  اور خودکش حملوں کا عذاب  پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات قابو سے باہر ہو گئے ہین۔ گذشتہ سال کی ایک رپورٹ کے موجب ملک میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔دسمبر کے پہلے ہفتے تک ۱۱۹۰ افراد ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ہوئے۔ کراچی میں فرقہ وارانہ وجوہات کے علاوہ لسانی اور سیاسی وجوہات پر بی لوگوں کا قتل ہو رہا ہے۔ کراچی میں ریاست کی عملداری، عملی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں  پولیس کے زیر استعمال اسلحہ سے بہتر اسلحہ دہشت گردوں کے زیر استعمال ہے اور  یہ اسلحہ ان کو بآسانی دستیاب ہے۔

                      ملکی معاشی ترقی رک گئی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ قر ضوں کا بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔ ۲۰۱۰ مین غیر ملکی سرمایہ کاری مین 54.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی  ۔ افراط زر ۲۰۱۰ مین15.48 فیصد رہا اور بیروز گاری کی شرح مین اظافہ ہوا۔بے روز گاری کی شرح جو ۲۰۰۹ مین 11.2 فیصد تھی بڑہ کر ۲۰۱۰ مین 14.20 فیصد ہو گئی۔         پاکستا  ن عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں اور سود  کی ادائیگی کے لئے اپنی معیشت کا نو ئے فیصد حصہ اپنےقرضوں کی ادائیگی اور اسلحے کی خریداری پر خرچ کرتا ہے۔ پاکستان کے قرضوں کا حجم ۶۴ ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اور پاکستانی معیشت دیوالیہ پن کی سر حدوں  کو چھو رہی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے  پاکستان کی معیشت کو  اب  70 ارب ڈالر کو نقصان ہوا۔ اس پہ سونے پر سہاگہ بےجامہنگائی ،لا قانونیت ،غنڈہ گردی  اور بڑہتے ہوءے افراط زر نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ معاشی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کی ملک کے استحکام اور سلامتی کو چدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ گیلپ اور پیو سروے کے مطابق بے شمار معاشی مشکلات منہ کھولے کھڑی ہیں اور عوام کی اکثریت  معاشی حالات کے بارے میں نا امید ہے۔

 "ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“

                       کچھ  دینی  و سیاسی راہنما اور دینی  وسیاسی جماعتیں کھلم کھلا طالبان کی حمایت اپنے  وقتی مفادات و مقاصد کی تکمیل کے لئے کررہی ہیں ،یہ جانتے اور بوجھتے ہوئے  بھی کہ طالبان اور القائدہ کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور خودکش حملے،کھلم کھلا قران و حدیث اور اسلامی تعلیمات    وملکی قوانین  کے سراسر منافی ہیں اور  ملکی مفادات کے  بالکل خلاف ہیں۔ کچھ لوگوں  میں  اپنی جان کے خوف اور طالبان کے ڈر کی وجہ سے یہ ہمت نہ ہے کہ وہ طالبان کی مخالفت کریں۔حالانکہ پاکستان کے اندر جتنی بھی پرتشدد کارروائیاں ہورہی ہیں وہ جہاد نہیں بلکہ فتنہ ہیں۔جب تک علماء جہاد کا صحیح معنی  و مفہوم لوگوں کے سامنےپیش نہیں کریں گے لوگوں کو جہاد کے بارے میں پتہ نہیں چلے گا۔

                   جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔

                    اسلام جبر کا نہیں امن محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اور       دہشت گردی مسلمانوں کا کبھی بھی شیوہ نہیں رہا۔ جو لوگ حالیہ دور میں اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر دہشت گردی کر رہے ہیں وہ تو بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے ہیں اور  اسلام دشمن ہین ،ہمین ان کی چالوں مین نہ آنا چاہیے۔

                     طالبان،سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور القائدہ سے ملکر  پاکستان بھر مین دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں۔یہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہین اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر  آ گ اور بارود برساتے ہین اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہین۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہین۔  ان کی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے کئی عورتوں کا سہاگ لٹ گیا،کئی بچے یتیم ہو گئے اور کیئی بہنیں اپنے بھائیوں سے بچھڑ گئیں اور  لوگ اپنے پیاروں سے جدا ہو گئے۔  آ دمی کے بغیر ایک خاندان کی کس طرح کفالت کی جاسکتی ہے؟

  امام ابن کثیر  "لا اکراہ فی الدین” کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ” کسی شخص کو دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو کیونکہ وہ اس قدر بین و واضح ہے اور اس کے دلائل و براہین اس قدر روشن ہیں کہ کسی شخص کو اس میں داخل ہونے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ نے جس شخص کو ہدایت دی ہو گی اور جس کا سینہ قبول حق کے لیے کھول دیا ہو اور جس کو بصیرت کا نور عطا کیا ہو وہ دلیل واضح کی بنا پر خود اسے اختیار کرے گا، اور جس کی سماعت و بینائی پراللہ نے مہر کر دی ہو اس کا مارے باندھے دین میں داخل ہونا بیکار ہے۔” اسلام دنیا میں حسن اخلاق ،نیکی اور اچھے کردار کی وجہ سے پھیلا ہے نہ کہ تلوار کے زور پر۔  تاہم اسلام کی تلوار  ان لوگوں کی گردنیں کاٹنے میں ضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا  اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اسلام اولیاء کے حسنِ احوال اور حسنِ سلوک کے باعث پھیلا ہے۔۔ طالبان اور القائدہ موت کے فرشتے بن کر  معصوم انسانوں کا ناحق خون بہانے میں دن رات مصروف ہین اور غیر مسلموں کو اسلام سے دور رکھنے میں خاصے کامیاب ہیں۔اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے طالبان اسلام کا نام بدنام کر رہےہین۔یہ کیسا جہاد ہے جس مین مسلمانوں کا خون ارزاں ہوگیا ہے اور جس  میں مسلمانوں اور پاکستان کے قیمتی وسائل اور اثاثہ جات کو بے رحمی سے تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔طالبان اور القائدہ  پر   اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔

                     تمام پاکستانی اور مسلمانوں کو من حیث القوم اور انفرادی حثیت  میں ان اسلام اور انسان دشمن قوتوں کے خلاف جو پاکستا ن کو غیر مستحکم کر رہے ہین، ڈٹ کر اور بے خوف ہو کر مقابلہ کرنا ہے۔ کیا ہم جنگ بدر اور کربلا کے عظیم مقاصد کو بھول گئے ہیں۔ مسلہ صرف یقین کا ہے اور  حضرت علی   کا قول ہے کہ یقین صرف اور صرف علم سے حاصل ہوتا ہے۔چونکہ ہم حق پہ ہین اور فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے۔ ہمیں حضرت ابو بکر کی طرے ان اسلام کے دشمنوں کے خالاف انتہائی اقدام کرنا ہوگا۔

ہمیں اپنی ساری توانائیاں فتنہ اور فساد کے  فروغ کی ببجائے ملک کی تعمیر اور ترقی کی طرف خرچ کرنی چایئے اور پیارے پاکستان کو  ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنانے مین کوئی کسر نہ اٹھا رکھنی چاہیئے۔

                  ہم سب کو طالبان اور القائدہ کی بیخ کنی کے لئے حکومت کی مدد کرنی چاہیے تاکہ اس فتنہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے اور لوگوں کے مایوس اور مر جھائے ہوئے چہروں پر  امید اور خوشی کی لالی کھل اٹھے۔  ہمیں اپنی میعشت کو پھر سے مضبوط خطوط پر استوار کرنا ہو گا تاکہ خوشحالی کو دور دورہ ہو۔

مولانا ظفر علی خان نے کیا خوب کیا تھا۔

؎ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیا ل آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

جہاد ، طالبان کا کاروبار

اقبال جہانگیر

                                     جہاد،  در اصل طالبان کا کاروبار ہے مگر یہ غیر قانونی،غیر اخلاقی اور شریعت کے منافی  کاروبار ہے۔ اسلامی شریعہ کی رو سے جہاد،  اللہ کی راہ مین ،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے  مگر پاکستان میں طالبان   اپنے خلاف فوجی کاروائی کی وجہ سے ،حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف جہاد میں بقول انکے مصروف  ہیں اور یہ جہاد نہ ہے۔ طالبان جہاد کی آڑ میں ایک شرمناک کھیل ،کھیل رہےہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ایک اسلامی ملک اور مسلمانوں کے خلاف جہاد کا خیال ہی خلاف شریعہ، احمقانہ  ،قابل اعتراض و ناقابل عمل ہے۔ طالبان  قران اور اسلام کی غلط تشریحات کر کے  لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

                               دہشت گرد تنظیم کا انتظام و انصرام بھی ایک کاروبار کی طرح ہی منظم کیا جاتاہے اور چلایا جاتاہے۔  جس میں پیسے اور افرادی  قوت کی اہمیت    کلیدی ہوتی ہے۔ یہ سارا پیسے کا کھیل ہے اور   اس میں روپے   پیسے کی حثیت   کلیدی اور لائف لائن کی سی ہے۔

                              طالبان کے اس کاروبار کے اغراض و مقاصد، عام کاروبار کے اغراض و مقاصد کے برعکس غیر قانونی  غیر اخلاقی اور اسلامی شریعہ کے منافی ہیں اور  ان میں  پاکستانی مسلمانوں کی قتل و غارت گری،حکومت وقت  سے سرکشی و بغاوت،جنگ و جدال، دہشت گردی، پاکستان کو کمزور کرنے کی دشمن کی سازشوں کا ساتھ دینا،بنک ڈکیتیاں و  ڈاکے ڈالنا اور ایسا کرنے کے لئے  بلیک نائٹ گروپ تشکیل دینا، اجرتی قتال،  اغوا براءے تاوان،راہزنی اور لوٹ مار  و بھتہ خوری  جیسے  غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کام شامل ہیں۔ لہذا روئے زمین پر کوئی ذی شعور حکومت اس طرح کے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کاروبار کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔

                                 تحریک طالبان پاکستان ملک بھر میں خود کش بمباروں و دہشت گردوں، معاونت اور سہولیات فراہم کرنے والوں، ہمدردوں اور ساتھیوں کے ایک انتہائی مضبوط و منظم اور خطرناک  نیٹ ورک  چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کو  طالبان کی اتحادی و ہم خیال دوسری جہادی تنظیموں بشمول القائدہ  اور ان کے کارکنان کی   عملی اعانت او ر مدد و حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس تمام نیٹ ورک کو چلانے اور افرادی قوت کی بھرتی وغیرہ  کیلئے روپے و پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو طالبان  لاتعداد غیر قانونی و غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ  ذرائع سے اکٹھا و  حاصل کرتے ہیں۔

 اس کے علاوہ طالبان نے  لشکر خراسان  تشکیل دے رکھا ہے جس کا مقصد  اپنے طالبان پر نظر رکھنا و دشمن کے جاسوسوں کو پکڑنا  اور  بقول انکے مشکوک قبائلیوں پر نظر رکھنابتایا جاتا ہے ۔ اس لشکر کے لوگوں نے محض شک کی بنا پر لاتعداد لوگوں کو  سمری انداز میں قتل کر دیا ہے اور قبائلی علاقوں میں  لوٹ و دہشت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ تقریبا ۳۰۰ طالبان،ازبک ،عرب و پنجابی طالبان اس گروپ کے ممبر بتائے جاتے ہیں اور اس گروپ کو موجودہ سربراہ ایک سعودی دہشت گرد  ہے۔  اس گروپ نے مملکت پاکستان کے اندر حکومت در حکومت قائم کر رکھی ہے جو کی ناقابل برداشت ہے۔

 بیت اللہ  محسود  اپنے شیطانی ،طالبانی نیٹ ورک کو چلانے پر تقریبا ۴۵ ملین ڈالر سالانہ خرچ  کیا کرتے تھے جس سے وہ ہتھیار و آلات  اور گاڑیاں خریدتے اور زخمی دہشت گردوں کے علاج معالجہ اور ہلاک شدگان کے ورثا کو رقم ادا کرتے اور دہشت گردوں کو تنخواہین ادا کرتے تھے، جو کہ ۱۷۰۰۰ روپے ماھانہ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناجائز ذرایع سے اکٹھا کیا ہوا   بہت سا روپیہ پیسہ  باہر کے ملکوں میں  کاروبار و منافع کیلیئے بھی لگائے رکھا۔ دوسرے طالبان لیڈرز جو روپیہ پیسہ  خرچ کرتے ہین وہ اس  رقم کے علاوہ ہے۔

ایک اظلاع کے مطابق  اب طالبان نے خودکش حملے کرنے والوں کی ادائیگی مین ۳ گنا اضافہ کر دیا ہے اور اب ان  لوگوں یا ان کے لواحقین کو کو فی کس ۹۰ ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔

                             طالبان کے مالی وسائل کے  لا تعداد ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر ان سے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے  چندے وعطیات، زکواۃ ، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوا اور لوٹ مار  و  ڈاکہ زنی  و بنک ڈکیتیاں جو طالبان  ،  بلیک نائٹ گروپ کے ذریعہ پاکستان بھر میں کرتے ہیں، اور بلیک نائٹ گروپ براہ راست حکیم اللہ محسود و  ولی الرحمن کی نگرانی میں کام کرتا ہے، معروف کاروباری،غیر ملکی اور حکومتی افراد کا اغوا برائے تاوان ( شہباز تاثیر کو طالبان نے اغوا کر رکھا ہے)اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میں کاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم اور القائدہ سے ملنے والی رقوم شامل ہیں ۔  اس کے علاوہ اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی سامان اور ہتھیاروں کی چوری، عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہیں۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ 2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر مین فروخت کئیے۔

                          تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور بلوچستان میں  درآمد اور برآمدہونے والی منشیات سے بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔ وزیر اور محسود قبائل کے دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے پشتون نژاد باشندے درحقیقت ملک بھر میں اسلحے کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ وہ درہ آدم خیل اور اورکزئی ایجنسی میں تیار ہونے والے سستے اسلحے  و غیر ملکی اسلحہ کا کاروبار کرتے ہیں۔  اس کاروبار کا سارا منافع طالبان کو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں طالبان پاکستان کے دشمنون سے مدد لینے کو عار نہیں سمجھتے اور اس کا اعتراف خود حکیم اللہ محسود نے کیا تھا۔

                              قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلٰی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی بیس فیصد آمدنی کا ذریعہ اغوا اور بینک ڈکیتیوں سمیت جرائم ہیں جبکہ وہ پچاس فیصد آمدنی عطیات اور بھتہ خوری اور بقیہ تیس فیصد منشیات کی تجارت سے حاصل کرتی ہے۔ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ ۲۰۰ ملین ڈالر  سالانہ لگایا گیا ہے جو کہ طالبان کی آمدنی کی ریڑہ کی ہڈی کی حثیت رکھی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان  افیون،  ذمرد  و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو  کے غیر قانونی کاروبار  اور اشیا ءکی سمگلنگ مین بھی ملوث ہین۔ طالبان کافی عرصہ سے  صوبہ سرحد او فاٹا  کے کچھ حصہ مین لکڑی کی تجارت کو کنٹرول کر رہے ہین اور جانوروں کی سمگلنگ  سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہین۔قبائلی علاقوں میں سامان کی ترسیل قبائل کے ہی مرہون منت ہے،قبائلی اشیاء کی ترسیل پر مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر لوگ جو کاروبار سے منسلک ہیں وہ عسکریت پسند یا طالبان کے حامی نہیں ہیں تاہم جو راستے تجارت کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں وہ طالبان کے زیر کنٹرول ہیں جس کی عسکریت پسند راہداری وصول کرتے ہیں۔

فاٹا کے قبائلی علاقوں میں کچھ پیداواری علاقے اہمیت رکھتے ہیں مہمند ایجنسی کو سنگ مرمر کی ایک بہت بڑی صنعت سمجھا جاتا ہے جبکہ شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں جنگلات کی لکڑی کی تجارت نے ان کی معیشت کو مضبوط بنایا ہے۔ سنگ مرمر اورلکڑی کی ترسیل کے لئے طالبان کو بہت زیادہ رقم دی جاتی ہے کیونکہ یہ علاقے طالبان کے زیر اثر ہیں جس کی وجہ سے ان کے خزانے ہر وقت بھرے رہتے ہیں۔

فاٹا کے قبائلی علاقوں میں”حوالہ” نظام بہت مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں انفرادی یا اجتماعی طور پر من مرضی کی رقم بلا خوف و خطر بھجوائی جاسکتی ہے اور تمام کام قابل اعتماد طریقے سے انجام پاتا ہے پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیزجو کہ بذات خود ایک بینکار تھے انکا مانناتھا ہر سال سالانہ5 بلین ڈالرز ملک سے باہر بھجوائے جاتے رہے ہیں۔ایک قومی روز نامے کے اداریے کے مطابق تین قدرتی وسائل قیمتی پتھر، لکڑی، اور سنگ مرمر نے عسکریت پسندوں کی مالی اعانت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

طالبان اپنی آمدنی محصولات ، ٹیکس اور جرمانوں کی صورت میں بھی حاصل کرتے ہیں جو کہ غیر اسلامی سرگرمیوں کے نتیجے میں عائد کیے جاتے ہیں ان میں نوجوان مسلمان مردوں کا داڑھی منڈوانا، زکواة ، مجرمانہ سرگرمیاں اور اس کے علاوہ اغواء برائے تاوان وغیرہ شامل ہیں بعض اوقات تاوان کی رقوم 10 ملین روپے تک بھی وصول کی گئی ہیں۔جان سلیمان کے تخمینے کے مطابق پاکستانی طالبان کا85 سے 90 فیصد کے درمیان محصولات کا انحصار مجرمانہ سرگرمیوں اور منشیات کے کاروبار پر ہے۔

طالبان نے پاکستان شیل اور  پی ایس او سے ۴۰ کروڑ روپیہ بطور تاوان طلب کیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں  تیل کی تنصیبات پر حملوں کی دہمکی دی۔

ایک سوال بہت اہم ہے کہ طالبان  لڑائی کے لئے  اسلحہ کہاں سے حاصل  کرتے ہینا ۔ اسلحہ کی تجارت کمائی کا بہت بڑا ذریعہ تصور کی جاتی ہے۔ قبائل میں لوگوں کی اکثریت اسی کاروبار پر انحصار کرتی ہے ہزاروں لوگ اسلحہ بنانے کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ہتھیاروں کی تجارت درہ آدم خیل جو کہ پشاور اور کوہاٹ کے درمیان ایک چھوٹا سا قصبہ ہے کی مارکیٹ میں کی جاتی ہے اس کے علاوہ سخاکوٹ(مالاکنڈ) باڑہ(خیبر ایجنسی) پشاور کے کارخانوں کی مارکیٹیں میران شاہ(شمالی وزیرستان کی ایجنسی کا اہم قصبہ) اور مہمند ایجنسی اسلحے کی مارکیٹ کے اہم مراکز ہیں۔تاہم چھوٹے پیمانے پر فاٹا کے تمام علاقے اسلحہ بنانے اور اس کاروبار میں اپنا کردار ادا کرنے میں شامل ہیں۔

پاکستان کےبہت سے جرائم پیشہ عناصر،جرائم کرنے کے بعد  قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے ہین جہاں وہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر تنظیمیوں میں شامل ہوئے جو انہیں قتل، اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین وارداتوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تحریک طالبان و دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے ان تنظیموں کے پاس فنڈز کی کمی ہوگئی ہے جسے پورا کرنے کے لیے ان اشتہاری ملزمان کو اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

                             پاکستان مین کوئی دن خالی نہیں جاتا ہو گا جب طالبان یا ان کے ساتھی بہت سے افراد کو اغوا نہ کرتے ہوں گے۔ کراچی اور پشاور اس حوالے سے ابھی تک انتہائی خطرناک اور بدنام شہر ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اپنے زیر اثر علاقوں میں خود کارروائیاں کرتی ہے جبکہ دیگر مقامات پر وہ  دیگر جہادی تنظیموں اور ساتھیوں کی مدد سے سرگرم عمل ہے۔  ایک وقت ، طالبان نے  صوبہ سرحد کے سکھوں سے  ۵۰ ملین روپیہ سالانہ جزیہ طلب کیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت مین سکھوں کے  لیڈر سردار سیاوانگ سنگھ کو قیدی بنا لیا گیا اور سکھوں کے بہت سے گھروں پر طالبان نے قبضہ کر لیا ۔

خیبر ایجنسی کے ایک قبائلی تاجر نے بتایا کہ  طالبان ،افغانستان جانے والے ان ٹرکوں پر حملہ کر کے سامان کو تہس نہس کر دیتے ہیں اور بچا کھچا سامان خیبر ایجنسی کی حدود میں واقع پاک افغان شاہراہ طورخم پر پھینک دیتے ہیں۔ لوٹی گئی اشیاء پاکستان اور افغانستان کے بازاروں میں سر عام فروخت ہو رہی ہیں۔

اسلام آباد کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام کے ایک قریبی  رشتہ دار کو پشاور سے اغوا ہونے کے بعد 50 لاکھ روپے ،تاوان کے عوض رہا کرایا گیا۔ یہی کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ بھی ہوا۔  افغانستان مین پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کو بھی طالبان نے ہی اغوا کیا تھا۔

2008 سے 2009 کے دوران کراچی پولیس نے طالبان کی جانب سے بینک ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سراغ لگایا۔ اکتوبر 2008 میں، اغواکاروں نے فلم پروڈیوسر ستیش آنند کو اغوا کر کے چھ ماہ تک سوات کی تحصیل مٹہ کے نزدیک ایک علاقے میں رکھا۔ ان دنوں یہ علاقہ مولانا فضل اللہ کی زیر قیادت ایک طالبان گروپ کے قبضے میں تھا۔

چوہدری اسلم ،سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کراچی نے بتایا کہ کراچی آجکل لاقانونیت کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر واقعات میں فاٹا کے مختلف علاقوں میں تاوان کی ادائیگی کا سراغ لگایا گیا ہے جس کے ڈانڈے طالبان سے ملتے ہین۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم تحریک طالبان پاکستان کو اپنی عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو چلانے اور تنظیمی انتظام کرنے کے قابل بناتی ہے۔

افغانستان میں 2010ء مین پیدا ہونے والی افیون کی مقدار 3600 میٹرک ٹن تھی لیکن اس سال یہ مقدار بڑھ کر 5800میٹرک ٹن ہو جائےگی جو ماضی میں اس ملک کا خاصا رہی ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق تازہ اندازوں کی بنیاد پر افغانستان سے بین الاقوامی منڈی کو اسمگل کی جانے والی منشیات 2011ء میں ماضی کی طرح ایک بار پھر 90 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے اسے ایک تشویش ناک پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ افغان اکیلے اس صورت حال کو کنٹرول نہیں کرسکتےاس لئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی اُن کی مدد کرنا ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک نمایاں حصہ افغانستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی تخریبی کارروائیوں کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور عسکری تنظیموں کو منیشات سے ہونے والی آمدنی اس سال بڑھ کر 70 کروڑ ڈالر ہونے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ امن وامان قائم کرنے میں مصروف بین الاقوامی افواج انسداد منشیات کی طرف بھی اتنی ہی توجہ دیں۔

نورستان سے پارلیمنٹ کے رکن کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان عسکریت پسند مقامی لوگوں سے زبردستی ٹیکس لیتے ہیں اور پیٹرول اور دیگر اشیاء پر رعایات حاصل کرتے ہیں۔ طالبان کے کنٹرول علاقوں میں اسکولوں اور کلینکوں کو بند کردیا گیا ہے۔

حکیم اللہ محسود اور  القائدہ کے تمام لیڈروں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر     TTP کے سکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں  کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک  و اغوا کئے جانے اور خلاف شریعہ لوٹ مار کو اس بیعت  اور اپنے  جاری شدہ  code of conductکی خلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔ اور  تحریک طالبان پاکستان ، القائدہ کے اشاروں پر پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہین۔ القائدہ شیخ عطیہ اللہ کے بیان کی خلاف ورزی مین مصروف ہے جس مین انہون نے مساجد، سکولوں اور معصوم شہریوں پر حملوں سے منع کیا تھا۔ لگتا ہے یہ سب  شتر بے مہار ہین اور اپنے بیعت کی بھی پرواہ نہیں کر رہے۔

                                اک عجب تماشہ ہے کہ طالبان غیر قانونی،غیر اخلاقی اور  اسلامی شریعت کے منافی، لو ٹ مار سے ، دولت  و طاقت حاصل کرکے ملک مین اسلامی نظام نافذ کرنے کے درپے ہیں اور اکثریت پر ، جو کہ مذہبی رواداری اور بھائی چارے پہ یقین رکھتی ہےاپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان حرام اور حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی غلط طریقوں و خیالات و اقدار پر رکھی گئی  ہے ،   اس عمارت کا انجام کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی غلط اور ناپائیدار  ہو؟

                              بھائیوں اور بہنوں اگر ہمین طالبان دہشت گردوں  اور ان کے تنگ نظری والے فلسفہ کو شکست دینا ہے اور اس  طالبانی عفریت سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرناہے تو ہم سب کو مل کر طالبان کے روپے پیسے کے حصول کے تمام چشموں و سوتوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر نا ہو گا۔ تاکہ نہ ہو گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

(Latest updated)

نماز جنازہ پر خودکش حملہ  اقبال جہانگیر پشاور کے علاقہ بڈھ بیر میں سفن پولیس چوکی کے سامنے قبرستان میں ، جنازے کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجہ میں15افرادشہید اور 30 زخمی ہوگئے جبکہ نماز جنازہ میںشریک ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی خوشدل خان محفوظ رہے اتوار کوبڈھ بیر کے علاقہ ماما خیل میں امن لشکر کے سربراہ کی اہلیہ کی نماز جنازہ کے 10منٹ بعد جب میت کودفنانے کے لیے لے جایا جا رہا تھا تو دھماکہ ہو گیا ایس ایس پی پشاور کے مطابق دھماکہ خودکش حملہ آور نے کیا کیونکہ دھماکہ کی جگہ پر کوئی گڑھا نہیں پڑا ان کاکہنا تھاکہ خوشدل خان نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد روانہ ہو چکے تھے کیونکہ نماز جنازہ مقررہ وقت سے 10 منٹ قبل ہی ادا کردی گئی تھی دوسری جانب دھماکہ کی جگہ پر موٹر سائیکل کے ٹکڑے ملے ہیں جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے میں موٹر سائیکل استعمال کی گئی ہے ۔اے آئی جی شفقت ملک نے بتایا کہ دھماکے میں 6 سے 8 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے ۔ وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ واقعہ میں 10 افراد شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنازے کھلی جگہوں پر ادا کیے جاتے ہیں اور نماز جنازہ کے لیے وقت کا اعلان کیا جاتا ہے اس لیے دہشت گردوں کے لیے ایسی تقریبات میں حملہ کرنا آسان ہوتا ہے اور ایسی تقریبات کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ زخمیوں اور جاں بحق افراد کی نعشوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخمیوں میں سے اکثریت کی حالت تشویشناک ہے ۔ ہسپتال انتظامیہ نے 15افرادکے جاں بحق ہونے اور 32 زخمیوںکی تصدیق کی ہے ۔زخمیوں میں سے اکثر کو سینے اور سر میں زخم آئے ہیں جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری ، وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی اور دیگراعلٰی حکومتی عہدیداروں نے خود کش حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔واقعے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل نے قبول کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈپٹی اسپیکرخوشدل خان حملے کاہدف تھے ۔اب تک اس حملہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۱۷ تک پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے اس واقعہ سے پہلے بھی طالبان جنازوں پر حملے کر کے مسلمانان پاکستان کا بے دریغ خون بہا چکے ہیں۔ یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کے حملوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔ بے گناہ و معصومشہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنااور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدون پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہیدکرنا ، مسلمانوں کے جنازوں پر حملے کرنا ، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کیاسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔ یہ فتنہ پروری اور شرعی لحاظ سےمحاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض ہے۔طالبان انسانیت کے دشمن ہیں جو بے گناہ لوگوں کوقتل کررہے ہیں۔ قران حکیم میں آیا ہے: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32( رسول کریم نے فرمایا کہ جنگ کی حالت مین بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے۔ جنازوں پر حملے کر کے مسلمانان پاکستان کا بے دریغ قتل عام رسول اکرم صلعم کے بیان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان، دہشتستان بن گیا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہماری جنگ ہے کسی اور کی نہیں؟۔ دہشت گردوں نے ہمارے ملک کو جہنم بنادیا۔ 40 ہزار سے زیادہ لوگ مرگئے ۔ سرمایہ اور ذہانتیں ہمارے ملک سے ہجرت کر گئیں۔ کاروبار اجڑ گئے۔ بازاروں اور شہروں کی رونقیں ہم سے جدا ہوگئیں۔ عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا اور ہم سب حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گئے ہین۔کب تک ہم شتر مرغ کی طرح ان روز روشن حقائق سے آنکھیں چراتے رہیں گے؟ طالبان دہشت گردوں کو صرف پاکستانی مسلمان بہن ،بھائیوں کے خون بہانے میں مزہ آتا ہے اور ان کے ہاتھوں نہ تو تعلیمی ادارے محفوظ ہیں نہ ہسپتال ،مساجد اور نہ ہی بررگوں کے مزارات و خانقاہیں اور یہ ہے طالبان کا اصل نام نہاد جہاد۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں ۔ طالبان اسلام کا عظیم نام بدنام کر رہے ہیں۔ یہ نہ تو انسان ہیں اور نہ ہی مسلمانوں والے نام رکھنے کے باوجود، مسلمان ۔ یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلامسے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد جو کہ اللہ کی راہ میں نہ ہے بلکہ بدلہ لینے کے لئے کیا جارہا ہے طالبان صرف مسلمانوں کو ہی مار رہےہیں۔ طالبان اسلامی نظام نافذ کرنے کے دعویدار ہیں مگردن رات قرآنی احکامات و شعائر کا مذاق اڑاتے ہین اور ان شعائر و احکامات کی دہجیان بکھیرتے ہیں۔ طالبان کی ان حرکات سے غیر مسلموں کا اسلام کی طرف رجحان اور مائل ہونا کافی حد تک متاثر ہوا ہے اور وہ اسلام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے طالبان اور ان کے حمائیتوں کو معلوم ہونا چاہئیے کہ وہ اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہے ہیں بلکہ اسلام کے ماتھے کا بدنما داغ ہیں۔ ان کے حمائتی اور علمائے اکرام کیوں خاموش ہیں؟ کیا طالبان کو اپنی موت یاد نہ ہے؟ پاکستانیوں کا عبادت کے لئے مساجد میں جانا ،طالبان کے حملوں کے خوف کی وجہ سے پہلے ہی بندہو گیا ہے ،اب لوگ جنازوں میں شرکت کرنےسے بھی کتارنے لگیں گے۔ جنازوں میں شرکت کرنے کا مقصد ، مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کرنا اور موت کو یاد رکنا ہوتا ہے۔ مرحوم کے لواحقین و اعزا و اقارب سے تؑعزیت کر نا ہوتا ہے اور ہمدردی کا اظہار کر نا ہوتا ہے اور یہ سنت ہے۔ آنحضرت صلعم خود بھی لوگوں کے ہاں جا کر تؑعزیت فرمایا کرتے تھےاور ان کو صبر کی تلقین کرتے تھے۔ فقہاء کے نزدیک فرض نماز جماعت سے ادا کر نا سنت موکدہ ہے تاہم متعداد احادیث میں نماز با جماعت کی تاکید اور فضیلت کے بیان اندازہ ہو تا ہے کہ یہ ایسی سنت ہے جسے بلاعذر ترک کر نا بد نصیبی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حق المسلم علی المسلم خمس:رد السلام،وعیادۃ المریض،واتباع الجنائز، وإجابۃ الدعوۃ، وتشمیت العاطس (صحیح بخاری:۱۲۴۰ ’’مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازہ کے لئے جانا، دعوت قبول کرنا، چھینک کا جواب دینا۔‘‘ طالبان جنازون پر حملے کر کے لوگون کو اسلامی شعائر کی ادائیگی سے روک رہے ہیں۔ اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اسلام اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے ہی حق وحقوق رکھتا ہے اور ان کی جان و مال و عزت کو عزیز جانتا ہے۔ طالبان دہشت گردوں کا ایک گروپ ہے جونفاذ اسلام کی آڑ میں پبلک اور پرائیویٹ املاک کو تباہ کررہا ہےاور بے گناہ اور معصوم عوام اور سرکاری افسران کے قتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کامال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب سمجھتےہیں۔ قرآن حکیم نے ایک انسان کے قتل کو پوری نوع انسانی کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ بغیر کسی جرم کے لوگوں کو انتہائی سفاکانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار دینا کسی بھی مذہب میں جائز نہیں سمجھا جاتا اور اسلام میں تو اس کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا لیکن کچھ لوگ اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب کرنے کے باوجود دہشت گردی کے ایسے مکرو ع اور گھناﺅنے کاموں میں ملوث ہیں جن کا ارتکاب کرنے کے بارے میں کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا۔ القائدہ، جوکے طالبان کے حامی و مددگار ہیں، کے لوگ کیسے سلفی ہیں جو اپنی آنکھوں کے سامنےطالبا ن کے، اس طرح کے غیر شرعی اقدامات و مظالم ہوتے ہوئے دہکھ رہے ہیں اور ٹس سے مسنہین ہو رہے۔طالبان دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔ قبائلی روایات کے مطابق دشمنی بھی اصولوں کی محتاج ہے۔ مساجد و عبادت گاہوں میں دشمنی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتااور نہ ہی مقامی باشندے ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی اور مکتبہ فکر سے ہو، وہ کبھی غیر انسانی و گھناﺅنی حرکت کا تصور کر سکتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان ملک دشمنی میں اندھے ہوکر قبائلی کلچر کی روح کو بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات و نتائج سے بے خبر ہیں۔ لاتوں کے یہ بھوت باتوں سے نہیں مانیں گے ان کو بزور طاقت کے ہی کچلنا ہو گا۔ وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھاہے۔(سورۃ النساء

طالبان کے ہاتھوں مساجد   کی شہادت اور نمازیوں کا قتل

                    مساجد مسلمانوں  کا صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی مرکز بھی ہیں اور   ہمیشہ سے دنیا بھر کے  مسلمانوں کے رابطہ کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں ۔ مساجد کا سیاسی کردار بھی تاریخی لحاظ سے  ابتدا سے اب تک جاری و ساری ہے۔ آ نحضرت صلعم کے دور میں اور بعد کے ادوار میں مسجد نبوی صرف نماز کے لیے استعمال نہیں ہوتی رہی بلکہ اس میں غیر ممالک سے آنے والے وفود سے   ملاقاتیں ہوتی رہیں۔  مسجد نبوی مین مختلف غزوات اور سرایہ کے منصوبے بنے اور صحابہ نے آنحضرت صلعم کی صحبت مین دین اسلام کی اعلی تر بیت حاصل کی۔

قران میں  ارشادہے :

اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے ۔۔۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے ۔ ( سورة البقرة : 2 ، آیت : 114 ) مسجد اللہ کا گھر ہے ۔ مسجد میں اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے ۔ اورمسجد کی اہمیت وخصوصیت کے بارے میں اللہ کے رسول فرماتے ہیں : أحب البلاد إلى الله مساجدها اللہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں ۔ ( مسلم ، کتاب المساجد ، باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح وفضل المساجد ، حدیث : 1560 )

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ {التوبہ18}

 قرآن کریم میں مساجد کی تعمیر کو اہل ایمان کی صفت قرار دیا گیا ہے:

”انما یعمر مساجد اللّٰہ من آمن باللّٰہ و الیوم الآخر و اقام الصلوٰة و اتی الزکوٰة و لم یخش الا اللّٰہ… الخ۔“ (التوبہ:۱۸)

مساجد بنانے والے اور ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے‘ نبی آخر الزمان‘کی ‘زبانی ”اللہ کے پڑوسی‘ اللہ کے اہل‘ اللہ کے عذاب کو روکنے کا سبب اور اللہ کے محبوب“ کا خطاب پانے والے ہیں۔

خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے

مسجد کو شریعت میں اللہ تعالی کا گھر کہا گیا اور اسکی نسبت اللہ کی طرف کی گئی :

وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا{الجن18}

اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو

ومااجتمع قوم فی بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ ۔۔۔۔ الحدیث

{ مسلم  عن ابی ھریرۃ}

کسی علاقے میں مسجد کا نہ ہونا اور وہاں سے آذان کی آواز کا نہ آنا اس بات کی دلیل تھی کہ یہ بستی مسلمانوں کی نہیں  ہے :

ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذاغزا بنا قوم لم یکن یغزو بنا حتی یصبح وینظر الیھم فان سمع الآذان کف عنہم  وان لم یسمع اغار علیہم        الحدیث

                          { متفق علیہ عن انس}

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد بنانے اور مسجد کے قریب رہنے والے کی اہمیت و فضیلت اپنے فرامین میں کچھ اس طرح ارشاد فرمائی ہے کہ: مساجد زمین میں اللہ کے گھر‘ مساجد زمین کے بہترین ٹکڑے‘ مسجد میں آنے والے اللہ کے مہمان‘ مساجد جنت کے باغات‘ مساجد آخرت کے بازار‘ مسجد کے قریب رہنے والے کی ایسی فضیلت جیسے مجاہد کی جہاد سے معذور پر‘ مساجد ہر مومن کا گھر ہیں‘ مساجد بنانے اور اس کو وسعت دینے والے جنت میں اپنا محل بناتے ہیں‘ مسجد میں قندیل (بلب‘ ٹیوب لائٹ وغیرہ) لٹکانے والے کے لئے اس وقت تک ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ قندیل باقی رہے‘ اسی طرح مسجد میں چٹائی (فرش وغیرہ) بچھانے والے کے لئے ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ چٹائی استعمال ہوتی رہے۔

                   نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج پاکستان میں،   القاعدہ سے تعلق رکھنے والے طالبان  کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اللہ کے گھر  اور اولیا اللہ کے مزار بھی محفوظ نہ ہیں۔ طالبان دہشت گردون نے پچھلے ۱۰ سالون مین لا تعداد مساجد کو  بے رحمانہ طریقے سے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور ۱۱۶۵ نمازیوں کو قتل کر کے  اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور ۲۹۰۰ نمازیوں کو زخمی کر دیا، جن مین بچے،بوڑھے اور نوجوان شامل ہیں۔  آجکل مساجد میں عبادت گزار ون کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی لذت اورعبادت کی سعادت کی بجائے اپنی جان کے لا لے پڑے ہوتے ہیں۔   تحریک طالبان،جند اللہ اور  لشکر جھنگوی اور طالبان سے الحاق شدہ دوسری مذہبی جماعتوں  و گروپوں نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔

پاکستان مین مساجد پر دہشت گردی کے 33 حملے کئے  گۓ جن میں سے 25 سنی مساجد تھیں، 5 شیعہ مساجد اور 3 احمدیوں کی عبادت گاہین شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ  تر حملے۳۳میں  سے 23 صوبہ سرحد میں ہوۓ، 7 صوبہ پنجاب میں۔ ایک صوبہ سندھ میں اور 2 کشمیر میں کئےگۓ۔33 مساجد کلی یاجزوی طور پر تباہ کر دی گئیی۔

ان تمام حملوں مین زیادہ تر خودکش حملہ آور استعمال کئے گۓ۔ مجموعی طور پر 17 واقعات مین "انسانی بم” کا استعمال کیا گیا۔ جو دیگر حربے استعمال ہوۓ ان میں 6 گرینیڈ بم کے حملے، 4 آی – ای – ڈی دھماکے، 3 فائرنگ کے واقعات، 2 کار بم اور ایک راکٹ سے کیا جانے والا حملہ شامل تھا۔

مساجد  پر خود کش حملے  ، مساجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کی طالبان  کی کھلی اور ناپاک سازش وشرارت ہے اور  کوئی راسخ العقیدہ مسلمان اس طرح کی شیطانی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ میں صرف مسجد ضرار  کی تباہی کا حکم خدا کی طرف سے آنحضرٹ صلعم کو  آیا تھا ۔ مساجد اسلام کو زندہ و تابندہ رکھنے مین بڑی ممد و معاون ہیں اور طالبان  مساجد کی تباہی جیسی غلیظ حرکتوں سے اسلام اور پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے  ہیں۔

          یہ  ایک طے شدہ  امرہے کہ اسلام میں خود کشی ناجائز ہ و حرام ہے اور یہ خود کش حملے انتہائی قابل مذمت اور مکروھ طالبانی حرکت ہیں۔ مساجد کی تباہی اور نمازیوں پر خودکش حملے ایک ناقابل معافی جرم ،انسانیت سوز اور سفاکانہ  طالبانی عمل   ہے۔ طالبان معصوم  انسانی جانوں کو اس بے دردی سے اپنی سفاکی کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ہلاکو اور چنگیز خان کے ظلم بھی اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ طالبان مذہبی تنگ نظری نا رواداری کے پیکر ہیں۔ اور  یہی بد بختوں کا وہ گروہ ہے جو رسول اللہ کے فرمان کے مطابق دین  سےنکل گیا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ کے اتنے مقدس گھر میں خونزریزی کرتے ہوئے کوئی شرمندگی اورڈر محسوس نہ ہو اس کا اللہ تعالیٰ، اس کےرسول اللہ اور اسلام سے کیا واسطہ ہے؟

            طالبان اور دوسری مذہبی جماعتیں پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کی مر تکب ہو رہی ہیں اور   وہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکژیت پر جو، ان کے مذہبی نظریات  سے متفق نہ ہیں اپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ اسلام دین ہے امن، محبت اور  ہم آہنگی کا اور حقیقی مسلمان  مساجد اور خانقاہوں پر حملے نہین کرتے اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ یہ دہشت گرد مسلمان اور انسان  کہلانے کے حقدار نہ ہیں۔

          اسلام بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بازاروں، کاروباری اداروں، مساجد، قومی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر بم دھماکوں یا خود کش حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ جبکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے افراد اور گروہ اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف اور شرعی طور پر بغاوت و محاربت، اجتماعی قتل انسانی اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ہیں۔

            اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مساجد دینِ اسلام کی ہمیشہ سے آبیاری اور تبلیغ و ترویج کے مراکز رہی ہیں اور  تاقیامت! یہی مراکزدین کی آبیاری اور سیرابی کا ذریعہ بنتے رہیں گے، انہیں کے سائے میں بیٹھ کرہرزمانہ میں، قراء نے تعلیمِ قرآن ،مفسرین نے تفسیرِقرآن،محدثین نے حدیث، اور علمأنے آپ کے جلال، جمال، اخلاق، کرداراور دینِ متین کا ایک ایک طریقہ، ایک ایک مسئلہ اور حکم، امت کو پڑھایا،سمجھایا اور ان تک پہنچایا،اسی لئے ان مراکز کی ترقی اور حفاظت ہر مسلم پر فرض ہے، خواہ وہ کسی بھی خطّہ  یا ملک کا باشندہ ہو۔

            یہ عوام کی اولین ذمہ داری ہے کہ ان دینی مراکز کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے کر باغاتِ جنت کی حفاظت کریں اور اللہ کی عظمت کے ان نشانات کو بحال کریں اور  طالبان اور دوسرے تخریب پسندوں کی تخریبی کاروایون کا حصہ نہ بنیں۔

              یہی وقت ہے کہ  عوام بشمول تمام سیاسی و مذہبی پارٹیاں اور گروپ طالبان اور دوسری تنگ نظر مذہبی جماعتون و گروپون کی درندگی و دہشت گردی  کے خلاف متحد ہو کر ان کا ہر سطح پر مقابلہ کریں اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں وگرنہ   ان کی اس طرح کی سرگرمییان جاری رہیں گی اور اسلام اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

اور جو کئی حکم پر چلے اللہ اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اللہ سے اور بچ کے چلے اس(کی نافرمانی ) سے سو وہی لوگ ہین مراد کو پینچے۔( سورہ النور ۔۵۲)

لشکر جھنگوی ، ایک فرقہ ورانہ دہشت گرد تنظیم

          لشکر جھنگوی ایک  دیو بندی عقائد رکھنے والا، فرقہ ورانہ ,سفاک ا ور  بے رحم ,جہادی گروپ ہے،  1996 میں معرض وجود میں آیا۔لشکر جھنگوی  ایک  عرصہ سے شیعہ مسلمانوں کے خلاف  وحشیانہ حملے کرنے کی وجہ سے شہرت رکھتاہے اور اب تک ہزاروں اہل تشعیہ کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ لشکر جھنگوی کو القائدہ کا فرقہ ورانہ چہرہ  بھی کہا جاتا ہے ۔یہ گروپ جنوبی پنجاب سے اپنے کارکن بھرتی کرتا ہے مگر اب  کچھ عرصہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں مین منتقل ہو چکا ہے جہاں  یہ القائدہ کے ساتھ مل کر تربیت حاصل کرتا ہے۔ اس گروپ  کا الحاق طالبان و القائدہ سے ہے اور لشکر جھنگوی شیعہ مسلمانوں کو کافر گردانتا ہے ۔یاد رہے کہ پاکستان میں لشکر جھنگوی کی سرگرمیوںپر 2001 میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ لشکر جھنگوی کا دوسرا نام  ،پنجابی طالبان ہے جو جنوبی پنجاب میں سرگرم ہیں۔دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے۔

لشکر جھنگوی العالمی اس کا ایک اور گروپ ہے جس کا سربراہ مولانا عبدالخلیل ،ایک مفرور دہشت گرد،جس کا تعلق سنٹرل پنجاب سے  ہے اور یہ گروپ سنٹرل پنجاب اور قبائلی علاقوں میں کاروائیاں کر تا ہے۔ لشکر جھنگوی کے دوسرے گروپوں میں  ایشین ٹائگرز ،جنداللہ ، جنودالحفصہ اور پنجابی طالبان  وغیرہ وغیرہ ہین۔  گروپ بنانے کا مقصد یہ دکھائی دیتا ہے کہ لشکر جھنگوی اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہ رکھنا چاہتی ہے۔ اور یہ ایک مثالی گوریلا جنگ اور شہری دہشت گردی کی تکنیک ہے۔ بکھرے ہوے سیلز ان کی اب تک زندگی  کا راز ہیں۔ملک میں طالبان ,لشکر جھنگوی اور القاعدہ کی مثلث موجود ہے جو ایک دوسرے کی مدد سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ لشکر جھنگوی ،لشکرطیبہ اور جیش محمد، طالبان اور القاعدہ دہشت گردوں کی ذیلی تنظیمیں ہیں پاکستان کے وزیرداخلہ عبدالرحمن ملک نے کہا ہے کہ لشکر جھنگوی لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی شدت پسند تنظیمیں طالبان اور القاعدہ دہشت گردوں کو مدد بہم پہنچاتی ہیں۔ لشکر جھنگوی اور شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک ، دونوں القائدہ کے قابل فخر دوست ہیں۔

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیان ہے کہ  تمام دہشت گردوں کا صرف ایک ایجنڈا ہے اور وہ یہ کہ  صرف اور صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جائے اور صرف مسلمانوں کا خون بہایا جائے  اور وہ اس مقصد میں کس حد تک کامیاب ہیں اس کا فیصلہ اس مضموں کے قاری کریگے؟

اس وقت مذہب کے نام پربے شمارجماعتیں ہیں بہت سی ایک دوسرے کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہی فرقہ پرستی ہے جس نے جنت نظیر گلگت کو خون آلود جہنم بنا دیا۔

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

              لشکر جھنگوی اس وقت معرض وجود میں آئی جب سپاہ صحابہ سے ریاض بسرا اختلافات کے سبب الگ ہوگئے۔ ریاض بسرا’ اکرم لاہوری اور ملک اسحاق نے 1996ء میں لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی اور اس تنظیم کا نام جھنگوی’ حق نواز جھنگوی کے نام کی نسبت  پر رکھا گیا جو سپاہ صحابہ کے بانیوں میں سے ایک تھے اور ریاض بسرا اور ساتھیوں کا خیال تھا کہ سپاہ صحابہ ،حق نواز جھنگوی کے نظریات سے منحرف ہوگئی اور اس لئے حق نواز جھنگوی کے اصل نظریات کی حامی اب لشکر جھنگوی ہوگی۔ ریاض بسرا نے اس وت شہرت پائی جب ایرانی سفیر صادق گنجی پر قاتلانہ حملہ کیا جبکہ وہ لاہور میں تھے۔ ریاض بسرا 1990ء کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ایرانی کیڈٹوں کی ہلاکت کے بھی ذمہ دار تھے ۔  اس وقت ایرانی کیڈٹ اور سفیر کی ہلاکت سے پاک ایران تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ 2002 میں ریاض بسرا کی ہلاکت کے بعد اکرم لاہوری لشکر جھنگوی کے سربراہ منتخب ہوگئے اور ملک اسحاق کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے 14 سالہ قید کے بعد 14 جولائی 2011ء کو رہا کردیاہے۔

             بریگیڈیر اسد منیر نے  لکھا ہے کہ پاک افغان سرحد پر جتنے بھی گروپ ہیں جیسا کہ القاعدہ ،لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ یہ سارے مل کر حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہے ہیں افغان امور پر گہری نگاہ رکھنے والے پاکستانی صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا خود کو حقانی نیٹ ورک سے الگ کرنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا پاکستانی حکومت چاہتی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد وہاں اس کے مفادات کا تحفظ کرنے والا بھی کوئی موجود ہو تاہم طاہر خان کے بقول موجودہ صورتحال نے پاکستان کو ایک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے پاکستان اب اس وجہ سے پھنس گیا ہے کہ اسے اپنے مفادات کے لیے باامر مجبوری امریکہ کی نظر میں کچھ اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں اور اس سلسلے میں دباؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی فوجی اور سویلین قیادت کس طرح خود کو اس مشکل صورتحال سے نکالتی ہے ۔

             لشکر جھنگوی نے ابتداء میں شیعہ کمیونٹی کے اندر حملے کئے اور 1997ء میں کراچی میں امریکی انجینئروں کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ پاکستانی وزیراعظم نوازشریف کو 1999ء میں قتل کرنے کی کوشش بھی لشکر جھنگوی نے کی جبکہ خود ریاض بسرا 2002ء میں اس وقت مارا گیا جبکہ وہ ملتان میں شیعہ فرقہ پر حملہ پلان کر رہا تھا۔ اس دوران وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ دیگر کارروائیوں میں 2002ء میں لشکر جھنگوی نے 11 فرانسیسی ٹیکنیشن کی ایک بس پر بم کا حملہ کیا اور پندرہ افراد کو ہلاک کردیا جبکہ 17 مارچ 2002ء کو اسلام آباد کے ایک چرچ پر بھی بم کا حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے اور پولیس نے چرچ سانحے کی ذمہ دار جھنگوی ارکان کو گرفتار کرلیا اور لشکر جھنگوی نے بیان دیا کہ چرچ پر حملہ امریکہ کا افغانستان پر حملے کا جواب ہے۔

 27 دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر کے قتل کے سلسلے میں بھی پاکستانی حکومت انٹیریئر منسٹری نے محترمہ کے قتل کے ذمہ دار لشکر جھنگوی کو قرار دیا جبکہ اعلیٰ اتھارٹیز کا دعویٰ ہے کہ مارچ 2009ء میں سری لنکا کی قومی ٹیم پر حملے کی کوشش بھی لشکر جھنگوی ہی نے کی تھی۔ لشکر جھنگوی نے 20 ستمبر 2011ء کو 26 شیعہ زائرین کی ہلاکت کی ذمہ داری بھی قبول کی جو ایران زیارت پر جا رہے تھے اور اب افغانستان یوم عاشور کے موقع پر سائیکل میں نصب بم بلاسٹ کی ذمہ داری بھی صدر کرزئی نے لشکر جھنگوی پر عائد کی ہے جس میں کم و بیش 59 افراد لقمۂ اجل بنے ہیں۔ لشکر جھنگوی العالمی کا نام قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران سامنے آیا اور جب بھی بریلوی یا شیعہ مسلک کے افراد یا مذہبی مقامات پر حملے ہوں اس کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی خبر آجاتی ہے۔

            لشکر جھنگوی  دراصل مارشل لا کی پیداوار  ہے ۔یہ  مذہبی انتہا پسندوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گروہ تھا کہ جس نے جنرل ضیا  الحق کے دور میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی مرحلے میں پنجاب اور پھر پورے ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیں۔اس دہشت گرد گروہ کے جتنے ارکان بھی پکڑے گئے سب کے سب معجزانہ طور پر پنجہ عدالت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ وفاقي وزير داخلہ نے کہا کہ پنجاب ميں لشکر جھنگوي کے لوگ سرگرم ہيں اور افسروں کے ساتھ گھومتے پھرتے ہيں- لشکري جھنگوي کا ہيڈ کوارٹر جھنگ ميں ہے ليکن ان کے خلاف کوئي کارروائي نہيں ہوئي-دراصل دہشت گردوں کا ووٹ بینک اتنا مضبوط اور قوی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت سنجیدہ اور ٹھوس کاروائی کر کے اس کو اپنے ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتی۔

               پچھلے دنوں ، القاعدہ اور طالبان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی العالمی  نے کابل،مزارشریف سمیت کئی شہروں میں عزاداروں پرحملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔افغانستان میں کابل اور مزار شریف میں عزاداروں پر حملوں میں 50 سے زائد افراد شہید ہوگئے ہیں اور سو سے زیادہ زخمی، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ فرقہ واریت کا عفریت افغانستان تک پہنچ گیا ہے. فغانستان میں تین عشروں پر محیط خانہ جنگی اور ایک عشرے تک اس ملک پر امریکہ کے قبضے کے عرصے میں افغانستان میں کبھی بھی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے تھے، اس سارے عرصے میں افغانستان میں تمام اقوام اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی ارضی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے ایک صف میں شامل تھے،اب افغانستان میں لشکر جھنگوی کے سرگرم ہونے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دہشت گرد گروہ نے افغانستان میں فرقہ واریت اور مختلف مذاہب کے پیرووں کے درمیان لڑائیوں کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ افغانستان میں ایک دہائی سے جاری جنگ میں شیعہ مسلمانوں پر کیا جانے والا یہ پہلا حملہ ہے جس میں فرقہ واریت کا رنگ جھلکتا ہے۔ لشکر جھنگوی جیسی دہشت گردی تنظیمیں دونوں ممالک کے لیے  حقیقی خطرہ ہیں۔ افغانستان میں بھی شیعہ اقلیت اور سنی اکثریت میں کشیدگی رہتی ہے تاہم عراق اور پاکستان کی طرح افغانستان میں اتنے بڑے پیمانے فرقہ وارانہ تشدد کبھی کبھار دیکھا گیا ہے۔

           اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم بعض عسکریت پسند گروپوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور اب وہ ہزارہ قوم کے افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہزارہ قوم کے زیادہ تر افراد شیعہ مسلمان ہیں اور افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں کے حامی ہیں۔ تاہم اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آیا کوئی غیر معروف گروپ افغانستان میں اتنے مربوط انداز میں حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل لشکر جھنگوی کی افغانستان میں کارروائیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ملتا۔

         یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگا رکھی ہے اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہوتی رہتی ہے افغانستان کے عوام بھی توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے افغانستان میں دہشتگردی کے فروغ کی کوششوں کو ناکام بنا دے گی، افغان صدر حامد کرزئی نے کابل اور مزار شریف دھماکوں کا الزام لشکر جھنگوی پر لگاتے ہوئے پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ حملہ کے لئے پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی۔ دوسری جانب افغان پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ لشکر جھنگوی العالمی کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے، یوم عاشور پر ہونے والی کاروائی قابل مذمت ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں استحکام نہیں چاہتا۔ کمیٹی کے سربراہ شکریہ بارکزئی نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ کے طالبان کے شکریہ ادا کرنے کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے جانتے ہوئےدہشت گرد گروپ کو افغانستان میں کاروائی کی اجازت دی۔

 اس حملے کے بعد افغان اور دوسرے میڈیا میں ایک مرتبہ پھر آئی ایس آئی پر انگلیاں اٹھائی  جا رہی ہیں- اور  یہ الزام تواتر سے لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ لشکر جھنگوی ،القائدہ اور طالبان جیسے گروپوں سے رابطہ رکھے ہوئے ہے-اور ان کو افغانستان میں اپنے لئے استعمال کر رہی ہے- مگر  پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل اطہر عباس نے افغان حکام کی جانب سے لشکر جھنگوی العالمی کے ساتھ روابط کا الزام اور افغان صدر حامدکرزئی کی جانب سے کارروائی کرنے کے مطالبہ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم پاک فوج کیخلاف بھی کئی حملوں میں ملوث ہے۔ جنرل اطہر عباس نے فرقہ وارانہ عزائم رکھنے والی شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے حوالے سے واضح الفاظ میں کہا کہ اس کاپاکستان کے کسی بھی انٹیلی جنس ادارے سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ لشکر جھنگوی کیخلاف پاک فوج نے کئی کارروائیاں کیں جن میں کریک ڈاون بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل افغان صدر حامدکرزئی نے الزام عائد کیا کابل میں عاشور پر خودکش حملے میں پاکستانی انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے اور پاکستان اس کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرے۔

اس حملے کے بعد عالمی  میڈیا میں یہ   تاثر پایا گیا ہے کہ بون کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت کے بعد یہ حملہ دراصل پاکستان کی طرف سے یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ وہ جب چاہیں افغانستان کا امن تباہ کر سکتے ہیں-اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ لشکر جھنگوی کے القائدہ کے ساتھ  گہرے تعلقات ہیں اور وہ اس پر ہزاروں شیعوں کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا ہے کہ طالبان کے کچھ گروپ  بھی یہ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ لشکر جھنگوی کے ساتھ  عقائد شئیر کرتے ہی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ لشکر جھنگوی کا دعوی کس حد تک قابل اعتبار ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپ کی وسعت اب  پاکستان میں بھی بہت کم ہے اور اس چیز کا  قوی امکان ہے کہ القائدہ،طالبان  یا کسی اور  گروپ نے افغانستان کے اندر سے لشکر جھنگوی کی مدد کی ہو  ۔

راقم کا خیال یہ کہ لشکر جھنگوی اپنے آپ ، اس طرح کا غیر معمولی  حملہ افغانستان کے اندر  کرنے کی اسطاعت نہ رکھتا  ہے اور  یہ حملہ یقینا طالبان کے گروپوں اور القائدہ کے اشتراک و تعاون سے  ہی پایہ تکمیل کو پہنچا۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی کے دہشتگردانہ واقعات میں بیرونی عناصر کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ دہشت گردانہ کاروائياں داخلی ممنوعہ تنظیموں نے کی ہیں۔رحمان ملک نے بتایا کہ لشکر جھنگوی کراچی کے حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی ذمہ دار ہے۔رحمان ملک نے کہا کہ کراچی دھماکوں میں کالعدم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔بمبار باہر سے نہیں آیا، ملک کا ہی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان اور لشکر جھنگوی کا دہشت گردی میں الحاق ہے۔

 رحمان ملک نے لشکر جھنگوی کا نام پہلی مرتبہ نہیں لیا اور میڈیا والوں سے گفتگو کرتے ہوئے وہ بارہا اس گروہ کا نام لے چکے ہیں۔ کوئٹہ پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ القاعدہ ٗ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اورکالعدم لشکر جھنگوی کے دہشت گرد مسلمان نہیں نہ ہی وہ پاکستان اور اسلام کے خیرخواہ ہیںیہ لوگ اس حد تک گر چکے ہیں کہ اب انہوں نے خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ القاعدہ ٗ تحریک طالبان اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد لوگوں کی لاشیں گرا رہے ہیں ٗ خیبرپختونخواہ میں مصروف عمل دہشت گردوں نے اب بلوچستان کا رخ کرلیا ٗ یہ کرائے کے قاتل ہیں جو ملک دشمن عناصر کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ٗ کالعدم تنظیموں نے پاکستان کے خلاف ایکا کررکھا ہے ان کا جند اللہ اور بی ایل اے سے بھی واسطہ ہے ٗ سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں کررہے ہیں۔

پاکستان کی وفاقی پولیس نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے اکثر واقعات میں لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ اور طالبان گروہوں کے اہم دہشت گرد ملوث ہیں، جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے. جولائی 2011ء میں رحمان ملک نے لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے بارے میں بیان دیا تھا کہ یہ کرائے کے قاتل ہیں اور انہیں پنجاب میں دہشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی۔ وہ داتا دربار پر بم بلاسٹ کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ طالبان دہشت گرد اور لشکر جھنگوی والے کافر ہیں، علماء اہلسنت نے ان کے کفر پر واضح فتوے دیئے ہیں اور ان کی کارروائیوں کو غیر اسلامی اور غیر انسانی قراردیا ہے۔

لشکر جھنگوی افواج پاکستان و انٹیلی جنس اداروں کے افراد کو قتل کرنے لگی۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے بیرونی طاقتوں کی ایما پر بریلوی اہلسنت و شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے لشکر جھنگوی کی ریاستی سرپرستی میں ٹریننگ کروائی لیکن اب لشکر جھنگوی کے دہشتگرد آستین کے سانپ بن کر اپنے ہی محسنوں کو کاٹنے لگے ہیں۔ جس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔اللہ کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ۔ اب بھی وقت ہے ہمارے ملک کے مقتدر اداروں اور ان میں موجود ضیاء آمریت کی باقیات بعض کالی بھیڑوں کے ساتھ ساتھ آستین کے ان سانپوں دہشتگرد لشکر جھنگوی سے چھٹکارا پا لیں وگرنہ عوام کے ساتھ ساتھ یہ دہشتگرد ان مقتدر اداروں کو بھی چھوڑنے والے نہیں۔

ایک خبررساں ایجنسی کے مطابق حساس اداروں کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی،کالعدم حرکۃ الجہاد اور کالعدم تحریک طالبان ملک بھر سمیت خصوصاً پنجاب میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور اب تک پنجاب میں ہونے والی دہشتگردی کے 49واقعات میں ان دہشت گرد تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حرکۃ الجہاد اور تحریک طالبان کو چلانے اور دہشت گردی کے منصوبوں کی تکمیل میں القاعدہ کے دہشت گرد ماسٹر مائنڈ الیاس کشمیری کے ملوث ہونے کے شواہد بھی مل چکے ہیں،اور واضح ہوا ہے کہ یہی تین دہشت گرد گروہ پنجاب میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں۔ پہلا گروپ جو کہ لشکر جھنگوی ہے افغانستان سے تربیت حاصل کر کے پاکستان میں اپنی سر گرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ،رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ لشکر جھنگوی جو کہ ایک دہشت گرد گروپ ہے دہشت گردی کی کاروائیوں کے لئے اپنی رپورٹس کو الیاس کشمیری( الیاس کشمیری ایک ڈرون حملے میں مارا جاچکا ہے) تک پہنچاتا تھا جبکہ بعد میں ان اطلاعات کو تحریک طالبان تک پہنچایا جاتا ہے اور اس کے بعد دوسرا گروہ خود کش بمبار کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے اور اسی طرح تیسرا دہشت گرد گھروہ جو کہ لوکل طالبان یعنی تحریک طالبان پاکستان کے نام سے اپنی سر گرمیاں انجام دے رہاہے دہشت گردی کے حملوں کو یقینی بناتا ہے اور تیسرا گروہ ان دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ کی فراہمی اور خود کش بمبار کی جیکٹ کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کہا گیا ہے کہ گذشہ ڈیڑھ برس کے عرصے میں ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی دہشت گردوں نے پنجاب میں 49حملے کئے جس میں 687بے گناہ جانوں کا نقصان ہوا جن میں 69پولیس افسران بھی شامل ہیں ،جبکہ 1834افراد ذخمی ہو ئے جن میں 268افراد پولیس اہلکار تھے ۔49میں سے 21ویں دہشت گردی کے حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اور حساس اداروں کی کاروائی کے بعد 37دہشت گرد جن کا تعلق درج بالا دہشت گرد تنظیموں سے تھا گرفتار ہوئے ،جبکہ 24پولیس مقابلوں میں مارے گئے اور اسی طرح 27دہشت گرد کود کش بمبار تھے جو خود کش دھماکوں میں مارے گئے ۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ‘ خودکش حملے اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں لشکر جھنگوی اور بیرونی ہاتھ ملوث ہے‘ بلوچستان مےں فرقہ وارانہ لڑائی لشکر جھنگوی کرا رہی ہے حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کالعدم تنظیموں کو کسی طور بھی اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھنے دے گی ‘ پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان میں کہیں بھی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اس میں ملوث ملزموں کی نانی ایک ہے۔ بلوچستان کی جیلوں میں لشکر جھنگوی سمیت دےگر کالعدم مذہبی تنظیموں کے لوگ سرعام موبائل استعمال کر کے باہر قتل و غارت کرا رہے تھے۔ بلوچستان کی ایک جیل میں لشکر جھنگوی کے لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔

یکم ستمبر کو حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے موقع پر عقیدت مندوں کے جلوس پر خودکش حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہونے والے واقعات سے ملک بھر میں سوگواری کی فضا برقرار تھی کہ  جمعہ کے دن کوئٹہ میں خودکش حملے میں 65 افراد جاں بحق اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے اور سوگواری کی فضا دوچند ہو گئی ۔ دونوں دھماکوں کی ذمہ داری لشکر جھنگوی العالمی نے قبول کر لی ہے۔دنیائے تصوف کے برگزیدہ ہستی و  ولی حضرت داتا گنج بخش ہجویری کی اخری ارام گاہ میں وحشت کا جو گھناوئنا کھیل کھیلا  گیا تھا لشکر جھنگوی نے اس بہیمانہ  واردات کی زمہ داری قبول کرلی تھی۔

داتا دربار اور ماتمی جلوسوں میں اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر خون کے دریا بہانے والے لشکر جھنگوی کے بھیڑیوں کو جو کہ خود ساختہ جہادی  اور خدا کے باغی بن چکے، جان لینا چاہیے کہ رب العالمین نے ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت پر ظلم کے مترادف قرار دیا ہے۔ لشکر جھنگوی کے  بھیڑیوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ خدا کے باغیوں کا کیا انجام ہوا کرتا ہے؟

پاکستان کے پشتون خطے سے طالبان، پنجاب سے لشکر جھنگوی اور کشمیر سے لشکرطیبہ کے جہادی گروپوں نے اب یکجا ہو کر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اس دفعہ شدت پسندوں کا ٹارگٹ پنجاب ہے۔ یہ بات برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھی ہے۔ اخبار کے مطابق اب ان کو روکنا اور شکست دینا پاکستان کے لئے لازمی ہو گیا ہے۔ اب یہ جہادی گروپ بھارت کی بجائے پاکستان کے وجود کے لئے  زیادہ خطرہ بن چکے ہیں۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں حالیہ دہشت گردی کی لہر نے ثابت کر دیا ہے کہ جہادی گروپ مضبوط ہو رہے ہیں جہادی گروپ طالبان رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اپنی کارروائیوں میں شدت لائے۔ ان جہادی گروپوں کو بھارت کیخلاف مضبوط کیا گیا کیونکہ بھارت اپنی نصف فوج کشمیر میں تعینات کر چکا تھا اور افغانستان سے اسٹرٹیجک تعلقات کو مضبوط بنا رہا تھا۔ اخبار کے مطابق پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کچھ مخصوص اہداف کیخلاف آپریشن کرنا چاہتی تھی لیکن بے نظیر کی شہادت، مشرف پر حملے، پولیس یونٹس، اقوام متحدہ کے دفاتر، ہوٹلز حتیٰ کہ چند دن قبل جی ایچ کیو پر حملے نے ملٹری مائینڈ سیٹ کو تبدیل کردیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ تحریک طالبان پشتون دیہاتی علاقے میں صرف دس فیصد آبادی میں اپنا اثرورسوخ رکھتی ہے۔

               خفیہ اداروں نے دعوی کیا ہے کہ اٹھائیس مئی کو لاہور کے دو محتلف علاقوں ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو کے علاقوں میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں میں کلعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا فرقہ وارانہ گروپ ملوث تھا۔  اس کے علاوہ بینک ڈکیتیوں میں لشکر جھنگوی سمیت دیگر دہشتگرد تنظیمیں ملوث ہیں۔ مقتول گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر کے جمعہ کو دن دہاڑے گن پوائنٹ پر اغوا کا شبہ تحریک طالبان پاکستان سے جڑی لشکر جھنگوی پر کیا جارہا ہے، جس کے ٹاپ لیڈر ملک محمد اسحاق کو چالیس دن پہلے چودہ جولائی کو پنجاب حکومت نے چودہ سال بعد جیل سے رہا کیا تھا ۔ ملک اسحاق پر درجنوں فرقہ وارنہ قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام رہا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے کالعدم لشکر جھنگوی اور جیش محمد کے حوالے سے کہا کہ ان گروہوں کے عناصر نے قبائلی علاقوں میں پناہ لی اور اب یہ تربیت لے کر لوٹ رہے ہیں۔ اس سے قبل ستمبر 2008ء میں اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل میں دہشت گردی کے واقعے ، مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم اور مناواں میں پولیس کے تربیتی مرکز پر حملے، مئی 2009ء میں لاہور میں انٹر سروسز انٹیلی جنس اور ریسکیو 15 پر ہونے والے حملے اورگذشتہ برس اکتوبر میں جی ایچ کیو میں دہشت گردی کے واقعات سمیت متعدد کارروائیوں میں انتہا پسندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔  افغان جہاد کے مجاہد کرنل امام ،  قتل سے پہلے لشکر جھنگوی العالمی کے احمداللہ منصورکے قبضہ میں تھے۔

صوبہ پنجاب اور اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور ان واقعات میں کالعدم انتہا پسند گروہوں کی القاعدہ اور طالبان کے ساتھ اعانت کے شواہد کے بعد یہ بات بڑی حدتک واضح ہوچکی ہے کہ ا ندرون ملک دہشت گردوں میں کالعدم انتہا پسند گروہ لشکر جھنگوی اور جیش محمد زیادہ اہم ہیں۔ ان گروہوں کے افراد نہ صرف قبائلی علاقوں میں موجود طالبان کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں بلکہ خود کش بمباروں کی بھرتی کا بھی بڑا ذریعہ بھی ہیں۔ علاوہ ازیں ان جماعتوں کے لوگ اندرون ملک دہشت گردی کے واقعات کے لیے قبائلی علاقوں یا دیگر علاقوں سے آنے والے طالبان عناصر کے لیے سہولت کار کا کام بھی کرتے ہیں۔

        خوست میں 1987ء سے سپاہ صحابہ نے اپنا ٹریننگ سنٹر قائم کر لیا تھا اور ریاض بسرا اور جھنگ کا عقیل نامی ایک سابق فوجی اس مرکز کے انچارج تھے۔ بعد میں جب ریاض بسرا نے لشکر جھنگوی کی بنیاد رکھی تو یہ تربیتی مرکز لشکر جھنگوی نے اپنے قبضے میں کر لیا ۔ اس کے علاوہ لشکر جھنگوی کے دہشت گرد، طالبان کے دور میں ، کیمپ بدر ، معاویہ اور اور ولید جو کہ مشرقی افغانستان میں واقع ہیں ،تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح افغانستان میں طالبان کے قبضے کے دوران پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث زیادہ تر دہشت گرد افغانستان ہی میں پناہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ تاہم اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے اور کابل سے طالبان کی بے دخلی کے بعد فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ملوث اِن گروہوں کا رخ بھی قبائلی علاقہ جات کی طرف ہو گیا۔ یوں سقوط کابل کے بعد بھی عملی طور پر ان گروہوں اور القاعدہ اور طالبان کے درمیان قریبی روابط برقرار رہے اور 2007ء میں بیت اللہ محسود کی تحریک طالبان پاکستان میں بھی سرکردہ عہدوں پر فائز ہونے والے زیادہ تر عناصر کا تعلق انہی فرقہ وارانہ متشدد گروہوں سے تھا۔

محقق ڈاکٹر حسن عباس ایک مقالے میں لکھتے ہیں کہ پنجابی طالبان ان کالعدم فرقہ وارانہ گروہوں اور جہادی تنظیموں کا گٹھ جوڑ ہے جن کے طالبان تحریک اور قبائلی علاقہ جات کے دیگر انتہا پسند گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم ہو چکے ہیں اور یہ گروہ قبائلی علاقہ جات اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان متحرک ہیں۔ اس طرح یہ گروہ قبائلی علاقہ کے انتہا پسند گروہوں کے اشارے پر اندرون ملک دہشت گردی کے واقعات میں اعانت کے علاوہ قبائلی علاقہ جات میں موجود دہشت گرد گروہوں کی افرادی، مالی اور مادی ضروریات کی تکمیل کا ایک بڑا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔

جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں 2001ء اور 2003ء کے دوران جب ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث بعض تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی اور ان تنظیموں کے خلاف اندرون ملک کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تو لشکر جھنگوی سمیت کئی گروہوں سے وابستہ عناصر قبائلی علاقہ جات کی طرف فرارہونا شروع ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنے مراکز بھی قائم کر لیے۔ ان عناصر میں لشکر جھنگوی اور جیش محمد کے ساتھ وابستہ عناصر کی تعداد زیادہ تھی۔ غالباً 2007ء کے شروع میں جنوبی وزیرستان سے اِس طرح کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ وہاں پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے انتہا پسندوں کے چھوٹے گروہ آ کر بسنا شروع ہوگئے ہیں۔

جنوبی پنجاب کا علاقہ شدت پسند گروہ لشکر جھنگوی، جیش محمد، حرکت الجہاد اسلامی اور لشکرطیبہ کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ اس دوران اس علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد اور عبادت خانوں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں انتہا پسند گروہ لشکر جھنگوی اور حرکت الجہاد اسلامی کے مضبوط نیٹ ورک کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ان جماعتوںکے تقریباً سبھی اہم کردار اور دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث ایسے درجنوں انتہا پسند جن کے سروں پر حکومت کی طرف سے لاکھوں روپے انعام مقرر کیا گیا ہے، کا تعلق جنوبی پنجاب ہی سے ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں شدت پسندی کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، ’افغان جہاد‘ میں بھی اِس علاقے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے شرکت کی اور 1988ء میں خوست کی فتح میں بھی جنوبی پنجاب کے متعدد جنگجو شامل تھے ۔

فرقہ وارانہ گروہوں کے القاعدہ اور طالبان کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کی بنا پر جنوبی پنجاب کے اضلاع میں انتہا پسند گروہوں کے زور پکڑنے کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ قریب ایک برس سے خبریں آتی رہی ہیں کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کا نیٹ ورک اندرون ملک دہشت گردی کے بڑے واقعات کا سبب بن سکتا ہے۔گذشتہ برس26جون کو برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹر ویو میں وزیر داخلہ رحمان ملک نے جنوبی پنجاب کے علاقے میں سوات جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ خدشہ ہے کہ سوات اور وزیرستان کے علاقوں سے فرار ہونے والے دہشت گرد جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ سمیت پنجاب کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے اس بیان پر خاصی  بیان بازی کی۔

حقائق ثابت کرتے ہیں کہ پنجاب خواہ اسے جنوبی یا شمالی یا وسطی کے نام سے پکاریں ، سے بڑی تعداد میں لشکر جھنگوی اور دوسری فرقہ وارانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عناصر قبائلی علاقوں کے انتہا پسندوںسے گہرے مراسم پیدا کر چکے ہیں اور اِن حقائق کو نہ ماننے کی روش پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے امن کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد ،مسلمانوں اور انسانیت کو ایک حقیقی خطرہ ہیں۔

 فرقہ ورانہ تشدد پاکستان و افغانستان کے لئے  زہر قاتل ہے۔ یہ لوگ بدامنی و فرقہ ورانہ تشدد کی آگ بھڑکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر  دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

اسلام اور دہشت گردی

دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل  ہےجس سے معاشرہ میں دہشت  و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم  کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے  اور بڑےمقا صد کےلئے  کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔ یہ حقیقت ا ظہر من الشمس ہے کہ دہشت گردی اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں۔ جس طرح رات اور دن ایک نہیں ہو سکتے، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام کا ایک جگہ اور ایک ہونا، نا ممکنات میں سے ہے۔ لھذا  جہاں دہشت گردی ہو گی وہاں اسلام نہیں ہو گا اور جہاں اسلام ہو گا وہاں دہشت گردی نہیں ہو گی۔اسلام امن کامذہب ہے،قتل وغارت گری سے منع کرتاہے، جوایمان والے کوجان بوجھ کرقتل کرتاہے اس کیلئے سنگین سزاہے۔ اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہین اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہین۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔ اسلام اور دہشت گردی دو متضاد نظریات ہیں ۔اسلام احترام انسانیت کا درس دیتاہے جب کہ دہشت گردی بے گناہ انسانیت کے قتل اور خوف وہراس پیدا کرتی ہے۔ یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور  پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے  پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق دہشت گردی کے عمل کو کسی بھی مذہب یا قوم کے ساتھ منسلک کرنا درست نہیں ہے۔

                        اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان اور القائدہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔میدان جنگ میں بھی ظلم وبربریت سے اسلام منع کرتا ہے اور وہاں بھی بوڑھوں ، بچوں اور خواتین کے قتل سے روکتاہے.

                          کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا  اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت  کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے  ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و  ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔

                                 اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ  گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔

 کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔اسلام میں فتنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔کسی بے گناہ کی طرف آلہ قتل سے اشارہ تک کرنا منع کیا گیاہے .دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

                                  اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔

ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔یہ سفاکانہ دہشت گردی کرنے والے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے دہشت گردی کا تسلسل ملک کی سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور موثر لانگ ٹرم  و شارٹ ٹرم حکمت عملی وضع کرنا ہو گی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لئے  خاتمہ ہو سکے،

چند برسوں سے وطن عزیز  پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل  اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ۷۰ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے  اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔      اللہ تعالہ فرماتے ہیں:

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

       کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵) وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)

ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔ تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔ ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔” مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔ ” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”

قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئےہیں۔

 ماسواےکسی کو قتل کرنے کے بدلے میں قتل کرنا اور زمین پر فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا ۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ کسی بے گناہ کا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔

                مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

                        طالبان پاکستان مین اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا  کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا  ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی انتہائی مشکوک  اور ناقابل اعتبار ہے۔

                                       ہمارے دشمن کو ہماری ہی صفوں سے حمایت اور تقویت مل رہی ہے‘ جس کا وہ خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں ،سیاست اور میڈیا میں جو لوگ دانستہ یا نادانستہ دہشت گردوں کی حمایت کے مرتکب ہو رہے ہیں‘ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہا‘ تو وہ خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ہماری سلامتی ‘ ہماری مسلح افواج کے ساتھ ہے۔ ہماری بقا کا انحصار ایک دوسرے پر ہے۔ ہماری صفوں میں انتشار دہشت گردوں کے حوصلے اور طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔

                                     افغان طالبان نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے قتل کے انتقام کے لئے     اب تک نہ کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی عملی مظاہرہ ہوا ہے۔ بن لادن افغان طالبان کا مہمان اور ساتھی تھا جس کی خاطر افغان طالبان نے بہت سی قربانیاں دیں لیکن اس کے برعکس پاکستان کے طالبان نجانے کیوں معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اسامہ بن لادن کے قتل کا بدلہ لے رہے ہیں۔ یہ جہاد بالکل نہ ہے کیونکہ جہاد تو اللہ کی راہ مین کی جاتی ہے ،بدلہ لینا اسلامی شریعہ کے مطابق جہاد نہ ہے۔

                                   جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ طالبان ملا عمر کے Code of Conduct کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہین۔

                           طالبان نے ملا عمر کی بیعت کی ہوئی ہے،ملا عمر پاکستان پر حملوں کو  برا سمجھتے ہین مگر پاکستانی طالبان ملا عمر کی بیعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان مین معصوم اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہین۔

رسول کریم نے فرمایا کہ جنگ کی حالت مین بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے۔ ویسے طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک  اور غیر شرعی ہے۔ مزید بران یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گئا ہے۔

                              اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان، دہشتستان بن گیا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ  ہماری جنگ ہے کسی اور کی نہیں؟۔  دہشت گردوں نے ہمارے ملک  کو جہنم بنا دیا۔  ۳۵ ہزار سے زیادہ لوگ مرگئے ۔ سرمایہ اور ذہانتیں ہمارے ملک سے ہجرت کر گئیں۔ کاروبار  اجڑ گئے۔  بازاروں اور شہروں کی رونقیں ہم سے جدا ہوگئیں۔  عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا اور ہم سب حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ  گئے ہین۔ بیرونی سرمایہ کاری صفر سے نیچے چلی گئی،  ملازمتین ختم ہوئیں ،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود  کو تباہ کرکے رکھ دیا اور  ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔ ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیا اور تو   اور داڑھی اور پگڑی والے بھی محفوظ نہ ہیں ۔ لہذا    تمام  اہل دانش اور  علمائے کرام کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں  طالبان اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔

                    ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے  اپنے ملک کو جلتا اور تباہ  ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آ گے بڑہ کر مردانہ وار اسلام اور ملک کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

جہاد ، طالبان کا کاروبار

اقبال جہانگیر

                                     جہاد،  در اصل طالبان کا کاروبار ہے مگر یہ غیر قانونی،غیر اخلاقی اور شریعت کے منافی  کاروبار ہے۔ اسلامی شریعہ کی رو سے جہاد،  اللہ کی راہ مین ،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے  مگر پاکستان میں طالبان   اپنے خلاف فوجی کاروائی کی وجہ سے ،حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف جہاد میں بقول انکے مصروف  ہیں اور یہ جہاد نہ ہے۔ طالبان جہاد کی آڑ میں ایک شرمناک کھیل ،کھیل رہےہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ایک اسلامی ملک اور مسلمانوں کے خلاف جہاد کا خیال ہی خلاف شریعہ، احمقانہ  ،قابل اعتراض و ناقابل عمل ہے۔ طالبان  قران اور اسلام کی غلط تشریحات کر کے  لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

                               دہشت گرد تنظیم کا انتظام و انصرام بھی ایک کاروبار کی طرح ہی منظم کیا جاتاہے اور چلایا جاتاہے۔  جس میں پیسے اور افرادی  قوت کی اہمیت    کلیدی ہوتی ہے۔ یہ سارا پیسے کا کھیل ہے اور   اس میں روپے   پیسے کی حثیت   کلیدی اور لائف لائن کی سی ہے۔

                              طالبان کے اس کاروبار کے اغراض و مقاصد، عام کاروبار کے اغراض و مقاصد کے برعکس غیر قانونی  غیر اخلاقی اور اسلامی شریعہ کے منافی ہیں اور  ان میں  پاکستانی مسلمانوں کی قتل و غارت گری،حکومت وقت  سے سرکشی و بغاوت،جنگ و جدال، دہشت گردی، پاکستان کو کمزور کرنے کی دشمن کی سازشوں کا ساتھ دینا،بنک ڈکیتیاں و  ڈاکے ڈالنا اور ایسا کرنے کے لئے  بلیک نائٹ گروپ تشکیل دینا، اجرتی قتال،  اغوا براءے تاوان،راہزنی اور لوٹ مار  و بھتہ خوری  جیسے  غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کام شامل ہیں۔ لہذا روئے زمین پر کوئی ذی شعور حکومت اس طرح کے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ کاروبار کی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔

                                 تحریک طالبان پاکستان ملک بھر میں خود کش بمباروں و دہشت گردوں، معاونت اور سہولیات فراہم کرنے والوں، ہمدردوں اور ساتھیوں کے ایک انتہائی مضبوط و منظم اور خطرناک  نیٹ ورک  چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کو  طالبان کی اتحادی و ہم خیال دوسری جہادی تنظیموں بشمول القائدہ  اور ان کے کارکنان کی   عملی اعانت او ر مدد و حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس تمام نیٹ ورک کو چلانے اور افرادی قوت کی بھرتی وغیرہ  کیلئے روپے و پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو طالبان  لاتعداد غیر قانونی و غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ  ذرائع سے اکٹھا و  حاصل کرتے ہیں۔

 اس کے علاوہ طالبان نے  لشکر خراسان  تشکیل دے رکھا ہے جس کا مقصد  اپنے طالبان پر نظر رکھنا و دشمن کے جاسوسوں کو پکڑنا  اور  بقول انکے مشکوک قبائلیوں پر نظر رکھنابتایا جاتا ہے ۔ اس لشکر کے لوگوں نے محض شک کی بنا پر لاتعداد لوگوں کو  سمری انداز میں قتل کر دیا ہے اور قبائلی علاقوں میں  لوٹ و دہشت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ تقریبا ۳۰۰ طالبان،ازبک ،عرب و پنجابی طالبان اس گروپ کے ممبر بتائے جاتے ہیں اور اس گروپ کو موجودہ سربراہ ایک سعودی دہشت گرد  ہے۔  اس گروپ نے مملکت پاکستان کے اندر حکومت در حکومت قائم کر رکھی ہے جو کی ناقابل برداشت ہے۔

 بیت اللہ  محسود  اپنے شیطانی ،طالبانی نیٹ ورک کو چلانے پر تقریبا ۴۵ ملین ڈالر سالانہ خرچ  کیا کرتے تھے جس سے وہ ہتھیار و آلات  اور گاڑیاں خریدتے اور زخمی دہشت گردوں کے علاج معالجہ اور ہلاک شدگان کے ورثا کو رقم ادا کرتے اور دہشت گردوں کو تنخواہین ادا کرتے تھے، جو کہ ۱۷۰۰۰ روپے ماھانہ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ناجائز ذرایع سے اکٹھا کیا ہوا   بہت سا روپیہ پیسہ  باہر کے ملکوں میں  کاروبار و منافع کیلیئے بھی لگائے رکھا۔ دوسرے طالبان لیڈرز جو روپیہ پیسہ  خرچ کرتے ہین وہ اس  رقم کے علاوہ ہے۔

ایک اظلاع کے مطابق  اب طالبان نے خودکش حملے کرنے والوں کی ادائیگی مین ۳ گنا اضافہ کر دیا ہے اور اب ان  لوگوں یا ان کے لواحقین کو کو فی کس ۹۰ ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔

                             طالبان کے مالی وسائل کے  لا تعداد ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر ان سے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے  چندے وعطیات، زکواۃ ، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوا اور لوٹ مار  و  ڈاکہ زنی  و بنک ڈکیتیاں جو طالبان  ،  بلیک نائٹ گروپ کے ذریعہ پاکستان بھر میں کرتے ہیں، اور بلیک نائٹ گروپ براہ راست حکیم اللہ محسود و  ولی الرحمن کی نگرانی میں کام کرتا ہے، معروف کاروباری،غیر ملکی اور حکومتی افراد کا اغوا برائے تاوان ( شہباز تاثیر کو طالبان نے اغوا کر رکھا ہے)اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میں کاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم اور القائدہ سے ملنے والی رقوم شامل ہیں ۔  اس کے علاوہ اتحادی فوج کی افغانستان جانے والی گاڑیوں کا اغوا اور ان سے بین الاقوامی سامان اور ہتھیاروں کی چوری، عسکریت پسندوں کے مالی وسائل کا ایک اور اہم ذریعہ ہیں۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ 2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر مین فروخت کئیے۔

                          تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور بلوچستان میں  درآمد اور برآمدہونے والی منشیات سے بھی اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔ وزیر اور محسود قبائل کے دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے پشتون نژاد باشندے درحقیقت ملک بھر میں اسلحے کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ وہ درہ آدم خیل اور اورکزئی ایجنسی میں تیار ہونے والے سستے اسلحے  و غیر ملکی اسلحہ کا کاروبار کرتے ہیں۔  اس کاروبار کا سارا منافع طالبان کو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں طالبان پاکستان کے دشمنون سے مدد لینے کو عار نہیں سمجھتے اور اس کا اعتراف خود حکیم اللہ محسود نے کیا تھا۔

                              قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلٰی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی بیس فیصد آمدنی کا ذریعہ اغوا اور بینک ڈکیتیوں سمیت جرائم ہیں جبکہ وہ پچاس فیصد آمدنی عطیات اور بھتہ خوری اور بقیہ تیس فیصد منشیات کی تجارت سے حاصل کرتی ہے۔ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ ۲۰۰ ملین ڈالر  سالانہ لگایا گیا ہے جو کہ طالبان کی آمدنی کی ریڑہ کی ہڈی کی حثیت رکھی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان  افیون،  ذمرد  و دیگر قیمتی پتھروں ،لکڑی اور تمباکو  کے غیر قانونی کاروبار  اور اشیا ءکی سمگلنگ مین بھی ملوث ہین۔ طالبان کافی عرصہ سے  صوبہ سرحد او فاٹا  کے کچھ حصہ مین لکڑی کی تجارت کو کنٹرول کر رہے ہین اور جانوروں کی سمگلنگ  سے بھی اپنا حصہ وصول کرتے ہین۔قبائلی علاقوں میں سامان کی ترسیل قبائل کے ہی مرہون منت ہے،قبائلی اشیاء کی ترسیل پر مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر لوگ جو کاروبار سے منسلک ہیں وہ عسکریت پسند یا طالبان کے حامی نہیں ہیں تاہم جو راستے تجارت کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں وہ طالبان کے زیر کنٹرول ہیں جس کی عسکریت پسند راہداری وصول کرتے ہیں۔

فاٹا کے قبائلی علاقوں میں کچھ پیداواری علاقے اہمیت رکھتے ہیں مہمند ایجنسی کو سنگ مرمر کی ایک بہت بڑی صنعت سمجھا جاتا ہے جبکہ شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں جنگلات کی لکڑی کی تجارت نے ان کی معیشت کو مضبوط بنایا ہے۔ سنگ مرمر اورلکڑی کی ترسیل کے لئے طالبان کو بہت زیادہ رقم دی جاتی ہے کیونکہ یہ علاقے طالبان کے زیر اثر ہیں جس کی وجہ سے ان کے خزانے ہر وقت بھرے رہتے ہیں۔

فاٹا کے قبائلی علاقوں میں”حوالہ” نظام بہت مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں انفرادی یا اجتماعی طور پر من مرضی کی رقم بلا خوف و خطر بھجوائی جاسکتی ہے اور تمام کام قابل اعتماد طریقے سے انجام پاتا ہے پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیزجو کہ بذات خود ایک بینکار تھے انکا مانناتھا ہر سال سالانہ5 بلین ڈالرز ملک سے باہر بھجوائے جاتے رہے ہیں۔ایک قومی روز نامے کے اداریے کے مطابق تین قدرتی وسائل قیمتی پتھر، لکڑی، اور سنگ مرمر نے عسکریت پسندوں کی مالی اعانت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

طالبان اپنی آمدنی محصولات ، ٹیکس اور جرمانوں کی صورت میں بھی حاصل کرتے ہیں جو کہ غیر اسلامی سرگرمیوں کے نتیجے میں عائد کیے جاتے ہیں ان میں نوجوان مسلمان مردوں کا داڑھی منڈوانا، زکواة ، مجرمانہ سرگرمیاں اور اس کے علاوہ اغواء برائے تاوان وغیرہ شامل ہیں بعض اوقات تاوان کی رقوم 10 ملین روپے تک بھی وصول کی گئی ہیں۔جان سلیمان کے تخمینے کے مطابق پاکستانی طالبان کا85 سے 90 فیصد کے درمیان محصولات کا انحصار مجرمانہ سرگرمیوں اور منشیات کے کاروبار پر ہے۔

طالبان نے پاکستان شیل اور  پی ایس او سے ۴۰ کروڑ روپیہ بطور تاوان طلب کیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں  تیل کی تنصیبات پر حملوں کی دہمکی دی۔

ایک سوال بہت اہم ہے کہ طالبان  لڑائی کے لئے  اسلحہ کہاں سے حاصل  کرتے ہینا ۔ اسلحہ کی تجارت کمائی کا بہت بڑا ذریعہ تصور کی جاتی ہے۔ قبائل میں لوگوں کی اکثریت اسی کاروبار پر انحصار کرتی ہے ہزاروں لوگ اسلحہ بنانے کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ ہتھیاروں کی تجارت درہ آدم خیل جو کہ پشاور اور کوہاٹ کے درمیان ایک چھوٹا سا قصبہ ہے کی مارکیٹ میں کی جاتی ہے اس کے علاوہ سخاکوٹ(مالاکنڈ) باڑہ(خیبر ایجنسی) پشاور کے کارخانوں کی مارکیٹیں میران شاہ(شمالی وزیرستان کی ایجنسی کا اہم قصبہ) اور مہمند ایجنسی اسلحے کی مارکیٹ کے اہم مراکز ہیں۔تاہم چھوٹے پیمانے پر فاٹا کے تمام علاقے اسلحہ بنانے اور اس کاروبار میں اپنا کردار ادا کرنے میں شامل ہیں۔

پاکستان کےبہت سے جرائم پیشہ عناصر،جرائم کرنے کے بعد  قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے ہین جہاں وہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر تنظیمیوں میں شامل ہوئے جو انہیں قتل، اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین وارداتوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تحریک طالبان و دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے ان تنظیموں کے پاس فنڈز کی کمی ہوگئی ہے جسے پورا کرنے کے لیے ان اشتہاری ملزمان کو اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

                             پاکستان مین کوئی دن خالی نہیں جاتا ہو گا جب طالبان یا ان کے ساتھی بہت سے افراد کو اغوا نہ کرتے ہوں گے۔ کراچی اور پشاور اس حوالے سے ابھی تک انتہائی خطرناک اور بدنام شہر ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اپنے زیر اثر علاقوں میں خود کارروائیاں کرتی ہے جبکہ دیگر مقامات پر وہ  دیگر جہادی تنظیموں اور ساتھیوں کی مدد سے سرگرم عمل ہے۔  ایک وقت ، طالبان نے  صوبہ سرحد کے سکھوں سے  ۵۰ ملین روپیہ سالانہ جزیہ طلب کیا تھا اور عدم ادائیگی کی صورت مین سکھوں کے  لیڈر سردار سیاوانگ سنگھ کو قیدی بنا لیا گیا اور سکھوں کے بہت سے گھروں پر طالبان نے قبضہ کر لیا ۔

خیبر ایجنسی کے ایک قبائلی تاجر نے بتایا کہ  طالبان ،افغانستان جانے والے ان ٹرکوں پر حملہ کر کے سامان کو تہس نہس کر دیتے ہیں اور بچا کھچا سامان خیبر ایجنسی کی حدود میں واقع پاک افغان شاہراہ طورخم پر پھینک دیتے ہیں۔ لوٹی گئی اشیاء پاکستان اور افغانستان کے بازاروں میں سر عام فروخت ہو رہی ہیں۔

اسلام آباد کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام کے ایک قریبی  رشتہ دار کو پشاور سے اغوا ہونے کے بعد 50 لاکھ روپے ،تاوان کے عوض رہا کرایا گیا۔ یہی کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ بھی ہوا۔  افغانستان مین پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کو بھی طالبان نے ہی اغوا کیا تھا۔

2008 سے 2009 کے دوران کراچی پولیس نے طالبان کی جانب سے بینک ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا سراغ لگایا۔ اکتوبر 2008 میں، اغواکاروں نے فلم پروڈیوسر ستیش آنند کو اغوا کر کے چھ ماہ تک سوات کی تحصیل مٹہ کے نزدیک ایک علاقے میں رکھا۔ ان دنوں یہ علاقہ مولانا فضل اللہ کی زیر قیادت ایک طالبان گروپ کے قبضے میں تھا۔

چوہدری اسلم ،سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کراچی نے بتایا کہ کراچی آجکل لاقانونیت کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر واقعات میں فاٹا کے مختلف علاقوں میں تاوان کی ادائیگی کا سراغ لگایا گیا ہے جس کے ڈانڈے طالبان سے ملتے ہین۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم تحریک طالبان پاکستان کو اپنی عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کو چلانے اور تنظیمی انتظام کرنے کے قابل بناتی ہے۔

افغانستان میں 2010ء مین پیدا ہونے والی افیون کی مقدار 3600 میٹرک ٹن تھی لیکن اس سال یہ مقدار بڑھ کر 5800میٹرک ٹن ہو جائےگی جو ماضی میں اس ملک کا خاصا رہی ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق تازہ اندازوں کی بنیاد پر افغانستان سے بین الاقوامی منڈی کو اسمگل کی جانے والی منشیات 2011ء میں ماضی کی طرح ایک بار پھر 90 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے اسے ایک تشویش ناک پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ افغان اکیلے اس صورت حال کو کنٹرول نہیں کرسکتےاس لئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی اُن کی مدد کرنا ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک نمایاں حصہ افغانستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی تخریبی کارروائیوں کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور عسکری تنظیموں کو منیشات سے ہونے والی آمدنی اس سال بڑھ کر 70 کروڑ ڈالر ہونے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ امن وامان قائم کرنے میں مصروف بین الاقوامی افواج انسداد منشیات کی طرف بھی اتنی ہی توجہ دیں۔

نورستان سے پارلیمنٹ کے رکن کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان عسکریت پسند مقامی لوگوں سے زبردستی ٹیکس لیتے ہیں اور پیٹرول اور دیگر اشیاء پر رعایات حاصل کرتے ہیں۔ طالبان کے کنٹرول علاقوں میں اسکولوں اور کلینکوں کو بند کردیا گیا ہے۔

حکیم اللہ محسود اور  القائدہ کے تمام لیڈروں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر     TTP کے سکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں  کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک  و اغوا کئے جانے اور خلاف شریعہ لوٹ مار کو اس بیعت  اور اپنے  جاری شدہ  code of conductکی خلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔ اور  تحریک طالبان پاکستان ، القائدہ کے اشاروں پر پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہین۔ القائدہ شیخ عطیہ اللہ کے بیان کی خلاف ورزی مین مصروف ہے جس مین انہون نے مساجد، سکولوں اور معصوم شہریوں پر حملوں سے منع کیا تھا۔ لگتا ہے یہ سب  شتر بے مہار ہین اور اپنے بیعت کی بھی پرواہ نہیں کر رہے۔

                                اک عجب تماشہ ہے کہ طالبان غیر قانونی،غیر اخلاقی اور  اسلامی شریعت کے منافی، لو ٹ مار سے ، دولت  و طاقت حاصل کرکے ملک مین اسلامی نظام نافذ کرنے کے درپے ہیں اور اکثریت پر ، جو کہ مذہبی رواداری اور بھائی چارے پہ یقین رکھتی ہےاپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان حرام اور حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی غلط طریقوں و خیالات و اقدار پر رکھی گئی  ہے ،   اس عمارت کا انجام کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی غلط اور ناپائیدار  ہو؟

                              بھائیوں اور بہنوں اگر ہمین طالبان دہشت گردوں  اور ان کے تنگ نظری والے فلسفہ کو شکست دینا ہے اور اس  طالبانی عفریت سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرناہے تو ہم سب کو مل کر طالبان کے روپے پیسے کے حصول کے تمام چشموں و سوتوں کو ہمیشہ کے لئے بند کر نا ہو گا۔ تاکہ نہ ہو گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔

(Latest updated)

تحریک طالبان پاکستان کی ڈانواں ڈول کشتی تحریک طالبان کی کشتی ڈانواں ڈول ہے ،اس کے پیندے میں بے شمار ناقابل مرمت، بڑے بڑے سوراخ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے کشتی میں مسلسل پانی بھر رہا ہے اور اس پر تماشہ یہ کہ کشتی  بھنور میں پھنس کر رہ گئی ہے اور اس کشتی کے کنارے لگنے کے چانسز صفر سے بھی کم  ہیں۔  اس کشتی کے مسافر ،اپنی جانیں  بچانے کے لئے کوشان ہیں اور کچھ مسافر تیر کر کنارے پر پہنچ گئے ہین باقی تیرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔  کشتی کا ناخدا  ایک انتہائ  نا تجربہ کار ،نااہل اور تنظیمی صلاحیتوں سے عاری شخص ہے،  جس  کا پیدائشی نام ذوالفقار تھا مگر اس نے حکیم اللہ کا نام اختیار کر لیا۔ اس ذوالفقار میں نہ تو  ذولفقار حیدری والی کاٹ ہے اور نہ ہی یہ  حکیم ،حکمت کا مالک ہے۔ کشتی طالبان کا یہ حال اس شخص کی نااہلیوں ،ناتجربہ کاریوں اور کوتاہ اندیشیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔  اس کشتی کے عملہ کے لوگ موقع پرست،نا اہل اور  اور تنظیمی صلاحیتوں اور اپنے کام سے، اپنے ناخدا کی طرح ناواقف ہیں۔  کشتی طالبان کے  ہونے والے  مسافر  اس کشتی کی مزید افادیت اور کارکردگی سے انتہائی مایوس ہیں  اور اس کے ناخدا سے نالاں و بیزار ہیں اور اس پر کسی قسم کا اعتماد کرنے کے لئے تیار نہ ہیں اور دوسری طرف دیکھ رہے ہیں۔

                اگست 2009 میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں اپنے بااثر رہنما ، بیعت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان ایک متحدہ کمان کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔  تحریک طالبان مختلف گروپوں کا ایک  ڈھیلا ڈھالہ وفاق ہے جو اپنی سوچ میں مختلف الخیال ہیں اور دیو بندی عقائد پر یقین رکھتے ہیں۔

             تحریک طالبان پاکستان  ،جو القائدہ سے الحاق شدہ ہے،کو قیادت کا بحران درپیش ہے کیونکہ اس کا موجودہ سربراہ حکیم اللہ محسود قیادت کے لحاظ سے انتہائی ناتجربہ کار اور نااہل ہے جبکہ باجوڑ ایجنسی کا ایک ممتاز کمانڈر مولوی فقیر بھی اسے متحد رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور نہ ہی نائب کماندار ولی الرحمن اس سلسلہ میں کچھ کر سکتا ہے۔ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک میں اختلافات کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ یہ اختلافات کمانڈر حکیم اللہ محسود، ایک اہم کمانڈر ولی الرحمٰن اور باجوڑ ایجنسی میں بیت اللہ کے ایک نائب مولوی فقیر کے درمیان ابھرے اور ان سے ایسے تنازعے کا آغاز ہوا جو آج تک جاری و ساری  ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کئی دھڑوں میں تقسیم ہو کر 100سے زائد گروپوں میں بٹ گئے ہیں، پاک فوج نے آپریشن اور امریکی ڈرونز  کےحملوں نے ان  کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے، پاکستان حکومت کے ساتھ ، ان کی کمزوری کے بعد ،امن مذاکرات کے بیانات آرہے ہیں ،مالی لحاظ سے تحریک طالبان انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ فاٹا میں ایک سینئر محقق منصور محسود نے کہا ہے کہ "آج  تحریک طالبان کا ڈھانچہ تقسیم اور کمزور ہوچکا ہے او ر انکے پاس رقم ختم ہوچکی ہے۔ یہ صورت حال پاک فوج اور حکومت کے لئے وسیع پیمانے پر معاون ثابت ہوئی ۔ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جیسے بیانات اسی پس منظر کی وجہ سے سامنے آرہے ہیں۔

             طالبان کی طرف سے ہونے والے خودکش حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے بار بار واقعات اور بعض علاقوں میں ان کے خلاف عام لوگوں کے اٹھ کھڑے  ہو جانے سے آجکل طالبان کی حمایت، عوام میں  بہت زیادہ کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خیال ر ہے کہ قبائلی علاقوں اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں طالبان کی مقبولیت کا گراف اب وہ نہیں رہا جو کبھی پہلے ہوا کرتا تھا۔

                 طالبان نے نہ تو مساجد کے تقدس  کا خیال کیا اور  نہ ہی اولیا اللہ اور بزرگوں کے مزارات کی حرمت کا۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کا خوں پانی کی طرح بہایا۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور طالبان کے ظلم و جبر ،بربریت و سفاکی تمام حدیں پھلانگ گئی ،جس سے رائے عامہ ان ظالموں اور بھیڑیوں کے خلاف ہو گئی۔

               طالبان کے خلاف نفرت پھیلنے کی ایک وجہ  مزارات اور مساجد کی تباہی بھی ہے اور مزارات کی توہین کو خوش عقیدہ قبائلیوں اور پاکستانیوں کی بریلوی اکثریت اور  غیرت مند جوانوں نے فراموش نہیں کیا۔ طالبان دہشت گردون نے پچھلے ۱۰ سالون مین لا تعداد مساجد کو  بے رحمانہ طریقے سے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور ۱۱۶۵ نمازیون کو قتل کر کے  اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور ۲۹۰۰ نمازیوں کو زخمی کر دیا، جن مین بچے،بوڑھے اور نوجوان شامل ہین۔  آجکل مساجد میں عبادت گزار ون کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی لذت اورعبادت کی سعادت کی بجائے اپنی جان کے لا لے پڑے ہوتے ہیں۔

طالبان کی  طرف سے صوبہ خیبر پختونخواہ مین  ایک ہزار سے زیادہ اسکولوں، مساجد اور عام لوگوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک کئے جانے کو قبائلی علاقوں اور پاکستان کے دوسرے علاقوں مین اب  پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔طالبان نے ستمبر  ۲۰۱۰  تک ۱۰۰۰ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولون کو تباہ و برباد کر کے  قرآن ،رسول اکرم کی احادیث اور آیمہ کرام کے احکامات کی صریحا خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہین۔   طالبان  درندوں نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں  ، بچیوں اور اساتذہ کو بھی  نہین بخشا۔

ان حملوں کی وجہ سے قبائلی باشندے آہستہ آہستہ طالبان کے بے اصول جہادی رویے سے تنگ آ گئے ہیں اور طالبان کی مقبولیت میں کمی واضح طور  پر دیکھنے مین آئی ہے اور  محسوس بھی کی جا رہی ہے۔  بہت سے دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طالبان بہت جلد فاٹا کی قبائلی پٹی میں بھی معدوم ہو جائیں گے کیونکہ عام لوگ مسلسل اپنے عزیزوں اور بچوں کی ہلاکت کے باعث غمزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے معاشی اور معاشرتی پریشانی کی چکی میں  بری طرح پس کر رہ گئے ہیں۔  پاکستان بھر مین اور بالخصوص صوبہ خیبر پختونخواہ میں تمام معاشی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں جس سے معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ پہلے سے انتہائی غریب اور پسماندہ   پاکستانی اور قبائلی معاشرہ اب مزید پریشانی  کا شکار ہو چکا ہے۔

            فرقہ وارانہ تنازعات کے گڑھ کرم ایجنسی کے سنی علاقوں میں فضل سعید حقانی کا کافی اثر و رسوخ ہے۔ وہ کسی زمانے میں تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھا مگر علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی سے کچھ ہی عرصہ قبل جون 2010 میں اس نے حکیم اللہ سے اپنی راہیں جدا کر لیں۔

           سوات سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم رئیس  کا کہنا ہےکہ ان کے آبائی ضلع میں طالبان تمام اقسام کی جابرانہ اور ظالمانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اپنے مخالفین کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر سر عام پھانسی دیا کرتے تھے جو کہ دین اسلام کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی اس طرح کی حماقتوں سے ان کی شہرت داغدار ہو گئی اور عوام کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی ہے۔

             پیو  کےعالمی رجحانات منصوبے کے جاری کردہ رائے عامہ کے جائزے میں 51 فی صد افراد تحریک طالبان پاکستان کے مخالف جبکہ اس کے مقابلے میں محض 18 فی صد اس کے حامی ہیں۔ علماء کے قتل، مزاروں کی توہین، مساجد کی تباہی اور اسکولوں کے بموں سے اڑا دیے جانے سے قبائلی عوام پریشان ہیں اور ایسے امکانات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ کل جن طالبان کو قبائلیوں نے خوش آمدید کہا تھا، اب وہ ان کے خلاف خود ہی منظم ہو رہے ہین۔

                        گیلپ سروے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں عام لوگوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں اضافے کیساتھ پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔سروے کے مطابق جون 2009 میں مجموعی طور پر طالبان کو15 فیصد پاکستانیوں کی حمایت حاصل تھی۔ جو نومبر دسمبر میں کم ہو کر صرف4 فیصد رہ گئی۔ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والوں کی صرف ایک فیصد تعدادنے نومبر دسمبر2009کے دوران کیے گئے اس سروے میں طالبان کی حمایت کی،جبکہ جون میں طالبان کے حامیوں کی تعداد11فیصدتھی۔ بلوچستان میں بھی طالبان کے حامیوں میں کمی آئی ہے،جون میں کیے گئے سروے کے مطابق صوبے میں طالبان کے حامی26فیصدتھے جبکہ نومبردسمبرمیں صرف5فیصدافرادنے طالبان کی حمایت کی۔یہ سروے پاکستان میں گزشتہ سال نومبردسمبر میں15سال یااس سے زیادہ عمرکے1147افراد سے کیا گیا۔ لوگوں سے طالبان کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں رائے لی گئی اورپھر اس کا موازنہ چھ ماہ قبل کیے گئے سروے کے نتائج سے کیا گیا۔ سروے کے مطابق افغانستان میں جون اورنومبرمیں کیے گئے دونوں سروے کے نتائج کے مطابق10میں سے8افرادطالبان کی موجودگی کو ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھتے ہیں۔

             وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سربراہ ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق خان، مولانا حسن جان اور مفتی نعیمی سمیت ماہرین تعلیم کے اغوا اور مذہبی علماء کے قتل سے طالبان کا تصور داغدار ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کھیلوں کے مخالف ہیں، وہ اسپتالوں اور اسکولوں میں کام کرنے والی خواتین کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ خواتین کے گھروں سے باہر نکلنے کے بھی خلاف ہیں۔ ان پر عوامی اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگست 2009 میں تحریک طالبان پاکستان کے رہنما بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اندرونی چپقلشوں اور کافی عرصے سے قیادت کے بحران کے باعث اس تنظیم کے اثر و رسوخ میں کمی واقع ہو چکی ہے۔ کسی زمانے میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں مختلف عسکریت پسند گروپ تحریک طالبان پاکستان کے جھنڈے تلے جمع تھے۔ چونکہ  تمام طالبان ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں  اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی  معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غیر مسلموں کو اسلام سے دور بھگا رہے ہین۔ بہت سے طالبان پاکستان سےسے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لے چکے ہیں یا پناہ لینے کی سعی کر رہے ہین۔ ان کے روپے ،پیسے  اور فنڈز کے حصول کے ذرائع  بند ہوچکے ہین اور طالباں روپیہ پیسا اکٹھا کر نے کے لئے ،بلیک نائٹ گروپ کے ذریعہ اغوا برائے تاوان،چوری و ڈاکہ زنی اور بنک ڈکیتویوں کے ذریعہ تحریک کو چلانے کے لئے رقم اکٹھی کر رہے ہین۔ لگتا ہے کہ طالبان نے عرب سپرنگ سے سبق حاصل کیا ہے اور ان کی سمجھ میں یہ بات ٓ آچکی ہے کہ  القائدہ کا مسلح جدوجہد کا راستہ انہیں کہیں لیکر نہیں جائے گا بلکہ پر امن ذرائع سے جدوجہد کر کے اور قومی دہارے میں شامل ہو کر طالبان بے پناہ سیاسی فوائد حاصل کر سکتے ہیں لہذا انہوں نے حکومت سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ طالبان کی جنگ و جدال کے نتیجہ مین ہمارے ملک کو ۶۸ ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہو چکا ہے اور ۳۵۰۰۰ سے زیادہ لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ تشدد مسائل کا حل نہ ہے بلکہ مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔ ایک فرانسیسی کہاوت ہے کہ تلوار کے زور پر سب کچھ کیا جا سکتا ہے مگر تلوار پر بیٹھا نہیں جا سکتا۔

          فاٹا کے 27 ہزار 2 سو 20 مربع کلومیٹر رقبے پر 1 سو 30 بڑے اور چھوٹے عسکریت پسند گروپ موجود ہیں جن میں سے بعض تو وہ ہیں جو تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہو چکے ہیں۔

            ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں میں کامیاب فوجی حکمت عملی کے نتیجے میں تحریک طالبان پاکستان کی کمر توڑ دی گئی ہے اور تنظیم کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔ صورت حال اس وقت تبدیل ہو گئی جب فوج نے حکیم اللہ محسود کے عسکریت پسندوں پر  فوجی دباؤ ڈال کر انہیں جنوبی وزیرستان کے اپنے گڑھ سے نکل کر شمالی وزیرستان میں جانے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد سے قبائلی خطوں میں تحریک طالبان پاکستان مختلف گروپوں میں بکھرنا شروع ہو گئی ہے۔

             بریگیڈیر شاہ نے تحریک طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے عسکریت پسند گروپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ اس وقت ان عسکریت پسند گروپوں کی کیا تعداد ہے۔  رہی سہی کسر  امریکی ڈرون حملوں نے پوری کر دی اور طالبان کی قیادت اور دوسرے لیڈروں کو چن چن کر نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں طالبان سو سے زیادہ گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔  یہ صورتحال فوج  اور پاکستانی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے لئے فائدہ مند ہے  کیونکی طالبان اب تقسیم ہو چکے ہین۔  اس کے علاوہ پاکستانی فوج کی ۔ تقسیم کرو اور فتح کروـ کی پالیسی  بھی اس معاملے بڑی ممد و معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے بہت سے کمانڈر طالبان سے علیحدہ  ہو چکے ہیں اور مختلف ایریاز میں، اپنی کمزوری کی وجہ سے  حکومت سے بات چیت کر رہے ہین یا کرنے کے خواہشمند ہیں اور اس سے تحریک طالبان مزید کمزور ہو رہی ہے۔ طالبان کی اس کمزوری کا اثر افغانستاں کی جنگ پر ہونا ایک لازمی امر ہو گا۔

قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کی اکثریت دہشت گرد نہ ہے۔ گاجر اور چھڑیStick & Carrot))  کی پالیسی جاری رہنی چاہئے اور طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ ، مائل  بہ امن طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے  کھلے رکھنے چاہیں تاکہ گم گشتہ راہ طالبان ،دوبارہ قومی دہارے مین شامل ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں مگر جو طالبان مائل بہ امن نہ ہوں ان کو کچل دیا جائے ۔ یہ  امر ہمارے ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔

 ان حالات کی وجہ سے طالبان ایک ایسے  ٹمٹماتے چراغ کی مانند ہیں جو گل ہونے کے بہت قریب ہے اور  امید ہےکہ  تحریک طالبان بہت جلد ہی تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاے گی اور تاریخ میں اس  کا ذکر خوارج اور دوسرے باغی گروہوں کے ساتھ آئے گا۔

 مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in: