پنجابی طالبان کا دہشتگردی ختم کرنے کا اعلان


54144b5870fb5

پنجابی طالبان کا دہشتگردی ختم کرنے کا اعلان
کالعدم تحریک طالبان پنجاب کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نے عسکری کارروائیاں ختم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ دعوت تبلیغ کا کام کریں گے اور سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیں گے ، ملا فضل اللہ دہشت گردی اور بھتہ خوری کام کرواتے تھے، ہماری کردار افغانستان تک محدود رہے گا، پاکستان میں شرعی خطوط پر ایک مؤثر دعوتی کردار کا خلاء ہے ، ملک میں نفاذ اسلام اور باطل نظام جمہوریت کے چہرے سے پردہ ہٹانے کیلئے وسیع تر تحریک چلائیں گے ۔

140913170234_ttp-statement_549x549_bbc_nocredit

ہفتہ کو ایک خط میں کالعدم تحریک طالبان پنجاب کے سربراہ عصمت اللہ معاویہ نے عسکری کارروائیاں ختم کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور خود کو سرنڈر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکا ہے آئندہ وہ کسی قسم کا منفی کام نہیں کریں گے۔ بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیں گے اور دعوت تبلیغ کا کام کریں گے۔ ہمارا عملی کردار صرف افغانستان تک ہی محدود رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امارات اسلامیہ اور امیرالمومنین ملا محمد عمر مجاہد کے عملاً مامور رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے میں دنیاوی مفادات کی بجائے للہیت و اخلاص کو سامنے رکھا گیا ہے۔ عصمت اللہ معاویہ نے کہا کہ پاکستان میں نفاذ اسلام اور اسلامی وقار کے تحفظ اور باطل نظام جمہوریت کی نقاب کشائی کیلئے وسیع تر دعوتی تحریک چلانے کا فیصلہ کا ہے ۔ عصمت اللہ معاویہ نے کہا کہ میں نے جہاد سے سیکھا ہے کہ شرعی خطوط پر ایک موثر دعوتی کردار کا پاکستان میں خلاء ہے جسے پر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگرچہ ایک دو مذہبی جماعتیں پہلے ہی اس کوشش میں مگن ہیں مگر وہ جمہوری راستے پر گامزن ہیں اسلئے ضروری تھا کہ خالصتاً ایک شرعی دعوتی تحریک شروع کی جائے اور نظام اسلام و خلافت کی برکات و احکامات اور نظام باطلہ کے نقصانات کا عوامی شعور بیدارکیا جائے۔
عصمت اللہ معاویہ کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک وڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ علماء اور عمائدین سے تفصیلی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے۔

index
انھوں نے کہا کہ ملک بھر میں عسکری کارروائیاں ترک کردی گئی ہیں تاہم اسلامی وقار، نظام کےتحفظ اور بقاء کی خاطر شرعی خطوط پر دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دشمنان اسلام کے خلاف جہادی کردار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
تقریباً تین منٹ کے اس وڈیو پیغام میں پنجابی طالبان کے امیر نے کہا کہ اسلام اور قوم کے وسیع تر دینی مفادات میں یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔
انھوں نے حکومت اور قبائل میں موجود طالبان تنظیموں سے اپیل کی کہ فریقین امت مسلمہ کی مفادات کی خاطر مذاکرات کی میز پر آئیں اور وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
عصمت اللہ معاویہ نے حکومت سے مطالبہ بھی کیا کہ متاثرین آپریشن کی بحالی کے لیے اقدامات کئے جائیں اور قبائلی خودار عوام کو دشمنوں کی گود میں ڈالنا دانشمندی نہیں بلکہ ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔
انھوں نے افغانستان جانے والے قبائلی عوام سے ملک واپس آنے کی اپیل کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحد پار جانے والے متاثرین کی واپسی کےلیے سہولیات فراہم کی جائے۔

140908153824__77444953_taliban
خیال رہے کہ تحریک طالبان پنجاب خود کو تحریک طالبان پاکستان کا حصہ سمجھتی ہے اور یہ تحریک پنجابی طالبان کے نام سے بھی جانے جاتی ہے۔ ماضی میں اس تنظیم اور ٹی ٹی پی کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہوگئے تھے جس کے بعد ایسی اطلاعات بھی آئی تھیں کہ عصمت اللہ معاویہ کو تنظیم سے نکالا دیا گیا ہے تاہم بعد میں یہ اختلافات ختم ہوگئے تھے۔
انہوں نے اپنے نقطہ نظر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ملک میں دو ایک جماعتیں پہلے ہی اس کوشش میں مصروف ہیں مگر وہ جمہوریت کے راستے پر گام زن ہیں جو ان کے بقول باطل نظام ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ایک خالص شرعی دعوتی تحریک شروع کی جائے جو لوگوں میں اسلام کے نظام خلافت کی برکتوں اور باطل سیاسی نظام کے نقصانات کا شعور اجاگر کرے ۔

کالعدم تحریک طالبان پنجاب کی جانب سے ملک کے اندر دہشت گرد کارروائیاں بند کرنے اور اپنے نظریات کی اشاعت کے لئے دعوت و تبلیغ کا راستہ اپنانے کا یہ فیصلہ فی الحقیقت اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔قرآن میں متعدد انبیائے کرام کی جانب سے اپنی قوموں کو اللہ کی طرف بلانے کی جدوجہدکی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔ ان سے واضح ہے کہ کسی نبی نے بھی اپنی قوم کو اللہ کی تعلیمات پر کاربند کرنے کے لئے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سمیت ہر نبی کی ذمہ داری قرآن کی رو سے اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک صاف صاف پہنچادینے کی تھی۔ بنی اسرائیل اپنے وقت کے مسلمان تھے۔ ان میں سینکڑوں نبی آئے جنہوں نے اپنے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا ۔ ان نبیوں میں سے بڑی تعداد کو ان کی قوموں نے قتل کردیا اس کے باوجود کسی نبی نے تشدد کے جواب میں تشدد کا راستہ نہیں اپنایا۔

احادیث نبوی ؐمیں حکومت وقت کے خلاف خروج یا بغاوت سے آخری حد تک گریز اور نظام مملکت میں خلل ڈالنے سے اجتناب کی واضح طور پر تاکید کی گئی ہے ۔ اس لئے نفاذاسلام کی جدوجہد کا اصل طریقہ دعوت و تبلیغ ہی ہے جسے حکمرانوں اور عوام سمیت معاشرے کے تمام طبقات تک وسیع کیا جانا چاہئے۔ کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی پائیدار تبدیلی اسی وقت رونما ہوسکتی ہے جب لوگ اپنی آزاد مرضی سے کسی نظام کو قبول کریں۔دلیل کی قوت سے ان کے دل و دماغ کو اس کا قائل کیا جائے۔ اسی لئے اسلام طاقت کے بل پر تبدیلی کا حامی نہیں ہے اور جو لوگ ایسا کررہے ہیں وہ دراصل اسلام کی حقیقی تعلیمات سے عدم واقفیت کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں تحریک طالبان پنجاب نے اسلامی تعلیمات کے مطابق درست فیصلہ کرکے دوسری جہادی تنظیموں کے لئے بھی سوچ بچار کی راہ کھولی ہے ۔ امید ہے کہ وہ بھی اس کی روشنی میں اپنے طرز عمل پر نظرثانی کریں گی۔

taliban
دہشت گردی کے ماہرین کے مطابق پنجابی طالبان،  ملکی استحکام کیلئے ملافضل اللہ کی زیر قیادت پشتون طالبان سے بڑا خطرہ ہیں کیونکہ وہ زیادہ سخت گیر‘ زیادہ بنیاد پرست اور عالمی جہادی ایجنڈے سے زیادہ منسلک ہیں۔ پنجابی طالبان کو دہشت گردی کے دائو پیچ میں نسبتاً زیادہ بہتر تربیت یافتہ سمجھا جاتا ہے جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ برسوں القاعدہ کے زیر تربیت رہے اور افغانستان اور کشمیر جہاد کے ایام سے عشروں تک ریاست ان کی پشت پر رہی۔ اس لئے اگر پنجابی طالبان کا امیر اگر ملک میں عسکری کارروائیاں بند کرنے کے اپنے اعلان پر قائم رہتا ہے تو اس سے ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مہم کو یقینا بڑا دھچکا لگے گا۔
کالعدم تحریک طالبان کے ایک اور کمانڈر ابوبصیر نے کہا ہے کہ عصمت اللہ معاویہ تحریک طالبان کا غلط انتخاب تھا،اس نے خود کو مجاہد بنا کر پیش کیا تھا۔

indexaa
گزشتہ روز عصمت اللہ معاویہ کا پنجابی طالبان کی جانب سے پاکستان میں عسکری کارروائیاں ختم کرنے کےاعلان پر کالعدم تحریک طالبان کی جانبسے سخت رد عمل سامنے آیا ہے، کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر ابو بصیر نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عصمت اللہ معاویہ ایک حساس ادارے کا جاسوس تھا اور ہے۔ اگرچہ تحریک طالبان پاکستان نے عصمت اللہ معاویہ کو ایجنسی کا ایجنٹ قرار دیکر اس کا پاکستان کے اندر عسکری کارروائیاں بند کرنے کا اعلان مسترد کردیا ہے تاہم عصمت اللہ معاویہ اعلان پر قائم رہا تو ٹی ٹی پی کو یقینا بڑا دھچکا لگے گا۔
عصمت اللہ معاویہ کے اعلان پر کسی اہم ٹی ٹی پی لیڈر کے بجائے ابوبصیر کی طرف سے جواب آنا اس تنہائی کی طرف صاف اشارہ کرتا ہے جس کا ملا فضل اللہ تحریک طالبان پاکستان کا امیر ہونے کے باوجود شکار ہے۔ عصمت اللہ معاویہ کی طرف سے پاکستان میں مسلح جدوجہد ترک کرنے اور پرامن طریقے سے ملک میں شریعت کے نفاذ کیلئے کام کرنے کا اعلان پنجابی طالبان کی طرف سے پاکستان مخالف ایجنڈا ترک کرنے کی نشاندہی ہے
پنجابی طالبان کی اصطلاح سب سے پہلے 1990 کی دہائی میں افغانستان میں جنگی سرداروں کے خلاف ملا عمر کی زیر قیادت طالبان کی لڑائی کے دوران پاکستانی مجاہدین کے لئے استعمال کی گئی تھی۔ پاکستانی جنگجوؤں کو، ان کے آبائی صوبے سے قطع نظر، پنجابی طالبان کہا جاتا تھا۔
پنجابی طالبان ان افراد کا گروپ ہے جو بنیادی طور پر فرقہ وارانہ گروپوں اور کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں اور نظریاتی طور پر طالبان و القائدہ سے وابستہ ہیں۔ ان افراد نے افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لیا اور ان میں سے بیشتر نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تربیت حاصل کی تھی”، پروفیسر  حسن عسکری رضوی نے کہا۔ “پنجاب میں بعض کالعدم مذہبی تنظیمیں نظریاتی طور پر طالبان سے وابستہ ہیں اور وہ پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات اور خودکش بمباروں کو امداد اور سہولیات فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں”۔ ایک دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور ہم آہنگی رکھتے ہیں اور اپنے مشترکہ مفادات کے باعث وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر رسمی اتحاد ہے جس میں وہ ایک دوسرے کو تحفظ اور معاونت فراہم کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام نے شبہہ ظاہر کیا کہ زیادہ تر پنجابی طالبان کا تعلق جنوبی پنجاب یا سرائیکی پٹی سے ہے۔ بعض حلقوں نے شدت پسندی میں بعض مدارس کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔
پنجابی طالبان کے بارے میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ’پنجابی طالبان کو طالبان کہنا بہت غلط ہے کیونکہ یہ جہادی ہیں اور ان کو میں کہوں گی دیوبندی سلفی، کیونکہ وہ اپنا ایجنڈا ابن تیمیہ سے لے کر چلتے ہیں ۔۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی نظام لایا جائے‘۔
تحریک طالبان پاکستان کی چھتری تلے سے نکل آنے اور پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمیاں ترک کردینے کا پنجابی طالبان کے امیر عصمت اللہ معاویہ کا ڈرامائی فیصلہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جہادی جتھے کے کفن میں آخری کیل ثابت ہوا جو نومبر 2013 میں مولوی فضل اللہ کی امیر کی حیثیت سے تقرری کے بعد 4واضح گروپوں میں بٹ گیا ہے۔ گذشتہ 15جون کو شمالی وزیرستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد اب ہر گذرتے دن کے ساتھ طالبان کی صفوں میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں۔ خوشخبری یہ ہے کہ پنجابی طالبان نے کمانڈر سعید خان سجنا اور کمانڈر عمرخالد خراسانی کے گروپ کے برخلاف عسکریت پسندی کو بھی ترک کردینے کا اعلان کردیا ہے۔ طالبان میں دھڑے بندیوں کا عمل یکم نومبر 2013 کو شمالی وزیرستان میںایک امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد شدت اختیار کرگیا۔ افغان طالبان کے امیر ملا محمدعمر کی مداخلت پر مولوی فضل اللہ کو حکیم اللہ محسود کا جانشین مقرر کیا گیا۔ جبکہ مولوی فضل اللہ اس سے قبل کے امراء بیت اللہ اور حکیم اللہ محسود کی طرح وزیرستانی نہیں ہیں۔ دہشت گردی سے تائب اور طالبان چھتری تلے سے نکلنے کے اعلان کے ساتھ عصمت اللہ معاویہ نے طالبان کے دیگر گروپوں سے بھی پاکستان کے اندر عسکریت پسندی ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تحریک طالبان پنجاب کی جانب سے پاکستان میں عسکری کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان ملک میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے،پہلی بار طالبان کی کسی تنظیم نے ملک میں اپنی عسکری کارروائیاں ختم کرکے عوامی خدمت کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو یقیناً خوش آیند ہے۔اس اعلان سے تحریک طالبان پاکستان دھڑے بندی میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے اور اس سےملک میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی آئے گی ۔ماضی کے بعض تلخ تجربات کے پیش نظر اب دیکھنا یہ ہے کہ شدت پسند تنظیم اپنے اس اعلان پر قائم رہتی ہے یا نہیں۔ آپریشن ضرب عضب ابھی مکمل تو نہیں ہوا لیکن اس کے مثبت پہلو نظر آرہے ہیں ، طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہوچکا ہے .ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کا کہنا ہےکہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ سے شدت پسندوں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے اور اس کے نتیجے میں طالبان کی پاکستان میں منظم حملے کرنے کی صلاحیت ختم کردی گئی ہے۔ ان حالات میں پنجابی طالبان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ تھا بھی نہیں ،آپریشن کی کامیابی دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے طور پر یہ اعلان کیا جو خوش آئند ہے۔ ضربِ عضب کی کامیابی کا ایک بدیہی ثبوت یہ ہے کہ جب سے یہ آپریشن شروع ہوا دہشت گرد کوئی بڑی کارروائی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کا نیٹ ورک ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، ان کی تنظیم تتر بتر ہو چکی ہے، بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں، جو بچ گئے ہیں وہ جانیں بچانے کے لئے روپوش ہیں اور کوئی بڑی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ پنجابی طالبان نے اپنی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تو انہیں بھی مشکل حالات کا اندازہ ہو گا۔ پنجابی طالبان کا یہ فیصلہ ضربِ عضب کی کامیابی کی ایک دلیل ہے۔

پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ٓاپریشن ضرب عضب نے دہشتگردوں کی بارودی طاقت کو ختم کردیا ہے ، طالبان کمزور ہوچکے ہیں اپنے آپ کو سنبھالا لینے کےلئے تبلیغ کا ڈھونگ رچا رہے ہیں ،طالبان اب عوام کو گمراہ نہیں کرسکتے اسکولوں ،مزارات ،مدارس پر حملہ کرنے اور اپنا بناﺅٹی مذہب اسلحے کی نوک پر مسلط کرنے والے اب کونسی تبلیغ کریں گے ،عوام کا قتل عام کرنے والے تبلیغ کی آڑ میں ملک کے کسی کونے میں پناہ نہیں لے سکیں گے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے آپریشن ضرب عضب میں شہید ہونے والے ایف سی اہلکاروں اور فوج کے جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا، طالبان اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں ان کے خلاف آپریشن جاری رکھاجائے اور پاکستان کے جس کونے میں یہ پائے جائیں قانون کو حرکت میں لایا جائے ،حکومت طالبان نامی وائرس سے ملک کو نجات دلانے کےلئے سخت اقدامات کرے ،طالبان نامی وائرس نے ملک کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/back-page/18-Sep-2014/144516

تحریک طالبان پنجاب نے اپنا عسکری کردار ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ اپنی کارروائیوں کو پاکستان میں ختم کر کے افغانستان میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے عصمت اللہ معاویہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کا مرکز پاکستان کے بجائے افغانستان کو بنا رہے ہیں کیونکہ افغانستان کی خراب صورت حال میں وہاں موجود طالبان کو ان کی مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔۔ عصمت اللہ معاویہ کے افغانستان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلان کے حوالے سے دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان میں اس کے برے اثرات پڑیں گے ، پاکستان کو اعلان کرنا چاہئے بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کے شہریوں کا غیر قانونی طور پر افغانستان میں جانا اور وہاں کسی بھی ایکٹیویٹی میں حصہ لینا ایک جرم ہے ۔یوں تو طالبان اسلامی نظام لانے کے دعویدار ہیں مگر ان سے بڑا اسلام دشمن کوئی نہ ہے اور نہ ہی انہوں نے اسلام کی کو ئی خدمت کی ہے بلکہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان طالبان نے پہنچایا ہے۔دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش ہے۔ ایک سانس میں تبلیغ کی بات اور دوسری میں بے گناہ مسلمانوں کا قتل عجیب سی بات دکھائی دیتی ہےکیونکہ اس طرح اسلامی شریعہ کی پیروی نہ کی جا رہی ہے۔

.دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں. بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔طالبان دہشتگردوں کا وجود نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ کے لئے بھی مضر ہر۔
دہشت گردی کے ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام دہشتگرد بلا کسی پیشگی شرط کے ہتھیار ڈال دیں اور لڑائی بند کردیں۔

Advertisements