یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے


Nawaz Sharif

یہ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے
وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے جمعرات کے روز قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام میران شاہ کا دورہ کیا اور وہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی۔ شدت پسندی سے متاثرہ قبائلی علاقوں کا گذشتہ کئی برسوں میں پاکستانی سول قیادت کا یہ پہلا دورہ ہے جبکہ نواز شریف شمالی وزیرستان میں قدم رکھنے والے پہلے پاکستانی وزیر اعظم ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان ایک پرامن ملک بن جائے گا۔

nawazsharif-pakistan-meeranshah_10-9-2014_162082_l

سرکاری میڈیا کے جمعرات کے روز شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ پہنچنے پر بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر مہتاب عباسی، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور قبائلی علاقوں کے لیے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

pakistan-nawazsharif-pm-armychief-meeranshan-meeting_10-9-2014_162071_l
میران شاہ میں پاکستانی فوج کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ظفراللہ نے وزیراعظم نواز شریف کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ اس آپریشن میں اب تک ایک ہزار سے زائد شدت پسند اور ایک سو کے قریب پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
میجر جنرل ظفر اللہ نے وزیراعظم اور ان کے وفد کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں قائم شدت پسندوں کے کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا گیا ہے، اور شدت پسند اس علاقے سے نکالے جانے کے بعد فرار کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔
بریفنگ کے بعد وزیراعظم نواز شریف کو میران شاہ شہر میں شدت پسندوں کے تباہ شدہ ٹھکانوں کو دورہ کروایا جس کے بعد وزیراعظم جوانوں اور افسروں سے خطاب میں کہا کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب میں دشمن سامنے سے نہیں بلکہ چھپ کر وار کرتا ہے۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/10/141009_pm_nawaz_nwa_visit_rk

140228152921_raheel_sharif_coas_prime_minister_nawaz_sharif_640x360_getty_nocredit
شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز رواں سال پندرہ جون کو ہوا تھا جس کا مقصد وزیرستان کو تحریک طالبان پاکستان سمیت تمام مقامی اور غیر ملکی شدت پسندوں سے پاک کروانا ہے۔
حالیہ کارروائیوں میں پاک فوج نے شدت پسندوں کے متعدد اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے شمالی وزیرستان کا اسی فیصد علاقہ کلیئر کروالیا ہے۔

BzfQXDPCEAAKuPY.jpg large
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاک فوج ایسی جنگ لڑرہی ہے جس میں دشمن چھپا ہوا ہے اور چھپ کرحملے کررہا ہے، پاکستان کے مستقبل کیلئے جنگ آرمی چیف کی قیادت میں کامیابی سے لڑی جارہی ہے۔ عسکری حکام کا کہنا تھا کہ آپریشن کی کامیابی میں پاک فضائیہ اور توپ خانے کا اہم کردار رہا جبکہ فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے آپریشن میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔

images
پاک فوج ایک انتہائی مشکل جنگ لڑرہی ہے اور یہ جنگ ایک الگ نوعیت کی ہے کیونکہ یہ وہ جنگ نہیں جو قومیں ایک دوسری قوم کے خلاف لڑتی ہیں بلکہ اس جنگ میں ہمیں ایسے دشمن کا سامنا ہے جو چھپ کر وار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج جس بہادری کے ساتھ یہ جنگ لڑرہی ہے اس پر قوم کی طرف سے انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس جنگ میں جتنے جوان و افسران شہید ہوئے وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اپنا آج قربان کردیا ہم ان خاندانوں کو بھی مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کے بچوں نے اس جنگ میں حصہ لیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت شدت پسندوں کے خلاف جاری اس آپریشن میں پاک فوج کی مکمل طور پر حمایت کرتی رہے گی اور مسلح افواج کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں یہ پاکستان کی بقاءاور اس کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جنگ ہے جو ایک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور ہم اسے جیت رہے ہیں جس پر یقین ہے کہ اس کے نتیجے میں پاکستان ہمیشہ کے لیے ایک پر امن ملک بن جائے گا جبکہ پوری قوم اس جنگ پر مطمئن اور خوش ہے۔
وزیراعظم نے کامیابیوں پر جوانوں اور افسروں کو مبارک باد پیش کی ۔ اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں نے بھی پرجوش نعرے بلند کیے۔میاں نواز شریف وہ پہلے وزیراعظم ہیں جو میرانشاہ پہنچے ہیں ۔ انہوں نے اگلے مورچوں کا بھی دورہ کیا۔ اور وہاں تعینات جوانوں سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم کو دہشت گردوں سےملنے والا اسلحہ اور بارود اور دیگرسامان بھی دکھا گیا۔ جس میں بڑی تعداد میں خود کار اسلحہ اور بھارتی ہتھیار بھی شامل ہیں ۔اس سے پہلے وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہپاک فوج نے آپر یشن کے آغاز پر ہی میرانشاہ کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا تھا،میر علی، بویا،دیگان اور دتہ خیل سمیت 90 فیصد علاقے کلیئر کرالیے گئےتھے۔ اسپیشل سروسز گروپ نے آپریشن میں نئی تاریخ رقم کی،آپریشن کی کامیابی میں پاک فضائیہ اور توپ خانے کا کردار اہم رہا۔ اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف میران شاہ پہنچے تو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پر بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، چودھری نثار، عبدالقادر بلوچ اور گورنرخیبر پختونخواسردار مہتاب احمد خان بھی موجود تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا یہ دورہ کافی اہمیت کا حامل ہے اور خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب پاک فوج پندرہ جون سے جاری اس آپریشن میں شمالی وزیرستان ایجنسی کا ایک بڑا علاقہ خالی کروانے کا دعویٰ کرچکی ہیں۔
عسکری تجزیہ کار کے مطابق آپریشن ضرب عضب نے زبردست و ہمہ گیر حملہ کر کے دہشت گردوں کو حیران و پریشان کر کے رکھ کر دیا اور عسکریت پسندوں کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں اور دہشتگردوں کی کمر توڑ دی اور ان سے حملہ کرنے کی صلاحیت چھین لی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران یہ محسوس کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب تباہ ہو چکا ہے اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئیں، اور وہ کوئی بڑی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے۔ تو آج ان دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ گئی، مُلک بھر میں پھیلا ہوا اُن کا نیٹ ورک تباہ ہو گیا، دہشتگرد اپنی کمین گاہوں سے نکل کر تِتر بتر ہو گئ۔۔ اس دوران انہوں نے جو اِکا دُکا کارروائیاں کرنے کی کوشش کی ان میں انہیں مُنہ کی کھانا پڑی ۔

یاد رہے کہ سانحہ 9/11 کے بعد شمالی وزیرستان غیر ملکی عسکر یت پسندوں کا گڑھ بن گیا اور سیکورٹی رسک کے باعث کسی اعلیٰ حکومتی رہنما کا وہاں جانا ممکن نہ رہا۔ ایک عرصہ بعد فوج نے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کیا جس کے باعث وزیراعظم کا دورہ ممکن ہوسکا۔ ضرب عضب شروع ہونے کے بعد ملک میں بڑے دہشت گرد حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ طالبان کے کئی بڑے رہنما فرار ہوئے، مارے گئے یا زیر زمین چلے گئے ۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان ، القاعدہ اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے،جو وزیرستان میں چھپے بیٹھے ہیں .غیر ملکی جہادیوں اور دوسرے دہشت گردوں کی وزیرستان میں مسلسل موجودگی اوران کی پاکستان اور دوسرے ممالک میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کےلئے بہت بڑا خطرہ بن گئی تھی۔ شمالی وزیرستان حقانی نیٹ ورک،طالبان و القائدہ کے علاوہ،ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور جہادیوں کا مسکن ہے۔ جہاں سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں میں باآسانی کاروائیاں کرتے ہیں . القاعدہ اور طالبان پاکستان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں. یہ دہشت گرد اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے تھے، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔خودکش حملے اور دہشتگردی اسلام میں حرام ہے۔ایک بے گناہ کا قتل تمام انسانیت کا قتل تصور ہوتا ہے۔
طالبان پاکستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔طالبان کے حملوں کی وجہ سے ملک کو اب تک ایک کھرب تین ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہو چکا ہے اور یہ نقصان جاری ہے اور اس سےپاکستانی معیشت عدم استحکام کا شکار ہوئی ہے۔
اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور بے گناہوں کا ناحق خون بہا رہے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔

Advertisements