طالبان کا فوجی کیمپ پر حملہ


      گجرات میں دریائے چناب کے کنارے سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر دہشت گردوںنےحملہ  کیا‘پولیس اہلکار سمیت 8 فوجی جوان شہید ہوگئے۔دریں اثناکالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکاروں نے مئی میں ہیلی کاپٹر حادثہ میں لاپتا ہونے والے پائلٹ میجر زاہد کی تلاش میںکیمپ لگایا ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے کا افسوس ناک واقعہ پیر کی صبح 5:30 کے قریب گجرات میں دریائے چناب کے کنارے اس وقت پیش آیا جب سیکورٹی فورسز کے اہلکار فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے کیمپ میں جارہے تھے کہ گاڑی میں سوار 4 حملہ آور اور ایک موٹر سائیکل پر سوار نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 6 سیکورٹی اہلکار اور ایک پولیس کانسٹیبل موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ 5 اہلکار شدید زخمی ہوگئے ۔ گجرات کے ضلعی پولیس افسر بشارت احمد نے کہا ہے کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے ایک فوجی اہلکار بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔انہوں نے کہا کہ کیمپ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے جن میں 7 فوجی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق فوج کے ادارے ائر ڈیفنس سے ہے اور وہ گوجرانوالہ میں تعینات تھے۔ گجرات میں خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع  کے مطابق جائے حادثہ سے جو شواہد ملے ہیں ان کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ کارروائی جرائم پیشہ عناصر کی نہیں بلکہ شدت پسند تنظیموں کی ہے۔

 کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملہ تحریک طالبان پنجاب ونگ نے کیا۔نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر انہوں نے بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے حملے جاری رکھیں گے۔ دہشت گرد اس سے پہلے گی ایچ کیو پر بھی حملہ کر چکے ہین۔  دہشت گردی کے اس واقعہ نے اپنے پیچھے بہت سے سوال چھوڑے ہیں۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ  دہشت گرد انتہائی تربیت یافتہ تھےجنہوں نے اس امر کی بھی پروا نہیں کی کہ ان کا سابقہ باقاعدہ فوجیوں سے ہے جن کی تعداد 25 کے لگ بھگ ہے۔پھر انہوں نے حملے کے لئے طلوع آفتاب کا وقت منتخب کیا جب لوگ دن کے آغاز کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ۔ حملہ آوروں نے بے خبر فوجیوں  پر اچانک حملہ کیا، حتیٰ کہ پولیس کا جو دستہ امدادی کارروائی کے لئے گیا، اسے بھی نشانہ بناڈالا ۔

 کالعدم تحریک طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے، یہ تحقیقات ہونی چاہئیں کہ کیا یہ واقعی اس تنظیم کی کارروائی ہے یا اس نے محض تفتیش کا رُخ موڑنے کے لئے یہ دعویٰ کیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نےناٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف فوجی اور حکومتی تنصیبات پر پیر کے روز گجرات میں فوجی کیمپ پر کئے جانے والے حملے جیسے حملوں کی دھمکی دے دی ہے۔ پولیس کو ملنے والے ایک پمفلٹ میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگرناٹو سپلائی بند نہ کی گئی تو گجرات جیسے مزید حملے کئے جائیں گے۔ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بھی تحریک طالبان پاکستان حکومتی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

کچح لوگ کھلم کھلا،پینجابی طالبان اور لشکر جھنگوی،جو کہ طالبان کی طرفدار و حمایتی ہے کو اس واقعہ میں ملوث قرار دے رہے ہیں۔

دہشت گردی کا یہ واقعہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور لوگوں کے حوصلے پست کرنے اور ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ یہ حملہ اس بات کا غماز بھی ہے کہ ملکی عسکریت پسندوں کے پاس قبائلی علاقوں کے باہر  سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی نیت ، طاقت اور وسائل موجودہیں۔ دہشت گردوں کی اس حملہ کرنے کی طاقت اور ان کے وسائل کا خاتمہ کرنا ، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔  یہ درست ہے کہ سیکورٹی فورسز کی کا روائیوں سے دہشت گرد زخمی ضرور ہوئے ہیں مگر ان کا مکمل خاتمہ ابھی تک نہ کیا جا سکا ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ دہشت گردوں کا یہ حملہ اسلام کے سنہرے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دہشت گردوں نے اس واقعہ سے ایک تیر کے ساتھ دو شکار کئے ہیں  اور براہ راست سیکورٹی فورسز پر حملہ کر کے عوام کے ذہن میں سیکورٹی فوسز کی طاقت کے بارہ میں شکوک و شبہات پیدا کر نے کی کوشش کی ہے اور دوسری طرف عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دہشت گرد بہت طاقت ور ہیں اور وہ اپنی پسند کی جگہ پر اپنے اوقات کے مطابق حملہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہین اور یہ کہ سیکورٹی فورسز ،عوام کی مدد نہ کر سکتی ہیں۔ لگتا ہے یہ واقعہ طالبان کی نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے۔

ان حالات میں اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کے لئے سیکیورٹی اداروں کوبھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی اور لانگ ٹرم و شارٹ ٹرم حکمت عملی اپنانا ہوگی، محض روایتی طریقوں سے کی جانے والی کارروائیاں اب بظاہر کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ سیکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کومل کر کوئی ایسی حکمت عملی بنانا ہوگی کہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ اس حکمت عملی میں عوام کو بھی  عملی طور پر شامل /شریک  کرنا چاہئیے۔ یہ حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب ابھی تک دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ ہمیں نہ صرف دہشت گردوں بلکہ ان کے حامی پنجابی طالبان اور دوسری کالعدم مذہبی و دہشت گرد جماعتوں کے خلاف  بلا امتیاز ، فیصلہ کن کاروائی کرنی چاہئیے کیونکہ دہشت گرد ،دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی  اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا۔

Advertisements

“طالبان کا فوجی کیمپ پر حملہ” پر 4 تبصرے

  1. آج تک کسی نے یہ نہیں بتایا کہ نام نہاد پاکستانی طالبان کے پاس اتنی منصوبہ بندی ۔ اتنی جغرافیائی اور تاریخی معلومات ۔ اتنا اسلحہ ۔ اتنا بارود اور اتنی دولت کہاں سے آتی ہے ۔ افغانستان کے طالبان کے پاس تو انہیں دینے کیلئے کچھ نہیں ۔ پھر کون یہ سب دیتا اور پڑھاتا ہے ؟

  2. بھوپال صاحب:
    بلاگ پر تشریف لانے اور اپکی رائے کا بہت بہت شکریہ۔
    میرا ایک مضمون / کالم ،جس کا عنوان ہےـ "جہاد،طالبان کا کاروبار”، جو بہت سے اردو فورمزاور ویب سائٹس پر شائع ہو چکا ہے اور اس بلاگ کے حصہ، مضامین / کالم میں موجود ہے، آپ کے تمام سوالوں کا جواب ہے۔ مزید براں اس لنک کو بھی دیکھ لیں:http://centralasiaonline.com/ur/articles/caii/features/pakistan/2010/03/16/feature-01?mobile=true
    اس کے علاوہ جب پاکستان آرمی نے جنوبی وزیرستان میں واقع طالبان کے گڑہ پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت میڈیا میں رپوٹس شائع ہوئی تھیں جن کے مطابق، پاکستانی فوج نے وہان سے ساختہ ایک علاقائی طاقت، مائینز اور فسٹ ایڈ کٹس قبضہ میں لی تھیں، جو صرف اس علاقائی طاقت کی فوج کے لئے تھیں۔اس سے بہت سے حقائق خود بخود عیاں ہو جاتے ہیں۔
    آج کے زمانہ میں روپے پیسے سے اسلحہ و ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔

  3. جب پرویز مشرف کے زمانہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے کارواں پر پہلا حملہ ہوا تھا اس وقت حملہ آوروں کا پیچھا کر کے اُنہیں ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ غالباً نو لوگ تھے ۔ ان کی لاشیں قبائیلی ملک کے حوالے دفن کرنے کیلئے کیں تو اُس نے یہ کہہ کر واپس کر دی تھیں کہ مرنے والے مسلمان نہیں ہیں ۔ اس حقیقت کو چھپا دیا گیا اور امریکی حکم کے مطابق کاروائیاں ہوتی رہیں جن میں بہت سے بے قصور پاکستانی قبائلی ہلاک ہوئے ۔ اس کے نتیجہ میں لوگ غیرملکی ایجنٹوں کے ساتھ ملنا شروع ہو گئے جس کے نتیجے میں مال ملتا تھا ۔ بہرحال اپ نے خود ہی بات واضح کر دی ہے

  4. "تو اس وقت میڈیا میں رپوٹس شائع ہوئی تھیں جن کے مطابق، پاکستانی فوج نے وہان سے ساختہ ایک علاقائی طاقت، مائینز اور فسٹ ایڈ کٹس قبضہ میں لی تھیں، جو صرف اس علاقائی طاقت کی فوج کے لئے تھیں۔اس سے بہت سے حقائق خود بخود عیاں ہو جاتے ہیں۔” یہ ایک جانی پہچانی علاقائی طاقت ہے۔

تبصرے بند ہیں۔