پشاور میں بم دھماکہ


صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ پشاور میں ایک دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ پشاور کے نواحی علاقہ بڈھ بیر سکیم چو ک کے قریب پاک فضائیہ کی گاڑی پر ریمورٹ کنٹرول کار بم حملہ کے نتیجہ میں خاتون سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ پی اے ایف کے تین اہلکاروں،چار بچوں اور خواتین سمیت 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کو پشاور شہر کے علاقے سکیم چوک میں کوہاٹ روڈ پر پیش آیا۔ ایک پولیس اہلکار گل سید نے  کہاکہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سڑک پر گاڑیوں کا رش تھا۔انہوں نے کہا کہ دھماکے میں تین گاڑیاں مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہیں جس میں ایک مسافر گاڑی ، وین اور آلٹو گاڑی شامل ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دھماکہ کس گاڑی میں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں مسافر گاڑی میں ہوئی ہیں جو پشاور سے کوہاٹ جارہی تھی۔

درہ آدم خیل طالبان کے طارق آفریدی گروپ کے ترجمان، محمد نے نے پشاور میں کوہاٹ روڈ پر پی اے ایف کی بس پر حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔محمد نے ذرائع ابلاغ کے مراکز پر فون کرکے بتایا کہ اورکزئی ایجنسی میں ایک مدرسے پر پی اے ایف کے فضائی حملے اور مولانا نصیب خان کی ہلاکت کے بدلے کے طور پر یہ حملہ کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مزید حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنائیں گے۔

بم ڈسپوزل یونٹ کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل شفقت ملک نے بتایا کہ دھماکہ کا نشانہ پاک فضائیہ کی گاڑی تھی جس میں سویلین اہلکارسوارتھے۔ شفقت ملک کے مطابق دھماکہ ریمورٹ کنٹرول تھا جس میں40 سے 50کلوگرام تک دھماکہ خیز مواد اور آرٹلری شیل استعمال کیاگیا ہے۔ کار کا انجن اور دیگر پرزے مل گئے ہیں انجن نمبر صاف نظر نہیں آرہا۔ صدر، وزیراعظم، نواز شریف، شہبازشریف، وزیراعلی خیبر پی کے امیر حیدر ہوتی، چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الہی، الطاف حسین، اسفند یار ولی اور دیگر سیاسی رہنماﺅں نے بم دھماکے کی شدید مذمت اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

بڈھ بیر پولیس سٹیشن کے انچارج نسیم حیات نے تصدیق کی کہ دھماکے میں پاکستان ائیر فورس کی ایک گاڑی بھی تباہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ائیر فورس کی گاڑی میں کوئی ہلاک یا زخمی ہوا ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ دھماکے کا ہدف پی اے ایف کی گاڑی تھی۔ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور منتقل کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں چھ گاڑیاں نشانہ بنی ہے جس میں چار گاڑیاں مکمل طورپر جبکہ دو کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے سے اردگرد واقع دوکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہاں سے کچھ فاصلے پر پاکستان آئیر فورس کا ایک مرکز بھی واقع ہے۔ اس سے پہلے بھی پی اے ایف کی ایک گاڑی کو کوہاٹ روڈ پر بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستان خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ ایک طویل عرصہ سے دہشت گردوں کے نشانہ پر ہے اور دہشت گردی روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہے۔

     یہ امر شک اور شبہے سے بالا ہےکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور  پاکستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے‘ جس کی وجہ سے  پاکستان عرصہ سے دہشت گردوں کا شکار بنا ہوا ہے‘ پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے بہت سارے مالی و جانی نقصانات ہوئے ہیں‘ اور ترقی کے میدان میں ہم بہت پیچہے رہ گئے ہیں۔

کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں امن و امان قائم رکھنا  اور شہریوں کی جان و املاک کی حفاظت  کرنا ہوتی ہے۔دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے  ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و  ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔ نیز دہشت گرد جان بوجھ کر عسکری اداروں کو نشانہ بنا کر ملک کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔

کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔اسلام میں فتنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔کسی بے گناہ کی طرف آلہ قتل سے اشارہ تک کرنا منع کیا گیاہے .دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

چند برسوں سے وطن عزیز  پاکستان مسلسل خود کش حملوں کی زد میں ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل  اور املاک کی بے دریغ تباہی ہو رہی ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ۷۰ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اللہ کے فرامین کو پس پشت ڈال دیا جائے  اور احکام قرانی کا اتباع نہ کیا جائےتو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کر دیں، یہ عذاب الہی کی ایک شکل ہے۔      اللہ تعالہ فرماتے ہیں:

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

       کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)
       وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور اللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)

ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)
       رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا۔
       تم (مسلمانوں) کے خون، اموال اور عزتیں ایکدوسرے پر حرام ہیں، اِس دن (عرفہ)، اس شہر (ذوالحجۃ) اور اس شہر(مکہ) کی حرمت کی مانند۔ کیا میں نے تم تک بات پہنچا دی؟ صحابہ نے کہا ”جی ہاں۔
       ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔”      
       مسلمان کو قتل کر دینا جہنم میں داخلے کا سبب ہے لیکن اس کا مصمم ارادہ بھی آگ میں داخل کر سکتا ہے۔
       ” جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔” صحابہ نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ایک تو قاتل ہے (اس لیے جہنم میں جائے گا) لیکن مقتول کا کیا قصور؟ فرمایا ” اس لیے کہ اس نے اپنے (مسلمان) ساتھی کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔”

قرآن کریم میں مفسد فی الارض اور محارب جو کہ دوسروں کی جان اور مال کو خطرہ میں ڈالتے ہیں ،کے لئے بہت سخت احکام بیان ہوئےہیں۔

 ماسواےکسی کو قتل کرنے کے بدلے میں قتل کرنا اور زمین پر فساد پھیلانے والے کو قتل کرنا ۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ کسی بے گناہ کا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔

                مندرجہ آیت اور احادیث کی روشنی میں کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
     جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ طالبان ملا عمر کے Code of Conduct کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہید کرنا ، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔مزیدبرآں کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔

کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ ان کی یہ حرکت دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان کے لیے خوشیاں لے کر آئی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے دشمن چاہتے ہیں کہ یہاں کا امن تباہ کر دیا جائے اور بدامنی کی آگ بڑھکا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ لوگ پوری انسانیت کے قاتل ہیں۔

 طالبان ایک رستا ہوا  ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔

اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں۔ طالبان کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کو تباہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام الناس ،دانشوروں اور علما کرام کو اس کار خیر میں حکومت سے بھر پور تعاون کرنا چاہئیے۔

Advertisements

“پشاور میں بم دھماکہ” پر 2 تبصرے

  1. محترم:
    جہاد اللہ کی راہ میں کیا جاتا بدلہ لینے والا عمل، قبائلی روایات کا حصہ تو ہے مگر جہاد نہیں ہو سکتا۔ اس ہی لئے مفتی اعظم دیو بند،مولانا سلیم قاسمی نے کہا ہے کہ طالبان کا جہادجس سے معصوم لوگ قتل کئیے جارہے ہیں، ظلم ہے اور یہ کہ طالبان اسلامی اصلولوں کو بالکل نہ سمجھتے ہیں۔
    جہاد مقاتل کیلئے کُچھ قانون ہیں۔ کبھی یہ فرضِ کفایہ ہُوتا ہے ۔ تو کبھی یہ فرضِ عین ہُوتا ہے۔اور کبھی مُباح کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ اور اسکے
    بے شُمار آداب و احکامات اور اُصول خود اللہ عزوجل اور اُسکے مدنی محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان فرمائے ہیں جبکہ کُچھ آثارِ صحابہ (رِضوان اللہ علیہم اجمعین)سے ثابت ہیں ۔ جِنکا پاس رکھنا ہر مُجاھِدِ اسلام اور امیرِ مجاھِدین و لشکر پر لازم و فرض ہے۔اگر اِن قواعد اور احکامات کو پسِ پشت ڈال کر جہاد کیا جائے۔ تو ایسی لڑائی نہ صِرف جہاد کی رُوح کی عین منافی تصور کی جائے گی۔ بلکہ جہاد کے بجائے دہشتگردی کے زمرے میں شامل ہُوجائے گی۔
    طالبان کا طریق جہاد نہ صرِف صحابہ کرام (رِضوان اللہ تعالی اجمعین) کے طریقہ ءِجہاد سے مُختلف نظر آتا ہے بلکہ اُس جہاد سے متصادم نظر آتا ہے۔موجودہ دُور کے طالبان نہ صرف کافروں کے بچوں اور عورتوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ اپنے مقصد کے حصول کیلئےمسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر
    حملوں کے ذریعہ بے گُناہ مسلمانوں کو بھی خُون سے نہلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
    حالانکہ مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے۔
    اسلامی مملکت کے خلاف مسلح جدوجہد اسلامی
    شریعت کے تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔طالبان معصوم مسلمانوں اور پاکستانیوں کا دائیں و بائیں ، بے دریغ قتل عام ،خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعہ کر رہے ہیں۔
    جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو
    رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔