جلو زئی کیمپ خودکش دہماکہ


جلو زئی کیمپ خودکش دہماکہ

نوشہرہ میں جلوزئی مہاجر کیمپ میں بم دھماکے کے نتیجے میں 17افراد جاں بحق 35 زخمی ہو گئے، مرنے والوں میں مقامی این جی او کی تین خواتین، 2 بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے سے عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، اطلاعات کے مطابق نوشہرہ کے جلوزئی کیمپ میں مہاجر بازار کے قریب زور دار بم دھماکہ ہوا ۔ پولیس کے مطابق بارودی مواد کار میں نصب کیا گیا تھا دھماکے کے وقت بازار میں مہاجرین میں راشن تقسیم کیا جا رہا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے بارودی مواد کار میں نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد سکےورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

دوسری جانب صدر زرداری، وزیر اعظم پرویز اشرف نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا مذموم کارروائیوں سے حکومتی عزم متزلزل نہیں ہو گا۔ دہشت گردی کےخلاف جنگ جاری رہے گی۔ صدر اور وزیر اعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف، امیر جماعت اسلامی منور حسن، عمران خان‘ الطاف حسین، اسفند یار ولی، شجاعت حسین، پرویز الٰہی، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، گورنر بلوچستان ذوالفقار خان مگسی، گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود، گورنر خیبر پی کے انجینئر شوکت اللہ سمیت متعدد سیاسی و مذہبی رہنماﺅں نے دھماکے کی مذمت کی۔

 بم ڈسپوزل کے مطابق دھماکے میں 30سے 35کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ زخمیوں میں مقامی این جی او کی تین خواتین سمیت پانچ ارکان بھی شامل ہیں۔ این جی او کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کا کہنا ہے دھماکہ اس وقت ہوا جب جلوزئی کیمپ کے مہاجر بازار میں مہاجرین میں راشن تقسیم کیا جارہا تھا کہ اچانک بارود سے بھری گاڑی راشن تقسیم کرنے والی گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے سے کیمپ کے باہر کھڑی 12 گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔ زخمیوں میں سے 9 کی حالت تشویشناک ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے حکام کا کہنا ہے دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔ دھماکے میں 30 سے 35 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔ نوشہرہ پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت شدید تھی جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ ڈی پی او محمد حسین نے 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں 30 سے 35 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ یہ دھماکہ خیز مواد گاڑی میں پہلے سے نصب کیا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔

http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/22-Mar-2013/187728

حکام اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں پاکستان کے انتہائی حساس شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کیمپ میں باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسیوں کے 80 ہزار سے زائد بے گھر افراد مقیم ہیں جو اپنے علاقوں میں جاری تشدد کے باعث نقل مکانی کر کے یہاں آئے ہیں۔

انسانی و خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن ثمر من اللہ نے کہا کہ دھماکے میں لقمہ اجل بننے والے افراد امن اور پناہ کی تلاش میں اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی کمزور خواتین اور بچوں پر بم حملہ کرنا انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے۔ سیاسی قائدین نے اس حملے کو اخلاقی لحاظ سے غلط قرار دیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک نے ایک بیان میں کہا کہ بے گناہ افراد کا قتل اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہے اور مجرمان مسلمان ہیں نہ انسان۔

ایک زمانے میں صوبائی اسمبلی میں نوشہرہ کی نمائندگی کرنے والے سابق وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بھی بم دھماکے کی مذمت کی۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان جمیل شاہ نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین حمیرا اور تمنا شامل ہیں جبکہ چار خواتین اور چار بچے زخمی ہیں۔

“یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے پے در پے واقعات آنے والے انتخابات کو سبوتاژ کرنے اور لوگوں کو خوف زدہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش بھی ہو سکتی ہے، یقیناً آیندہ کسی بھی واقعے کے بعد الیکشن کے التوا کے حوالے سے باتیں زبان زد عام ہوں گی اور جس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ امن و امان کی مخدوش صورت حال میں انتخابات کا انعقاد کیسے ممکن ہو پائے گا، حسب روایت جلوزئی کیمپ میں رونما ہونے والے اس دل خراش واقعے کے بارے میں بھی حکام کی جانب سے تحقیقات کا حکم صادر کیا گیا ہے، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دیگر واقعات کی طرح اس واقعے کو بھی لوگ جلد ہی بھول جائیں گے کیوں کہ ایک واقعے کے بعد ہونے والا دوسرا اس سے بھی زیادہ دلدوز واقعہ پہلے واقعے کی یاد کو مدھم کر دیتا ہے، قطع نظر اس کے کہ آیندہ کا منظر نامہ کیا ہوگا۔

images

نگران حکومت کے کاندھوں پر بہت بڑی ذمے داری آن پڑی ہے کہ انتخابات کے قریب آتے اگر خدا نخواستہ اس قسم کے واقعات میں شدت آتی گئی تو ایسے میں وہ کونسی حکمت عملی یا لائحہ عمل ہوسکتا ہے جس کے ذریعے صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکے اور پر امن انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔ اس کے لیے من حیث القوم ہمیں بھی نگران سیٹ اپ کا بھر پور ساتھ دینا ہو گا اور اس قسم کی بیان بازی سے اجتناب کرنا ہو گا جس سے ملکی سالمیت پر کوئی حرف آئے، ہمیں مل جل کر سازشی عناصر کی اس قسم کی سازشوں کا ڈٹ کر اور ہوش مندی سے مقابلہ کرنا ہو گا۔

صوبہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے بری طرح دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن یہ پہلا اتفاق تھا وہاں جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا گیا اور اب جلوزئی کے پناہ گزیں کیمپ پر حملہ بھی ایک ایسا واقعہ ہے جس کی وجہ تلاش کرنا تفتیش کاروں کے لیے آسان کام نہیں ہو گا۔

 اب پاکستان مسائل کے ایسے گرداب میں پھنس گیا ہے جس سے نکلنے کی راہ سجھائی نہیں دے رہی۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کو جہاں ادارہ جاتی اقدامات کی ضرورت ہے،وہاں نظریاتی اور سیاسی بنیاد کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی محض فوجی آپریشن یا انٹیلی جنس نیٹ ورک کو فعال کرنے سے نہیں ختم ہوسکتی ، اس کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مذہب کے نام پر کام کرنے والوں کو بھی اپنے ملک کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ جب تک ملک میں فکر ی انتشار ختم نہیں ہوتادہشت گردی کا مقابلہ ممکن نہیں ہوگا۔”

http://www.express.pk/story/105405/?print

 ڈیلی آج کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ۳ روز قبل ہی پمفلٹس کے ذریعہ دہماکہ کی دہمکی دے دی گئی تھی مگر انتظامیہ کے کانوں پر جون تک نہ رینگی۔کیمپ میں سیکورٹی کا کوئی قابل ذکر انتظام تک نہ تھا اور نہ ہی سیکورٹی اہلکاروں کے پاس کو ئی اسلحہ موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔۔

ڈی پی او کے مطابق یہ حملہ منگل باغ کے کالعدم  لشکر اسلام کا کام ہو سکتا ہے۔ ادھر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نوشہرہ محمد حسین نے انکشاف کیا ہے کہ کار بم دھماکاکالعدم شدت پسند تنظیم لشکر اسلام منگل باغ گروپ نے کیا ہے جس کے شواہد مل گئے ہیں۔ادھر قائم مقام وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس( ر) طارق پرویز، گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے جبکہ  امیرجماعت اسلامی پاکستان سیدمنورحسن‘ سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ و دیگر رہنمائوں نے جلوزئی کاربم دھماکے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں جانی نقصان پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

http://beta.jasarat.com/national/news/54669

                 آج انسانیت کو دہشت گردی کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ دہشت گردی ایک لعنت و ناسور ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں مزید تقریبا چار ہزار افراد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ ان میں ایک تہائی تعداد عام شہریوں کی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز کے 589 جوان بھی مارے گئے ہیں.  ملک بھر میں جاری دہشت گردی کے واقعات کی ایک دہائی میں 46500 معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے جن میں پانچ ہزار سے زائد سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، رواں سال کے ابتدائی دو ماہ میں1350افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔2013ء میں فرقہ واریت کے40سے زائد پرتشدد واقعات میں تین سو سے زائد افراد جاں بحق جب کہ1989 ء سے2013ء کے درمیاں فرقہ واریت کے لگ بھگ2785سے زائد واقعات میں4450سے زائد افراد جاں بحق اور 8700سے زائد زخمی ہوئے۔

                        اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔ دہشت گرد اسلام کے نفاز کے نام پر اور شریعتِ محمدی کے نام پر، لوگوں کی املاک  کو جلا رہا ہیں اور معصوم اور بے گناہ  جانوں کے قتل و غارت گری کا ارتکاب کر رہے ہیں۔میدان جنگ میں بھی ظلم وبربریت سے اسلام منع کرتا ہے اور وہاں بھی بوڑھوں ، بچوں اور خواتین کے قتل سے روکتاہے.

کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔اسلام میں فتنے کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔کسی بے گناہ کی طرف آلہ قتل سے اشارہ تک کرنا منع کیا گیاہے .دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔ دہشت گرد قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا ۔ یہ غیر اسلامی اور غیر انسانی اور ناقابل معافی فعل ہے۔

ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔یہ سفاکانہ دہشت گردی کرنے والے عناصر انسانیت کے قاتل ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے دہشت گردی کا تسلسل ملک کی سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

    دنیا کی کوئی  ریاست مسلح عسکریت پسندوں  و دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت نہ دے سکتی ہے  کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں کیونکہ ایسا کرنے سے  ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی  – بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود  کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر  رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر  ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کا ناسور قوم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں نے نا صرف قومی اثاثوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ پولیس ، رینجرز، ایف سی اور فوج کے جوانوں کو قتل کیا اوراس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عام شہریوں کے خون سے بھی جی بھر کے ہاتھ رنگے اور ابھی تک رنگ رہے ہیں۔دہشت گردی اب پاکستان کا سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے جس کا حل پاکستانی کے اندرونی حالات کے ساتھ پاکستان کے باہر کے حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔دہشت گرد تنظیموں کی ساخت، افرادی قوت واسلحے اور رسد کی فراہمی ، مالی ذرائع اور مقامی سیاسی اور غیر ملکی حمایت سمیت کسی معاملے میں اب تک حکمرانوں کے پاس عوام کے سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔ ۔ جب تک قوم کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا قوم کیسے متحد ہو گی؟ اگر دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں تو جاتے کہاں ہیں؟ کسی عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوتے؟ سزا کیوں نہیں پاتے؟ اگر چھوڑ دیئے جاتے ہیں تو ملک یا ملک سے باہر ان کا حمایتی کون ہے؟ کون ان کی مدد کرتا ہے؟ گلیوں محلوں میں ان کے حمایتی کون ہیں؟ اور کیوں ہیں؟ ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے؟ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اب تک کوئی قومی ایجنڈہ کیوں نہیں بنایا گیا؟ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں دہشت گردی کے بارے میں مختلف پالیسیاں کیوں رکھتی ہیں؟ جبکہ دہشت گرد سب کے ہی دشمن ہیں، سب کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں حکومت،مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے عوام یہ توقع رکھتے  ہیں کہ وہ نمائشی اور ظاہری  اقدامات کی بجائے دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے منظم اور ٹھوس اقدامات کریں.

دہشت گردی کا ناسور اب اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اسے ختم کر نے کے لیے ملک کے تمام فرقوں، نظریا ت اور طبقوں کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا بے حد ضروری ہے۔

Advertisements

“جلو زئی کیمپ خودکش دہماکہ” پر 2 تبصرے

  1. You are barking at wrong tree. Go to a masjid and say it loudly. That’s the crowd which supports these type of activities. You convince them in other direction On masjid at a time. That will be success. Salam Ajaz.

تبصرے بند ہیں۔