دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات


دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات       

                  خيبر پختونخوا اور قبائلي علاقوں ميں دہشت گردي نے جہاں انفراسٹرکچر اور معاشرتي قدروں کو پامال کيا وہيں صوبے ميں صنعتي ترقي کا پہيہ بھي جام ہونے کو ہے اور معیشت پر دہشت گردی کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ . خيبر پختون خوا کے گلي کوچوں ميں دہشت گردي کے خلاف لڑي جانے والي جنگ نے صوبے کي صنعتوں کو بھي نگل ليا. دس سال قبل خيبر پختون خوا ميں 2254کارخانے تھے.تاہم دہشت گردي کے باعث 1600کارخانے بند ہو گئے اور صنعت کاروں نے دوسرے شہروں کي راہ لي. صنعتوں کي بندش کے باعث 50ہزار سے زيادہ مزدور بے روزگار ہوئے. قبائلي علاقوں ميں بھي دہشت گردي اورفوجي آپريشنز کے باعث لگ بھگ اڑھائي سو کارخانے بند ہو ئے .صنعتوں کي بندش کے باعث صوبے کي برآمدات پچاس فيصد کم ہوگئيں جبکہ صنعتي پيداوار کم ہوکر 25فيصد رہ گئي ہے.صوبے کے صنعتي يونٹوں ميں تين کے بجائے اب صرف ايک شفٹ ميں کام ہوتا ہے. دہشت گردي کے ساتھ اغوا برائے تاوان کي وارداتوں کي وجہ سے بھي صنعت کار پريشان دکھائي ديتے ہيں.علاوہ ازین،  آپریشنز زدہ علاقوں سے آبادی کا  محفوظ علاقوں کی طرف انخلا ،معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

                  پاکستان کے چاروں صوبے میں سے صوبہ خیبر پختونخواہ نے عسکریت پسندی کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور یہاں افغان مہاجرین کی آمد رہی ہے۔ عاقل شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث میرے صوبے میں دو سو سال کے برابر ثقافت کو نقصان پہنچا ہے اور آمدنی کا ہر ذریعہ ختم ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار عاقل کے ان اندازوں کو تقویت دیتے ہیں۔

               دہشت گردی کے خلاف    جنگ نے نہ صرف ہماری معیشت بلکہ پاکستان کے سماجی و معاشرتی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔  یہ جنگ پاکستان کے منتظم علاقوں (Settled Areas) میں متعدی وباء کی طرح پھیلی ہے جو اب تک پاکستان کے35000 (40,000) سے زیادہ شہریوں اور 3500 سیکورٹی اہلکاروں کو کھا چکی ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کی تباہی ہوئی، جس کی وجہ سے شمال مغربی پاکستان میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری کا ماحول غارت ہوا۔ جس کی وجہ سے ملکی پیداوار تیزی کے ساتھ پستیوں کی طرف لڑھکی، جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کے بیشتر حصوں میں اقتصادی سرگرمیاں کلی طور پر جامد ہو کے رہ گئیں۔ پاکستان نے کبھی اس پیمانے کی سماجی، معاشی اور صنعتی تباہ کاری نہیں دیکھی تھی .     

                  دہشت گردی اور غیر ملکی جہادیوں کی بہتات کی وجہ سے فاٹا کے بہت سے لوگ اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں مین آباد ہو گئے ہیں اور فاٹا ایریا میں غربت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے ، نئی انڈسٹریاں نہ لگ رہی ہیں، کاروبار برباد ہو گئے ہیں ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔ دہشت گردی کے ضمن میں رستم شاہ مہمند کا کنا ہے کہ ’سارا نظام ختم ہوگیا ہے اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ گھر اُجڑ گئے۔گاؤں ختم ہوگئے، باغات ختم ہوگئے ہیں اور مارکیٹیں تباہ کردی گئیں۔ سکولز تباہ ہوگئے۔ قبائلیوں میں جو خوداعتمادی تھی وہ ختم ہوگئی ۔

             کراچی سے خیبر تک رونما ہونے والے دھماکوں نے عام آدمی کے چہرے سے مسکراہٹ چھین کر اسے ذہنی تناؤ کا شکار بنادیا ہے۔

           شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ ہے  جہاں سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں میں باآسانی کاروائیان کرتے ہیں ۔  اسامہ بن لادن کی باقیات اس علاقے سے باہر کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں . القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں ۔

            صوبہ خیبر پختونخوا ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں پہلے ہی مختلف شعبوں میں پسماندگی کا شکار تھا اور اس ’جنگ‘ کے نتیجے میں اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ترقی کی گاڑی کو’ریورس گیئر‘ لگا دیا گیا ہو۔عسکریت پسندوں کے حملوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف شہروں میں بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں پانچ سے سو زائد سکول تباہ ہوئے ہیں جبکہ نجی املاک، فوجی مراکز، پولیس تھانوں اور سرکاری و نجی عمارات کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔لوگوں کے کاروبار، روزگار، معیشت، رہن سہن، روایات ، ثقافت الغرض زندگی کا کوئی ایسا پہلو باقی نہیں رہا جو اس جنگ کی وجہ سے تباہی کے دہانے تک نہ پہنچا ہو۔
پاکستان اور دہشت گرد اکٹھے نہ رہ سکتے ہیں اور نا ہی پاکستان دہشت گردوں کو اکیلے کچل سکتا ہے،ایسا کرنے کے لئے پاکستان کو گلوبل تعاون  اور مدد درکار ہے۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق چیف سیکرٹری سنگی مرجان محسود کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں کی دیرینہ روایات کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں مُسلح جنگجو طالبان موجود ہے ان کا اپنا طریقہ کار ہے اور ان کے طریقے قبائلی روایات کے مطابق نہیں۔اس لیے علاقے میں قبائلی روایات اور رواج کو کافی نقصان پہنچا ہے۔قبائل کی روایتی مہمان نوازی اور شادی بیاہ کی تقریبات بھی متاثر ہوئی ہیں اور وہ قبائلی جو پہلے مہمانوں کی آؤ بھگت کے لیے مشہور تھے اب مہمانوں سے بھی دور بھاگنے لگے ہیں۔
اسی بارے میں افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر رُستم شاہ مہمند کہتے ہیں کہ ’قبائلی علاقوں میں بڑوں اور چھوٹوں کا اپنا اپنا کردار تھا، جرگہ اور علاقائی ذمہ داریاں تھیں۔ معاشرے کے اندر بنا بنایا خود احتسابی کا عمل موجود تھا لیکن اب سب کُچھ ختم ہو کر رہ گیا ہے‘۔
دس سال کے اس عرصے میں قبائلی معاشرے کی ثقافت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہ معاشرہ جہاں رباب، منگے، طبلہ اور ڈھول جیسے روایتی آلاتِ موسیقی بوڑھوں، جوانوں اور بچوں سب میں مقبول تھے طالبان کے خوف کی نذر ہو گیا ہے۔

ایک سینئر صحافی اور سماجی کارکن شفقت منیر نے کہا کہ وزارت کا تخمینہ بہت کم ہے۔  شفقت منیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا درست تخمینہ لگانا انتہائی دشوار ہے۔ لیکن ایک چیز واضح ہے۔ پاکستان اس کی قیمت ادا کرتا رہے گا کیونکہ آئندہ کئی سالوں تک سرمایہ کاری، برآمدات اور دیگر اقتصادی عوامل متاثر رہیں گے۔

وفاق کے زیر اتنظام قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے محمد کامران خان رکن قومی اسمبلی ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام پاکستان کے لئے ایک بھیانک خواب کی مانند تھی لیکن اس کا زیادہ اثر قبائلی علاقوں پر پڑا۔ کامران نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد طالبان نے قبائلی پٹی کو بدترین نشانہ بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے پہلے ہی پسماندہ شمالی علاقے میں آئندہ بھی کسی ترقی کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔

مبصرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جانی و مالی نقصان سے زیادہ نقصان دہ بات قبائلی روایات، رسم و رواج کی تباہی ہے کیونکہ اس سے قبائلی شناخت کے ختم ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
شیخ ارشد، جن کی دکان بم دھماکے سے تباہ ہوئی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’امن و امان کی صورتحال روز بہ روز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ میں ہر روز کاروبار کے لئے بازار آتا ہوں لیکن مجھے اس بات کا یقین نہیں ہوتا، کہ زندہ سلامت واپس گھر لوٹوں گا۔،،
                دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ ہمارےعوام کی سلامتی اور ترقی کے لئے یہ امر انتہائی اہم اور ضروری ہے اوریہ ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔ہم کب تک دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے؟

 

 

 

 

 

 

 

Advertisements

“دہشت گردی کے صوبہ خیبر پختونخواہ پر اثرات” پر 3 تبصرے

تبصرے بند ہیں۔