القاعدہ کے اہم رہنما عدنان الشکری الجمعہ ہلاک


image_largeaa

القاعدہ کے اہم رہنما عدنان الشکری الجمعہ ہلاک

پاکستانی فوج نے ملک کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم رہنما عدنان الشکری الجمعہ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ عدنان الشکری القاعدہ کے مرکزی گروپ کا رکن تھا اور القاعدہ کے بیرونی آپریشنز کا انچارج تھا۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے سنیچر کی صبح جنوبی وزیرستان کے علاقے شن ورسک میں انٹیلیجنس آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم رہنما سمیت تین شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عدنان الشکری کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی مارا گیا جبکہ کارروائی کے دوران ایک پاکستانی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔

news-1417854083-1817

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے ٹویٹ کی ہے کہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستانی فوج کی ٹیم کو سراہا ہے جس کی کارروائی کے نتیجے میں الشکری ہلاک ہوا۔
’جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے تمام شدت پسندوں کو ختم کردیا جائے گا اور کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

5482ba230bd65
فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن ضربِ عضب کے بعد عدنان الشکری شمالی وزیرستان سے جنوبی وزیرستان منتقل ہو گیا تھا۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی کہ القاعدہ رہنما جنوبی وزیرستان میں ایک کمپاؤنڈ میں پناہ لیے ہوئے جس کے بعد اس علاقے میں کارروائی کی گئی۔
اس کارروائی میں عدنان الشکری کے ساتھ اس کا ایک ساتھی اور مقامی سہولت کار بھی ہلاک ہوئے۔
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق عدنان الشکری چار اگست 1975 میں سعودی عرب میں پیدا ہوا۔ تاہم اس کے پاس گیانا کی شہریت ہے۔
الشکری پر نیویارک کی عدالت نے 2010 میں امریکہ اور برطانیہ میں دہشت گردی کے منصوبے میں فردِ جرم عائد کی تھی۔
اس مقدمے میں الشکری پر لگائے گئے الزامات میں نیو یارک میں سب وے نظام کو مغربی ممالک میں موجود ساتھیوں کے ذریعے نشانہ بنانا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے الشکری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر پانچ ملین ڈالر کے انعام کا بھی اعلان کیا ہوا تھا۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141206_alqaeda_leader_alshikri_south_waziristan_killed_rh

Al-Qaeda-leader-killed-SouthWaziristan-ISPR-Pakistan-Army-zarb-e-azb-south_12-6-2014_167875_l

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں القاعدہ کے اہم رہنما شیخ عدنان الشکری جمعہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی نے ایک اور ای میل میں پاکستانی فوج کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے شین ورسک میں ایک خصوصی آپریشن کے دوران القاعدہ کے اہم رہنما شیخ عدنان الشکری جمعہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/12/141208_ttp_confirms_latif_mehsud_shukri_jumaa_rh?ocid=socialflow_twitter

عدنان الشکری کا شمار دنیا کے موسٹ وانٹڈ دہشت گردوں میں ہوتا تھا، جس کے سر کی قیمت ایف بی آئی کی جانب سے پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
القاعدہ کے اہم رہنما عدنان الشکری الجمعہ کی ہلاکت القاعدہ کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرے گی ۔ عدنان الشکری الجمعہ کی ہلاکت سے پاکستان کے اندر ایک بڑا خطرہ بھی ختم ہوگیا ہے ۔
عدنان الشکری الجمعہ کی موت القائدہ کے لئے بہت بڑادھچکاہے کیونکہ وہ تنطیم کے اہم آپریشن چلارہے تھے اورالقاعدہ کے لئے اس کامتبادل ڈھونڈنامشکل ہوگا۔ اس سے القائدہ معذور ہو کر رہ گئی ہے۔ القائدہ ایک زہریلے سانپ کی مانند ہے جس کو ختم کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے حق میں بہتر ہے اور ہم پاکستانیوں کو اس کا احساس ہونا چاہئے۔

5482ba230bd65
القائدہ کی شہہ ،تحریک اور تربیت پر طالبانی اور دوسرے دہشت گرد گروپوں نے پاکستان بھر میں لا قانونیت،افراتفری اور قتل و غارت گری کا ایک بازارا گرم کر رکھا ہے۔ القائدہ تمام دہشت گردوں کی گرو و استاد ہے اور اس ہی کے ذریعہ پاکستان میں خودکش حملوں کا سلسلہ متعارف ہوا۔ اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ۔
القائدہ ،پاکستان کی کبھی دوست نہ تھی اور نہ ہی ہو گی۔ القائدہ کے عملی تعاون و اشتراک سے طالبان نے پاکستان کے معصوم لوگوں کے خلاف خون کی ہولی کھیلی۔
عدنان الشکری الجمعہ کے مارےجانے سے القائدہ کی پاکستان میں ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، اسامہ کے ہلاک کئے جانے پر القائدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی تھی مگر اب پاکستان اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا ہے۔
حالات گواہی دے رہے ہیں کہ وزیرستان کا علاقہ اب القائدہ کے لئے محفوظ نہ رہا ہے کیونکہ القائدہ کے بے شمار بڑے لیڈر اور کارکن یہان مارے جا چکے ہیں اور باقی جان بچانے کے لئے چھپتے پھرتے ہیں۔
القائدہ ایک مجرمانہ سرگرمیوں مین ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے اور نہ ہی القائدہ نے اسلام یا اسلامی امہ کی کوئی دینی خدمت کی ہے۔
القائدہ کے اسلام اور ملت اسلامیہ کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ القائدہ کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے، لہذا القائدہ ،مسلمانوں اور اسلام کو اپنی عنایات سے معاف ہی رکھے تو یہ ملت اسلامی کے حق مین بہتر ہے۔ القائدہ نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا اور قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
عدنان الشکری الجمعہ کی موت سےا لقائدہ کے جنگجو اور دوسرے لیڈر پژمردہ، پست حوصلگی اور انتشار کا شکار ہو گئے ہیں .
پاکستان میں لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلے ہماری ملکی خودمختاری اور سالمیت کی خلاف ورزی ان غیر ملکی جہادیوں/ دہشتگردوں نے کی جو وزیرستان کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ جمائے بیٹھے تھے۔ کوئی خوددار اور خود مختار ملک کسی جہادی کو اپنے سرزمیں پر قبضہ کی اجازت نہیں دے سکتا مگر ہم ٹس سے مس نہ ہوئے ہیں ۔ کیا یہ بنیادی طور پر ہماری ذمہ داری نہ ہے کہ ہم ان تمام جہادیوں کو پاکستان سے اٹھا کر زبردستی باہر کریں؟
ہمیں یہ نہ بھولنا چاہئے کہ دہشت گردی کا تسلسل ملک کی خودمختاری، سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور موثر لانگ ٹرم و شارٹ ٹرم حکمت عملی وضع کرنا ہو گی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو سکے۔

 

Advertisements