پولیوکی سکیورٹی ٹیم پر حملہ


 

                                                                         polio-campaign

پولیو کی سکیورٹی ٹیم پر حملہ

 

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیو کارکنوں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہل کاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو ڈیرہ اسمعیل خان شہر سے تقریباً 25 کلومیٹر دور احمد گڑھ کے علاقے میں درابن ژوب روڈ پر پیش آیا۔

ڈیرہ ٹاؤن پولیس سٹیشن کے انچارج عبد اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انسداد پولیو کی ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے والے دو پولیس اہل کار ڈیوٹی ختم کرکے پولیس لائن آرہے تھے کہ اس دوران ان پر نا معلوم مسلح افراد کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی ۔انھوں نے کہا کہ حملے میں دونوں اہل کار موقع ہی پر ہلاک ہوئے۔

پولیس کے مطابق منگل کو ڈیرہ اسماعیل خان کے دور افتادہ علاقوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے تھے اور اس سلسلے میں مختلف علاقوں میں پولیو کارکنوں کے ہمراہ پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/03/140311_dik_attack_polio_security_personnel_killed_mb.shtml

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ پولیو کیس شمالی وزیرستان سے سامنے آرہے ہیں اس لئے حکومت کو طالبان سے مذاکرات میں انسداد پولیو مہم کا معاملہ بھی رکھنا چاہیئے۔

اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت کی سربراہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ ملک میں پولیو کے مرض کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے، اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت ہر اقدام کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک حلقے کی جانب سے انسداد پولیو ویکسی نیشن پر اعتراض ضرور کیا جاتا تھا تاہم ہیلتھ ورکرز پر حملے نہیں ہوتے تھے.چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پولیو کے سب سے زیادہ کیسز شمالی وزیرستان سے سامنے آرہے ہیں لیکن وہاں جنگ کی صورت حال ہے اس لئے انسداد پولیو مہم نہیں چلائی جاسکتی۔ وہ وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ سے بات کریں گےکہ طالبان سے مذاکرات میں پولیو کا معاملہ بھی رکھیں کیونکہ اگر وہاں ویکسی نیشن نہ کی جاسکی تو اس کا اثر دیگر حصوں پر بھی پڑے گا۔

                                                                     

ادہر وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور تمام رکاوٹوں کے باوجود ملک سے پولیو کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں انسداد پولیو ٹیموں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پولیو ٹیموں پر دہشت گردوں کے حملے ہمیں ہمارے عزائم سے ہٹا نہیں سکتے، ملک سے پولیو کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنے کے لئے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کا اجلاس بلا لیا ہے، اجلاس کے دوران پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے حکمتی عملی مرتب کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ نہیں کیا گیا تو پھر پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے۔

                                                                         timthumb.php

پاکستان میں ایک ملین بچے  اب بھی پولیو کے قطروں  سے محروم ہیں۔ پولیو کے قطرے پلانے سے بچوں میں پولیو کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کی ان تین اقوام میں شامل ہے جہاں سست رو پولیو وائرس بدستور موجود ہے۔ افغانستان اور نائجیریا کے بعد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔گزشتہ سال پولیو کے ایک سو تہتّر کیسز سامنے آئے تھے۔ سن دو ہزار بارہ میں چھپن کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جس کا مطلب کے ان کے پھیلاؤ میں اڑسٹھ فیصد کی کمی لے آئی گئی ہے۔

                                                                        pakistan-polio-ap543

 اسلام نے انسانی جان بچانے کے لئیے ہر طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔طالبان کا پاکستانی بچوں کو پو لیو کے قطرے نہ پلانے دینا ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والی  مجرمانہ کاروائی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے اور پاکستانی عوام طالبان کو اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہ کریں گے۔دہشت گردوں نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسداد پولیو ٹیموں کے بےگناہ کارکنوں اور پولیو تیمز کے محافظین کواپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھانا شروع کیا تو اس سے انسانی صحت کی ضامن انسداد پولیو مہم ہی اثرانداز نہیں ہوئی‘ بلکہ ان جنونی کارروائیوں کے نتیجہ میں ملک کی بدنامی بھی ہوئی ہے. انتہاءپسندوں کی جانب سے بچیوں کی تعلیم کی مخالفت اور تعلیمی اداروں کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں تباہ کرنے کے باعث پہلے ہی ہمارا تشخص خراب ہو چکا ہے جبکہ اب انسداد پولیو ٹیموں  اور ٹیموں کے محافظین کے غیرمحفوظ ہونے سے ہمارے معاشرے کا پتھر کے زمانے والا تصور ہی اجاگر ہو گا۔جہالت کے اندھیروں سے روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھا کر ہی ہم اقوام عالم میں اپنا تشخص پیدا کر سکتے ہیں ورنہ ہم زمانہ جاہلیت والی پسماندہ ترین قوم بن کر دنیا سے کٹ کر رہ جائینگے۔

                                                                           images

سنی اتحاد کونسل کے 30 مفتیان نے پولیو مہم کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا ہے،فتوے کے مطابق پولیو مہم شریعت کے ہرگز متصادم نہیں ،اس مہم کو روکنا اور ہیلتھ ورکرز کا قتل، فساد فی الارض اور اسلام اور پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے جاری اجتماعی فتویٰ کے مطابق پولیو مہم شرعی نکتہ نظر سے بالکل درست اور صحیح ہے ، پولیو قطرے پلانے سے بچوں کو مستقبل میں معذوری سے بچایا جا سکتا ہے،طبی ماہرین پولیو کے قطروں کو ہر لحاظ سے مفید قرار دے چکے ہیں ،یہ طبی معاملہ ہے،اس مہم کی مخالفت کرنے والے گمراہ ہیں، فتوے میں کہا گیا ہے کہ علاج معالجہ حضور نبی کریمﷺ کی سنت سے ثابت ہے ،علماء اور مشائخ جہالت پرمبنی گمراہ کن تعبیر اسلام کی علمی اور فکری مزاحمت کریں اور پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے درست رہنمائی کریں۔

علمائے کرام نے پولیو ٹیمز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شرعی طور پر ناجائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت اور حرمت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔

سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی اپیل پر سنی اتحاد کونسل کے 30 مفتیان کرام نے اپنے اجتماعی شرعی اعلامیہ میں قرار دیا ہے کہ پولیو ورکرز پر حملے غیرشرعی اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں، پولیو مہم میں رکاوٹ پیدا کرنا بدترین گناہ، سنگین جرم اور انسانیت دشمن عمل ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے پولیو کے قطرے پلانا والدین کا شرعی، قانونی اور اخلاقی فرض ہے، پولیو کے قطرے پلانے میں دینی و شرعی اعتبار سے کوئی حرج نہیں کیونکہ پولیو ویکسین میں کسی بھی طرح کا کوئی حرام مادہ موجود نہیں بلکہ پولیو ویکسین انتہائی محفوظ دوا ہے، مذہب کی من مانی تشریح کے ذریعے پولیو کی مہم کے خلاف پرتشدد کارروائیاں خلاف اسلام ہیں، پولیو ورکرز ایک قومی خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور صحت مند قوم کی تشکیل میں مثبت فریضہ کی ادائیگی میں مصروف ہیں جو گمراہ لوگ لاکھوں بچوں کے اپاہج بن جانے کے خطرات پیدا کررہے ہیں وہ اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔ شرعی اعلامیہ میں والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں اور بچوں کو موذی مرض اور زندگی بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے انہیں پولیو کے قطرے پلائیں اور پوری قوم پولیو کے خاتمے کی مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، پولیو ویکسین معذور نہیں کرتی بلکہ معذوری سے بچاتی ہے۔ شرعی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 2013 میں 2012کے مقابلے میں پولیو کا شکار ہونے والوں کی تعداد بڑھی ہے، قابو نہ پایا گیا تو پاکستانیوں پر بین الاقوامی سفر کرنے پر پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران 30سے زائد پولیو ورکرز کی شہادتیں قابل مذمت ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں میڈیا، علماء، سیاسی کارکنوں، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں سمیت سیکورٹی اداروں کو مشترکہ طور پر حصہ لینا ہوگا تاکہ قوم کے محفوظ اور صحتمند مستقبل کو یقینی بنایا جاسکے۔

انسداد پولیو پر عالمی علماءکانفرنس منعقد ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان بچوں کا پولیو سے بچا تمام مسلمان والدین کی مذہبی ذمہ داری ہے، ویکسین میں کوئی حرام یا مضر صحت اجزاءشامل نہیں۔ عالمی علماءکانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیو ورکرز پر حملے قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہیں اور شرعی طور پر ناجائز ہیں۔ والدین بچوں کو پولیو سے بچاں کے قطرے پلائیں اور حفاظتی ٹیکے لگوائیں، پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین محفوظ و موثر ہے اور اس میں ایسے اجزاءشامل نہیں ہیں جو تولیدی نظام کو نقصان پہنچائیں۔طالبان جاہلان ہیں اور اسلامی احکامات کا انہیں کچھ علم نہ ہے۔

دہشت گرد، جرائم پیشہ عناصر اور پولیو قوم کے مشترکہ دشمن ہیں اور ان کے خاتمے کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال کیا جانا چاہئیے۔

نسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی کو فول پروف بنانا چاہئیے اور مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی انسدادِ پولیو ٹیم پر حملہ کی جرات نہ ہوسکے۔

جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔(المائدۃ۔۳۲)

Advertisements