کلچر


علامہ اقبال کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس سے تمام مکاتب فکر کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ سوشلزم والے “اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو” گاتے پھرتے ہیں۔ نشاۃ ثانیہ والے “نیل کے ساحل سے لے کرتابخاک کاشغر” کا الاپ جاپتے ہیں۔ علماء حضرات جمعے کے خطبے ان کے اشعار سے سجاتے ہیں اور اپنے اکابرین کے ان فتووں سے صرف نظر کرتے ہیں جو انہوں نے علامہ کی شان میں دئیے تھے۔ سول سوسائٹی والے “ذرا نم ہو تویہ مٹی” کو اپنا ترانہ بنائے پھرتے ہیں۔مارشل لاء والے “بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے” کو اپنی ٹیگ لائن کے طور پر سجاتے رہے اور جمہوریت والے “سلطانئ جمہور کا آتا ہے زمانہ” گاتے رہے۔ فوج والے “شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن” کو اپنا ماٹو قراردیتے رہے ہیں۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

پاکستان دنیا کا ایک حسين وجميل ملك

%d bloggers like this: