دہماکہ خیز مواد سے سکولوں کی تباہی


دہماکہ خیز مواد سے سکولوں کی تباہی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں سکولوں کی تباہی ایک معمول سا بنتا جارہا ہے اور طالبان نہاہت بے دردی کے ساتھ قومی دولت کو تباہ کر رہے ہیں۔ طالبان کی موٹی عقل میں یہ نہ آ رہا ہے کہ سکولوں کو تباہ کرنا ملک و قوم کی موجودہ و آئندہ نسلوں سے دشمنی ہے اور پاکستان کے عوام ان کو اس وطن دشمنی پر کبھی معاف نہیں کریں گے۔

 سکول ایک قومی دولت ہیں جہاں اس ملک کے بچے اور بچیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر آئندہ ملک و قوم کی خدمت کر تے ہیں۔ پاکستان میں پہلے ہی ۲۵ ملین بچے اور بچیاں حصول تعلیم کی نعمتوں سے محروم ہیں۔ تعلیم ایک ایسی بنیاد اور ستون ہے جس پر ملک کی سلامتی کا تمام دارومدار و انحصار ہے۔۔  آج حالات یہ ہیں کہ کوئی قبائلی علاقہ ان حملوں سے محفوظ نہیں۔ ماہرین تعلیم یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ایسے حالات میں تعلیم محروم یہ طالب علم باآسانی شدت پسندوں کے ہتھے بھی چڑھ سکتے ہیں۔ قبائلی علاقے برسوں سے پسماندگی کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ان علاقوں میں تعلیم کی شرح انتہائی کم رہی ہے۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں آجکل شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہوگا جہاں سرکاری یا نجی سکول شدت پسندوں کے حملوں میں نشانہ نہ بنے ہوں۔ وزیرستان سے لے کر باجوڑ اور مہمند ایجنسی تک تمام سات قبائلی علاقے اور فرنٹیر ریجنز میں سرکاری سکول پچھلے پانچ چھ سالوں سے شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں ہیں۔ ان میں زیادہ تر واقعات میں سکولوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا جاتا رہا ہے یا ان کو نذرآتش کر کے تباہ کیا گیا ہے۔

طالبان آئے دن طلبہ و طالبات کے سکولوں کو صوبہ خیبر پختو نخواہ میں بڑے رحمانہ طریقے سے تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور وطن دشمنی اور ناعاقبت اندیشی میں اس کے عظیم نقصانات سے آگاہ نہ ہیں۔ ان کو کیا علم نہ ہے کہ قرآن کا پہلا لفظ اقرا تھا؟ جو لوگ تعلیم کی اہمیت سے انکاری ہیں مجھے ان کے مسلمان اور انسان ہونے پر شک ہے۔

یہ انپڑہ ، وحشی طالبان درندے جن کے آگے تاتاریوں کے مظالم ہیچ ہیں  کیا جانیں اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت  ؟     اسلام کے مطابق علم  ایک ایسا اجالا اور نور ہے جو کہ جہالت، لاعلمی اور پسماندگی کے اندہیروں کو دور کرتا ہے اور ہمیں اچھے اور برے میں تمیز، فرق اور پہچان کی صلاحیت دیتا ہے۔  کسی بھی قوم نے بغیر علم و تعلیم کے آج تک ترقی نہ کی ہے۔ دنیا کے جن ممالک نے تعلیم و تحقیق کو ترچیح دی وہ آج ہر لحاظ سے پوری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔  قرآن میں سب سے زیادہ استعمال ھونے والا لفظ “علم” ہے ۔اسلام نے جہاں علم کو اوّلیت دی ہے اور علمِ دین کا حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔علم سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔علم ”اجالا“ ہے۔ ایسا اجالا کہ جو چھپائے نہیں چھپتا، مٹائے نہیں مٹتا، عام کرنے سے نہیں گھٹتا۔ اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر حق و باطل، اچھائی و برائی کے فرق کو واضح کردیا۔ حق ظاہر فرمادیا اور ہر ایک کے لئے معیار ”علم“ بنایا تاکہ سچی راہ کا انتخاب بآسانی ہو۔

          اسلام دینِ فطرت ہے اور اور قومِ رسولِ ہاشمی اپنی ترکیب میں منفرد اور خاص ہے۔جو قوم اپنی تہذیب اور تمدن کو بھول جاتی ہے علم و فن بھی اس سے روٹھ جاتے ہیں۔ آج تعلیم، تحقیق اور تخلیق کے دروازے ہم پر کیوں بند ہوئے ہیں؟ اس لیے کہ ہم اپنی اصل اقدار کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ اگر ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں تو بغداد و ہسپانیہ کے بڑے بڑے تحقیقی و علمی مراکز دوبارہ امّتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے موجود ہونگے۔ تاریخ کے اوراق، دانشوروں کے اقوال۔ انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات اور سائنسدانوں کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قوموں کا عروج زوال علم کے تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ جو قوم علم سے رغبت ، تحقیقی اور تجربے کو رواج دیتی ہے وہی ترقی کے اعلیٰ مدارج پر ہوتی ہے اور جو قوم اس کے بر عکس رویہ اپناتی ہے اس کی حالت تمام مادی اور افرادی وسائل کی کثرت کے باوجود عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔ آج اہل مغرب اس علم میں دسترس کے باعث ہی دنیا مین کامیاب و کامران ہیں۔

قرآن دنیا کی سچی اور قابلِ عمل کتاب ہے جس کے احکامات انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں ۔ اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی۔غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی  صلعم کو کہا گیا :

”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم.

(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔(العلق:۱-۵)

 یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ

 (تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہواہے ،اللہ اس کے درجات بلند فرمائے گا اورجو عمل تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔(المجادلہ:۱۱)

 دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:

 (اے نبی،کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(الزمر:۹)

 تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 (کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا۔)(الرعد:۱۶)

 (اے پیغمبر کہو:اے میرے رب !میرا علم زیادہ کر۔)(طٰہٰ:۱۱۴)

 اور تجھ کوسکھائیں وہ باتیں جو نہیں جانتا تھااور یہ تیرے رب کا فضل عظیم ہے۔(النساء:۱۱۳)

 اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔

  اس سلسلے میں کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول فرماتے ہیں:

 ” وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعابِدِ ،کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ وَاھْلَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِیْنَ حَتَّی النَّمْلَةَ فِی جُحْرِھَا وَحَتَّی الْحُوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ.“(۳)

 پشاور میں گزشتہ بارہ سالوں سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک صحافی اور تحقیق کار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ فاٹا میں زیادہ تر حملے لڑکیوں کے سکولوں پر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ لڑکوں کی تین فیصد تک بتائی جاتی ہے۔

 اقوام متحدہ کے کمشنر مہاجرین کی ایک روپورٹ کے مطابق  ۱۔۸ ملین آبادی کے علاقہ میں ۳ سال پہلے ۱۲۰،۰۰۰ لڑکیاں سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھین جو ، اب کم ہو کر  صرف    ۴۰،۰۰۰رہ گئین۔ ۳۰ فیصد سے زیادہ لڑکیاں سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ مین مولوی فضل اللہ کی دہمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے  سوات کے سکول چھوڑ گئیں۔ طالبان نے سوات میں سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ2009 /  Daily Times  January  24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے   ،خود کش بمبار بنانے کے لئے  ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر میں فروخت کئیے۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۰۹ میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں خود کش حملہ کیا جس میں  ۶ افراد بشمول ۳ طالبات ہلاک ہو گئین۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۱۰ میں سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کو قتل کر دیا اور سوات طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ تحریک طالبان نے اسلامیہ یونیورسٹی، پشاور کے وائس چالسلر  کو ستمبر ۲۰۱۰ مین اغوا کر لیا اور وہ ابھی تک طالبان کی قید میں ہیں۔ طالبان نے ۱۹ جنوری 2011 کو پشاور کے ایک نجی سکول کے باہر  دہماکہ کیا جس سے دو افراد ہلاک اور ۱۵ بچے زخمی ہو گئے۔۔ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقہ کنڈاؤ خیل میں شدت پسندوں نے ۲۴ جنوری 2011 گرلز پرائمری سکول کو دھماکہ خیزمواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ایجنسی بھر میں تباہ ہونیوالے سکولوں میں اب تک33 درسگاہیں شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہیں۔ مہمند ایجنسی میں طالبان نے دوبوائز پرائمری اسکولوں کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کردیا، جس کے بعد تباہ ہونے والے اسکولوں کی تعداد 106 ہوگئی، سرکاری ذرائع کے مطابق تحصیل حلیم زئی میں نامعلوم شدت پسندوں نے گورنمنٹ بوائزپرائمری اسکول ملک اورنگ زیب اور ملک دلاور میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا،جس کے پھٹنے سے اسکول کی ایک عمارت مکمل تباہ اور ایک کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آج ہونے والے دھماکے کے بعدایجنسی بھر میں تباہ ہونے والے اسکولوں کی تعداد ایک سو چھ ہوگئی ہے. مردان میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ اسکول کی عمارت میں بارودی مواد کا دھماکا کیا، جس سے اسکول کی عمارت کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق علاقہ لوند خوڑ میں واقع گورنمنٹ مڈل اسکول شاہ ڈنڈکی عمارت میں نامعلوم افرادنے بارودی مواد نصب کیا تھا، جس کے پھٹنے سے اسکول کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا ہے، تاہم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=84112

پشاورکے نواحی گاوں بڈہ بیر ماشوخیل میں نامعلوم افراد نے بارودی مواد سے لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو اڑادیا،دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہواہے۔پولیس نے جیونیوز کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے لڑکیوں کے پرائمری اسکول کے مین گیٹ کے قریب دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا دھماکے کے نتیجے میں اسکول کے دوکمرے مکمل طورپر تباہ ہوئے جبکہ اسکول کے کئی دیگر حصوں کو بھی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=84429

خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں شدت پسندوں نے سرکاری ہائی اسکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر تباہ کردیا۔ خاصہ دار فورس کے مطابق تحصیل باڑہ کے علاقہ اکا خیل میں شدت پسندوں نے ایک سرکاری بوائز ہائی سکول میں دھماکہ خیز مواد نحب کر کے سکول کو دھماکے سے اڑا دیا تاہم سکول بند ہونے کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ زرائع کے مطابق ایجنسی بھر میں گزشتہ چار سالوں کے دوران تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی تعداد ستر سے زائد ہوگئی ہے۔

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=84761

چارسدہ کے علاقے شب قد ر میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں بارودی مواد کے دھماکے سے اسکول کو جزوی نقصان پہنچاپولیس کے مطابق چارسدہ کی تحصیل شب قدر کے علاقے میرزئی میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں نامعلوم افراد نے بارودی مواد نصب کیا تھا۔بارودی مواد پھٹنے سے اسکول کے دو کمرے تباہ ہوگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=84996

  یہ ہیں ان طالبان کی قبیح حرکات  و کرتوت جو پاکستان میں سکولوں کو تباہ کر کے،طلبا ،اساتذہ  و دیگر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرکے اسلامی نظام نافذ کرنے  چلے ہیں۔

یوں تو پاکستان تعلیمی میدان مین پہلے ہی دوسرے  ترقی پزیر ممالک کے مقابلہ مین خاصا پیچھے ہے ، ۱۰۰۰ سے زیادہ ،سکولون کی تباہی سے مزید پیچھے چلا جائےگا۔  اس طرح طالبان نے پاکستانی مسلمانوں کی موجودہ اور آئیندہ نسل کو تعلیمی میدان میں  جان بوجھ کر پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے اور جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ پاکستان میں عورتوں میں شرح خواندگی ۳۶فیصد اور مردوں میں ۶۳ فیصد ہے۔ خیبر پختونخواہ مین خواندگی کی شرح  ۵۰ فیصد ہے اور عورتوں میں شرح خواندگی ۳۰۔۸ فیصد ہے۔ سکولوں کو جلانے کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم طالبان کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان کی غیر طالبان ،بریلوی مسلمان اکثریت پر مسلط کریں۔      

        

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اعتراف ازل سے ہر مہذّب معاشرہ کرتا آیا ہے اور ابد تک کرتا رہے گا۔ 21صدی مین تعلیم کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ تسلیم کی جا رہی ہے۔ آج کی زندگی مین تعلیم سب سے زیادہ اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ آج کے ترقیاتی دور میں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے ۔ تعلیم انسان کو اپنی صلاحیت پہچانے اور ان کی بہترسے بہتر تربیت کرنے میں معاون ثابت و مدد گار ہوتی ہے تقیناً تعلیم یافتہ لوگ ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے ہیں اور معاشی مسابقت کیلئے اس کی اہمیت ناگزیر ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی کہانی میں تعلیم کا کردار بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں عروج حاصل کیا، باقی دنیااس قوم کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی ۔
قران کا پہلا لفظ ہی اقرا تھا۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے ’اقراء‘ کا درس ان کے ذہنوں سے محو ہوا ،غلامی نے اپنا گیراتنگ کر دیا۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف ، علم و آگہی کی بدولت حاصل ہے۔ دین و دنیا کی تمام تر ترقیاں اور بلندیاں علم ہی کے دم سے ہیں۔ اس لئے اسلام نے سب سے زیادہ زور علم حاصل کرنے پر دیا ہے۔
طالبان نے ستمبر ۲۰۱۰ تک ۱۰۰۰ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولون کو تباہ و برباد کر کے قرآن ،رسول اکرم کی احادیث اور آیمہ کرام کے احکامات کی صریحا خلاف ورزی کی ہے۔

 distroyed girls school pakistan islam

صوبائی حکام کے مطابق گزشتہ دو سالوں کے دوران شدت پسندوں نے پشاور کے مضافات کے علاوہ قبائلی علاقوں کے قریب واقع اضلاع میں 100 سے زائد اسکولوں کو بم دھماکوں سے تباہ کیا ہے جن کی تعمیر نو انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں شدت پسندی نے حالیہ برسوں میں جہاں معاشی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کو بری طرح متاثر کیا وہیں تعلیمی سرگرمیاں بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔

تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پاکستان میں  غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی  و دہشت گردی جیسے مسائل مزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ‌ سے ہم پاکستان میں دہشتگردی و انتہا پسندی کی عفریت پر قابو  پا سکتےہیں اور لوگ اس بات کو درست طور   پرسمجھ سکیں گے کہ خرابی دین اسلام میں نہیں بلکہ اسلام کی  اس غیر معقول اور تنگ نظر طالبانی  تشریح میں ہے جس کا علاج،   بہتر تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے اور اسی میں پاکستان کی تعمیر و ترقی کی تعبیر مضمر  ہے۔

Advertisements

“دہماکہ خیز مواد سے سکولوں کی تباہی” پر 4 تبصرے

  1. ڈاکٹر صاحب
    بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
    لگتا ہے آجکل آپ اخبارات کا مطالعہ نہ فرما رہے ہیں۔ اس موضوع پر ایک نہیں ،دو خبریں صرف ماہ جنوری کی ہیں۔میں نے دونوں خبروں کے حوالہ جات اس بلاگ میں دیے ہیں۔نیز مسینجر پر نہیں،میسیج پر تنقید فرمائیں۔

  2. میرا یقین اس بات پر ہے کہ دنیا کے اکثر تنازعات اور جنگوں میں اصل فریق ایک ہی ہوتا ہے جو متحارب فریقوں کی بیک وقت حوصلہ افزائی کرتا ہے اور خونریزی کرکے اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے۔ ایک فلم کی طرح جس میں اچھے اور برے کی جنگ دکھائی جاتی ہے لیکن ڈائریکٹر اور رائٹر کی مرضی کے ساتھ ۔ مقصد منافع اور کامیابی کے حصول کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
    ایمانداری سے کہوں کہ میرا یقین اس بات پر ہے کہ نا طالبان کے اذہان میں اسلام اور جہاد ہے اور نا پاکستانی آرمی کا مقصد پاکستان کی جغرافیائی حدود کا تحفظ ہے۔ یہ سب اپنے اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔
    میرے پاس کافی پختون مریض آتے ہیں جن سے میں طالبان اور آرمی کے بارے میں رائے ضرور لیتا ہوں۔ 95 فیصد کی رائے میں آرمی اور طالبان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک مریض جو سوات سے تعلق رکھتا تھا اس نے یہ انکشاف کیا کہ اس نے آرمی کے ایک شخص کو جسے وہ جانتا تھا لڑکیوں کے ایک خالی اسکول کو ریموٹ کنٹرول سے اڑاتے ہوئے دیکھا تھا۔
    میرے خیال میں اس نام نہاد جنگ کا مقصد سوائے امت مسلمہ کے مورال کو ختم کرنے اور جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

  3. ڈاکٹر صاحب
    تشریف آوری و تبصرہ کا بہت بہت شکریہ۔ ڈاکٹر صاحب معاشرے کے چند چیدہ چیدہ لوگوں سے بات چیت کرنا ، کو ئی سائینٹفک سروے نہ ہے ۔ مزید برآن اس سروے کی بنیاد پر اخز شدہ نتائج بھی ادھورے،نامکمل اور حتمی نہ ہیں۔
    پاکستان آرمی سے متعلق آپکے خیالات بے وزن اور غلط ہیں۔ایک آدمی کی رائے پر حاصل شدہ نتائج تسلیم نہ کیے جا سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس آدمی کا نام نہاد بیان غلط حقائق پر مشتمل ہو یا اس آدمی کے اپنے مقاصد ہوں ۔ طالبان کے سکولوں کو دہماکہ خیز مواد سے اڑانے سے متعلق خیالات کو ئی ڈھکے چھپے نہ ہیں۔ ان خیالات کا ذکر نہ کر کے آپ نے زیادتی کی ہے۔
    آرمی اور طالبان کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے آپ نے آرمی کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کیا ہے۔جو آپ کی جانبداری ظاہر کرتا ہے۔میرے خیال میں آرمی کا رول قابل تحسین ہے۔

تبصرے بند ہیں۔