اسلام آباد ،مزار پر دھماکہ


Islamabad-Bari-Imam-shrine_teznewsonline

اسلام آباد ،مزار پر دھماکہ
شہزاد ٹاﺅن میں پنڈوریاں کے قریب چن پیر دربار پردھماکے میں 54 افراد زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکہ پنڈوریاں کے قریب پیر چن شاہ کے دربار پر پیش آیا جہاں عرس کی تقریبات کے سلسلے میں میلے لگایا گیا تھا۔ دھماکہ مزار کے احاطے میں موجود درخت کے ساتھ نصب بم کے ذریعے کیا گیا جس کے نتیجے میں 44 کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو پمز ہسپتال، پولی کلینک اور بے نظیر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بیان کی جا رہی ہے۔

724918-Shrine-1403300870-224-640x480

پولیس، رینجرز اور کمانڈوز کا علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ چیف کمشنر اسلام آباد جواد پال نے واقعے میں 54 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دھماکہ تھانہ شہزاد ٹاﺅن کی حدود میں پنڈوریاں کے مقام پر چن پیر بادشاہ کے مزار کے ساتھ واقع ننگے بادشاہ کے مزار پر ہوا۔مزار پر عرس کا دوسرا روز جاری تھا اور یہاں 200 کے قریب افراد موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 34 افراد کو پمز، 9 کو بےنظیر ہسپتال اور 11 کو پولی کلینک میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ دوسری جانب عینی شاہدین اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکہ لنگر کی تقسیم کے دوران ہوا جس کے نتیجے میں 70 سے 80 افراد زخمی ہوئے۔ ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ مزار پر سیکیورٹی کیلئے پولیس کی موجودگی کے باوجود واقعہ انتہائی تشویشناک ہے، ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں سے بھی تفتیش کی جائے گی۔
http://dailypakistan.com.pk/national/20-Jun-2014/114789
تازہ ترین خبروں کے مطابق ایک زخمی ہلاک ہو گیا ہے۔

http://urdu.dawn.com/news/1006113/

mazar-604x270
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ سیرت و کردار کے زور سے پھیلا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کا سہرا اولیاء کرام اور صوفیاء عظام کے سر ہے اور اس خطہ میں ان نفوس قدسیہ کا وجود اﷲ کریم کا بہت بڑا انعام ہے۔ جو کام غازیان اسلام کی شمشیر اَبدادر ارباب ظواہر کی علمیت سے نہ ہو سکا وہ خدا وند تعالیٰ کے ان مقبول و برگزیدہ بندوں نے بخوبی اپنے اعلی سیرت و کردار سے سرانجام دیا۔ انہوں نے شبانہ روز محنت اور اخلاق حسنہ سے بر صغیر پاکستان و ہندوستان کو نور اسلام سے منور کیا اور اسلام کے ننھے منے پودے کو سر سبز و شاداب اور قد آور درخت بنا دیا۔ ہمارے اسلاف اور اولیائے کرام نے مکالمہ کے ذریعے لوگوں کو پرامن رکھا اور طاقت کے ذریعے اپنے نظریات اور افکار مسلط نہیں کئے۔
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔

PAKISTAN-UNREST-BLAST

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے لیکر حضرت معین الدین چشتی اور سید علی ہجویری تک کسی ایک نے بھی کبھی مزار پرستی کی تعلیم نہیں دی ۔تصوف کا مقصد تو روحانی اصلاح ہوا کرتا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کی لہر نے اب ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے۔ پہلے بازاروں ، سرکاری دفاتر ، مساجد پر بم دھماکے ہوتے تھے اب کچھ عرصے سے اولیا اکرام اور بزرگان دین کے مزاروں پر بم دھماکوں کو سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جس سے عوام کی بےچینی اور خوف ہراس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مزاروں پر ہونے والے ان بم دھماکوں کے باعث عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کون سی ایسی جگہ ہے جو دہشت گردی سے محفوظ ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مساجد،عبادتگاہوں،نماز عید کے اجتماعات،قبائلی جرگوں،زيارت گاہوں حتٰی پبلک مقامات پر دھماکے اور حملے کئے ہیں۔یہ دھماکوں کے ذریعے ملک میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں،لیکن اس طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں سے حکومتیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔یہ بات یہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ دہشت گردوں نے 36مزارات کو خودکش حملوں اور دھماکوں کا نشانہ بنایا اور چھ دربار صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور 200 علماء و مشائخ نے شہادت پائی۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات امن کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔
پتہ نہیں ان طالبان دہشت گردوں کو ان اولیا اکرام اور بزرگان دین سے کیا چڑ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں میں دہشت گردوں نے صوفیاء کرام کے آٹھ مزاروں کو اپنےحملوں کا نشانہ بنایا جن میں لاتعداد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ صوفیاء کرام کے مزارات اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے عسکریت پسندوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے لیے عوام کی حمایت ایک قیمتی اثاثہ ہونی چا ہیے جبکہ بازاروں ، مساجد اور مزارات جیسے عوامی مقامات پر خود کش حملے،تحریک طالبان کو یقینی طور پر عوامی نفرتوں کا ہدف بنارہے ہیں۔ اگر پاکستانی طالبان کچھ بھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں تو وہ ایسی کارروائیاں سے اجتناب کریں۔ طالبان کی یہ کاروائیاں ان کی نام نہاد جدوجہد کے لیے زہر ہلاہل ثابت ہوسکتی ہیں بلکہ ہو رہی ہیں۔
دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہےجس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑےمقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔ اسلام امن کامذہب ہےخوف و ہراس اور قتل وغارت گری سے منع کرتاہے ۔
دہشت گرد، دہشت گردی کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے اور شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچا کر خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں تاکہ حکو مت کو دباو میں لا کرحکومت سےاپنے مطالبات منوا لیں۔
انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں. بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے .
اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور لشکر جھنگوی ، دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے. بے گناہ لوگوں کا قتل فسادفی الارض اور اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔
انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. خودکش حملوں کے ضمن میں پاکستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث کےجید علماء خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں. بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے . فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔
اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔ عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔ بے گناہ لوگوں کا قتل فسادفی الارض اور اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام اورپاکستان سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان دنیا بھر اور پاکستان میں دہشت گردی کے میزبان ہیں۔طالبان بندوق کے زور پر اپنے سیاسی نظریات پاکستانی عوام پر ٹھونسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں اسلام اولیائے اللہ کی تبلیغ اور حسن کردار سے پھیلا۔ ان برگزیدہ ہستیوں کے مزار اور مقابر صدیوں سے مرجع خلائق ہیں۔ لوگ اپنے اپنے ایمان عقیدے اور یقین کے مطابق ان مزاروں پر حاضری دیتے اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں جنہیں اس مسلک سے اختلاف ہے وہ بھی ان ہستیوں کا دلی احترام کرتے اور ان کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں۔ سیکڑوں سال سے اس پر عمل ہورہا ہے اختلاف رائے کے باوجود اس پر کوئی جھگڑا یا خونریزی نہیں ہوئی۔ آج اگر اولیااللہ کے درباروں پر حملے ہورہے ہیں تو ان میں پاکستان کے داخلی حالات اور خارجی عناصر کے عمل دخل کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
در حقیقت صوفیائے کرام کی تعلیمات تمام مسلمانوں کو امن، اخوت،بھائی چارے کا درس دیتی ہیں موجودہ نفسا نفسی اور دہشت گردی کے عروج کے دور میں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ملک سے بدامنی و دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ ہم سب لسانی،گروہی ، مذہبی و مسلکی اختلافات کو بھلا کر نچلی سطح پر قیام امن کیلئے جدوجہد کریں۔

 

Advertisements