پی آئی اے کا طیارہ تباہ کرنے کی کوشش


140624210815_pakistan_international_airlines_624x351_pakistaninternationalairlines

پی آئی اے کا طیارہ تباہ کرنے کی کوشش
پشاور میں پاکستان ائیرلائنز (پی آئی اے) کی پرواز پر لینڈنگ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون مسافر جاں بحق ہو گئی ہے جبکہ فلائٹ سٹیورڈ اور ایک مسافر زخمی ہو گئے ہیں ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے شہر ریاض سے پشاور آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 756 ائیرپورٹ پر لینڈ کر رہی تھی کہ نامعلوم مقام سے طیارے پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک فلائٹ سٹیورڈ اور 2 مسافر شدید زخمی ہو گئے۔ پائلٹ نے جہاز کو بحفاظت ائیرپورٹ پر لینڈ کر لیا جس کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ خاتون مسافر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں جبکہ فلائٹ سٹیورڈ کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

news-1403677191-6715

Pakistan-peshawar-bachakhanairport_6-25-2014_151835_l

ذرائع کے مطابق طیارے پر فائرنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ائیرپورٹ کے اطراف میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ائیرپورٹ انتظامیہ جہاز کا معائنہ بھی کر رہے ہیں اور طیارے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/peshawar/24-Jun-2014/116160

A man sits beside the body of a woman who was killed on board a PIA plane, as the ambulance carrying them arrives at a hospital in Peshawa

news-1403637870-3564
پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے کہا کہ سعودی دارالحکومت ریاض سے آنے والی پرواز پر لینڈنگ کے دوران فائرنگ کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون مسافر ہلاک ہوئیں جبکہ فلائٹ سٹیورڈ اعجاز خان اور واجد خان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

Pakistan-peshawarairportfiringreport_6-25-2014_151846_l
ترجمان کا کہنا تھا کہ کپتان طارق چوہدری نے فائرنگ کے باوجود نہایت مہارت سے جہاز کو ہوائی اڈے پر اتار لیا۔
باچا خان انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر طیارے پر فائرنگ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ، نو گھنٹے بعد پشاور ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن شروع کر دیا گیا۔تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ روز ریاض سے پشاور آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 756 پر لینڈنگ کے دوران نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ گولیاں لگنے سے مسافر خاتون دم توڑ گئی ، فائرنگ کی زد میں آکر دو فلائٹ سٹیوارڈز بھی زخمی ہوگئے،طیارے پر فائرنگ باڑہ روڈ کے قریبی علاقے سے کی گئی،فائرنگ کے تین منٹ بعد طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی،گولیاں جہاز کے اگلے اور پچھلے حصے میں 12 گولیاں لگیں اور ایک گولی طیارے کے انجن نمبر ٹو کو بھی لگی، فائرنگ کے بعد پشاور ائیرپورٹ پر فلائٹ آپریشن ملتوی کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد پاک فوج اور پولیس نے باڑہ روڈ کے علاقوں سربند ، لنڈی اخون احمد ، پشتخارہ بالا اور اچینی میں سرچ آپریشن کیااور اس دوران سو سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا جس کے بعد صبح 8 بجے باچا خان ائیرپورٹ پرفلائٹ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ فلائٹ آپریشن ملتوی ہونے کے باعث پشاور سے بیرون و اندرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں تاخیر کا شکار ہوگئیں۔

1403655127018.jpg-620x349

طیارہ حملہ کیس میں نشانہ بننے والے ایئربس طیارہ کو آٹھ سے نوگولیاں لگیں ۔ طیارہ کو عارضی طورپر گرائونڈ کر دیا گیا ہے ۔ جس کے نقصانات کا ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی بارگولیوں کا نشانہ بننے والے ایئربس میں 310 مسافروں کی گنجائش ہے۔ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق طیارے پر رات کے گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ پی آئی اے حکام نے حملےکا نشانہ بننے والے طیارے کو عارضئ طورپرگرائونڈ کر دیا ہے اور اس کے نقصانات کا جائزہ لیا جارہاہے۔ مقامی انجیئنرز نے طیارے کا ابتدائی جائزہ لیا ہے جبکہ اس کا حتمی جائزہ کے لئے کراچی سے انجینئرز پشاورپہنچ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک گولی انجن نمبر دواور باقی جہاز کی باڈی کو لگیں۔

index
باچا خان ایئر پورٹ پر طیارے پر فائرنگ میں ملوث گروپ کی شناخت کر لی گئی ہے ۔ گولیاں درہ آدم خیل کے علاقے مانی خیل نہر سے چلائی گئیں ہیں اور اس میں مقامی شدت پسند گروپ ملوث ہے۔ پولیس کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ دہشت گردی کا شاخسانہ لگتا ہے ،فائرنگ ایس ایم جی سے کی گئی ہے اور فائرنگ کرنے والا درہ آدم خیل کا مقامی دہشت گرد گروپ ہے۔پولیس کے مطابق واقعہ میں کالعدم تحریک طالبان درہ آدم خیل کے شاہد گروپ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

باچا خان انٹر نیشنل ایئر پورٹ پرپی آئی اے کی ریاض سے پشاور آنے والی پرواز پر فائرنگ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے طارق گیدڑ گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔نجی ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صوبائی دارلحکومت کے قریبی علاقے سلیمان خیل میں ایک سکول کی چھت سے ائیر بس کو منگل کی رات اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اتر رہی تھی، یہ سکول گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے بند تھا اور اس کا چوکیدار ڈیوٹی سے غیر حاضر تھا، حملہ آوروں نے فائر رینج کو بڑھانے کے لیے اے کے47 کے ساتھ اضافی بیرل اور طیارے کو یقینی ہدف بنانے کے لیے ٹریسر گولیوں کا استعمال کیا۔دوسری جانب پولیس نے واقعہ کے بعد نودے بالا، پستہ کھرا اور سلیمان خیل سےپوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیے جانے والے دو سو سے زائد لوگوں کو رہا کر دیا۔ خفیہ اداروں کی جانب سے ملنے والی معلومات کے بعد تحقیقات کا دائرہ پھیلا دیا گیا ہے۔

ادہرطالبان القاعدہ گروپ مہمند ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی کے امیر یوسف رضا مجاہد نے گزشتہ روز پشاور ائرپورٹ میں جہاز پر ہونے والے حملے اور خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں کی گئی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالبان کیساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بدلہ ہے، نامعلوم مقام سے صحافیوں کیساتھ ٹیلفونک بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مجاہدین کا آج جمعہ کو القاعدہ طالبان کے مشران کا پاکستان اور باہر ممالک کے بڑے علمائے کرام کیساتھ ٹیلیفون کے ذریعے مشترکہ اجلاس کا انعقاد ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ رمضان المبارک کے احترام میں جنگ بندی پر غور وحوض کیاجائےگا۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=212379

خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور ہلاک ہونے والی مسافر خاتون کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔

5548536-3x2-700x467
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیںاور جن کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے ملک کے وجود کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں. طالبان دہشت گرد امن کےد شمن اور انسانیت کے قاتل ہیں۔۔ انتہاپسند دہشت گردوں کا طرزِعمل اسلام اور شریعت کے منافی ہے۔ 50 ہزار سے زائد بے گناہوں کو قتل کرنے کا جرم ناقابل معافی ہے۔ مزاروں، مسجدوں، مارکیٹوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، جنازوں، غیرملکی کھلاڑیوں، سیاحوں، علماءو مشائخ اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والے مسلمان نہیں بلکہ حیوان ہیں۔ پاکستانی طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں.مسلم ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والوں کو کچلنااسلامی شریعہ کے مطابق احسن طریقہ ہے۔ بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں۔ دہشت گرد فساد فی الارض کے مجرم اور جہنمی ہیں۔ خودساختہ تاویلات کی بنیاد پر مسلم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا اسلامی شریعہ کے مطابق درست نہ ہے ۔ اسلام ہرگز نجی جہاد کی اجازت نہیں دیتا۔

a22-556x330

آج انسانیت کو دہشت گردی کے ہاتھوں شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔
دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں .طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں. طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک 102.51ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے۔گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو 28 ارب 45 کروڑ 98 لاکھ ڈالرکا نقصان اٹھانا پڑا .
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اورطالبان اسلا م اور پاکستان کے دشمن ہیں ان کی اختراع وسوچ اسلام مخالف ہے اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے .انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. . اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے .کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ سورۃ المائیدہ آیت نمبر 33:
5:33 (ان کی یہی سزا ہے جو الله اوراس کے رسول سے لڑتے ہیں اورملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ ان کو قتل کیا جائے یا وہ سولی چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔)
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔بدلہ لینا،پشون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہ ہے۔جہاد اللہ کے راستہ میں خدا کی خشنودی کے لئے کیا جاتا ہے،طالبان کی تمام کاروائیاں دہشت گردی کے زمرہ میں آتی ہیں۔
طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ مذہب، عقیدے اور کسی نظریے کی بنیاد پر قتل وغارت گری اور دہشت گردی ناقابل برداشت ہے ۔ جسکی اسلام سمیت کسی مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔
طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔   قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے ۔.
.کیا طالبان نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورتوں، بچوں اور بوڑھوں پر حملہ کرنا حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

 

Advertisements