دہشت گردی کا نہ ختم ہونےوالاسلسلہ


دہشت گردی کا نہ ختم ہونےوالاسلسلہ

کہاں جاکے رکے گی کون جانے
یہ دہشت گردی و تخریب کاری
تشدد اس مہینے بھی نہیں کم
دھماکے ہیں محرم میں بھی جاری

(انور شعور)

دہشت گردی کے عفریت نے پورے پاکستان اور اس کے  سماج کو اپنی مکمل گرفت میں لے رکھا ہے۔پاکستان ،دہشستان بن چکا ہے ۔ دہشت گردی اور خودکش حملے روزانہ کا معمول بن کے رہ گئے ہیں۔ فرقہ ورانہ دہشت گردی عام ہے ۔ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں صرف شیعہ مسلمان ہی نہیں مارے جارہے بلکہ ان کے ہاتھ سنی مسلمانوں کے خون سے بھی رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے داخلی دفاع کو شدید نقصان، فرقہ واریت نے ہی پہنچایا ہے اور فرقہ واریت کی وجہ سے چند ساعتوں میں کراچی سے لے کر گلگت تک پاکستانیوں کا خون  نہایت آسانی سے بہایاجاسکتا ہے۔ اب اور تو اور داڑہی والے بھی دہشت گردی سے محفوظ نہ ہیں۔ پورا پاکستان دہشتگردی سے لہو لہان اور اشکبار و سوگوار ہے۔ افواج پاکستان ،پولیس اور رینجرز پر حملے ہو رہے ۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں  میں انتشار ہے۔ بلوچستان لہو لہان ہے  جہا ن ، بی ایل اے اور  القائدہ کی ساتھی ، لشکر جھنگوی تخریب کاریوں میں مصروف ہے اور فرقہ ورانہ بنیادوں پر ایک مخصوص ہزارہ  کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی‘ فرقہ واریت اور قتل و غارت کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا سیاسی ہے۔ وہ مذہب کی آڑ میں اپنے سیاسی ایجنڈے کو بزور طاقت لوگوں پر نافذ کرنے کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرقہ واریت بھی اسی گروہ کا ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ کراچی میں بد امنی و فرقہ ورانہ دہشت گردی تا حال جاری ہے. منی پاکستان ، جو پاکستان کی معاشی شہ رگ بھی ہے ، سمیت پورے ملک میں اسلحے کی بہتات نے صورتحال کو آتش بار بنایا ہوا  ہے۔ اس لیے جب  تک غیر قانونی اسلحے کی آخری چنگاری بجھنے تک ریاستی عملداری ثابت نہیں کی جائے گی دہشت گردی کا ناسور ختم نہیں ہو سکتا۔ ہر کوئی ملک کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے  کیونکہ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے.

کراچی کے علاقے ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع عباس ٹاؤن میں مسجد و امام بارگاہ کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور20 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکہ خیز مواد موٹرسائیکل پر نصب کیا گیا تھا، دھماکے کے نتیجے میں قریب واقع دودھ کی دکان تباہ اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ علاقے میں شدید فائرنگ بھی ہوئی۔ پولیس کے مطابق عباس ٹاؤن میں واقع امام بارگاہ مصطفی کی گلی کے بیریئر کے قریب اتوار کی شب زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے، واقعہ کے وقت امام بارگاہ میں تیسرے محرم کی مجلس جاری تھی، عینی شاہدین کے مطابق واقعہ کے وقت علاقے کی بجلی گئی ہوئی تھی، دھماکے کے بعد ریسکیو اداروں کی ایمبولینسوں کے ذریعے ہلاک اور زخمی ہونیوالے افراد کو پٹیل اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ہلاک ہونیوالے ایک شخص کو جناح اسپتال لایا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں،علاقے کو گھیرے میں لیکرابوالحسن اصفہانی روڈ کوٹریفک کیلئے بند کردیا جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں۔ ایس ایس پی سی آئی ڈی محمداسلم خان کے مطابق بم موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا اور ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے منسلک تھا۔ آئی جی سندھ فیاض لغاری کے مطابق دھماکے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کچھ دیر قبل ہی مذکورہ جگہ پر کھڑی کی گئی تھی۔ آئی جی سندھ کے مطابق امام بارگاہ کی سیکیورٹی سخت تھی اسی لئے دہشت گرد اس کے قریب نہیں جاسکے۔ واقعہ کے بعد تفتیشی اداروں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کئے جن کی بنیاد پر واقعہ کی تفتیش کی جائیگی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے محرم الحرام سے ایک روز قبل ہی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ دہشتگرد کراچی اور کوئٹہ میں موٹر سائیکل کے ذریعے دھماکے کرسکتے ہیں جس کے بعد انہوں نے کراچی اور کوئٹہ میں یکم محرم الحرام کے دن دونوں شہروں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی لگانے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے وفاقی وزیر داخلہ کے اس حکم کو معطل کردیا تھا جبکہ کوئٹہ میں یکم محرم کو شہر میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی برقرار رہی۔

ایک گفتگومیں ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم خان نے بتایاہے کہ ابوالحسن اصفہانی روڈپرعباس ٹاوٴن میں واقع امام بارگاہ کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں کالعدم لشکرجھنگوی کے ملوث ہونے کے امکانات ہیں ، چوہدری اسلم کے مطابق پولیس نے گزشتہ روزبھی لشکرجھنگوی سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کوپکڑاتھاجومحرم الحرام کے دوران شہر میں دہشت گردی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے،ادھر پولیس نے پٹیل اسپتال کے قریب سے ایک مشکوک شخص کو حراست میں لے لیاگیاہے ،پولیس کے مطابق مشکوک شخص رکشہ میں بیٹھاہواتھااورشاہ فیصل کالونی کا رہائشی ہے جبکہ اس کا آبائی تعلق رحیم یارخان سے ہے۔

امام بارگاہ پر حملے سےکراچی میں سیکورٹی انتظامات کا پول کھل گیا ۔ انتظامیہ کے مطابق مجالس عزا اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لئے شہر میں اکیس ہزار پولیس اور دس ہزاررینجرز اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ۔ اس کے ساتھ شہر بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کا جال بھی بچھایا گیا ہے ۔
پولیس کوملنے والی دہشت گردی کی اطلاعات سچ ثابت ہوئیں ۔ کراچی میں سکیورٹی کے بلند وبانگ دعوے کئے گئے تھے ۔ مگر کچھ ہاتھ میں نہ آیا اور دہشت گرد،  وار کرگئے ۔ پولیس نے شہر بھر میں تین ہزار سے زائد  مقامات کو حساس قرار دیا تھا ۔
مجالس عزا کے  جلوسوں کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے 21 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے تھے ۔ اس کے ساتھ شہربھر میں دس ہزار کے قریب رینجرز کے اہلکار بھی تعینات تھے ۔

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، وزیر اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی، وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مجلس وحدت مسلمین نے دھماکے کی پرزور مذمت کی ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی میں امام بارگاہ کے قریب دھماکے جیسے بزدلانہ اقدامات سے دہشت گردی کیخلاف عزم کمزور نہیں ہو گا اور ہم ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔انہوں نے عوام سے اپیل کہ وہ شرپسند عناصر پر نظر رکھیں۔

رحمان ملک نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امام بارگاہ کے باہر دھماکہ ملک اور اسلام دشمن عناصر کی کارروائی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ موٹر سائیکلیں اور غیر قانونی سمیں خطرناک ترین ہتھیار بن چکے ہیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں امن کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر مکمل طور پر ایسا آپریشن ہونا چاہئے، جو صدیوں تک یاد رہے اور کوئی جماعت یہ نہ کہہ سکے کہ اس کے کارکنوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ ـ

“سید خورشید شاہ کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو آن بورڈ لے کر یہ عزم اور فیصلہ کیا جائے کہ کراچی کو جرائم پیشہ افراد کی گرفت سے نجات دلانی ہے اور اس شہر کو امن و امان کا گہوارہ بنانا ہے۔ اس مقصد کے لئے اگر ایسا آپریشن کرنا پڑے جو خورشید شاہ کے الفاظ میں صدیوں یاد رہے تو یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہے جو شخص بھی شہر کراچی کا امن واپس لاتا ہے اور اسے پھر سے روشینوں کا شہر بناتا ہے اسے نیویارک کے میئر جولیانی کی طرح یاد رکھاجائے گا۔”

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے قاضی حسین احمد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ دین، وقت آگیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف تما م جماعتیں اور عوام متحد ہوجائیں۔ پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے قاضی حسین احمد پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، جس کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ امن سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کسی مصلحت سے کام لینا ملک وقوم کے مفاد میں نہیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام جماعتیں اور عوام دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حُسین احمد کے جلسے کے قریب خودکُش دھماکے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔مہمند ایجنسی میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ پیر کو صدر مقام غلنئی سے تقریباً چھ کلومیٹر دور تحصیل علیم زئی میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ غائب چوک کے قریب ہونے والے حملے میں قاضی حُسین احمد کے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ اہلکار کا یہ بھی کہنا تھا کہ خودکُش حملہ آور ایک خاتون تھی ۔

“قاضی حسین احمد جنہیں سیاسی حلقوں کے علاوہ مختلف دینی مکاتب فکر میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، گزشتہ سات ماہ سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ سبب اس کا یہ تھا کہ انہوں نے ایک انٹرویو میں افغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف افغان طالبان کی مزاحمت کو حقیقی جہاد اور پاکستان میں پاکستانی طالبان کی سرگرمیوں کو فساد قرار دیا تھا۔ پاکستانی طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود نے اس کی مذمت کی تھی اور یہ کہہ کر افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے حملوں کو جائز قرار دیا تھا کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں امریکہ کی اتحادی ہیں اور انہوں نے افغانستان میں فوجی آپریشن کے لئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فضائی اڈوں کی سہولتیں دے رکھی ہیں۔…….

"قاضی حسین احمد سے پہلے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پر بھی خودکش حملے ہوچکے ہیں، یہ دونوں شخصیات فہم دین اور شعائر اسلامی پر عمل کے حوالے سے مسلمہ حیثیت کی حامل ہیں لیکن کسی کو ان سے اختلاف بھی ہو تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انہیں یا کسی بھی دوسرے مسلمان کو بم سے اڑا دیا جائے۔ دین متین اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا ، اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اس لحاظ سے قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن جیسے مسلمہ مذہبی و سیاسی رہنماؤں پر طالبان کے حملے ناقابل فہم ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دوسری سیاسی و سماجی شخصیات، عامتہ المسلمین اورایک اسلامی مملکت کے سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں اور حساس تنصیبات کو بھی انہوں نے دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی جو کوششیں کی ہیں اور مسلسل کررہے ہیں ان کا بھی کوئی جواز نہیں۔”

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=40449

مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں امن و امان کے مسئلہ کا حل یہ نہیں کہ کبھی ڈبل سواری پر تو کبھی موٹرسائیکل چلانے پر ہی پابندی لگا دی جائے لاہورمیں کالم نگار عطاالحق قاسمی کیساتھ ملاقات سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ حکومت کراچی میں قیام امن کیلئے پہلے سیاسی جماعتوں کے ونگز ختم کرے۔ انہوں نے کہا خورشید شاہ حکومت کا حصہ ہیں اپوزیشن کا نہیں ،وہ کراچی میں آپریشن کے حوالے سے وہاں بات کریں۔ نواز شریف نے جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا اسطرح کے حملوں سے انتخابی عمل متاثر ہو گا .

جمعیت علمائے اسلام ف کے جنرل سیکرٹری مولاناعبدالغفورحیدری نے کہا ہے کہ کراچی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے حکمران جماعتیں اپنے عسکری ونگ ختم کریں۔لاہورمیں پریس کانفرنس کے دوران مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کراچی میں لوگ محفوظ نہیں۔ روزانہ 20سے25افراد شہید ہورہے ہیں ، کراچی میں حکومت کی رٹ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ علما اورطلبا کوشہید کرنے میں کراچی کی بعض حکمران جماعتوں کابڑاکردارہے۔

کراچی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی اسلحہ کی موجودگی کی رپورٹس ہیں اسلحہ کی اسمگلنگ پر بھی قابو نہیں پایا جاسکا ۔ سندھ میں 20 لاکھ سے زائد لائسنس یافتہ ہتھیارموجود ہیں۔ جن میں لگ بھگ سوا دو لاکھ اسلحہ لائسنس موجودہ حکومت کے ساڑھے چارسالہ دورمیں جاری کئے گئے۔لیکن بارود کا ڈھیر بنے کراچی میں لائسنس یافتہ ہتھیاروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر لگتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سے 10 گنا زیادہ بغیر لائسنس ہتھیار کراچی میں موجود ہیں۔ بد امنی کی مخدوش صورتحال کے باعث ناجائز اسلحہ کیخلاف کارروائی اورلائسنس یافتہ اسلحہ کمپیوٹرائز کرنیکی باتیں شروع ہوئیں۔ مگر صرف باتیں ہی رہیں۔ 10 جولائی کو صدر زرداری کی زیر صدارت امن و امان کے اجلاس میں کراچی میں غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل روکنے کیلئے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر ا سکینرز نصب کرنے اور چوکیوں میں کمپیوٹرائزڈ سسٹم لگانے کا فیصلہ کیا گیا مگر کیا گیا کچھ نہیں۔ شاید اسکینرز کی خریداری میں عہدیداروں کو اس قدر کمیشن نہیں ملتا جتنا دیگر فضول دھندوں سے ملتا ہے۔ 8 اکتوبر 11 کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے صدر نے سیاسی‘ قانونی اور انتظامی اقدامات کی منظوری دی۔ جس کے تحت کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے‘ غیر قانونی اسلحہ کی ضبطی اور ہتھیاروں کی نمائش روکنے کیلئے موجودہ قانون میں ترمیم کرکے سخت سزائیں شامل کرنا تھا مگر ہوا کچھ نہیں۔وزیر داخلہ رحمان ملک نے کئی بار انکشاف کیا کہ آئل ٹینکرز، بسوں اور بڑی گاڑیوں کے ذریعے اسلحہ اور گولہ بارود کراچی لایا جاتا ہے، ایسی کئی گاڑیاں پکڑی بھی گئیں۔ مگر ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف حکومت نے کوئی کریک ڈاوٴن نہیں کیا۔ بھلا کریں بھی کیوں،اِس کے نتیجے میں علاقہ غیر، باڑے اور ملک کے دیگر علاقوں کے اسلحہ اسمگلرز کیلئے کراچی بارود کی خریداری کی بڑی منڈی بن چکا ہے۔بیرون قوتوں کی مداخلت سے بلوچستان کے راستے بھی انتہائی جدید ہتھیار اور گولہ بارود بڑی آسانی سے کراچی پہنچا دیا جاتا ہے۔ جس کے لئے سرکاری نمبر پلیٹ لگی بڑی گاڑیاں بھی استعمال کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس سمیت کئی سرکاری اداروں کے اہلکار بھی اسلحہ کی کراچی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے۔ جو اسلحہ کی کچھ مقدار پولیس کے ہاتھوں برآمد کراکر مافیا پولیس افسران کی واہ واہ بھی کرا دیتے ہیں۔ نیٹو کے کنٹینرز کی لوٹ مار کے دوران بھاری ہتھیار بھی لوٹ کر کراچی میں کی دہشت گرد مافیا کو فروخت کئے جانے کی رپورٹس ہیں۔یہ ہی نہیں اس شہر میں اور بھی بہت کچھ ہورہا ہے۔ مگر روکنے کے لئے کوئی سنجیدہ ہی دکھائی نہیں دیتا۔

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=76281

               بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود  کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر  رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر  ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے ۔ دہشت گردی کا پانی سروں سے گزر چکا ہے اور بھوت بن کر  ہمارے ذہنوں پر مسلط ہو گیا۔ کوئی ادارہ اور فرد طالبان کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں ہے۔ ہم ذہنی اور نفسیاتی طور پر بالکل ماوف ہو چکے ہیں؟  ہمیں بحثیت ایک قوم کے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کب تک اپنے پیارے پاکستان میں دہشت گردی برداشت کرتے  رہیں گئے اور طالبان کو کھل کھیلنے دیں گے؟ ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچاننا ہوگا کیونکہ مومن ایک سوراخ سے دو بار ڈسا نہیں جاسکتا ہے۔ ہمیں دہشت گردوں کے ساتھی بننے کے بجائے اپنے ملک و قوم کی بھلائی اور بہتری کے لئے سوچنا چاہئیے اور کام کرنا چاہئیے اور  ہمیں اپنے قول افعال  سے دہشت گردوں کی کسی طور پر بھی، مدد نہ کرنے چاہئیے۔

             دنیا کی کوئی  ریاست اگر  مسلح عسکریت پسندوں  و دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی .صلح جوئی کی پالیسی نے  پاکستان کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم  بے انتہا انسانی جانوں کی زیاں نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے  برےاثرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں –

       طالبان ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو  ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟
              اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔

           پاکستان کے سیاسی اور سماجی حلقوں، خصوصاً مذہبی حلقوں کوچاہئے کہ وہ قبائلی علاقوں میں موجود تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح تحریکوں سے بات چیت کرکے انہیں پاکستانی ریاست کی عمل داری قبول کرنے کے لئے آمادہ کریں اور یہ کہ وہ اپنے مذہبی اور سیاسی ایجنڈے کو پاکستان کے قانون کے دائرے میں آگے بڑھائیں کیونکہ ان تنظیموں کا موجودہ رویہ بھی پاکستان کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کی نفی کرتا ہے۔

            مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت ، تشدد اور دہشت گردی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کے لئے بڑے بڑے خطرات ہیں۔ اگرمذہبی اتہا پسندی،دہشت گردی اور تشدد کی روک تھام نہ کی گئی تو پاکستان ایک غیر موثرمعاشرہ و ریاست بن جائے گا اور پاکستانی ریاست و معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور اس سے ملکی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں لہذا ہر پاکستانی کو اپنی  اپنی جگہ پر اس طالبانی عفریت کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا ہو گا۔

 

Advertisements

“دہشت گردی کا نہ ختم ہونےوالاسلسلہ” پر ایک تبصرہ

  1. پاکستان ميں دہشتگردوں کے حملوں سے کوئی بھی محفوظ نہيں

    یہ دیکھ کر بہت ہی دکھ ہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان میں زندگی کے تمام شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بناتے ہيں، ایک نوجوان اسکول کی لڑکی سے ليکر مقامی اور قومی سیاسی شخصیات کوئی بھی ان کے تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے محفوظ نہيں ہے۔

    ملک کی سیاسی اور مذہبی شخصیات سمیت معاشرے کے تمام دھڑوں سے تعلق رکھنے والے عوام کے خلاف ٹی ٹی پی کے جاری خودکش حملے اور قتل وغارت ان کی اپنی مذموم سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے ان کے پاکستان میں جاری ظالمانہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان نام نہاد مذہب کے رکھوالوں سے مساجد اور مذہبی جلوسوں ميں بھی کوئی محفوظ نہيں ہے۔
    يہ انسانیت کے نام نہاد محافظ مذہب کا استعمال کرتے ہيں اور ساتھ ہی نوجوان بچوں اور خواتین کو معصوم لوگوں کے خلاف خودکش حملوں کيلۓ ورغلاتے رہتے ہيں۔

    ميں پاکستانی عوام کے ساتھ ان شیطانی انتہا پسندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ میں ہماری طویل الميعاد عزم کی توثیق کرنا چاہتا ہوں جو جان بوجھ کر خواتین اور بچوں سمیت معصوم لوگوں کے قتل وعام میں ملوث ہیں۔

    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

تبصرے بند ہیں۔