پنجاب ،دہشتگردوں کے نشانہ پر


      ابھی گجرات کے قریب  فوجی کیمپ پر حملہ کے  اثرات کےزخم مندمل نہ ہوئے تھے کہ دہشت گردوں نے لاہور میں پولیس کے ہاسٹل پر  ایک اورحملہ کر دیا۔ یہ واقعہ صبح ساڑھے پانچ بجے اچھرہ کے علاقے رسول پارک میں پیش آیا۔ہلاک ہونے والے تمام پولیس اہلکار جیل خانہ جات کے زیر تربیت اہلکار تھے اور ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس حبیب الرحمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دس حملہ آوروں نے عمارت پر حملہ کیا۔ یہ عمارت سنہ دو ہزار سات سے پولیس نے کرائے پر لے رکھی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اس عمارت کو پنجاب جیل خانہ جات ہاسٹل کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے جیل خانہ جات کے بتیس اہلکار اس عمارت میں رہائش پذیر تھے۔’دس حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ وہ تین موٹر سائیکل اور ایک کلٹس گاڑی پر آئے تھے۔ یہاں پہنچ کر وہ تین ٹیموں میں بٹ گئے۔ انہوں نے ہینڈ گرینیڈ اور کلاشنکوف استعمال کیں۔‘

سٹی پولیس آفیسر اسلم ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو عام نہیں کیا گیا تھا کہ اس عمارت میں پولیس اہلکار رہائش پذیر ہیں۔سی سی پی او اسلم ترین نے کہا کہ حملہ آوروں نے پہلے دروازے پر دستک دی اور جب دروازہ کھولا گیا تو انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے مطابق یہ حملہ طالبان نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا جیل خانہ جات کے اہلکار مختلف جیلوں میں قید ہمارے ساتھیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کرتے ہیں اور اسی کا بدلہ لیا گیا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ لاہور کا واقعہ گجرات ميں کي گئي فائرنگ کي کڑي ہے، ترجمان تحريک طالبان نے دھمکي دي کہ وہ اس قسم کي مزيد کاروائياں بھي کريں گے.۔واضح رہے کہ صوبہ پنجاب میں سکیورٹی فورسز پر ایک ہفتے میں یہ دوسرا حملہ ہے۔

آئي جي پنجاب حاجي حبيب الرحمن کا کہنا ہے کہ گجرات اور اچھرہ واقعہ ايک ہي گروہ کي کارروائي لگتي ہے. رسول پارک ميں جائے وقوع پر ميڈيا سے گفتگو ميںآ ئي جي پنجاب کا کہنا تھا کہ يہ بلڈنگ محکمہ جيل خانہ جات نے کرائے پر لي تھي اور اس بات کي تحقيقات کي جائے گي کہ زيرتربيت اہلکاروں کے لئے سيکيورٹي کا انتظام کيوں نہيں کيا گيا تھا. انہوں نے کہا کہ فائرنگ کاواقعہ صبح ساڑھے پانچ بجے پيش آيا جس ميں دس افراد موٹرسائيکل اورگاڑي ميں آئے تھے. انہوں نے مزيد کہا کہ گجرات اوربابوصابو والي دہشت گردي تھي اوريہ بھي دہشت گردي ہے اور دہشت گردي کے پيچھے چھپے ہاتھ جلد قوم کے سامنے لائيں گے.۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نےناٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف فوجی اور حکومتی تنصیبات پر پیر کے روز گجرات میں فوجی کیمپ پر کئے جانے والے حملے جیسے حملوں کی دھمکی دے دی ہے۔ پولیس کو ملنے والے ایک پمفلٹ میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگرناٹو سپلائی بند نہ کی گئی تو گجرات جیسے مزید حملے کئے جائیں گے۔ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بھی تحریک طالبان پاکستان حکومتی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ اس خبر کے بعد کو ئی حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنا ایک بہت بڑی مجرمانہ غفلت ہے۔ ہمیں اپنے دشمن سے سے کسی بھی  مرحلہ پر ٖغافل نہ رہنا چاہئیےخاص طور پر جب دہشت گردوں نے فوض اور پولیس کو ٹارگٹ کر رکھا ہو۔

اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں  نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، ۴۰ ہزار کے قریب  معصوم اور بے گناہ  لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی  اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔  مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و فارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پولیس پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ دہشت گروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی دہشت گرد مسلمان يا انسان کہلانے کے مستحق ہيں. ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری  کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ  ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔نہ ہی یہ جہاد نہ ہے کیونکہ جہاد تو اللہ کی راہ میں کی جاتی ہے۔ پولیس سے بدلہ لینے کے عمل کو جہاد نہیں کہا جاسکتا۔طالبان، اسلام اور جہاد کی غلط تشریح کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

دہشت گردی کا یہ واقعہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور لوگوں کے حوصلے پست کرنے اور ان میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ یہ حملہ اس بات کا غماز بھی ہے کہ ملکی عسکریت پسندوں کے پاس قبائلی علاقوں کے باہر  سیکورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی نیت ، طاقت اور وسائل موجودہیں۔ دہشت گردوں کی اس حملہ کرنے کی طاقت اور ان کے وسائل کا خاتمہ کرنا ، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔  یہ درست ہے کہ سیکورٹی فورسز کی کا روائیوں سے دہشت گرد زخمی ضرور ہوئے ہیں مگر ان کا مکمل خاتمہ ابھی تک نہ کیا جا سکا ہے۔یہ بات بھی درست ہے کہ دہشت گردوں کا یہ حملہ اسلام کے سنہرے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کے لئے سیکیورٹی اداروں کوبھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا ہوگی اور فوری طور پر ایک نئی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ دہشت گردی کی یہ وارداتیں حکومتی رٹ کو براہ راست چیلنج کر رہی ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی موجب  بن رہی ہیں، جن کا فوری سدباب کرنا ضروری ہے وگرنہ پنجاب میں مزید حملوں کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

 

Advertisements