طالبان کے حملے میں بشیر بلور شہید


دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔۔ جسے پاکستان کو ہر صورت میں جیتنا ہے۔۔۔کوئی درمیانی راستہ نہ ہے اور نہ ہی شکست کا آپشن  موجود ہے۔

طالبان کے خود کش حملے میں اے این پی کے رہنما اور خیبر پختو نخواہ کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور سمیت9 افراد جاں بحق اور 18 افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا مگر بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ پولیس کے مطابق قصہ خوانی بازار میں اے این پی کے جلسے کے بعدجب بشیر بلور وہاں سے نکل رہے تھے تو ان پر خود کش حملہ کردیا گیا جس میں بشیر بلور کے سیکرٹری اور تھانہ قابلی کے ایس ایچ او ستار خان سمیت آٹھ افرادجاں موقع پر جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہو گئے جنہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کردیا گیاہے۔بشیر بلور کے سینے اور پرگہرے زخم آئے تھے اور وہ ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے۔دھماکے سے ایک گاڑی اور دوموٹر سائیکل تباہ ہو گئے۔ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی اے این پی کے رہنما اور کارکنوں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئے۔ جس وقت بشیر بلور کی موت کی تصدیق کی اس وقت ان کے بھائی قصہ خوانی بازار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قوم سے ان کی زندگی کی دعا کرنے کیلئے اپیل کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق قصہ خوانی بازار کے قریب ڈھکی نعلبندی کے مقام پر اے این پی کے مقامی رہنماءکے گھر میںاجلاس ہوا جہاں سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور بھی موجو د تھے ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شام سوا چھ بجے کے قریب اجلاس کے اختتام پر ایک حملہ آور نے خود کو بشیر احمد بلور کے قریب دھماکے سے اڑایا ۔ذرائع کے مطابق بشیر بلورڈھکی نعلبندی کی ہٹ لسٹ پر تھے۔

12-23-2012_19647_l_T

بشیر احمد بلور کی عمر 70 برس تھی انہوں نے اپنی زندگی کے 40 برس سیاست میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔اپنی سیاسی زندگی کے دوران جمہوریت کے لئے انہوں نے کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 2008 کے انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا میں قائم ہونے والی اے این پی کی حکومت میں سینئیر وزیر کی حیثیت سے بشیر بلور دہشتگردوں کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہے۔

بشیر احمد بلور دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ ڈھکی نعل بندی میں شہید ہونے والے سینئیر وزیر پر اس سے قبل بھی دو بار قاتلانہ حملے ہوچکے تھے تاہم وہ ان میں محفوظ رہے۔صوبہ خیبر پختون خوا کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کے ساتھ بھی بالآخر وہی کچھ ہوگیا جس کا بہت پہلے سے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا۔وہ جس طرح ہر فورم اور میڈیا میں کھل کر طالبان کی مخالفت کرتے تھے اور ان کو ’ملک دشمن اور دہشت گردوں‘ کے نام سے یاد کرتے تھےاس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ یقیناً شدت پسندوں کے ہِٹ لِسٹ پر ہوں گے۔

ابشیر احمد بلور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔

 اے این پی نے اس حملے کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کو بڑا نقصان قراردیا اور جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔بشیر بلور کی شہادت پر  متحدہ قومی موومنٹ نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ۔بشیر بلور کی شہادت پر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور صدر زرداری نے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ بشیر بلور نے دہشت گردی کے خلاف بہت سی قربانیاں دیں جو کہ قابل تعریف ہیں ۔صدر نے اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کو فون کر کے بشیر بلور کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ۔ بشیر بلور کی شہادت پر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماﺅں نے افسوس کا اظہار کیا ہے ۔متحدہ قومی موومنٹ کے واسع جلیل نے کہا کہ ایم کیو ایم بشیر بلور کی شہادت پر مذمت کر تی ہے ۔ اے این پی بڑے رہنماءسے محروم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو تمام جماعتوں کو مل کر چلنا ہو گا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ بشیر بلور نے بہادری کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ۔ان کی شہادت پورے ملک کے لیے نقصان ہے۔قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ بشیر بلور پر پہلے بھی دہشت گردوں کی جانب سے حملے ہوئے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے اور وہ سب سے پہلے دھماکوں کی جگہ پر پہنچ کر ملک دشمن عناصر کو للکارتے تھے ۔بشیر بلور کے بھائی اور وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ کہیں اور نہیں ہو سکتی،ہمیں اللہ کی راہ پر چل رہے ہیں اور چلتے رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ وہ بھی اسی جلسے میں موجو د تھے لیکن وہ پہلے ہی وہاں سے چلے گئے۔غلام احمد بلور نے کہا کہ میرے بھائی جیسا آج تک اس دنیا میں آیا ہے نہ آئے گا ۔ میں اپنے بھائی کے مشن کو جاری رکھوں گا ۔ غلام بلور نے بتایا کہ بشیر بلور کو سیکیورٹی انتظامات سخت کرنے کے بارے میں بارہا کہا گیا لیکن وہ شہید ہونا چاہتے تھے اور اللہ نے آج ان کی بات سن لی۔

اے این پی کے رہنماء اسفند یار ولی خان نے کہا کہ ہماری پارٹی جو قربانیاں دے رہی ہے وہ پورے ملک کے لیے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پور ے ملک کو ایک ہو نا پڑے گا۔اے این پی کا ہر کارکن بشیر بلور کی طرح آخری سانس تک دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر لڑ ے گا ۔انہوں نے کہا کہ بشیر بلور سے بھائیوں جیسا رشتہ تھا اور میرے گھر میں ان سے پردہ نہیں کیا جاتا تھا ۔اب صرف ان کی یادیںہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بلور پر اس سے قبل جب حملہ ہوا تو انہیں مشورہ دیا کہ اپنی سیکیورٹی کا خیال کر و جس پر بشیر بلور نے کہا کہ دہشت گردوں سے ڈر کر زندگی گزاری جا سکتی۔اسفند یار ولی نے کہا کہ دہشت گردوں کی کاروائیاں صرف اے این پی پر ختم نہیں ہو نگی ۔جو شدت پسند سسٹم کے خلاف ہیں وہ تمام سیاسی جماعتوں پر حملے کریں گے اور ماضی میں بھی فضل الرحمان اور دیگر سیاست دانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں سے بات چیت کرنی چاہیے اور اگر وہ بات چیت نہیںکرنا چاہتے تو پھر ان کے خلاف کاروائی ہونا چاہیے۔اسفند یار ولی نے کہا کہ بشیر بلور کے سوئم کے بعد دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا.

عوامی نیشنل پارٹی کے سر براہ اسفند یار ولی نے بشیر بلور کے انتقال پر کہاہے کہ بشیراحمدبلورکانقصان ملک وقوم کانقصان ہے،انہوں نے بشیر بلور کے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے پر اپنے رد عمل میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمیں دہشتگردی کے مائنڈسیٹ سے مقابلہ کرناہے۔اے این پی دھرتی کیلئے قربانیاں دے رہی ہے،تمام سیاسی قوتوں کو دہشتگردوں کیخلاف متحد ہو کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردفخرسے کہہ رہے ہیں کہ ہاں ہم دہشتگردی کے ذمہ دارہیں اور اس میں ملوث ہیں،ہمیں ان دہشت گر دوں سے مذاکرات کر نے چاہئیں اگر وہ انکار کرتے ہیں تو پھر ان کے خلاف کارروائی کر نا ہو گی۔. اسفندیارولی نے مزید کہا کہ کوئی ہماراساتھ دے یا نہ دے لیکن ہم مرتے دم تک دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے۔

تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے بی بی سی کو نامعلوم مقام سے فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مولانا نصیب خان کی ہلاکت کا بدلہ لیا ہے۔ مولانا نصیب خان کچھ عرصہ پہلے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش ملی تھی۔

talban

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بشیر بلور نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر دہشتگردی کے خلاف اپنے عزم کو ثابت کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ دہشتگرد پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔  دکھ کی اس گھڑی میں وہ بلور خاندان کے ساتھ ہیں۔ قوم کے نام اپنے پیغام میں انہوں نے ملک بھر میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے بشیر بلور کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا تھا کہ بشیر بلور کی شہادت قومی سانحہ ہے، ملک بھر کے عوام متحد ہوکر دہشتگردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ قوم دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لئے تیار ہوجائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم ایک ہے۔

قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ بشیر بلور سے ان کے بھائیوں جیسے تعلقات تھے لیکن اب ان کے ساتھ صرف بشیر بلور کی یادیں ہی رہ گئیں ہیں۔  مسلم لیگ ق کے رہنما سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ  بشیر بلور نے مرتے دم تک دہشتگردی کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ قوم متحد ہوگی تو ہی دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ بشیر بلور کی شہادت پر عوامی نیشنل پارٹی کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے ایک ایک فرد کو دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن، ساجد میر، مسلم لیگ ن کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اور دیگر سیاسی، مذہبی اور سماجی قائدین نے بھی بشیر احمد بلور کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد نے کہا ہے کہ بشیر احمد بلور کی ہلاکت سے ان کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے اس موقع پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نام لے کر لکھا کہ میں ان کے اس حملے کی پر زور مذمت کرتا ہوں جو بشیر بلور پر حملے کے زمہ دار ہیں انہیں تلاش کر کے انصاف کے کٹہرے تک لایا جانا چاہیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر کے ذریعے اپنی مذمت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک دکھ کی بات ہے اور کہا کہ وہ اس کھلی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بشیر بلور ایک بہادر انسان تھے جنہوں نے بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے آئی جی خیبر پی کے سے پشاور بم دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ دہشت گرد پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔ پوری قوم کو دہشت گردوں کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اے این پی کے صدر اسفند یار ولی کو فون کرکے بشیر احمد بلور کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ حامد کرزئی نے کہا کہ افغانستان، پاکستانی عوام اور اے این پی کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ بشیر احمد بلور نے دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانی دی۔

سینئر وزیر خیبر پختون خوا بشیر احمد بلور شہید کے سوگ میں پشاور میں تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہیں۔پشاور میں خیبر پختون خوا اسمبلی، تاریخی قلعہ بالا حصار، جناح پارک اور عجائب گھر سمیت تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہیں۔ ایسے صوبائی حکومت کے اعلان کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ یہ اعلان گزشتہ روز سینئر وزیر بشیر احمد بلور کی خود کش حملے میں شہادت کے بعد کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف پشاور سمیت خیبر پختون خوا میں تین روز تک سوگ ہو گا اور قومی پرچم بھی سرنگوں رہیں گے۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ شام پشاور میں ہونے والے خود کش حملے اور اس میں سینئر وزیر خیبر پخونخوا بشیر بلور سمیت 9 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق بان کی مون کے نے گزشتہ شام پشاور میں ہونیوالے خود کش حملے اور اس میں سینئر وزیر خیبرپختونخوا بشیر احمد بلور اور دیگر 9 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں بان کی مون نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت اور پاکستانی عوام کے ساتھ دینے کااعادہ کیا ہے اور اقوام متحدہ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے.

’’جو رات قبر میں ہو وہ گھر میں نہیں ہوسکتی اور جو رات گھر میں ہو وہ قبر میں نہیں ہوسکتی‘‘ یہ جملہ بشیر بلور کا پسندیدہ ترین جملہ تھا جو وہ دہشت گردی کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں ہر جگہ جلسوں، اسمبلی اور دیگر مقامات پر خطاب کے دوران دہرایا کرتے تھے اور وہ اسی جملے کی عملی تصویر بنے۔

وہ دلیری کے ساتھ سارے شہر میں گھومتے رہتے تھے اور وقت آنے پر دنیا سے رخصت ہو گئے۔شہادت سے ایک روز قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بشیر بلور نے کہا دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری جنگ ہے، ہم ان کے خلاف لڑیں گے اور میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ ہم ان کو ماریں گے بھی اور مریں گے بھی۔

بشیر بلور نے کہا کہ دُنیا کے تمام دہشت گرد ہمارے علاقے میں موجود ہیں، یہ تمام دہشت گرد افغان جہاد سے یہاں مقیم ہیں ایاز میر نے کہاکہ دہشت گردوں کے نزدیک پاکستانی مرتد ہیں جبکہ بشیر بلور نے مزید کہاکہ شمالی وزیرستان میں مقامی لوگ کم اور ازبک، تاجک اور داغستان کے لوگ زیادہ نظر آئیں گے ۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ ہماری نہیں، اگر ایسا ہے تو پھر یہ دہشت گرد ہمارے لوگوں کو کیوں ذبح کررہے ہیں، ہماری مساجد ، بازار اور دفاعی تنصیبات اور فوج کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟۔ ایسی صورتحال میں سیاسی فائدے حاصل کرنے کی بجائے ہمیں اکٹھا ہوکر اِن سے مقابلے کی ضرورت ہے.

طالبان کی پاکستان کی مسلم ریاست کی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف جنگ اسلام کے سراسر منافی ہے۔ دہشت گردی و انتہاء پسندی، انسانیت کا قتل عام، خود کش حملے، ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت، علاقوں پر مسلح افراد کا قبضہ اور مسلم ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر مبنی افکار و نظریات کے حامل لوگوں کا چھوٹا سا اقلیتی گروہ اور جس کا اسلام کی حقیقی فکر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کے تابناک چہرے کو داغدار کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے ملک میں ۔حالیہ دہشت گردی کے سنگین واقعات کا تسلسل قوم کی سیاسی، عوامی، مذہبی اور عسکری قیادت سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

بدقسمتی سے ایک اقلیتی گروہ اسلام کی خودساختہ اور من پسند تشریح کے ذریعے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہے اور اسلام دشمنوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے جواز فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ان حالات میں علماء مشائخ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ میدان میں آ کر اسلام کا صحیح چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں مگر  پاکستانی عوام اور پاکستان کے مسلمان خاموش ہیں؟

مٹھی بھر شر پسند عناصر کے عمل سے پاکستان کااسلام پر امن امیج دنیا کے سامنے دھندلا گیا ہے۔ تنگ نظر اور محدود فکر کو شریعت کے نام پر مسلط کرنے والوں نے وطن عزیز کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا اور جنوبی ایشیاء میں اس کی مؤثر اور مضبوط حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر ہیں اور بندوق کے زور پر اپنی نام نہاد فکر کو 17 کروڑ عوام پر مسلط کرنے کے لیے ملک کا امن تاراج کیا جارہا ہے۔

اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔

طالبان ایک رستا ہوا  ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

 طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔طالبان انسان کہلانے کے بھی مستحق نہ ہیں۔ انتہاء پسندي اور خود کش حملے پاکستان کو غير مستحکم کرنيکي گھناؤني سازشوں کا تسلسل ہيں اور جو عناصر دين اسلام کو بدنام کرنے اور پاکستان کو غير مستحکم کرنے کيلئے بے گناہ شہريوں کو خاک و خون ميں نہلا رہے ہيں وہ انسانيت کے دشمن ہيں ۔ ملک بھر میں مسلسل بدامنی کی بناء پر  لوگ عدم تحفظ کے احساس میں بڑی شدت سے مبتلا ہیں۔ان حالات میں دہشت گردی کے چیلنج سے حتمی طور پر نمٹنا ناگزیر ہوگیا ہے۔

بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود  کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر  رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر  ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔طالبان پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کی بالادستی کو رد کرتے ہوتے اپنی مذہبی سوچ کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں.

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اب دو راستے ہیں، دہشتگردوں کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیں یا ان کا مقابلہ کریں، دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو پاکستان کے لئے کیوں نہیں؟ وہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں سینئر وزیر بشیر بلور کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد  فاتحہ خوانی کے بعد خطاب کر رہے تھے ۔ اسمبلی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ دہشتگرد جمہوریت کو مانتے ہیں نہ انسانیت کو۔ ہمارے پاس اب دو راستے ہیں، دہشتگردوں کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیں یا ان کا مقابلہ کریں، دہشتگرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو پاکستان کے لئے کیوں نہیں؟۔ دہشتگردوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے کے حالات نارمل ہو جائیں گے حالانکہ دہشتگردوں کا مقصد امریکہ کو افغانستان سے نکالنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ نہ کیا گیا تو مجرمانہ غفلت ہو گی۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی نے شہید رہنماء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ایک عظیم لیڈر سے محروم ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر لیاقت شباب نے کہا کہ بشیر بلور نے اپنے خون سے امن کی شمع روشن کی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی، اے این پی اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نکالا جائے۔

اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی .صلح جوئی کی پالیسی نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم انسانی جانوں کی زیاں نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے  برےاثرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں . بم دھماکے کھلی بربریت ہیں اور دہشت گرد عناصر شہر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔

انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے.اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔  اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلامی تعلیم ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کی جائے اور کسی کو قتل نہ کیا جائے۔  ارشاد باری ہے ‘‘ انسانی جان کو ہلاک نہ کرو، جسے خدا نے حرام قرار دیا ہے’’۔  (بنی اسرائیل :33) انسانیت کے دشمن اپنے ہی مسلمان بھائیوں کونماز پڑھتے وقت بھی خود کش دھماکے کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں قتل کرر ہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ جو لوگ انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور بے گنا ہ انسانوں کا خون بہا رہے ہیں وہ مسلمان تو کجا، انسان کہلا نے کے مستحق نہیں ہیں۔ قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف بلکہ روح اسلام کے خلاف گناہ عظیم ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا
یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے.

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان ، لشکر جھنگوی اور القائدہ قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ “دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ ہمیں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی،جنونیت اور قتل و غارت گری بند کرنی چاہئیے اور اس کو ختم کرنے کے لئے عملی قدامات کرنے چاہئیے۔

طالبان  جو کہ سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوٰ ی،القاعدہ اور دوسرے تکفیری دہشت گردوں کے ساتھی و ہمنوا ہیں، تمام دوسرے  فرقوں کے مسلمانوں پر دہشت گرد حملوں کو جائز سمجھتے ہیں اورجو فرقہ ورانہ ہم آہنگی کی فضا کو سبوتاژ کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔یہ چند دہشت گرد عناصر ہیں کہ جو شیعہ، سنی مکتب فکر کے علمائے افراد اور عام افراد کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ  تمام پاکستانی اور مسلمانوں کے مختلف مسلکوں کے افراد مل کر لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور طالبان کے تکفیری دہشت گردوں کی مذمت کریں۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جلد از جلد متحد ہو طالبانی عفریت کا پر زور مقابلہ کرنا ہوگا،یہ شہید بشیر بلور کی خواہش بھی تھی۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے مرحوم بلور کی روح کو سکون حاصل ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو خوارج اور تکفیری طالبان کے ہاتھوں ملک کا دانشور، مذہبی اور سیاسی طبقہ اور بشیر بلور جیسے لوگ شہید ہوتے رہیں گے کیونکہ اس ملک میں طالبان کی دہشت گردی کے ہاتھوں، عوام بشمول داڑھی اور پگڑی والے، کوئی محفوظ نہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے اور یہ صرف  اور صرف ہمیں ہی لڑنی اور جیتنی ہے، اور کو ئی درمیانی آپشن موجود نہ ہیں اور نہ ہی  شکست کوئی آپشن  ہے۔

مذہبی انتہا پسندی، تشدد اور دہشت گردی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کے لئے بڑے خطرے ہیں۔ اگر ان کی روک تھام کی طرف مکمل توجہ نہ دی گئی تو پاکستان ایک غیر موثر ریاست بن جائے گا اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔

Advertisements