طالبان کا میڈیاکے خلاف حملوں کا منصوبہ


طالبان کا میڈیاکے خلاف حملوں کا منصوبہ

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ذرائع ابلاغ کے ملکی اور غیرملکی اداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اپنے کارندوں کو خصوصی ہدایت جاری کی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہاہے کہ دہشت گردوں نے چند میڈیا ہاوٴسز اور چند اینکرز کو ٹارگٹ بنانے کا منصوبہ بنایاہے تاہم اس بارے میں جامع انٹیلی جنس تفصیلات لی جارہی ہیں ۔رحمان ملک نے اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہاکہ چند میڈیا ہاوٴسز کو نشانہ بنائے جانے کے امکان سے متعلق کئی الرٹس ملے ہیں،ان پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مکمل معلومات لینے کا کہاہے.

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=71533

طالبان کا کہنا ہے کہ میڈیا نے اس معاملے میں بہت زیادہ جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے کوغیر ضروری طور پر حد سے زیادہ کوریج دی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی طالبان سب سے بڑی برائی ہیں ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ طالبان نے متعدد اجلاس منعقد کئے ہیں جن میں انہوں نے اپنے فیلڈ کمانڈرز اور جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے وہ اپنے تمام تر آپریشن معطل کر دیں اور حکومت و سکیورٹی فورسز کی بجائے اپنی ساری توجہ میڈیا تنظیموں پر مرکوز کر دیں۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں 12 خود کش حملہ آور کا بھی انتخاب کر لیا گیا ہے۔یہ خود کش حملہ آورپشاور، اسلام آباد، کراچی ، لاہور کے علاوہ کہیں بھی ملکی و غیر ملکی میڈیا تنظیموں ،ٹی وی چینلزاور ان سے وابستہ کارکنوں کو نشانہ بنائیں گے۔بتایا گیا ہے کہ خود کش حملہ آوروں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ میڈیادفاتر ،ان کی گاڑیوں اور ان اداروں سے وابستہ ان صحافیوں کو نشانے میں لائیں جو واضح طور پر اس معاملے میں پارٹی بنے ہوئے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اس سلسلے میں ملالہ کے معاملے کو بہت زیادہ کوریج دینے والی پاکستان میں موجود ملکی وغیر ملکی میڈیا تنظیموں کی نگرانی بھی شروع کر دی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ قبل ازیں طالبان کے اندر میڈیا تنظیموں کو ٹارگٹ کرنے کے بارے میں ا ختلاف تھا تاہم بعد ازاں اس پر ان کا اتفاق رائے ہو گیا کہ طالبان کو بدنام کرنے کے لئے ملالہ کے واقعہ کو کئی کئی گھنٹے تک نان اسٹاپ ٹرانسمیشن چلانے والے اداروں کو لازمی طور پر ٹارگٹ کیا جائے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ان صحافیوں کو بھی جو ٹی وی چینلوں پر مسلسل بولتے اور ملالہ کو زخمی کرنے کے واقعہ کو غیر اسلامی و غیر شرعی اور پختون روایات کے خلاف بتاتے رہے ان کو بھی خصوصی طور نشانہ بنایا جائے گا۔سوات میں موجود صحافیوں کو تو باقاعدہ سنگین نتائج کی دھمکیا ں ملنا بھی شروع ہو گئی ہیں۔انہی دھمکیوں کے پیش نظر میڈیا دفاتر پر سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔طالبان ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ طالبان صحافیوں کا احترام کرتے ہیں اور اسے برقرار رکھا جائے گا تاہم صحافیوں نے ملالہ واقعہ پر بہت زیادہ جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔  

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=30326

وزراتِ داخلہ کے ایک ذمہ دار اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خفیہ اداروں نے حکیم اللہ محسود کی ٹیلی فون پر اپنے گروپ کے ایک کارندے ندیم عباس عرف انتقامی سے بات چیت ریکارڈ کی ہے جس میں وہ اُسے ذرائع ابلاغ کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق ندیم عباس عرف انتقامی کو حکیم اللہ محسود نے اسلام آباد راولپنڈی، لاہور، پشاور، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر اور ان نمائندوں کے خلاف کارروائی کرنے یا کروانے کے لیے کہا ہے جو تحریک طالبان پاکستان کو ملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد پاکستان اور پاکستان سے باہر شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تحریک طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ میں بھی تحریک طالبان کے خلاف نفرت اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

حکیم اللہ محسود کی کال سننے کے بعد حکومت نے ملک بھر میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر اور خاص طور پر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے دفاتر کے باہر سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔حکومت نے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام کو اس بارے میں تمام اہم اخبارات اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر کے باہر حفاظتی اقدامات بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان نے نو اکتوبر کو ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔یاد رہے کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے ٹیلی فون اور ای میلز کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ اُن مذہبی رہنماوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے کی میڈیا میں آ کر کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے تمام متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ جن علاقوں میں اہم ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر موجود ہیں وہاں پر پولیس کی نفری کو تعینات کیا جائے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو فرنٹئیر کانسٹیبلری کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت سے کہا جا سکتا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے کہا گیا ہے کہ وہ میڈیا کے ذمہ دار افراد سے ملاقاتیں کریں اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کو دور کیا جائے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین کا کہنا ہے کہ تمام تھانوں کے سربراہان کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ اُن کے علاقے میں موجود میڈیا کے دفاتر کے باہر نہ صرف پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں بلکہ اِن علاقوں میں پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کردیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ بہت جلد پولیس اور انتظامیہ کے افسران میڈیا کے ذمہ دار افراد سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

دریں اثناء سوات میں طالبان کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو ہلاک کرنے میں ناکامی کے بعد طالبان اب ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کریں گے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوات میں سراج الدین احمد نے جو مولانا فضل اللہ کے ملا ریڈیو کے ترجمان ہیں کہا ہے فضل اللہ کے خصوصی ڈیتھ سکواڈ میں شامل دو قاتلوں کو ملالہ یوسفزئی کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

رائٹرز نے سوات طالبان میں شامل شدت پسندوں کے حوالے سے کہا ہے کہ سوات طالبان ملشیاء تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی تنظیم ہے اور اس سو سے زیادہ شدت پسند ایسے ہیں جو ٹارگٹ کلنگ میں ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔

ملالہ پر حملے میں دو ٹارگٹ کلرز کو جو کہ بیس سے تیس سال کی درمیانی عمر کے تھے استعمال کیا گیا۔

سراج الدین احمد نے جو اب افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود ہیں کہا تحریک طالبان ملالہ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن جب اس نے طالبان کے خلاف اپنا منہ بند نہیں کیا تو وہ اس پر قاتلانہ حملہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔

احمد نے کہا کہ طالبان کی شوری کا کچھ ماہ قبل ایک اجلاس ہوا تھا جس میں متفقہ طور پر یہ ملالہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملالہ کو قتل کرنے کی ذمہ دار فوجی کمانڈروں کو سونپ دی گئی۔امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایئٹڈ پریس کے مطابق طالبان کا یہ اجلاس دو ماہ قبل ہوا تھا۔اے پی نے سراج الدین احمد کے حوالے سے کہا کہ ملالہ کو تین مرتبہ متنبہہ بھی کیا گیا تھا لیکن وہ باز نہیں آئی۔سراج الدین احمد نے اے پی کے ایک رپورٹر کو بتایا کہ ملالہ کو دو ہفتے قبل بھی ایک تنبہہ بھی کی گئی تھی۔

رائٹرز نے مزید کہا کہ دو شدت پسندوں نے ذاتی طور پر ملالہ کے متعلق تمام معلومات حاصل کئیں جس میں ان کے سکول جانے آنے کا راستہ اور اوقات کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی ملالہ پر حملہ کیا گیا۔

طالبان کے ترجمان نے رائٹر کو مزید بتایا کہ ملالہ کو شریف آباد میں فوجی چوکی کے قریب اس لیے نشانہ بنایا گیا تاکہ یہ بات واضح کی جاسکے کہ طالبان کسی بھی جگہ کوئی بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔سراج الدین احمد نے کہا کہ تنظیم نے اب ملالہ کے والد کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے.

پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں ،جس سے معاشرہ کے ہر فرد ،طبقہ اور ادارہ کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس فتنہ کا فوری اور یقینی تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے صف اول کا کردار ادا کرکے اپنی فوج اور عوام کے خون کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے پاکستان سیاسی, معاشرتی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا ہے اور اس جنگ میں پاکستان نے اپنی 42000 کے قریب قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ کی بہت بھاری معاشی‘ معاشرتی اور  اخلاقی قیمت چکائی ہے اور خدا جانے کب تک چکاتے رہیں گے۔ معیشت جو پہلے ہچکیاں لے رہی تھی دہشت گردی کے عذاب نے اس کو موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے کاروبار تباہ ہو گئے ہیں نئی  صنعت لگ نہیں رہی پرانی فیکٹریاں دھڑا دھڑ بند ہو رہی ہیں  اور  ہزاروں کے حساب سے لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ ملک ترقی معکوس کی طرف گامزن ہے۔

 طالبان اور طالبانی سو چ پاکستان کے وجود کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں اور طالبان جو کہ ۲۱ صدی کے خوارجین ہیں ،پاکستان، افواج پاکستا ن اور پاکستانی معیشت  کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں اور آئندہ کے لئے بھی ان سے کسی نیکی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ طالبان حقیقی معنوں میں انارکسٹ ہیں  جو نہ تو مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں اور نا ہی انسان۔ اس عفریت کا خاتمہ کیا جانا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر طالبانی حملہ کے بعد حکومت کو پوری عوامی حمایت حاصل ہے۔

 دہشت گردی کی تمام صورتیں اور اقسام انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ اسلام کسی حالت میں بھی دہشتگردی اور عام شہریوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت  اسلام کےانہی سنہری اصولوں پر کاربند ہے۔ دہشت گردی و خود کش حملے اسلام کے بنیادی اصولوں سےانحراف اور رو گردانی ہے۔

ٹی ٹی پی کا پاکستانی اور غیر ملکی  میڈیا پر حملہ کا منصوبہ پورے خطہ اور دنیا  کے لئے ایک بڑی چونکا دینے والی خبر ہے جس سے طالبان کی ذہنی خباثت عیاں ہو جاتی ہے کہ طالبان کسی بھی قسم کی مخالفت برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہیں اور مافیا کی طرح اپنے مخالفیں کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔

اوریہ  ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔

 

Advertisements