دہشت گردی کا خطرہ، موبائل فون سروس کی بندش


             حکومت کي جانب سے دہشت گردي کے کے خطرہ سے بخوبی نبٹنے کے لئے عيد الفطر پر مختلف شہروں ميں موبائل فون سروس معطل کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے ،وزارت داخلہ ميں ہونے والے اعلي سطح اجلاس ميں پنجاب اور سندھ کي درخواست پر کراچي ،کوئٹہ ،لاہور اور ملتان ميں موبائل سروس معطل رکھنے کا فيصلہ کيا گيا،اس ضمن ميں موبائل فون کمپنيوں کو پيغام ارسال کرديا گيا ہےوفاقي وزير داخلہ نے کہاکہ موبائل فون سروس سے ديسي ساختہ بم دھماکے کئے جا رہے ہيں، پابندي کا مقصد لوگوں کي جانيں محفوظ بناناہے،انہوں نے کہا کہ عوام کو مستقبل ميں پيش آنے والي پريشاني پر ميں پيشگي معافي مانگتا ہوں۔

 وزارت داخلہ کے اعلي سطح اجلاس ميں دہشت گردي کي نئي لہر کي روشني ميں حفاظتي اقدامات کا جائزہ ليا گيا ہے ٹيلي کام اتھارٹي کا نمائندہ افسر بھي اجلاس ميں موجود تھا معلوم ہوا ہے کہ پنجاب اور سندھ کي حکومتوں نے موبائل فون سروسز معطل کرنے کي درخواست کي تھي تاہم اجلاس ميں مکمل معطل کرنے کي بجائے فيصلہ کيا گيا ہے کہ ناگزير حالات کي وجہ سے کسي مخصوص علاقہ ميں چند گھنٹے کيلئے سروس معطل کي جا سکتي ہے اس فيصلہ سے موبائل فون کمپنيوں کو آگاہ کر ديا گيا ہے۔ خفيہ ايجنسيوں کي جانب سے دہشت گردي کے حوالے سے انٹيلي جنس رپورٹس کي بنياد پرملک کے مختلف شہروں اور مضافات کو حساس قرار ديے جانے کے بعد عيد کے موقع پر موبائل فون سروس معطل رہے گي۔

وزارت داخلہ نے فيصلہ کياہے کہ ملک کے حساس قرار ديئے گئے علاقوں کودہشت گردوں کے ٹھکانوں سے پر تشدد کارروائيوں کے ممکنہ خطرے کے پيش نظر سخت اقدامات کرنے کا فيصلہ کيا ہے ۔وزير داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ عيد پر ملک کے کچھ علاقوں ميں دہشت گردي کا خطرہ .انہوں نے کہاکہ دہشت گردي کے خطرات کي وجہ سے کسي قسم کي کوتاہي نہيں کرنا چاہتے.

وزير داخلہ نے کہاکہ پاکستان ناکام رياست نہيں ہے اور یہ کہ  دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا ديں گے۔  ديسي ساخت کے بم موبائل فون سروس کے ذريعے استعمال کئے جاتے ہيں ان کوششوں کو ناکام بنانے کيلئے اسلام آباد سميت بعض علاقوں ميں محدود وقت کيلئے موبائل فون سروس بند رکھي جائے گي اس کا مقصد لوگوں کي جانيں محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امن وامان کے لئے وفاقي اور صوبائي حکومتيں مربوط انداز ميں کام کر رہي ہيں۔ کراچي ميں عيد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کي نفري بڑھا دي ہے انہوں نے کہاکہ ہميں ملک کو پرامن اور محفوظ بنانا ہے۔

 دہشت گردي کے سلسلے کي ہر کڑي وزيرستان سے جا ملتي ہے۔ کراچي بھر ميں دہشت گردي کے خطرے کے پيش نظر اتوار کي شب تمام کمپنيوں کي موبائل سروس بند کر دي گئي، موبائل سروس پير کي سہ پہر تک معطل رہے گي ، عيد کے روز دہشت گردي پر قابو پانے کيلئے يہ حکومت کا دوسرا اقدام ہے جس سے شہري براہ راست متاثر ہوئے ہيں اس سے قبل حکومت نے شہر ميں تين دن کيلئے موٹر سائيکل کي ڈبل سواري پر پابندي عائد کي تھي۔

 موبائل سروس کي بندش کے سبب شہريوں کو شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا مگر عوام کا مفاد سپریم ہوتا ہے اور مفاد عامہ میں کئے گئے فیصلوں سے کسی کو کوئی رنج و شکایت نہ ہو نی چاہئیے۔ عوام کی جان و مال سے بڑہ کر کوئی چیزمقدم  و مقدس نہ ہے ہمیں اس سلسلہ میں بڑے سے بڑا قدم اٹھانے سے دریغ نہ کرنا چاہئیےاور دشمن طالبان و دیگر دہشت گردوں کے ہر حربہ کو عزم صمیم سے ناکام بنا دینا چاہئیے۔

اس فیصلہ سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ طالبان اور ان کے حمایتی  دہشت گردوں نے پوری پاکستانی قوم کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اب ہمیں بحثیت مجوعی ایک قوم کے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کب تک دہشت گردوں کے ہاتھوں یر غمال بنے رہیں گے۔ ہمیں طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کی عفریت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر کے اور  ملک سے اس بے یقینی کی فضا کو ختم کرکے ،ایک روشن و تابناک مستقبل کی طرف جلد رواں دواں ہونا ہے۔

Advertisements

“دہشت گردی کا خطرہ، موبائل فون سروس کی بندش” پر 2 تبصرے

  1. میری طرف سے دل کی گہرائیوں سے بہت بہت عید مبارک ہو۔ اور اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو ایمان کی سلامتی کے ساتھ پر امن عیدیں دیکھنا نصیب ہو ۔ کاش میرے وطن میں عید امن سے ہو جائے ایسا بھی اک دن ہو کہ کوئی بری خبر نہ آئے آمین

تبصرے بند ہیں۔