دہشت گردی کے گہرے ہوتے سائے


                 ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی   ایک کے بعد دوسری وارداتیں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دہشت گرد ایک بار پھر متحد و منظم ہو چکے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے دن رات مصروف کار ہیں اور پاکستا ن اور اس کے شہریوں کے لئے پھر خطرہ بن کر ابھر رہے ہیں ۔پاکستان میں جاري مسلسل خونريزي، بد امني اور لاقانونيت ہر پاکستاني کے لئے باعث تشويش و اضطراب ہے  کیونکہ دن بدن  حالات مسلسل ابتر ہوتے جارہے ہيں، بہتری کی کوئی صورت سامنے نظر نہ آرہی ہے  اور اس دہشت گردی اور بدامنی کے بدتریں اثرات قومی معیشت پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ بیرون ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور  ايک عرصے سے رکي ہوئي ہے اور اب ملک سے سرمائے کے فرار کا عمل بھي تيز تر ہوگيا ہے۔

              کراچي ميں سياسي اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ مافيا کي کارروائياں اور گينگ وار کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ برسوں سے جاري و ساری ہے اور ہر روز انسانی خون بے دریغی سے پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے ۔ بلوچستان میں حالات دگرگوں ہیں۔ اب طالبان اور ان کے حمایتیوں نے  مسلح افواض اور پولیس پر حملے بھی شروع کر دیئے ہیں۔ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ بھي روز کا معمول ہے۔ بعض لوگوں اور سیاسیی جماعتوں کا یہ  موقف  کہ پاکستان ،افغانستان ميں امريکہ کي جنگ سے خود کو الگ کرلے تو شمالي علاقوں ميں بلاتاخير امن قائم ہوجائے گا اور یہ کہ ہمیں دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے چاہیں، حقائق پر مبنی نہ ہے۔ اب تک مذاکرات،امن سمجھوتوں کے مثبت نتائج سامنے نہ آسکے ہیں بلکہ دہشت گردوں نے ان جنگ بندیوں کو اپنی طاقت میں ہمیشہ اضافہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ بلکہ ان کے مطالبات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ لاتوں کے یہ بھوت باتوں سے نہ مانیں گے ان کو بزور طاقت کچلنا ہو گا۔ مزید جن لوگوں نے حکومت پاکستان کی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے وہ پہلے ہتھیار ڈالیں تو تب ہی ان سے کسی قسم کی کوئی بات ہو سکتی ہے۔

اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں  نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے، ۴۰ ہزار کے قریب  معصوم اور بے گناہ  لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی  اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔  مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و فارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری  کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ  ڈاکو اور لٹیرے ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔ عوام کي جان ومال، عزت آبرو اور  و روزگار کا تحفظ  حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے.

        دہشت گردی آج کے پاکستان کاسب سے  بڑ ا اور اہم  مسئلہ ہے مگر اس سلسلہ میں ہماری کوئی مربوط حکمت عملی و پالیسی نہ ہےاور نہ ہی نظر آرہی ہے  اور ہم اندہیرے میں ٹامک ٹویاں مار رہے ہیں۔ ضرورت ا س امر کی ہے کی ہم دہشت گردی کا قلع قمع کے لئےایک مربوط و مضبوط لانگ ٹرم حکمت عملی وضع کریں اور اس کے  تحت کام کریں توا نشا اللہ ایک دن سری لنکا کی طرح ہم بھی دہشت گردی کے خلاف مکمل فتح حاصل کر لیں گے۔۔

Advertisements