طالبان نے فتح جنگ خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی


طالبان نے فتح جنگ خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

news-1401892241-4898

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے فتح جنگ میں خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہداللہ شاہد کی جانب سے جاری ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حملہ جیلوں میں قیدان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے رد عمل میں کیا گیا ، شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ 2روز قبل کراچی میں سیکیورٹی فورسزکی حراست میں ہمارے 7ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا تھا ۔

w460

حکومت اور طالبان مذاکرات کے دوران طالبا ن نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھاجس کے دوران بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے تاہم طالبان کی طرف سے ان حملوں سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا گیا بلکہ مذمتی بیانات بھی آتے رہے ۔ مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر طالبان نے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا لیکن کسی واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی ۔ کافی عرصے تک طالبان کی طرف سے جاری رہنے والی خاموشی اس وقت ٹوٹی جب فتح جنگ خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز فتح جنگ میں حساس اداروں کی گاڑی پر خود کش حملہ ہوا جس میں پاک فوج کے دو لیفٹیننٹ کرنلز سمیت 5افراد شہید ہو گئے تھے۔
http://dailypakistan.com.pk/waziristan/04-Jun-2014/109290

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے فتح جنگ روڈ پر خودکش حملے سمیت باجوڑ ایجنسی میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے جیو نیوز کو فون کے ذریعے بتایا کہ ٹی ٹی پی فتح جنگ میں ہونے والے خودکش حملہ سمیت باجوڑ ایجنسی میں حملے کی ذمہ داری قبول کر تی ہے۔ ترجمان کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں اب تک 20 سیکیورٹی اہلکار مارے جاچکے ہیں جن میں 10 کی لاشیں طالبان کی تحویل میں ہیں۔ شاہد اللہ شاہد کے مطابق تحریک طالبان نے مذاکراتی عمل اخلاص سے شروع کیا اورجنگ بندی کی لیکن اس کے باوجود لاشیں ملتی رہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان حملوں کا جواب کارروائیوں کی صورت میں دے گی۔
http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=149806

120411101048_india_bagger_304x171_afp_nocredit
مقامی پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور ایک بھکاری کے روپ میں تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس جگہ پر یہ خودکش حملہ ہوا وہاں پر بھکاریوں کی ایک خاصی تعداد موجود ہوتی ہے اور جونہی ریلوے کا پھاٹک بند ہوتا ہے یا گاڑیوں کی رفتار کم ہوتی ہے تو بھکاری اُن گاڑیوں کی طرف بھاگتے ہیں۔

فتح جنگ خودکش حملے کے شہداءکی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔وزیر اعظم ،وزیر دفاع نے نماز جنازہ میں شرکت کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر پہنچے تووزیر دفاع خواجہ آصف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔وزیر اعظم نے شہید لیفٹیننٹ کرنل ارشد اورلیفٹیننٹ کرنل زاہد کی نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ انہوں نے فتح جنگ خودکش حملہ کے شہداءکیلئے فاتحہ خوانی کی اورشہداءکے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ عسکری ادارے ملک و قوم کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں اللہ شہداءکے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔دہشگردوں کی کارروائیاں قابل مذمت ہیں۔فتح جنگ اور باجوڑ میں دہشتگردی بزدلانہ اور شرمناک فعل ہیں ۔ہر شہادت ہمارے لئے مزید استقامت لاتی ہے ۔پوری قوم عسکری اداروں کے ساتھ ہے
http://dailypakistan.com.pk/national/04-Jun-2014/109292

140604102945_pakistan_bomb_blast_304x171_afp
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبانی دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے،50ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہےخدا اور اس کے رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گناہوں اور معصوم بچوں،مردوں اور عورتوں کا خون بے دریغ اور ناحق بہایا جا رہا ہےاور وہ بھی اسلام نافذ کرنے کے نام پر۔ سکولوں ،مساجد اور امام بارگاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور افواج پاکستا ن اور پولیس اور تھانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ طالبان ،لشکر جھنگوی اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں ۔دہشت گردی ایک ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ، دہشت گرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا اسلام اور پاکستان دشمنی ہے۔

5388a13cb50cc
دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں .طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا ۔

قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور طالبان اسلا م اور پاکستان کے دشمن ہیں ان کی اختراع وسوچ اسلام مخالف ہے اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے .انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. . اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ۔بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.
یہ دہشت گرد نام کے مسلمان ہیں ، اسلام کے مقدس نام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسلمان تو کیا غیر مسلموں کو بھی اسلام سے متنفر کر رہے ہیں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہین اور یہ وہ گروہ ہیں جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔

معصوم شہریوں کا قتل کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور جو لوگ ان دہشت گردوں کی کھلی حمایت کرتے ہیں وہ بھی انسانیت کے دشمن ہیں۔ و ہ دہشت گرد جو فوج اور پولیس کے افسروں اورجوانوں کے گلے کاٹیں،اور مساجد، امام بارگاہوں اورمزارات پر خودکش حملے کرکے معصوم شہریوں کا قتل عام کریں وہ انسانیت کے کھلے دشمن ہیں اور جولوگ دہشت گردوںکی حمایت کریں ، ان کی مذمت تک نہ کریں،انہیں شہیدقراردیں ،وہ بھی انسانیت کے دشمن ہیں۔

 

 

Advertisements