طالبان کا کاروبار، اغوا برائے تاوان


news-1406839121-8599

طالبان کا کاروبار، اغوا برائے تاوان

طالبان، پاکستان میں نام نہاد جہادکی آڑ میں مختلف طرح کے غیر قانونی،غیر اخلاقی اور غیر شریعی کاروبار وں میں مشغول ہیں ۔ اسلامی شریعہ کی رو سے جہاد، اللہ کی راہ میں ،اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں طالبان ،پاکستان،حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف نام نہاد، جہاد میں مصروف ہیں اور یہ جہاد، حقیقی معنوں میں جہاد نہ ہے۔ طالبان جہاد کی آڑ میں ایک شرمناک کھیل ،کھیل رہےہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ایک اسلامی ملک اور مسلمانوں کے خلاف جہاد کا خیال ہی خلاف شریعہ، احمقانہ ،قابل اعتراض و ناقابل عمل ہے۔ طالبان قران اور اسلام کی غلط تشریحات کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیںاور بےوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

WO-AT204_PAKKID_G_20140730191543

تحریک طالبان پاکستان ملک بھر میں خود کش بمباروں و دہشت گردوں، معاونت اور سہولیات فراہم کرنے والوں، ہمدردوں اور ساتھیوں کے ایک انتہائی مضبوط و منظم اور خطرناک نیٹ ورک چلاتی ہے۔ اس نیٹ ورک کو طالبان کی اتحادی و ہم خیال دوسری جہادی تنظیموں بشمول القائدہ اور ان کے کارکنان کی عملی اعانت او ر مدد و حمایت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس تمام نیٹ ورک کو چلانے اور افرادی قوت کی بھرتی وغیرہ کیلئے روپے و پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جو طالبان لاتعداد غیر قانونی و غیر اخلاقی اور خلاف شریعہ ذرائع سے اکٹھا و حاصل کرتے ہیں۔طالبان کے مالی وسائل کے لا تعداد ذرائع ہیں جن میں خاص طور پر ان سے ہمدردی رکھنے والے مقامی اور غیر ملکی افراد کے چندے وعطیات، زکواۃ ، نیٹو کے ٹرکوں کا اغوا اور لوٹ مار و ڈاکہ زنی و بنک ڈکیتیاں جو طالبان ، بلیک نائٹ گروپ کے ذریعہ پاکستان بھر میں کرتے ہیں معروف کاروباری،غیر ملکی اور حکومتی افراد کا اغوا برائے تاوان، اور بیرون ملک مقیم یا پاکستان میں کاروبار کرنے والے جہاد پسند عناصر کی جانب سے دی جانے والی امدادی رقوم اور القائدہ سے ملنے والی رقوم شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں طالبان پاکستان کے دشمنون سے مدد لینے کو عار نہیں سمجھتے اور اس کا اعتراف خود مرحوم حکیم اللہ محسود نے کیا تھا۔ طالبان نے پاکستان شیل اور پی ایس او سے ۴۰ کروڑ روپیہ بطور تاوان طلب کیا اور عدم ادائیگی کی صورت میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کی دہمکی دی۔
انٹیلیجنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلٰی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ اغوا برائے تاوان اور دوسرے جرائم سے حاصل ہوتا ہے۔
کراچی اور پشاور میں کوئی دن خالی نہیں گزرتا جب طالبان یا ان کے ساتھی بہت سے افراد کو اغوا نہ کرتے ہوں۔ کراچی اور پشاور اس حوالے سے انتہائی خطرناک شہر ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان صوبہ سرحد اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اپنے زیر اثر علاقوں میں خود کارروائیاں کرتی ہے جبکہ دیگر مقامات پر وہ دیگر جہادی تنظیموں اور ساتھیوں کی مدد سے سرگرم عمل ہے۔
صوبہ سرحد میں مقیم ایک انٹیلیجنس افسر کے مطابق، ایک وقت ایسا آ گیا تھا کہ اغوا برائے تاوان کی روزانہ پچاس وارداتیں معمول بن گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اغوا کار لاکھوں روپے تاوان کا مطالبہ کرتے تھے اور پولیس کی مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث متاثرہ شخص کے اہل خانہ کو تاوان ادا کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کٹھن وقت تھا اور کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔
یہاں تک کہ اسلام آباد کےایک سابق انسپکٹر جنرل پولیس کلیم امام کے ایک قریبی عزیز کو پشاور سے اغوا ہونے کے بعد 50 لاکھ روپے (59,571 امریکی ڈالر) تاوان کے عوض رہا کرایا گیا۔ اسی طرح کا واقعہ کوہاٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ بھی پیش آیا۔ شہباز تاثیر کو طالبان نے اغوا کر رکھا ہے۔ افغانستان مین پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کو بھی طالبان نے ہی اغوا کیا تھا۔ طالبان نے سابق وزیراعظم جناب یوسف رذا گیلانی کے بیٹے کو اغوا کر رکھا ہے۔
طالبان کے مختلف دھڑوں میں بٹنے سے پاکستان میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا۔دہشت گرد اپنی سرگرمیوں کے لئے مجرمانہ انداز کارروائیوں کے ذریعے فنڈز اکھٹا کر رہے ہیں۔کراچی اور اسلام آباد سمیت دیگر علاقوں میں ایسی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان میں بڑھتی گروہ بندی سے امیر تاجروں اور بااثر شخصیات کے اغوا میں اضافہ ہو گیا ہے ۔پاکستانی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق مختلف دھڑوں میں بٹی تحریک طالبان پاکستان گزشتہ دو سال سے اس طرح کے زیادہ جرائم کر رہی ہے۔عسکریت پسند گروپ اس طرح کی کارروائیوں کے لئے زیادہ فعال ہیں۔متاثرہ خاندان پولیس پر بد اعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ ہی درج نہیں کراتے بلکہ نجی طور پر اغوا کاروں سے مذاکرات کرکے تاوان اداکرتے ہیں۔سیکورٹی حکام نے خبردار کیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف فوجی آپریشن سے شہروں میں عسکریت پسندوں کی ایک نئی لہر آئی ہے اور اس کے نتیجے میں مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کراچی عسکریت پسندوں کے لئے ایک اہم مالیاتی ذریعے میں تبدیل ہو چکا ہے۔کراچی پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ کے سربراہ نیاز کھوسو کا کہنا ہے کہ طالبان زیادہ تر شہر کے نسلی پشتون علاقوں کو نشانہ بنا تے ہیں عسکریت پسندوں کی قیادت میں زیادہ تر پشتون ہیں اور پشتون تاجر پشتون ڈرائیوروں، باورچیوں اور گارڈز کو رکھتے ہیں۔ کراچی میں سیکورٹی آپریشن اس امید سے شروع کیا گیا تھاکہ ملک کے مالیاتی مرکز اور اہم بندرگاہ میں امن و امان قائم کیا جاسکے لیکن پولیس کے مطابق آپریشن طالبان کے اغوا کی کارروائیوں کو روکنے میں ناکام رہاہے۔ کراچی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ یہ عناصر کنٹرول سے باہر ہیں۔پنجاب پولیس افسر کا کہنا ہے کہ طالبان آمدنی کے ایک حصے کے بدلے اغوا کاروں کے گروہوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں ان کی پناہ گاہوں تک رسائی رکھتے ہیںکچھ کیسز میں عام جرائم پیشہ افراد مغوی افراد کو طالبان سے منسلک گروہوں کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں جو متاثرین کے خاندانوں سے بہت زیادہ تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جنوری میں ایک ہائی پروفائل کیس میں طالبان سے منسلک ایک گروپ نے ملتان سے پارلیمنٹ کے ڈپٹی سیکٹری معظم کالرو کواغوا کر لیا جسے تین ماہ تک کوہاٹ میں رکھا گیا، اس کیس کی تحقیق سے وابستہ دو پولیس حکام کے مطابق اس کے خاندان والوں کی طرف سے50لاکھ روپے(پانچ لاکھ ڈالر) کی ادائیگی کے بعد معظم کالروں کی رہائی ممکن ہو ئی۔تاوان کی اتنی ہی رقم دیگر مغوی کی رہائی میں طالبان کوتاوان میں ادا کی گئی۔طالبان ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ا س بات کی تردید کی کہ طالبان اغوا کار گروہوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔انہوں نے ایک بھونڈا سا جواز دے کر کہا کہ اسلام اپنے دشمنوں کے اغوا اور قتل کا جواز فراہم کرتا ہے ہم دوسرے دشمنوں کی رقم لے سکتے ہیں، لیکن ہم بے گناہ مسلمانوں کو نشانہ نہیں بناتے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کاتجارتی مرکز کراچی طویل عرصے سے اغوا کی وارداتوں کا مرکز ہے، لیکن طالبان اور اس کے دیگر دھڑوں کے ملوث ہونے سے ان جرائم میں اب تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔طالبان نے اغوا کی وارداتوں کا سلسلہ اسلام آبا د اور دیگر ان علاقوں تک بھی پھیلا دیا ہے جہا ں یہ جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔پنجاب پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں2013میں132اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہوئی جب کہ 2012میں یہ اعدادوشمار 160رہے۔ لیکن پولیس فورس حکام کا کہنا ہے کہ درست تعداد موجود ہی نہیں۔کئی ایسے اغوا کے واقعات ہوئے جو رپورٹ نہیں ہوئے کچھ رپورٹ ہوئے مگر انہیں رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔اسلام آباد میں 2014کے پہلے چھ میں پانچ اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے، 2013 کے اسی عرصے میںنو واقعات ہوئے۔اسلام آباد کے ایک فیکٹری مالک جسے ستمبر 2013 میں اغوا کیا گیا اس کے خاندان نے تاوان دے کر ان کی رہائی ممکن بنائی اخبار کے مطابق انہوں نے پولیس کو رپورٹ نہیںکیا۔ انہوں نے واقعے کی تفصیلات پر بات چیت کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ زیادہ تر متاثرین پولیس پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ان کو بتانے سے گریز کرتے ہیںوہ اغواکاروں سے نجی طور پر مذاکرات کرکے ادائیگی کردیتے ہیں۔اسلام آباد کے سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے پولیس کو بتا دیا تو اغوا کار ان کے پیاروں کے نقصان پہنچائیں گے۔
اک عجب تماشہ ہے کہ طالبان غیر قانونی،غیر اخلاقی اور اسلامی شریعت کے منافی، لو ٹ مار سے ، دولت و طاقت حاصل کرکے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے درپے ہیں اور اکثریت پر ، جو کہ مذہبی رواداری اور بھائی چارے پہ یقین رکھتی ہےاپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان حرام اور حلال کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہی غلط طریقوں و خیالات و اقدار پر رکھی گئی ہے ، اس عمارت کا انجام کیا ہو گا جس کی بنیاد ہی غلط اور ناپائیدار ہو؟

Advertisements