بم دہماکہ میں چھ معصوم بچے ہلاک


index

بم دہماکہ میں چھ معصوم بچے ہلاک

پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ دستی بم سے کیا گیا ہے.پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مکان کے سامنے دھماکے میں چھ بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ دھماکہ اتوار کی سہ پہر ہنگو شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور مضافاتی گاؤں بابر میلہ میں ہوا۔

ہنگو پولیس کے اہلکار شفیع محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ذرگل نامی ایک شخص کے مکان کے سامنے کھلے میدان میں بچے کھیل رہے تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ دھماکے میں چھ بچے ہلاک ہوگئے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ دستی بم سے کیا گیا ہے اور پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک پین بھی ملا ہے۔

ہلاک ہونے والے بچوں کی لاشیں ضلعی ہپستال ہنگو منتقل کردی گئی ہیں۔ مرنے والوں میں تین بچیاں اور تین بچے شامل ہیں جن کی عمریں دس سال سے لے پانچ سال تک بتائی جاتی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے بچے اورکزئی ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے ایک شخص ذر گل کے بیٹے، بیٹیاں اور بھتیجیاں بتائی جاتی ہیں۔

خیال رہے کہ بابر میلہ گاؤں ہنگو کوہاٹ کے مرکزی شاہراہ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس گاؤں سے چند سو میٹر دور اورکزئی ایجنسی کا ہیڈ کوارٹر بھی واقع ہے جہاں ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ اور دیگر افسران کے دفاتر واقع ہیں۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140126_hangu_grenade_blast_children_dead_rh.shtml

http://wwwsananews.net/urdu/archives/167576

Hangu

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں دہشت گردوں کا پاکستانیبچوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائیہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے . پاکستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے .پاکستانی عوام  طالبانی دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر  کبھی معاف نہ کریں گے. دنیا کا کوئی مذہب  بشمول اسلام حالت جنگ میں  بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا،  ہنگو بم دھماکے میں معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ کہاں کی بہادری ہے؟

blast-kills-children-in-hangu-300x200

         طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی ،درندے  ، انتہا پسند،تشدد پسند ، دہشت گرد  اور تنگ نظر ، نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے زندگی  کے لوگوں کے اغوا اور خون میں رنگے ہوئے ہیں۔    بقول طالبان  کے وہ پاکستان میں نام نہاد اسلامی مملکت کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کر رے ہیں۔   اسلامی مملکت کے  خلاف مسلح جدوجہد اسلامی شریعت کے تقاضوں  کے  سراسر منافی ہے۔طالبان معصوم مسلمانوں  اور پاکستانیوں کا  دائیں  و بائیں  ، بے دریغ قتل عام  ،خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعہ کر رہے ہیں۔ 

article-2546528-1AFEA95D00000578-277_634x348

          کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘( المائدة، ۳۲-۵ 

      

      اسلام نے بچوں کو بھی وہی مقام دیا ہے جو بنی نوع انسانیت کے دیگر طبقات کو حاصل ہے۔ رسول اکرم سلم  نے بچوں کے ساتھ جو شفقت اور محبت پر مبنی سلوک اختیار فرمایا وہ معاشرے میں بچوں کے مقام و مرتبہ کا عکاس بھی ہے اور ہمارے لیے آئندہ کے لئے  راہِ عمل اور سرمایہ افتخار بھی۔ اسلام میں بچوں کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ اسلام نے بچوں کے حقوق کا آغاز ان کی پیدائش سے بھی پہلے کیا ہے۔ ان حقوق میں زندگی، وراثت، وصیت، وقف اور نفقہ کے حقوق شامل ہیں۔ دنیا کے کسی نظامِ قانون میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

سرزمین عرب پر بچوں کے قتل و خون کی جو ظالمانہ رسم رائج تھی’ اسے آپۖ نے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ رسول اکرم سلم نے اپنی شفقت’ محبت اور انسیت جو آپۖ کو بچوں سے تھی اس کا اظہار کچھ اس طرح فرمایا: ”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔”

رسول مقبول نے بچوں کو ”ہمارا” کہہ کر جس محبت’ شفقت اور انسیت کا اعلان کیا وہ معصوم بچوں کے مقام و مرتبہ اور ہمیت و افادیت کے تعین کے لیے مشعل راہ ہے۔ حضورۖ کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔ بچے جہاں بھی ملتے آپۖ انہیں محبت سے گود میں اٹھا لیتے’ چومتے’ پیار کرتے اور ان سے کھیلتے۔ نیا پھل جب آپۖ کے پاس آتا تو سب سے کم عمر بچے کو جو اس وقت موجود ہوتا عطا فرماتے۔ راستے میں جو بچے مل جاتے تو خود ان کو سلام کرتے اور ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے۔

رسول اکرم سلم بچوں کے لئے دعا کیا کرتے تھے کہ االلہ میں ان سے محبت کرتا ہوںتو بھی ان سے محبت کر(بخاری)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم سے بڑھ کر  بچوں کےساتھ شفقت کرنے والا کوئی اور نہیں دیکھا۔

اِسلام سے پہلے لوگ اپنی اولاد کو پیدا ہوتے ہی مار ڈالتے تھے۔ اِسلام نے اِس قبیح رسم کا خاتمہ کرنے کی بنیاد ڈالی اور ایسا کرنے والوں کو عبرت ناک انجام کی وعید سنائی :

 

قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَO

’’واقعی ایسے لوگ برباد ہو گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علم (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بے شک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکےo‘‘ 

 

الانعام، 6 : 140


بھوک اور اَفلاس کے خدشہ سے اولاد کے قتل کی ممانعت کرتے ہوئے قرآن حکیم فرماتا ہے :

 

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ.

’’اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو، ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)۔‘‘

 

القرآن، الانعام، 6 : 151

 

وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُم إنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيرًاO

’’اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہےo‘‘

 

بني اسرائيل، 17 : 31


اِسلام سے قبل بیٹیوں کی پیدائش نہایت برا اور قابل توہین سمجھا جاتا تھا اور انہیں زندہ درگور دفن کر دیا جاتا تھا۔ اِسلام نے اس خیالِ باطل کا ردّ کیا اور بیٹیوں کی پیدائش کو باعث رحمت قرار دیا۔ قرآن حکیم ایک مقام پر روزِ محشر کی سختیاں اور مصائب کے بیان کے باب میں فرماتا ہے :

 

وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْO بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْO

’’اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گاo کہ وہ کس گناہ کے باعث قتل کی گئی تھیo‘‘

 

التکوير، 81 : 8،

                                                                                                                                                                                       کیا یہ ہے طالبان دہشت گرد وں کا اسلامی نظام؟

 

کیوں طالبان پاکستان کی نئی نسل کے درپے ہیں؟

 

آخر طالبان چاہتے کیا ہیں؟

 

کیا عوام پاکستان میں طالبان کی حکومت چاہتے ہیں  ؟

 

                   اسلام جبر کا نہیں امن محبت اور سلامتی کا مذہب ہے اور      دہشت گردی مسلمانوں کا کبھی بھی شیوہ نہیں رہا۔ جو لوگ حالیہ دور میں اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر دہشت گردی کر رہے ہیں وہ تو بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے ہیں اور  اسلام دشمن ہیں ،ہمیں ان کی چالوں میں ہرگز نہ آنا چاہیے۔

یہ آگ  کل کو ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے جس طرح ہنگو کے 6 بچوں کا ناحق  اور بے رحمانہ قتل کیا گیا ہے اسی طرح کل کو یہ  ہمارے بچوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اس لئے قوم کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اندھی جنگ سے ملک و ملت کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے اور طالبان کے خلاف جہاد کرے۔

”وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹو ں پر شفقت نہ کرے۔”

 

Advertisements