کوئٹہ میں قیامت کا سماں


کوئٹہ میں قیامت کا سماں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس کے مطابق بم دھماکے کے نتیجے میں پچہتر افراد ہلاک جبکہ ایک سو اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جسے  ہزارہ شیعہ افراد کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کو ہونے ولے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اکیاسی تک پہنچ گئ ہے جبکہ ایک سو آسی سے زیادہ افردا زخمی ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر تر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شیعہ ہیں۔تازہ ترین خبروں کے مطابق بروری ھزارہ ٹاون میں دھماکہ 109 افراد شہید 200 زخمی( ہزارہ ٹراب۔کام)

بلوچستان پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی انویسٹی گیشن فیاض سنبل نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اکیاسی ہلاکتوں کی تصدتق کی ہے جبکہ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنما داؤد آغا نے بتایا کہ اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد آسی سے زائد ہے۔

گورنر بلوچستان سردار ذولفقار مگسی نے اتوار کو اس واقعے پر صوبے بھر میں سوگ کا اعلان کیا ہے اور تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم اتوار کو سر نگوں رہے گا۔اس کے ساتھ ہی گورنر بلوچستان نے ہلاک ہونے والے تمام افراد کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔گورنر ذوالفقار مگسی نے کہا کہ یا تو ہمارے سکیورٹی ادارے ان افراد کو پتہ چلانے کا اہل نہیں ہیں یا پھر ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں بھی نہ نشانہ بنایا جائے۔

بلوچستان پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی انویسٹی گیشن فیاض سنبل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی ہلاکتوں اور زخمی افراد کی تصدیق کی ہے۔

"یہ علاقہ شام کے اوقات میں انتہائی مصروف ہوتا جہاں گھریلو خواتین بڑی تعداد میں سبزی اور فروٹ کی خریداری کے لیے آتی ہیں۔ اس علاقے میں اے بڑی سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کی منڈی لگتی ہے جس کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک میدان ہے جس میں نوجوان والی بال اور ایک ہزارہ روایتی کھیل کھیلتے ہیں۔”

اس سے قبل بلوچستان کے ڈی آئی جی وزیر خان ناصر نے بی بی سی کو تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں ہوا جہاں ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک ریمورٹ کنٹرول بم تھا جسے سڑک کے کنارے پر نصب کیا گیا تھا اور اس کا واضح نشانہ ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔

کوئٹہ کے سی سی پی او میر زبیر محمود نے سنیچر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں ستر سے اسی کلو کے قریب دھماکہ خیز مواد استعمال کیاگیا تھا۔

ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو قریب ہی واقع بولان میڈیکل کمپلیکس اور سی ایم ایچ کوئٹہ لیجایا گیا ہے اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بڑی تعداد میں زخمیوں کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

ہزارہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے قادر نائل نے بتایا کہ ’یہ دھماکہ جس علاقے میں ہوا وہ کرانی روڈ سے متصل ہے اور اس کے ایک جانب ہزارہ ٹاؤن اور دوسری جانب نیو ہزارہ ٹاؤن ہے۔‘

گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ ہزاری برادری کے خلاف سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے.

قادر نے مزید بتایا کہ ’یہ علاقہ شام کے اوقات میں انتہائی مصروف ہوتا جہاں گھریلو خواتین بڑی تعداد میں سبزی اور فروٹ کی خریداری کے لیے آتی ہیں۔ اس علاقے میں ایک بڑی سبزی اور فروٹ کی ریڑھیوں کی منڈی لگتی ہے جس کی وجہ سے بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک میدان ہے جس میں نوجوان والی بال اور ایک ہزارہ روایتی کھیل کھیلتے ہیں۔‘

کوئٹہ کے سی ایم ایچ سے قادر بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے سامنے کئی افراد کو ہسپتال لایا گیا جو شدید زخمی تھے۔

اس دھماکے کی زمہ داری کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان نے بی بی سی کو فون کر کے قبول کی ہے۔

بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ہزارہ برادری کے افراد کے خلاف یہ سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/02/130216_quetta_blast_tim.shtml

بلوچستان پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی انویسٹی گیشن فیاض سنبل نے اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اکیاسی ہلاکتوں کی تصدتق کی ہے جبکہ بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنما داؤد آغا نے بتایا کہ اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد آسی سے زائد ہے۔

اس واقعے کے خلاف کوئٹہ شہر میں شٹر ڈاون ہڑتال کی جارہی ہے جبکہ سرکاری طور پر صوبے بھر میں سوگ منایا جارہا ہے۔ اور تمام سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں ہے۔

پختون خوا ملی عوامی پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے تنظیموں کی طرف سے ہڑتال کے کال کی حمایت کی ہے۔

صوبے بلوچستان کےگورنرذوالفقارمگسی نے اعتراف کیا ہے کہ دہشت گردی کےواقعات انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے ، سیکورٹی ادارے دہشتگردوں کو روکنے کے قابل نہیں۔

کوئٹہ میں کیرانی روڈ پر دھماکے میں زخمیوں کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےگورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ادارے یا تو ملزمان سے خوفزدہ ہیں یا وہ ان کا سراغ نہیں لگاسکتے۔

انہوں نےکہاکہ ملزمان کے خلاف پولیس اور قانون نافذ کرنےوالےاداروں کو فری ہینڈ دےدیا ہے.

کیرانی روڈ ہزارہ ٹاوٴ دھماکے کے خلاف آج کوئٹہ میں سرکاری سطح پر سوگ منایا جارہا ہے، شہر میں شٹر ڈاوٴن ہڑتال ہے،تاہم دھماکے کی تحقیقات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ ہزارہ ٹاوٴن میں کیرانی روڈ پر گزشتہ روز ہونے والا دھماکا ایک بار پھر کوئٹہ کو سوگوار کرگیا ہے،آج صبح دھماکے کے دو مزید زخمی دم توڑ گئے جس سے جاں بحق افراد کی تعداد 80 ہوگئی ہے۔تاہم مرنے والوں کی تدفین کب ہوگی اس کافیصلہ اب تک نہیں کیا گیاہے۔ جبکہ 173زخمیوں میں سے 20کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، دھماکے کی جگہ پراس وقت بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ اور سامان اٹھایاجارہاہے، علاقے کو بدستور ایف سی اور پولیس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے، اس سانحے کے خلاف آج کوئٹہ میں سرکاری سطح پر سوگ منایا جارہا ہے صوبے بھر میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے، واقعے کے خلاف ملت جعفریہ کے سربراہ علامہ ساجد نقوی ، شیعہ علماکونسل اور تحفظ عزاداری کونسل کی جانب سے بھی سوگ کا اعلان کیاگیا ہے،جبکہ شہر میں مجلس وحدت مسلمین اور ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کی اپیل پر شٹر ڈاوٴن ہڑتال کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں شہر کے بیشتر علاقوں میں کارروباری مراکز بند ہیں جبکہ ٹریفک بھی معمول سے کم ہے،واقعے کی تحقیقات کا جائزہ لیاجائے تو ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔ نہ کوئی گرفتاری عمل میں لائی جاسکی ہے اور نہ ہی اب تک واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=88428

ادہر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے کرانی روڈ دھماکے کے ملزمان کی اڑتالیس گھنٹوں میں گرفتاری کا الٹی میٹم دیتے ہوئے اندرون اور بیرون ملک مظاہروں کی دھمکی دیدی۔اُنہوں نے زخمیوں کو کراچی اور بیرون ملک منتقلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ ہزارہ برادری کی نسل کشی پاکستان کے مفاد میں نہیں ۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے عزیزاللہ ہزارہ نے کہاکہ سانحہ کرانی روڈ میں ملوث عناصر کو حکومت اڑتالیس گھنٹوں میں گرفتار کرے ، ڈیڈ لائن کے خاتمے بعد احتجاج شروع کریں گے ، بلوچستان ہائیکورٹ کے سامنے روزانہ احتجاج کریں گے ، اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے سمیت یورپ ، امریکہ اور آسٹریلیا میں بھی احتجاج کیاجائے گا۔ اُنہوں نے مطالبہ کیاکہ کرانی روڈ دھماکے کے زخمیوں کو علاج کیلئے کراچی اور بیرون ملک منتقلی کے انتظامات کیے جائیں ، کوئٹہ جل رہاہے ،شہر کی گلیوں میں خون ہے ، ہزارہ پرامن قوم ہے ، ہزارہ قوم کو نقصان پہنچانا پاکستان کے مفاد میں نہیں ، ہزارہ قبیلے کا قتل جاری ہے ،16فروری کو نسل کی گئی ، عدالتوں کے متحرک ہونے کے باوجود قتل و غارت گری جاری ہے ۔عزیزاللہ ہزارہ کاکہناتھاکہ ٹارگٹڈ آپریشن سے ہی شدت پسندوں کاخاتمہ ممکن ہے ۔واضح رہے کہ ہفتہ کی شام کو کوئٹہ کے کرانی روڈ پر واقع سبزی منڈی میں خود کش ٹرک حملے میں 80افراد جاں بحق اور 170سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

http://www.dailypakistan.com.pk/quetta/17-Feb-2013/34671

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے کوئٹہ کے کیرانی روڈ پرہونے والے ہولناک بم دھماکے میں ہزارہ کمیونٹی کے 65سے زائد معصوم وبے گناہ افرادکی شہادت کے سانحہ پر ہزارہ کمیونٹی کے رہنماحاجی عبدالقیوم سے فون پر تعزیت کی اور ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے ہزارہ کمیونٹی سے مکمل یکجہتی کااظہارکیا۔ مصطفےٰ عزیزآبادی نے حاجی عبدالقیوم سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ سانحہ علمدارروڈکے بعد سانحہ کیرانی کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کے درجنوں معصوم وبے گناہ اہل تشیع افرادکی شہادت ایک بہت بڑاسانحہ ہے اورایم کیوایم اس سانحہ پر ہزارہ کمیونٹی کے غم میں برابرکی شریک ہے اورسوگ میں شریک ہے۔ حاجی عبدالقیوم نے ہزارہ کمیونٹی کی جانب سے قائد تحریک الطاف حسین کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم دکھ کی ہرگھڑ ی میں ہمارے ساتھ ہوتی ہے جس پر ہزارہ کمیونٹی ان کی شکرگزارہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کوئٹہ کے کیرانی روڈ پر ہونے والے ہولناک دھماکے کے باوجود اب تک سانحہ کے ذمہ دار دہشت گردوں کیخلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کئے جانے پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے اور حکومت اور تمام ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کے ذمہ دار عناصر کیخلاف فی الفور کارروائی کی جائے اورہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی بندکی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسئلے پر واویلا کرنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو کوئٹہ میں بے گناہ ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام کیوں دکھائی نہیں دیتا اور وہ ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام پر کیوں خاموش ہیں۔ یہ بات الطاف حسین نے اپنے ایک جاری کردہ بیان اور رابطہ کمیٹی پاکستان کے ارکان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ الطاف حسین نے معروف شیعہ عالم دین علامہ عباس کمیلی سے ٹیلیفون پر بات کی اور کوئٹہ میں ہزار ہ کمیونٹی کے سفاکانہ قتل عام پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ علامہ عباس کمیلی سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کوئٹہ،کراچی ،حیدر آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں اہل تشیع کے سفاکانہ قتل کی سخت الفا ظ میں مذمت کر تے ہوئے کہاکہ اہل تشیع حضرات کے سفاکانہ قتل عام پر میر ا دل خون کے آنسورورہا ہے، کوئٹہ میں ہزار ہ کمیونٹی کا قتل عام قومی سانحہ ہے اور اس سانحہ پرملک کی بڑی بڑی سیاسی ومذہبی جماعتوں کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے افراد کے سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ، انکے بلند درجات کی دعائیں کیں اور زخمیوں کی جلد صحت یا بی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ علامہ عباس کمیلی نے شیعہ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم او رانکے سفاکانہ قتل عا م کیخلا ف آواز بلند کرنے پر الطا ف حسین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ قوم آپ کے حق پرستانہ کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ علامہ عباس کمیلی نے شیعہ کمیونٹی کی جانب سے حق پرست رکن سندھ اسمبلی منظر امام کے سفا کانہ قتل پر الطاف حسین سے دلی تعزیت کی اور شہید کی مغفرت کیلئے دعا کی۔ علاوہ ازیں الطاف حسین نے کہا کہ تمام تر حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود سانحہ علمدار روڈکے ذمہ دار دہشت گردوں کیخلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی ایم کیو ایم کے قائد نے مطالبہ کیا کہ خفیہ تحقیقاتی ادارے قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کے ساتھ ملکر دہشت گردوں کی کمین گاہوں پر کارروائی کریں اور سفاک دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ الطاف حسین نے بم دھماکے کے شہداء کے لواحقین سے مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم کی تمام تر ہمدردیاں مظلوم ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بیشتر سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی کے مسئلہ پر تو 3،3 روزہ کانفرنسوں اور مارچ کا انعقاد کرکے اپنی سیاسی دکانیں چمکاتی ہیں لیکن انہیں کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی کا قتل عام دکھائی نہیں دیتا اور ان سیاسی ومذہبی جماعتوں کی زبانیں ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی پر خاموش رہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ علمدار روڈ پر ہزارہ کمیونٹی کے شہداء کے چہلم سے قبل دوبارہ ہزارہ کمیونٹی پر قیامت صغریٰ ڈھائی گئی لیکن اس قتل عام پرسیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے مسلسل مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو کہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ جماعتیں بے گناہ شہریوں کے سفاکانہ قتل کے جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ قوم بالخصوص نوجوانوں کو مفاد پرست سیاستدانوں اور احترام انسانیت پر یقین رکھنے والوں میں تمیز کرنا چاہئے اور ہزارہ کمیونٹی کی نسل کشی کے عمل پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والی سیاسی ومذہبی جماعتوں کامکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے ۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔بان کی مون کا کہنا ہے کوئٹہ میں ہزارہ برادری پردہشت گردوں کا یہ دوسرا حملہ ہے،دھماکے میں ملوث عناصر اور ذمے داری قبول کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،بان کی مون نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور اقلیتوں کی تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپورمدد کی جائے گی۔

کالعدم مذہبی تنظیم لشکر جھنگوی نے کرانی روڈ ہزارہ ٹاؤن میں فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تنظیم کے ترجمان ابو بکر صدیق نے ہفتہ کی شب نامعلوم مقام سے اخبارات کے دفاتر فون کر کے بتایا کہ یہ فدائی حملہ ہمارے جان نثار سرفروش ساتھی عمر فاروق نے کیا ہم گورنمنٹ کو اطلاع کرتے ہیں کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ گورنر راج لگاکر ہمیں ہمارے دشمن یعنی اہل تشیع سے غافل کردے گی ہم اہل تشیع سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو نظام خلافت راشدہ تک کسی صورت محفوظ نہ سمجھیں لشکر جھنگوی کے مجاہدین انہیں گورنرراج لگے یا فوج آئے تب بھی ماریں گے اپنے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کراکر ناموس صحابہ رضوان اﷲ تعالیٰ اجمٰعین کا ڈنکہ بجائیں گے یہ 2013ء میں شیعوں کے علاقے میں ہمارا دوسرا فدائی حملہ تھااس طرح کی 20گاڑیاں بارود سے بھری اور فدائی جانثاروں کے ساتھ تیار ہیں صرف ایک حکم ملتے ہی ان کا ٹارگٹ علمدار روڈ ‘مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن ہوں گے اب ہم انشاء اﷲ اہل تشیع کو ان کے گھروں میں ماریں گے اور ہم نہ گورنر راج اور نہ کسی فوج سے ڈرتے ہیں ہم نے پہلے کہا تھا کہ شہادت کو باعث فخر سمجھتے ہیں اور الحمداﷲ اس شہادت کی تلاش میں سرپر کفن باندھے گورنر راج میں بھی میدان میں موجود ہیں ترجمان نے کہا کہ سنیوں سے کہناچاہتے ہیں کہ وہ خداکیلئے اپنے جسموں پر بم باندھ کر اب کھڑے ہوجائیں اور شیعوں کے خلاف جنگ میں لشکر جھنگوی کا ساتھ دیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ حیدرآباد شہر میں حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا پتلا بناکر ان کی شان میں گستاخی کی گئی اور پاکستان کے کئی علاقوں میں علماء کرام ‘تمام سنی مسلمانوں اور مدارس کے طلباء کو شہید کیاجارہاہے اگر سنی نہیں اٹھتے ہیں تو شیعوں سے کنارا کرلیں کیونکہ اب بلوچستان میں ہم رہیں گے یا شیعہ رہیں گے اور ہماری اطلاع کے مطابق میڈیا میں بھی دیکھتے اور مخالف فرقے کے بیانات بھی پڑھتے ہیں کہ بعض افراد ہماری مدد کررہے ہیں ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ہماری کبھی مدد کی نہ کبھی ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑی ہے نہ پڑے گی ہم اﷲ پاک کی مدد سے یہ جنگ لڑرہے ہیں اور اس جنگ کا اختتام بلوچستان شیعوں کا قبرستان پر ہوگا۔

http://www.dailyqudrat.com/2013/02/17

Hazara Attack - I - Jan 13, 2013

علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں کوئٹہ اور کراچی میں شیعوں کی نسل کشی عروج پر پہنچ چکی ہے ،سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں اورقانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔اُن کا کہناتھاکہ سوات کی طرح کوئٹہ اور کراچی میں فوج کے ذریعے کارروائی نہ کی گئی تو پھر ایسا نہ ہو کہ ملک مزید ٹکڑوں میں بٹ جائے ، انہوں نے کہا دہشت گرد نہ شیعہ ہیں نہ سنی۔علامہ عباس کمیلی نے مزید کہا کہ معلوم ہوتا ہے انتخابات ملتوی کرانے کے لئے دانستہ طور پر ملک میں خانہ جنگی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے اگر انتخابات وقت پر کرانا مقصود ہے تو دہشت گردی کا خاتمہ فی الفور ضروری ہے علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ دہشت گردی کا سلسلہ نہ رُکا تو ملت جعفریہ کی نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے رجوع کرنے پر بھی مجبور ہوں گے ۔

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے سربراہ سید داوٴد آغا کے کہا ہے کہ ہمارے لوگوں کے ناحق خون کر کے ملک کی سا لمیت سے کھیلا جارہا ہے، ہم جانون کا نذرانہ دیں گے لیکن ملک کی سا لمیت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ کے ولی عصر امام بار گاہ میں پریس کانفرنس میں کہی، انہوں نے کہا کہ اس ملک اور صوبے کی تعمیر میں ہمارے آباو آجداد کا حصہ رہا ہے لیکن ہمیں کچھ عرصے سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جیو کے پروگرام”آج کامران خان کے ساتھ“ میں تجزیہ کرتے ہوئے میزبان کامران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ جنگ کی آگ میں دھکیل دیا جائے اس کے لئے بھر پور کوششیں جاری ہیں اور اس کے لئے تین دن میں بڑی خطرناک کوششیں ہوئی ہیں۔ہزارہ برادری پر حملے کے واقعہ میں تنقید کا نشانہ انٹیلی جنس ایجنسیز بن رہی ہیں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ چالیس دن میں دوسری بار ہزارہ قوم کا قتل عام ہوا ہے، کوئٹہ کی ہزارہ برادری کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے۔10جنوری کو ہونے والے بھرپور بم دھماکے میں تقریباً 83لوگ جاں بحق ہوئے تھے اور ہفتے کو ہونے والے واقعے میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق90لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔کامران خان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن میں بیٹھے ہیں اور اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تدفین نہیں ہوئی ہے، حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ کوئٹہ کو فوج کے حوالے کردیا جائے اور براہ راست اقدامات کئے جائیں ان گروہوں کے خلاف جنہوں نے براہ راست ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے پاکستان میں دھرنے جاری ہیں پاکستان کے ہر شہر سے دھرنوں کی خبریں آرہی ہیں لیکن شاید اس پر اکتفا نہیں ہے اور کوشش یہ ہے کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات پورے ملک میں بھرپور طریقے سے پھیلیں۔ کامران خان کا کہناتھا کہ پیر کو ایک واقعہ لاہور میں ہوا جب دوپہر کے وقت لاہور میں ایک ڈاکٹر صاحب اور ان کے صاحبزادے جن کا تعلق شیعہ برادری سے تھا گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا، اب سے تھوڑی دیر قبل کراچی کے پٹیل پاڑہ کے علاقے میں حملہ کیاگیا اور اس دہشت گرد حملے میں سپاہ صحابہ کے تین کارکنوں کو جاں بحق کردیا گیا۔کامران خان کا کہناتھا کہ اس وقت پورے پاکستان میں دھرنا ہے اور پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے امتحان ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس وقت الرٹ ہیں۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت بہت بڑا احتجاجی ماحول لاہور میں بھی نظر آرہا ہے جہاں پر گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا ہے، اس کے علاوہ مال روڈ پر بھی دھرنا جاری ہے ۔کامران خان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر دھرنا ان شاہراہوں پر ہے جو پاکستان کے شہروں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے خطرناک اور نازک ترین صورتحال ایک بار پھر کوئٹہ میں ہے جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین بیٹھے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ان 90لوگوں کی تدفین نہیں کریں گے جو دہشت گردی کے واقعہ کا نشانہ بنے۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر حکومت پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کو پکڑا جائے گا ان کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی وہی وعدہ جو اس سے قبل 10جنوری کے واقعے کے بعد کیا گیا تھا۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ آپ کے اس وعدے پر ہزارہ برادری تو کیا اعتبار کرے گی پاکستانیوں کو بھی اس پر اعتبار نہیں ہے کیونکہ تقریباً یہی باتیں تھیں جو آپ نے14جنوری کو اسی قسم کے ایک بڑے سانحہ کے بعد دہرائی تھیں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی حساسیت کا اندازہ لگانے کے لئے ہم آپ کو بتائیں کہ نہ صرف بین الاقوامی طور پر اقوام پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں بلکہ اقوام متحدہ نے بھی چالیس دن میں دوسری بار اس قسم کے واقعات پر اپنی شدید مذمت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کامران خان کا کہناتھا کہ تازہ ترین بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پیر کو کہا کہ کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ حکام واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف تیزی سے کارروائی کریں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود پاکستان میں اس وقت اس حوالے سے ابال ہے اور انتہائی حساس اور نازک کیفیت ہے۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری پر حملے کے واقعہ میں تنقید کا نشانہ انٹیلی جنس ایجنسیز ہی بن رہی ہیں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ سیاست دان بھی یہ بات کر رہے ہیں اور دیگر حکام بھی یہ بات کر رہے ہیں۔کامران خان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسیز کے کردار کے حوالے سے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کے حوالے سے پہلی تنقید بلوچستان کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی نے کی۔

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=67272

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ میں لشکر جھنگوی ملوث ہے، کوئٹہ شہر فوج کے حوالے کیا جائے،لشکر جھنگوی بے گناہ لوگوں کو مار کر اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے، پوری قوم قتل عام کی مذمت کرتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی مرکزی آفس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا،اس موقع پر پارٹی وائس چےئرمین شاہ محمود قریشی،حامد خان ،جاوید ہاشمی اور دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر علی حیدر کنسلٹنٹ شوکت خانم کو لاہور میں گیارہ سالہ بیٹے کے ہمراہ قتل کیا گیا، لاہور چےئرمین بورڈ شوکت خانم کی جانب سے کہتا ہوں کہ یہ واقعہ قابل افسوس ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈاکٹرزباہر کی نسبت تین گنا کم تنخواہوں پر نوکری کرکے عوام کی خدمت کر رہے ہیں، مگر حکومت ڈاکٹروں کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری اور شیعہ بھائیوں کے قتل عام پر پوری قوم سخت تذبذب کا شکار ہے اور پوری قوم اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ نام لے کر بتا سکتے ہیں کہ لشکر جھنگوی ان کارروائیوں میں ملوث ہے اور وہ لشکر جھنگوی پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ لشکر جھنگوی اسلام اور پاکستان کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں اور انسانیت کا قتل عام کر رہے ہیں۔  عمران خان نے کہا کہ لشکر جھنگوی کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اسلام کے نام پر اپنے ہی لوگوں کو قتل کرکے وہ اسلام کی خدمت کا پرچار کر رہے ہیں تو ناصرف غلط ہے بلکہ کھلی اور سخت دہشتگردی ہے، وہ اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف ملک بھر میں ہر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں ہزارہ برادری اور شیعہ بھائیوں کے قتل عام کیخلاف احتجاجی مظاہرے کریگی۔

http://search.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=67268

           اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔

قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ مسلک کی بنیاد پر ہزارہ برادری کو لشکر جھنگوی کی جانب سے مسلسل تختہ مشق بنایا جانادین اسلام اور اسلامی شعار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مسلمان کو قتل کرنے والا کیسے اپنے آپ کو مسلمان کہ سکتا ہے۔

 طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔اسلام مسلمان تو کيا غير مسلموں کو بھي ناحق قتل کرنے کي اجازت نہيں ديتا۔ قرآن ايک انسان کے قتل کو پوري انسانيت کا قتل قرار ديتا ہے۔ ايک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا تو بہت بڑے گناہ کي بات ہے۔ مگر يہاں اسلام اور جہاد کے نام پر کلمہ گو لوگوں کے جسموں کے پرخچے اُڑا ديئے جاتے ہيں حالانکہ کلمہ پڑھ لينے کے بعد اس کلمہ گو کي اس قدر تعظيم ہے کہ اس کلمہ کے بعد اگر کوئي کفر يا شرک کا ارتکاب بھي کر دے تو اُسے قتل نہيں کيا جاسکتا.

اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔

دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔  نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے ۔ دہشت گردی کا پانی سروں سے گزر چکا ہے اور بھوت بن کر  ہمارے ذہنوں پر مسلط ہو گیا۔

دہشت گردی کی کوئی جغرافیائی حدود نہ ہوتی ہیں اور نا ہی اس کا رنگ ونسل یا مذہب سے کسی قسم کا کوئی  تعلق ہوتا ہے بلکہ یہ انسانیت دشمن فعل و عمل ہے۔ پاکستان میں  القاعدہ، طالبان ،لشکر جھنگوی اور دوسری دہشت گرد کالعدم جماعتیں کراچی سے سوات و کو ئٹہ  تک قتل و غارت گری میں لگے ہوی ہیں اور  آئے روز پاکستان میں خونیں وارداتیں ہوتی ہیں کہیں بم پھٹتے ہیں تو کہیں بے قصوروں کو اندھادھند گولیاں برسا کر موت کی آغوش میں بھیج دیا جاتا ہے۔اسکولوں کو بموں سے اڑا دیا جاتا ہے ان کے خیالات کی تائید نہ کرنے یا ان کی زبان نہ بولنے والے مساجد کے اماموں تک کو نہیں بخشا جاتا وہ بھی انتہا پسندوں کی گولیوں کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ لہذا طالبان کا جہاد،  فساد فی الارض ہے اور  صریحا دہشت گردی ہے۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)
طالبان ،لشکر جھنگوی اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنا چاہتے ہیں۔ سنی اور شیعہ ایک ہی لڑی کے موتی ہیں ،ان کے درمیان لڑائی اور ایک دوسرے کا خون  بہانا درست نہ ہے۔ فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

پاکستان میں دہشت گردی‘ فرقہ واریت اور قتل و غارت کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا سیاسی ہے۔ وہ مذہب کی آڑ میں اپنے سیاسی ایجنڈے کو بزور طاقت لوگوں پر نافذ کرنے کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرقہ واریت بھی اسی گروہ کا ایک خطرناک ہتھیار ہے۔

دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے اور یہ لوگ جماعت سے باہر ہیں۔ ہمیں ان سب کا مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ بزدل قاتل اور ٹھگ ہیں اور بزدلوں کی طرح نہتے معصوم لوگوں پر اور مسجدوں میں نمازیوں پر آ گ اور بارود برساتے ہیں اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہین۔ اس طرح یہ پاکستان کے دشمنوں کی خدمت کر رہے ہیں۔

Advertisements

“کوئٹہ میں قیامت کا سماں” پر 3 تبصرے

  1. Islam is beginning to show its real face. ( it’s not yet fully implemented ). Can you imagine when it ill be fully implemented ? We will be a pure society like like Saudia . There will be no more Jews, Christian, Hindus, Shias, Ahmadis.

  2. اعجاز صاحب:
    بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ۔
    اس سانحہ کی بنا پر ہم مذہب اسلام کو قصور وار نہیں ٹھرا سکتے اور ہمارے دین میں اس طرح کے گناہ کے لئے کو ئی جگہ نہ ہے ۔ یہ کچھ مذہبی جنونیوں،جو جماعت سے اپنی مکروح حرکات کی وجہ سے باہر ہیں ، کے ذاتی افعال ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہیں۔

  3. امريکی حکومت کوئٹہ ميں ہونے والے بم دھماکوں کی سختی سے مذمت کرتی ہے، جس ميں انتہائی بزدلانہ طريقے سے بے گناہ افراد کو نشانہ بنايا گيا۔ روز مرہ کے کاموں ميں مشغول بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر يہ دہشت گرد اپنے منصوبوں اور کاروائيوں سے يہ واضح کرتے ہيں کہ وہ انسانی زندگی کو کتنا حقير سمجھتے ہيں۔ ہم اس حملے کے متاثرين کے اہل خانہ اور دوست و احباب سے دلی تعزيت کا اظہار کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔