واہگہ بارڈر خودکش حملہ میں 60 افراد جانبحق


10628145_10152892511207044_105712669011123493_n

واہگہ بارڈر خودکش حملہ میں 60 افراد جانبحق
لاہور میں واہگہ بارڈر پر خود کش دھماکے میں تین رینجرز اہلکاروں سمیت60؍ افراد شہید اور 175سے زائد زخمی ہوگئے، شہدأ میں ایک خاندان کے 8اور دوسرے کے5افراد، 12خواتین اور7بچے بھی شامل ہیں ، واہگہ بارڈر پر پریڈ اور پرچم اُتارنے کی تقریب کے بعد بڑی تعداد میں لوگ واپس جا رہے تھے کہ 20سالہ بمبار نے ہجوم میں گھس کر خود کو اُڑا لیا، دھماکے سے انسانی اعضاء بکھر گئے اور بھگدڑ اور چیخ و پکار مچ گئی، شہری اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے رہے، درجنوں زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ، خود کش حملہ اس جگہ کیا گیا جہاں رینجرز اہلکار کھڑےتھے، دھماکے سے مارکیٹ کی کئی دکانوں میں آگ لگ گئی جبکہ واہگہ بارڈر چیک پوسٹ اور کسٹمز عمارت کو نقصان پہنچا، خود کش دھماکے کیلئے 5کلو سے زائد بارودی مواد اور بال بیرنگ استعمال کئے گئے ، سانحہ کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضاء ہے ۔

images
ادھر صدر ممنون حسین، آصف زرداری، الطاف حسین ، سراج الحق، عمران خان، مولانا فضل الرحمن، آفاق احمد اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے خود کش دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

300048-image-1414955174-427-640x480
آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے واہگہ بارڈر پر ہونے والے خود کش دھماکہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی ہے جس کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق واہگہ بارڈر پریڈ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ واپس آ رہے تھے کہ نماز مغرب کے بعد 18 سے 20 سالہ نوجوان نے ہجوم کو دیکھ کر خود کو دھماکہ سے اڑا دیا۔ یہ دھماکہ 5 بجکر28 منٹ پر ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک نوجوان مشکوک حالت میں ہوٹل کے قریب گھوم رہا تھا۔ سیکورٹی اہلکار چیک کرنے کے لئے آگے بڑھا تو حملہ آور نے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے خودکش حملہ آور نے پہلا بیریئر کراس کرنے کے بعد دوسرے بیریئر پر خود کو اڑا لیا، دھماکہ میں بال بیرنگ استعمال کئے گئے۔ آئی جی پنجاب کے مطابق خود کش حملہ آور نے ہجوم کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا جبکہ ایسے مقامات پر خود کش حملہ آور کو روکنا انتہائی مشکل کام ہے۔ خودکش حملہ آور کے اعضاء مل گئے ہیں۔
ایم ایس گھرکی ہسپتال ڈاکٹر افتخار نے 48 لاشوں کے ہسپتال لانے کی تصدیق کی ہے،جبکہ 100 کے قریب زخمیوں کو بھی گھرکی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جاں بحق افراد میں12 خواتین اور 7بچے بھی شامل ہیں جبکہ دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد کے جاں بحق ہوئے ہیں۔دوسری جانب سروسز ہسپتال کے مطابق وہاں 4 لاشیں جبکہ34 زخمیوں کو بھی منتقل کیا گیا ۔

B1l96z5IEAE5x_a

10155504_873746796003933_3578443857178812099_n

PAKISTAN-UNREST-BLAST-INDIA
واہگہ بارڈ پر خود کش دھماکے میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی جاں بحق ہوگیا، نوبیاہتا جوڑا الیاس اور اس کی بیوی ارم بیرون ملک سے لاہور ہنی مون کیلئے آیا تھا۔اخباری رپورٹ کے مطابق الیاس دس سال سے کویت میں مقیم تھا اور لیدر کا کام کرتا تھا ۔اسکی بچپن سے ہی اپنی خالہ کی بیٹی ارم سے شادی کی بات چیت طے ہوچکی تھی جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں منیجر تھی ۔پندرہ اکتوبر کی رات الیاس اور ارم کی کویت میں ایک ہوٹل میں شادی ہوئی جسکے بعد نیا نویلا جوڑا ہنی مون منانے کیلئے لاہور پہنچ گئے، لاہور میں الیاس نے اپنے ایک قریبی دورست جمیل کے گھر پر قیام کیا۔ گزشتہ صبح دونوں میاں بیوی نے ناشتہ کیا جس کے بعد الیاس نے اپنے د وست جمیل کو واہگہ بارڈر کی تقریب میں ساتھ جانے کیلئے کہا لیکن جمیل کسی ضروری کام کے سلسلہ میں واہگہ بارڈر نہ جاسکا جس کے بعد دونوں میاں بیوی دوست کی گاڑی لے کر واہگہ بارڈر چلے گئے ۔واقعے کی اطلاع ملنے پر الیاس کا دوست جمیل اپنی فیملی کے ہمراہ دھاڑیں مارتا ہوا ہسپتال پہنچ گیا جہاں جمیل صدمے سے نیم بیہوش ہوگیا ، بعد ازاں جمیل کی بیوی نے ارم کے عزیز و اقارب کو اطلاع دی۔ دولہا الیاس کے عزیز و اقارب جو راولپنڈی خیابان سرسید سیکٹر تھری میں رہائش پذیر ہیں،کو جب ان دونوں کے موت کی اطلاع ملی تو کہرام مچ گیا اور دونوں کے عزیز و اقارب دونوں کی لاشیں تلاش کرنے کیلئے ہسپتالوں میں پھرتے رہے۔

B1h0aGoCYAEsX0H

حساس اداروں کے مطابق واہگہ بارڈر پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی کراچی میں کی گئی جس میں کالعدم تنظیم جند اللہ اور تحریک طالبان کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ واہگہ بارڈر دھماکے کی منصوبہ بندی طالبان کمانڈر گل امان نے کی جو اس وقت افغانستان میں ہے۔

سی سی پی او کیپٹن (ر) امین وینس کا کہنا ہے کہ واہگہ خود کش حملے میں بیرونی طاقتوں کے ملوث ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق واہگہ خود کش دھماکے کی تحقیقات کے حوالے سے سی سی پی او کا کہنا تھا کہ اب تک 2 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ واہگہ بارڈر دھماکے میں استعمال کئے گئے مواد کا لیبارٹری تجزیہ کرایا جا رہا ہے جبکہ تحقیقات کے لئے مختلف پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاہم اس کے تانے بانے کہیں اور بھی ملنے کا امکان ہے جسے رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

http://dailypakistan.com.pk/lahore/04-Nov-2014/159677

300048-image-1414955067-914-640x480

1932432_873746852670594_2133318974037599960_n

141102191640__78702110_b448613b-7a4d-4f59-9c79-7a66e56c86b2
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا، قوم دہشت گردوں کے شکست خوردہ نظریے کے خلاف متحد ہے۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گرد قوم کو تقسیم اور خوف زدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے،آپریشن ضرب عضب آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا، قوم دہشت گردوں کے شکست خوردہ نظریے کے خلاف متحد ہے ، وزیر اعظم نے کہا کہ دھماکے کے شہدا ملک کےلیے جانیں قربان کرنے والےمسلح افواج کے شہیدوں میں شامل ہو گئے ہیں ۔

news-1415021352-6266

141103083016_lahore_blast_640x360_afp
وفاقی وزیر داخلہ چاہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ واہگہ بارڈر پر آج ہونے والے خود کش حملے سے متعلق پہلے سے ہی حکومت پنجاب کو آگاہ کیا گیا تھا مگر اس ابتدائی وارننگ کے باوجود خود کش حملہ آور کو روکنے کے انتظامات نہ کئے جانا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ میڈیا کو جاری ایک بیان میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا وزاردت داخلہ کی طرف سے معلومات دینے کے باوجود حفاظتی اقدامات نہ کرنے کی تحقیقات کریں گے۔

300048-image-1414954964-849-640x480

index
پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے اردگرد بارود بھرا پڑاہے دہشت گردی کینسر ہے جڑ سے ختم کرنا ہو گا۔انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو دیکھنا ہو گا کہ ان کی صفوں میں کو ن انتہا پسندی کر رہا ہے ،انتہا پسندی کا مائنڈ سیٹ لاہور اور کراچی سمیت پور ے ملک میں بھرا پڑا ہے ،دہشت گردی پورے ملک کا مسلہ ہے قوم کو بہادری کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اس بیماری کو جڑسے ختم کرنے کے لیے قوم کو کھڑا ہونا ہو گا۔

news-1414940186-1166
واہگہ بارڈر کے قریب ہونے خود کش حملے کی ذمہ داری ملک میں کام کرنے والی تین کالعدم تنظیوں جنداللہ، جماعت الاحرار اور حکیم اللہ محسود گروپ نے قبول کر لی ہے۔ نامعلوم مقام سے میڈیا کو جاری ایک بیان میں جنداللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ خود کش حملہ شمالی وزیرستان میں جاری پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کا رد عمل ہے جس میں نشانہ رینجرز اہلکار تھے۔دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والی جماعت الاحرار اور حکیم اللہ محسود گروپ نے بھی مختلف میڈیا گروپس کو فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تین مختلف تنظیموں کی طرف سے ذمہ دارہ قبول کرنا دہشتگرد تنظیموں میں انتشار ہے و ہم آہنگی کا فقدان ظاہر کرتا  ہے اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ تنظیمیں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

news-1414994777-8221

news-1414998526-7001
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔طالبان کے دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے،50 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے۔ انتہا پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی جیسی قبیح برائیوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں.دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان کی معشت کو ایک کھرب تین ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جو کہ جاری ہے۔

دہشت گرد انسانیت کے بدترین دشمن ہیں ان کا کوئی مذہب ‘ فرقہ یا کوئی مسلک نہیں بلکہ یہ انسانیت دشمن ہیں جنہوں نے  واہگہ بارڈ پر خون کی ندیاں بہا کر محرم میں ایک بار پھر کربلا برپا کر کے خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے ۔ سانحہ واہگہ بارڈ پر ہر آنکھ آشک بار ہے ۔  دہشت گردی ملک و قوم کے لئے چیلج بننے ہوئے ہیں۔آئے روز معصوم شہریوں کی شہادتیں ہمیں متحد ہونے کا پیغام دیتی ہیں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے قوم کو متحد و منظم ہونا ہو گا ۔
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا طالبان اور دوسری دہشت گر جماعتوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ اسلام میں ایک بے گناہ کا قتل تمام انسانیت کا قتل تصور ہوتا ہے۔ چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔

Advertisements