اسامہ کی بیواؤں کے سینے میں اب بھی اہم راز پوشیدہ ہیں


اسامہ کی بیواؤں کے سینے میں اب بھی اہم راز پوشیدہ ہیں

              القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن کے خاندان سے تفتیش کرنے والے ایک پاکستانی تفتیشی افسر نے انکشاف کیا ہے کہ اسامہ کی بیواؤں نے اُنہیں بہت سے راز کی باتیں نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کو اپنی زندگی میں اپنی بیگمات پر بہت بھروسہ تھا اور بیویوں نے بھی دنیا کو مطلوب اپنے شوہر کے ساتھ بدعہدی اور بے وفائی نہیں کی۔ اسامہ کی تمام بیویاں نہایت وفا شعار ثابت ہوئیں۔ انہوں نے دوران تفتیش بہت سے رازوں سے پردہ اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی”رائیٹرز” کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی تفتیش کار جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی کا کہنا ہے کہ اسامہ کے قتل کے بعد ان کی زیرحراست بیواؤں سے کئی پہلوؤں سے تفتیش کی گئی، وہ کبھی کبھار نرمی اور لچک کا مظاہرہ کرتیں لیکن اکثر و بیشتر ان کا طرز عمل”کچھ نہ بتانے والا” ہوتا۔

خیال رہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے کسی تفتیش کار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی ایک دوسرے تفتیش کار نے یہ انکشاف کیا تھا کہ اسامہ اپنی ایک بیوی کی بے وفائی کے باعث اپنے انجام کو پہنچے۔ بہ قول ان کے اسامہ کی ایک بیوی نے امریکیوں کے ساتھ رابطے رکھے اور اسامہ تک رسائی میں ان کی معاونت کی تھی۔ تاہم بن لادن کی بیگمات کے بارے میں ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے شوہر کے ساتھ وفادار تھیں یا اسامہ کو مروانے میں ان کی بیگمات یا کسی ایک بیگم کا ہاتھ تھا۔

پاکستان نے اسامہ کی بیواؤں کو گذشتہ برس 2 مئی کو اسلام آباد سے کچھ فاصلے پر واقع پرفضاء شہر ایبٹ آباد سے اس وقت حراست میں لیا تھا جب امریکی کمانڈوز نے مبینہ طور پر ایک کمپاؤنڈ میں چھپے اسامہ کو قتل کرکے اس کی لاش سمندر برد کردی تھی۔

پاکستانی خفیہ ادارے کے تفتیشی افسر کی جانب سے سامنے آنے والے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق یا تردید نہیں کی جاسکی کہ آیا اسامہ کی بیمگات نے سیکیورٹی اداروں کو بہت کچھ بتانے سے گریز کیا ہے یا انہوں نے تفتیش میں مکمل معاونت کی تھی۔ اب تک میڈیا کے ذریعے سے آنے والی اطلاعات میں یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ اسامہ کی بیواؤں سے تمام سوالوں کے جوابات حاصل کیے جا چکے ہیں تب ہی ان کی سعودی عرب واپسی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

تفتیش کار کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے یمنی نژاد بیوہ آمل السادہ سے سوال جواب شروع کیے تو اس نے سخت برہمی کا اظہار کیا، جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کرر رہی ہیں۔ دیگر دو سعودی نژاد بیویوں سے جب سوال پوچھے جاتے تو ان کی جانب سے بھی نہایت مایوس کن طرز عمل کا سامنا کرنا پڑتا کیونکہ وہ بیشتر سوالوں پر خاموش رہتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسامہ کی بیوائیں جب آپس میں بیٹھتیں تو نہایت ہمدردی اور محبت سے ایک دوسرے سے باتیں کرتیں۔ میں نے جب بھی آمل السادہ سے کچھ پوچھنا چاہا تو اس نے ہمیشہ غصے کے انداز میں اس کا جواب دیا۔
تفتیشی اہلکار کا مزید کہنا ہے کہ دوران تفتیش اسامہ کی بیواؤں کا رویہ غیر لچک دار رہا، جس کے باعث ان کے ذہنوں میں کھٹکنے والے کئی سوالوں کے جواب تشنہ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستانی عہدیدار کی جانب سے یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اسامہ کی بیوائیں ایک ماہ قبل سعودی عرب واپس جا چکی ہیں۔ گذشتہ مہینے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر اسامہ کے خاندان کی ڈیڑھ ماہ کی سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں ڈیپورٹ کردیا گیا تھا اور اب وہ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

             اب اسامہ کا معاملہ خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے جو دلوں کے پوشیدہ راز جانتا ہے۔ اسامہ خود تو مر گیا مگر اپنے پیچھے  القائدہ اور اس سے ملحقہ دہشت گردوں کی ایک ٹیم چھوڑ گیا ہے جو پاکستان کے لئے ابھی تک درد سر بنے ہوئے ہیں۔ القائدہ کی شہہ ،تحریک  اور تربیت پر طالبانی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں نے پاکستان بھر میں لا قانونیت،افراتفری اور قتل و غارت گری کا ایک بازارا گرم کر رکھا ہے۔  القائدہ تمام دہشت گردوں کی گرو و استاد ہے اور اس ہی کے ذریعہ پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ متعارف ہوا۔

          اسامہ کے مرنے کے بعدپاکستان اور افغانستان میں جو القاعدہ  کے گڑھ تھے، اس تنظیم کی طاقت بہت کم ہو گئی ہے خاص طور سے گذشتہ مئی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس کا زور  بالکل ٹوٹ گیا ہے اور جلد ہی ایسا وقت آئے  جب القائدہ ، تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گی۔

مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے

Advertisements

“اسامہ کی بیواؤں کے سینے میں اب بھی اہم راز پوشیدہ ہیں” پر 3 تبصرے

  1. دہشتگرد کون ہوتا ہے ؟
    جو اپنا دفاع کرے یا جو دوسرے ملک میں جا کر وہاں بسنے والوں کو اپنے مفروضوں کی بنیاد پر ہلاک کرے ؟
    مندرجہ ذیل ربط پر ایک مضمون ہے وقت ملے تو اسے پڑھ لیجئے ۔ متعلقہ مضمون میں نے نہیں لکھا صرف نقل کیا ہے
    http://iabhopal.wordpress.com/2012/05/28/the-real-criminals/

  2. بھوپال صاحب:
    یہ ایک ملزم کا فوجداری عدالت میں بیان ہے جس میں ملزم نے اپنے ایکشنز کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں حق بجانب ثابت کرنے کی سعی کررہا ہے۔
    ویسے دہشت گردی کی یہ تعریفیں دیکھ لیں، شاید آپ کے کام آ جائیں:
    The unlawful use or threatened use of force or violence by a person or an organized group against people or property with the intention of intimidating or coercing societies or
    governments, often for ideological or political reasons
    or

    The calculated use of unlawful violence or threat of unlawful violence to inculcate fear; intended to coerce or to intimidate governments or societies in the pursuit of goals that are generally political, religious, or ideological. See also anti terrorism; combating terrorism; counter terrorism; force protection condition; terrorist; terrorist groups..

تبصرے بند ہیں۔