گلگت: مسافر وین پر بم حملہ، ایک شخص ہلاک


گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ واقعات میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔پاکستان کے شمالی علاقےگلگت بلتستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مسافر وین پر ریموٹ کنٹرول بم حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ اتوار کو یہ واقعہ گلگت شہر سے پندرہ کلومیڑ دور مناور کے علاقے میں پیش آیا۔

گلگت کے سپرنٹنڈنٹ پولیس تنویر حسین نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بم پل کے نیچے نصب کیا گیا تھا اور جب یہ مسافر وین اس پل سے گذر رہی تھی تو عین اسی وقت ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بم دھماکا کیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں مسافر وین کا ڈرائیور ہلاک جبکہ پانچ مسافر زخمی ہوگئے۔زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون اور بچہ بھی شامل ہیں۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اس مسافر وین میں تقریباً اٹھارہ کے قریب مسافر سوار تھے اور یہ گلگت شہر سے حراموش قصبے جا رہی تھی۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس مسافر وین میں سوار زیادہ تر افراد کا تعلق مسلمانوں کے شعیہ مسلک تھا۔انہوں نے کہا کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ حملہ آوروں کا ہدف یہی گاڑی تھی۔

اگرچہ دن میں بہت سے گاڑیاں اس راستے سےگذرتی ہیں لیکن یہ مسافر وین کیوں ہدف تھی اس بارے میں پولیس افسر کا کہنا تھا کہ وہ فی الوقت کچھ نہیں کہ سکتے ہیں۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں۔ ایس پی تنویر حسین نے کہا کہ ابھی معلوم نہیں کہ اس دھماکے کے کیا محرکات ہیں اور اس کے پیچھے کون لوگ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دہشت گردی کا واقعہ لگتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔گلگت میں ماضی میں فرقہ وارانہ پرتشدد واقعات ہوتے رہے ہیں۔

روان سال اپریل میں بھی گلگت اور چلاس میں فرقہ وارانہ تشدد میں بارہ سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120805_gilgit_blast_zz.shtml

کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔اسلام میں فتنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔کسی بے گناہ کی طرف آلہ قتل سے اشارہ تک کرنا منع کیا گیاہے .دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

               اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان، دہشتستان بن کر رہ گیا ہے ۔مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔ طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ  اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں . دہشت گردوں نے ہمارے ملک  کو جہنم بنا دیا ہے۔  اب تک  42 ہزار  کے قریب معصوم و بے گناہ لوگ مرگئے ۔ سرمایہ اور ذہانتیں ہمارے ملک سے ہجرت کر گئیں۔ کاروبار  اجڑ گئے۔  بازاروں اور شہروں کی رونقیں ہم سے جدا ہوگئیں۔  عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا اور ہم سب حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ  گئے ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری صفر سے نیچے چلی گئی،  ملازمتین ختم ہوئیں ،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود  کو تباہ کرکے رکھ دیا اور  ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔ ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیا اور تو   اور داڑھی اور پگڑی والے بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں محفوظ نہ ہیں۔

            دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کے مقابلہ کے لئے پاکستانی قوم کو متحد اور منظم ہو کر مشترکہ طور پر اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا۔ پاکستان دشمن قوتیں وطن عزیز میں امن و امان کو نقصان پہنچا کر بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنے پر تلی ہوئی ہیں ۔نوجوانوں کو دہشت گردوں کے اثرات سے محفوظ کرانا اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات کا مبلغ بنانے کی بجائے مفید  و کار آمد شہری بنانا ہو گا۔ پاکستان مین موجودہ دہشت گردی کے واقعات نے لوگوں کو بے سکون کردیا ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے وطن عزیز کی سا لمیت کیلئے آپسی بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا جائے  ۔

Advertisements