طالبان نےجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرحملے کی ذمہ داری قبول کر لی


طالبان نےجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرحملے کی ذمہ داری قبول کر لی

images
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ ،کراچی کے اولڈ ٹرمینل میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے حملے میں19افراد شہید اور 23زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 10دہشتگردوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام طیارے مکمل طورپر محفوظ ہیں،دن دو بجے کے بعد ایئرپورٹ آپریشنل ہونے کا امکان ہے ۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے آئندہ بھی حملوں کا اعلان کردیا۔

w460

index

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں کے آپریشن کے دوران اولڈ ٹرمینل میں شدیدفائرنگ کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور آگ بھڑک اُٹھی جس کے بعد ایک مرتبہ پھر بھگدڑ مچ گئی تاہم رینجرز حکام کا کہناتھاکہ ایئرپورٹ کے اطراف میں سیکیورٹی فورسز کی طرف سے کلیئرنس سرچ آپریشن جاری ہے اور ممکنہ طورپر جھاڑیوں میں موجود دہشتگردوں کے شبے میں ہوائی فائرنگ کی گئی ،اصفحانی ہینگرزمیں آگ ایک مرتبہ پھر بھڑک اُٹھی ہے جس پر قابو پانے کے لیے امدادی کارروائی جاری ہے ۔

320_2014_06_09_09_55_41
بتایاگیاہے کہ نو سیکیورٹی اہلکاروں اور نجی ایئرلائن کے ملازم سمیت 19افراد شہید ہوگئے ہیں جن کی شناخت اے ایس ایف کے فرخ حسین ، مرتضی شاہ ، منتظر ، عبدالمالک ، طارق محمود ، محمد سرور ، محمد اعظم ، محمد اقبال ،رینجرز کادل مراد اورنجی ایئر لائن کے عبدالخالق صدیقی شہید ہوگیا۔بتایاگیاہے کہ آپریشن کے دوران ایئرلائن کا ملازم ہارٹ اٹیک ہونے سے چل بسا۔
ڈی جی سندھ رینجرز نے بتایاکہ آپریشن میں پاک فوج ، رینجرز، پولیس اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی اور دہشتگردوں کے مذموم مقاصد کوپورانہیں ہونے دیا اور ایئرپورٹ کے اندرونی حصے کو کلیئرکردیاگیا، سات دہشتگردمقابلے میں مارے گئے جبکہ تین نے خود کو اُڑالیا۔ اُنہوں نے بتایاکہ ساڑھے گیارہ بجے آپریشن شروع کردیاگیاتھا، دہشتگرد5,5کی ٹولیو ں میں دو جگہوں سے داخل ہوئے تاہم نجی ٹی وی چینل کے مطابق 15کے قریب حملہ آور تین مقامات سے داخل ہوئے ۔ ڈی جی رینجرز کاکہناتھاکہ حملہ آور غیر ملکی لگتے ہیں جن کی عمر 20سے 25سال کے درمیان ہے ، ڈی این اے ٹیسٹ کرائیں گے ، صرف کارگوٹرمینل میں آگ لگی ہے ۔ڈی جی نے بتایاکہ ہائی ایس کا ڈرائیور دہشتگردوں کو اُتار کر فرار ہوگیا، دن بارہ بجے کے بعد ایئرپورٹ آپریشنل ہوسکتاہے تاہم ایئرپورٹ حکام کاکہناتھاکہ دو بجے کے بعد آپریشن متوقع ہے ۔ پی آئی اے ترجمان کے مطابق حملے کی وجہ سے 20سے زائد پروازیں منسوخ ہوگئی ہیں ۔

karachi-airport-1
نجی ٹی وی چینل نے ڈی جی رینجرز کے حوالے سے بتایاحملے میں بھارتی اسلحہ استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیںجبکہ ہلاک ہونیوالے ازبک ، افغان اور چیچن باشندے ہیں ۔
دوسری طرف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فونک گفتگوکرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی اورا ِسے ڈرون حملے میں مارے جانیوالے سابق امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ قراردیا۔ ترجمان کاکہناتھاکہ غیر اعلانیہ جنگ پھر شروع کردی گئی ہے اوروزیرستان میں ساتھیوں کی ہلاکت اور اعلان جنگ کیخلاف جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں،خود کش حملہ آور ایئرپورٹ میں داخل ہوئے اور کارروائی کی ۔ وزیرداخلہ نے ایئرپورٹ پر حملے کی رپورٹ طلب کرلی ۔

indexaa
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کامیاب آپریشن پر مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی ۔پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تمام اثاثے محفوظ ہیں ۔ترجمان کاکہناتھاکہ لگنے والی آگ طیاروں میں نہیں بلکہ عمارت میں لگی تھی، دہشتگردوں سے راکٹ لانچر اور دیگر اسلحہ بھی ملاہے ۔
واضح رہے کہ گذشتہ شب نامعلوم حملہ آوروں نے ایئرپورٹ پر حملہ کردیاتھا اور طیاروں کی طرف جانے کی کوشش کی تاہم اے ایس ایف کی مزاحمت پر دہشتگردوں کو منہ کی کھانا پڑی ۔
http://dailypakistan.com.pk/national/09-Jun-2014/110952

اتوار کی رات کراچی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر طالبان جنگجوؤں کے حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کر دی گئی۔

ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کی اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیکورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس دہشت گرد ایئرپورٹ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کرتے ہوئے دو مقامات سے ایئرپورٹ میں داخل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، حملہ آور ایئر پورٹ پر موجود تمام طیاروں کوتباہ کرناچاہتے تھے اور ان کا مقصد پاکستان کے شہری ہوا بازی کے نظام کو مفلوج کرنا تھا۔

ایئر پورٹ پر حملہ دہشت گردی کی معمولی کارروائی کا ٹریلر نہیں تھا بلکہ ریاست مخالف عناصر کی طرف سے کھلا اعلان جنگ ہے ۔ حملہ آور فوکر گیٹ کی جانب سے داخل ہوئے، اصفہانی ہینگر پہنچے اور جدید وخودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کرتے ہوئے اولڈ ٹرمینل تک پہنچ گئے اور مورچہ بند ہو کر مسلسل فائرنگ کرتے رہے، حملہ آوروں کی حتمی تعداد کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا، پاک فوج کے دستے، پولیس و رینجرز کی بھاری نفری اور کمانڈوز بکتربند گاڑیوں سمیت ایئرپورٹ پہنچ گئے اور ان کا بروقت گھیرائو کر لیا ، بعض دہشت گرد شاپنگ بیگ میں بھی اسلحہ لیے ہوئے تھے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ کئی گھنٹے تک مقابلے کے لیے آئے تھے۔
انٹیلی جنس ذرایع نے بتایا کہ حملے کے وقت ایئرپورٹ پر 3 فلائٹس میں بورڈنگ کا عمل جاری تھا ، حملہ آور طیاروں کی مینٹیننس کے ایریا سے ایئرپورٹ میں گھسے اور وقوعہ کے وقت کئی طیارے وہاں موجود تھے لیکن حملہ آور جناح ٹرمینل کی جانب ہی بڑھتے رہے ، مینٹیننس ایریا سے جناح ٹرمینل پر جہاں جہازوں پر بورڈنگ کا عمل جاری تھا تک کا فاصلہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر ہے جسے دہشت گرد جلد از جلد عبور کرنا چاہتے تھے لیکن ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کی جانب سے بروقت کارروائی کی وجہ سے وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور ازبک یا چیچن معلوم ہوتے تھے ۔
اگست 2012 ء میں کامرہ بیس پر بھی حملے کا یہی انداز تھا ۔ تاہم آرمی کمانڈوز اور پولیس و رینجرز کی مجموعی طور پر کائونٹر ٹیررازم کی بر وقت حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایئر پورٹ پر حملہ آوروں کے نیٹ ورک کی فعالیت ، جارحانہ حملے اور اہداف و حساس تنصیبات تک مجرمانہ رسائی کے باوجود وہ ایئرپورٹ کی مکمل تباہی کے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔بہر کیف گزشتہ روز ملک میں جو دو بڑے دردناک واقعات ہوئے وہ دہشت گردی میں شدت کے ایک نئے زاویئے کا پتا دیتے ہیں،ارباب اختیار اس امر کا ادراک کریں کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے بات چیت کے علاوہ بھی قابل عمل آپشنز کو مد نظر رکھنا اشد ضروری ہے ۔
اس لیے سلامتی پر مامور اداروں کا یہ محسوس کرنا ناگزیر ہوگیا ہے کہ ریاستی رٹ قائم ہوئے بغیر معاملات قطعی درست نہیں ہوسکتے جب کہ ایئر پورٹ سانحہ کے بعد طالبان سے مذاکرات کرنا بذات خود ایک بڑا سوالیہ نشان اور حکومت کے لیے ایک آزمائش ہے جس سے عہدہ برآ ہونا ارباب اختیار کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم اسی ہفتہ قومی سلامتی کے دیگر امور کے علاوہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دہشت گرد کارروائیوں کے حوالے سے اہم اجلاس میں بات چیت کے ممکنہ آپشن پر غور کریں گے اور پاک فوج اور قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے اتفاق رائے سے حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔

http://www.express.pk/story/261196/

Karachi-Airport3-400x300

آج انسانیت کو دہشت گردی کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں اور مسلسل دہشت گردی پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ بن چکی ہےاور ہر پاکستانی ملک کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور دہشت گردی کے گھمبیر سائے لمبے ،گہرے اور طویل ہوتے جا رہے ہیں۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہے.پولیس اور مسلح افواج پر حملے کئے جا رہے ہیںاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔ دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں . طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا ۔

140609082400_karachi_airport_624x351_ap
انتہا پسند قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں. دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے، دہشتگردی ہے اور جہاد نہ ہے۔ جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے۔
کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ جہاد و قتال تو الہہ تعالی کی خشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے الہہ کی راہ میں کیا جاتا ہے۔ ذاتی بدلہ لینا قبائلی روایات اور پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہیں ہے۔
دنیا کی کوئی ریاست مسلح عسکریت پسندوں و دہشت گردوں کو اس بات کی اجازت نہ دے سکتی ہے کہ وہ درندگی کے ساتھ عوام پر اپنی خواہش مسلط کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ریاست اپنی خودمختاری قائم نہیں رکھ سکتی . بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد آمیز مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ یہ وہی عسکریت پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ آوروں کے خلاف لڑیں یا پھر ان کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کا ناسور قوم کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں نے نا صرف قومی اثاثوں کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ پولیس ، رینجرز، ایف سی اور فوج کے جوانوں کو قتل کیا اوراس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عام شہریوں کے خون سے بھی جی بھر کے ہاتھ رنگے اور ابھی تک رنگ رہے ہیں۔دہشت گردی اب پاکستان کا سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے جس کا حل پاکستانی کے اندرونی حالات کے ساتھ پاکستان کے باہر کے حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
طالبان ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟
اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ طالبان ،جاہلان جہاد اور قتال کے فرق کو اور ان سے متعلقہ تقاضوں سے کماحقہ واقف نہ ہیں۔
طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ طالبان اقلیت میں ہونے کے باوجود اکزیتی فرقوں کے لوگوں کو بندوق کے زور پر یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کیخلاف جنگ اسی وقت ختم ہو گی جب جنگجو وں کا مکمل طورپر خاتمہ  ہوجائے گا۔یہ لوگ معاشرے اور ملک کیلئے خطرہ ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں ،ایسے ملک اور اسلام دشمن عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)
طالبان ،لشکر جھنگوی، جندوللہ اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں ۔ دہشت گرد گروپوں کےطاقت کے بل بوتے پر من مانی کرنے کے بڑے دورس نتائج نکل سکتے ہیں۔

 

Advertisements