انتخابات اور دہشت گردی کے خطرات


انتخابات اور دہشت گردی کے خطرات

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے آئندہ عام انتخابات میں دہشت گردوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کے خطرات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔گزشتہ روز وزارت داخلہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آفیشلز کے درمیان ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں سیکیورٹی معاملات پر بات چیت کی گئی۔

اس موقع پر ایک پریزنٹیشن کے ذریعے انکشاف کیا گیا کہ کالعدم تنظیم جنداللہ، لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کی مدد سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، جس میں خاص طور پر نوشکی اور کوئٹہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں، حساس تنصیبات اور سیکیورٹی اہلکاروں پر بھی حملے کا امکان ہے۔میٹنگ میں شریک ایک اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ ملاقات میں بتایا گیا کہ بلوچستان ریپبلک آرمی(بی آر اے) بھی ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد اور جعفر آباد میں سڑک کنارے نصب کیے جانے والے بموں(آئی ای ڈی) کے ذریعے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

جبکہ لشکر جھنگوی کے بلوچستان یونٹ کے کمانڈر عثمان سیف اللہ کرد نے اسلام آباد میں بھی حملے کے منصوبے بنائے ہیں۔

میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حال ہی میں 25 جنوری سے 18 مارچ کے درمیان ٹی ٹی پی، لشکر اسلام اور حکومت کی حامی انصار الاسلام میں ہونے والے تصادم سے فاٹا سمیت پشاور اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں سیکیورٹی کی سنگین صورتحال واضح ہو گئی ہے۔

اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ ٹی ٹی پی پشاور میں اہم سرکاری عمارتوں اور تنصیبات پر خود کش اور بم حملے بھی کر سکتی ہے۔

میرالی میں مقیم پاکستانی طالبان عسکریت پسند خانیوال، ملتان اور اطراف کے دیگر علاقوں میں حملے کر سکتے ہیں۔

مذکورہ میٹنگ میں طے کیا گیا کہ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی سویلین آرمڈ فورسز، پولیس اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک گروپ تشکیل دیا جائے گا، یہ گروپ روزانہ کی بنیاد پر ملاقات کرتے ہوئے دہشت گردوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے تناظر میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے گا اور جوں جوں الیکشن کے لیے پولنگ کا دن قریب آتا جائے گا، یہ اسی لحاظ سے مؤثر تبدیلیاں کرتا رہے گا۔

اس حوالے سے غور کیا گیا کہ صوبوں کو کسی بھی قسم کے دہشت گردی کے امکان کے پیش نظر ہنگامی پلان تیار رکھنا چاہیے جبکہ وزارت داخلہ کو بھی افرادی قوت اور وفاقی وسائل سمیت تمام تر مہارت کے ساتھ تیار رہنا ہو گا۔

میٹنگ میں بیلٹ پیپرز کی مہم، امیدواروں، مبصرین اور الیکشن کمیشن کے اسٹاف کو پیش آنے والے سیکیورٹی کے مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ الیکش مہم اور پولنگ کے دن سیکیورٹی کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔

اس حوالے سے یہ بھی انتباہ کیا گیا کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا دراصل صوبوں کی ذمے داری ہے اور صوبوں سے کہا گیا کہ وہ کسی خاص شہر یا علاقے میں آرمی اور سول آرمد فورسز کی مدد کے حوالے سے اپنے مطالبات کی پہلی درخواست دے دیں۔

اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ ہر صوبے کو الیکشن سے کچھ دن قبل نگرانی کے لیے دو دو ہیلی کاپٹرز بھی دیے جائیں گے۔ اگر صوبوں نے درخواست کی تو وزارت داخلہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) سے حساس علاقوں میں موبائل فون سروس بند کرنے کے لیے رابطہ بھی کرے گی۔

میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غیر ملکی مبصرین اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس کی ہو گی جبکہ صوبوں میں تمام تر سیکیورٹی کی ذمے داری رینجرز، ایف سی اور صوبائی پولیس فورس کی ہو گی۔

میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس اداروں سے اعلیٰ سطح پر رابطے رکھے جائیں گے۔

دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کوئٹہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ جمعرات کو مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

اُس میٹنگ میں الیکشن کمیشن بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ارکان اور سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد شرکت کریں گے۔ اس حوالے سے جب سیکریٹری الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور رہنما الیکشن کمیشن سے ملاقات کریں گے اور اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ طلال بگٹی نے چیف الیکشن کمشنر سے ملنے سے انکار کردیا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ وہ اپنے مہمانوں کے ساتھ ایسا کریں گے۔

http://urdu.dawn.com/2013/03/28/interior-ministrys-assessment-militants-determined-to-sabotage-elections/

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے عام انتخابات کی مہم عوامی اجتماعوں کی بجائے گھر گھر جا کر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اے این پی نے تحریک طالبان کے ریلیوں میں ممکنہ حملوں کے خطرے کی وجہ سے کیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سندھ کے صدر شاہی سید نے بی بی سی اردو کو بتایا تحریک طالبان ایک ایسا خطرہ ہے جس نے انہیں خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے شہر میں بھی انتخابات کے لیے کھلے عام عوامی اجتماع سے روک دیا ہے۔

شاہی سید نے الزام لگایا کہ طالبان نے کراچی میں ان کے پینتیس عہدے داروں اور کارکنوں کو ہلاک کیا جس کا تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اعتراف بھی کیا ہے، اگر وہ کراچی میں بڑی انتخابی ریلیاں منعقد کرتے ہیں تو ان کے سامنے چارسدہ اور مردان کے جلسوں کی طرح یہاں بھی خودکش حملوں کا خطرہ ہے اسی لیے ان کی جماعت نے گھر گھر جا کر انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا آپشن بھی موجود ہے، اس کے جواب میں شاہی سید نے کہا کہ یہ بہت بڑی سیاسی غلطی ہوگیا اور ایسا کرنے کا اے این پی سوچ بھی نہیں سکتی۔

طالبان کے خطرے کی وجہ سے بقول شاہی سید وہ اور ان کی جماعت اے این پی کے دوسرے اعلیٰ عہدے دار اپنی آمدو رفت کو خفیہ رکھتے ہیں مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ایسا حکمت عملی کے تحت کرتے ہیں۔

شاہی سید نے الزام لگایا کے تحریک طالبان اے این پی کو ہر طرح سے دباوُ میں لانے کی کوشش میں مصروف ہے جن میں بھتہ دینے اور اے این پی چھوڑنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز شامل ہیں جس کی وجہ سے اے این پی کے چار عہدے داروں کو کراچی چھوڑنا پڑا اور بعض کو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑی۔

اے این پی کو طالبان کے طرف سے کراچی کے جن علاقوں یا انتخابی حلقوں میں خطرہ ہے ان میں پشتون آباد ی والے علاقے شامل ہیں۔ شاہی سید کے مطابق حلقوں میں پی ایس نواسی کیماڑی، پی ایس نوے اور اکانوے بلدیہ، پی ایس ترانوے اور چھیانوے منگھو پیر سلطان آباد، پی ایس ایک سو چھبیس سہراب گوٹھ اور لانڈھی قائد آباد کے حلقے پی ایس ایک سو اٹھائیس، ایک سو انتیس اور ایک سو تیس شامل ہیں۔ ان علاقوں میں اے این پی کو دفاتر بھی بند کرنے پڑے۔

اے این پی کے جنرل سیکرٹری بشیر جان کے اوپر کراچی میں تین قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے میٹروول سائٹ ، حسن اسکوائر اور شاہراہ فیصل کے علاقوں میں میں ہوئے۔ بشیر جان کے مطابق جان کو خطرہ لاحق ہونے کے باوجود سندھ کی نگران حکومت نے آتے ہی ان سے پولیس کی سیکیورٹی واپس لے لی ایسے میں ان کے پاس انڈر گراوُنڈ ہونے یا پھر کراچی چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

لیکن تمام تر خطرے کے باوجود اے این پی نے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ اے این پی کراچی سے صوبائی اسمبلی کی پندرہ اور قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر امیدوار کھڑے گی ان ہی میں ایک حلقہ ترانوے فرنٹیئر کالونی ہے جہاں سے این پی اے کے بشیر جان اس مرتبہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حلقہ انتہا پسندی کے خطرے کی وجہ سے کافی حساس سمجھا جاتا ہے، اسی حلقے میں اے این پی کے تیس سے زیادہ عہدے دار اور کارکنوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں کراچی کے حلقہ ترانوے اور حلقہ ایک سو اٹھائیس پر امیر نواب اور امان اللہ محسود نے کامیابی حاصل کرکے صوبائی اسمبلی میں دو نشستیں حاصل کیں تھیں۔ اے این پی تسلیم کرتی ہے سیکیورٹی کے حوالے سے صرف یہ دو حلقے نہیں بلکہ کراچی کے تمام حلقے ان کے لیے حساس ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/03/130327_anp_door_to_door_ra.shtml

” ملک کے شمالی اور بعض قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات افسوس ناک ہیں ،ان وارداتوں کا مقصد پاکستان کی سالمیت اور امن و امان کو تہس نہس کرکے غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل ہی دکھائی دیتی ہے ورنہ اس علاقے کے عوام اور جنگجو قبائل کا ماضی میں پاکستان کے دفاع کی رضاکارانہ خدمات کا ایک شاندار ریکارڈ موجود ہے ۔ سکیورٹی فورسز پر حملے کی حالیہ واردات کی کڑی بھی در حقیقت افغانستان کی داخلی صورتحال اور طالبان کی افغان صدر حامد کرزئی سے مخاصمت سے ملتی ہے .مختلف گروپ ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے پر تشدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔

حکومت اس سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی پر کاربند ہے اور انتہا پسندوں کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا جارہا ہے ۔در اصل طالبان پر پاکستان کے تمام شہروں کو وزیرستان بنانے کا جنون سوار ہے اس لیے کراچی ،کوئٹہ ،خیبر پختونخوا اور پنجاب ان کے بم دھماکوں اور خود حملوںکا نشانہ بنتے رہتے ہیں، اسی دہشت گردی کے باعث کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئٹہ میں خونریزی کا مقصد بھی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے،وہاں حکومتی رٹ قائم کرنے کی سخت ضرورت ہے جس کے لیے سندھ اور بلوچستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ملزموں کی نقل وحمل کو روکنے کے لیے اشتراک عمل ناگزیر ہے۔”

http://www.express.pk/story/107116/?print

قائم مقام آئی جی پنجاب خان بیگ نے کہا ہے کہ انتخابات میں دہشتگردی کے خطرات موجود ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خان بیگ نے کہا کہ الیکشن مہم کے دوران سیکورٹی کا جامع نظام اپنائیں گے جبکہ پولنگ کے روز نیا سیکورٹی پلان بنایا جائے گا۔

قارئین یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کے انتخابی اجتماعات پر پہلے ہی حملے کرنے کی دہمکی دے رکھی ہے۔ تین صوبائی الیکشن کمشنرز نے پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی صورت حال سے متعلق اپنی رپورٹ چیف الیکشن کمشنر کو پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے الیکشن کمشنر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پنجاب میں الیکشن کے دوران غیر جانبدار انتظامیہ کی ضرورت ہے تاہم پولنگ ڈے پر امن و امان کی مجموعی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ نہیں۔ رپورٹ میں چار ہزار پولنگ اسٹیشنز کو حساس بھی قرار دیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے الیکشن کمشنر نے اپنی رپورٹ میں صوبے میں امن و ا مان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پولنگ ڈے پر دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے ۔ جبکہ بلوچستان کی مجموعی صورت حال کے پیش نظر صوبائی الیکشن کمشنر نے اپنی پیش کر دہ رپورٹ میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ان خطرات سے نمٹنے کے لئے پولنگ ڈے پر خصوصی اقدامات کرنا ہوں گے۔بلوچستان کے الیکشن کمشنر نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیار کیا کہ امن وامان کے ساتھ ساتھ بیلٹ پیپر کی نقل وحمل بہت بڑا مسئلہ ہے، حساس علاقوں میں بیلٹ پیپر پہنچانے کے لئے محفوظ حکمت عملی اپنائی جائے، بیلٹ پیپر کی نقل وحرکت کے لئے فضائی سروس بہتر آپشن ہوگی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ قلات ، مکران ڈویژن، کوہلو اور ڈیرہ بگٹی اضلاع میں امن وامان بہتر نہ ہوا تو الیکشن کا انعقاد خطرے میں پڑسکتا ہے۔خیبرپختونخوا کے الیکشن کمشنر کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں حکومتی اقدامات کے باوجود امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت ہے،الیکشن کے دن خیبرپختونخوا میں عسکریت پسندوں کے حملے ہونے کا خدشہ ہے، صرف پولنگ کے دن ہی نہیں بلکہ پورے انتخابی عمل میں سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، فاٹا میں بھی امن وامان کی صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔

پاکستان میں مئی میں عام انتخابات ہونا طے ہیں۔ اس دوران سیاستدانوں کو خوف ہے کہ دہشت گرد انتخابی مہم کے دوران حملے کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بار بار سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی مثال سامنے آتی ہے، جنہیں2007ء میں راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران پاکستان میں شیعہ اقلیت کے خلاف تشدد اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ان پانچ سالوں کے دوران مذہبی عدم برداشت کا رجحان اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ طالبان کی عسکریت پسندی اور بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کے دائرہ کار میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے ملک کی تین بڑی جماعتوں کو براہ راست دھمکیاں دیں ہیں۔ ان میں پاکستان پیپلز پارٹی، شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخوا کی سیکولرعوامی نیشنل پارٹی اور کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ شامل ہیں۔ طالبان واضح کرچکے ہیں کہ جمہوریت غیر شرعی ہے اور ان کا نشانہ رہنے والی کئی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، اس لیے بہرحال تشدد کا تو ویسے بھی امکان موجود ہے۔

سیاستدانوں کے لیے بلٹ پروف گاڑی لازمی ہوتی جا رہی ہے۔ حملوں سے بچنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے دفاتر کوبڑی بڑی دیواروں اور رکاوٹوں کے ذریعے محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح جلسوں میں بلٹ پروف اسٹیج تعمیر کرنا بھی ایک روایت بنتا جا رہا ہے۔ لہذا انتخابی مہم پر سلامتی کی صورتحال کے اثر انداز ہونے کا خطرہ ہرحال  موجود ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنی انتخابی مہم ان عوامل و خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دینی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندہ میں کراچی، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غیر معمولی حالات کی وجہ سے  عام انتخابات کا انعقاد  خطرہ میں پڑ سکتا ہےاور ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ طالبان کا اصل مقصد ملک کو غیر مستحکم کرتے ہوئے افراتفری پیدا کرنا ہے تاکہ عوام کاھکومت اور  ریاستی مشینری پراعتماد ختم کیا جا سکے۔

دفاعی تجزیہ نگار ریٹائر لیفٹینٹ جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ سیاسی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر طالبان ایک خاص قسم کی بد نظمی پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند انتخابات میں خلل ڈالنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ان کی طاقت میں اضافہ اسی صورت ممکن ہے جب ریاست کمزور ہو گی.

جمہوری روایات اور جمہوریت کے پختہ بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے اآزادانہ انتخابات کا ہونا نہاہت ضروری ہے۔آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا  انعقاد  ملکی سالمیت اور جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے ضروری ہے اس  وقت  عالمی برادری کی نظریں بھی پاکستان کے جمہوری سفر کے آغاز اور اس کی درست سمت پکڑنے پر لگی ہوئی ہیں۔ آزادانہ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کسی بھی تبدیلی کی وجہ بن سکتا ہے۔”یہ زمینی حقیقت ہے کہ شفاف انتخابات جمہوریت کی روح ہیں کیونکہ ووٹرز کے رویے اور دھاندلی سے پاک انتخابی عمل اور پرامن پولنگ کے نتیجے میں ہی آیندہ پارلیمنٹ کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے اور انتہا پسندی سے ماورا معتدل مزاج ،روشن فکر ،اعلیٰ تعلیم یافتہ،اور نئی سوچ و قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار امیدوار جیتنے کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی کرسکیں گے۔”(ڈیلی ایکسپرس)

ملک و قوم کے لئے  یہ عام انتخابات ملک میں غیر معمولی حالات  و اقتصادی عوامل اور طالبان،لشکر جھنگوی،جندواللہ،القاعدہ  اور دوسرے گروپوں کی مسلسل  دہشت گردانہ  کاروائیوں کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ طالبان اور دوسرے دہشت گرد گروپوں سے انتخابات کے موقع پر کسی خیر اور اچھے طرز عمل کی امید و توقع  رکھنا فضول ہے۔عام انتخابات  میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ بلا کسی خطرے و خوف کے آزادانہ طور پر اپنابالغ حق رائے دہی کا استعمال  پولنگ سٹیشنوں پر بڑی تعداد میں جا کر کریں اور اپنی پسند کے نمائندے ، آزادانہ طور پر چنیں اور جمہوریت کے دشمنوں کو شکست  فاش دیں کیونکہ یہ ان کا شہری و آئینی حق ہے ۔ مزید براں حکومت اور الیکشن کمیشن  نےپولنگ سٹیشنوں پر   مناسب حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں اور حساس پولنگ سٹیشنوں پر فوج کی موجودگی کا بھی کماحقہ انتظام ہو گا۔ مگر عام انتخابات  کے اعلان کے بعد ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا  آزادانہ موقع میسر نہ آئے یا پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کی حاضری دہشت گردی کے ممکنہ خوف و خطرات کی وجہ سے توقع سے کم ہو کیونکہ لوگوں کو ہر حال میں اپنی سلامتی انتخابات سے زیادہ عزیز ہے۔

Advertisements

“انتخابات اور دہشت گردی کے خطرات” پر 2 تبصرے

تبصرے بند ہیں۔