تحریک طالبان میں شدید پھوٹ پڑ گئی


757845-shahidullahshahidINP-1409848751-637-640x480

تحریک طالبان میں شدید پھوٹ پڑ گئی
کالعدم تحریک طالبان کی تنظیم کے اندر قیادت کے لیے جاری رسہ کشی نے مزید ابتر صورت اختیار کر لی ہےجس سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان شدید اختلافات سے دوچار ہوگئی ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان نے مہمند ایجنسی کے سربراہ کمانڈر عمر خالد خراسانی کو ’امارت اسلامی افغانستان‘ کے امور میں مسلسل مداخلت، جنود خراسان اور احرار الہند جیسی مشکوک تنظیموں کے ساتھ روابط اور الحاق کی بنا پر معزول کر دیا ہے۔

626811-image-1383508753-633-640x480

تحریک کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشاورت کے بعد نئے سربراہ کا اعلان کر دیں گے۔تحریک طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان ’امارت اسلامی افغانستان‘ کو اپنا مرکز اور ملا محمد عمر مجاہد کو اپنا شرعی امیر سمجھتی ہے اور اپنے جملہ امور اور مسائل کو اسلامی اصولوں پر مبنی شورائی نظام کے ذریعے حل کرتی ہے۔

mullah_omar_670
شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ ’مسلمانوں اور مجاہدین‘ کے مابین بعض معاملات پر اختلاف رائےاور مسائل کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے تاہم ان کے شرعی حل سے انحراف اور ہٹ دھرمی نہایت خطرناک ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے اجتماعی نقصان پر منتج ہوتا ہے۔
’تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما کمانڈر خراسانی نے تحریک طالبان کی پالیسی کی واضح مخالفت کرتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان کے معاملات میں مسلسل مداخلت کر کے امت مسلمہ کی نظروں میں تحریک طالبان کو مشکوک بنانے کی کو شش جاری رکھی بلکہ بعض دفعہ تو نوبت باقاعدہ ٹکراؤ تک بھی جا پہنچی۔
ایسے ہی ایک معاملے میں امارت اسلامی کے خلاف باقاعدہ ایک بیان جاری کرنے کی بنا پر تحریک نے مہمند سے تعلق رکھنے والے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو معزول کر دیا تھا،اس کے علاوہ تحریک طالبان کے بعض حلقوں کو اپنے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کی بنا پربھی ان سے سخت شکوہ تھا۔ تحریک کی مرکزی شوری کو بھی بعض اہم معاملات میں ان کے مبہم اور غیر واضح کردار پر شدید تحفظات تھے۔‘
شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ انھوں نے مولانا فضل اللہ کی داخلی اصلاح کی اعلیٰ کوششوں سے فرار اختیار کرتے ہوئے اپنے حلقے کا احرار الہند نامی ایک ایسی تنظیم کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جس کا کردار تمام جماعتوں اور مسلمانوں کی نظروں میں نہایت مشکوک ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ اس سے قبل امارت اسلامی افغانستان میں جنود خراسان کے نام سے بھی ایسی ہی ایک مشکوک تنظیم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ’ان کا یہ منفی کردار جہادی جماعتوں میں افتراق اور انتشار پیدا کرنے کی خطرناک کوشش اور گھناونی سازش ہے۔‘
تحریک طالبان پاکستان ماضی میں اس مشکوک تنظیم سے کئی بار لاتعلقی کا اعلان کرچکی ہے لہذا تحریک اپنے کسی بھی رہنما یا عام ساتھی کو اس بات کی قطعا اجازت نہیں دےگی کہ وہ مسلسل تحریک کی پالیسی کو پامال کرےاور ایسی مشکوک اور منفی کردار میں ملوث جماعتوں سے تعلق رکھے۔

news-1410174456-6854_large
جواب میں احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ وہ اپنی تحریک سے مولانافضل اللہ اور ان کے گرد موجود ٹولے کی رکنیت کے خاتمےکا اعلان کرتے ہیں ۔
ان کا اصرار تھا کہ تحریک ایسے ہاتھوں میں چلی گئی جوخالص ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کی فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل نے جنم لیا اور نظم کےنہ ہونے سے ان کے اندر لڑائیاں شروع ہوگئی جس کی روک تھام کے لیے تحریک کے پاس کوئی پالیسی نہیں تھی۔
ان کا تحریک کی قیادت سے پوچھنا تھا کہ کمانڈر ندیم عباس عرف انتقامی جو کہ ضلع راولپنڈی کے امیر تھے کو کیوں قتل کیا گیا؟ ابھی تک ان پرکوئی شرعی فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا؟ حلقہ محسود کے 200 ہلاک شدگان کا خون کس کے ہاتھ پر ہے جو اپنے درمیان لڑائی میں مارے گئے تحریک نےان کے لیے کیا کِیا؟ عصمت اللہ شاہین بیٹنی کے قاتل کون ہے؟ طارق منصور آفریدی کو کس نے ہلاک کیا؟ اور قاتلوں کو سزا کیوں نہیں ہوتی جبکہ بقول ان کے قاتل مولانا فضل اللہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

PAKISTAN-UNREST-NORTHWEST-VIDEO
احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ معلوم ہوتاہے کہ تحریک طالبان (فضل اللہ گروپ) کا نہ کوئی نظم ہے اور نہ کوئی وجود بلکہ یہ اب چند افراد کا ٹولہ رہ گیاہے جو کہ تحریک کے نام پر اپنی مفادات کی تکمیل کر رہی ہے۔‘
’رہی بات عمر خالد خراسانی صاحب کی معزولیت اور رکنیت کے خاتمے کی تواب یہ ان کا اختیار نہیں ہے امیر محترم خالد خراسانی اب جماعت الاحرار کے سرکردہ رہنما ہیں ان کی معزولیت جماعت الاحرار کی شوریٰ کا اختیار ہے اور مہمندایجنسی کے لیے امیر جماعت الاحرار کی شوریٰ ہی مقرر کرسکتی ہے کیونکہ جماعت الاحرار ہی اکثریتی شدت پسندوں کی جماعت ہے اور یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ جماعت الاحرار کے قائدین قاسم خراسانی، عمرخالدخراسانی اور قاری شکیل ہی تحریک کے بانی ارکان ہیں تحریک کے نام کے حقوق ہمارے پاس ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس کا ایک بین ثبوت یہ بھی ہے کہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے خاندان ہمارے ہی نظم میں ہیں اور تحریک کے بانی ہونے کے ناطے ہم اسی طرح جنود خراسان نامی کسی تنظیم کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور جہاں تک احرارالہند کی بات ہے تو وہ مکمل طور پر واپس تحریک طالبان پاکستان (جماعت الاحرار) میں ضم ہوا ہے ان میں شامل مجاہدین کی اکثریت کا تعلق مالاکنڈ ڈویژن سے ہے۔

140826153423_jamaat_al_ahrar_pakistan_624x351_hasanabdullah
جماعت الاحرار کے احسان اللہ احسان نے مولوی فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں کو تحریک طالبان سے خارج کر دیا ہے۔ جماعت الاحرار کے امیر قاسم خراسانی نے تسلیم کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے اندر پھوٹ پڑنے کے سبب نیا گروپ قائم کیا گیا۔ جماعت الاحرار کا قیام تحریک طالبان پاکستان کے لیے ایک مشکل وقت پر سامنے آیا ہے کیونکہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی سے گروپ کی صلاحیتوں کو پہلے ہی کافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم تحریک طالبان پاکستان کے خاتمے کے آغاز کی علامت ہو سکتی ہے۔ طالبان اب واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک گروپ کی قیادت ملا فضل اللہ کر رہے ہیں۔ دوسرے کی امارت عمر خالد خراسانی کے پاس ہے جو جماعت الاحرار نامی باغی گروپ بنایا ہے۔ فضل اللہ تحریک طالبان پاکستان کے پہلے سربراہ ہیں جن کا تعلق محسود قبیلے سے نہیں ہے اور وہ اس قبیلے پر اپنی حکمرانی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد انہیں تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ بننے کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد سے وہ افغانستان میں روپوش ہیں۔

خراسانی اس سے قبل بھی الحرار الہند نامی گروپ کی سربراہی کر چکے ہیں جو رواں سال حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے سیز فائر کے درمیان ہونے والے حملوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔جماعت احرار نے داعش کی کھلی حمایت کی ہے۔

140822163605_afganistan_taliban_624x351_getty
تحریک طالبان احرار گروپ نے ٹی ٹی پی کی قیادت کے بیانات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی صفوں میں مجاہدین کے قاتل ملا فضل اللہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے خاندان ہمارے ساتھ ہیں، ٹی ٹی پی قاتلوں کا ٹولہ بن چکی ہے۔ ٹی ٹی پی احرار گروپ کے ترجمان اور سابق رہنما و ترجمان احسان اللہ احسان نے ٹی ٹی پیہ کی جانب سے جاری کردہ خط کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان ایک عسکری جماعت تھی اور شریعت اسلامی کے حصول کےلئے اس نظم کے اندر بہت سے شاہین صفت مجاہدین نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، اسکے علاوہ قید و بند کی صوبتیں برداشت کیں اور ہجرتوں کی مشکلات کا بھی سامنا کیا لیکن بدقسمتی سے یہ تحریک ان ہاتھوں میں چلی گئی جو ذاتی مفادات کےلئے کام کرتے ہیں۔ جماعت کے اندر قائدانہ صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ سے بہت سے مسائل نے جنم لیا اور مربوط نظم و ضبط نہ ہونے کی وجہ سے مجاہدین کے اندر لڑائیاں شروع ہوگئیں، جس کے نتیجے میں کئی نامور مجاہدین کا خون بہایا گیا۔ احسان اللہ احسان کے مطابق ایک تنظیم ہونے کے ناطے تحریک کی یہ ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرتے جنہوں نے مجاہدین کا قتل کیا۔
گروپ کا امیر مولانا قاسم خراسانی ایک آٹھ رکنی مرکزی شورٰی کا سربراہ ہے جس میں مہمند ایجنسی سے عمر خالد خراسانی، چار سدہ سے قاری شکیل حقانی، سوات سے مولانا یاسین، خیبر ایجنسی سے قاری اسماعیل، باجوڑ ایجنسی سے مولانا عبد اللہ، پشاور سے مفتی مصباح اور اورکزئی ایجنسی سے مولانا حیدر منصور شامل ہیں۔تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان اس گروپ کا ترجمان ہے۔ احسان اللہ احسان نے کہا کہ ٹی ٹی پی سربراہ مولوی فضل اللہ کے اندر اچھے قائد کی خوبیوں کی کمی ہے جس کے نتیجے میں متعدد کمانڈرز مارے گئے ہیں۔ اس نے کہا کہ جے اے ملا عمر کی برتری کا اظہار کرتا ہے اور وہ افغان طالبان لیڈر کی قائدانہ صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے۔
احسان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے کچھ عناصر جے اے اور افغان طالبان کے درمیان اختلافات کے لیے سازشیں کررہے ہیں۔جے اے کے ترجمان نے کہا کہ فضل اللہ کو ان افراد کے ناموں کو سامنے لانا چاہئے جو ٹی ٹی پی راولپنڈی کے کمانڈر ندیم عباس، عصمت اللہ شاہین اور طارق منصور آفریدی کے قتل میں ملوچ ہیں۔یہ پہلی بار ہے کہ طالبان سے متعلق گروپ نے ندیم عباس کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے ۔
مولانا قاسم خراسانی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک وڈیو میں تسلیم کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈروں کے درمیان گروپ کے نظریے پر پڑنے والی پھوٹ اور بعض کمانڈروں کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات کے سبب علیحدگی اختیار کی گئی۔ پھوٹ پڑنے کے اعتراف کے سبب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان غالباً اپنے خاتمے کے قریب ہے۔اس سے پہلے خان سید عرف سجنا ،تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کر چکے ہیں۔
ادہر پنجابی طالبان نے جمعے کے روز پاکستان میں اپنی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم اب افغانستان پر توجہ مرکوز کرے گی۔
گروپ کے سربراہ عصمت اللہ معافیہ نے ایک پمفلٹ میں کہا کہ ہم اپنی جہادی سرگرمیاں خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور پاکستان کی جہادی موومنٹ کی اندرونی صورت حال کے باعث افغانستان تک محدود کررہے ہیں۔ معاویہ کا کہنا ہے کہ گروپ افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں کام کرے گا جبکہ پاکستان میں ان کا کردار اب صرف اسلام کی تبلیغ کا ہوگا۔
سیکورٹی تجزیہ کار طلعت مسعود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ اعلان ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جس میں پہلے ہی سے پھوٹ پڑی ہوئی ہے اور یہ تنظیم ٹوٹنے لگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی متعدد گروپوں نے ملا فضل اللہ کو بطور سربراہ قبول نہیں کیا ہے جس کے باعث سنجیدہ نوعیت کے اختلافات سامنے آرہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ نئے گروپ کا اعلان تحریک طالبان پاکستان کی صفوں کے اندر سنگین بد انتظامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی سربراہ کے بغیر دکھائی دیتی ہے کیونکہ ملا فضل اللہ اسے افغانستان میں کسی جگہ بیٹھ کر چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور یہ کہ یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ کے قائدین اور مرکزی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نہیں تھی اور ان کے درمیان ہمیشہ سے اختلافات موجود تھے۔ یہ طالبان کے خاتمے کا آغاز ہے۔
پشاور یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی تجزیہ کار ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی نے کہا کہ جماعت الاحرار نے تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کی پالیسیوں کی کھلے عام مخالفت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ دیگر گروپوں کی جانب سے بھی علیحدگی اختیار کرنے اور اپنے حامیوں کو ساتھ لے جانے کا امکان ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کی آپس کی لڑائی اور شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی نے تحریک طالبان پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اسے کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

تاریخ کے اس اہم موڑپرٹی ٹی پی کے نام سے یہ تنظیم اندرونی اختلافات، دھڑے بندی اورمختلف مسائل سے دوچارہے۔ اس کے اندرونی اختلاف ہی کی وجہ سے اس کے سینکڑوں اہم لوگ اورعام جنگجوگزشتہ کچھ عرصے کے دوران نشانہ بنتے گئے۔اندرونی اختلافات کے علاوہ حکومتی آپریشنزنے بھی اس تنظیم کوقابل ذکرنقصان پہنچایا اورآج یہ حالت ہے کہ یہ اپنی نئی صف بندی کرنے کی سرتوڑکوشش کررہی ہے جس میں اسے اندرونی توڑپھوڑ کا سامنا ہے اوراب ملافضل اللہ کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان کواپنے ہی ناراض ساتھیوں پرمشتمل ایک بڑے دھڑے جماعت الاحرارپاکستان کا سامنا ہے۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان اورپنجابی طالبان بھی ناراض ہیں جوتنظیم کی موجودہ شکل اورحالت کے بارے میں کافی شکایات رکھتے ہیں تاہم ایک حقیقت بڑی واضح ہے کہ اس اہم موڑپرتنظیم کواپنی بقاکی جنگ درپیش ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کا کمزور قیادتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور انتشار اور افراتفری نے تحریک طالبان پاکستان کی صفوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تحریک طالبان میں قیادت کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور خراسانی گروپ ملا فضل اللہ کو امیر ماننے کے لئے تیار نہ ہے۔ اس پر ملا فضل اللہ نے عمر خراسانی کو تحریک طالبان سے خارج کر دیا ہے۔تحریک طالبان میں قیادت کی اس نئی جنگ اور طاقت کے حصول کے لیے ایک نئی رسہ کشی کا آغاز ہوگیا ہے،جس سے تحریک طالبان کی طاقت کو زبردست دہچکا لگا ہے۔ ملا فضل اللہ ایک غیر حاضر کماندار ہیں جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں،ان کا دوسرے کمانڈروں پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔کیونکہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔
پنجابی طالبان بھی تحریک طالبان سے خوش نہ ہیں اور گروپ کے سربراہ عصمت اللہ معافیہ نے ایک پمفلٹ میں کہا کہ ہم اپنی جہادی سرگرمیاں خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور پاکستان کی جہادی موومنٹ کی اندرونی صورت حال کے باعث افغانستان تک محدود کررہے ہیں۔ سیکورٹی تجزیہ کار طلعت مسعود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ اعلان ٹی ٹی پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جس میں پہلے ہی سے پھوٹ پڑی ہوئی ہے اور یہ تنظیم ٹوٹنے لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی متعدد گروپوں نے ملا فضل اللہ کو بطور سربراہ قبول نہیں کیا ہے جس کے باعث سنجیدہ نوعیت کے اختلافات سامنے آرہے ہیں۔طالبان عوام میں تیزی سے اپنی حمایت کھو رہے ہیں۔
اندرونی خلفشار اور قیادتی بحران کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے اور اس دہشت گرد تنظیم کا کمزور قیادتی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے اور نئے سربراہ ،فضل اللہ کے انتخاب کے بعد اندرونی رسہ کشی نے گروپ کے حوصلے مزید پست کر دیے ہیں اور ملا فضل اللہ بالکل ناکام ہو چکے ہیں اور رہی سہی کسر آپریشن ضرب عضب کے تباہ کن وار نے نکال دی ہے جس کی وجہ سے طالبان قیادت تتر بتر ہو چکی ہے ، ان کو بے پناہ جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تحریک طالبان کی بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔ ضرب عضب آپریشن نے تحریک طالبان پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اسے کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس پاکستان دشمن جماعت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

Advertisements