کراچی میں طالبان کی عدالتیں قائم


کراچی میں طالبان کی عدالتیں قائم

dowaza

کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے عدالتیں لگائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ دنیا نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات میں واضح طور پر ان عدالتوں کی کاروائی اور لوگوں کو دی گئی سزاوں کی تفصہیلات موجود ہیں۔ کالعدم تنظیم کی جانب سے لگائی جانے والی ان عدالتوں میں علاقائی مسائل ، بھتے کے معاملات اور جرمانے طے کیئے جاتے ہیں جبکہ سزا نہ ماننے والے شخص کے خلاف کالعدم تحریک طالبان کا علاقائی کمانڈر کاروائی کرتا ہے۔ زرائع کے مطابق یہ عدالتیں سہراب گوٹھ، گلشن بنیر اور اتحاد ٹاون کے علاقوں میں لگائی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب شہر کے مختلف صنعتکاروں اور تاجروں کو کالعدم تنظیم کی جانب سے لاکھوں روپے بھتے کے خطوط بھی بھیجے گئے ہیں جن کی نقول دنیا نیوز نے حاصل کر لی ہیں۔ ان خطوط میں تاجروں اور صنعتکاروں سے 5 لاکھ روپے سے لے کر 20 لاکھ روپے تک بھتہ طلب کیا گیا ہے۔

1. http://dunyanews.tv/index.php/ur/Pakistan/156936

2. http://urdu.thenewstribe.com/featured/2013/01/30

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے کہاہے جب تک پولیس کوسیاست سے پاک نہیں کیا جاتا کراچی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
پوری دنیاکے بڑے شہروں میں جرائم کے منظم گروہ ہوتے ہیں لیکن اچھی طرزحکومت اورپالیسیوں سے ان پرقابوپایاجاتاہے۔کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کراچی میں مسلح باڈی گارڈز کی موجودگی میں ایک رکن صوبائی اسمبلی محفوظ نہیں تو عام لوگوں کو کیسے تحفظ دیاجاسکتا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بینچ نے منظر امام کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیاہے اور اجمل پہاڑی کے ٹرائل کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے ۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتح محمدملک سے استفسار کیا کہ کراچی میں صورتحال بہتر ہوئی یامار دھاڑ جاری ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا حالات اگر100فیصد نہیں تو90 فیصد بہتر ہوئے ہیں جس پرچیف جسٹس نے کہاصورتحال بہت ابترہے ایک ایم پی اے 2مسلح گارڈزکی موجودگی میں  قتل ہوا اس سے زیادہ بدامنی اور کیا ہو سکتی ہے،عدالت کے فیصلے کے بعد2ماہ تک حالات بہترتھے لیکن جب فیصلے کی خلاف ورزی شروع ہوئی توحالات دوبارہ بے قابوہوگئے، عدالت کے حکم پر عمل ہو گا تو حالات بہتر ہوں گے اس کے لیے سب سے پہلے پولیس کوسیاست سے صاف کیاجائے۔
پولیس میں سیاسی تقرریوں اورتبادلوں کاسلسلہ ختم کر دیاجائے،منظر امام کے قاتل کو گرفتار کرنا کراچی پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اگرملزم گرفتار ہو جاتے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ پولیس حالات کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اگرایک منتخب رکن کے قاتل گرفتارنہیں ہوں گے تو کسی عام آدمی کے قاتل گرفتارہی نہیں ہو سکتے۔چیف جسٹس نے اجمل پہاڑی کے رہاکرنے کامعاملہ بھی اٹھایااورکہاکہ جب قاتل چھوڑے جائیں گے توحالات بہترنہیں ہوسکتے۔ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ اجمل پہاڑی  عدالت کے حکم پر رہاہواجس پرچیف جسٹس نے کہاانھیں حراست میں تو رکھا گیالیکن استغاثہ نے کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے،عدم ثبوت کی بنیادپرکسی کو زیر حراست نہیں رکھاجاسکتااب تک انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جج نہیں تودہشت گردی پر قابو کیسے پا یا جاسکتاہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ5ہزار طالبان کراچی میں داخل ہوچکے ہیں ،منظر امام کے قتل کوبھی طالبان نے قبول کردیاہے  کچھ طالبان گرفتار بھی کر لیے گئے ہیں اوران سے انٹی ایئر کرافٹ بندوقیں بازیاب ہوئی ہیں،کراچی میں حالیہ تشددکی لہر کے پیچھے طالبان ہیں۔چیف جسٹس نے کہاطالبان کوئی ایسی مخلوق نہیں جوقابو نہ ہو سکیں،اس کے لیے سنجیدگی اور عزم کی ضرورت ہے، ہم نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ حکومت درست طور پر کام نہیں کررہی ہے،شاہ زیب بھی عدالت کے حکم پرگرفتار ہوئے ہمارے لیے ہر شخص شاہ زیب ہے لیکن  قاتل صرف عدالت کاحکم آنے کے بعد گرفتار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کاکہنا تھا کہ کراچی بہت بڑا شہر ہے20لاکھ غیرملکی اورملک بھر سے آئے ہوئے لوگ یہاں پررہتے ہیں جس کی وجہ سے امن وامان کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں،مسائل سے نمٹنے کیلیے کمیٹی بنادی گئی ہے۔چیف جسٹس نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیااور کہاممبئی ،دہلی سمیت دنیا کے تمام میٹرو پولیٹن شہروں پرآبادی کادبائوہو تاہے لوگ روزگار کیلیے ان شہروں میں آتے ہیں  لیکن ایک منظم پالیسی کے ذریعے ان مسائل کو قابو کیا جاتاہے،چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں کمیٹیوں پریقین نہیں جبکہ جسٹس شیخ عظمت سعیدنے کہا کام نہ کرناہوتواس کیلیے کمیٹی بنادی جاتی ہے۔
جسٹس گلزار نے کہا صبح صبح 3لاشیں  کراچی میں ملی ہیں ،زمینوں پرقبضے ہو رہے ہیں  جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ اصل وجہ بھی یہی ہے  بھتہ مافیا اور لینڈ مافیا کی لڑائی میں معصوم لوگ  بھی مررہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہالگتا ہے حکومت خود کراچی میں امن نہیں چا ہتی  جب سفارشی ایس ایچ اورتھانوں میں لگیںگے توانھوں نے وہی کرناہے جوان کوکہاجا ئے گا،آج پولیس سے سیاست کاخاتمہ کیا جائے سب کچھ  ٹھیک ہوجائے گا،چیف جسٹس نے کہاکہ لوگ مارے جارہے ہیں اور پھر موم بتیاں  جلا کران کی یادمنائی جاتی ہے۔
چیف جسٹس نے ایک بارپھرایڈیشنل سیکریٹری سندھ وسیم احمد کی تعینا تی کامعاملہ اٹھایا اور کہا  جب دوستیاں نبھانے کے لیے ریٹائرڈ افسران کو نوازاجائے گا اور انھیں اہم عہدے دیے جائیں گے تو امن کیسے  قائم ہوگی،سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیاہے کہ ریٹائرڈ افسران کو دوبارہ نہ لگا یا جائے لیکن فیصلے کی بار بار خلاف ورزی ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کراچی کے بارے عدالت کے فیصلے پرعمل نہیں ہوا اس لیے توہین عدالت کی درخواست دائر ہوئی،توہین عدالت کے اس مقدمے کے بارے عدالت بہت سنجیدہ ہے۔ایڈووکیٹ جنرل نے دو ہفتے کی مہلت کی استدعاکی اور کہا   کہ جلد بہتر نتائج سامنے آجا ئیں گے .

http://shafaqna.com/urdu/shafaq/item/6385-%DA%A9%D8%B1%D8%A7%DA%86%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86-%DB%81%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DA%AF%DB%8C.html

اس سے پہلے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، 8 صفحات پر مشتمل اپنے عبوری فیصلے میں عدالت عظمٰی نے حکم دیا کہ شہر میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ غیرقانونی مسلح افراد کے خلاف کارروائی کی جائےاور ان سے سختی سے نمٹا جائے۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ضبط اور اسلحہ لائسنس کا نظام کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے عبوری فیصلے میں کہا کہ مسلح افراد کے خلاف سختی سے نمٹاجائے اوراس سلسلے میں آئی جی سندھ پیرول پر رہا افراد کو عدالتوں میں پیش کریں اور عدالتیں ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کریں تاکہ ملزمان کی عدالتوں میں پیشی کو ممکن بنایا جاسکے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس میں سیاسی عمل دخل کے باعث محکمے کی کارکردگی بہت خراب ہے اس لئے محکمے میں بھرتیوں کے عمل کوشفاف بنایا جائے۔

http://www.express.pk/story/44059

دہشت گردی کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کی مایوسانہ کوشش میں تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند 2009 سے اب تک کراچی کے بینکوں سے 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر (1 ارب 60 کروڑ روپے) لوٹ چکے ہیں۔

ولیس کا الزام ہے کہ عسکریت پسند 2009 کے بعد سے کم از کم 28 ڈکیتیوں میں ملوث رہے ہیں جن میں 2010 اور 2011 میں بینک لوٹنے کی کل 39 وارداتوں میں سے 18 بھی شامل ہیں۔ کراچی پولیس کی ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق 2011 میں طالبان عسکریت پسندوں نے کراچی کے بینکوں سے تقریباً 50 کروڑ روپے (55 لاکھ ڈالر) لوٹ لیے تھے۔ اس میں کراچی میں سال کی سب سے بڑی بینک ڈکیتی بھی شامل تھی جس میں عسکریت پسندوں نے مسلم کمرشل بینک کی ایک شاخ سے 9 کروڑ روپے (9 لاکھ 90 ہزار ڈالر) سے زائد رقم لوٹ لی تھی۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے مجرمان ایم سی بی بینک، حبیب بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، فیصل بینک لمیٹڈ اور سنہری بینک لمیٹڈ کی شاخوں کو لوٹ چکے ہیں

سندھ تاجر اتحاد کے صدراور آل کورنگی لانڈھی ایسوسی ایشن کے صدر شیخ حبیب نے کہا ہے کہ کراچی کے تاجر اور عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ معیشت کے حب کراچی میں تاجر جو ٹیکس ادا کرتے ہیں اس سے یہ ملک چلتا ہے ۔ اور قانون نافذ کرنے والوں کی تنخواہ بھی اسی ٹیکس سے ادا ہوتی ہے مگر حکومت کی بے حسی کے باعث تاجر اب خود کو تنہا محسوس کرنے لگے ہیں ۔ شہر قتل و غارت ، بد امنی اور لوٹ مار کی ایسی آگ میں جل رہا ہے جسکی تپش حکمرانوں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وی آئی پی شخصیات کے علاوہ سب ہی محسوس کرسکتے ہیں۔کراچی میں قتل و غارت کے 18سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں ۔2012؁ء میں 2 ہزار سے زائد افراد کو بے دردی سے کراچی کی سڑکوں پر موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ۔موجودہ دورِ حکومت کے 5 سالہ دور میں مجموعی طور پر 7ہزار افراد کو قتل کیا گیا ۔شیخ حبیب نے کہا کہ نئے سال 2013کی آمد پر توقع تھی کہ نیا سال خوشیوں سے بھر پور ہوگا مگر دہشت گردوں ، قاتلوں اور ٹارگٹ کلرز کی مستعدی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غفلت اور عدم دلچسپی نے نئے سال کے پہلے مہینے کو بھی خون سے رنگ دیا اور کئی گھرانوں کے چراغ گل ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ جنوری میں 250سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔۔انہوں نے کہا کہ شہر میں جاری ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی نے روشنیوں کے شہر کو تاریک کر دیا ہے ۔تجارتی مراکز پر سناٹا چھایا رہتا ہے حکومت تاجروں کو تحفظ فراہم کے نے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ،تاجروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔شہر میں جاری بد امنی سے تاجر برادری ہی نہیں تاجر رہنماؤں میں بھی خوف کی فضا قائم ہوگئی ہے تاجروں کی آواز وں کو اعلی حکام تک پہچانے والے تاجر رہنماؤں کو بھی ٹارگٹ کیا جارہا ہے چند روز قبل تاجر رہنما محمد عرفان کو ٹارگٹ کیا گیا جس کے قاتل اب تک آزاد پھر رہے ہیں۔حکومت تاجروں کو فی الفور تحفظ فراہم کرے ورنہ تاجر برادری احتجاجی لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوگی۔#

http://www.sananews.net/urdu/archives/123994

طالبان نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز نہایت باقاعدہ او رمنظم طریقے سے کیا۔ اس تحریک کے پاس نظریاتی سوچ ہے اور اسی وجہ سے اسے بین الاقوامی طور پر اور ملک کے اندر مدد اور حمایت حاصل رہی ہے ۔ اپنے مقاصدحاصل کرنے کے لیے ان کا طریقہ کار کچھ اس طرح سے ہے:
ا۔ یہ ریاست کو غیر مستحکم کرنے کے اقدامات کرتے ہیں تاکہ عوام اپنے تحفظ کی خاطر ان کی جانب رخ کریں۔
ب۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں مداخلت نہ کرے تاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
ج۔ وہ حکومتی ڈھانچے میں کچھ آئینی او ر قانون ضابطوں کو طاقت کے بل بوتے پر تبدیل کرانا چاہتے ہیں جو ان کی نظر میں دین سے متصادم ہیں۔
کچھ طالبان کے ایجنڈے میں فرقہ پرستی کے عناصربھی شامل ہیں ۔ جن میں شیعہ او ر خانقاہی صوفی مکتبہء فکر کے نظریات پر خاصا سخت مؤقف پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے القاعدہ جیسی بین الا قوامی تنظیموں سے روابط ہیں او ر وہ تمام حکومتوں کو غیر مستحکم کر کے اپنے نظریات کا فروغ چاہتے ہیں۔

http://www.tajziat.com/issue/2009/08/detail.php?category=taj&id=4

اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے،42 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم ہے اور کو ئی اس کو لگام دینے والا نہ ہے۔خدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ طالبان ،لشکر جھنگوی اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں.

کون سا اسلام ان چیزوں کی اجازت دیتا ہے؟ ملک کا وجود ان دہشت گردوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والا پاکستان آج دہشستان بن گیا ہے اور ہر سو ظلم و دہشت اور افرا تفری کا راج ہےاور ہم سب پھر بھی خاموش ہیں،آخر کیوں؟ یہ دہشت گرد نام کے مسلمان ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔

ملک خداداد پاکستان کو اس وقت سنگین حالات کا سامنا ہے اور سب پاکستانیوں کو موقع کی نزاکت کا بھرپور احساس کرنا چاہئیے کیونکہ طالبان کی طرف سے عدالتوں کا قیام  اور مجرموں کو سزائیں دینے کا عمل درحقیقت طالبان کی متوازی حکومت قائم کرنے کی ابتدا لگتی ہے اور یہ پاکستان کے عوام اور ارباب اختیار کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور بڑی خطرناک حمت عملی ہےاور حکومتی رٹ کی مکمل نفی ہے۔ اس طرح طالبان نے براہ راست پاکستانی ریاست اور حکومت کے اقتدار اعلی کو  چیلنج کر دیا ہے۔ ایک طرف طالبان مذاکرات کی پیشکشیں کر رہے ہیں اور دوسری طرف ریاست کے اقتدار اعلی کو براہ راست چیلنج کر رہے ہیں؟ حالات کا تقاضہ ہے کہ جلد از جلد طالبان پر فیصلہ کن وار کیا جائے اور ان خوارج کو نیست و نابود کر دیا جائے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہ کرے گی۔

دہشت گردی کی لہر نے پاکستان کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور  پوری قومی معیشت کو متزلزل کرکے رکھ دیاہے .غربت و افلاس، بیروزگاری، صنعتی اداروں کی بندش، سرمایہ کاری میں زبردست کمی اور ملک سے سرمائے کے فرار کا عمل تیز تر ہوتا جارہاہے جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے  دھانہ پر پہنچا دیا ہے

بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود  کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر  رکھاہے اور اب  طالبان  نےمتوازی عدالتی نظام قائم کر دیا ہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر  ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔طالبان پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین کی بالادستی کو رد کرتے ہوتے اپنی مذہبی سوچ کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں. دنیا کی کو ئی بھی ریاست مسلح دہشت گردوں کے گروہوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھٹی نہ دے سکتی ہے۔

اگر ریاست مسلح عسکریت پسندوں کو اس بات کی اجازت دے دے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں تو ایسی ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی .صلح جوئی کی پالیسی نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم انسانی جانوں کی زیاں نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے  برےاثرات کی شکل میں ادا کر چکے ہیں . بم دھماکے کھلی بربریت ہیں اور دہشت گرد عناصر شہر میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔

ان حالات میں عوام، دانشوروں اور  تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں کو سنجیدگی سےطالبان فتنے سے متعلق زمینی حقائق  و ملکی صورتحال کا  بغور جائزہ لینے اور موجودہ مسائل کا قابل عمل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے  تاکہ ملک پاکستان کو پھر امن و استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

Advertisements