جنونیت و قتل و غارت گری بند کی جائے


صوبہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے تین مختلف واقعات میں  ۸افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں کا تعلق ہزارہ قبیلے اور شیعہ مسلک سے ہے۔ واقعے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔

مظاہرین نے حکومت سے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کامطالبہ کیا ہے۔کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں سنیچر کی صبح نامعلوم افراد نے سبزی منڈی کے قریب ایک لوکل بس سے تمام مسافروں کو اتار کرشناختی کارڈ دیکھنے کے بعد ان میں سے پانچ افراد کو فائرنگ کر کے کرہلاک کر دیا۔

فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے موٹرسائیکلوں پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان نے ہزار گنجی میں ہی فائرنگ کے ایک اور واقعہ میں مذید دو افراد کو ہلاک کیاہے۔اس طرح فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۸تک پہنچ گئی۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت ہزارہ قبیلے اور شیعہ مسلک سے ہوئی ہے۔

واقعے پر ہزارہ قبیلے کے افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کے مغربی بائی اور بروری روڈ کو کئی گھنٹوں تک احتجاجاً بند کیا۔ جبکہ کئی مقامات سے فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ جس کے باعث شہر میں حالات ایک بار پھرکشیدہ ہوگئے۔

مظاہرین کاکہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے رشتہ داروں کی لاشیں نہیں اٹھائیں گے جب تک کوئی اعلی حکومتی عہدیدار ہپستال آکرانہیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے یقین دہانی نہیں کراتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیاہے۔

دوسری جانب ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی اور عزاداری کونسل پاکستان نے ہزار گنجی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اتوار کو کوئٹہ شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کے روز کوئٹہ کے جی او آر کالونی میں نامعلوم مسلع افراد نے ایڈیشنل سیشن جج ذوالفقار نقوی کو ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت ہلا ک کیا تھا۔

ذوالفقار نقوی کی ہلاکت کےخلاف سنیچر کو دوسرے روز بھی کوئٹہ اور صوبے کے دیگرشہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے دوارن بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں تیرہ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیا ہے جن میں سے گیارہ کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ واقعات کے خلاف چیف آف ہزارہ قبائل سردارسعادت ہزارہ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اوردیگر شیعہ تنظیموں کی جانب سے کل اتوار کو شٹر ڈاوٴن ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے جبکہ واقعات کے خلاف 7 روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

سیشن جج  کے قتل کے واقعہ کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کر لی ہے۔ اس ضمن میں لشکر جھنگوی کا بیان ٓنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوي نے جي او آر کالوني ميں ايڈيشنل سيشن جج کے قتل کي ذمہ داري قبول کرلي جبکہ ججوں اور صحافيوں کو بدلہ لينے کي دھمکياں دي ہيں۔

 جمعرات کي شب نامعلوم مقام سے ٹيليفون پر بات چيت کرتے ہوئے ترجمان ابو بکر صديق نے کہا کہ آئندہ جس عدالت نے ہمارے اسير ساتھيوں کو سزا دينے کي کوشش کي اس کا انجام بھي ذوالفقار نقوي جيسا ہوگا ہمارے ساتھي جن ميں داؤد باديني ، شميم محمد شہي ، شفيق رند ، حيدر لہڑي ، حافظ عثمان ، جليل ابابکي شامل ہيں ان کے مقدمات زير التوا ہيں اگر ان کے ساتھ کسي قسم کي عدالت نے سختي کي يا ان کو سزا دي تو چيف جسٹس اور تمام عدالتوں کے ججز ہمارے نشانے پر ہوں گے گذشتہ روز فيصل ٹاؤن ميں نوجوانوں پر فائرنگ کي گئي ہم بہت جلد اس کا بدلہ ليں گے جو ہمارے بيانات پر پابندي لگانے کي کوشش کرے گا اسکا انجام بھي ماضي ميں کي جانے والي ہماري کارروائيوں جيسا ہوگا لشکر جھنگوي صرف دھمکي نہيں ديتي جو کہتي ہے وہ کر گزرتي ہے جو اخبارات ہمارے بيانات نہيں چھاپيں گے 10سے 20اخبارات ميں کام کرنے والے کارکنوں کو جانتے ہيں جو موٹر سائيکلوں پر پھرتے ہيں ان کو نشانہ بنائيں گے.

چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے، نیول بیس مہران اور کامرہ ایئر بیس حملوں کے ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں اور بیرون ملک آباد پاکستانی ملکی حالات سے خوفزدہ اور یہاں آنے سے ڈرتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے لندن سے کراچی پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ چیئرمین سنی اتحاد کونسل کا کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے، جب سیاسی جماعتیں چیف الیکشن کمیشن پر متفق ہوسکتی ہیں تو دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کیوں نہیں بلائی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے حکومت کو دہشت گردی پر قابو پانا ہوگا نہیں تو بڑی خونریزی کا خطرہ ہے، بیرون ملک قیام پذیر پاکستانی ملکی حالات سے خوفزدہ ہیں اور وطن واپس آنے سے ڈرتے ہیں، مہران اور کامرہ بیس حملوں کے ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=65792

         اسلام کے معنی ہیں سلامتی کے۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور امن اور سلامتی کی بات کرتے ہیں۔ ‘ ہمارا دین ہمیں امن اور سلامتی کا درس دیتا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو امن اور سلامتی نصیب ہو اور امن اور چین کی بنسری بجے۔ آ نحضرت صلعم دنیا میں رحمت العالمین بن کر آ ئے۔ اسلام اور دہشت گردی دو متضاد نظریات ہیں ۔اسلام احترام انسانیت کا درس دیتاہے جب کہ دہشت گردی بے گناہ انسانیت کے قتل اور خوف وہراس پیدا کرتی ہے۔  

                        اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔طالبان ، لشکر جھنگوی اور القائدہ دہشت گردوں کا ایک گروہ ہے جو اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک جلا رہا ہے اورقتل و غارت کا ارتکاب کر رہا ہے۔میدان جنگ میں بھی ظلم وبربریت سے اسلام منع کرتا ہے اور وہاں بھی بوڑھوں ، بچوں اور خواتین کے قتل سے روکتاہے.

کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔اسلام میں فتنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔کسی بے گناہ کی طرف آلہ قتل سے اشارہ تک کرنا منع کیا گیاہے .دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ اللہ تعالہ فرماتے ہیں:

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

       کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
       وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)

ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
       تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
       ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”      
       مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
       ” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”

قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئےہیں۔

 ماسواےکسی کو قتل کرنے کے بدلے میں قتل کرنا اور زمین پر فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا ۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ کسی بے گناہ کا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔

                مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
     جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان ، لشکر جھنگوی اور القائدہ قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ ہمیں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی،جنونیت اور قتل و غارت گری بند کرنی چاہئیے اور اس کو ختم کرنے کے لئے عملی قدامات کرنے چاہئیے۔

ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔یہ سفاکانہ دہشت گردی کرنے والے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے دہشت گردی کا تسلسل ملک کی سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور موثر لانگ ٹرم  و شارٹ ٹرم حکمت عملی وضع کرنا ہو گی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لئے  خاتمہ ہو سکے۔

لہذا    تمام  اہل دانش اور  علمائے کرام کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام اور جہاد کے صحیح اسلامی عقیدے سے آگاہ کریں اور انہیں  طالبان، لشکر جھنگوی اور القائدہ کے ہاتھوں میں کھلونا بننے سے بچائیں جو نہ کسی حرمت کا لحاظ کر رہے ہیں نہ قرآن و حدیث کے واضح فرامین کا پاس رکھتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی ان نصوص پر غور کر کے ہمیں اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ دُشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بننے والوں کو بھی، اور جوش انتقام میں اندھا ہو جانے والوں کو بھی۔

Advertisements