دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے


15B01828-51F5-4C61-9A10-D210E3DCF5B3_mw1024_s_n

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری رہے گی، کسی کوشک نہیں رہناچاہئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ،انتہاپسندوں سے نمٹنے کیلئے موجودہ میکنزم ناکافی ہے‘ہمیں اپنے نظریات کے تحفظ کے لئے کام کرناہوگا‘قومی سلامتی کویقینی بناناہرادارے کی ذمہ داری ہے۔

‘دہشت گرداپنی سوچ مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،تنازعات اوردہشتگردی کے خاتمے کیلئے حقیقت پسندانہ کردار اداکرنا ہوگا،پاکستان دنیا کے لئے مثال ہے،دنیا ہماری کامیابی دیکھے گی، دہشت گردوں سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں. ‘ غیر ریاستی عناصر ریاستوں کے لئے براہ راست خطرہ ہیں‘ انپر قابو نہ پایا گیا تو صورتحال گھمبیر ہوسکتی ہے، مادروطن کے دفاع کے لئے صرف سرحدوں کومحفوظ بنانا کافی نہیں بلکہ اندرونی خطرات سے نبردآزماہوتے ہوئے ایک پرامن معاشرہ قائم کرنا ہوگا ‘پاکستان کودفاعی حوالے سے پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے کیوں کہ ہمارادشمن ہم جیسااورہم میں ہی موجود ہے‘ملکی سکیورٹی ہمسایہ ملکوں کی صورتحال پر منحصر ہے، غربت‘ بیروز گار ی ،خوراک اورپانی کی کمی نئے سکیورٹی چیلنجز ہیں، مذہب اورگروہی شناخت جنگوں کی نئی وجوہات بن رہی ہیں‘ اپنے نظریات اور کلچر کے تحفظ کے لئے کام کرنا ہوگا ۔ گلو بلا ئز یشن سے جہاں دنیا قریب آئی وہاں غیر ریاستی عناصر بھی اکٹھے ہو گئے، دہشت گرد اپنی مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دہشت گردوں سے نہ صرف ملکوں بلکہ عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں.
ادہر وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی کیونکہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔

index
پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر صرف ملک کے قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے چپے چپے میں یا تو براہ راست یا اپنے مذہبی اور سیاسی حواریوں کے ذریعے پھیلے ہوئے ہیں ۔پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور وہ اس عفریت سے نمٹنے کے لیے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے بڑے پیمانے پر آپریشن بھی کر رہا ہے، اس آپریشن کے شروع ہونے کے بعد انتہا پسندوں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی یا فرار ہو گئی ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ قبائلی علاقوں سے تو انھیں فوجی کارروائی کے ذریعے ہی بھگایا جا سکتا ہے لیکن شہروں اور دیہاتوں میں انھیں حکومت اور پولیس کے بغیر نہیں روکا جا سکتا۔

images
طالبان،القاعدہ اور داعش کےلوگ ایک خاص ذہنیت اور خاص شریعت کے حامی ہیں،ہر روز اللہ اکبر کے نعروں سےکلمہ گو مسلمانوں کے گلے کاٹتے ہیں۔دہشتگرد صرف اور صرف دہشتگرد ہوتے ہیں اور کو ئی اچھا یا برا دہشتگرد نہیں ہوتا۔ تمام دہشت گرد ،برے ہوتے ہیں۔
دہشت گردی مسلمہ طور پر ایک لعنت و ناسور ہے نیز دہشت گرد نہ تو مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان۔ دہشت گردی اس وقت ہمارے ملک کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ہے اور یہ ملک کی معاشی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے۔ گذشتہ دس سالوں سے پاکستان دہشت گردی کے ایک گرداب میں بری طرح پھنس کر رہ گیا ہے اور قتل و غارت گری روزانہ کا معمول بن کر رہ گئی ہےاور ہر طرف خوف و ہراس کے گہرے سائے ہیں۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں اور ملک کی اقتصادی حالت دگرگوں ہے۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں۸۰ بلیں ڈالرکے اقتصادی نقصان نے پاکستانی معیشت کا بھرکس نکال کر رکھ دیا اور 50 ہزار معصوم و بے گناہ لوگوں کےجانی نقصانات کی وجہ سے ملک پاکستان، دہشستان بن گیا ہے۔

دہشت گردی کی تمام صورتیں اور اقسام انسانیت کے لئے خطرہ ہیں۔ اسلام کسی حالت میں بھی دہشتگردی اور عام شہریوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی اکثریت  اسلام کےانہی سنہری اصولوں پر کاربند ہے۔ دہشت گردی و خود کش حملے اسلام کے بنیادی اصولوں سےانحراف اور رو گردانی ہے۔

Advertisements