اسلام آباد کچہری فائرنگ و خودکش حملہ


اسلام آباد کچہری فائرنگ و خودکش  حملہ

PAKISTAN-UNREST-COURT

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز F-8 میں واقع کچہری میں خودکش حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان سمیت 11؍ افراد شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں میں پانچ وکلاء، ایک پولیس اہلکار اور علامہ اقبال یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر بھی شامل ہیں.

صبح 8:35 پر چادر اوڑھے 3 دہشت گرد احاطے میں داخل ہوئےاور اندھا دھند فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے ، دھماکوں اور فائرنگ سے کچہری میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ حملہ آوروں نے رفاقت اعوان کو ان کے چیمبر میں نشانہ بنایا، پولیس کی جوابی کارروائی پر 2 حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا جبکہ ایک فرار ہوگیا۔ دھماکوں سے 3؍ ایڈیشنل سیشن ججز کے دفاتر تباہ ہوگئے ، آئی جی اسلام آباد کے مطابق دہشتگردوں کی عمریں 14 اور 22 سال کے درمیان تھیں۔ دہشت گردی کے اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت خان اعوان، وکلاء اکمل عمر، تنویر حیدر، فضہ طارق، رائو رشید، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر میاں محمد اسلم، کانسٹیبل محمد ریاض کے علاوہ تنویر حیدر، طالب، شبیر، حاجی ثناء اللہ، اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔

140303065552_court4

صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف ، نیئر بخاری، خورشید شاہ، آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری، عمران خان، چوہدری شجاعت اور مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر سیاسی رہنمائوں اوروزراء نے اسلام آباد کچہری میں ہونے والی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتوں جانوں کے ضیا ع پر اظہار افسوس کیا۔

140303105147_476438859

غیر معروف پاکستانی طالبان کے سابقہ گروپ احرار الہند کے ترجمان اسد منظور نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

taliban

گروپ نے حال ہی میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پاداش میں ٹی ٹی پی سے علیحدگیکا اعلان کیا تھا۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے آج ہونے والے اس واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔

طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم جنگ بندی کا اعلان کرچکے ہیں اور اس کارروائی سے ٹی ٹی پی کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر شریعی نظام نافذ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے عدالت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا گروپ پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔

628x471

سانحہ اسلام آباد کچہری میں جاں بحق ہونے والوں میں فضا ملک بھی شامل ہیں۔ فضا شہید کی والدہ نے روتے ہوئے بتایا کہ آج خوشی خوشی گئی تھی کہ بہت ضروری کام ہے، گاڑی خود ڈرائیو کی، اور بتایا کہ parking بھی مل گئی ہے۔ وہ آنگن جو کبھی نوجوان، خوبصورت اور ہمہ وقت چہکنے والی فضا کی باتوں کی خوشبو سے مہکا کرتا تھا، آج تہذیب اور انسانیت کے قاتلوں کے ہاتھوں صدا کیلئے ویران ہو چکا۔ فضا کے سفید و دیدہ زیب کپڑے اس کے معصوم و بے گناہ خون میں بھیگ کر سرخ ہو جائیں گے۔ فضا کی سوگوار والدہ کا مزید کہنا تھا کہ میری بیٹی نے نارتھ امبریا یونیورسٹی سے ڈگری لی، مجھے افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک دشمن عناصرمعصوم لوگوں کی جان لے رہے ہیں، آج انہوں نے مجھ سیمیری بیٹی کی جان لے لی۔ ایڈووکیٹ فضا کی فائلوں میں اسی کے خون سے وحشی درندوں کا تذکرہ رقم ہوچکا۔ ماں، بہن، بیٹی پر کون گولی چلاتا ہے، یہ کون چلاتا ہے گولی کس چیز کا انتقام لے رہے ہیں۔ 23سال کی تھی ابھی تو اس کی شادی بھی نہ ہوئی تھی میں نے اس کی خوشیاں دیکھنی تھیں، اللہ ہمیں بھی صبر دے اوراس کے بھائیوں کو بھی صبر دے۔ نارتھ امبریایونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرلی، پریکٹس بھی شروع کردی۔ کچہری سے شروع ہونے والا فضا کا سفر دہشت گردوں نے سفر آخرت بنادیا۔

53154277bd978

1ce152ed-9e0f-4972-9777-6e7254e35cec-444x333

images

برطانوی اخبار”فنانشل ٹائمز“ کے مطابق اسلام آباد میں غیر معمولی دہشت گردی کے واقعے نے طالبان کی جنگ بندی کے اعلان کو شک وشبہات میں ڈال دیا ہے۔پاکستانی انٹیلی جنس عہدیدار نے فوری طور پر طالبان کی تردیدپر سوال اٹھادیا ، نواز شریف شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی مہم میں تیزی لانے کے لئے دباوٴ میں آجائیں گے،مغربی سفارت کار کے مطابق پاکستان حالت جنگ میں ہے لیکن حکومت لوگوں کو اس کے لئے تیار نہیں کر رہی۔اخبار لکھتا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں عدالتی کمپلیکس میں فائرنگ اور خودکش دھماکوں کے نتیجے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت احمد اعوان سمیت گیارہ افراد کی ہلاکت کے بعد طالبان کی طرف سے48گھنٹے قبل جنگ بندی کے اعلان نے شک و شبہات پیدا کردیئے ہیں۔طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔طالبان کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم پہلے ہی ایک ماہ کے لئے جنگ بندی کا اعلان کرچکے اور ہم اپنے وعدے پر کھڑے ہیں لیکن پاکستان کی انٹیلی جنس عہدیدار نے فوری طور پر طالبان کے اس انکار پر سوال اٹھادیا کہ طالبان کے بیان کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ طالبان کے اندر بہت سے گروپ ہیں ممکن ہے تحریک طالبان پاکستان کی قیادت امن چاہتی ہو،مگر طالبان میں موجودایک یا زائد دھڑے جنگ جاری رکھنا چاہتے ہوں۔پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ طالبان کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد نواز شریف طالبان کے ساتھ معطل بات چیت کی بحالی پر غور کر رہے تھے،اسلام آباد واقعہ کے بعد تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ نواز شریف شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے مضبوط گڑھ کے خلاف کسی بھی فوجی مہم میں تیزی لانے کے لئے دباوٴ میں آجائیں گے۔ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ نواز شریف کی ناکامی کہ وہ ان کے خلاف جنگ کرنے کاواضح موقف نہیں دکھاسکے ۔ ان کے خلاف جنگ ہو نے کے متعلق حکومت نے بہت کم توجہ دی۔ پاکستان حالت جنگ میں ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت لوگوں کو اس کے لئے تیار نہیں کر رہی۔سفارت کار کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان 60 سے زائد اسلامی عسکریت پسند تنظیموں پر مشتمل ہے۔ان میں کچھ گروپوں کو ایسے افراد قیادت کررہے ہیں جو دوسروں کے رہنماوٴں سے بات کرنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے اس پر شک کا اظہارکیا کہ تحریک طالبان پاکستان کو ئی واحد نکتہ نظر پیش نہیں کر سکتی ہو۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرذوالفقار نقوی نے اخبار کو بتایا کہ یہ حملے اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ لوگ خون چاہتے ہیں اورپاکستان کو ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کا یہ حملہ 40منٹ جاری رہا اور اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے لوگ بے بسی کے عالم میں پولیس کو دیکھتے رہے۔

http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=139869

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے مشاورتی اجلاس میں ملک کی سلامتی کی صورتحال ‘ طالبان قیادت کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان اور اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ پر غور کیاگیا اجلاس میں داخلی سلامتی کی قومی پالیسی پر بھی غور کیا گیا اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ‘ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ‘ چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکورٹی حکام نے اسلام آباد واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ وزیراعظم نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ آنکھیں بند کرکے طالبان کی جنگ بندی پر یقین نہیں کیا جائے گا بلکہ آنے والے دنوں میں صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔ چند ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا اعلان ایک دھوکا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ دوبارہ منظم ہونے کیلئے وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اجلاس کے دوران ماہرین کی رائے پر بھی بحث کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں طالبان کی جانب سے سیزفائر کے اعلان کے باوجود دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں جوابی کارروائی کی حکمت عملی طے کی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اسلام آباد کچہری واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد حکومت کی امن کی کوششوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں دہشت گردوں کے خلاف حکومتی متزلزل نہیں ہو سکتا۔اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام نے ملک کی اندرونی اور سرحدی امورسے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو تمام تر صورتحال اور طالبان کے اندرونی ذرائع سے ملنے والی بعض اہم رپورٹس سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں طالبان کی طرف سے غیر مشروط اعلان جنگ بندی پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اگر اس دوران طالبان کی طرف سے سکیورٹی فورسز یا معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا سخت ترین جواب دیا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد کچہری پر حملہ طالبان نے کیا، دہشتگردوں کیخلاف کارروائی نہ ہونا قابل افسوس ہے۔ پمز میں اسلام آباد کچہری خودکش حملے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ اسلام آباد کی سیکیورٹی پر کم توجہ دی گئی، مگر ہم اس واقعے کو حکومت کی ناکامی نہیں کہیں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سانحہ اسلام آباد میں بھارت ملوث نہیں بلکہ یہ طالبان کی ہی کارروائی ہے۔ حکومت کو ان حالات میں دہشتگردوں کیخلاف سخت کارروائی کیلئے پلان کرنا چاہئے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ہمیں پاکستان کیلئے اکٹھا ہونا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے ، طالبان نے جنگ بندی کا اعلان خود کو متحرک کرنے کیلئے کیا ہو. خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان یقینا حکومت اور سیاسی جماعتوں کے دباوٴ پر ہوا ہے،اب دیکھتے ہیں مذاکرات سے امن قائم ہوتا ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی تو دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے نہ کے دہشتگرد گروپوں سے، اگر حکومت طالبان کے قیدی رہا کریگی تو یہ صورتحال خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ان قیدیوں نے فوجی جوانوں اور بے گناہ شہریوں کو شہید کیا ہے۔خورشید شاہ نے مزید کہا کہ آل پارٹیزکانفرنس ایک مذاق بن کے رہ گئی ہے.

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا  ہے کہ طالبان کے اعلان جنگ بندی کے باوجود کچہری واقعہ تشویشناک ہے، کچہری واقعہ نے طالبان جنگ بندی کو بظاہر بے معنی کر دیا، حکومت کے ساتھ طالبان کو بھی اب اپنے اعلان جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے پر ایکشن لینا چاہیے ۔ وہ پیر کو میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل تک تو حکومت کی طرف سے یقین دلایا جاتا تھا کہ اسلام آباد محفوظ شہر ہے اور اس کے ایک ایک گھر سے متعلق مکمل معلومات ہیں اس کے باوجود اسلام آباد میں اتنا بڑا واقعہ ہوگیا ۔مولانا فضل الرحمان نے طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے باوجود ایف ایٹ کچہری واقعہ تشویشناک ہے اور اس نے طالبان کی جنگ بندی کو بظاہر بے معنی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب حکومت کے ساتھ طالبان کو بھی ایکشن لینا چاہیے کیونکہ ان کی جنگ بندی کو سبوتاژ کیا گیا ہے۔کچہری حملے میں بیرونی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں‘ دہشتگردی کے ہر واقعہ کوطالبان سے جوڑنا درست نہیں‘ چوہدری نثار اب باتیں کرنے کی بجائے عملی اقدامات اٹھائیں‘ دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کے حل کیلئے وقت درکار ہو گا،سیکیورٹی اداروں کو مزید الرٹ رہنا ہو گا ۔

متحدہ قومی مووٴمنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ احرارالہند نامی گروپ کاغذی ہے اسلام آباد حملوں کے پیچھے طالبان کا ہاتھ ہے،لندن سے جاری ہونے والے ایک اعلامیہ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ حکومت لنڈی کوتل اور اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات کی فوری تحقیقات کرائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان واقعات کی تحقیقات کی روشنی میں یہ فیصلہ کرے کہ آیا مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہیئے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے اس موٴقف کی تائید کرتے ہیں کہ مذاکرات اور حملے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے اسلام آباد کچہری حملے سے لاتعلقی کے اظہار سے مطمئن نہیں۔ طالبان کو واقعے کی مذمت کرنی چاہیے تھی ۔وہ جیونیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ حکومت کامذاکراتی عمل چل رہا ہے، طالبان کی جانب سے اسلام آباد کچری میں حملے کا اعلان لاتعلقی کافی نہیں، اس دہشت گردی کی مذمت بھی ہونی چاہیے۔

پیر کو اسلام آباد میں ہونے والا حملہ وزیراعظم نواز شریف کے اعصاب اور ان کی صلاحیتوں کا امتحان ثابت ہوگا کہ وہ امن عمل کو کس طرح بچا کر ان افراد کے خلاف کس طرح کارروائی کرتے ہیں جو مذاکرات کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران افغانستان میں اپنی بنیاد رکھنے والے پاکستانی جنگجو گروپ نے دارالحکومت میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دارالحکومت کی ضلعی عدالت کے علاقے میں ہونے والے اس حملے نے ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی ناکامی کو بے نقاب کردیا ہے جبکہ ملک بھر میں دہشت گردوں کیلئے آسان نشانہ بننے والے اہداف کی بھی زد پذیری کی نشاندہی کی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیے جانے کے صرف اڑتالیس گھنٹوں بعد اور جواب میں حکومت کی جانب سے جنگ بندی کیے جانے کے صرف چوبیس گھنٹوں بعد اسلام آباد میں ہونے والا یہ حملہ پوری قوم کیلئے حیران کن واقعہ ہے۔ یہ حملہ اپنی نوعیت کا ’’ڈرون‘‘ حملہ تھا۔ اگرچہ حکومت اب بھی اس نتیجہ پر نہیں پہنچ پائی کہ یہ کارروائی کس نے کی لیکن جنگجو گروپ احرار الہند نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ ٹی ٹی پی کا ایک ذیلی گروپ ہے جس کی بنیاد افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ہے۔ 13؍ فروری 2014؁ کو دی نیوز راولپنڈی میں احرار الہند کے ترجمان کا ایک بیان شایع ہوا تھا جس میں انہوں نے خود کو حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان جاری مذاکرات سے علیحدہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ وہ شہروں اور بندوبستی علاقوں میں حملے کریں گے۔ اخبار کی رپورٹر فرزانہ علی خان کی جانب سے بھیجی جانے والی اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ گروپ اب تک طالبان کا نامعلوم ذیلی گروپ تصور کیا جاتا رہا ہے، گروپ کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان طے پانے والے کسی جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تاوقتیکہ ملک بھر میں اسلامی شریعہ کا نفاذ نہیں ہوجاتا۔ گروپ کے اسد منصور کی جانب سے دیئے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اخباری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹی ٹی پی کے مجاہدین ان کے بھائی ہیں لیکن وہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کے پابند نہیں۔ خبر کے مطابق احرار الہند گروپ مولانا عمر قاسمی کی زیر نگرانی کام کر رہا ہے جو حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان معاہدہ ہونے کی صورت میں علیحدہ گروپ کی قیادت کریں گے۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ پہلے یہ گروپ مہمند ایجنسی میں سرگرم تھا لیکن اب یہ کنڑ منتقل ہوچکا ہے۔ خبر میں اس گروپ نے کہا تھا کہ ’’ہم اپنی کارروائیاں اپنے طور پر جاری رکھیں گے (جو پہلے ٹی ٹی پی اور دیگر جہادی گروپوں کے ساتھ مل کر کی جاتی رہی ہیں)، ہم شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ہم اپنی کارروائیاں بھی شہری علاقوں میں کریں گے۔‘‘ احرار الہند کا یہ بیان 9؍ فروری کا تھا جو اردو میں تحریر کردہ تھا۔ احرار الہند نامی گروپ کا بیان اس وقت جاری کیا گیا تھا جب حکومت اور ٹی ٹی پی نے مذاکرات کیلئے اپنی اپنی کمیٹیوں کا اعلان کیا تھا تاکہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ تاہم، ایف سی کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد مذاکراتی عمل معطل ہوگیا جس کی ذمہ داری مہمند ایجنسی کے طالبان گروپ، جس کی قیاد عمر خالد خراسانی کر رہے ہیں، نے قبول کی تھی۔ لیکن اب جبکہ جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے، افغانستان کے اس جنگجو گروپ نے اسلام آباد حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=177654

اسلام آباد اور خیبرایجنسی میں ہونےوالے دہشت گرد حملوں کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنےوالے گروپس کی نشاندہی اور انکے نام پیش کرنے کےلیے دباؤ ہے، جبکہ دوسری جانب حکام ٹی ٹی پی کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنےوالے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کو اپنی ذیلی گروپس پر حاوی ہونے اور ان سے دینی طور پر جنگ بندی کا چیلنج درپیش ہے، مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایک سینئر افسر نے دی نیوز کو بتایا کہ یقیناً پیر کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں دہشت گرد حملے اور خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں ایف سی کی دوگاڑیوں کے قریب سڑک کنارے بم دھماکے سے طالبان اور حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے ماحول کو شدید دھچکا پہنچا ہے، جس میں 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو مذاکرات کی بحالی جو ابھی ہونا باقی ہے، وہ ان دہشت گرد حملوں کے باعث واقعتاً بے معنی ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صرف طالبان کے پاس ہی خودکش حملہ آور ہیں، جنہیں وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کےلیے استعمال کرتے رہیں ہیں، جبکہ یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ اسلام آباد کے ضلعی عدالتوں میں کم ازکم 2 خودکش حملے آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔ اس ذریعے نے کہا کہ یہ سلسلہ طالبان کی جانب سے کارروائیاں کرنے اور پھر انکی ذمہ داری قبول نہ کرنے کا مظہر ہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ ان کی پالیسی کا حصہ ہےتاکہ وہ یہ پیغام دے سکیں کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کررہے ہیں۔ اگر ٹی ٹی پی کا دعویٰ تسلیم کربھی لیا جائے تو یہ اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے منسلکہ گروپس کو دہشت گرد کارروائیوں سے روکیں۔ انہوں نے کہاکہ طالبان کے ماضی کے ریکارڈ سے واضح ہے کہ وہ اپنے اندرونی خلفشار کی بناء پر ہونےوالے ہر ایک نقصان کی ذمہ داری بھی سیکورٹی ایجنسیز پر ڈال دیتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے کہ اسلام آباد اور خیبرایجنسی کے حملوں کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جوکہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بھی دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ یہ حملے اس دن ہوئے جب اعلیٰ سول و عسکری قیادت جنگ بندی کے اعلان کے بعد حکمت عملی پر غور کےلیے تبادلہ خیال کررہی تھی۔ ظاہر ہے کہ جبکہ وہ مذاکرات کی بحالی پر غور کررہے تھے، ان حملوں نے ان کے ذہن پر بوجھ ڈالا ہوگا۔ اس ذریعے نے کہا کہ یقیناً ان حملوں نے حکومت کےلیے صورتحال کو پیچیدہ بنادیا ہے جوکہ مذاکراتی عمل کی بحالی کےلیے کوشاں تھی، دوسری جانب انکا کہنا ہے کہ ان حملوں سے ان سخت گیر موقف کے حامل عناصر کو تقویت ملی ہے جوکہ حکومت کے طالبان سے مذاکرات کے حامی نہیں تھے اور دہشت گردی کے خاتمے کےلیے طاقت کے استعمال کا مطالبہ کررہے تھے۔ دریں اثناء، موجودہ صورتحال پر غور کےلیے حکومت اور طالبان کمیٹی کا اجلاس منگل کو ہوگا۔ ذریعے کاکہنا ہے کہ اجلاس میں تحریک طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کی سنجیدگی کا جائزہ لیا گا۔ جبکہ اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں حکومتی کمیٹی کو ہدایات ملنے کا امکان ہے۔ اس ذریعے نے کہاکہ مذاکرات کےلیے تشکیل کردہ حکومتی کمیٹی یا حکومت کی جانب سے اس بابت تعینات کیے جانےوالے مذاکرات کاروں کا کام اسلام آباد اور خیبرایجنسی جیسے واقعات کی وجہ سے بہت مشکل ہوجائےگا چاہے، ٹی ٹی پی ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرے یا نہ کرے۔

جیو کے پروگرام ’’آج کامران خان کے ساتھ‘‘ میں تجزیہ کرتے ہوئے میزبان کامران خان نے کہا ہے کہ طالبان کا اعلانِ جنگ بندی 48 گھنٹوں کے اندر ہی غیرموثر ہوگیا،پرسکون اور محفوظ سمجھا جانے والا اسلام آباد دہشتگردوں کی پہنچ اور گرفت سے دور نہیں ہے، پیر کو وفاقی دارالحکومت خودکش حملوں سے دہل گیا جبکہ لنڈی کوتل میں فوجی قافلے پر بم حملہ ہواجس میں دو فوجی اہلکاروں نے جام شہادت نو ش کیا ۔ اس نازک صورتحال کے پس منظر میں پیر کو سول اور فوجی قیادت کا بہت اہم اجلاس ہوا ہے، بااعتمادذرائع کہتے ہیں کہ فوجی قیادت کو کوئی شک نہیں کہ طالبان کا اعلان جنگ بندی دراصل ایک چال ہے۔حکومت میں شامل وزراء بھی کہتے ہیں کہ قیادت کا امتحان ہے، وزیراعظم نواز شریف کو اپنی قیادت کی صلاحیتیں پیش کرنی ہوں گی اور اس کے ساتھ ہی قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ کامران خان نے کہا کہ پیر کو تقریباً دو سال بعد وفاقی دارالحکومت ایک بڑے دہشتگرد حملے کا نشانہ بنا جب ضلع کچہری کے اندر دو دہشتگردوں نے حملے کئے اور دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ اس حملہ کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کیونکہ یہ واقعہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہوا ہے، اس کی ذمہ داری ایک نامعلوم تنظیم احرار الہند نے قبول کی ہے جس نے کہا کہ اس نے چند دن قبل ہی تحریک طالبان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ تحریک طالبان نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا ہے لیکن ان حملوں کی مذمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام واقعات نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اگر پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ اعلانِ جنگ بندی سے پاکستان میں دہشتگرد ی کی فضا ختم ہوجائے گی تو یقینی طور پر یہ خام خیالی ہے۔ پیر کے اس واقعہ کے حوالے سے وکلاء نے یومِ سیاہ منایا لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عدالتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ عدالتوں کو نشانہ بنانے کا مقصد دراصل عدالتوں کو پیغام دینا ہے جہاں پر دہشتگردی کے حوالے سے نازک مقدمات چل رہے ہیں، کئی عدالتوں میں فیصلے آنے ہیں اس لئے دہشتگرد گروہوں کی جانب سے عدالتوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ دہشتگردی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ کامران خان نے کہا کہ پیر کے واقعہ کے ذریعہ پوری دنیا کو پیغام دیا گیا کہ اسلام آباد اتنا پرسکون اور محفوظ شہر نہیں ہے جتنا تاثر ہے۔ دہشتگردوں کی پہنچ اور گرفت سے اسلام آباد دور نہیں ہے، اگر یہ پیغام مقصد تھا تو یقینی طور پر یہ پوری دنیا میں سنا گیا، اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ پیر کے واقعہ کے بعد ہر نگاہ اس پریس کانفرنس کی جانب گئی جو دو ہفتے قبل وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کی تھی جس میں اسلام آباد کی سکیورٹی اور اس قسم کے حوالے سے اس رسپانس کی انہوں نے بات کی تھی جس کے لئے اسلام آباد کو تیار کیا گیا ہے۔ کامران خان نے تجزیے میں مزید کہا کہ اسلام آباد میں دہشتگرد حملوں کے کچھ دیر بعد وزیراعظم کی قیادت میں سول و فوجی قیادت کا اہم اجلاس ہوا جس میں طالبان کی جانب سے اعلانِ جنگ بندی اور اس کے فوراً بعد دہشتگردی کے واقعات موضوع بحث آئے۔

اسلام آباد کے ایف ایٹ میں کچہری میں خودکش حملے اور فائرنگ کی ذمہ داری احرارالہند نامی غیر معروف عسکریت پسند تنظیم نے قبول کرتے ہوئےکہا ہےکہ ہم کبھی بھی تحریک طالبان پاکستان کا حصہ نہیں رہے ، ملک میں شریعت کے نفاذ تک حملے جاری رکھیں گے ۔ احرار الہند کے ترجمان نے برطانوی نشریاتی ادارے کو فون کرکے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ وہ کبھی کالعدم تحریک طالبان کا حصہ نہیں رہے۔ احرار الہند کے ترجمان اسد منظور نے کہا کہ ملک میں غیر شرعی نظام نافذ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے عدالت کو نشانہ بنایا۔

خواتین و حضرات اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے ، دنیا میں اس کی کرنیں پورے آب وتاب کے ساتھ چمک رہی ہیں.اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے والے حق وباطل میں فرق نہیں رکھتے ان کا یہ نظریہ اسلام دشمن ہے .طالبان اسلا م اور پاکستان کے دشمن ہیں ان کی اختراع وسوچ اسلام مخالف ہے اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہےاور  اسلام تلوار کے زور پر نہیں محبت و پیا رسے پھیلاہے جو لوگ بندوق کی طاقت سے نام نہاد اسلام  پاکستانی مسلمانوں پر مسلط کرنے کے درپے ہیں وہ باطل قوتوں کے پیروکار ہیں ۔

 انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح  برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. خودکش حملوں کے ضمن میں ۔ پاکستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث کےجید علماء خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں. بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .

اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل  ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز  نہ ہے۔  اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل فسادفی الارض اور اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان دنیا بھر اور پاکستان میں دہشت گردی کے میزبان ہیں۔طالبان بندوق کے زور پر اپنے سیاسی نظریات پاکستانی عوام پر ٹھونسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Advertisements