طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین مارا گیا


طالبان کمانڈر عصمت اللہ شاہین مارا گیا

                                                                 626811-image-1383508753-633-640x480

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ  پیر کو  طالبان کا ایک اہم کمانڈر عصمت اللہ شاہین اپنے تین دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا ہے۔ طالبان کے اہم کمانڈر کی ہلاکت نامعلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں بیان کی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان جہاں ان دنوں سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر رکھا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے تقریبا ہر روز درجنوں شدت پسند مارے جا رہے ہیں۔ پیر کے روز طالبان کو اس وقت ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب ایک اہم کمانڈر کو نامعلوم مسلح افراد نے ہلاک کر دیا۔

یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں پیش آیا ہے۔ عصمت اللہ شاہین اپنی گاڑی پر تحصیل غلام خان میں درگاہ منڈی کے علاقے گذر رہا تھا کہ گولیوں کا نشاہ بنا دیا گیا۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر چار شدت پسند لقمہ اجل بنے۔ تاہم ابھی بقیہ تین کی شناخت ہونا باقی ہے۔

pakistan-taliban-asmatullah-shaheen

حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں افراتفری کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ مقامی لوگوں نے میتیں ہسپتال منتقل کر دی ہیں۔ کمانڈر عصمت اللہ شاہین حکیم اللہ محسود کے بعد تحریک طالبان کے قائم مقام سربراہ رہ چکا ہے۔

عصمت اللہ شاہین کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے انتہائی مطلوب افراد میں شامل کیا ہوا تھا، اس کمانڈر کے سر کی قیمت 2009 میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

واضح رہے وزیرستان کو مبینہ طور پر طالبان اور القاعدہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پچھلے کئی دنوں سے پاکستان کی افواج ان کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہیں۔

120130055732-taliban-fighters-file-story-top-580x3601

ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے پیر کے روز اپنے سینیئر کمانڈر عصمت اللہ شاہین بیٹانی کی ہلاکت کا الزام انٹیلیجنس ایجنسیوں پرعائد کیا۔

انہوں نے شاہین بیٹانی کو اپنا ایک جہادی ساتھی قرار دیا، جو انٹیلیجنس ایجنسیوں کو مطلوب افراد میں سرِ فہرست تھے۔

شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے دیگر کمانڈروں اور مشتبہ شدت پسندوں کی ہلاکت کے واقعات بھی ایجنسیوں کا کام ہے۔ یہ ایک متبادل ڈرون ہے اور اب ہم زمینی ڈرون کا شکار ہورہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے جاری ہونے والےبیان میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ عصمت اللہ شاہین کی ہلاکت سے تنظیم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔

images

طالبان کے بیان میں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ” امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے ڈرون حملوں کی جگہ ایک متبادل حکمت عملی اختیار کر لی ہےْ۔ انھوں نے کہا کہ اس خطرناک پروگرام پر ان کی نظر ہے۔

یاد رہے کہ تنظیم کے سرکردہ رکن عصمت اللہ شاہین دو روز قبل شمالی وزیرستان میں فائرنگ کے ایک واقع میں ہلاک ہو گئے تھے۔

طالبان نے کمانڈر عصمت اللہ شاہین کی موت کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے نہ ہی بااختیار،  حکومت ساتھیوں کو قتل نہ کرنے کی ضمانت دے۔طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ عصمت اللہ شاہین ایک فعال کمانڈر تھے، اُن کے مارے جانے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، عصمت اللہ کی ہلاکت سے جو خلاء پیدا ہوا وہ بمشکل پورا ہوگا۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھاکہ اگر حکومت ساتھیوں کو قتل نہ کرنے کی ضمانت دے تو طالبان مذاکرات کیلئے اب بھی سنجیدہ ہیں لیکن کسی کی بدمعاشی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔

عصمت اللہ شاہین کو حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد عبوری عرصے کے لیے امیر مقرر کیا گیا تھا۔  اس سے قبل اس پر چار حملے ہو چکے تھے یہ پانچواں حملہ تھا جو کامیاب رہا۔ طالبان لیڈر کی ہلاکت میں کون ملوث ہے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پہلا شبہ اس کے مخالف طالبان رہنما خان سید عرف سجنا کی طرف جاتا ہے دونوں کی عداوت ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ نومبر 2013ء میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد سجنا کو طالبان کا امیر مقرر کرنے کی افواہیں سامنے آئیں تو اگلے ہی روز عصمت اللہ نے مرکزی شوریٰ کا سربراہ ہونے کی بنیاد پر عبوری قیادت سنبھال لی۔ چند روز بعد اس نے ملا فضل اللہ کو طالبان کی قیادت سونپ دی جس کی شوری نے توثیق کر دی۔ شاہین کا تعلق بیٹانی قبیلے کے کھچی  khichi شاخ سے تھا اور وہ قیدیوں کے بارہ میں اپنے سخت گیر رویہ کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔

ذرائع کے مطابق سینئر ہونے کے باوجود عصمت اللہ کی طالبان کمانڈروں سے ان بن رہتی تھی۔ عصمت اﷲ شاہین کو ایک ماہ قبل طالبان شوریٰ سے بیدخل کر کے قاری شکیل کو شوریٰ میں شامل کیا گیا تھا۔ بعض ذرائع کا دعوی ہے کہ پاکستانی سکیورٹی ایجنسیوں نے عصمت اللہ کو نشانہ بنایا ہو گا کیونکہ یہ شدت پسند فوج پر حملوں میں ملوث رہا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس ڈیتھ سکواڈ کے حملے میں مارا گیا جو طالبان لیڈروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنا ہے یہ پاکستان میں امریکی انٹیلی جنس کی ہدایات پر کام کرتا ہے۔ نصیرالدین حقانی کو بھی اسی نیٹ ورک نے مارا جبکہ ڈرون حملوں میں اہداف کا تعین بھی یہی کرتا ہے۔

طالبان میں شمولیت سے قبل عصمت اللہ حر کت المجاہدین میں شامل تھا وہ ایک عشرے تک قبائلی علاقوں میں طالبان کمانڈر رہا۔ وہ جنوبی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سرگرم بیس مطلوب کمانڈروں میں شامل تھا۔ 2009ء میں حکومت پاکستان نے اس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی اسی سال جب فوج نے جنوبی وزیرستان میں کاروائی شروع کی تو بہت سے طالبان کمانڈر تتر بتر ہو گئے جبکہ عصمت اللہ نے کراچی کا رخ کیا۔ اس نے 2009ء میں کراچی میں دس محرم کے جلوس پر خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں 43 افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہو ئے تھے۔

2011ء میں وہ قبائلی علاقوں میں واپس آیا اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ٹانک میں ایک چوکی پر حملہ کر کے ایک اہلکار کو شہید اور ایف سی کے 15 اہلکاروں کو اغوا کر لیا، بعد میں 11 کے گلے کاٹ دئیے گئے باقی جان بچا کر بھاگ نکلے تھے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے قائم مقام سربراہ کی حیثیت سے عصمت اللہ شاہین نے ملا فضل اللہ کو اپنا امیر بنوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس عہدے کے لیے سید خان سجنا کے امیدوار خالد محسود اکا کی مخالفت کی تھی۔ سجنا، حکیم اللہ محسود کا نائب تھا مگر حکومت پاکستان سے مذاکرات کرنے کے معاملے پر اختلاف کے باعث حکیم اللہ نے سجنا کو ہٹا دیا تھا، حکیم اللہ محسود حکومت سے بات چیت کا مخالف تھا جب کہ سید خان سجنا کا اصرار تھا کہ ٹی ٹی پی کو پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ بند کر دینی چاہیے جو محسود قبائل کے بہترین مفاد میں ہے۔ ٹی ٹی پی کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ اور ان کی نئی ٹیم کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے بعد سجنا اور اس کے ساتھی ٹی ٹی پی کو تقریباً چھوڑ چکے ہیں۔ سجنا کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے16 محسود قبائل اس کو جائز کمانڈر تسلیم کرتے ہیں اور اس کے ہر فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=175441

پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے عسکریت پسند رہنما  عصمت اللہ شاہین ہلاک ہو گئے ہیں۔ خس کم جہاں پاک۔ شاہین کی ہلاکت کے بعداس ہزاروں پاکستانی بے گناہوں کے قاتل اور دشمن کا معاملہ اب اللہ کے پاس ہے۔ مگر ایک بات واضع ہے کہ عصمت اللہ شاہین کی ہلاکت ، پہلے سے  ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تحریک طالبان پاکستان  کے لئے یہ ایک بہت بڑا دہچکہ ہے۔ عصمت اللہ شاہین 50000کے قریب معصوم و بے گناہوں پاکستانی مردوں،عورتوں اور بچوں کے قاتلوں  کا ساتھی  تھا اور  ان طالبانی دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستانی معیشت کو بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑے۔

               تحریک طالبان ایک  مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے ۔طالبان کے اسلام اوپاکستانی قوم کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ طالبان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور طالبان کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، آئیندہ کے لئےطالبان   ،مسلمانان پاکستان اور اسلام کو اپنی عنایات سے معاف ہی رکھے تو یہ پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ طالبان نے  قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

                 طالبان نے نہ تو مساجد کے تقدس  کا خیال کیا اور  نہ ہی اولیا اللہ اور بزرگوں کے مزارات کی حرمت کا۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں کا خوں پانی کی طرح بہایا۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور طالبان کے ظلم و جبر ،بربریت و سفاکی تمام حدیں پھلانگ گئی ،جس سے رائے عامہ ان ظالموں اور بھیڑیوں کے خلاف ہو گئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق جس مشکل صورتحال کا طالبان کو اس وقت سامنا ہے وہ بظاہر قیادت کا بحران ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو شاید پہلے اس قسم کے مشکل حالات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا جو  اب اسے درپیش ہیں۔ ٹکروں میں بٹ جانے کی وجہ سے طالبان کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اس تنظیم  کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں مستقبل قریب میں کمی واقع ہو نے کا امکان ہے۔

چونکہ  تمام طالبان ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں  اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی  معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غیر مسلموں کو اسلام سے دور بھگا رہے ہیں۔

 

Advertisements