طالبان کے اختلافات کی اندرونی کہانی


طالبان کے اختلافات کی اندرونی کہانی

Taliban-choose-Khalid-Said-Sajna-as-TTP-chief

کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے  بالآخر خان سید سجنا کو جنوبی وزیرستان کی امارت سے ہٹا دیا۔

شمالی وزیر ستان کے علاقے شوال میں دو طالبان گروپوں کے درمیان جاری لڑائی میں جمعرات کو شدت پیدا ہوگئی اور مزید دس طالبان ہلاک ہوگئے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے افغانستان میں مقیم سربراہ مولوی فضل اللہ نے اس لڑائی کا سخت نوٹس لیا ہے اور خان سید سجنا کو عہدے سے ہٹادیاہے جس میں اب تک ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں خان سید سجنا گروپ اور شہریار محسود گروپوں کے درمیان لڑائی شوال کے علاقے میں تحریک طالبان کی قیادت حاصل کرنے کے لئے لڑی جارہی ہے اب مولوی فضل اللہ نے ولی الرحمن کے جانشین کو علاقے میں طالبان کی قیادت سے ہٹادیا ہے۔ اس سے حکیم اللہ محسود کے حامی شہریار گروپ کی پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے تاہم خدشہ ہے کہ فریقین کے درمیان جھڑپیں جارہی رہیں گی۔

index22

خبروں کے مطابق بالاآخر کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے خان سید سجنا کو جنوبی وزیرستان کی امارت سے ہٹا دیا، شمالی و جنوبی وزیرستان میں تحریک کی امارت کی ذمہ داری عمر خراسانی کے سپرد کر دی گئی۔ حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان داؤد محسود نے نامعلوم مقام سے جیو نیوز کو بتایا کہ جنوبی وزیرستان کی نگرانی خان سید سجنا سے لے کر کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی نائب امیر شیخ خالد حقانی کو سونپ دی گئی ہے جبکہ شمالی و جنوبی وزیرستان میں تحریک کی ذمہ داری عمر خراسانی کے سپرد کر دی گئی ہے۔ داؤد محسود کا کہنا تھا کہ ہم امیر ملا فضل اللہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ۔

images
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم گروپوں کے مابین جھڑپوں میں ایک مرتبہ پھر شدت آ رہی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں کم سےکم دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

index
مقامی اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے شوال میں جھڑپوں میں اس وقت شدت آئی جب خان سید سجنا اور شہریار گروپ کے جنگجوؤں نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان منگل کی صبح لڑائی کا سلسلہ شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ اس میں دونوں جانب سے کم سے کم دس عسکریت پسند مارے گئے ۔ تاہم بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 16 کے قریب بتائی ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین گذشتہ تین دنوں سے پہاڑی علاقوں میں مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر وقفے وقفے سے حملے کر رہے ہیں۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ بدھ کی صبح بھی فریقین نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر تازہ حملے کیے ہیں جن میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکیں۔
ادھر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آ سکا ہے۔
گذشتہ ماہ خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپوں کے مابین لڑائی میں پچاس کے قریب افراد مارے گئے تھے۔ تاہم اس لڑائی کا دائرہ جب ٹانک اور وزیرستان کے دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا تو تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے بعض سینیئر کمانڈروں نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کے مابین ایک ماہ کی جنگ بندی کرا دی تھی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپوں کے مابین لڑائی میں 50 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔ تاہم اس لڑائی کا دائرہ جب ٹانک اور وزیرستان کے دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا تو تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے بعض سینیئر کمانڈروں نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کے مابین ایک ماہ کی جنگ بندی کرا دی تھی۔ لیکن بظاہر یہ کوششیں بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور فائر بندی کے باوجود دونوں گروپوں کی طرف سے خفیہ طور پر ایک دوسرے کے جنگجوؤں کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

52740b478630c
ان جھڑپوں میں اب تک تحریک طالبان کے بعض اہم کمانڈر بھی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں عصمت اللہ شاہین، امیر حمزہ اور کشید خان شامل ہیں۔
خیال رہے کہ خان سید سجنا کا تعلق ولی الرحمان اور شہریار گروپ کا تعلق حکیم اللہ محسود کے دھڑے سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں گروپ محسود قبیلے سے بتائے جاتے ہیں۔ ان گروپوں کے مابین جنوبی وزیرستان کی امارت اور بعض دیگر امور پر بہت پہلے سے اختلافات چلے آرہے ہیں۔
تاہم حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان کی زندگی میں یہ اختلافات زیادہ گہرے نہیں تھے لیکن ان دونوں کمانڈروں کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد اب یہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان دونوں دھڑوں نے کراچی میں بھی ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/05/140507_taliban_in_fighting_rk.shtml
اس وقت کالعدم تحریک طالبان پاکستان انتشار کا شکار اور اس میں قیادت کا فقدان ہے اور اندرونی لڑائی کے نتیجے میں اس کے 40 سے زائد جنگجو مارے جاچکے ہیں، طالبان کے گروپوں میں یہ لڑائی قیادت سنبھالنے کے مسئلے پر ہورہی ہے۔ مذاکرات میں جنگ بندی کے دوران مختلف بم دھماکوں نے اس بات کو تقویت دی ہے کہ قیام امن کی کوششوں نے خود طالبان کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔ خان سید سجنا کا تعلق حقانی گروپ سے بتایا جاتا ہے اور مبینہ طور پر اسے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ حقانی گروپ اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر کالعدم طالبان پر حکومت پاکستان سے مذاکرات کے لیے دباؤ بھی ڈال رہا ہے، تاہم دیگر گروپ اس کے حامی نہیں۔ مطابق طالبان پر دیگر بیرونی گروپس بھی اثر انداز ہوتے ہیں جن میں ازبکستان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیرملکی جہادی شامل ہیں جو نہ صرف جنوبی اور شمالی وزیرستان میں موجود ہیں بلکہ پیسہ اور شدت پسند مذہبی نظریے کے بھی حامل ہیں۔ طالبان کے دونوں گروپوں میں لڑاءی کی وجہ علاقائی حدبندیوں کے علاوہ راستوں کے استعمال اور ان سے حاصل ہونیوالی آمدن کا تنازعہ شدت اختیار کرتا چلا گیا۔
واضح رہے کہ بنوں، لکی یا ٹانک کے راستے ایف آر کے علاقے میں داخل ہونے کے بعد راستے مختلف طالبان گروپوں کے زیر کنٹرول ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے ہونیوالی سمگلنگ میں قابض گروپوں کو کثیر آمد ن حاصل ہوتی ہے۔ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی استعمال ہونیوالے راستے کا خراج طالبان گروپ وصول کرتے ہیں۔ ابتدا میں دونوں گروپوں کے درمیان مسلح جھڑپیں صرف وزیرستان تک ہی محدود تھیں مگر اب اس کا دائرہ کار ٹانک تک پھیل چکا ہے۔ واضح رہے کہ ایف آر ٹانک کے علاقے بھی دونوں گروپوں میں تقسیم ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں سلامتی کے امور کے سابق سیکرٹری بریگیڈیر محمود شاہ نے کہا کہ  تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کے درمیان خونریز لڑائی اور اس کی صفوں میں بڑھتے ہوئے انتشار کا واضح اظہار ہے۔
سماجی کارکن فرحت خان نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی نہ ختم ہونے والی اقتدار کی ہوس انہیں ایک دوسرے کو قتل کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کے اندر ہونے والی کشمکش سے یقیناً اس کی کارروائیاں اور رقم جمع کرنے کی صلاحیتیں متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار، پیسہ اور طاقت وہ عوامل ہیں جو پر آشوب قبائلی علاقوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اسلام پسندوں کی بجائے کم و بیش وہی جنگی سردار ہیں
طالبان کے دیگر گروپوں کی جانب سے اس لڑائی کو رکوانے کی متعدد کوششیں ہوچکی ہیں، تاہم ابھی تک اس کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ قبائلی ذرائع کے مطابق محسود طالبان جو کہ ملا فضل اللہ کی تقرری سے خوش نہیں ہیں، وہ فضل اللہ کی سربراہی میں ہونے والے فیصلوں یا معاہدا ت کا خود کو پابند نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی آپس کی یہ لڑائی جس میں بھاری ہتھیاروں کا بھی بے دریغ استعمال جاری ہے، تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ چنانچہ یہ سوال اب زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جو طالبان آپس کی لڑائی میں ہتھیار ڈالنے پر رضا مند نہیں، وہ حکومت سے مذاکرات کے بعد دہشت گردی کرنے سے کیسے باز رہیں گے۔ وہ بھی اس صورت میں جب طالبان کی سربراہی ایسے شخص کے پاس ہے جس کو سربراہ ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔

پاکستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ طالبان گروہوں میں جنگ تو ختم ہو گئی ہے لیکن جنوبی وزیرستان کے کمانڈر خان سید سجنا نے اپنی عارضی معطلی کے حوالے سے امیر کا فیصلہ اب تک تسلیم نہیں کیا۔

بی بی سی پشتو سروس کے نامہ نگار طاہر خان کو طالبان قیادت میں شامل ایک رہنما نے بتایا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ نے جنوبی وزیرستان میں تحریک کے انتظامی امور دو ماہ کے لیے خالد حقانی کو سونپے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں طالبان گروہوں کی لڑائی ختم ہو چکی ہے مگر ان کے مابین موجود کشیدگی اور تناؤ کو ختم کرنےکی عارضی ذمہ داری کمانڈر عمر خراسانی کو سونپی گئی ہے جو پہلے ہی مہمند ایجنسی میں ٹی ٹی پی کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔

طالبان رہنما نے بتایا کہ علاقے میں گذشتہ چار روز سے کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے نہ تو نومنتخب طالبان کمانڈر اب تک باضابطہ طور پر کام کا آغاز کر سکے ہیں اور نہ ہی ان میں باہمی رابطے ممکن ہو پا ئے ہیں۔

لیکن دوسری جانب بہت سے طالبان رہنما اس بات پر بھی حیران ہیں کہ جب تحریک کے امیر نے کمانڈر خان سید سجنا کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے تو طالبان انتظامیہ اس کا رسمی اعلان اور معمول کے مطابق میڈیا کو کوئی تحریری پیغام ارسال کرنے سے کیوں ہچکچا رہی ہے۔

طالبان رہنماؤں کے مطابق اب طالبان قیادت کسی علاقے میں کمانڈر کے چناؤ کے لیے مقامی افراد کے بجائے کسی دوسرے علاقے سے بھی اپنے نمائندوں کو نامزد کر دیتی ہے اور کمانڈر کا چناؤ علاقے سے تعلق کے بجائے صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اور ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ تحریک کا امیر شوری کے کسی فیصلے کو رد کرے۔اس سے قبل طالبان شوری کے رکن اعظم طارق نے اپنے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ یہ خبر درست نہیں کہ طالبان شوری کے اراکین خان سید سجنا کے حق میں ہیں یعنی جنوبی وزیرستان کی قیادت ان کے ہاتھ سے لینا نہیں چاہتےیاد رہے کہ مختلف خبروں کے مطابق گذشتہ ماہ خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپوں کے مابین لڑائی میں 50 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔ تاہم اس لڑائی کا دائرہ جب ٹانک اور وزیرستان کے دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا تو تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے بعض سینیئر کمانڈروں نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین میں ایک ماہ کی جنگ بندی کرا دی تھی۔ لیکن بظاہر یہ کوششیں بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور فائر بندی کے باوجود دونوں گروپوں کی طرف سے خفیہ طور پر ایک دوسرے کے جنگجوؤں کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔۔

خان سجنا سید بڑے تعداد میں ہتھیاروں اور اسمگلنگ سمیت بھتے کے کاروبار کی مدد سے محسود قبیلے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں تاہم اس سلسلے میں انہیں شہریار محسود کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

طالبان کے درمیان جاری اندرونی جھگڑوں کے باعث حکومت کی امن مذاکرات کے ذریعے شدت پسندی کے خاتمے کی کوششیں بھی کو دھچکا پہنچا ہے۔

ادہر شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر تحریک طالبان پاکستان کے دو دھڑوں میں ہونے والے تصادم میں کم از کم پانچ شدت پسند ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

آفیشل ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے حریف گروپوں شہریار محسود اور خان سجنا سید کے درمیان شوال کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کا دونوں جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے۔

دونوں گروپوں کے درمیان ہونے والی اس لڑائی میں بڑی تعداد میں شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جبکہ مستقل جھڑپوں سے سیز فائر کے حوالے سے کیے گئے دعوؤں کی بھی نفی ہو گئی ہے۔

ایک مبصر کے مطابق طالبان کی آپسی لڑائی جنوبی وزیرستان پر کنٹرول کی ’’قبائلی جنگ‘‘ ہے لیکن عمر خالد خراسانی کے امیر مقرر ہونے سے القائدہ مضبوط ہو گی کیونکہ خراسانی القائدہ کا آدمی ہے اور القائدہ کا یہ گرینڈ منصوبہ  تھا کہ پورے ریجن کو کسی طرح سے کنٹرول کیا جائے جو خراسانی کے امیر مقرر ہونے سے پورا ہوگیا ہے۔۔ ہاد رہے طالبان میں 45 سے زیادہ دہشت گرد گروپ شامل ہیں اور یہ چوں چوں کا مربہ ہے اور مختلف عام معاملات پر بھی ہم خیال نہ ہیں۔ حکومت سے امن مذاکرات کے معاملہ پر بھی ان گروپوں میں اختلافات ہیں۔ اس اندرونی لڑائی کی وجہ سے ،طالبان ، امن مزاکرات لئے قابل بھروسہ پارٹنر نہ رہے ہیں۔اس جھگڑے سے طالبان پاکستان کی وحدت اور ایک اکائی ہونے کا تاثر زائل ہوچکا ہے اور طالبان کے اندر اختلافات و چپقلش کھل کر سامنے آگئے ہیں اور اب چونکہ مولوی فضل اللہ نے سجنا کو معزول کردیا ہے ،مگر سجنا نے فضل اللہ کا حکم،تاحال تسلیم نہ کیا ہے۔اب ہو سکتا ہے وہ اپنا علیحدہ گروپ بنا ڈالے اور حقانی نیٹ ورک کی مدد حاصل کرے۔ ہو سکتا ہے سجنا تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کرکے اپنا گروپ بنا لےجس سے طالبان کی تنظیم کمزور ہو جاءے گی اور اندرونی لڑائی مزید تیز ہو جائے گی۔اس طرح دہشت گرد گروپوں کی تعداد میں اضافہ ہو کر ان کی تعداد 66ہو جائے گی۔ طالبان ،طالبان سے لڑیں گے۔اس اندرونی چپقلش سے طالبان کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ طالبان کے یہ اختلافات طالبان کے لئے بڑا دہچکا ثابت ہونگے اور یہ عضو معطل ہو کر رہ جاءیں گے اور ان کے حملہ کرنے کی طاقت کو زبردست نقصان پہچنے گا۔

 

Advertisements

“طالبان کے اختلافات کی اندرونی کہانی” پر ایک تبصرہ

  1. اللہ خیر کرے، یہ کام انتہائی قابل مذمت اور همارے مسلمان عوام اور مذهب کے خلاف ایک عمل ہے۔

تبصرے بند ہیں۔