کراچی میں امام بارگاہ پر دستی بم حملہ


544fca24aa24d

کراچی میں امام بارگاہ پر دستی بم حملہ

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں امام بارگاہ کے قریب دھماکہ ہوا جس میں ایک بچی ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ڈان نیوز کے مطابق دھماکہ اسلامی ریسرچ سینٹر میں محرم الحرام کے حوالے سے خواتین کی مجلس کے بعد ہوا جس میں ڈیڑھ سالہ بتول ہلاک جبکہ 2 بچوں اور خواتین سمیت 8افراد زخمی ہوئی ہیں۔ عائشہ منزل کے علاقے میں واقع اسلامک ریسرچ سینٹر پر دستی بم (کریکر) پھینکا گیا جو کہ سینٹر کے ساتھ واقع روڈ پر گرا، مجلس ختم ہونے کے بعد باہر نکلنے والی خواتین اس کی زد میں آگئیں۔

248336_l
ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو کا کہنا تھا کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے پل سے کریکر پھینکا۔
غلام قادر تھیبو نے مزید کہا کہ حملے کے وقت امام بارگاہ پر پولیس اہلکار تعینات تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ امام بارگاہ کے قریب واقع پل (عائشہ منزل فلائی اوور) کے اوپر سے کریکر پھینکا گیا، حملہ آوروں کا نشانہ امام بارگاہ تھی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دستی بم پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر پھینکا گیا تھا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے سے ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو فری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ بعد ازاں بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ بھی پہنچ گیا جس نے تلاشی شروع کر دی۔
ڈان نیوز کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا دستی بم دیسی ساختہ نہیں ہے بلکہ یہ روسی ساختہ کریکر تھا جس سے تباہی دیسی ساختہ بم کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
http://urdu.dawn.com/news/1011561

phpThumb_generated_thumbnailjpg
زخمیوں میں ایک سالہ کرن فاطمہ دختر فیصل ، 40 سالہ زہرہ زوجہ وقار،مریم زوجہ حسن شیرازی ، 23سالہ شہنازفاطمہ زوجہ افضل ،27سالہ وقارعباس ولد عباس ، 60سالہ علی حسن ولد محمد مہدی ، 23سالہ فائزہ زوجہ فیصل ، 28سالہ عائشہ زوجہ عباس اور 24سالہ ثناء زیدی شامل ہیں زخمیوں کو فوری عباسی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ معصوم احسن بتول کو نجی اسپتال لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق ملزمان نے تھیلے میں لپٹا ہوا دستی بم اس مقام سے پھینکا جہاں سے پل کی ٹن شیٹ شروع ہوتی ہے اور بم اس جگہ پھینکا جہاں خواتین کی مجلس ہورہی تھی اور یہاں کو ئی پولیس اہلکار موجود نہ تھا جس کی وجہ سے ملزمان آسانی سے قریبی پل سے دستی بم پھینک کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ڈی ایس پی گلبرگ علی نواز کے مطابق جاں بحق ہونے والی کرن کی لاش ورثہ کے حوالے کردی گئی ہے جہاں سے ورثہ لاش امام بارگاہ خیرالعمل لئے ہیں،انھوں نے بتایا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کو جائے وقوعہ سے دستی بم کی پن مل گئی۔

Blastnew_10-29-2014_164010_l
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے شیعہ سنی عوام سمیت پوری ملت اسلامیہ سے بھرپور اپیل کی ہے کہ خدارا اتحاد بین المسلمین کیلئے ایک دوسرے کا احترام کریں اور شیعہ سنی فساد کی آگ بھڑکانے اورفرقہ وارانہ قتل کی کھل کرمذمت کریں۔ انہوں نے یہ بات پیرکی شب ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر تمام تنظیمی و نگز اور شعبہ جات کے ارکان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی شریک تھے۔ ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ شیعہ سنی عوام متحد ہو کر اپنے اپنے علاقوں میں امن کمیٹیاں بنائیں اور فرقہ وارانہ فساد کی سازشیں کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور جو فسادکی سازش کرتا نظر آئے اسے پکڑ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کریں۔ الطا ف حسین نے ایم کیوایم کے شعبہ جات کے ارکان سے کہاکہ آپ یہ نہ سوچیں کہ اتحاد بین المسلمین کیلئے کون کام کر رہا ہے یا نہیں، آپ اس سلسلے میں بھرپور کوشش کریں۔ الطاف حسین نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے بھرپورکرداراداکرنے والے شیعہ اورسنی علمائے کرام کی کوششوںکوسراہا۔ الطاف حسین نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب کی الہامی کتابوں میں احترام انسانیت، انصاف، مساوات، ایمانداری، دیانتداری، امانت داری کا درس ملتا ہے، تمام مذاہب امانت میں خیانت نہ کرنے ، جھوٹ بولنے سے پرہیز کرنے ،ہمیشہ سچ بولنے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کادرس دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا کسی ایک فقہ یا مسلک کے ماننے والوں کیلئے نہیں بلکہ تمام عالم کے مسلمانوں کیلئے ایک عظیم غم اور صدمہ کا واقعہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ سنی بھی عاشورہ محرم کے دوران غم حسین مناتے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی مجلس پردستی بم حملہ انتہائی بزدلانہ عمل ہے، درندہ صفت سفاک دہشت گردمحرم الحرام کے دوران امام بارگاہوں کو نشانہ بناکر شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔

مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے وائس چیئرمین شمشاد خان غوری نےگزشتہ روز عائشہ منز ل اسلامک ریسرچ سینٹر سے متصل امام بارگاہ پر کریکر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ کچھ ملک اور اسلام دشمن قوتیں سازش کے تحت کراچی کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہیں، حکومت ایسے واقعات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اداروں کو ناصرف سخت ہدایات جاری کرے بلکہ ماہِ محرم میں مجالس ،جلوسوں اور امام بارگاہوں کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔ آفاق احمد کی رہائش پر سرسید یونیورسٹی سے پروفیسرزاور لیکچراز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ماہ ِ محرم الحرام میں تمام سیاسی جماعتیں محازآرائی سے گریز کریں ۔
فرقہ واریت اور دہشتگردی زہر قاتل ہے جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے. دہشت گردی اور فرقہ واریت کے عفریت نے پورے پاکستان اور اس کے سماج کو اپنی مکمل گرفت میں لے رکھا ہے اور پاکستان ،دہشستان بن کر رہ گیا ہے ۔
طالبان ،لشکر جھنگوی،جیش اسلام اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنے کی سرٹوڑ کوشیشیں کر رہے ہیں۔ سنی اور شیعہ ایک ہی لڑی کے موتی ہیں ،ان کے درمیان لڑائی اور ایک دوسرے کا خون بہانا درست نہ ہے۔ فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔
طالبان جان لیں کہ وہ اللہ کی بے گناہ مخلوق کا قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خودکش حملے اور بم دہماکےکر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں. خودکش حملوں کے ضمن میں پاکستان میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث کےجید علماء خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا بزور طاقت مسلط کرنا چاہتے ہیں. بم دھماکوں اور دہشت گردی کے ذریعے معصوم و بے گناہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلانے والے سفاک دہشت گرد ملک و قوم کے کھلے دشمن ہے اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ مزاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں ،جنازوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی جہاد کے منافی ہیں اور مسلم حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔ انتہا پسند پاکستان کا امن تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان و لشکر جھنگوی کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ جنگ میں طاقت کااستعمال ان لوگوں تک محدود ہونا چاہیے جو میدانِ جنگ میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہوں۔معصوم و بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔ اور نہ ہی عرورتوں اور بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا جا سکتا ہے.

Advertisements