عید الاضحی پر جانوروں کی گرانی


41782-islamabadzafaraslam-1351275840-953-640x480

عید الاضحی پر جانوروں کی گرانی
پاکستان میں اس سال عیدالاضحیٰ چھ اکتوبر بروز پیرکو مذہبی جوش و خروش سے مائی جائے گی، تمام مسلمان حضرت ابراہیم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحی کے دن جانور قربان کریں گے ۔ ملک بھر میں عید کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں، عید کے موقع پر عوام خصوصاً بچوں میں خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے جو کئی دن قبل قربانی کے جانور لاکر ان کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ امسال ۷۸ لاکھ پچاس ہزار جانوروں کی قربانی متوقع ہے جس سے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کا حجم ۲۷۵ ارب تا ۳۰۰ ارب رہنے کی توقع ہے۔

41782-Nighett-1351275953-300-640x480

دینِ اسلام میں قربانی کی حیثیت ایک عبادت کی ہے ۔اور دینِ خداوندی میں عبادات کی حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ذریعے سے بندہ اپنے پروردگار کے ساتھ اپنے تعلق کی یاد دہانی حاصل کرتا ہے ۔چنانچہ قربانی کی یہ عبادت بندہ اور اُس کے رب کے درمیان تعلق کا وہ مظہر ہے جسے سرِ عنوان بنا کر وہ اپنے مالک کی خدمت میں اپنا یہ پیام بندگی بھیجتا ہے۔

41782-aqibarif-1351275766-407-640x480
’’ اے پروردگار! آج میں ایک جانور تیرے نام پر ذبح کر رہا ہوں ، اگر تیرا حکم ہوا تو میں اپنی جان بھی اِسی طرح تیرے حضور میں پیش کر دوں گا۔
اور ہم نے ہر اُمت کے لیے قربانی مشروع کی ہے تاکہ اللہ نے اُن کو جو چوپائے بخشے ہیں ، اُن پروہ (ذبح کرتے ہوئے ) اُس کا نام لیں ۔پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے چنانچہ تم اپنے آپ کو اُسی کے حوالے کر دو۔اور خوشخبری دو اُن لوگوں کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔‘‘ (الحج34:22)
یہ آیت بتاتی ہے کہ قربانی کی عبادت اپنی جان کو اپنے معبود کی نذر کر دینے کا علامتی اظہار ہے ۔ اس کے ذریعے سے بندہ اپنے وجود کو آخری درجہ میں اپنے آقا کے حوالے کرنے کا اعلان کرتا ہے ۔بندہ مومن کے یہ جذبات اس کے مالک تک پہنچ جاتے ہیں ۔جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو ابدی رحمتوں کے لیے چن لیتا ہے ۔مزید براں دنیا میں بھی وہ ان جانوروں کا گوشت انھیں کھانے کی اجازت دے کر انھیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اپنی جان مجھے دے کر بھی تم مجھے کچھ نہیں دیتے ۔ بلکہ دینے والا میں ہی رہتا ہوں ۔ یہ گوشت کھاؤاور یاد رکھوکہ مجھ سے سودا کرنے والادنیا وآخرت دونوں میں نقصان نہیں اٹھاتا۔

news-1412183856-3686

69CA8518-1282-456E-B587-1F655E2E7F08_w640_r1_s

حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے جہاں درجنوں انسانی جانوں کا ضیاع ،لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں اور ہزاروں گھر تباہ ہوئے ہیں وہیں پانچ ہزار سے زائد مویشی بھی اس آفت کی نذر ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے چارہ کی فصل بھی تباہ ہو گئی ہے اور عید قربان پر فروخت کیلئے خصوصی طور پر پالے جانے والے جانور وں کو مطلوبہ خوراک نہیں مل رہی جسکی وجہ سے یہ انتہائی لاغر ہو گئے ہیں ۔ عید الاضحی پرجانوروں کی قلت کا خدشہ ہے جسکی وجہ سے امسال عید الاضحی پر قیمتیں کئی گنابڑھ سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دوسرے صوبوں سے جانور پنجاب لائے جا سکتے ہیں تاہم ٹرانسپورٹیشن کی وجہ سے ان جانوروں کی قیمتیں معمول سے کہیں زیادہ ہو ں گی۔

news-1412187354-6324

41782-natalianajamulislam-1351275938-998-640x480
گزشتہ کئی سال سے قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں ہر سال بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے غریب تو قربانی کا تصور بھی نہیں کرسکتا جب کہ کم آمدنی والا سفید پوش طبقہ بھی جو پہلے پوری گائے یا بکروں کی قربانی کرلیا کرتا تھا بری طرح متاثر ہوا ہے اور سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے اپنی انفرادی قربانی ترک کردی ہے اور گائے میں حصہ لینے پر مجبور ہوگیا ہے۔

41782-basmahsiddiqui-1351275797-135-640x480
اس سال قربانی کے جانوروں کے خریداروں کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے باعث وہ مہنگے جانور خریدنے پر مجبور ہیں اور جگہوں پر مویشیوں کی آمد میں پچھلے سال والی گرما گرمی نظر نہیں آ رہی۔ جانوروں کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ بسوں، ٹرکوں کے کرایوں اور ٹیکسوں میں دوگنا اضافے کے بعد ہم 12سے15کلوگوشت والا بکرا یا چھترا 16ہزار روپے میں کیسے فروخت کر دیں جبکہ ان جانوروں کے لئے چارہ، ٹینٹ اور ہم نے15 دن تک یہاں رہنا ہے وہ پیسہ کہاں سے نکالیں۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ جو ٹرک گزشتہ برس لاہور آنے کا 20000روپے کرایہ مانگتے تھے اب40سے45ہزار روپے مانگتے ہیں۔ دوسری طرف عید کی آمد کے پیش نظر موسمی قصائیوں نے بھی اپنی چھریاں اور بغدے تیز کر لئے ہیں ایڈوانس بکنگ شروع کر دی ہے۔ عام بکرے، بکری یا چھترے کو ذبح کرنے کا ریٹ 1500 سے 2000، گائے کا 4000اور اونٹ کا 8تا10ہزار روپے مانگا جا رہا ہے۔ منڈیوں میں خریدار نہ ہونے کے برابر نظر آرہے ہیں اور لوگ صرف جانوروں کے ریٹس سن کر خاموشی سے چلے جاتے ہیں۔۔ ستر اسی ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کی گائے خریدنے والوں کی تعداد میں بھی مہنگائی کی وجہ سے کمی ہورہی ہے اور وہ بھی کم قیمت کی گائے یا بیل کی خریداری کو ترجیح دینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

bakra-on-bike-inp980
بڑی منڈیوں میں ملک بھرسے قربانی کے جانورلائے گئے ہیں جن میں ہرقسم اور نسل کے جانورموجود ہیں بیوپاریوں نے جانورکوجاذب نظربنانے میں بھی کوئی کسرنہیں چھوڑی۔شہریوں کی بڑی تعداد قربانی کے جانورخریدنے کے لئے ان منڈیوں کارخ کر رہی ہے،جن میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔جن کاشوق دیدنی ہے۔منڈیوں میں آئے ہوئے صاحب ثروت لوگ تو پسندیدہ جانور منہ مانگے دام دے کر بھی خرید رہے ہیں۔ لیکن خریداروں کی اکثریت اب بھی دام گھٹنے کی آس لگائی بیٹھی ہے۔ کیونکہ جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

عید قر بان قریب آنے کے باوجو د صو بائی دارالحکومت لاہور کے شہری بکر منڈیو ں میں جانوروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ابھی تک جانور خرید نہیں سکے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی منڈیوں میں دور دراز سے جانور لائے گئے ہیں جہاں جانوروں اور بیوپاریوں کی تعداد زیادہ ہے تاہم خریدار انتہائی کم تعداد میں آرہے ہیں جس کی بڑی وجہ جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ ہے ۔ جانوروں کی منڈیاںشاہ پور کانجراں ، سگیاں پل ،کماہاں،جوہرٹاﺅن اور دیگر علاقوں میں قربانی کیلئے بڑی تعداد میں جانور لائے گئے ہیں بعض بیوپاری شہر کی سڑکوں،بازاروں اور گلی محلو ں پر جانور لے کر فروخت کر رہے ہیں جبکہ خوبصورت اور خصوصی طور پر پائے جانے والے جانوروں کی بڑھ چڑھ کر قیمتیں بتائی جاتی ہیں جنہیں شوقین حضرات معمولی بحث کے بعد خرید لیتے ہیں ۔

لا ہور میں بیلوں کی سب سے بڑی اور خو بصورت جوڑی بلو اور ہیرا نے دھو م مچا ررکھی ہے جو اپنے قد کا ٹھ اور خو بصورتی کی وجہ سے شہریو ں کی بڑی تعداد ان کو دیکھنے آ رہی ہے بلو اور ہیرا کے مالک نے جوڑی کی قیمت 50لا کھ روپے فائنل مقررکی ہے ۔

دوسری جانب تنخواہ دار اور درمیانے طبقے کے افراد بھی منڈیوں کے چکر کاٹ رہے ہیں تاکہ مناسب قیمت میں کوئی جانور خریدا جا سکے۔

41782-gujranwalaexpress-1351275808-775-640x480
میانوالی سے آئے ہوئے ایک بیوپاری منیر نے کہا کہ وہ لگ بھگ 100 بکرے لے کر آئے ہیں جن میں نواب شاہ سندھ سے لائے گئے بکرے بھی شامل ہیں مگر ابھی تک بس چند ایک ہی فروخت ہوسکے ہیں۔ ان کے بقول گاہک اتنی کم قیمت پر اصرار کرتا ہے کہ وہ بھی اپنے جانوروں کی طرح بے زبان ہوجاتے ہیں اور سوائے نفی میں سر ہلانے کے ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔

41782-Jibreeeel-1351275867-169-640x480
عامر سہیل تلہ گنگ سے 80 چھوٹے جانور لے کر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا’’ لوگ صرف جانور دیکھ کر واپس چلے جاتے ہیں، مول تول ہوتی ہے اور بس، جب ہمیں جانور مہنگے ملے ہیں تو سستا کیسے بیچیں‘‘۔
چھوٹے جانوروں کی قیمتیں 18 ہزار سے 80 ہزار فی جانور کے درمیان جب کہ بڑے جانوروں کی قیمت 55 ہزار سے شروع ہوکر کئی لاکھ تک ہے۔ لوگوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ عید الاضحیٰ سے پہلے کوئی جانور ضرور خرید سکیں کیونکہ یہ دینی فریضہ تو بہرحال انجام دینا ہے۔

بکرا ذبح کرنے کا ریٹ 3 ہزار روپے، بچھڑے کے 5 سے 10 ہزار اور اونٹ کے 8 سے 15 ہزار روپے مقرر کردئیے گئے۔ قصائیوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں بچوں کا پیٹ پالنا مشکل ہے، لوگ اتنا مہنگا جانور تو خریدلیتے ہیں لیکن چند ہزار روپے دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ شہریوں نے کہا ہے کہ ریٹ تو زیادہ ہیں لیکن کیا کریں، مجبوری ہے، موسمی قصائیوں سے بچنے کےلئے ماہر قصائیوں کی خدمات ہی لینی پڑتی ہیں۔ اسی طرح لاہور میں اناڑی قصابوں کی آمد کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اناڑی قصاب گھر کے باہر جانور بندھا دیکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر عید کیلئے بکنگ کروارہے ہیں ،ان کی فیس پیشہ ور اور استاد قصابوں کے مقابلے میں کم ہے، اتاپتہ نہ ہونے کی وجہ سے جو لوگ ان کی بکنگ کروارہے ہیں وہ ایڈوانس نہیں دے رہے صرف ان کا موبائل نمبر ہی حاصل کررہے ہیں۔

بیوپاری فکرمند کہ جانور بک جائیں، خریدار پریشان کہ اچھا جانور مل جائے، مویشی منڈیوں میں آخری سودے، صبح کے لیے قصائیوں کے اپائنٹمنٹس جاری ہیں۔لاہور میں عید الاضحی کے آخری روز قربانی کے جانوروں کی قیمتیں کم ہوگئیں،بیوپاری حوصلے ہار گئے اس کے باوجود بکر منڈیوں میں گزشتہ سالوں کی نسبت خریداروں تعداد انتہائی کم رہی۔زیادہ سےزیادہ منافع کمانے کے قربانی جانوروں قیمت زیادہ بتائی جاتی ہیں۔اس سال بھی قربانی کے جانوروں کی آسمان کو چھونے وجہ سے بکر منڈیوں میں خریدار کم رہے۔ملک کے دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے بیوپاری ناامید اورمایوس نظر آئے۔جن کا کہنا تھا کہ انہوں نے سارا سال جانوروں کی خدمت کی ہے لیکن کوئی بھی جانور کی جسامت کے حساب بھی قیمت نہیں دے رہا۔ بیوپاری پر امید نظر آتے ہیں کہ ابھی تین روز عید رہے گی اور وہ جانور بیچ کر ہی گھر جائیں گے۔

ممتاز مذہبی اسکالر اور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے تسلیم کیا کہ قربانی کے عمل کی روح کے عین مطابق معاشرے میں عمل دیکھنے میں نہیں آرہا، ’’ایک نام و نمود کا تاثر پیدا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں نہیں ہونا چاہیے۔ “مفتی منیب الرحمان کے بقول قربانی کرنے والے شخص کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس کا اور اس کے خدا کا معاملہ ہے تاہم قربانی کے جانوروں کو اسٹیٹس سمبل کے طور پر ہرگز استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

Advertisements