پاکستان و اسلام میں اقلیتیوں کے حقوق


پاکستان و اسلام میں اقلیتیوں کے حقوق

پاکستان میں کسی بھی اقلیتی فرد کا قتل ایک عظیم سانحہ ہے اور یہ اسلامی شریعہ کے بالکل خلاف ہے۔ کسی بھی فرد کو یہ حق نہ ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر دوسرے کو خود سزا دینا شروع کر دے ۔۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایاتھا کہ تمام اقلیتوں کو، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب ، فرقے یا گروہ سے ہو، مکمل تحفظ دیا جائے گا۔ ان کا دین و مذہب قطعی محفوظ ہوگا۔ انہیں عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور اس میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔ ان کے مذہب ، عقائد ، جان و مال اور تہذیب و تمدن کو تحفظ حاصل ہوگا۔ وہ ہر طرح سے پاکستان کے شہری ہوں گے جن کے ساتھ دین یا ذات پات کی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔

545b09729f0bf

کوٹ رادھا کشن میں مقدس اوراق کی مبینہ بے حرمتی پر مسیحی میاں بیوی کو تشدد کے بعد بھٹے میں ڈال کر زندہ جلا دیا گیا۔ کوٹ رادھاکشن کے نواحی گائوں چک نمبر 59میں یوسف گجر کے بھٹہ پر شمع بی بی اور اسکا خاوند شہزاد مسیح بطور لیبر کام کرتے تھے جن کے بارے میں یہ اطلاع ملی کہ انہوں نے مقدس اوراق کی مبینہ بے حرمتی کی ہے۔ بعد میں مساجد میں اس واقعہ کا اعلان کیا گیا اور لوگ بھٹہ کے سامنے اکٹھے ہونے شروع ہوگئے، لوگ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے پولیس کی موجود گی میں بھٹہ پر آکر دونوں میاں بیوی کو جو کہ بھٹہ کے مالک نے ایک کمرے میں چھپائے ہوئے تھے، زبردستی کمرے سے باہر نکالنے کے بعد شدید تشدد کیا اور انہیں بھٹے کی آگ میں پھینک کر زندہ جلا دیا۔

PAKISTAN-UNREST-BLASPHEMY-RELIGION-CHRISTIAN
’’خبردار! جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اُس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) جھگڑوں گا۔‘‘
ابوداؤد، السنن، کتاب الخراج، باب في تعشير، 3 : 170، رقم : 3052
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اقلیتوں کے بارے مسلمانوں کو ہمیشہ متنبہ فرماتے تھے، چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاہدین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا :
من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وان ريحها توجد من مسيرة اربعين عاما.
’’جس کسی نے کسی معاہد (اقلیتی فرد) کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس برس کی مسافت تک پھیلی ہوئی ہے۔‘‘
1. بخاري، الصحيح، کتاب الجزيه، باب إثم من قتل، 3 : 1154، رقم : 2995
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الديات، باب من قتل معاهدا2 : 896، رقم : 2686
3. ربيع، المسند، 1 : 367، رقم :956
جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہی حقوق ذمیوں کو بھی حاصل ہوں گے، نیز جو واجبات مسلمانوں پر ہیں وہی واجبات ذمی پر بھی ہیں۔ ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کی طرح محفوظ ہے اور ان کے مال ہمارے مال کی طرح محفوظ ہے۔(درمختار کتاب الجہاد)
امام ابو یوسف اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’کتاب الخراج‘‘ میں لکھتے ہیں کہ عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ میں تعزیرات اور دیوانی قانون دونوں میں مسلمان اور غیر مسلم اقلیت کا درجہ مساوی تھا۔
ابو يوسف، کتاب الخراج : 187
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام کے گورنر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو فرمان لکھا تھا اس میں منجملہ اور احکام کے ایک یہ بھی تھا کہ :
وامنع المسلمين من ظلمهم والإضراربهم واکل اموالهم إلا بحلها.
’’مسلمانوں کو ان پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے منع کرنا۔‘‘
ابويوسف، کتاب الخراج : 152
ذمیوں کے اموال اور املاک کی حفاظت بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جوغیر مسلم اسلامی ریاست میں قیام پذیر ہوں اسلام نے ان کی جان، مال، عزت وآبرو اور مذہبی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دی ہے۔اور حکمرانوں کو پابند کیا ہے کہ ان کے ساتھ مسلمانوں کے مساوی سلوک کیا جائے۔ ان غیر مسلم رعایا(ذمیوں) کے بارے میں اسلامی تصوریہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پناہ میں ہیں۔ا س بناء پر اسلامی قانون ہے کہ جو غیر مسلم، مسلمانوں کی ذمہ داری میں ہیں ان پر کوئی ظلم ہوتو اس کی مدافعت مسلمانوں پر ایسی ہی لازم ہے جیسی خود مسلمانوں پر ظلم ہو تو اس کا دفع کرنا ضروری ہے۔(مبسوط سرخسی:۱/۸۵(
قرآن مجید بلاشبہ انسانیت کا محافظ ہے یہی وہ کتاب حق ہے جو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے “اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا ہے کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین پر فساد مچانے والا ہو ، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا اور جو شخص کسی ایک شخص کی جان بچائے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔ (المائدہ5:32(
حضرت عمر نے غیر مسلموں کی جان ومال کو مسلمانوں کے جان ومال کے برابر قرار دیا‘ مسلمان اگر کسی ذمی کو قتل کرڈالتا تھا تو حضرت عمر فوراً اس کے بدلے میں مسلمان کو قتل کرادیتے تھے۔ مولانا شبلی نے روایت کی ہے کہ قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک عیسائی کو مار ڈالا‘ حضرت عمر نے لکھ بھیجا کہ قاتل ‘ مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے‘ چنانچہ وہ شخص مقتول کے وارث جس کا نام حسنین تھا‘ حوالہ کیا گیا اوراس نے اس کو قتل کر ڈالا۔ مال اور جائیداد کے متعلق حفاظت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی تھی کہ جس قدر زمینیں ان کے قبضے میں تھیں‘ اسی حیثیت سے بحال رکھی گئیں جس حیثیت سے فتح سے پہلے ان کے قبضے میں تھیں‘ یہاں تک کہ ان مسلمانوں کو ان زمینوں کا خریدنا بھی ناجائز قرار دیا گیا.
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا :
دية اليهودي والنصراني والمجوسي مثل دية الحر المسلم.
’’یہودی، عیسائی اور مجوسی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت کے برابر ہے۔‘‘
مندرجہ قران و حدیث اور حالات وواقعات کی روشنی میں یہ یقین سے کہا جاسکتاہے کہ غیر مسلموں کی جان‘ مال‘ عزت وآبرو اور مذہب کا اسی قدر استحفاظ کیا جانا چاہیے جس قدر مسلمان کی عزت وناموس کا۔ اسلام میں اقلیتوں کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

PAKISTAN-UNREST-BLASPHEMY-RELIGION-CHRISTIAN
اسلام انسانی مساوات، اخوت اور ہمدردی کا مذہب ہے۔ اسلام تو اقلیتوں کے حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ اسلام تمام مذاہب کے ماننے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو غیر مذاہب کے لوگوں کے لیے رواداری کا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے بلکہ انھیں یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کی حفاظت میں غیر مسلموں کی جو عبادت گاہیں ہیں ان کا تحفظ ان کا فرض ہے۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کی بھی بات کرتا ہے . کیوں کہ جہاں پر انصاف نہیں ہو گا وہاں پر کچھ بھی نہیں ہو گا . اس لئے اسلام نے اس بات پر بھی بہت زور دیا ہے کے جہاں پر بھی مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں پر ایسا نہ ہو کے اقلیت مذھب کے لوگوں پر ظلم اور جبر کیا جائے . بلکہ اسلام ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ جہاں پر ایسے لوگ ہیں ان کے حقوق کا خاص خیال رکھا جائے انھیں اپنے طریقے سے زندگی گزرنے کا مکمل اختیار ہونا چاہیے ۔

Members of the Pakistani Christian community hold placards and wooden crosses during a demonstration to condemn the death of a Christian couple in a village in Punjab province on Tuesday, in Islamabad
پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے دہرے قتل کے اس واقعے کی تفتیش کے لیے تین رکنی تحقیقاتی ٹیم بنا دی ہے اور پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبے میں مسیحی آبادیوں کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے سکیورٹی بڑھا دی جائے۔
انسانی حقوق کے واچ ڈاگ ادارے ایمنسٹٰی انٹرنیشنل نے اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تازہ واقعے میں ہلاک کیے جانے والے مسیحی جوڑے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس ادارے سے منسلک ایشیا پیسیفک کے لیے نائب ڈائریکٹر ڈیوڈ گریفیفس کے بقول، ’’مجمعے کی طرف سے ہلاک کیے جانے کا یہ تازہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں کسی پر توہین مذہب کا الزام عائد کیے جانے کے بعد اسے اسی طرح ہلاک کیے جانے کا خطرہ موجود ہے۔‘‘ انہوں نے البتہ یہ بھی کہا کہ پاکستان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں اقلیتوں کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

PAKISTAN-UNREST-BLASPHEMY-RELIGION-CHRISTIAN
وزیراعظم نواز شریف نے قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں میاں بیوی کو زندہ جلائے جانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کردی۔ کوٹ رادھا کشن کے چک 59 میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کرنے کے الزام میں مشتعل دیہاتیوں نے مسیحی جوڑے 24 سالہ شمع بی بی اور اس کے شوہر کو بھٹے میں پھینک کر زندہ جلا دیا تھا جس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم نے وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو جلد سے جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عیسائی جوڑے کو زندہ جلا دینا ناقابل معافی جرم ہے اور ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دلوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اوران کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کے لئے موثر کردار ادا کیا جائے جب کہ ملک میں مذہبی اور معاشرتی رواداری کو فروغ دینے سے ہی اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔
ویٹی کن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے پاکستان میں عیسائی جوڑے کے پرتشدد قتل کو پوری انسانیت کی تذلیل قرار دیا ہے۔
رومن کیتھولک چرچ کی کونسل برائے بین العقائد مکالمےکے سربراہ کارڈینل یان لوئس ٹورین نے کہا کہ انہیں شہزاد مسیح اور شمع بی بی کے ہولناک قتل کی خبر سن کر بہت صدمہ ہوا۔
انہوں نے پاکستان میں مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس واقعہ کی شدید مذمت کریں۔’یہ پوری انسانیت کی تذلیل ہے‘۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں سب سے پہلے مسلمان ہدف بنے ہیں کیونکہ اس سے اسلام کو ایک خراب تصور ملا۔
کوٹ راھا کشن سانحہ سفاکی و بربریت کی انتہا ہے،ایسا کرنے والوں نے اسلاماور پاکستان کی کوئی خدمت نہ کی ہے بلکہ اسلام و پاکستان کو بدنام کیا ہے۔اس گھناﺅنے جرم کے ہر سفاک کردار کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ آئندہ کسی بھی جگہ پر اس طرح کے واقعہ کا اعادہ نہ ہو ۔

Advertisements