شمالی وزیرستان اور دہشت گرد


           شمالی وزیر ستان کا علاقہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا  ہے  اور یہ دریائے ٹوچی اور دریائے گومل کے درمیان ہے ۔یہ دشوار گزار سنگلاخ پہاڑوں اور پر پیچ وادیوں پر مشتمل ہے  کبھی یہ علاقہ امن کا گہوارا ہوا کرتا تھا مگر اب نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ امن کی دیوی اس علاقہ سے روٹھ گئی ہے۔

          شمالی وزیرستان میں آپریشن ایک مرتبہ پھر  زور شور سےخبروں میں ہے  اور  اس سے شمالی وزیرستان میں تشویش کی  فضا کا پایا جانا ایک فطری عمل ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کی افواہیں گزشتہ طویل عرصے سے اُڑ رہی ہیں، اور ابھی تک اُن کی صداقت ثابت نہیں ہو سکی  ہے۔ عوام میں غیر یقینی حالات اور عدم تحفظ کا احساس کسی بھی حکومت کیلئے ایک تشویشناک  امر ہوتا ہے۔ مگر حالات سے ایسا لگتا ہے کہ ملک میں کسی تازہ کارروائی کے لیے ’قومی  و سیاسی اتفاق رائے‘ کا فقدان ہے لہذا اکثر ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں، ’قومی و سیاسی  اتفاق رائے کے بغیر یہ کارروائی ممکن  دکھائی نہ  دیتی ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی آپریشن اسی وقت کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے جب پوری قوم اس کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے۔

              اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی وزیرستان  جو تمام شدت پسندوں کا ہیڈکوارٹر بھی کہلاتا ہے، محض ایک گروپ کے خلاف کارروائی  موثر و کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی۔” اگرچہ تحریکِ طالبان، جیش محمد، القاعدہ، حقانی نیٹ ورک اور پنجابی طالبان  وغیرہ وغیرہ علیٰحدہ علیٰحدہ تنظیمیں ہیں  مگر ان سب تنظیموں میں بہت گہرا تعاون و اشتراک موجود ہے اور  جب ایک پر مشکل آئی ہے تو دوسرے جہاں تک ممکن ہوا، ایک دوسرے کی مدد کو پہنچتے ہیں۔

              حالات کا ادراک کرتے ہوئے  شدت  پسند اور دہشت گردوں کا دوسرے علاقوں میں عارضی طور پر منتقل ہو  جانا بعید از قیاس نہ ہے.

             دنیا بھر کے دہشت گرد پاکستان میں موجود ہیں۔ "ہر کوئی شمالی وزیرستان میں ہے،وہاں عرب ہیں ،ازبک ہیں ،تاجک ،انڈونیشی ،بنگالی، پنجابی ،افغان ، چیچن اور سفید جہادی ۔ یورپین جہادی” کامران خان ممبر پارلیمنٹ، میران شاہ۔ "تقریبا ۱۰ ہزار غیر ملکی جہادی شمالی وزیرستان میں ہیں”( ڈیلی ڈان) وہاں القائدہ ہے،طالبان ہیں، پنجابی طالبان ہیں ،حقانی نیٹ ورک ہے،حرکت جہاد اسلامی ہے،لشکر جھنگوی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اسامہ بن لادن کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد شمالی وزیرستان پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہون نے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔

            القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ القائدہ اور طالبان کے وجود میں آنے پہلے پاکستان میں تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں میں لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے بقول سابق وزیراعظم گیلانی اور موجودہ  وزیر داخلہ رحمان ملک، .پاکستان میں ہونے والے ۸۰ فیصد دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے وزیرستان سے ملتے ہیں۔
ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز  استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں جہادی عناصر کو ہمیشہ کے لئے نکیل ڈالنی ہو گی اور ان کی بیخ کنی کرنا ہو گی کیونکہ یہ ہمارے بچوں ،عورتوں،بزرگوں اور بے گناہ و معصوم شہریوں کو  طالبان و القائدہ کے ہاتھوں بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

             کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی بحالی  کرتے کرتے ، پاکستانی افواج الجھ کر   نہ رہ جائیں  اور ملک بھر میں مزید بد امنی اور عدم استحکام کے شعلے بھڑک اٹھیں۔ کچھ لوگوں کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ بہر حال اپریشن کا فیصلہ کرنا یا نہ کرنا توا رباب اختیار کے ہاتھ میں ہے وہ جو بھی فیصلہ کریں گئے سوچھ سمجھ کر کریں گئے۔

           پاکستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود  کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے اور ا س انتہا پسندی کے منبے شمالی وزیرستان میں ہیں ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر  رکھا ہے – اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں جنہوں نے  ہتھیاروں کی زبان کا استعمال شروع کر رکھا ہے یا پھر  ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ کیا اس بات کا امکان ہے کہ یہ دہشت گرد ہتھیار ڈال کر  بات چیت سے مسائل کو حل  کریں گئے؟ ماضی کے تجربات ایسے نہ ہیں۔ باتوں سے تو یہ دہشت گرد ماننے کے نہیں۔ تو ہمارے پاس کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ آج شمالي وزيرستان ايک ايسي رياست بن چکا ہے جہاں نہ تو پاکستان اپنا پرچم لہرا سکتا ہے اور نہ ہي پاکستاني رياست اپني عملداري رکھتي ہے .عملي طور پر اس علاقے پر ہماراکوئي کنٹرول نہيں ہے۔

            ہمیں اپنی سرزمین سے ان تمام ملکی و غیر ملکی جہادیوں کو جو ہمارے ملک میں دہشت گردی پھیلاتےہیں، کو دہشت گردی کرنے کی ہر گز اجازت نہ دینی چاہئیے اور ان دہشت گرد عناصرکو  نکا ل باہر کرنا چاہئیے۔

Advertisements

“شمالی وزیرستان اور دہشت گرد” پر 4 تبصرے

  1. اب تک تو سارے اپنے اور پرائے، لبرل اور مسلمان، دائیں اور بائیں بازو والے سارے کے سارے یہی کہہ رہے تھے کہ جناب شمالی وزیرستان میں آپریشن ایک بڑی مصیبت ہوگی۔۔۔۔ مگر آپ کا کالم پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پاکستان میں بھی امریکی مفادات کی نگہبانی کرنے والے موجود ہیں اور عقل و دانش کی باتیں کررہے ہیں۔ اللہ آپ کا انجام امریکیوں کے ساتھ فرمائے۔ آمین

  2. ڈاکٹر صاحب:
    بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
    "پاکستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے اور ا س انتہا پسندی کے منبے شمالی وزیرستان میں ہیں ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں
    جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے – اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں جنہوں نے ہتھیاروں کی زبان کا استعمال شروع کر رکھا ہے یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ کیا اس بات کا امکان ہے کہ یہ دہشت گرد ہتھیار ڈال کر بات چیت سے مسائل کو حل کریں گئے؟ ماضی کے تجربات ایسے نہ ہیں۔ باتوں سے تو یہ دہشت گرد ماننے کے نہیں۔ تو ہمارے پاس کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ آج شمالي وزيرستان ايک ايسي رياست بن چکا ہے جہاں نہ تو پاکستان اپنا پرچم لہرا سکتا ہے اور نہ ہي پاکستاني رياست اپني عملداري رکھتي ہے .عملي طور پر اس علاقے پر ہماراکوئي کنٹرول نہيں ہے۔”
    اختلاف کرنا آپ کا حق ہے مگریہ زمینی حقائق ہیں اور پاکستان کے عوام کو ان کا اچھی طرح ادراک ہے۔
    میں نے دونوں نقطہ نظر سامنے رکھ کر لگی لپٹی رکھے بغیر اپنی دیانتدارانہ رائے کا اظہار کیا ہے ،جو میرے نزدیک ایک بہترین حل ہے۔

  3. تو لرو جناب ۔کس نے تمھیں روکا ہوا ہے۔لیکن ایک بات یاد رکھو اور کان کھول کر اس بات کو سن لو کہ اگر شمالی وزیرستان کے عوام نے افغانستان کے ساتھ الھاق کا اعلان کردیا تو تم جیسے انگریزون کے گماشتے کیلئے پاکستان میں رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوگا۔

    سوات کے اپریشن کا ابھی تک نتیجہ نہیں نکلا۔ابھی تک سوات کے طالبان پاکستانی غلاموں کی ٹھکائی کر رہی ہے۔

    باجوڑ اور مہمند مین بھی یہی صورت حال ہے۔ جو ملک اور قوم اپنے سلسلہ چیک پوسٹ کے فوجیوں کا نہیں پوچھ سکتی ،اسکو کیا اختیار ہے کہ وہ وزیر ستان کے حالات پر بات کرئے۔

    یہ تمام نام نھاد ملکی سلامتی ادارئے جتنا اس ملک کو نقسان پہنچا رہے ہیں اپنا کسی نے نہیں پہنچایا۔

    ائے روز ایف سی لوگوں کو اغوا کر رہی ہے۔ فوج لوگوں کو اغوا کرکے 5 ہزار دالر پر فروخت کر رہی ہے ۔یقین نہیں آتا تو فوجی مشرف کی کتاب دیکھو۔)

    جو سیکورٹی ادارئے اپنی بیٹی کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کر دئے تو اس فوج کی سوچ یہی ہو سکتی ہے کہ ایکشن کرو اور ایک اور بنگلہ دیش بناو۔

    سوات ،باجوڑ ،مہمند، ملاکنڈ، کالا ڈھاکہ ، جنوبی وزیر ستان کے تباہی کے بعد شمالی وزیرستان میں بھی ناکام اپریشن کرو تاکہ یہ سب مل کر افغانستان کے ساتھ الحاق کر دیں۔

    یاد رہے کہ ڈیورنڈ لائن کی مدت ختم ہوچکی ،اگر ایک بار ان قبائل نے الھاق کا اعلان کردیا تو اپکے ان سیکورٹی اداروں کی پتلونیں اتر جائیں گی۔جیسا بنگل دیش میں ہوا تھا۔ یہ نالائق ادارئے۔

    تاریخ میں کسدی فوج نے اپنے لوگوں کو نہیں فروخت کیا لیکن یہ کام بھی پاکستانی اداروں نے کر دکھایا۔

    جو اپنی بیویوں کی حفاظت نہیں کر سکتے ،ملک کی کیا حفاظت کریں گے۔

  4. درویش خراسانی صاحب:
    بلاگ پر تشریف آوری اور مکالمہ جاری رکھنے کا بہت بہت شکریہ۔
    مجھے آپ کے کمنٹس سے کلی طور پر اتفاق نہ ہے کیونکہ آپ کے کمنٹس سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ آپ "سٹیٹس کو” کے حق میں ہیں جو کہ یقینا موجودہ مسائل کا حل نہ ہے اور نہ ہی آپ نے اس گھمبیر مسئلہ کا اپنے طور پر کوئی حل پیش کیا ہے اور نہ ہی میرے دلائل کا کوئی مدلل جواب دیا ہے۔ بلکہ آپ نے جذباتیت کا سہارا لیتے ہوئے یہ کمنٹس تحریر کئے ہیں۔ آپ کے جذباتی دلائل پاکستان کے لئے تباہی کا پیغام ہیں اور دہشت گردوں اور ملک کے باغیوں کے حوصلوں کو بڑہانے کے مترادف ہیں اور ۴۲۰۰۰ بے گناہوں کے خون کو ضائع کرنے کے مترادف ہیں۔
    بین القوامی قانون کے تحت چند لوگ کسی دوسرے ملک سے الحاق نہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی کسی نے اس قسم کی دہمکی دی ہے۔ یہ آپ ان لوگوں کے منہ میں ڈال رہے ہیں۔
    ڈیورںڈلائن کا معاہدہ اس وقت کی دو حکومتوں کے درمیان طے پایا تھا اور اس کے ایک فریق نے شروع سے ہی اس معاہدہ کی خلاف ورزی شروع کر دی تھی۔ ہمیں جذباتیت سے اوپر ہو کر تحمل،برباری اور دوراندیشی سے ملکی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
    چند برسوں سے وطن عزیز پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں
    ہے۔ ۴۲۰۰۰ کے قریب بے گناہ لوگوں کا قتل اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ۶۸ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے
    مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔یہ سفاکانہ دہشت گردی کرنے والے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے دہشت گردی کا تسلسل ملک کی سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا
    خطرہ ہے۔۔ آج دہشت گردی، شدت پسندی اور فرقہ واریت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ پیدا کردیا ہے ۔ یا تو ہم ان مسلح دہشت گردوں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔
    اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی .صلح جوئی کی پالیسی نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم انسانی جانوں کی زیاں نیز معاشرے اور معیشت پر اس
    کے برےاثرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں –
    کسی بھی دہشت گرد کو یہ اجازت نہ دی جا سکتی ہے کہ وہ ملک و قوم کی تقدیر سے کھیلے۔

تبصرے بند ہیں۔