شیعہ مسلمانوں کا قتل


                    آج  پاکستان کے وجود کو فرقہ ورانہ دہشت گردی سے گھمبیر خطرات کا سامنا ہے ۔  پاکستان اس وقت بری طرح سے  مذہبی تنگ نظری ، جنونیت  اور تعصب  کا شکار ہے اور  فرقہ ورانہ تشدد ہمارے معاشرہ  کے لئے ایک بہت بڑا  ناسور بن چکا ہے اور پاکستانی  معاشرہ کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے ۔ پاکستان   میں شیعہ مسلمان  جو پاکستان کی آبادی کے تناسب سے پاکستان میں ۲۰ سے ۲۵ فی صد ہیں ،سب سے زیادہ اس مذہبی جنونیت اور فرقہ ورانہ تشدد کا شکار ہیں۔ اس فرقے کے لوگوں کا منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عام ، کھلم کھلا بربریت اور جارحیت ہے جو کہ نہ صرف اسلامی اصولوں کے منافی ہے بلکہ شیعہ مسلمانوں کے انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر  کی خلاف ورزی بھی ہے۔ خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام کے نام پر ۔ طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ  اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں  اور اس طرح پاکستان پر قابض ہونے کے خواہان ہیں۔ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کی تفصیلات  shiakilling.Net  اور pakshia.com پر دیکھی جاسکتی ہیں۔

قرانی احکام اس سلسلہ میں بڑے واضع ہیں:

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

۲۱ صدی میں انسانوں کے ہاتھوں انسانیت کی تذلیل پاکستا ن اور پاکستانی قوم  کے نام،کردار اور شہرت پر ایک بد نما سیاہ داغ ہے اور ہم سب خاموش ہیں اور ٹس سے مس نہ ہورہے ہیں۔ ہمیں اس بارہ میں جلد بڑی واضع اور ٹھوس حکمت عملی اپناتے ہوئے بھرپور کاروائی کرنا ہوگی۔

ہم سب یہ جانے ہیں کہ فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ فرقہ واریت پھیلانے والوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن یہی چاہتے ھیں کہ شعیہ سنی فسادات کو ہوا دی جائے اور اس طرح اس ملک کے ٹکڑے کر دئے جائیں۔ موجودہ اشتعال انگیز فضا میں خدانخواستہ فرقہ واریت کا کوئی بڑا سانحہ ، کسی وقت بھی رونما ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال کا فائدہ صرف اور صرف دہشت گردوں کو  پہنچ رہا ہے ۔

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

            پاکستان میں  فرقہ ورانہ کشیدگی کے باعث مرنے اور مارنے والے دونوں مسلمان ہیں اور چند لوگ حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں اور سازشی تھوریز کی بات کرتے ہوئے معصومانہ انداز میں اپنے مسائل کیلئے   دوسری طاقتوں کو مورود الزام ٹہرا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان  اور فاٹا  اور کراچی کے حالات انتہائی سنگین ہیں ،فرقہ وارانہ فسادات  کا زہر پاکستان بھر میں ہر جگہ پھیل رہا ہے، انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں۔

                      کیا ہم لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ  ایک مسلمان کی حرمت اور اس کی جان اللہ  تعالی کے نزدیک خانہ کعبہ کی حرمت سے بڑھ کر ہے۔ پھرکیا بے گناہوں کو قتل کرنے والے۔ ان کی عزت وآبروپامال کرنے اور مال اسباب لوٹنے والے کسی بھی طرح  بھی مسلمان کہلائے  کے مستحق ہیں۔ یقینا نہیں؟“

 وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے تسلیم  کہا ہے کہ بلوچستان میں پیش آنے والے فرقہ ورانہ دہشت گردی کے واقعات میں لشکر جھنگوی ملوث ہے ۔ یاد رہے کہ لشکر جھنگوی  طالبان ،جندوللہ و القائدہ کی ساتھی ہے اور لشکر جھنگوی کو پاکستان میں القائدہ کے چہرہ کے طور  پر جانا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ کي تازہ رپورٹ ميں کہاگياہے کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے ميں 6 مسلح تنظيميں ملوث ہيں۔ رپورٹ ميں انکشاف کيا گيا ہے کہ بلوچستان کا امن تباہ کرنے ميں لشکر بلوچستان، بلوچستان مسلح دفاع تنظيم، لشکر جھنگوي، بي ايل اے، بي آر اے اور بي ايل ايف شامل ہيں
انسانی حقوق کمیشن یعنی ایچ آر سی پی کے مطابق صرف رواں سال کے دوران بلوچستان میں ہلاک(شہید) کیے جانے والے شیعہ حضرات کی تعداد ساٹھ سے زائد ہے۔ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ قاتل کون ہیں کیونکہ ہر حملے کے ساتھ حملہ آوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں سکیورٹی فورسز کی ہمدردی اور اعانت حاصل ہے۔

کچھ شیعہ راہنماوں نے ،ان شیعہ قتل کے واقعات کو شیعہ نسل کشی سے تعبیر کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئرمین زہرہ یوسف کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں شیعہ زائرین کا قتل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد مذہب کی بنیاد پر شہریوں کو نشانہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور ریاست کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتی یا ان ہلاکتوں کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

لشکر جھنگوی نے چھبیس شیعہ زائرین کو ضلع مستونگ میں قطار میں کھڑا کرکے قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ بعد میں ہلاک کیے جانے والوں میں سے تین کے رشتہ دار جب اُن کی لاشیں لینے کے لیے کوئٹہ سے وہاں پہنچے تو انہیں بھی بیس ستمبر کو قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح کے چار اکتوبر کے ایک واقعے میں چودہ شیعہ زائرین کو قتل کیا گیا۔

               کوہاٹ میں حکام کے مطابق ایک مسافر  وین بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں بارہ مسافر ہلاک اور گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہو گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ کوہاٹ میں ایک پولیس افسر ارشد خان نے بتایا کہ بدھ کی صبح مسافر گاڑی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ آ رہی تھی کہ سرحدی علاقے سپا میں تنگلہ کے مقام پر سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ طالبان کے ایک گروپ نے اس واقعہ کی ذمہداری قبول کرلی ہےـ “ہم نے ان کو نشانہ بنایا ہے کیونکہ وہ شیعہ تھےـ”محمد آفریدی ترجمان ،درہ آدم خیل طالبان۔

               کوئٹہ سے قومی اسمبلی کے رکن سید ناصر علی شاہ نے کہا کہ کہ حالیہ ہلاکتوں کا مقصد شیعہ اور سنی فرقوں اور ہزارہ اور مقامی پشتونوں اور بلوچیوں کے درمیان حائل خلیج کو وسیع کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد ترقی پسند اور آزاد خیال بلوچستان کو مذہبی اور طالبان کے بلوچستان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

              دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی میں جرآت مندانہ کارروائیوں کے لیے سیاسی ارادے اور منصفانہ عملدرآمد کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک فوج، سیاسی حکومت اور لوگوں کے درمیان بہتر تعاون اور اشتراک قائم نہ ہو۔ پاکستان میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ ملک کو لاحق اہم سکیورٹی چیلنجز اب بھی حل طلب ہیں اور حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ایک جامع اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

               اگر ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تو اس سے ملک کی سلامتی کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اس لئے اس  ان واقعات پر محض افسوس اور رسمی مذمت کے اظہار پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ حکومت کی سطح پر سب سے پہلے تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماءکرام کی کانفرنس طلب کرکے اتحاد بین المسلمین کی فضا مستحکم بنائی جائے اور فرقہ واریت کی بنیاد پر کسی قسم کی غلط فہمی کو جنم نہ لینے دیا جائے اور سیاستدانوں  کے علاوہ عوام اور معاشرے کے ہر طبقہ کو بھی اپنا کردار  ادا کرنا چاہیئے۔

               جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

 

 

Advertisements

“شیعہ مسلمانوں کا قتل” پر 9 تبصرے

  1. yaar tum to bilkul hi jahil hoooo….. pata nahi kin logo say tm nay deen ka ilam sekha hay ….. or kin logo say ilmi ta’aluq hay … agar tm waqai muslim ho to shio ko kesy musalman kehty ho …. baqi kisi insaan ka nahaq qatal ka muamla apni jaqa par…. lakin tm shia ko musalman b kehty ho tum to jahilo say b bary jahil ho…

  2. Clearly, this situation is more like related to dirty politics than a sectarian violence.That is divide and rule. What is happening in Syria, Egypt and Lybia is a eye opener.
    When, we Muslims will be shown a right path.?

  3. طالبان اور لشکر جھنگوی کی شیعہ مسلمانوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد یہ واقعات صاف اور واضع طور پر فرقہ ورانہ تشدد کے زمرہ میں آتے ہیں۔

  4. اس طرح تو قادیانی بھی آپ کے نزدیک مسلمان ہوئے کیونکہ وہ بھی یہی کلمہ پڑھتے ہیں۔
    اور پھر شیعوں کا کلمہ مسلمانوں والا نہیں ہے آپ نیٹ پر سرچ کرسکتے ہیں شیعوں کا کلمہ مسلمانوں کے کلمے سے چینج ہے

  5. "شیعہ مسلمان ہیں اور دوسروں کے برعکس ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔”

    اسکا مطلب ہے کہ مسلمان ہونے کے ليئے صرف کلمہ گو ہونا ضروری نہيں اور آپ نے خود اسکا اعتراف کر ليا- کيا شيعوں کے ديگر عقائيد اہل سنت کے مطابق ہيں کہ شيعوں کو مسلمان تسليم کرليا جائے؟

  6. بلاگ کا موضوع ہے فرقہ ورانہ ناحق ہلاکتیں۔ آپ بحث کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسلام میں مسلمان تو کجا غیر مسلم کا قتل بھی جائز نہ ہے۔
    آپ کا تبصرہ اس چیز کا غماز ہے کہ پاکستان میں مذہبی جنونیت عروج پر ہے اور برداشت نام کی کوئی چیز موجود نہ ہے۔

تبصرے بند ہیں۔