سکولوں پر دہشت گردوں کے حملے


         صوبہ خیبر پختونخوا میں سکولوں پر حملوں کا سلسلہ نہ صرف  جاری ہے بلکہ  صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہری علاقوں میں سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور پچھلے  دو دنوں میں صوابی میں دو سکولوں کو دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حکام کے مطابق سولہ سو سے زیادہ سکول تباہ ہوگئے ہیں۔
چارسدہ پولس کے مطابق نامعلوم افراد نے دلہ زاک کے علاقے میں لڑکیوں کے ایک سرکاری پرائمری سکول کی عمارت کو رات گئے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ پولیس کے مطابق دھماکے سے سکول کے دو کمرے اور باہر کی دیوار تباہ ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اِن حملوں کی وجہ سے علاقے میں تعلیمی سلسلہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

پاکستانی قبائلی علاقوں میں سے، جو مجموعی طور پر سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل ہیں، سب سے زیادہ یعنی 85 تعلیمی ادارے صرف باجوڑ ایجنسی میں تباہ کئے گئے۔ اس کے بعد مہمند ایجنسی کا نام آتا ہے، جہاں طالبان نے 45 اسکول تباہ کئے جبکہ خیبر ایجنسی میں بھی طالبان اب تک 15 تعلیمی ادارے تباہ کر چکے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی میں صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں صرف اسی سال اپریل کے مہینے میں کل 12 اسکول تباہ کر دئے گئے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران تعلیمی اداروں پر حملوں کو سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں قبائلی علاقوں میں زیادہ تر سکولوں کو نشانہ بنایا گیا تھا مجو اب تک جاری و ساری ہے۔

اب کچھ عرصہ سے پشاور سمیت صوبے کے شہری علاقوں میں بھی سکولوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کی سرحد کے قریب واقع شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی لڑکیوں کے ایک سکول کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا تھا۔ لکی مروت میں پہلی مرتبہ ایک ہی رات میں کئی سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تحریک طالبان ضلع لکی مروت کے ترجمان نے اپنی تنظیم کی طرف سے ان حملوں کی ذمہ داری سے قبول کی ہے۔اس کے علاوہ پشاور کے قریب ضلع نوشہرہ میں بھی ایک سکول میں رات کے وقت دھماکہ کیا گیا ہے جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے سینیئر وزیر بشیر احمد بلور نے 18 اکتوبر کو کہا کہ طالبان سکولوں کو بموں سے اڑانے اور عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، اور یہ رویہ ان کی جہالت کو ظاہر کرتا ہے۔غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ان سکولوں کی تباہی سے کوئی سات لاکھ سے زیادہ بچوں کا تعلیمی سلسلہ بڑی طرح متاثر ہوا ہے۔

 اگرچہ لنڈ خوار میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج پر طالبان کے حملے نے کم عمر طالبات اور ان کے والدین میں کچھ دنوں کے لیے دہشت پھیلا دی تھی، تاہم کسی طالبہ نے تعلیم ترک کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا بلکہ صوبہ کی طالبات تعلیم صاحل کرنے کے لئے پہلے سے زیادہ پر عزم ہیں۔

              صوبہ خیبر پختونخواہ میں سکولوں کی تباہی ایک معمول سا بنتا جارہا ہے اور طالبان نہایت بے دردی کے ساتھ قومی دولت کو تباہ کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے چوبیس اضلاع میں بہت کم ایسے علاقے ہوں گے جہاں شدت پسندوں نے سکولوں کو نشانہ نہ بنایا ہو ۔ طالبان کی عقل و سمجھ میں یہ نہ آ رہا ہے کہ سکولوں کو تباہ کرنا ملک و قوم کی موجودہ و آئندہ نسلوں سے عظیم دشمنی ہے۔
سکول ایک قومی دولت ہیں، جہاں پاکستان کے بچے اور بچیاں اپنے آپ کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے آئندہ ملک و قوم کی خدمت کر نے کی سعی کرتے ہیں۔۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی کا تمام دارومدار و انحصار ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی ۲۵ ملین بچے اور بچیاں حصول تعلیم کی نعمتوں سے محروم ہیں اور طالبان سکولوں کو تباہ کرکے اس محرومی میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
چونکہ سکولوں کی تباہی کے تمام واقعات صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہو رہے ہیں اور اگر طالبان عموما ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہیں، تو یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان واقعات کی مذمت کریں اور اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیں اور ان لوگوں و گروہوں کو جو ان واقعات کے اصل ذمہ دار ہیں ، بے نقاب کریں۔

 

Advertisements