عاشورہ کے مرکزی جلوس میں دہماکہ سے 3افراد جاں بحق


250653_l

عاشورہ کے مرکزی جلوس میں دہماکہ سے 3افراد جاں بحق
اورکزئی ایجنسی کے قبائلی علاقہ میرازئی میں یومِ عاشورہ کے ماتمی جلوس میں سڑک کے کنارے نصب شدہ بارودی مواد کا دھماکہ 3افراد جاں بحق 28 زخی ہوگئے جبکہ لوئر اورکزئی کے علاقے کلایا اور دیگر علاقوں پر نامعلوم مقام سے 9راکٹ فائر کئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق لو ئر اورکزئی ایجنسی کے قبائلی علاقہ میرازئی میں یومِ عاشور کے ماتمی جلوس میں سڑک کے کنارے نصب شدہ بارودی مواد کا دھماکہ، 3 افراد میر احمدخان اور غلام عباس جبکہ ایک کا نام معلوم نہ ہو سکا،پولیٹیکل انتظامیہ کے حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لو ئر اورکزئی ایجنسی کا قبائلی علاقہ میرازئی میں دس محرم الحرام یوم عا شور کے دن 4 نومبر کو دن ساڑھے 12 بجے یومِ عاشور کا ماتمی جلوس اپنے رایتی راستوں پر ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ کا لات جا رہا تھا کہ میرازئی کے مقام پر پہلے سے روڈ کے کنارے نصب شدہ بارودی مواد کے دھماکے کا شکار ہوگیا۔

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=250653
طالبان ،لشکر جھنگوی،جیش اسلام اور القائدہ ملکر پاکستان بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر ہے ہیں اور ملک کو فرقہ ورانہ فسادات کی طرف دہکیلنے کی سرٹوڑ کوشیشیں کر رہے ہیں۔ سنی اور شیعہ ایک ہی لڑی کے موتی ہیں ،ان کے درمیان لڑائی اور ایک دوسرے کا خون بہانا درست نہ ہے۔ فرقہ واریت پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں۔ اسلام میں ایک بے گناہ فرد کا قتل ، پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے.معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہے ۔.

Advertisements