پاکستان کا پولیو پروگرام بستر مرگ پر


polio-campaign

پاکستان کا پولیو پروگرام بستر مرگ پر
عالمی پولیو مانیٹر نے کہا ہے کہ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ 2014 کے اختتام تک دنیا بھر سے پولیو کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا کیونکہ پولیو کے خاتمے کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان ہے اور یہاں انسداد پولیو پروگرام بستر مرگ پر پڑا ہے جس کے دیکھ بھال کے لئے کوئی مناسب اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ عالمی آزاد پولیو مانیٹر نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کو لکھے گئے تازہ ترین مراسلے میں درخواست کی ہے پاکستان پر پریشر ڈلا جائے کہ وہ پولیو پروگرام کی بہتری کے لئے بھیجی جانے والی سفارشات پر عمل کو یقینی بنائے کیونکہ اگر پاکستان پولیو کے خاتمے میں ناکام رہا تو مزید اربوں ڈالر لگا کر بھی اس بیماری کو خاتمہ ممکن نہیں رہے گا۔

واضح رہے عالمی پولیو مانیٹر کی جانب سے گزشتہ روز پاکستان میں انسداد پولیو کی مہم کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارش کی گئی تھی کہ پاکستان میں اس پروگرام کو محکمہ صحت کی بجائے این ڈی ایم اے کے ماتحت کیا جائے۔
http://dailypakistan.com.pk/front-page/27-Oct-2014/156871


پاکستان میں انسداد پولیو ٹیموں پر حملوں اور ورکرز کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے ، پاکستان دنیا کے مقابلے میں پولیو کے خاتمے میں کئی سال پیچھے جاچکا ہے. بچوں کو مستقل معذور کر دینے والی اس بیماری سے بچانے والے رضا کاروں کے خلاف پر تشدد واقعات اور پولیو سے بچانے والی ویکسین کے خلاف منفی رویے کا نتیجہ ہے کہ ملک میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت جب ملک بھر میں کہیں بھی پولیو مہم دہشت گردی کے خطرے کے بغیر نہیں چلائی جا سکتی ، اس مہم کے رضاکاروں کی حفاظت کے انتظامات اکثر تشویشناک صورتحال سے دوچار رہتے ہیں۔
پولیو کے قطرے پلانے کے حوالے سے تشویشناک بات پچھلے چند ماہ کے دوران پولیو ورکروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر 2012 سے اب تک پولیو مہم میں شریک ہیلتھ ورکرز اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں سمیت 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے جاری شدت پسندی اور اس کے خلاف جاری مہم نے پولیو کے خلاف جدوجہد کو شدید متاثر کیا ہے۔ پولیو کے زیادہ تر واقعات بھی قبائلی علاقے ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے انہی اضلاع سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں کشیدگی کی وجہ سے انسداد پولیو کی مہم وسیع پیمانے پر نہیں چلائی جا سکی ۔ اگر یہ ہی صورت حال رہی تو پاکستان کو عالمی سطح پر سخت تناہی کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے سال میں پاکستانیوں کے بیرونی سفر پر پابندی عائد کر دی گئی تھی،اور ہر پاکستانی کو بیرونی سفر سے پہلے پولیو کے قطرے پینا لازمی تھے۔اس اقدام کے لئے پاکستان کے ہر ائیر پورٹ پر پولیو قطروں کے لئے مخصوس یونٹ بھی قائم کئے گئے ہیں۔ پولیو وائرس سے بچوں اور آئندہ نسل کوبچانے کیلیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔

polio

چیئرمین انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے یونیسیف سے کے سربراہ اور گلوبل پولیو ایریڈیکیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ پاکستان ناقص پولیو پروگرام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرے۔یونیسیف کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر انتھونی لیک کو ایک خط میں آئی ایم بی کے چیئرمین سر لیم ڈونلڈسن نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی حکومت نے اس بیماری کو اعلیٰ ترین ترجیحات میں شامل نہیں کیا اور اپنے پروگرام میں خاطر خواہ تبدیلیاں نہ کیں تو مستقبل میں فنڈز کی فراہمی میں دشواری پیدا ہوسکتی ہے۔نیشنل ہیلتھ سروس کے ایک افسر کے مطابق یہ خط اہم ہے کیوں کہ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ آئی ایم بی عمل درآمد کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ آئی ایم بی مانتی ہے کہ پورا پاکستان پولیو وائرس کے خطرے سے دو چار ہے اور حکومت اس بیماری کو ختم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں کررہی۔آئی ایم بی کی ہفتے کے روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کے پولیو پروگرام کو ‘انتہائی ناقص’ قرار دیا گیا تھا اور تجویز دی گئی تھی کہ پروگرام کو نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سپرد کیا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ وائرس کراچی، لاہور جیسے بڑے بڑے شہروں میں بھی موجود ہے جبکہ قبائلی علاقوں کے علاوہ حیدر آباد، کوئٹہ اور دیگر مقامات سے بھی پولیو وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ادہر پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے انسدادِ پولیو کے عالمی دن کے موقع پر ملک سے اس مرض کے جلد خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے ملک میں پولیو ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔پاکستان دنیا میں پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے اور رواں برس یہاں پولیو کے 231 سے زیادہ نئے مریض سامنے آ چکے ہیں جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔
وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جمعے کو پولیو کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر وزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے جامع آگاہی حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پولیو کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور جلد ہی پاکستان پولیو سے آزاد ملک بن جائےگا۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس حکمتِ عملی کے تحت پولیو کے قطرے پینا ہر بچے کا حق قرار دیا گیا ہے اور معاشرے کے پر طبقے کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو ان کا یہ حق دیں۔
نواز شریف نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے مرض کے خاتمے کیلیے حکومتی کوششوں کے حصہ بنیں اور اپنے بچوں کو پولیو ویکسین ضرور پلائیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیرِ اعظم نے پولیو ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ حکومتی کوششوں کے نتیجے میں پولیو مہم کے تئیں عوام کے رویے میں تبدیلی آئے گی اور یہ مہم زیادہ کارگر ثابت ہوگی۔
پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ والدین کی جانب سے قطرے پلوانے سے انکار اور پولیو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے عملے پر بڑھتے ہوئے حملوں کو قرار دیا جاتا ہے۔
پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں
سنہ 2014 کے آغاز پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے پولیو کے مرض کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستانیوں پر بیرون ملک سفر کے حوالے سے پابندیاں عائد کی تھیں۔
ان پابندیوں کے تحت پاکستان سے بیرون ملک جانے والوں کو روانگی پر یہ سرٹیفیکیٹ فراہم کرنا ہوتا ہے کہ انھوں نے پولیو ویکسین پی ہے۔
پولیو کا مرض اب صرف دنیا کے تین ممالک میں پایا جاتا ہے جن میں پاکستان کے علاوہ نائجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔
ملک میں انسداد پولیو مہم کے باوجود تواتر سے پولیو کیسز سامنے آنے کے باعث بڑھتے ہوئے عالمی پریشر کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے اس تشویشناک صورتحال سے متعلق تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ کو خطوطو ارسال کر دیئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پولیو ملک کا ہنگامی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، لہذاٰ اس امر کی ضرورت ہے کہ تمام صوبے آپس میں مل کر تعاون کریں اور پولیو کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم نے درخواست کی ہے کہ ہر صوبہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپناکردار اداکرے تا کہ عالمی برادری کو مثبت پیغام دیا جا سکے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو نہ روکا جا سکا تو ملک میں پولیو کے مریضوں کی تعداد دس گنا تک بڑھ سکتی ہے۔
انسداد پولیومہم کو کامیاب بنانے کیلیے ایسی تشہیری مہمات چلائی جائیں جن سے عوام میں وائرس سے بچائوکی ترغیب پیدا ہو، اس مہم میں مذہبی شخصیات اور ہر علاقے کے معززین کو بھی شامل کرنا ضروری ہے،کوشش کی جانی چاہیے کہ عوام میں پولیو ویکسین کے حوالے سے موجود غلط فہمیوں کو دورکیا جائے، انسداد پولیو ویکسین کا صحیح استعمال اور اس کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے تاکہ بچوں کے منہ میں جانے تک اصل حالت میں برقرار رہے۔
ملک میں پولیو سے متاثرہ چار مزید بچوں کی نشاندہی ہو گئی ہے جن میں سے دو کا تعلق خیبر ایجنسی اور دو کا تعلق پشاور سے ہے۔ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں رواں سال سامنے آنے والے پولیو کے کیسز کی مجموعی تعداد 231 ہو گئی ہے جبکہ فاٹا میں سولہ سال میں پہلی بار ایک ہی سال کے دوران 150 کیس سامنے آ ئے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آکر تک پاکستان میں پولیو سے متاثرہ افراد کی تعداد 300 سے تجاوز کر سکتی ہے۔ واضح رہے عالمی اداہ صحت پہلے ہی پاکستان میں پولیو کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر اظہار تشوش کر چکا ہے اور پاکستان کو اسی باعث سفری پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔

پولیو کا خاتمہ ایک چیلنج ہے اور پاکستان کو دنیا سے سبق سیکھنا چاہئے، پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے235 کیسز سامنے آچکے ہیں جنہوںنے پاکستانی حکام کو ہلاکر رکھ دیا تاہم یہ حقیقت کچھ حوصلہ دیتی ہے کہ 1952 میں سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور سپریم کورٹ جج ولیم ڈگلس سمیت 58 ہزار امریکی اس موذی مرض میںمبتلا رہے.

index
طالبان کا یہ کہنا کہ پولیو کے انسداد کی مہم اسلام کے منافی ہے ہے بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔اسلام نے انسانی جان بچانے کے لئیے ہر طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ دہشت گردوں کا پاکستانی بچوں کو پو لیو کے قطرے نہ پلانے دینا ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ پاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والی مجرمانہ کاروائی ہے، پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے اور پاکستانی عوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ غفلت پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے۔
علمائے کرام نے پولیو ٹیمز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شرعی طور پر ناجائز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت اور حرمت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انسداد پولیو پر عالمی علماءکانفرنس منعقد ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان بچوں کا پولیو سے بچاﺅ تمام مسلمان والدین کی مذہبی ذمہ داری ہے، ویکسین میں کوئی حرام یا مضر صحت اجزاءشامل نہیں۔ عالمی علماءکانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیو ورکرز پر حملے قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہیں اور شرعی طور پر ناجائز ہیں۔ والدین بچوں کو پولیو سے بچاﺅں کے قطرے پلائیں اور حفاظتی ٹیکے لگوائیں، پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین محفوظ و موثر ہے اور اس میں ایسے اجزاءشامل نہیں ہیں جو تولیدی نظام کو نقصان پہنچائیں۔

پاکستان بھر میں پولیو وائرس سے بچوں اور آئندہ نسل کوبچانے کیلیے ہر سظح پر بھرپور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔

Advertisements