گلگت, مسافر گاڑی میں دھماکا، 3افراد ہلاک


542d5d934b781

گلگت, مسافر گاڑی میں دھماکا، 3افراد ہلاک
گلگت میں ایک مسافر گاڑی میں دھماکے سے 3افراد ہلاک ہو گئے۔ڈان نیوز نے بتایا ہے کہ گلگت کے علاقے ھراموش کے قریب گاڑی میں دھماکا ہوا جس سے کئی مسافر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ایس ایس پی (سینئر سپریٹنڈنٹ پولیس) محمد علی نے میڈیا کو بتایا کہ بم دھماکے میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں میں بھی زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق شاہراہ قراقرم پر عالم برج پر گاڑی میں دھماکا ہوا۔پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھماکے میں 3افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوئے ہیں۔دھماکے کے فوری زخمیوں اور ہلاک شدگان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس کے اہک اعلی افسر محمد علی ضیاء نے بتایا کہ یہ دھماکا سڑک کنارے نصب کیے گئے بم کے ذریعے کیا گیا۔
پولیس کی جانب سے تحقیقات کا اغاز کر دیا ہے البتہ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔گلگت بلتستان کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے پہلے ہی متنبہ کیا جا چکا تھا کہ شاہراہ قراقرم پر ایسا واقعہ ہو سکتا ہے۔
http://urdu.dawn.com/news/1010416
دہشت گردی پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اس میں انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی برائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام ایک عالم گیر مذہب کے طور پر تمام عالم انسانیت کا احاطہ کرتا ہے اس لئے اس میں سب انسان مساوی سلوک کے حقدار ہیں ۔ اسلام رنگ،نسل اور ذات پات کی بنیاد پر کسی تفریق کا روادار نہیں ۔ آپﷺ نے اپنے عمل صالح سے یہ ثابت کیا کہ “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان،لشکر جھنگوی اور دوسری کالعدم جماعتیں اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔
اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔
کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.
قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔ طالبان اور دوسری کالعدم دہشت گرد تنظیمیں گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔

Advertisements