کیا پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کر ناچاہئے؟


کیا پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کر  ناچاہئے؟

               آجکل پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ آپریشن شروع کئے جانے  کے بارے میں بحث و مباحثہ زور شور سے جاری ہے اور  شمالی وزیرستان  پر ایک بڑے فوجی آپریشن کے بادل منڈلارہے ہیں ۔ ملکی و فوجی قیادت اس معاملے کی  نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر اعتبار سے آپریشن کے فوائد و نقصانات کا جائزہ لے رہی ہے اور  آپریشن کرنے کے امکانات پر غور کررہی ہے ۔  ملکی و فوجی قیادت کو یہ بھی احساس ہے  کہ آپریشن کی اطلاعات سے علاقہ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان کے علاقہ میں موجود مختلف  طالبان گروپوں سے امن معاہدہ جات ہیں،  اور ا ن معاہدوں پر اس آپریشن کے کیا نتائج  مرتب ہونگے، اس کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے

ایک پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کیاگیا تو ا س کے اثرات صرف شمالی وزیرستان تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے اثرات پورے ملک اور خصوصاً صوبہ خیبر پختونخواہ تک پھیل سکتے ہیں۔ اس نقطے پر بھی غور جاری ہے کہ کہیں خیبر پختونخواہ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گرد کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ تو نہیں ہوجائے گا؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ

آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی ایک بڑی تعداد ہو گی اور کیا ملکی معیشت اس آپریشن کے اضافی بوجھ کو برداشت کر پائے گی اور  کیا یہ بہتر ہوگا کہ آپریشن کو  سرے سے ہی موخر کردیا جائےَ؟ آپریشن کے بغیر پاکستان قبائلی علاقوں میں طالبان کےدوبارہ منظم ہونے  اورسیکیوریٹی اہلکار اور سویلینز پر  بڑہتے ہوئے حملوںجیسے واقعات سے پاکستان کیسے نمٹ سکتا ہے؟

 ان حالات کے دوران صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ناگزیر ہے تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ شدت پسندوں کیخلاف وزیرستان میں آپریشن ہونا چاہئے۔امن کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم کے تحت منعقد کی گئی امن کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں افتخارحسین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر حصے میں آپریشن کیا جائےگا جہاں دہشتگرد موجود ہوں۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگلے دو تین ماہ انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا صفایا ہونا چاہئے۔

ادہر امریکہ کا پاکستان سے مطالبہ ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف سخت ترین کارروائی کرے ۔ مبصرین کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن کا سب سے بڑا مقصد حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا  اور القائدہ اور دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو مار بھگانا ہی ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان پر شمالی وزیرستان پر حملے کیے لئے  دباؤ ڈالنا ایک غلط حکمت عملی ہو گی اور اس سے کوئی بھی فایدہ حاصل نہ کیا جا سکے گا۔ یہ پاکستانی قیادت کو چاہئیے کہ یہ  امریکہ کو دلائل سے باور کرادے کہ شمالی وزیرستان میں کارروائی نہ افغانستان کے لیے نہ امریکہ کیلئے اور نہ پاکستان کیلئے سود مند ہو گی۔

اگر پاکستان  کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا تو اس کا تمام تر خمیازہ بھی خود پاکستان ہی کو برداشت کرنا پڑیگا‘ اس متوقع آپریشن کے نتیجے میں جہاں شمالی وزیرستان کی نسبتاً پر امن فضاء کے مکدر ہونے کا قوی امکان ہے وہاں شمالی وزیرستان میں مستحکم بنیادوں پر موجود حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر کے حمایت یافتہ اور اب تک پاکستان کے وفادار چلے آنیوالے پندرہ بیس ہزار مسلح جنگجوؤں سے نمٹنا پاک فوج کیلئے کوئی آسان ٹاسک ثابت نہیں ہو گا۔

جمعیت علمائے اسلام ( ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔

شمالی وزیرستان اور ملک کے بعض دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کے امریکی مطالبے کے حوالے سے بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستانی فوج کسی بیرونی قوت کی فرمائش پر کارروائی نہیں کرتی اور تمام فوجی کارروائیاں قومی مفاد کے تابع ہوتی ہیں۔ "اگر کوئی مجھے اس بات پر قائل کر لے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے سے سارا مسئلہ حل ہو جائے گا تو میں کل ہی آپریشن کردوں۔” جنرل کیانی نے مزید کہا کہ صرف پاکستان اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ کب شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے۔ ایک ممبر قومی اسمبلی نے رائٹرز کو بتایا کہ جنرل کیانی نے کہا کہ ’اگر کوئی مجھے اس بات پر قائل کر لے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے سے سارا مسئلہ حل ہو جائے گا تو میں کل ہی آپریشن کردوں‘۔

ریٹائرڈ جنرل آصٖف یاسین ،کور کمانڈر پشاور نے کہا تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ قبائلی علاقوں میں 2012ءتک امن قائم کر دیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین نے اورکزئی ایجنسی مےں میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کسی کے کہنے پر نہیں ہو گا۔ دوسرے قبائلی علاقوں میں استحکام نہ آنے تک شمالی وزیرستان میں آپریشن نہیں ہوگا۔ شمالی وزیرستان میںآپریشن کا ابھی مناسب وقت نہیں آیا۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کیلئے اپنی ضروریات دیکھیں گے تاہم شمالی وزیرستان میں محدود پیمانے پر کارروائی کی جاتی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی 6 بریگیڈ نفری موجود ہے۔

             میرے خیال میں یہ آپریشن پاکستان کے وسیع تر  قومی مفاد میں ہے اور یہ ضرور ہونا چاہئیے اور طالبان ، القائدہ و دیگر شدت پسند ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا کر دینا چاہئیے کیونکہ  شمالی وزیرستان دہشت گردوں کا گڑہ سمجھا جاتا ہے جہان 12 ہزار کے قریب ملکی اور غیر ملکی دہشت گرد موجود ہیں۔ وہان القائدہ ہے،طالبان ہیں، پنجابی طالبان ہیں ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔  القائدہ کےدہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہیں۔ .اتنی بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا ہماری سرزمین پر عملا موجود ہونا،پاکستان  اور اس کی خودمختاری کے لئے ایک بہت بڑا سیکورٹی رسک اور چیلنج ہے. شمالی وزیرستان پر ہماری حکومت کی عملا کو ئی رٹ نہ چلتی ہے. 80% دہشت گردی کے واقعات جو پاکستان میں ہوتے ہیں ،ان کے تمام  تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہیں. دہشت گردی کے صفایہ کا مطلب ،دہشت گردی سے پاک،پاکستان ہو گا اور شمالی وزیرستان پر پھر سے ہماری عملداری قایم ہو جائے گی. دہشت گردی کے خاتمے سے پاکستان کی معیشت دوبارہ پٹری پر چڑہ جائے گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی اور یہ عوامل ملک میں خوشحالی لائیں گے۔ اب تک غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں دہشت گردی کی وجہ سے رکی پڑی ہے۔

            پاکستان کو دہشت گردوں اور غیر ملکی جہادیوں کو  وزیرستان اور فاٹا کے علاقہ سے طاقت کے بل بوتے پر نکال باہر کرنا ہو گا۔   دہشت گردوں کا کام تمام ہونا پاکستان  اور ہمارے شہریوں کے عظیم تر  مفاد میں ہے۔

Advertisements

“کیا پاکستان کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کر ناچاہئے؟” پر 2 تبصرے

  1. ڈاکٹر صاحب:
    بلاگ پر آنے کا شکریہ۔ القائدہ و طالبان کی طرف سے شروع کردہ دہشت گردی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

تبصرے بند ہیں۔