خیبر پختونخواہ میں سکولوں کی تباہی


خیبر پختونخواہ میں سکولوں کی تباہی

مہمند ايجنسي: گرلز پرائمري اسکول بارودي مواد سے تباہ کر ديا گيا

06 Apr, 2012

پشاور… مہمند ايجنسي ميں نامعلوم شدت پسندوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمري اسکول کو بارودي مواد سے اڑاديا..ذرائع کے مطابق مہمند ايجنسي کي تحصيل ساسي کے علاقے لکڑوميں نامعلوم شدت پسندوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمري اسکول زرگر کو دھماکہ خيز مواد سے اڑاديا،بارودي مواد پھٹنے سے اسکول کي عمارت کو جزوي نقصان پہنچا ہے ،ذرائع کے مطابق گذشتہ 3 سال کے دوران ايجنسي ميں92 اسکولوں کودھماکوں سے تباہ کيا گيا ہے.

http://www.hamariweb.com/news

اس سے پہلے4 اپریل کو  تاروجبہ۔نوشہرہ کے قریب تارو جبہ میں نامعلوم شرپسندوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا ،یہ علاقے میں دو ہفتے کے دوران یہ تیسرا سکول ہے۔ تاروجبہ میں نامعلوم شرپسندوں نے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کی عمارت میں بارودی مواد رکھا، جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا اور ان کی آواز دور دور تک سنائی گئی ،دھماکے سے سکول کے دو کمرے مکمل طور پر تباہ ہوئے۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران خیبر پختونخواہ میں عسکریت پسندوں نے 7 سو 10 اسکولوں کو تباہ کیا ہے یا انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بات 8 فروری کو خیبر پختونخواہ اسمبلی میں محکمہ تعلیم نے بتائی۔

محکمے نے بتایا کہ مالاکنڈ ڈویژن کے 6 سو 40 اسکولوں پر حملے کیے گئے۔ ان میں سے 1 سو 12 میں تعلیمی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے جبکہ حکام مزید 52 اسکولوں کی مرمت کی کوششیں کر رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے مطابق، عسکریت پسندوں نے خیبر پختونخواہ میں 1 سو 64 اسکولوں کو تباہ کر دیا۔ تباہ ہونے والے اسکولوں میں 1 سو 4 لڑکیوں کے اسکول ہیں۔ نقصان پہنچنے والے 5 سو 46 اسکولوں میں سے 1 سو 79 اسکول لڑکیوں کے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اِن حملوں کی وجہ سے علاقے میں تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور شدت پسندوں نے پانچ روز میں پانچ سکول تباہ کر دیےہیں۔جمعرات کو تازہ ترین واقعہ خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے لڑکیوں کا پرائمری سکول دھماکے سے تباہ کر دیا ہے۔

                    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں سکولوں کی تباہی ایک معمول سا بنتا جارہا ہے اور طالبان نہایت بے دردی کے ساتھ قومی دولت کو تباہ کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے چوبیس اضلاع میں بہت کم ایسے علاقے ہوں گے جہاں شدت پسندوں نے سکولوں کو نشانہ نہ بنایا ہو ۔  طالبان کی عقل و سمجھ  میں یہ نہ آ رہا ہے کہ سکولوں کو تباہ کرنا ملک و قوم کی موجودہ و آئندہ نسلوں  سے عظیم دشمنی ہے اور پاکستان کے عوام ان کو اس وطن دشمنی پر کبھی معاف نہیں  کریں گے۔

                 سکول ایک قومی دولت ہیں،  جہاں  پاکستان کے بچے اور بچیاں اپنے آپ کو    زیور تعلیم سے آراستہ کر   کے آئندہ ملک و قوم کی خدمت کر نے کی سعی کرتے   ہیں۔۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد  اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی  کا تمام دارومدار و انحصار ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی ۲۵ ملین بچے اور بچیاں حصول تعلیم کی نعمتوں سے محروم ہیں اور طالبان سکولوں کو تباہ کرکے اس محرومی  میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

طالبان نے ستمبر  ۲۰۱۰  تک ۱۰۰۰ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولون کو تباہ و برباد کر کے  قرآن ،رسول اکرم کی احادیث اور آیمہ کرام کے احکامات کی صریحا خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔   طالبان  درندوں نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں  ، بچیوں اور اساتذہ کو بھی  نہین بخشا۔ طالبان کے مذید حملوں کے خوف کی وجہ سے  صوبہ کے ۲۰۵ پرائمری سکول بند کر دئیے گئے جس سے ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہو گئیں۔

اقوام متحدہ کے کمشنر مہاجرین کی ایک روپورٹ کے مطابق  ۱۔۸ ملین آبادی کے علاقہ مین ۳ سال پہلے ۱۲۰،۰۰۰ لڑکیاں سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھین جو ، اب کم ہو کر  صرف    ۴۰،۰۰۰رہ گئیں۔ ۳۰ فیصد سے زیادہ لڑکیاں سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ مین مولوی فضل اللہ کی دہمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے  سوات کے سکول چھوڑ گئیں۔ طالبان نے سوات مین سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔

اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی اور اسلام میں تعلیم کی اہمیت پر بڑا زور دیا گیا ہے۔غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی  صلعم کو کہا گیا :

”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم.

(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔(العلق:۱-۵)

یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ

(تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہواہے ،اللہ اس کے درجات بلند فرمائے گا اورجو عمل تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔(المجادلہ:۱۱)

دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:

(اے نبی،کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(الزمر:۹)

تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا۔)(الرعد:۱۶)

(اے پیغمبر کہو:اے میرے رب !میرا علم زیادہ کر۔)(طٰہٰ:۱۱۴)

اور تجھ کوسکھائیں وہ باتیں جو نہیں جانتا تھااور یہ تیرے رب کا فضل عظیم ہے۔(النساء:۱۱۳)

                 ایک سینئر صحافی کو طالبان کے سابق  ترجمان ذیبح اللہ مجاہد کی طرف سے بھیجے گئے ای میل مورخہ ۲۸ مارچ  میں ملا عمر کا کہنا ہے کہ طالبان تعلیم و تربیت کی اہمیت کو جانتے ہیں اور وہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ علم کے حصول ہی کو سمجھتے ہیں۔ ملا عمر نے اپنے ردعمل پر مشتمل تفصیلی پشتو بیان میں مزید کہا کہ طالبان کبھی بھی افغان عوام کیلئے بنائے گئے تعلیمی اداروں،اسپتالوں اور عوامی مقامات کو بموں سے اڑانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں ۔ بموں سے اڑانے والے افغانوں کے دشمن ہیں یا پھر دشمنوں کے ایجنٹ ہیں جو طالبان کو بدنام اور افغانستان کو تباہ کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں۔ادہر  ۱۹ نومبر ۲۰۱۱ کو تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ طالبان کبھی بھی لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف نہیں رہے اور طالبان صرف  سیکولر اور مغربی تعلیم کے مخالف ہین جس میں ساری توجہ  بقول ان کے دنیاوی تعلیم پر دی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ دو ہزار نو میں جب وادی سوات کے اکثر علاقے طالبان کے کنٹرول میں تھے تو ان دنوں خوف کی وجہ سے لڑکیاں سکول نہیں جاسکتی تھیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختون خوا میں سب سے پہلے سرکاری سکولوں پر حملوں کا آغاز بھی سوات سے ہوا تھا۔ سوات میں سب سے زیادہ یعنی چار سو کے قریب سکول بم دھماکوں یا دیگر حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔

               چونکہ سکولوں کی تباہی کے تمام واقعات صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہو رہے ہیں اور اگر طالبان ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزان ہیں، تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان واقعات کی مذمت کریں اور اپنے آپ کو بری الذمہ  قرار دیں اور ان لوگوں و  گروہوں  کو جو  ان واقعات کے اصل ذمہ دار ہیں  ، بے نقاب کریں ۔

               سکولوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں پاکستان مین  غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی  و دہشت گردی جیسے مسائل مزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ‌ سے ہم پاکستان میں  دہشتگردی و انتہا پسندی و جہالت  کی عفریت پر قابو  پا سکتےہیں اور اسی مین پاکستان کی تعمیر و ترقی کی تعبیر مضمر  ہے۔

 

Advertisements

“خیبر پختونخواہ میں سکولوں کی تباہی” پر ایک تبصرہ

  1. یہ جس نے کیا ہے بہت برا کام اور قابلِ مذمت ہے۔ امریکی قاتلوں اور ان کے ایجنٹ کو پاکستان سے باہر نکالو۔

تبصرے بند ہیں۔