گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج


               گستاخانہ اور دل آزار فلم کے اجراءکے باعث دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی  اور اس کے خلاف ان کا احتجاج  ایک فطری ردعمل ہے اور تھا اور مسلمانوں کا حق بھی ہے۔ اس واقعہ کے خلاف پوری پاکستانی قوم سراپا احتجاج بنی رہی اس ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس احتجاج میں بھرپور حصہ لیا۔

ہونا تو یوں چاہئیے تھا کہ  احتجاج کرتے وقت  دوسرے مسلمانوں کے جان و مال  و عزت و آبرو کی حفاظت کی جاتی جو پیغمبر اسلام سے ہمارے  محبت  و عشق کا اولین تقاضہ ہے مگر ہماری قوم پڑ گئی گھیراو اور جلاو کے چکر میں اور اس طرح ۳۱  لوگ اپنی جانوں سے گئے اور ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

یوم عشق رسولﷺ کے موقع پرعام تعطیل کے دوران احتجاجی ریلیوںمیںشامل شرپسندوں کی جانب سے لوٹ ماراورجلاوگھیراوکی وجہ سے سرکاری ونجی املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا  اور ان نقصانات کاعبوری تخمینہ100ارب روپے لگایاگیاہے۔

تاہم تجارت وصنعتی شعبے کے نمائندوں کا کہناہے کہ ان نقصانات کا درست تخمینہ آئندہ چندروزمیںتفصیلات سامنے آنے کے بعدہی لگایا جاسکتا ہے۔

کراچی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابراراحمدنے کہا کہ ایک دن کیلیے معیشت کاپہیہ رکنے سے شہرکوتقریبا 14ارب روپے مالیت کے خسارے سے دوچار ہوناپڑتاہے۔

جسے 10 سے ضرب دیںتوملکی معیشت کوایک دن کی ہڑتال سے پہنچنے والے نقصان کا اندازہ ہوجائے گا،انھوںنے بتایاکہ فی الوقت کراچی کاصنعتی پہیہ ہفتے کے سات یوم میں سے صرف تین دن چل رہاہے۔

جس کی وجہ ہفتہ وارگیس کی بندش اوربجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے،انھوں نے بتایاکہ گیس کی اندھی لوڈ شیڈنگ کے باعث پورے سندھ میں تمام صنعتی یونٹ ہفتے کی شام 7 بجے سے پیرکی صبح 7 تک مکمل بندرہتے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ بدھ19ستمبر کوکراچی میں ایک سیاسی جماعت کے رہنما کی ٹارگٹ کلنگ اورحیدری مارکیٹ بم دھماکے پرہونیوالی ہڑتال سے معیشت کو5ارب روپے سے زائدکانقصان پہنچا۔ تھا،جوڑیابازارٹریڈرزایسوسی ایشن کے چیئرمین جعفرکوڑیا نے بتایاکہ جمعے کوکاروبار، درآمد و برآمد،صنعتی و دیگر تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے ملکی معیشت کو مجموعی طور پرتقریبا 60 ارب روپے سے زائدکانقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے بتایاکہ ملک گیراحتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی سے ہونے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ20 تا25 ارب روپے لگایا گیاہے،مظاہرین کے ہاتھوں معیشت کو پہنچنے والے براہ راست نقصان کے علاوہ موبائل فون سروس کی بندش سے بھی کمپنیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے،انھوں نے کہاکہ پاکستانی معیشت یومیہ بنیادوں پرکمزورہوتی جارہی ہے اورتخمینے کے مطابق پاکستان کی 60 فیصدآبادی کی یومیہ آمدنی دوڈالرسے بھی کم ہے۔

انھوں نے کہاکہ ملک میں جاری غیریقینی حالات ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور امن وامان کی سنگین صورتحال کی وجہ سے ملکی معیشت کو بلا واسطہ اور بلواسطہ نقصانات کا سامنا ہے جبکہ جمعہ کو یوم عشق رسولﷺ کے موقع پراحتجاج کے دوران جلاو گھیراو ، لوٹ مار اوربدامنی کی وجہ سے معیشت کودرپیش خطرات بالواسطہ بڑھ سکتے ہیں جن سے غیرملکی سرمایہ کاری کے رحجان میں کمی کا رحجان بھی غالب ہوسکتاہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف نے کہا ہے کہ گستاخانہ فلم کیخلاف احتجاج جائز حق ہے، پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہی۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ یوم عشقِ رسول ﷺ کے موقع پر پْرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔

صرف کراچی میں احتجاج اور پرتشدد واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چودہ افراد جاں بحق جبکہ سو سے زائد زخمی ہوگئے باقی ملک میں ہلاک ہونے والے اور زخمیوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔

کیا کہ یہی طریقہ گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج اور  عشقِ رسول کے اظہار کا  صحیح طریقہ ہوسکتا تھا ؟

کیا اسلامی تعلیمات یہی ہیں؟

کیا یہ ہمارے قومی تقاضوں کے عین مطابق ہے؟

مگر یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے مال اور جان کی حرمت ہے۔

اسلام امن و سلامتی،بھائی چارے، محبت، اخوت،ایثار و قربانی اور انسانیت کی خیرخواہی کا درس دیتا ہے اور فہم کا دین ہے ۔اسلام ایک امن پسند دین ہے۔ بحثیت مسلمان یہ ہماری ذمہ داری ہے ہم بلوہ و فساد, گھیراو  و  جلاو  نہ کریں بلکہ مزید خون و خرابہ سے مکمل طور پر اجتناب کریں اور دوسروں کی تربیت کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے زیاں سے بچا اور روکا جاسکے۔

مسلمان اپنے بہن بھائی کو قتل نہ کر سکتا ہے اور اور نہ ہی کسی پرائیویٹ و پبلک مال و جائداد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہمارے پیغمبر اسلام ہمیشہ عفو و درگذر سے کام لیتے تھے اور پیکر انسانیت و رحمت العالمین بنا کر اس دنیا میں بھیجے گئے تھے اور وہ  برداشت، تحمل اور رواداری کا درس دیتے تھے۔

اسلام میں احترام انسانیت ہی سب سے بڑا شعار ہے۔ کسی کی جان اور مال کو کسی بھی حال میں نقصان پہنچانا اور زمین پر فساد پھیلانا درست نہیں۔

مومن کی تُو پہچان ہی یہی ہے کہ اُس سے دیگر مسلمان محفوظ و مامون رہیں۔ قرآن مجید،  تو مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے۔ہم اپنے پاوں پر خود ہی کلہاڑیوں کے کاری وار کر رہے ہیں جو کہ مسلمانی کا شیوہ نہ ہے۔

نجی اور سرکاری املاک کی تباہی نہ صرف پاکستانی قانون کی صریحاخلاف ورزی ہے بلکہ غیر شرعی حرکت بھی ہے اور تخریب کاری کے زمرہ میں آتی ہے اور اپنے ملک سے دشنی ہے۔ہمیں تخریبی کاروائیوں میں کم اور تعمیر وطن میں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تباہی ایک دن میں ہو سکتی ہے احتجاج کی آڑ میں نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہچانے اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھی ہیں اور یہ دہشت گردانہ کاروائی احتجاج پر ایک  سوالیہ نشان ہے  اور  رسول اکرم صلعم کی تعلیمات کے منافی ہے۔ مسلمان  اپنے مسلمان بھائی کی املاک کو نقصان نہیں پہنچاتے. ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ یہ ہمارا  اپنا نقصان ہے کسی اور کا نہیں اور بجائے تعمیر وطن کے ہم تخریب  وطن مین پوری تیزی سے مصروف ہیں۔نفرت و مایوسی کی جگہ ہمیں محبت اور امید کو آگے بڑہانا ہوگا۔

روم ایک دن میں تباہ ہو سکتا ہے مگر تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔

Advertisements

“گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج” پر 2 تبصرے

  1. یہ توڑ پھوڑ صرف احتجاج والے دن ہی تھی کیا؟
    جتنا احتجاج آپ لوگ احتجاج کرنے والوں کے لئے کر رہے ہیں
    اتنا کاش کہ گستاخان رسولﷺ کے لئے کر گئے ہوتے
    جنہوں نے احتجاج کیا اور شریک ہوئے ان سے پوچھیے میڈیا وہاں کیوں نہ تھی؟
    کیونکہ میدیا ان شرپسندوں کے ساتھ تھی جو بم دھماکے کرتے ہیں
    جو آگ لگاتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں
    عام دن ہو یا 12 ربیع الاول ہو کہ محرم کی 10 تاریخ ہو
    یہ شرپسند ہیں انہیں احتجاج کرنے والوں میں نہ شامل کیجئے
    جیسے کہ منافقین کو مسلمن میں شامل نہیں کر سکتے بالکل ایسے ہی
    خدارا مسلمنوں کا ساتھ دیجئے
    کہیں آپ اللہ کے محبوب کے عاشقوں کی توہین کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں

تبصرے بند ہیں۔