ملالہ یوسف زئی نے نوبل امن انعام جیت لیا


2014NobelPeacePrizewinnerMalalaYousafzay_10-10-2014_162168_l

ملالہ یوسف زئی نے نوبل امن انعام جیت لیا
پاکستان کے ضلع سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ انھیں بھارت کی کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر ملا ہے۔ ملالہ یوسفزئی کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں رہنے پر امن کا نوبل انعام دیاگیاجبکہ کیلاش سدھارتھی 1990ءسے بھارت میں چائلڈ لیبر کے خلاف کام کررہے ہیں ۔سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم نواز شریف نے ملالہ کے انعام جیتنے پر مباردکباددیتے ہوئے کہاکہ ایوارڈ ملنا عظیم مقصد کی فتح ہے ۔نوازشریف نے کہاکہ ملالہ پاکستان کا فخر ہے اورہر پاکستانی کو جیت پر خوشی ہے ۔

130419180620_malala_yusufzai_640x360_bbc_nocredit
وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ملالہ شاید دنیا کی پہلا شخصیت ہے جسے اتنی کم عمری میں ایوارڈملا، سوات اورپاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ، امیدکرتے ہیں کہ امن ایوارڈ سے پاکستان کا امیج بہترہوگا۔
آمنہ تاثیر، شرمیلافاروقی ، آصفہ زرداری اورشرمین عبید چنائے نے کہاکہ دنیا بھر میں ایسی لڑکیاں ہیں جوآگے بڑھ سکتی ہیں ، پاکستان کو ایوارڈ جیتنے پر جشن مناناچاہیے ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان نے ملالہ یوسف زئی کو امن کا نوبل انعام ملنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا پختونوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد کے طور پر پیش کرتی تھی، ملالہ نے ثابت کر دیا کہ پختون نہ دہشت گرد ہیں نہ انتہا پسند بلکہ قوم پرست اور ترقی پسند ہیں۔

ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام ملنا اگرچہ تحریک طالبان پاکستان کیلئے سخت صدمہ ہے جس نے گذشتہ برس اس کو نوبل امن انعام نہ ملنے پر خوشی کا اظہار کیا تھا تاہم ملا فضل اللہ کی سربراہی میں ٹی ٹی پی نے ملالہ کی کامیابی پر کسی ردعمل کا اظہا رنہیں کیا ہے جس نے اکتوبر 2012میں لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت کرنے پر اس کو گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان کے اس وقت کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے 2013 میں ملالہ کو نوبل امن انعام نہ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایسا کوئی بڑا کام نہیں کیا جس پر اتنا بڑا انعام دیا جائے۔ یہ اہم ایوارڈ اس مسلمان کو ملنا چاہئے جس نے اسلام کی بالادستی کیلئے جدوجہد کی ہو، ملالہ اسلام کے خلاف ہے کیونکہ وہ سیکولر ہے، اس بار ٹی ٹی پی کے ترجمان نے ملالہ کی حالیہ کامیابی پر خاموشی کو ترجیح دی ہے مگر طالبان کے محرف گروپ جماعت الاحرار نے اس کو ایوارڈ ملنے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ملالہ کو کافروں کی ایجنٹ قرار دیا اور کہاہے کہ وہ اسلام کی نمائندگی نہیں کرتیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدہ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار نے امن کا نوبل انعام جیتنے والی ملالہ یوسفزئی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام دشمنوں کی ایجنٹ ہے، بندوقوں اور مسلح تصادم کیخلاف بولنے والی ملالہ کو یہ معلوم نہیں کہ نوبل انعام کا بانی خود دھماکہ خیز مواد کا موجد تھا۔ ایک بھارتی ویب سائٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ملالہ کو اسلام دشمنوں کی جانب سے پراپیگنڈا کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے دھمکی دی کہ ملالہ جیسے کرداروں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کفار کے پراپیگنڈا سے خوفزدہ ہونیوالے نہیں ہیں ، ہم نے اسلام دشمنوں کیلئے چھریاں تیز کر رکھی ہیں۔ ملالہ کو نوبل انعام دینے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نظریات کی اس جنگ میں کفار نے اپنی لاڈلی کو کفر کی اچھی خدمت پر نوازا ہے۔

http://dailypakistan.com.pk/national/12-Oct-2014/151923

طالبان دہشتگردوں کا وجود نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ کے لئے بھی مضر ہے۔طالبان اسلامی نظام لانے کے دعویدار ہیں مگر ان سے بڑا اسلام دشمن اور تعلیم دشمن کوئی نہ ہے اور نہ ہی انہوں نے اسلام کی کو ئی خدمت کی ہے بلکہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان طالبان نے پہنچایا ہے۔دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش ہے۔

u8_Pak-Malala-Yousafzai
گلاب کے پھول جیسے شگفتہ و شاداب چہرہ ، زندگی سے بھرپور اور معصوم طالبہ ، ملالہ یوسف زئی المعروف گل مکئی جو منگورہ سوات اور پاکستان کا چہرہ اور پہچان ہے، پرپاکستانی طالبان نے ایک بزدلانہ و وحشیانہ قاتلانہ حملہ کیا تھا ،جس سے ان کے سر اور گردن میں گولیاں لگی تھیں ۔ملالہ نے امریکی و برطانوی ٹی وی اور یڈیو پر طالبان کے خلاف پروگرامز کئے تھے۔ ملالہ یوسف زئی نے سوات میں طالبان کے دور کے دوران گل مکئی کے فرضی نام سے ڈائری لکھ کر طالبان ٕکے مخالف مزاحمت کی علامت بن گئی اور وہ سوات میں طالبان کے خلاف موثر آواز بن کر سامنے آئی تھی۔ ملالہ یوسفزئی ، اس سے پہلے کے پورے ملک کو طالبانی خطرے کا ادراک ہوتا‘۔ پاکستانی طالبان کی دہشت کے سامنے چٹان بن کر کھڑی ہو گئیں ۔ ملالہ یوسفزئی ایک فرد نہیں بلکہ ہمت اور امید کا پیکر ہے، جس نے سوات اور ملک کے دیگر حصوں کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کیلئے قربانیاں دیں۔اس حملہ کے بعد طالبان کا اخلاقی، مذہبی اور سماجی اعتبار عوام سے اٹھ گیا ۔ اور طالبان پسند لوگوں نے بھی طالبان کو ناپسند کرنا شروع کر دیا اور ببلک ریلیشنز کے نقطہ نظر سے طالبان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو ا۔ اس سے ثابت ہو تا ہے کہ طالبان نہ صرف دینوی تعلیم بلکہ دنیاوی تعلیم سے بھی نابلد و نا آشنا ہیں اور بدلہ لینے کو جہاد سمجھتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔جہاد تو اللہ کی راہ میں کیا جاتا ہے اور اس میں ذاتیات شامل نہ ہوتی ہیں۔

Malala Yousafzai

“لعنت ہے ان لوگوں پر جو پھولوں کو مسلنے والوں سے گلبانی و آرائش چمن کی آرزو رکھتے ہیں‘۔”
طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی اور مائنڈ سیٹ کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی اور درندے طالبان، انتہا پسند،تشدد پسند اور دہشت گرد نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے ذندگی کے لوگوں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ بقول طالبان کے وہ پاکستان میں نام نہاد اسلامی مملکت کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کر رے ہیں۔طالبان اسلامی نظام لانے کے دعویدار ہیں مگر ان سے بڑا اسلام دشمن کوئی نہ ہے اور نہ ہی انہوں نے اسلام کی کو ئی خدمت کی ہے بلکہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان طالبان نے پہنچایا ہے۔دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش ہے۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں. بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ طالبان دہشتگردوں کا وجود نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ کے لئے بھی مضر ہے۔

malala-yousufzai-attack-rescue-swat-afp-2-670
کیا معصوم طالبہ پر حملہ کرنا اسلامی شریعہ کے عین مطابق ہے؟ یقینا نہیں۔
ہمیں نہیں چاہئیے طالبان کاایسا اسلامی نطام؟
کیا یہ لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کا ایک سوچا سمجھا ابلیسی منصوبہ نہ ہے؟
اسلامی مملکت کے خلاف مسلح جدوجہد اسلامی شریعت کے تقاضوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔طالبان معصوم مسلمانوں اور پاکستانیوں کا دائیں و بائیں سے، بے دریغ قتل عام ،خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریع کر رہے ہیں اور طالبان کا اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق چلنا بڑا مشکوک اور تہڑا مسئلہ ہے۔ طالبان آئے دن طلبہ و طالبات کے سکولوں کو صوبہ خیبر پختو نخواہ مین بڑے رحمانہ طریقے سے تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور وطن دشمنی اور ناعاقبت اندیشی میں اس کے عظیم نقصانات سے آگاہ نہ ہیں۔ ان کو کیا علم نہ ہے کہ قرآن کا پہلا لفظ اقرا تھا؟ جو لوگ تعلیم کی اہمیت سے انکاری ہیں مجھے ان کے مسلمان اور انسان ہونے پر شک ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے اور اور قومِ رسولِ ہاشمی اپنی ترکیب میں منفرد اور خاص ہے۔جو قوم اپنی تہذیب اور تمدن کو بھول جاتی ہے علم و فن بھی اس سے روٹھ جاتے ہیں۔ آج تعلیم، تحقیق اور تخلیق کے دروازے ہم پر کیوں بند ہوئے ہیں؟ اس لیے کہ ہم اپنی اصل اقدار کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ اگر ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں تو بغداد و ہسپانیہ کے بڑے بڑے تحقیقی و علمی مراکز دوبارہ امّتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے موجود ہونگے۔ تاریخ کے اوراق، دانشوروں کے اقوال۔ انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات اور سائنسدانوں کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قوموں کا عروج زوال علم کے تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ جو قوم علم سے رغبت ، تحقیقی اور تجربے کو رواج دیتی ہے وہی ترقی کے اعلیٰ مدارج پر ہوتی ہے اور جو قوم اس کے بر عکس رویہ اپناتی ہے اس کی حالت تمام مادی اور افرادی وسائل کی کثرت کے باوجود عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔ آج اہل مغرب اس علم میں دسترس کے باعث ہی دنیا میں کامیاب و کامران ہیں۔

What-You-Should-Know-About-Malala-Yousafzai-Video.jpg
قرآن دنیا کی سچی اور قابلِ عمل کتاب ہے جس کے احکامات انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں ۔ اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی۔غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی صلعم کو کہا گیا :
”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم.
(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔(العلق:۱-۵)
یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ
(تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہواہے ،اللہ اس کے درجات بلند فرمائے گا اورجو عمل تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔(المجادلہ:۱۱)
دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:
(اے نبی،کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(الزمر:۹)
تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا۔)(الرعد:۱۶)
(اے پیغمبر کہو:اے میرے رب !میرا علم زیادہ کر۔)(طٰہٰ:۱۱۴)
اور تجھ کوسکھائیں وہ باتیں جو نہیں جانتا تھااور یہ تیرے رب کا فضل عظیم ہے۔(النساء:۱۱۳)
اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول فرماتے ہیں:
” وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعابِدِ ،کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ وَاھْلَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِیْنَ حَتَّی النَّمْلَةَ فِی جُحْرِھَا وَحَتَّی الْحُوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ.“(۳)
پشاور میں گزشتہ بارہ سالوں سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک صحافی اور تحقیق کار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ فاٹا میں زیادہ تر حملے لڑکیوں کے سکولوں پر کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق خیبر ایجنسی میں لڑکیوں کی شرح تعلیم صفر فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ لڑکوں کی تین فیصد تک بتائی جاتی ہے۔
یوں تو پاکستان تعلیمی میدان میں پہلے ہی دوسرے ترقی پزیر ممالک کے مقابلہ می خاصا پیچھے ہے ، ۱۰۰۰ سے زیادہ ،سکولوں کی تباہی سے مذید پیچھا چلا جائےگا۔ اس طرح طالبان نے پاکستانی مسلمانون کی موجودہ اور آئیندہ نسل کو تعلیمی میدان میں جان بوجھ کر پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے اور جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ پاکستان میں عورتوں میں شرح خواندگی ۳۶فیصد اور مردوں میں ۶۳ فیصد ہے۔ خیبر پختونخواہ مین خواندگی کی شرح ۵۰ فیصد ہے اور عورتوں میں شرح خواندگی ۳۰۔۸ فیصد ہے۔ سکولوں کو جلانے کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم طالبان کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان کی مسلمان اکثریت پر مسلط کریں۔
تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پاکستان میں غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی و دہشت گردی جیسے مسائل مزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ‌ سے ہم پاکستان میں دہشتگردی و انتہا پسندی کی عفریت پر قابو پا سکتےہیں اور لوگ اس بات کو درست طور پرسمجھ سکیں گے کہ خرابی دین اسلام میں نہیں بلکہ اسلام کی اس غیر معقول اور تنگ نظر طالبانی تشریح میں ہے جس کا علاج، بہتر تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے اور اسی میں پاکستان کی تعمیر و ترقی کی تعبیر مضمر ہے۔
ہمیں بحثیت مجموعی ایک قوم کی حثیت سے یہ سوچنا چاہئیے کہ اس طالبانی جہالت اور انسانی تہذیب کے دشمنوں کے خا تمے کے لیے ہمیں بہت کچھ کرنا ہے اور ہمیں یہ فيصلہ کرنا ہے کہ ہميں علم کی روشنی چاہيے يا جہالت کے اندھيرے ؟

Advertisements