کوہاٹ دہماکہ میں 12 افراد ہلاک


kohat-blast

کوہاٹ دہماکہ میں 12 افراد ہلاک

صوبہ خیبرپختونخواہ  کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب ہونے والے دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت 17 زخمی ہوگئے ہیں۔دھماکہ کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب واقع پشاور چوک پر ہوا۔جس جگہ دھماکہ ہوا ہے وہ کوہاٹ کا مصروف ترین مقام ہے اور یہاں سے زیادہ تر گاڑیاں ہنگو جاتی ہیں۔دھماکے کے وقت بھی مختلف علاقوں کو جانے والی گاڑیاں یہاں سے گزر رہی تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ ٹائم بم سے کیا گیا ۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی کا کہنا ہے کہ دھماکا ہنگو روڈ پر پشاور چوک پر مسافر وین کے قریب ہوا۔انہوں نے خود کش حملے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا.انہوں نے ابتدائی معلومات کی بنیاد پر بتایا کہ پانچ کلو گرام وزنی بارودی مواد ایک لکڑی کے کریٹ میں رکھا گیا تھا۔جیسے ہی مسافر ویگن پشاور چوک پہنچی زور دار دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں گاڑی کے مسافر اور قریبی کھڑے رکشہ کا ڈرائیور زخمی ہو گیا۔

Bomb-kills-12-Kohat_2-23-2014_138905_l

وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلی خیبر پختون خوا پرویز خٹک اور پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کوہاٹ بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کوہاٹ اور اس کے متصل ضلع ہنگو کو شیعہ سنی کشیدگی کے سلسلے میں حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

a7625400466a489a80228942f8a6410f-07fa1020799043f2b0480fe490c48eff-3f9cb9169ddfa7074c0f6a706700cdd6

ایم ڈبلیو ایم نےکوہاٹ ہنگو روڈ دھماکہ سمیت ملک بھر میں جاری دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔کوہاٹ ہنگو روڈ بس پر دہشتگردی ۱۴بے گناہ افراد کے قتل پر ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے کل ملک گیر یوم سوگ منایا جائے گا ۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا دائرہ کار وسیع کیا جائے تاکہ ان کی کاروائیوں سے بے گناہ عوام کو بچایا جاسکے اور ایسی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے خلاف کاروائی کی جائے جو ان دہشتگردوں کی حمایت کرتی ہیں۔ چند پاکستان مخالف جماعتیں دہشتگردوں کو مظلوم بنانے کی سازش کر رہی ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین کے سر براہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کوہاٹ ہنگو روڈ بس پر ہونے والی دہشتگردی کے خلاف مرکزی دفتر وحدت ہاؤس سے جاری اپنے مذمتی بیان میں کیا۔انھوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے اب حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ملک گیر فوجی آُپریشن کرے تاکہ ملک کو ان دہشتگر دوں سے نجات دلائی جاسکے ان کا کہنا تھا کے دہشتگردوں کے خلاف افواج پاکستان کی کاروائیاں قابل تحسین ہیں بے گناہ عوام کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے والے مٹھی بھر طالبان کو حکومت کی جانب سے چھوٹ دی گئی تھی اسلام کی شکل مسخ کرنے والے طالبان کی شریعت نافذ کرنے کے خواب در حقیقت اس ملک میں موجود اُن سیاسی و مذہبی جماعتوں کا خواب ہے جواس ملک میں عدم استحکام دیکھنا چاہیتی ہیں۔

http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=138914

5309bcda31166

کوہاٹ دھماکے کی ذمہ داری میجر مست گل گروپ نے قبول کرلی۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو کوہاٹ شہر کے گنجان آباد علاقے سنگو چوک کے قریب مسافروں سے بھری وین میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک خاتون سمیت 14افراد جاں بحق جبکہ 16شدید زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری میجر مست گل گروپ نے قبول کرلی ہے ۔

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=175461

اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے ، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح  برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. خودکش حملوں کے ضمن میں ۔ پاکستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث کےجید علماء خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں.بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .

اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل  ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز  نہ ہے۔ اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان دنیا بھر اور پاکستان میں دہشت گردی کے میزبان ہیں۔طالبان بندوق کے زور پر اپنے سیاسی نظریات پاکستانی عوام پر ٹھونسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کر کے طالبان یہ دعویٰ کیسے  کر سکتے ہیں کہ وہ دین اسلام پھیلا رہے ہیں۔ طالبان تو مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کو بھی اسلام سے دور بھگا رہے ہیں۔ اپنے  غیر اسلامی، غیر قانونی اور غیر انسانی کاموں کو چھپانے کیلئے طالنان نے اسلام کا لبادہ اوڑ رکھا ہے اور دین اسلام  کا سہارا لیا ہوا ہے، ورنہ اسلام نام کی کوئی چیز طالبان میں موجود نہ ہے۔

طالبان نے مساجد،عبادتگاہوں،نماز عید کے اجتماعات،قبائلی جرگوں،زيارت گاہوں حتٰی پبلک مقامات پر دھماکے اور حملے کئے ہیں۔یہ دھماکوں کے ذریعے ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں،لیکن اس طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے حکومتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔اسلام بندوق کی نوک اور اور دھماکوں سے نافذ نہیں ہوگا ،اس کے لئے آئینی راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ دہشت گرد یہ بات خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔

مزارات، مساجد، مدارس، مارکیٹوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، چرچوں، سکیورٹی فورسز، پولیو ورکرز اور میڈیا ہاسز کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا کیا شرعی جواز ہے؟

             اسلام جبر کا نہیں امنمحبت اور سلامتی کا مذہب ہے اوردہشت گردی مسلمانوں کا کبھیبھی شیوہ نہیں رہا ہے۔ اسلام قتل وغارت  گری سے منع کرتاہے، جوایمان والے کوجان بوجھ کرقتل کرتاہے اس کیلئے سنگین سزا رکھی گئی ہے اور  دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کے بھی دشمن ہیں۔ دین اسلام امن ‘محبت ‘ اخوت ‘ رواداری کا درس دیتا ہے ۔جو لوگ حالیہ دور میں اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر دہشت گردی کررہے ہیں وہ تو بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے ہیں اور اسلام دشمن ہیں ،ہمیں ان کی چالوں میں نہ آنا چاہیے۔

            دہشت گردی اور انتہاپسندی کا ناسور ختم کئے بغیر  ہمارا ملک ترقی  کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ہے، آج ہم خود اپنے دشمن بنے ہوئے ہیں اوریہ نہیں سوچتے کہ مرنے اور مارنے والا دونوں مسلمان ہیں۔

Advertisements