طالبان کا جیلیں توڑنے کا منصوبہ


طالبان کا جیلیں توڑنے کا منصوبہ

سینٹرل جیل حیدرآباد پر دہشت گردوں کی جانب سے ممکنہ حملے کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ ایس ایس پی ہیڈکوارٹرکےمطابق حیدرآبادجیل پربنوں طرز کے حملے کا خطرہ ہے ۔ ڈی آئی جی جیل خانہ جات حیدرآباد کے مطابق سندھ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ سینٹرل جیل پر بنوں جیل طرز کا حملہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں سترہ سو قیدی ہیں جن میں سے ایک ہزار سے زائد خطرناک ہیں اور چالیس کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل کے مرکزی دروازے پر ایک بکتر بند ، ایف سی کی دو پلاٹون اور دیگر نفری کو تعینات کردیا گیا۔

انتیس خطرناک قیدیوں کی منتقلی کے بعدجیل کی سیکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے ۔ ان قیدیوں کو عید سے پہلے حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تھا ۔ سینٹرل جیل حیدرآباد میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے پچاس سے زائد قیدی شامل ہیں جبکہ سترہ سو سے زائد قیدی مختلف بیرکوں میں موجود ہیں ۔
سینٹرل جیل حیدرآباد کالا چکر بیرک اور دیگر اطراف میں پولیس کی مزید نفری تعینات کی گئی ہے اورجیل کے باہر سڑکوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ شروع کر کرے بکتر بند گاڑی اور پولیس کا گشت بڑھادیا گیا ہے ۔

علاوہ ازیں، تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو  سنٹرل جیل فیصل آباد پر حملہ کر کے  اپنے  ساتھیوں کو رہا کروانے کی منصوبہ بندہ میں مصروف ہیں۔

انٹیلیجنس رپورٹس جو کہ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ، انسپکٹر جرنل پولیس اور  انسپکٹر جرنل جیل خانہ جات پنجاب کو بھیجی گئی ہیں، میں خبردار کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان(طارق آفریدی گروپ)  کے طالبان نے سپرینٹنڈنٹ سنٹرل جیل فیصل آباد،طارق محمود بابر کو اغوا کر نے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ جیل کو توڑنے کے منصوبہ پر عمل کیا جاسکے۔

300 سے زیادہ خطرناک  دہشت گرد قیدی اس وقت صوبہ پنجاب کی  ۹  مختلف جیلوں میں  قید و بند ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس خطرہ کو سیرس طور پر لیا ہے اور سخت سیکورٹی کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ جیل توڑنے کے ممکنہ منصبہ کو  عملی طور پر ناکام بنایا جا سکے۔

طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔ جہاد تو اللہ کی راہ میں اپنے رب کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

  تمام طالبان ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ طالبانی  انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں  اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی  معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غیر مسلموں کو اسلام سے دور بھگا رہے ہیں۔

طالبان ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری  ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟

    اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم  نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک  اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔

         طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔  مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام  و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں  جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ  طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔

طالبان پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا  کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا  ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی انتہائی مشکوک  اور ناقابل اعتبار ہے۔ کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔
          یہ ہیں پاکستان میں  اسلامی نظام نافذ کرنے والوں کے کرتوت و عزائم جو مختلف بھیس بدل کر اور اپنی اصلیت کو چھپا کر سادہ لوح پاکستانیوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔ طالبان نے  قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔تحریک طالبان ایک  مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے ۔طالبان کے اسلام اوپاکستانی قوم کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ طالبان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور طالبان کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Advertisements